قدیم مِصر

توازن اور ہم آہنگی کے خداؤں کی سرزمین
Joshua J. Mark
بذریعہ ، ترجمہ بذریعہ Samuel Inayat
پر شائع ہوا
Translations 12
bookmark_addbookmark_addedمضمون محفوظ کریں printچھاپیں picture_as_pdfPDF
The Great Sphinx of Giza (by Jorge Láscar, CC BY)
گیزا کی عظیم اسفنکس Jorge Láscar (CC BY)

مصر شمالی افریقہ میں بحیرہ روم پر واقع ایک ملک ہے اور کُرہِ عرض پر قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک اور تہذیبوں کا گھر ہے۔ 'Egypt' نام یونانی Aegyptos سے آیا ہے جو قدیم مصری نام 'Hwt-Ka-Ptah' کا یونانی تلفظ ہے۔ اِس اِصطلاح کے معنی ہیں کائنات کو تخلیق کرنے والی ہستی کی رُوح کا گھر جِسکا شروع کا نام میمفس تھا۔ میمفس (Memphis) مصر کا پہلا دارالحکومت، ایک مشہور مذہبی اور تجارتی مرکز تھا جِسکی اعلیٰ حیثیت کی تصدیق یونانیوں نے اسی نام سے پورے ملک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کی تھی۔ قدیم مصریوں کے لیے، ان کا ملک صرف کیمیٹ (Kemet) کے نام سے جانا جاتا تھا، جس کا مطلب ہے 'بلیک لینڈ' (Black Land)۔ دریائے نیل کے کنارے زرخیز تاریک مٹی کی وجہ سے یہ نام دیا گیا جہاں پہلی بستیاں شروع ہوئیں۔

بعد میں اس ملک کو مصر (Misr) کے نام سے جانا گیا جس کا مطلب ہے 'ملک'، جو مِصری آج بھی اپنی قوم کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ مصر ہزاروں سالوں تک (6000 سے 30 قبل مسیح تک) ایک آزاد قوم کے طور پر ترقی کرتا رہا جس کی ثقافت انسانی علم کے ہر شعبے میں فنون سے لے کر سائنس، ٹیکنالوجی اور مذہب تک ثقافتی ترقی کے لیے مشہور تھی۔

جدید دور کے علماء نے مطالعہ میں آسانی کے لیے قدیم مصری تہذیب کی تاریخ کو مختلف ادوار میں تقسیم کیا ہے جو مندرجہ ذیل ہیں:

  • قبل از خاندانی دور: تقریباً 6000 سے 3150 قبل مسیح
  • ابتدائی خاندانی دور: تقریباً 3150 سے 2613 قبل مسیح
  • پرانی بادشاہی: تقریباً 2613-2181 قبل مسیح
  • پہلا درمیانی دور: 2181-2040 قبل مسیح
  • مڈل کنگڈم: 2040-1782 قبل مسیح
  • دوسرا درمیانی دور: 1782 سے تقریباً 1570 قبل مسیح
  • نئی بادشاہی: تقریباً 1570 سے تقریباً 1069 قبل مسیح
  • تیسرا درمیانی دور: تقریباً 1069-525 قبل مسیح
  • قدیم مصر کا آخری دور: 525-323 قبل مسیح
  • بطلیما مصر :323-30 قبل مسیح (Ptolemaic Egypt)

"بادشاہی" اور "درمیانی" دور کے درمیان فرق یہ تھا کہ "بادشاہی" دور میں ایک مضبوط، مرکزی حکومت ہوتی تھی جبکہ "انٹرمیڈیٹ" (intermediate) ادوار میں ایسا نہیں تھا۔

قدیم مصر کی عظیم یادگاریں مصری ثقافت کی گہرائی اور عظمت کی عکاسی کرتی ہیں، جِنہوں نے بہت سی قدیم تہذیبوں کو متاثر کیا، جن میں یونان اور روم شامل ہیں۔ مصری ثقافت کی مستقل مقبولیت کی ایک وجہ انسانی تجربے کی عظمت پر زور دینا ہے۔ ان کی عظیم یادگاریں، مقبرے، مندر اور فن پارے سبھی زندگی کا جشن مناتے ہیں اور اس بات کی یاددہانی کے طور پر کھڑے ہوتے ہیں کہ ایک زمانے میں کیا تھا اور انسان اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئےکار لاتے ہُوئے کیا کُچھ حاصِل کر سکتا تھا؟۔

مصریوں کے لیے، زمین پر زندگی ابدی سفر کا صرف ایک پہلو تھا۔

اگرچہ، مقبول ثقافت میں مصر کا تعلق اکثر موت اور مردہ خانے کی رسومات سے ہوتا ہے، قدیم مصری، زندگی سے پیار کرتے تھے اور صاف سُتھری / مکمل طور پر زندگی گزارنے کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ مصریوں کے لیے، زمین پر زندگی ابدی سفر کا صرف ایک پہلو تھا۔ (عقیدہ کیمُطابق) روح لافانی تھی جو اس جسمانی جہاز پر ایک جسم کو مختصر وقت کے لیے قیام پذیر تھی۔ موت کے وقت، کوئی شخص ہال آف ٹروتھ (Hall of Truth) میں فیصلے کا مُنتظر رہے گا اور، اگر درست ثابت ہوا تو فیلڈ آف ریڈز Field of Reeds کے نام سے جانی جانے والی ابدی جنت کی طرف بڑھے گا، جو زمین پر کسی کی زندگی کا آئینہ دار تھا۔ ایک بار جب کوئی جنت میں پہنچ گیا تو، پھِر وہ اُن لوگوں کی ہمسائیگی میں سکون سے رہ سکتا ہے جو زمین پر رہتے ہوئے ایک دُوسرے سے اپنے پالتو جانوروں سمیت، پیار کرتے تھے، ایک ہی محلے میں ایک ہی ندی کے کنارے اور انہی درختوں کے نیچے جو اُس (جانے والے) نے موت کے وقت کھوئے تھے تاہم، ابدی زندگی صرف ان لوگوں کے لیے تھی جنہوں نے دیوتاؤں کی مرضی کے مطابق اچھی زندگی اس مقصد کے لیے موزوں ترین جگہ: مصر کی سرزمین پر گزاری تھی۔

مصر کی طویل تاریخ تحریری دُنیا سے بہت پہلے کی ہے جِس میں دیوتاوؐں اور یادگاروں کا ذِکر ہے اور جِسکی وجہ سے ثقافت مشہور ہُوئی۔ مویشیوں کے چرنے کے ثبوت، اس زمین پر جو اب صحرائے صحارا ہے، پر تقریباً 8000 قبل مسیح کے ہیں۔ دریافت شدہ نمونوں کے یہ ثبوت، اس وقت خطے میں ایک فروغ پزیر زرعی تہذیب کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ چونکہ اس وقت بھی زمین زیادہ تر بنجر تھی، اس لیے شکاری خانہ بدوشوں نے دریائے نیل کے تھنڈے پانی سے مُستفید ہونے کے لئے 6000 قبل مسیح سے کچھ عرصہ قبل وہاں آباد ہونا شروع کیا۔

Naqada II pottery
نقاد دوم (تقریباؐ 3500–3200 قبل مسیح) کے دور کے مٹی کے برتن Guillaume Blanchard (CC BY-SA)

منظم کھیتی کا آغاز اس خطے میں تقریباً 6000 قبل مسیح ہوا، اور بدریائی ثقافت کے نام سے مشہور برادریاں دریا کے ساتھ ساتھ پنپنے لگیں۔ فاینس ورکشاپس (faience workshops) کو تقریباً 5500 قبل مسیح میں Abydos میں دریافت ہونے والے ثبوتوں سے پتہ چلا کہ صنعت کو تقریباً اُسی وقت ترقی مِلی۔ بدریان کے بعد امراتین، گرزین اور نقاد ثقافتیں Amratian, the Gerzean, and the Naqada cultures (جنہیں نقاد I، نقاد II، اور نقاد III بھی کہا جاتا ہے) نے مصری تہذیب کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

اِس زمین پر تحریری تاریخ 3400 اور 3200 قبل مسیح کے درمیان کسی وقت شروع ہُوئی جب نقاد کلچر III کے ذریعہ ہائروگلیفک (تصویری) رسم الخط تیار کیا گیا تھا۔ 3500 قبل مسیح تک، ہیراکون پولس (Hierakonpolis) شہر میں مُردوں کو ممی بنانے کا عمل رائج تھا، اور ابیڈوس میں پتھر کے بڑے مقبرے بنائے گئے تھے۔ Xois شہر کو 3100-2181 قبل مسیح تک قدیم ہونے کے طور پر ریکارڈ کیا گیا ہے، جیسا کہ مشہور پالرمو سٹون پر لکھا گیا ہے (ایسی تخطی جِس پر سال ہا سال کی سلاطین کی فہرست بمع سالانہ واقعات کا ریکارڈ درج ہوتا تھا)۔ دنیا بھر کی دوسری ثقافتوں کی طرح، چھوٹی زرعی آبادیوں کو مرکزی حثیت حاصِل ہو گئی اور بڑے شہری مراکز میں پروان چڑھیں۔

مِصر کی اِبتدائی تاریخ

ابتدائی خاندانی دور (تقریباً 3150 سے 2613 قبل مسیح) میں بالائی مصر کے بادشاہ مینیس Menes (جسے مینی یا مانیس بھی کہا جاتا تھا) کے تحت شمالی اور جنوبی سلطنتوں کا اتحاد دیکھا گیا، جس نے زیریں مصر کو تقریباً 3118 قبل مسیح یا تقریباً 3150 قبل مسیح فتح کیا۔ ابتدائی تاریخ کا یہ نُسخہ قدیم مورخ مانیتھو (Manetho) کی ایجپٹیکا Aegyptica (تاریخ مصر History of Egypt) سے آیا ہے، جو بطلیما خاندان Ptolemaic Dynasty (323-30 قبل مسیح) کے تحت تیسری صدی قبل مسیح میں رہتا تھا۔

اگرچہ بعد کے مورخین کیمُطابق اس کی تاریخ متنازعہ ہے، لیکن اب بھی خاندانی جانشینی اور اس کی ابتدائی تاریخ کے تعلق سے باقاعدگی سے اِسکا حوالہ دیا جاتا ہے۔

Narmer Palette [Two Sides]
نرمر پیلیٹ [دو طرفہ] Unknown Artist (Public Domain)

مانیتھو کی تحریریں واحد ذریعہ ہے جہاں سے مینیس اور اِسکی فتح کے حوالے مِلے، اور اب یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جس آدمی کو مانیتھو نے "مینس" کہا ہے وہ بادشاہ نارمر (Narmer) تھا، جس نے بالائی اور زیریں مصر کو ایک حکمرانی کے تحت متحد کیا۔ تاہم، نارمر کے ساتھ مینیس کی شناخت عالمی سطح پر قبول نہیں کی گئی ہے، اور مینیس کا تعلق بادشاہ ہور-آہا Hor-Aha (تقریباً 3100-3050 قبل مسیح) سے ہے، جو اس کے بعد آیا۔ اپنے پیشرو اور جانشین کے ساتھ مینیس کی وابستگی کی ایک وضاحت یہ ہے کہ مینیس ایک اعزازی لقب ہے جس کا مطلب ہے "وہ جو برداشت کرتا ہے" (he who endures) نہ کہ ذاتی نام، اور اسی طرح اسے ایک سے زیادہ بادشاہ کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا۔

یہ دعویٰ کہ زمین کو ایک فوجی مہم کے ذریعے یکجا کیا گیا تھا، بھی متنازعہ ہے، کیونکہ مشہور نرمر پیلیٹ Narmer Palette، جس میں فوجی فتح کا ذِکر ہے، کو کچھ علماء نے شاہی پروپیگنڈہ سمجھا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ملک پہلے پرامن طور پر متحد ہو گیا ہو، لیکن اس کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

قدیم مصر میں جغرافیائی تعین دریائے نیل کے پانی کے بہاوؐ کے مطابق ہوتا ہے، اور اسی لیے بالائی مصر جنوبی علاقہ ہے، اور زیریں مصر بحیرہ روم کے قریب شمالی علاقہ ہے۔ نارمر نے ہیراکونوپولس (Heirakonopolis) شہر اور پھر میمفس اور ابیڈوس سے حکومت کی۔

مصر میں ابتدائی خاندانی دور کے حکمرانوں کے دور میں تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا اور وسیع مستبا مقبرے (mastaba tombs)، جو بعد کے اہراموں کے پیش خیمہ تھے، مصری تدفین کے طریقوں میں تیار ہوئے، جس میں تیزی سے وسیع تر ممی بنانے کی تکنیک شامل تھی۔

دیوتا

قدیم مصریوں کے لیے، ان کا ملک دیوتاؤں کی سرزمین تھا، جو زمین پر سب سے بہترین جگہ تھی۔ مصر میں قبل از خاندانی دور تقریباؐ ( 6000 - 3150 قبل مسیح) مصری ثقافت کی تعریف، دیوتاؤں پر یقین تھا۔ ابتدائی مصری تخلیق کا افسانہ بتاتا ہے، اِس سے پہلے کہ کِسی چیز کا آغاز ہُوا، آٹم دیوتا (god Atum) افراتفری/ گھماؤ پھراؤ کے درمیان (midst of swirling chaos) کھڑا تھا اور تخلیق کی بات کرتا تھا۔ ایٹم کے ساتھ ہیکا (heka magic) کی ابدی قوت تھی، جسے دیوتا ہیکا اور دُوسری روحوں کی شکل دی گئی جِنہوں نے دُنیا کو مُتحرک کیا۔ ہیکا ہی وہ اِبتدائی قوت تھی جو کائنات کے وجود کا سبب بنی اور دُنیا کی تمام چیزیں اُسی سے مُتحرک ہُوئیں۔ یہی مِصری ثقافت کا کلیدی نُقطہ تھا جِسکی مات کیساتھ ہم آہنگی اور توازن تھا۔ (مِصری ثقافت میں کائنات کا اِنتظام، ترتیب، توازن،اِنصاف اور سچائی کی دیوی کو مات کہتے تھے)۔

تمام دیوتاوؐں اور اُنکی ذمہ داریاں مات اور ہیکا سے وابسطہ ہو گئیں۔ سُورج کائناتی دستور کیمُطابق طلوح اور غروب ہُوا، چاند نے اپنا طے شُدہ سفر کیا جو اِنہی دو دیوتاوؐں کی وجہ سے مُمکن تھا۔ اِنہی دیوتاوؐں کے سبب موسم ترتیب اور توازن کے ساتھ آئے اور چلے گئے۔ مات کو شتر مرغ کے پروں میں ایک دیوی کے طور پر پیش کیا گیا، جس سے ہر بادشاہ نے اپنی پوری صلاحیتوں اور عقیدت کا وعدہ کیا تھا۔ زِندگی میں بادشاہ کو ہورس (Horus) دیوتا اور موت کے بعد کا دیوتا اوسائرس (Osiris) سمجھا جاتا تھا اور یہ ایک افسانہ پر بُنیاد کرتا تھا جو مِصری تاریخ میں سب سے زیادہ مشہور ہو گیا۔

Egyptian God Osiris
مصری دیوتا اوسائرس A.K. (Copyright)

اوسائرس (Osiris) اور اس کی بیوی آئیسس (Isis) جو اِسکی بہن بھی تھی، وہ اصل بادشاہ تھے جنہوں نے دنیا پر حکومت کی اور لوگوں کو تہذیب کے تحفے دیے۔ اوسائرس کے بھائی سیٹ (Set) نے اس سے حسد کرتے ہُوئے قتل کر دیا لیکن اسے آئیسس (Isis) نے دوبارہ زندہ کر دیا جس کے بعد اس کا بیٹا ہورس (Horus) پیدا ہوا۔ تاہم، اوسائرس نامکمل (کیونکہ قتل ہونے کیبعد اُسکے ٹُکڑے کر دیے گئے تھے جِنہیں آئسیس نے نامکمل اِکٹھا کیا تھا) ہونے کی صُورت میں انڈرورلڈ (underworld) پر حکومت کرنے کے لیے اترا جب کہ ہورس نے بالغ ہو جانے کیبعد اپنے والد کا بدلہ اِسطرح لیا کہ اُسنے سیٹ کو شکست دے دی۔

اس افسانے نے واضح کیا کہ کس طرح ترتیب انتشار پر فاتح ہُوئی تا کہ مصری مذہب، مردہ خانے کی رسومات، اور مذہبی مواد اور آرٹ میں ایک مستقل مُقدس نمونہ بن جائیں۔ کوئی دور ایسا نہیں تھا جس میں دیوتاؤں نے مصریوں کی روزمرہ کی زندگی میں اٹوٹ کردار ادا نہ کیا ہو اور یہ ملک کی تاریخ کے ابتدائی دور سے واضح طور پر نظر آتا ہے۔

قدیم سلطنت

اُس دور میں جِسے مصر کا قدیم بادشاہی (تقریباؐ 2613-2181 قبل مسیح) دور سمجھا جاتا ہے، ایسے فن تعمیر میں تیزی سے اضافہ ہوا جن سے دیوتاوؐں کی تعظیم نظر آتی تھی اور اِسطرح مصر میں کچھ مشہور یادگاریں، جیسے اہرام (pyramids) اور گیزا کا عظیم اسفنکس (چُونے سے بنا ایک ایسا مُجسمہ جِسکا سر تو آدمی کا ہو اور جِسم شیر کا Sphinx of Giza)، تعمیر کی گئیں۔

بادشاہ جوسر (Djoser)، جس نے تقریباؐ 2670 قبل مسیح، سقرہ میں پہلا اہرام تعمیرکیا، جسے اس کے چیف معمار اور معالج Imhotep امہوٹپ تقریباؐ (2667-2600 قبل مسیح) نے ڈیزائن کیا تھا اور جس نے 200 سے زیادہ مختلف بیماریوں کے علاج کو بیان کرنے والی پہلی طب کی تحریروں میں سے ایک میں لکھا اور یہ دلیل دی کہ بیماری کی وجہ قدرتی ہو سکتی ہے، دیوتاؤں کی مرضی نہیں۔

خوفو (Khufu) کا عظیم اہرام قدیم دنیا کے سات عجائبات میں سے آخری (2589-2566 قبل مسیح)، خفری (2558-2532 قبل مسیح) اور مینکورے (2532-2503 قبل مسیح) کے اہراموں کے ساتھ ہی تعمیر کیا گیا تھا۔

The Pyramids, Giza, Egypt
اہرام جیزا، مصر Shellapic76 (CC BY)

گیزا کی سطح مرتفع پر اہرام کی عظمت، جیسا کہ وہ اصل میں، چمکتے ہوئے سفید چونے کے پتھر میں لپٹے ہوئے ظاہر ہوئے ہوں گے، اس دور کے حکمرانوں کی طاقت اور دولت کا ثبوت ہے۔ ان یادگاروں اور مقبروں کی تعمیر کے بارے میں بہت سے نظریات پائے جاتے ہیں، لیکن جدید معمار اور علماء کسی ایک پر متفق نہیں ہیں۔ اس وقت کی ٹیکنالوجی پر غور کرتے ہوئے، کچھ لوگوں نے دلیل دی ہے کہ گیزا کے عظیم اہرام جیسی یادگار کا وجود مُمکن نہیں ۔ تاہم، دوسروں کا دعویٰ ہے کہ ایسی عمارتوں اور مقبروں کا وجود اعلیٰ ٹیکنالوجی کی نشاندہی کرتا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو چکی ہے۔

اس بات کا قطعی طور پر کوئی ثبوت نہیں ہے کہ گیزا کی سطح مرتفع کی یادگاریں - یا مصر میں کوئی اور - غلاموں کی محنت سے تعمیر کی گئی تھی اور نہ ہی بائبل کی خروج کی کِتاب میں دئیے گئے واقعات کا کوئی ثبوت ہے۔ آج کے بیشتر نامور علماء اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں کہ اہرام اور دیگر یادگاریں غلاموں کی محنت سے تعمیر کی گئی تھیں، حالانکہ مصر میں یقینی طور پر مختلف قومیتوں کے غلام موجود تھے اور کانوں میں باقاعدگی سے کام کرتے تھے۔

مصری یادگاروں کو ریاست کے لیے عوامی کام سمجھا جاتا تھا اور تعمیر میں ہنر مند اور غیر ہنر مند مصری کارکنوں کا استعمال کیا جاتا تھا، جن میں سے سبھی کو ان کی محنت کی ادائیگی کی جاتی تھی۔ گیزا، بہتوں میں سے ایک پر کام کرنے والے کارکنوں کو دن میں تین بار بیئر (beer) دی جاتی تھی اور ان کی رہائش، آلات اور یہاں تک کہ ان کی صحت کے معیار کو جاننے کیلئے واضع اصول طے کئے گئے تھے۔

پہلے درمیانی دور سے لے کر دوسرے درمیانی دور تک

مڈل کنگڈم کو مصر کا "کلاسیکی دور" سمجھا جاتا ہے جب فن اور ثقافت بہت بلندی پر پہنچ گئی۔

پہلے درمیانی دور (2181-2040 قبل مسیح) کے خاتمے کے بعد مصر کی مرکزی حکومت کی طاقت میں کمی دیکھی گئی۔ دو عظیم مراکز یعنی: زیریں مصر میں ہیراکونپولیس (Hierakonpolis) اور بالائی مِصر میں تھیبس (Thebes) اُبھرنے تک بڑے پیمانے پر آزاد اضلاع کے اپنے گورنر تشکیل پائے۔

ان مراکز نے اپنے اپنے خاندانوں کی بنیاد رکھی، جنہوں نے اپنے علاقوں پر آزادانہ طور پر حکمرانی کی اور وقفے وقفے سے 2040 قبل مسیح تک مکمل اختیار کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے رہے، جب تھیبن کے بادشاہ Mentuhotep II (تقریباً 2061-2010 قبل مسیح) نے ہیراکونپولس کی افواج کو شکست دی اور مصر کو تھیبز (Thebes) حکومت کے تحت متحد کیا۔

تھیبان کی حکمرانی میں استحکام سے اسے پھلنے پھولنے کا موقع مِلا اور اِسی وجہ سے اِسے مصر کی وسطی بادشاہی (2040-1782 قبل مسیح) کہا جاتا ہے۔ مڈل کنگڈم کو مصر کا "کلاسیکی دور" سمجھا جاتا ہے جب آرٹ اور ثقافت بہت بلندیوں پر پہنچ گئی تھی، اور تھیبز ملک کا سب سے اہم اور امیر ترین شہر بن گیا تھا۔ علماء اوکس اور گہلن (Oakes and Gahlin) کے مطابق:

بارہویں خاندان کے بادشاہ مضبوط حکمران تھے جنہوں نے نہ صرف پُورے مصر پر بلکہ جنوب میں نوبیا (Nubia) پر بھی اپنا کنٹرول قائم کیا، جہاں مصر کے تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے کئی قلعے بنائے گئے تھے۔ (11)

پہلی قائم مقام فوج مڈل کنگڈم کے دوران بادشاہ امینہت اول (Amenemhat I ) (تقریباً 1991-1962 قبل مسیح) نے تشکیل دی تھی، کرناک (Karnak) کا مندر سینروسیٹ اول Senruset I (تقریباً 1971-1926 قبل مسیح) کے تحت شروع ہوا تھا، اور مصری ادب اور فن میں سے کچھ عظیم تر تخلیق کیے گئے تھے۔ تاہم، تیرھویں خاندان (13th Dynasty) بارھویں خاندان کی نسبت زیادہ کمزور تھا اور اندرونی مسائل کا شکار تھا، جس نے ہکسوس (Hyksos) کہلانے والی ایک غیر ملکی قوم کو دریائے نیل کے ڈیلٹا کے ارد گرد زیریں مصر (Lower Egypt) میں اقتدار حاصل کرنے کا موقع دیا۔

ہائکسوس ایک پراسرار لوگ تھے جو پہلی بار مصر میں تقریباً 1800 میں نمودار ہوئے اور آواریس (Avaris) قصبے میں آباد ہوئے۔ اگرچہ ہائکسوس بادشاہوں کے نام اصل میں سامی تھے، لیکن ان کے لیے کوئی مخصوص نسل قائم نہیں کی گئی تھی۔ ہائکسوس اقتدار میں اس وقت تک بڑھتے گئے جب تک وہ زیریں مصر کے ایک اہم حصے پر تقریباً 1720 قبل مسیح تک کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو گئے۔ نتیجتاؐ بالائی مصر کا تھیبن خاندان تقریباً ایک جاگیردار ریاست بن گیا۔

Map of the Middle Kingdom of Egypt, c. 2000 BCE
مصر کی وسطی سلطنت کا نقشہ، تقریباؐ 2000 قبل مسیح Simeon Netchev (CC BY-NC-ND)

اس دور کو مصر کا دوسرا درمیانی دور (تقریباؐ 1782 سے 1570 قبل مسیح) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ Hyksos (جس کے نام کا مطلب صرف "غیر ملکی حکمران" ہے) سے مصری نفرت کرتے تھے، انہوں نے ثقافت میں بہت ساری اصلاحات متعارف کروائیں، جیسے جامع کمان، گھوڑا اور رتھ، فصلوں کے موسم اور کانسی اور سیرامک ​​کے کاموں میں ترقی۔

اسی وقت ہائکسوس نے زیریں مصر کی بندرگاہوں پر اپنا اِختیار جمایا، 1700 قبل مسیح تک، کُش کی بادشاہی نوبیا میں تھیبس کے جنوب کی طرف بڑھ چکی تھی اور اب اس سرحد پر قابض تھی۔ مصریوں نے ہائکسوس کو باہر نکالنے اور نیوبینوں (Nubians) کو زیر کرنے کے لیے متعدد مہمیں چلائیں، لیکن یہ سب اس وقت تک ناکام رہے جب تک تھیبس کے شہزادہ احموس اول (تقریباً 1570-1544 قبل مسیح) کامیاب نہ ہو گئے اور ملک کو تھیبن کے زیرِ انتظام متحد نہ کر دیا۔

نئی بادشاہی اور امرنا (Amarna) دور

جب احموس اول (Ahmose I) کے دور کا آغاز ہُوا تو اُسی دور کو نئی بادشاہت کا دور سمجھا جاتا ہے (تقریباؐ 1570 - 1069 قبل مسیح) جِس میں ایک مضبوط مرکزی حکومت کے تحت بڑی خوشحالی دیکھی گئی۔ مصر کے حُکمرانوں کے لیے فرعون کا لقب نئی بادشاہت کے دور سے ہی آتا ہے۔ اِس سے پہلے بادشاہوں کو صرف بادشاہ کہا جاتا تھا۔ آج کے دور میں جِن حاکمین کو مِصری بادشاہوں کے طور پر جانا جاتا ہے وہ اُسی دور کے ہیں جب مصری فن تعمیر کے عظیم ڈھانچے جیسے کہ رامسیم، ابو سمبل، کرناک اور لکسر کے مندر Ramesseum, Abu Simbel, the temples of Karnak and Luxor، اور بادشاہوں اور ملکہ کی وادی کے مقبرے بنائے گئے تھے یا بڑھا دیے گئے تھے۔

1504-1492 قبل مسیح کے درمیان فرعون تھٹموس اول (Tuthmosis I) نے اپنے اقتدار پر اپنی گرفت کو اور مضبوط کیا اور مصر کی سرحدوں کو شمال میں دریائے فرات، شمال مشرق میں کِنعان اور جنوب میں نوبیا تک پھیلا دیا۔ اس کے دور حکومت کے بعد ملکہ ہتشیپسٹ (Hatshepsut) (1479-1458 قبل مسیح) نے دوسری قوموں کے ساتھ تجارت کو بہت بڑھایا، خاص طور پر پنٹ کی سرزمین (Land of Punt)۔ اس کا 22 سالہ دور مصر کے لیے امن اور خوشحالی کا تھا۔

Portrait of Queen Hatshepsut
ملکہ ہیٹشیپسٹ کا پورٹریٹ Rob Koopman (CC BY-SA)

ملکہ ہتشیپسٹ کے جانشین، III تھٹموس (Tuthmosis III) نے اس کی پالیسیوں کو جاری رکھا (اگرچہ اس نے ملکہ کی پِچھلی تمام یادوں کو مٹانے کی کوشش کی جیسا کہ خیال کیا جاتا ہے۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ دوسری خواتین کے لیے رول ماڈل کے طور پر کام کرے کیونکہ صرف مردوں کو حکمرانی کے قابل سمجھا جاتا تھا) اور 1425 قبل مسیح میں اس کی موت کے وقت تک، مصر ایک عظیم اور طاقتور قوم بن گیا تھا۔ دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ، خوشحالی مختلف اقسام کی بیئر (beer) بنانے اور کھیلوں کی ترقی کا باعث بنی۔(اِسی طرح) طب میں ترقی سے صحت میں بہتری آئی۔

طویل عرصے سے روزانہ غسل کرنا مصری طرزِ عمل کا ایک اہم حصہ رہا ہے کیونکہ اس کی حوصلہ افزائی ان کے مذہب اور پادریوں نے کی تھی۔ تاہم، اس وقت، زیادہ وسیع حمام تیار کیے گئے تھے، غالباً حفظان صحت سے زیادہ تفریح ​​کے لیے۔ خواتین کی صحت اور مانع حمل ادویات کے بارے میں کاہون گائناکولوجیکل پیپرس (Kahun Gynecological Papyrus) لکھا گیا تھا۔ 1800 قبل مسیح اور اس عرصے کے دوران، ایسا لگتا ہے کہ ماہرِ طِب نے اس کا وسیع استعمال کیا۔ بڑی مہارت کے ساتھ، وسیع پیمانے پر سرجری اور دندان سازی رائج تھے، اور 200 سے زیادہ مختلف بیماریوں کی علامات میں آسانی کے لیے ماہرِ طِب کی طرف سے بیئر تجویز کی گئی تھی۔

Kahun Gynaecological Papyrus
کہون گائناکولوجیکل پیپرس Francis Llewellyn Griffith (Public Domain)

1353 قبل مسیح میں فرعون امین ہوٹیپ چہارم (Amenhotep IV) تخت نشین ہوا اور کچھ ہی عرصے بعد، ایک خدا، ایٹن (Aten) پر اپنے اعتقاد کی عکاسی کرنے کے لیے اپنا نام بدل کر اخیناتن ('آٹین کی زندہ روح') رکھ دیا۔ مصری، جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے، روایتی طور پر بہت سے خداؤں پر یقین رکھتے تھے جن کی اہمیت ان کی روزمرہ کی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرتی تھی۔ ان دیوتاؤں میں سب سے زیادہ مشہور امون، اوسائرس، آئسس اور ہتھور (Amun, Osiris, Isis, and Hathor) تھے۔ امون کا فرقہ، اس وقت، اتنا مالدار ہو چکا تھا کہ پادری تقریباً فرعون کی طرح طاقتور تھے۔ اخیناتن اور اس کی ملکہ نیفرتیتی (Nefertiti) نے مصر کے روایتی مذہبی عقائد اور رسومات اور رواجات کو ترک کر دیا اور ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھی جو ایک خُدا پر یقین رکھنے پر بُنیاد کرتا تھا۔

اخیناتن پہلا حکمران تھا جس نے اپنے یا دیوتا کے بجائے اپنی ملکہ کے اعزاز میں مجسمہ اور مندر کا حکم دیا۔

اخیناتن کی نافذ کردہ مذہبی اصلاحات کی وجہ سے امون (دیوتا) کے پادریوں کا اِختیار موثر طور پر کم کر دیا گیا اور اُسکا اپنا بڑھا دیا گیا۔ اس نے اپنی حکمرانی کو اپنے سے پہلے حُکمرانوں سے مزید دور کرنے کے لیے دارالحکومت تھیبس سے امرنا منتقل کیا۔ یہ امرنا دور (1353-1336 قبل مسیح) کے نام سے جانا جاتا ہے جس کے دوران امرنا ملک کے دارالحکومت کے طور پر بڑھتا گیا اور مشرکانہ مذہبی رسوم پر پابندی لگا دی گئی۔

اخیناتن (Akhenaten) جو پہلا حکمران تھا اِسکے بہت سے کارناموں میں سے ایک کارنامہ یہ تھا کہ اِس نے اپنے یا دیوتاؤں کی بجائے اپنی ملکہ کے اعزاز میں مجسمہ اور مندر کا حکم جاری کیا اور خرچ اُس رقم میں سے کیا جو کبھی عوامی کاموں، پارکوں اور مندروں کیلئے ہوتی تھی۔

مرکزی حکومت کے بڑھنے کے ساتھ ہی پادریوں کے اِختیار میں تیزی سے کمی ہوئی، جو کہ اخیناتن کا ہدف معلوم ہوتا تھا، لیکن وہ اپنے اِختیار کو اپنے لوگوں کے بہترین مفاد کے لیے استعمال کرنے میں ناکام رہا۔ امرنا کے خطوط واضح کرتے ہیں کہ وہ خارجہ پالیسی یا مصر کے لوگوں کی ضروریات سے زیادہ اپنی مذہبی اصلاحات کے بارے میں فکر مند رہتا تھا۔

اخیناتن کے دور حکومت کے بعد اس کا بیٹا، موجودہ دور میں سب سے زیادہ پہچانا جانے والا مصری حکمران تاتنخامن (Tutankhamun) تھا جِس نے تقریباؐ 1336 - 1327 قبل مسیح تک حکومت کی۔ اس کا اصل نام اپنے والد کے مذہبی عقائد کی عکاسی کرنے کے لیے تاتنخاتن رکھا گیا تھا لیکن، تخت سنبھالنے کے بعد، قدیم دیوتا امون کی تعظیم کے لیے اپنا نام تبدیل کر کے تاتنخامن رکھ دیا۔ اس نے قدیم مندروں کو بحال کیا، اپنے والد کے بحثیت واحد دیوتا کے تمام حوالوں کو ہٹا دیا، اور تھیبس کو دوبارہ دارالحکومت بنا دیا۔ اس کی موت پر اس کا دور ختم ہو گیا اور آج وہ 1922 عیسوی میں دریافت ہونے والے مقبرے کی عظمت کی وجہ سے سب سے زیادہ مشہور ہے، جو اس وقت ایک بین الاقوامی سنسنی بن گیا تھا۔

Death Mask of Tutankhamun
توتنخامن کا موت کا ماسک Richard IJzermans (CC BY-NC-SA)

نئی بادشاہی کا سب سے بڑا حکمران، تاہم، رامسیس دوم (Ramesses II) تھا (جسے رامسیس دی گریٹ 1279-1213 قبل مسیح) بھی کہا جاتا ہے جس نے کسی بھی مصری حکمران کے سب سے وسیع تعمیراتی منصوبوں کا آغاز کیا اور جس نے مؤثر طریقے سے حکومت کی کیونکہ اس کے پاس ایسا کرنے کے ذرائع تھے۔ اگرچہ 1274 قبل مسیح کی مشہور جنگِ قادیش Battle of Kadesh (مصر کے رامسیس دوم اور ہٹیوں Hittites کے مواتلی دوم (Muwatalli II) کے درمیان) کو آج ہار جیت کے بغیر سمجھا جاتا ہے۔ رامسیس نے اسے مصر کی ایک عظیم فتح سمجھا اور خود کو لوگوں کے چیمپئن کے طور پر اور آخر کار بہت سے عوامی کاموں میں ایک دیوتا کے طور پر منایا۔

اس کا ابو سمبل کا مندر (temple of Abu Simbel) جو اس کی ملکہ نیفرتاری (Nefertari) کے لیے بنایا گیا تھا اور اس مقام پر چھوٹا مندر، اخیناتن (Akhenaten) کی مثال کے بعد، جو قادیش کی جنگ کی تصویر کشی کرتا ہے رامسیس کی پسندیدہ ملکہ نیفرتاری کے لیے وقف تھا۔ رامسیس دوم کے دور میں، دنیا کا پہلا امن معاہدہ (قادیش کا معاہدہ) 1258 قبل مسیح میں ہوا اور مصر بے مثال دولت سے خوشحال ہوا جیسا کہ اس کے دور حکومت میں تعمیر یا بحال کی گئی یادگاروں کی تعداد سے ظاہر ہوتا ہے۔

رامسیس دوم کے چوتھے بیٹے، کھیم ویسیٹ (Khaemweset) (تقریباؐ 1281 - 1225 قبل مسیح)، پرانی یادگاروں، مندروں اور ان کے اصل مالک کے ناموں کو محفوظ کرنے اور ریکارڈ کرنے کی کوششوں کے لیے "پہلے مصری ماہر" کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ بڑی حد تک کھیم ویسیٹ کے اقدام کی وجہ سے ہے کہ مصر میں بہت سے قدیم مقامات پر رامسیس II کا نام بہت نمایاں ہے۔ کھیم ویسیٹ نے اپنی کوششوں سے یادگار یا مندر کے اصل بنانے والوں اور اُنکے والد کے ناموں کے ساتھ ریکارڈ چھوڑا۔

Abu Simbel Panorama
ابو سمبل پینوراما Dennis Jarvis (CC BY-SA)

رامسیس دوم بعد کی نسلوں میں 'عظیم آباؤ اجداد' کے نام سے جانا جانے لگا اور اس نے اتنا عرصہ حکومت کی کہ اس نے اپنے بچوں اور بیویوں سے بھی زیادہ عُمر پائی۔ وقت گزرنے کے ساتھ، اس کی تمام رعایا صرف رامسیس II کو اپنا حکمران جانتے ہوئے پیدا ہوئی تھی اور کسی دوسرے کی یاد نہیں تھی۔ اس نے 96 سال کی غیر معمولی لمبی زندگی کا لطف اٹھایا، جو ایک قدیم مصری کی اوسط عمر سے دوگنا تھی۔ اس کی موت کے بعد، یہ ریکارڈ کیا گیا کہ بہت سے لوگ خوفزدہ تھے کہ دنیا کا خاتمہ ہو گیا تھا کیونکہ وہ کسی دوسرے فرعون اور مصر کی کسی دوسری قسم کو نہیں جانتے تھے۔

Ramessid دور اور سمندری لوگ

رامسیس دوم کے جانشینوں میں سے، رامسیس III (1186-1155 قبل مسیح) نے رامسیس دوم کی پالیسیوں پر عمل کیا لیکن، اس وقت تک، مصر کی کثیر دولت نے سمندری لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی تھی جنہوں نے ساحل کے ساتھ باقاعدہ دراندازی شروع کر دی تھی۔ سمندری لوگ، ہائکسوس کی طرح، نامعلوم اصل کے تھے لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ وہ جنوبی ایجین (southern Aegean) کے علاقے سے آئے تھے۔

1276-1178 قبل مسیح کے درمیان سمندری لوگ مصری سلامتی کے لیے خطرہ تھے۔ رامسیس دوم نے اپنے دور حکومت کے اوائل میں ایک بحری جنگ میں انہیں شکست دی تھی جیسے اس کے جانشین میرنپٹاہ Merenptah (1213-1203 قبل مسیح) نے بھی اُنہیں شکست دی تھی۔ تاہم، میرینپٹاہ کی موت کے بعد، انہوں نے اپنی کوششوں میں اضافہ کیا، قادیش کو، جو اس وقت مصر کے زیر کنٹرول تھا، تباہ کر دیا۔ 1180 اور 1178 قبل مسیح کے درمیان، رامسیس III نے ان کا مقابلہ کیا، 1178 قبل مسیح میں دجاہی (Battle of Djahy) کی لڑائی اور 1175 قبل مسیح میں ڈیلٹا کی لڑائی میں انہیں شکست دی۔

Map of the Late Bronze Age Collapse and Transfromation
کانسی دور کے خاتمے کا نقشہ تقریباؐ 1200 - 1150 قبل مسیح Simeon Netchev (CC BY-NC-ND)

رامسیس III کے دور کے بعد، اس کے جانشینوں نے اِسکی پالیسیوں کو برقرار رکھنے کی کوشش کی لیکن مصری لوگوں کو، مفتوحہ علاقوں میں رہنے والوں اور خاص طور پر پادری طبقے کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ توتنخامن (Tutankhamun) کی طرف سے آمون دیوتا کے پرانے مذہب کو بحال کرنے کے بعد کے سالوں میں، اور خاص طور پر رمسیس دوم کے دور میں خوشحالی کے عظیم دور میں، آمون کے پجاریوں نے بہت زیادہ اراضی حاصل کر لی تھی اور بڑی دولت اکٹھی کی تھی جس سے مرکزی حکومت کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا اور مصر کے اتحاد کو درہم برہم کر دیا تھا۔ رامسیس XI (1107-1077 قبل مسیح) کے وقت تک، 20 ویں خاندان کے اختتام تک، مصری حکومت پادریوں کی طاقت اور بدعنوانی سے اتنی کمزور ہو چکی تھی کہ ملک دوبارہ ٹوٹ گیا اور مرکزی انتظامیہ ختم ہو گئی، جس سے مصر کا نام نہاد تیسرا درمیانی دور 1069-525 قبل مسیح شروع ہوا۔

مِصر کا زوال اور اِس پر حملے

کُشائٹ کنگ پیئے Kushite King Piye (752-722 قبل مسیح) کے تحت، مصر دوبارہ متحد ہوا اور ثقافت پروان چڑھی، لیکن 671 قبل مسیح میں، ایسرحدڈون (Esarhaddon) کے ماتحت آشوریوں (Assyrians) نے مصر پر حملہ کیا، اور اسے اپنے جانشین اشوربنیپال (Ashurbanipal) کے تحت 666 قبل مسیح تک فتح کیا۔ ریاستی اِختیار کے لیے کوئی طویل مدتی منصوبہ بندی نہ کرنے کی وجہ سے، آشوریوں نے اسے مقامی حکمرانوں کے ہاتھوں میں برباد کر کے چھوڑ دیا اور مصر کو اس کی قسمت پر چھوڑ دیا۔

تاہم، مصر دوبارہ تعمیر ہُوا اور دوبارہ مضبوط ہُوا، اور یہ وہ موقع تھا جب فارس کے کمبیسیس دوم (Cambyses II) کو 525 قبل مسیح میں پیلوسیئم کی لڑائی (Battle of Pelusium) میں اُلجھنا پڑھا۔ بلیوں کے لیے مصریوں کی عقیدت کو جانتے ہوئے (جن کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ مشہور دیوی باسیٹ Bastet کی زندہ نمائندگی کرتی ہیں)، کیمبیس دوم نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ وہ بلیوں کو اپنی ڈھال پر پینٹ کریں اور بلیوں اور دوسرے جانوروں کو جو مصریوں کی نظر میں مُقدس تھے، فوج کے سامنے، پیلوسیم (Pelusium) کی طرف لے جائیں۔ مصری افواج نے ہتھیار ڈال دیے اور ملک فارس کے قبضے میں آ گیا جو 332 قبل مسیح میں سکندر اعظم کے آنے تک فارس کے قبضے میں رہا۔

سکندرِاعظم جِس کا آزادی دِلانے والے کے طور پر استقبال کیا گیا، نے مصر کو بغیر کسی لڑائی کے فتح کر لیا۔ اس نے اسکندریہ شہر قائم کیا اور فینیشیا (Phoenicia) اور فارس سلطنت کے باقی عِلاقے کو فتح کرنے کے لیے آگے بڑھا۔ 323 قبل مسیح میں اس کی موت کے بعد اس کا جنرل، ٹولیمی اول سوٹر (Ptolemy I Soter)، اس کی لاش کو واپس اسکندریہ لایا اور بطلیما خاندان (Ptolemaic Dynasty) (323-30 قبل مسیح) کی بنیاد رکھی۔

Ptolemies میں سے آخری کلیوپیٹرا VII تھی جس نے 30 قبل مسیح میں اپنی افواج اور اس کے ساتھی مارک انٹونی (Mark Antony) کو ایکٹیم کی لڑائی Battle of Actium (31 قبل مسیح) میں آکٹیوین سیزر (Octavian Caesar) کے ماتحت رومیوں کے ہاتھوں شکست کے بعد، خودکشی کر لی تھی۔ مصر اس کے بعد رومی سلطنت (30 قبل مسیح -476 CE ) پھر بازنطینی سلطنت (تقریباؐ 527-646 CE) کا ایک صوبہ بن گیا یہاں تک کہ اسے 646 عیسوی میں خلیفہ عمر کی حُکمرانی میں عرب مسلمانوں نے فتح کیا اور پھِر یہ صوبہ اسلامی حکومت کے تحت آ گیا۔

نتیجہ

مصر کی ماضی کی شان جو 18ویں اور 19ویں صدی عیسوی کے دوران دوبارہ مِلی اس نے قدیم تاریخ اور دنیا کے بارے میں موجودہ دور کی تفہیم پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ مورخ ول ڈیورنٹ (Will Durant) بہت سے لوگوں کا مُشترک محسوس ہونے والے جذبات کا اظہار کرتا ہے:

تاریخ کے اوائل میں مصر نے جو کچھ کیا اس کا اثر یا یاد ہر قوم اور ہر دور میں اثر رکھتی ہے۔ 'یہ بھی ممکن ہے'، جیسا کہ فاؤر (Faure) نے کہا ہے، 'کہ مصر، یکجہتی، اتحاد، اور اپنی فنی مصنوعات کی نظم و ضبط کے ذریعے، طویل مدت اور اپنی مسلسل کوشش کے ذریعے، اس عظیم ترین تہذیب کا نمونہ پیش کرتا ہے جو ابھی تک زمین پر نمودار ہوئی ہے۔' ہم اسے برابر کرنے کے لیے اچھا کریں گے۔ (217)

مصری ثقافت اور تاریخ طویل عرصے سے لوگوں کے لیے ایک عالمگیر توجہ رکھتی ہے، چاہے 19ویں صدی عیسوی میں ابتدائی آثار قدیمہ کے ماہرین کے کام کے ذریعے {(جیسے چیمپولین Champollion جس نے 1822 عیسوی میں روزیٹا پتھر (Rosetta Stone) کو سمجھا تھا)} یا 1922 عیسوی میں ہاورڈ کارٹر (Howard Carter) کے ذریعے جِس نے توتنخامن (Tutankhamun) کا مقبرا دریافت کیا۔ زندگی کے بارے میں قدیم مصری عقیدہ کہ یہ ابدی زِندگی کی جانب ایک سفر ہے، نے بعد میں آنے والی ثقافتوں میں بھی الہی جادو کے ذریعے اثر کیا اور یہ برقرار رہا۔

Howard Carter & Tutankhamun
ہاورڈ کارٹر اور توتنخامن New York Times (Public Domain)

مصری مذہب کے زیادہ تر نقش اور عقائد نے نئے مسیحی مذہب میں اپنے عکس دیکھے کیونکہ اِن کی بہت سی علامتیں آج بڑی حد تک وہی معنی رکھتی ہیں جو مِصری عقائد میں تھے۔ یہ مصری تہذیب کی طاقت کا ایک اہم ثبوت ہے کہ اتنے سارے تخیلی فن پارے، جن میں فلموں سے لے کر کتابیں اور پینٹنگز، اور یہاں تک کہ مذہبی عقائد تک شامل ہیں، اس کائنات اور بنی نوع انسان کے مقام کے بارے میں مصری تہذیب کے بلند اور گہرے وژن سے متاثر ہوتے رہے ہیں اور تاحال ہو رہے ہیں۔

سوالات اور جوابات

مترجم کے بارے میں

مصنف کے بارے میں

اس کام کا حوالہ دیں

اے پی اے طرز

Mark, J. J. (2026, June 22). قدیم مِصر: توازن اور ہم آہنگی کے خداؤں کی سرزمین. (S. Inayat, مترجم). World History Encyclopedia. https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-74/

شکاگو طرز

Mark, Joshua J.. "قدیم مِصر: توازن اور ہم آہنگی کے خداؤں کی سرزمین." تَرجَمۂ کَرن وول Samuel Inayat. World History Encyclopedia, June 22, 2026. https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-74/.

ایم ایل اے اسٹائل

Mark, Joshua J.. "قدیم مِصر: توازن اور ہم آہنگی کے خداؤں کی سرزمین." تَرجَمۂ کَرن وول Samuel Inayat. World History Encyclopedia, 22 Jun 2026, https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-74/.

اشتہارات ہٹائیں