مِصری دیوتا - مُکمل فہرست

Joshua J. Mark
بذریعہ ، ترجمہ بذریعہ Samuel Inayat
پر شائع ہوا
Translations
چھاپیں PDF

قدیم مصری دیوتا اور دیویاں 3000 سال سے بھی زیادہ عرصہ لوگوں کی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ رہے۔ مصری دیوتائی خاندان (Egyptian pantheon) میں 2000 سے زیادہ دیوتا تھے جن کے بہت سے نام مشہور ہیں یعنی آئیسس، اوسائرس، ہورس، امون، را، راتھور، باسٹیٹ، تھوت، انوبیس اور پٹاہ۔ Isis, Osiris, Horus, Amun, Ra, Rathor, Baastet, Thoth, Anubis and Ptah. لیکن بہت سے اور بھی ہیں جو اہم تھے۔

زیادہ مشہور دیوتا ریاستی دیوتا بن گئے جبکہ دیگر مخصوص عِلاقوں سے وابستہ تھے اور بعض صورتوں میں اُنکا کردار رسم یا کردار کیساتھ مُنسلک تھا۔ مثال کے طور پر دیوی قیبیٹ (Qebhet) جو ایک غیر معروف دیوی تھی، مُردوں کی روحوں کو جو موت کے بعد کی زندگی کیلئے فیصلے کا انتظار کر رہے ہوتے تھے، ٹھنڈا پانی پیش کرتی تھی اور سیشات (Seshat) زیرِ سایہ تھوتھ (Thoth)، جو تحریری کام اور مخصوص پیمائشوں کی دیوی تھی، کاتبین (scribes) کے پیشوا کے طور پر جانی جاتی تھی۔

قدیم مصری ثقافت ان دیوتاؤں کی تفہیم کی وجہ سے سامنے آئی جِنہوں نے ہر انسان کے لافانی سفر میں اہم کردار ادا کیا۔ مورخ مارگریٹ بنسن (Margaret Bunson) لکھتی ہیں:

مصر کے متعدد دیوتا ملک گیر مذہبی عقائد اور ذاتی رسومات کے مرکزی نکات تھے۔ مرنے کی عظیم رسومات اور بعد از مرگ ابدی خوشی کے مصری عقیدے میں بھی اُنکا اہم کردار تھا (98)

دیوتاوؐں کا تصور ایک ایسے عقیدہ سے اُبھرا کہ ہر چیز یعنی جانوروں، پودوں، چٹانوں، دریاوؐں اور موسموں میں ایک رُوح کام کرتی ہے جو بیک وقت ِاِنسان اور جانور کی صِفات رکھتی تھی اور جادو سے جڑی ہُوئی تھی۔ ہیکا (Heka) دُوسرے دیوتاوؐں سے بھی پہلے کا دیوتا تھا جِسے کاِِئنات کی اِبتدائی طاقت (primordial force) کہتے تھے، یہ جادو اور دوا کا دیوتا تھا، جس نے تخلیق کے عمل کو فعال کیا اور فانی اور الہی دونوں زندگیوں کو برقرار رکھا۔ مِصری ثقافت میں دیوی مات (ma'at) کو مرکزی حثیت حاصِل تھی جو ہم آہنگی اور توازن قائم کرتی تھی۔ یہ ہیکا تھا جس نے مات کو اسی طرح بااختیار بنایا جس طرح اس نے دوسرے تمام دیوتاؤں کو بنایا تھا۔

ہیکا (جادو) کا مظہر تھا جسے آج مافوق الفطرت سمجھا جاتا ہے، اِسے فِطری قوانین کیمُطابق سمجھا جانا چاہیے لیکن مِصری اِسے اِسطرح سمجھتے تھے کہ کائنات کیسے کام کرتی تھی۔ دیوتا لوگوں کو تمام اچھے تحفے فراہم کرتےتھے لیکن یہ ہیکا تھا جو انہیں ایسا کرنے کی اجازت دیتا تھا۔.

تمام دیوتاؐوں کے اپنے نام تھے، اُنکی اپنی شخصیت تھی اور وہ خصوصی خصوصیات کے حامِل تھے۔ وہ مُختلف لِباس میں ہوتے تھے، مُختلف چِیزوں کو مُقدس سمجھے تھے، اِنکا اپنا دائرہ اِختیار تھا اور واقعات پر انتہائی انفرادیت پسندانہ انداز میں ردعمل ظاہر کرتے تھے۔ ہر دیوتا کا اپنا دائرہِ اِختیار تھا لیکن وہ اکثر انسانی زندگی کے کئی شعبوں سے وابستہ تھے۔

مِثال کے طور پر ہاتھور (Hathor) ڈانس، میوزک اور شراب کی دیوی تھی لیکن اسے ماتا دیوی (Mother Goddess) کے طور پر بھی سمجھا جاتا تھا جو دریائے نیل کی عکاسی کے ساتھ کہکشاں (Milky Way) کے ساتھ بھی مُنسلک تھی اور اپنے اِبتدائی اوتار (earlier incarnation) کیمُطابق تباہ کرنے والی دیوی سیخمت (Sekhmet) بھی سمجھی جاتی تھی۔ دیوی نیتھ (Goddess Neith ) اصل میں ایک جنگی دیوی تھی جو ماتا دیوی کا مظہر بن گئی اور ایک پرورش کرنے والی شخصیت، جس کی طرف دیوتا اپنے تنازعات کو حل کرنے کے لیے رجوع کرتے تھے۔ بہت سے دیوتا اور دیویاں، جیسے سیٹ (Set) یا سرکٹ (Serket)، دوسرے کردار اور ذمہ داریاں نبھانے کے لیے وقت کے ساتھ تبدیل ہو گئے۔

یہ تبدیلیاں بعض اوقات ڈرامائی ہوتی تھیں، جیسا کہ سیٹ کے معاملے میں جو ایک ہیرو محافظ دیوتا تھا ایک ولن (شریر، مُخالف) دنیا کا پہلا قاتل بن گیا۔ مارگریٹ بنسن لکھتی ہیں کہ سرکٹ ابتدائی طور پر یقیناؐ ماتا دیوی تھی لیکن بعد میں اس کا کردار زہریلی مخلوقات خاص طور پر بچھو سے بچاوؐ اور خواتین اور بچوں کی مُحافظ دیوی بن گئی۔

مصریوں کو دیوتاوؐں کی ایک بڑی تعداد سے تو کوئی مسئلہ نہیں تھا کیونکہ اُنہوں نے کبھی کبھی پُرانے دیوتاوؐں کا سہارا لیا جبکہ اُنہوں نے پُرانے دیوتاوؐں کی جگہ نئے دیوتاوؐں کو ہی ترجیح دی۔ ہم آہنگی کے مقصد کے پیشِ نظر مختلف دیوتاؤں کی خصوصیات اور کردار کو مختلف مذہبی عقائد، رسوم و رواج یا نظریات سے ہم آہنگ کیا گیا۔ سیاسی اور مذہبی وجوہات کی بناء پر، مثال کے طور پر، تھیبن دیوتا امون (Theban god Amun)، جسے نئی بادشاہت میں سب سے طاقتور دیوتا سمجھا جاتا تھا، را (Ra) کے ساتھ جوڑ دیا گیا جو سورج دیوتا تھا اور جس کا فرقہ مصر کے آغاز سے ہی تھا۔ مصر کے دیوتاؤں کی پوجا وقت کے ساتھ ارتقا پذیر ہوئی کیونکہ بڑے فرقوں نے مقامی اور پھر قومی سطح پر ترقی کی۔ (99)

اس موضوع پر قدیم مصر کے دیوتاؤں اور دیویوں کی فہرست متعدد ذرائع سے اخذ کی گئی ہے جو ذیل میں ہے۔ ایک جامع فہرست بنانے کی ہر کوشش کی گئی ہے لیکن چھوٹے علاقائی دیوتاؤں کو اُنکے غیر یقینی کردار کی وجہ سے یا اُنکے بڑے دیوتاوؐں میں تبدیل ہونے کی وجہ سےچھوڑ دیا گیا ہے کیونکہ بڑا دیوتا بڑا ہونے سے پہلے چھوٹا دیوتا تھا۔

اِن میں، بعد از موت کے تعلق سے کُچھ ایسے نظریات، جیسے دی فیلڈ آف ریڈ (The Field of Reeds) یا لِلی جھیل (Lily Lake) بھی شامِل ہیں، دیوتاوؐں سے وابستہ تھے۔ دیوتا کی خصوصیات اِسطرح ترکیب کی گئی ہیں کہ ان کے کرداروں کی تعریفیں واضح ہو جائیں لیکن یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ دیوتاوؐں کو ایسا ہی سمجھا گیا جیسے اُنکو مصر کی طویل تاریخ میں بیان کیا گیا تھا۔

مثال کے طور پر Osiris غالباً قبل از خاندانی دور زرخیزی کا دیوتا تھا (تقریباؐ 6000-3150 قبل از مسیح) لیکن ابتدائی خاندانی دور (تقریباؐ 3150-2613 قبل از مسیح) سے پہلے ہی وہ بادشاہ کے طور پر سمجھا جاتا تھا اور نئی بادشاہی (1570-1069 قبل از مسیح) کے دوران مصر میں سب سے زیادہ مقبول دیوتا تھا۔ یہ وہی وقت تھا جب امون کو دیوتاوؐں کا دیوتا سمجھا جاتا تھا۔ اگرچہ ان تبدیلیوں کو بعض اوقات مندرجہ ذیل انداز میں نوٹ کیا جاتا ہے، لیکن دیوتاؤں کو عام طور پر اُنہی کرداروں میں بیان کیا گیا ہے جن کی وجہ سے وہ اپنی مقبولیت کے عروج پر مشہور تھے۔

فہرست

A B C D E F G H I J K L M N O P Q R S T U W Y Z

A

آیاہ ۔ (A'ah) - آیاہ کے نام سے جانا جانے والا چاند دیوتا (یاہ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا) اور آخر کار اِسکا نام خونسو (Khonsu) ہُوا۔

اکن (Aken)- ِاُس کشتی کا نگران جو روحوں کو للی جھیل کے پار بعد کی زندگی میں ریڈز کے میدان (Field of Reeds) تک لے جاتا تھا۔ وہ اُس وقت تک سوئے رہتا تھا جب تک حقیقی طور پر الہی فیری مین (Divine Ferryman) کو اُسکی ضرورت نہ پڑے۔ اس کا نام صرف مُردوں کی کتاب (Book of the Dead) میں نظر آتا ہے۔

اکر (Aker)- بعد کی زندگی کے مشرقی اور مغربی افق کا محافظ دیوتا جِسکی پُوجا کی جاتی تھی۔ وہ شمسی کشتی یعنی سُورج بجر کی حفاظت کرتا تھا اور شام اور فجر کے وقت پاتال کو چھوڑ دیتا تھا۔

ام-ہہ (Am-Heh)- انڈرورلڈ (underworld پاتال) میں ایک دیوتا، "لاکھوں کو کھا جانے والا" (devourer of millions) اور "ابدیت کا کھانے والا" (eater of eternity) جو آگ کی جھیل میں رہتا تھا۔

امینیٹ (Amenet)- ایک دیوی جو مرنے والوں کو بعد کی زندگی میں خُوراک اور پانی کیساتھ خوش آمدید کہتی تھی۔ وہ "مغرب کی وہ" ("She of the West") کے نام سے بھی جانی جاتی تھی۔ امینیٹ الہی فیری مین کی ساتھی تھی۔ وہ ہتھور اور ہورس کی بیٹی تھی اور انڈرورلڈ کے دروازے کے پاس ایک درخت میں رہتی تھی۔

امیت (Ammit) - "روحوں کو کھا جانے والی (Devourer of Souls) ایک دیوی جِسکا مگرمچھ کا سر ، چیتے کا دھڑ، اور ہپوٹومس کا پچھلا حصہ تھا۔ وہ بعد کی زندگی میں ہال آف ٹروتھ (Hall of Truth) میں انصاف کے ترازو کے نیچے بیٹھتی تھی اور ان روحوں کے دلوں کو کھا جاتی تھی جِنکو اوسائرس (Osiris) نے بے گُناہ ثابت نہیں کیا تھا۔

امون (امون-را) Amun (Amun-Ra)- سورج اور ہوا کا دیوتا۔ قدیم مصر کے سب سے طاقتور اور مقبول دیوتاؤں میں سے ایک، تھیبس (Thebes دریائے نیل کے ساتھ قدیم اپر مِصری شہر) شہر کا سر پرست، جہاں اِسکی پوجا امون، مٹ اور خونسو ( یعنی امون ٹرائڈ تین دیوتاوؐں کا مجموعہ Amun, Mut, and Khonsu) کے نام سےکی جاتی تھی۔ نئی بادشاہت کے وقت تک وہ مصر میں سب سے طاقتور دیوتا سمجھا جاتا تھا اور اس کی عبادت توحید پر مبنی تھی۔ دوسرے دیوتاؤں کو بھی اس وقت امون کے محض پہلو سمجھا جاتا تھا۔اِسکی کہانت کرنے والے کو مِصر میں طاقتور اور امون دیوتا کی بیوی کے برابر درجہ دیا جاتا تھا، وہی درجہ جو شاہی خاتون کو دیا جاتا تھا اور جو تقریباؐ فرعون کے برابر ہوتا تھا۔

Amun, Mut, and Khonsu
امون، موٹ، اور کھونسو Osama Shukir Muhammed Amin (Copyright)

آمون ہو ٹیپ ہاپو کا بیٹا Amunhotep (Amenhotep Son of Hapu)- شفا اور حکمت کا دیوتا۔ ہارڈیڈیف (Hardedef) اور اِمہوتیپ (Imhotep) کے ساتھ یہ شفا اور حِکمت کا دیوتا تھا، جِسکی مِصری پوجا کرتے تھے۔ وہ Amunhotep III (1386-1353 قبل از مسیح) کا شاہی معمار تھا۔ وہ اتنا عقلمند سمجھا جاتا تھا کہ مرنے کے بعد وہ دیوتا بن گیا۔ اس کا مغربی تھیبس میں ایک بڑا مندر اور دیر البحری (Deir el-Bahri) میں ایک شفا کا مرکز تھا۔

امیو نیٹ (Amunet)۔ امون کی خاتون ہم منصب، اوگدود کی رکن (ہرموپولس Hermopolis میں آٹھ نمایان دیوتاوؐں میں سے ایک)۔

انات (Anat) - زرخیزی، جنسیت، محبت اور جنگ کی دیوی۔ وہ اصل میں شام یا کنعان سے تھی۔ کچھ نصوص میں اسے دیوتاؤں کی ماں جانا جاتا ہے جبکہ دیگر میں وہ کنواری ہے اور، کُچھ معاد میں اُسے حسی اور شہوانی، شہوت انگیز دیوی کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ہورس کے تنازعات اور سیٹ (The Contendings of Horus and Set) کے ایک بیان / تشریح میں، اسے دیوی نیتھ کی تجویز پر سیٹ کی ساتھی کے طور پر دِکھایا گیا ہے۔ اکثر اِسے یونان کی افروڈائٹ (Aphrodite)، فونیشیا کی عستارات (Astarte of Phoenicia)، میسوپوٹیمیا کی انانا (Inanna of Mesopotamia) اور ہٹائٹس کی سوسکا (Sauska of the Hittites) کے برابر دِکھایا گیا ہے ۔

انتا (Anta)۔ مادر دیوی مٹ (Mother Goddess Mut) کا ایک پہلو جِسکی تانیس (Tanis) میں امون کی ساتھی کے طور پر پوجا کی جاتی تھی۔

اینجیٹی (Andjety)۔ زرخیزی کا ابتدائی دیوتا بسیرس Busiris (Andjet)) کے شہر سے وابستہ ہے۔ اس کے نام کا مطلب ہے "وہ جو اینڈجیٹ سے ہے (He who is from Andjet) اور ڈیجڈ علامت سے وابستہ ہے۔ آخر کار اسے اوسائرس نے جذب کیا اور اس کا نام اس دیوتا کے ساتھ جڑ گیا۔ (Andjet اوسائرس کا پیش خیمہ دیوتا اور djed یعنی مُستقل ہونا)۔

اینہر Anhur (Han-her))۔ یونانی اسے Onuris بھی کہتے تھے۔ جنگ کا دیوتا اور مصری فوج کا سرپرست۔ حوالہ Onuris۔

این کِٹ Anqet (Anukit or Anuket)۔ زرخیزی اور اسوان میں دریائے نیل پر آبشار کی دیوی۔

اینٹی (Anti)۔ بالائی مصر کا ایک عُقاب (Hawk) دیوتا بعض اوقات انات (ظاقتور کِنعانی دیوی جو جنگ، زرخیزی اور جِنسی محبت کے تعلق سے ہے) سے جُڑتا ہے۔

انو بِس (Anubis)۔ مُردوں کا دیوتا ممی بنانے یا فنِ حنوط سے وابستہ ہے۔ Nephthys اور Osiris کا بیٹا، Qebhet کا باپ۔ انوبس کو ایک ایسے آدمی کے طور پر دکھایا گیا ہے جس کا سر کتے یا گیدڑ کا ہے اور وہ لاٹھی پکڑے ُہوئے ہے۔ وہ مُردوں کی روحوں کو ہال آف ٹروتھ (the (Hall of Truth تک پہنچاتا اور بعد کی زندگی میں روح کے دل کے وزن کی رسم کا حصہ ہوتا تھا۔ وہ شاید اصل مُردوں کا دیوتا تھا لیکن جب یہ کردار اوسائرس کو دیا گیا، وہ اُسکا بیٹا بن گیا۔

انوک (Anuke) -اصل میں ایک جنگی دیوی اور مصر کے قدیم ترین دیوتاوں میں سے ایک، جِسے بعض اوقات جنگی دیوتا انہور کا ساتھی سمجھا جاتا تھا۔ وہ Nephthys کے ساتھ منسلک ہوئی اور ایک حد تک Isis کے ساتھ کیونکہ کچھ نصوص میں ان کی چھوٹی بہن کے طور پر ہے. ابتدائی تصویروں میں اسے کمان اور تیر کے ساتھ جنگی لباس میں دکھایا گیا لیکن وہ ایک ماں دیوی اور پرورش کرنے والی شخصیت میں تبدیل ہو گئی تھی۔ یونانیوں نے اسے ہیسٹیا (Hestia) سے جوڑ دیا۔

اپیڈماک (Apedemak) - ایک جنگی دیوتا جس کو شیر کے طور پر دکھایا گیا ہے، جو کہ اصل میں نوبیا (Nubia قدیم مِصر کے جنوب میں دریائے نیل کے ساتھ کا عِلاقہ جو موجودہ مِصر کے جنوبی حِصہ اور سوڈان میں ہے) سے تعلق رکھتا تھا۔

اپیپ (اپوفس) Apep (Apophis) - اپیپ، آسمانی سانپ جو ہر رات انڈر ورلڈ سے کُزرتے ہُوئے صُبح تک سُورج بجر (شمسی کشتی) پر حملہ کرتا تھا۔ دیوتا اور عادل مردے سانپ کو روکنے میں را کی مدد کرتے۔ اپوفس کا تختہ اُلٹنے کی رسم ritual known as Overthrowing of Apophis مندروں میں ادا کی جاتی تھی تاکہ دیوتاؤں اور جانے والی روحوں کو سورج کی حفاظت اور دن کے آنے کو یقینی بنایا جا سکے۔

آپِس Apis - الہی بیل کی میمفس (Memphis تقریباؐ 3100 قبل از مسیح میں مُتحدہ مصر کا دارلحکومت) میں دیوتا Ptah کے اوتار کے طور پر پوجا کی جاتی تھی۔ قدیم مصر کے قدیم ترین دیوتاؤں میں سے ایک جسے نرمر پیلیٹ Narmer Palett ( (تقریباؐ 3150 قبل از مسیح) پر دکھایا گیا ہے۔ Apis Cult مصری ثقافت کی تاریخ میں سب سے اہم اور طویل عرصے تک رہنے والا تھا۔ (تقریباؐ 3150 قبل از مسیح فرعون بادشاہ نرمر کے دور میں Hierakonpolis شہر میں پتھر کی یاداشت جِس پر افسانوی اور تاریخی تفصیل ہوتی تھی جِس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ فرعون بادشاہ ایک الہی ہستی تھی جِسےافراتفری کو ترتیب میں بدلنے کیلئے الہی مدد حاصل تھی)۔

ارنیو فِس Arensnuphis- دیوی Isis کا ساتھی جِسکی بنیادی طور پر مقدس مقام Philae پر پوجا کی جاتی تھی۔ نوبیا میں اسے شیر کے طور پر دکھایا گیا تھا یا پروں والے سر کے ساتھ آدمی۔

اِسکیو پائس (Aesculapius)- یونانیوں کے شفا کے دیوتا کے طور پر اِسکی مصر میں صقرہ {موجودہ قائرہ (مِصر) سے قریبی فاصلے پر ایک قدیم شہر جو دریائے نیل کے مغربی کِنارے پر واقع تھا} میں پوجا کی جاتی تھی اور اس کی شناخت دیوتا امہوٹپ (Imhotep) سے ہوتی تھی۔ اس کی علامت، ممکنہ طور پر دیوتا ہیکا سے ماخوذ، ایک ایسا عصا تھا جس میں ایک سانپ بل کھاتا ہُوا جڑا تھا، جو جدید دور میں شفا یابی اور طبی پیشے سے وابستہ ہے، جسے راڈ آف ایسکلیپیئس (Rod of Asclepius) کہا جاتا ہے۔

اِیش (Ash)- لیبیا کے صحرا کا دیوتا، ایک مہربان دیوتا جس نے مسافروں کے لیے نخلستان فراہم کیا۔

عستارات Astarte - زرخیزی اور جنسیت کی فونیشین دیوی (Phoenician بحیرہ روم کے سمندری کِنارے پر واقعہ سامی تہذیب کا وہ عِلاقہ تقریباؐ 2500 قبل از مسیح، جو آج لُبنان، شام اور اِسرائیل ہے) جو اکثر یونانیوں کی افروڈائٹ (Aphrodite)، میسوپوٹیمیا کی انانا/اشتار (Inanna/Ishtar)، اور ہٹیوں کی سوسکا (Sauska of the Hittites) کے ساتھ قریب سے ملتی تھی۔ اِسے جنت کی ملکہ (Queen of Heaven) کہا جاتا تھا۔ مصری افسانوں میں، اسے دیوی نیتھ (goddess Neith) کی طرف سے انات (Anat) کے ساتھ سیٹ کے ساتھی کے طور پر دِکھایا گیا ہے۔

آٹن Aten۔ سورج کی طشتری، اصل میں ایک سورج دیوتا جسے فرعون اخیناتن Akhenaten (1353-1336 قبل از مسیح) نے اِسے کائنات کے خالق، واحد دیوتا کا درجہ دیا۔

آتم را Atum (Ra)۔ سورج دیوتا، دیوتاؤں کا سب سے بڑا دیوتا، Ennead (قدیم مِصری متھالوجی میں نو دیوتاوؐں کا گروپ) کا پہلا دیوتا، کائنات اور انسانوں کا خالق۔ آتم (Ra) پہلا الہی اِنسان ہے جو افراتفری کے درمیان قدیم ٹیلے (primordial mound in the midst of chaos) پر کھڑا ہے اور ہیکا کی جادوئی قوتوں کو کھینچتا ہے تاکہ دوسرے تمام دیوتاؤں، انسانوں اور زمین پر زندگی کو تخلیق کر سکے۔

ایف (ایفو-را) Auf (Efu-Ra)) را دیوتا کا ایک پہلو.

B

بعل -Ba'al طوفان کا دیوتا اِبتدائی طور پر فونیشیا (Phoenicia) سے تھا۔ اس کے نام کا مطلب ہے "رب" جو کنعان میں ایک بڑا دیوتا تھا جس کی صرف مصر میں نئی ​​بادشاہی (1570-1069 قبل از مسیح) کے آخری دور میں پوجا کی جاتی تھی۔

بعلات جبل -(Ba'alat Gebal) بائیبلوس (Byblos بحیرہ روم کا ساحلی شہر جدید دور میں لُبنان میں) شہر کی محافظ دیوی جِو پپائرس (papyrus کے پودے کے گڑھے سے بنا ایک موٹا، کاغذ جیسا مواد) کیساتھ وابستگی کی وجہ سے مصری عبادت میں شامل ہوئی۔

بابی (بابا) -Babi (Baba) وہ ایک قابلیت والا دیوتا تھا جسے بابون (baboon) کے طور پر دکھایا گیا تھا اور مردانہ جنسیت کی علامت تھا۔

بانیجڈعٹ Banebdjedet مینڈس شہر (آثارِ قدیمہ کا ایک شہر جو زیریں مِصر میں مشرقی نیل ڈیلٹا پر واقع ہے) سے وابستہ جو مینڈے یا مینڈے کے سر والے آدمی کے طور پر ظاہر ہوتا تھا آخر کار اوسائرس (Osiris) کا دُوسرا نام بن گیا۔

باپیف (Ba-Pef) دہشت کا دیوتا، خاص طور پر روحانی دہشت کی علامت تھا۔ اس کے نام کا ترجمہ "وہ روح" ("that soul") ہے۔ وہ بعد کی زندگی میں ہائوس آف وو (House of Woe) میں رہتا تھا اور مصر کے بادشاہ کو تکلیف دینے کے لیے جانا جاتا تھا۔ اس کی عبادت کبھی کسی مندر میں نہیں کی گئی تھی لیکن ایک فرقہ کے طور پر یہ (Cult of Ba-Pef) دیوتا کو خوش کرنے اور بادشاہ کی حفاظت کے لیے تھا۔.

باسٹیٹ (باسٹ) Bastet - بلیوں کی خوبصورت دیوی، یہ خواتین کے راز، ولادت، زرخیزی، اور چولہا اور گھر کی قِسمت کی مُحافظ تھی۔ وہ را کی بیٹی تھی اور ہتھور سے قریبی تعلق رکھتی تھی۔ باسٹیٹ قدیم مصر کی سب سے مشہور دیویوں میں سے ایک تھی۔ مرد اور خواتین اس کی یکساں تعظیم کرتے تھے اور تعویز پہنتے تھے۔ وہ عالمی سطح پر اس قدر پسند کی گئی کہ 525 قبل از مسیح میں، فارسیوں نے پیلوزیم کی جنگ (Battle of Pelusium) جیتنے کے لئے مِصری عقیدت کو مدِ نظر رکھتے ہُوئے اِسکے نِشان کا سہارا لیا۔ انہوں نے اپنی ڈھالوں پر باسٹیٹ کی تصاویر پینٹ کیں اور جانوروں کو اپنی فوج کے سامنے بھگا دیا یہ جانتے ہوئے کہ مصری اپنی دیوی کو ناراض کرنے کے بجائے ہتھیار ڈال دیں گے۔ اسے بلی یا بلی کے سر والی عورت کے طور پر دکھایا گیا ہے، اور اس کا بڑا فرقہ مرکز بوبسٹیس (Bubastis نیل ڈیلٹا کا ایک قدیم شہر) میں تھا۔

Bastet
باسٹیٹ Trustees of the British Museum (Copyright)

بیٹ (Bat)۔ ابتدائی زرخیزی اور کامیابی سے وابستہ گائے کی دیوی جو ابتدائی قبل از خاندانی دور (تقریباؐ 6000-3150 قبل از مسیح) سے تعلق رکھنے والی قدیم ترین مصری دیویوں میں سے ایک ہے۔ اِسے گائے یا گائے کے کانوں اور سینگوں والی عورت کے طور پر دکھایا گیا ہے اور یہ غالباً نرمر پیلیٹ [(Narmer Palette(تقریباؐ 3100-2900 قبل از مسیح) کے سب سے اوپر کے دور کی تصویر ہے کیونکہ وہ بادشاہ کی کامیابی سے وابستہ تھی۔ ماضی اور مُستقبل دونوں کے بارے میں جاننے کی صلاحیت رکھنے کی وجہ سے وہ لوگوں کو برکت سے نوازتی تھی۔ آخر کار وہ ہتھور میں ضِم ہو گئی جِس نے اُسکی صلاحیتوں کو اپنا لیا۔

بینو (Bennu)- بینو برڈ کے نام سے جانا جانے والا ایک پرِندہ یا اِنسان نُما پرندہ (ایوین پرِندہ) کی شکل میں دِکھایا گیا دیوتا یا دیوی جو عِلمِ الہیات، طاقت، آزادی اور رہنمائی کی علامت تھا۔ یونانی فینِکس میں یہ پرندہ الہی تخلیق کرنے والا پرندہ تھا۔ اِسکا آتم (Atum)، را اور اوسائرس سے گہرا تعلق تھا۔ یہ تخلیق کے شروع میں موجود تھا جو آتم اور را کا ایک پہلو تھا جو اِبتداِی پانیوں پر اُڑا جِسکی چیخ سے کائنات وجود میں آِئی۔ اس کے بعد، اس نے تعین کیا کہ تخلیق میں کیا شامل ہوگا اور کیا نہیں۔ یہ دوبارہ جنم کی منظر کشی کے ذریعے اوسائرس سے منسلک تھا کیونکہ سورج سے قریب سے جڑا ہوا تھا جو ہر رات مرتا تھا اور اگلی صبح دوبارہ طلوع ہوتا تھا۔

بیس (آہا یا بیسو) Bes (Aha or Bisu)۔ ولادت، زرخیزی، جنسیت، مزاح، اور جنگ کا دیوتا، جسے بونے دیوتا (Dwarf god) کے نام سے جانا جاتا تھا۔ وہ مصری تاریخ کے سب سے مشہور دیوتاؤں میں سے ایک ہے جو عورتوں اور بچوں کی حفاظت کرتا تھا، برائیوں کو روکتا تھا، اور خدائی حکم اور انصاف کے لیے جدوجہد کرتا تھا۔ اسے اکثر ایک دیوتا کے طور پر تو نہیں لیا جاتا تھا بلکہ ایک روح (ایک 'شیطان'، اگرچہ اُس طرح نہیں جیسے آج کے دور میں سمجھا جاتا ہے) کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ اِسکی پوجا اِس طرح کی جاتی تھی کہ مِصری اپنے گھروں میں روزمرہ کی متعدد اشیاء جیسے فرنیچر، آئینے اور چاقو کی ہتھیوں پر اسے نمایاں کرتے تھے۔ اس کی ساتھی Taweret تھی، جو بچے کی پیدائش اور زرخیزی کی ہپوپوٹیمس (hippopotamus) دیوی تھی۔ بیس کو ایک داڑھی والے بونے کے طور پر دکھایا گیا ہے جس کے بڑے کان، نمایاں جنسی اعضاء، کمان والی ٹانگیں ہیں اور وہ اپنی آواز سے ہلچل مچانے والا آدمی ہے۔ اسے ہمیشہ سامنے کی پوزیشن میں اپنے خِلاف الزامات کا تحفظ کرتے ہُوئے دکھایا جاتا ہے۔

بِیسیٹ (Beset)۔ یہ بیس کا زنانہ پہلو تھا جِسکی رسمی جادو کے ذریعے مدد مانگی جاتی تھی۔ ایک حفاظتی دیوتا کے طور پر، بیس نے سیاہ جادو، بھوتوں، روحوں اور بدروحوں کو بھی روکا۔ ان کے نسوانی پہلو کو ان قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بلایا گیا۔

بوچِس (Buchis)۔ کا (Ka) کی شکل میں، دیوتا مونٹو کا پہلو (Ka کے معنی ہیں طاقت حیات/astral self یعنی ایک لطیف، غیر طبعی چیز جو جسمانی جسم کے ساتھ موجود ہو۔ یہ شعور یا روح کے لیے ایک گاڑی کے طور پر کام کرتی ہے)۔ اِسے دوڑتے ہوئے زندہ بیل کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

C

غار دیوتا - (Cavern Deities) بے نام دیوتاؤں کا ایک گروہ جو پاتال / عالَمِ اِرواح میں غاروں میں رہتا تھا اور شریروں کو سزا دیتا تھا اور راستباز روحوں کی مدد کرتا تھا۔ ان کا تذکرہ مصری مُردوں کی کِتاب (Egyptian Book of the Dead) کے 168 ویں حِصے میں کیا گیا ہے اور انہیں سانپ یا سانپ کی طرح دکھایا گیا ہے۔ اسے 'بارہ غاروں کا جادو'(Spell of the Twelve Caves) کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس میں ان نذرانوں کا ذکر کیا گیا ہے جِنہیں اُن کے لئے چھوڑنا ہوتا تھا۔ مصر کے لوگ ان کے لیے غاروں میں نذرانے کے پیالے چھوڑ دیتے تھے۔

آسمانی فیری مین Celestial Ferryman (Hraf-haf)) - "وہ جو اپنے پیچھے دیکھتا ہے"، (He Who Looks Behind Him) ایک غُصہ بھرا کشتی والا آدمی جو للی جھیل (Lily Lake) کے اس پار عادل مردہ کی روحوں کو ریڈز کے میدان میں جنت کے ساحلوں (shores of paradise in the Field of Reeds) تک پہنچاتا تھا۔ حراف (Hraf) بدتمیز اور ناگوار پیش آتا تھا، اور جواب میں روح کو جنت تک پہنچنے کے لیے شائستہ ہونے کا کوئی نہ کوئی راستہ تلاش کرنا پڑتا تھا۔ حراف کو ایک کشتی میں ایک آدمی کے طور پر دکھایا گیا ہے جس کا سر اس کے پیچھے ہے۔

D

ڈیڈن (Dedun) اصل میں یہ ایک نیوبین دیوتا (Nubian deity) تھا جو خاص طور پر نوبیا سے آنے والے سامان کیلئے ایک محافظ دیوتا تھا۔

دینون (Denwen) - شعلوں سے گھرا ہوا ڈریگن کی شکل میں ایک ناگ دیوتا۔ وہ آگ پر طاقت رکھتا تھا اور اتنا مضبوط تھا کہ دیوتاؤں کو تباہ کر سکے۔ اہرامِ مصر کے تحریری نقوش/متون (Pyramid Texts) میں، وہ اپنی آتشی پُھونک سے تمام دیوتاؤں کو مارنے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ ایسے مردہ بادشاہ کی روح سے مغلوب ہوتا ہے جِس نے اپنی مخلوق کو بچایا ہو۔

ڈومٹیف (Duamutef) ہورس (Horus) کے چار بیٹوں میں سے ایک جو کینوپیک جار (canopic jar جِس میں معدہ اور دُوسرے اہم اعضا ہوتے تھے) کی حِفاظت کرتا تھا۔ یہ مشرق میں راج کرتا تھا، اس کی شکل گیدڑ کی تھی، اور دیوی نیتھ اس کی نگرانی کرتی تھی۔

E

انیڈ ۔( Ennead دیوتاوؐں کا ایک گروپ) ہیلیاوپلس (Heliopolis) میں جن 9 دیوتاوؐں کی پوجا کی جاتی تھی اُسے Osiris Myth کیمُطابق ٹریبونل کہا جاتا تھا۔ اِن دیوتاوؐں کے نام یہ ہیں: (Atum, Shu, Tefnut, Geb, Nut, Osiris, Isis Nephthys, and Set)۔ (ہیلیاوپلس موجودہ قائرہ کے شمال مشرق کا ایک قدیم شہر جو سورج دیوتا را Ra کا ایک بڑا مرکز تھا) یہ نو دیوتا فیصلہ کرتے تھے کہ سیٹ یا ہورس کو اُس کہانی میں جِسکو ہورس اور سیٹ کے تنازعات (The Contendings of Horus and Set) کہا جاتا تھا، کیا حکمرانی کرنی چاہیے۔ وہ عظیم Ennead کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہیلیاوپلس میں معمولی دیوتاؤں کی پوجا کی جانے والی ایک چھوٹی Ennead بھی ہوتی تھی۔

F

فیٹکٹ (Fetket) - سورج دیوتا (شراب خانے میں خِدمت کرنے والوں کا سرپرست دیوتا) را کا بٹلر (butler) مشروبات سے خِدمت کرتا تھا۔

نذرانے پیش کرنے کیلئے میدان (Field of Offerings)-مِصر کے مغربی عِلاقہ میں واقع یہ ایک بعد کی زندگی کا خطہ تھا جو Osiris کے لیے وقف تھا۔ کچھ نوشتہ جات میں یہ سرکنڈوں کے میدان کے مترادف ہے۔

سرکنڈوں کا میدان (Field of Reeds) - موت کے بعد مصری، جنت جس میں اُس روح کا داخلہ جائز تصور کیا جاتا تھا جِس نے کامیابی سے زِندگی گُزاری ہو اور اُسے اوسائرس کے فیصلے کے مُطابق جنت کا مُستحق قرار دیا گیا ہو۔ یہ زمین پر کسی کی زندگی کی براہ راست عکاسی تھی جہاں کوئی بیماری، مایوسی یا موت کے خطرے کے بغیر لطف اندوز ہوتا رہا۔

بیالیس ججز (Forty-Two Judges)- بیالیس ججز جو اوسائرس، تھوتھ (Thoth) اور انوبس (Anubis) کے ساتھ مِلکر بعد کی زندگی میں مرنے والوں کے فیصلے کیلئے صدارت کرتے تھے۔ ایک بار جب رُوح منفی اعترافات کر دیتی (Declaration of Innocence) اور اُسکے لئے بے گُناہی کا اعلان ہو جاتا تو پِھر اُسے یہ ججز اوسائرس کے سامنے پیش کر دیتے کہ آیا وہ اعتراف قبول کرتا ہے یا نہیں؟۔۔ دُوسرے ججوں کے عِلاوہ یہ ججز نمایاں تھے Far-Strider، Fire-Embracer، Demolisher، Disturber، Owner of Faces اور Serpent۔ (یہ ججز وفات پا جانے والے کی زِندگی کے بارے میں گواہی پیش کرتے تھے اور اُسکا مات کی تعلیم یعنی اِنصاف اور سچائی کی روشنی میں جائزہ لے کر فیصلہ کرتے تھے کہ آیا اُس رُوح نے مات کی تعلیم پرعمل درآمد کیا ہے یا نہیں۔

ہورس کے چار بیٹے (Four Sons of Horus) - چار دیوتا، Duamutef، Hapy، Imset، اور Qebehsenuef، جو مقبرے میں رکھے گئے چار کینوپیک برتنوں میں viscera یا مردہ کی نگرانی کرتے تھے۔ ہر ایک کی حفاظت کے لیے ایک سمت، حفاظت کے لیے ایک عضو، اور ایک دیوی ان کی نگرانی کرتی تھی۔

Canopic Jars of Neskhons
نیسکھونز کے کینوپک جار The Trustees of the British Museum (Copyright)

G

جیب (Geb) - زمین اور اُسکے اُوپر بڑھتی ہوئی چیزوں کا دیوتا۔ جیب شو اور ٹیفنٹ (Shu and Tefnut ہوا کا دیوتا، بارش اور نمی کا دیوتا) کا بیٹا ہےاور نٹ کا شوہر (آسمان)۔

جینجر ور (Gengen Wer) - آسمانی ہنس (goose) جس کے نام کا مطلب ہے "عظیم ہونکر" (Great Honker ہارن کی طرح آواز نِکالنے والا)۔ وہ تخلیق کے طلوع آفتاب کے وقت موجود تھا اور زندگی بخش آسمانی انڈے کی حفاظت کرتا تھا۔ وہ ایک محافظ دیوتا تھا جس کی مصر کی تاریخ میں اوائل میں پوجا کی جاتی تھی۔ Gengen Wer کے پیروکاروں نے خود کو اس کی حفاظتی صفات سے پہچانا اور وہ تعویز نُما مذہبی یا جادوئی طاقتوں سے منسوب حِفاظت اور شفا کیلئے چیزیں پہنتے تھے تا کہ وہ اُنہیں زِندگی کا احترام کرنے اور دھرتی کی عِزت کرنے کی یاد دِلاتی رہیں۔

H

ہا (Ha) - ایک محافظ دیوتا، مغربی صحراؤں کا رب، جسے لیبیا کا رب (Lord of the Libyans) بھی کہا جاتا ہے۔ وہ مصر کے مغرب میں صحرا کا دیوتا تھا، دیوتا ہا (god Iaaw) کا بیٹا جو شاید صحرائی دیوتا بھی تھا۔ ہا نے لیبیا کے لوگوں کو تحفظ فراہم کیا اور صحرا میں مسافروں کے لیے نخلستان کھول دیا۔ اسے سر پر صحرا کے نشان کے ساتھ ایک مضبوط نوجوان کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

ہاپی (Hapi)- زرخیزی کا دیوتا، نیل گاد (Nile silt) کا دیوتا اور سیلاب سے منسلک جس کی وجہ سے دریا اپنے کناروں سے بہہ گیا اور اس سے خاصی زمین جمع ہو کر قابلِ کاشت بن گئی جس پر کسان اپنی فصلوں کے لیے انحصار کرتے تھے۔ ہاپی ایک بہت قدیم دیوتا تھا جس کا نام شاید اصل میں دریا سے لیا گیا اور سیلاب کے وقت دریا اُسکی شخصیت میں تھا۔ اسے بڑے سینے اور پیٹ والے آدمی کے طور پر دکھایا گیا ہے جو زرخیزی اور کامیابی کی علامت ہے۔

ہیپی (Hapy)- ہاپی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک محافظ دیوتا، ہورس کے چار بیٹوں میں سے ایک جو پھیپھڑوں کو پکڑے ہوئے کینوپیک جار کی حفاظت کرتا تھا۔ نیفتھیس (Nephthys) کے زیرِ نِگرانی، ایک بابون کی شکل میں اس نے شمال کی صدارت کی.

ہردیدیف (Hardedef)- بادشاہ خوفو کا بیٹا (جسے چیپس بھی کہا جاتا ہے، 2589-2566 قبل از مسیح) جس نے ایک کتاب لکھی جسے انسٹرکشن ان وزڈم (Instruction in Wisdom) حِکمت کیلئے ہدایت) کہا جاتا ہے۔ کام اتنا شاندار تھا کہ اسے دیوتا کا کام سمجھا جاتا تھا اور اسے موت کے بعد دیوتا بنا دیا گیا۔

ہاروریز (Haroeris)- ہورس دی ایلڈر (Horus the Elder) کے آسمانی پہلو کا یونانی نام (جسے ہورس دی گریٹ بھی کہا جاتا ہے جو زمینی دائرے میں فالکن کے طور پر نمودار ہوا)۔

ہارپوکریٹس -(Harpocrates) ہورس دی چائلڈ (Horus the Child) کا یونانی اور رومن نام۔ اوسائرس اور آئیسس کا بیٹا۔ پروں والے لڑکے کو اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھے ہُوئے دکھایا گیا ہے۔ یونان میں اسے راز، خاموشی اور رازداری کے دیوتا کے طور پر پوجا جاتا تھا۔

ہتھور (Hator) (ہتھور 3000 سال سے زیادہ عرسہ سے محبت، حُسن، موسیقی، خُوشی اور زخیزی / اولاد پیدہ کرنے کی صلاحیت جیسی بے شُمار خصوصیات رکھنے والی دیوی تھی)- قدیم مصر کی سب سے زیادہ جانے والی، سب سے مشہور اور سب سے اہم دیویوں میں سے ایک۔ وہ را کی بیٹی تھی اور بعض کہانیوں میں ہورس دی ایلڈر (Horus the Elder) کی بیوی تھی۔ ایک بہت قدیم دیوی، جِسے را نے انسانیت کو ان کے گناہوں کے سبب تباہ کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ دوسرے دیوتاؤں نے تباہی روکنے کیلئے را سے درخواست کی اس سے پہلے کہ کوئی انسان اس سبق سے فائدہ اٹھانے کے لیے باقی نہ رہے۔ را کے پاس خون کیطرح سرخ رنگ میں بیئر کا ایک جار تھا، جو اُسنے ڈینڈرا (Dendera مِصر کے بالائی عِلاقہ میں وہ خاص مُقام جہاں ہتھور کا مندر تھا) میں رکھا ہُوا تھا اور جسے ہتھور نے اپنے خون کی ہوس میں پیا۔ وہ سو گئی اور ایک مہربان دیوی کے طور پر بیدار ہوئی جو سب کی دوست تھی۔ وہ خوشی، الہام، جشن، محبت، خواتین، خواتین کی صحت، بچے کی پیدائش، اور نشہ کی سرپرست دیوی تھی۔ اِس کے ناموں میں سے ایک نام ہے "The Lady of Drunkenness"۔ اس کے بارے میں سوچا جاتا تھا کہ وہ سائکیمور کے درختوں (درخت جو اپنی چھال، گھنا ہونا اور بڑے پتوں کی وجہ سے مشہور ہے) میں رہتی تھی اور اسی لیے اسے 'دی لیڈی آف سائیکمور' کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ موت کے بعد کی زندگی میں وہ مردہ لوگوں کی روحوں کو جنت کی طرف جانے میں رہنمائی کرتی تھی۔ وہ را کے سورج بجر (sun barge) پر سوار دیوتاؤں میں سے ایک تھی جو اپیپ (Apep اندھیرا اور افراتفری کا ابلیسی دیوتا) کے خِلاف دِفاع فراہم کرتی تھی۔ اس کا مزید تعلق شکرگزاری اور شکر گزار دل سے ہے۔ یونانیوں نے اسے Aphrodite کے ساتھ جوڑا۔ پہلے جو چمگادڑ دیوی تھی اب اِسے ایک ایسی دیوی کے طور پر دِکھایا گیا ہے جسکا سر یا تو گائے کا ہے یا عورت کا۔ بعد میں اِسکی خصوصیات آئیسس میں ضِم ہو گئیں۔

ہتھورنیبیٹ ہٹیپیٹ Hathor-Nebet-Hetepet - ہیلیاوپلِس (Heliopolis قائرہ کے مضافات میں واقعہ مِصر کا ایک قدیمی شہر) میں ہتھور ماں دیوی کی پوجا کی جاتی تھی۔ وہ اعلیٰ دیوتا آتم (را) کے ہاتھ یعنی فعال حصہ کی نمائندگی کرتی تھی۔

ہٹمیہٹ Hatmehit (Hatmehyt) - وہ ایک مچھلی دیوی تھی جس کی مینڈیس کے ڈیلٹائی علاقے (Delta region of Mendes) میں پوجا کی جاتی تھی۔ اس کے نام کا مطلب ہے "مچھلی کا سب سے آگے"۔ وہ مینڈیس (Mendes) کے آس پاس کے علاقے کے نوم صوبہ کی ٹوٹیمک علامت (ایک روح، مقدس چیز، یا قبیلے، خاندان یا فرد کی علامت) تھی، جو کہ ایک مچھلی تھی۔

ہارون (Haurun)- یہ گیزا کے عظیم اسفنکس (Sphinx of Giza شیر کی شکل کا بہت بڑا چُونے کے پتھر کا بُت) سے وابستہ ایک محافظ دیوتا تھا۔ وہ اصل میں ایک کنعانی دیوتا تھا جو تباہی کا دیوتا تھا جس نے موت کا درخت لگایا تھا۔ جب اسے کنعانی اور شامی مزدوروں اور تاجروں کے ذریعے مصر لایا گیا تو وہ شفا کے دیوتا میں تبدیل ہو گیا۔ گیزا کے اسفنکس (Sphinx of Giza) کے ساتھ اس کی وابستگی ان غیر ملکی کارکنوں سے ہوئی جن کا خیال تھا کہ اسفنکس (Sphinx) ہارون دیوتا کی نمائندگی کرتا تھا لہازہ اُنہوں نے مجسمے کے سامنے دیوتا کا مزار بنایا۔ شکار پر جانے سے پہلے شکاری تحفظ کے لیے اس کے نام پر پڑھے جانے والے ایک مشہور منتر کےسبب اُسے "دی وکٹوریس ہرڈس مین" (Herdsman) کے نام سے جانتے تھے۔

ہڈیٹیٹ Hedetet -سرکٹ کے ابتدائی بیان کیمُطابق اِسے بچھووں کی دیوی اور ان کے زہر سے محفوظ رہنے کیلئے سمجھا جاتا تھا۔

ہے اور ہوہٹ (Heh اور Hauhet) - دیوتا اور لامحدودیت اور ابدیت کی دیوی۔ Heh کو مینڈک اور Hauhet کو سانپ کے طور پر دکھایا گیا تھا۔ ان کے ناموں کا مطلب "لامتناہی" (endlessness) ہے اور وہ اوگدود (Ogdoad آٹھ اہم دیوتاوؐں کا مجموعہ) کے اصل دیوتاؤں میں سے تھے۔

ہیکیٹ (ہیکیٹ) (Heket) - زرخیزی اور بچے کی پیدائش کی دیوی، مینڈک یا ایک عورت کو مینڈک کے سر کے ساتھ دکھایا گیا ہے.

ہیرٹ کو (Heret-Kau) - ایک حفاظتی دیوی جس کے نام کا مطلب ہے "وہ جو روحوں سے اوپر ہے" (She Who is Above the Spirits)۔ پرانی بادشاہی ( تقریباؐ 2613-2181 قبل از مسیح) کے دوران اس کی پوجا ایک زندگی بخش روح کے طور پر کی جاتی تھی جو موت کے بعد مُردوں کی رُوحوں کی حِفاظت کرتی تھی۔ اس کی پرورش کی خوبیاں بعد میں آئیسس (Isis) نے جذب کر لی تھیں۔

یکا (Heka)- قدیم مصر میں سب سے قدیم اور سب سے اہم دیوتاؤں میں سے ایک۔ وہ جادو اور دوا کا سرپرست دیوتا تھا لیکن کائنات میں طاقت کا بنیادی ذریعہ بھی تھا۔ وہ دیوتاؤں سے پہلے اور تخلیق کے عمل میں موجود تھا حالانکہ، بعد کے افسانوں میں، اسے مینہیٹ اور خنوم Menhet and Khnum کے بیٹے اور لاٹوپولس (Latopolis) کے ٹرائیڈ (triad of Latopolis) کا حصہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اسے لاٹھی اور چاقو اٹھائے ہوئے ایک آدمی کے طور پر دکھایا گیا ہے اِس لئے معالجین ہیکا کے پجاری کے طور پر جانے جاتے تھے۔ جادو قدیم مصر میں طبی مشق کا ایک لازمی حصہ تھا، اور اس لیے ہیکا ڈاکٹروں کے لیے ایک اہم دیوتا بن گیا۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنی طاقت کی علامت کے طور پر دو سانپوں کو مار ڈالا اور انہیں ایک لاٹھی پر بل دیتے ہُوئے باندھا ہُوا تھا۔ یہ تصویر (حقیقت میں سومیریوں Sumerians سے لی گئی) یونانیوں کو منتقل کی گئی جنہوں نے اسے اپنے دیوتا ہرمیس (Hermes) سے جوڑا اور اسے caduceus کہا۔ جدید دور میں، طبی پیشے سے متعلق شبیہ سازی میں کیڈیوسس کو اکثر راڈ آف ایسکلیپیئس (Rod of Asclepius) کے ساتھ مِلایا جاتا ہے۔

ہیریشاف (Heryshaf)- زرخیزی کا دیوتا جس کو مینڈھے کے سر والے آدمی کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ وہ ایک قدیم دیوتا ہے جِسکا تعلق ابتدائی خاندانی دور (تقریباؐ 3150-2613 قبل از مسیح) سے جُڑتا ہے۔ بعد میں اس کا تعلق Atum (Ra) اور Osiris سے تھا جنہوں نے اس کی خوبیوں کو جذب کیا۔

ہیسیٹ (Heset)- بیئر اور لطف اندوزی سے وابستہ کھانے پینے کی دیوی۔ وہ مصر کی ایک ابتدائی دیوی تھی جسے ایک گائے کے طور پر دکھایا گیا تھا جس کے سینگوں پر کھانے کی ٹرے تھی اور اس کے تھنوں سے دودھ آزادانہ طور پر بہتا تھا۔ بیئر کو "ہیسیٹ کا دودھ" the milk of Heset کہا جاتا تھا۔ بعد میں وہ ہتھور میں جذب ہو گئی۔ وہ منیوس اور انوبس (Mnevis and Anubis) کے ساتھ ہیلیوپولیس کے ٹرائیڈ (Triad of Heliopolis) کا حصہ تھی۔

ہٹیپِس سیخوس Hetepes-Sekhus - آنکھ یا را (Eye or Ra) کی شخصیت بعد کی زندگی میں کوبرا دیوی کے طور پر ظاہر ہوتی ہے اور اوسائرس کے دشمنوں کو تباہ کرتی ہے۔ اسے مگرمچھوں کی صحبت میں دکھایا گیا ہے۔

ہورس (Horus)- ایک ابتدائی (avian) دیوتا قدیم مصر میں سب سے اہم دیوتاؤں میں سے ایک بن گیا۔ سورج، آسمان اور طاقت سے وابستہ ہورس کا تعلق مصر کے بادشاہ کے ساتھ پہلے خاندان (تقریباؐ 3150-2890 قبل از مسیح) کے شروع میں ہی بن گیا تھا۔ اگرچہ 'ہورس'کا تعلق متعدد ابتدائی دیوتاؤں (avian deities) سے ہے لیکن بُنیادی طور پر دو اِسکی نمائندگی کرتے ہیں: ہورس دی ایلڈر (Horus the Elder)، تخلیق کے آغاز میں پیدا ہونے والے پہلے پانچ دیوتاؤں میں سے ایک، اور چھوٹا ہورس (Horus the Younger) جو اوسائرس اور آئیسس کا بیٹا تھا۔ اوسائرس مِتھ (Myth) کی مقبولیت میں اضافے کے بعد، چھوٹا ہورس مصر میں سب سے اہم دیوتاؤں میں سے ایک بن گیا۔ کہانی میں، اوسائرس کو اس کے بھائی سیٹ کے ہاتھوں قتل کرنے کے بعد، ہورس کی پرورش اس کی ماں نے ڈیلٹا کے دلدل (Delta swamps) میں کی۔ جب وہ بڑا ہو جاتا ہے تو وہ بادشاہی کے لیے اپنے چچا سے لڑتا ہے اور جیت جاتا ہے، ملک میں امن بحال کرتا ہے۔ مصر کے بادشاہوں نے، کچھ استثناء کے ساتھ، اپنے آپ کو Horus اور موت میں Osiris کے ساتھ جوڑا۔ بادشاہ کو Horus کا زندہ اوتار سمجھا جاتا تھا اور، اس کے ذریعے، دیوتا اپنے لوگوں کو تمام اچھی چیزیں عطا کرتا تھا۔ اسے عام طور پر ایک آدمی کے طور پر دکھایا جاتا ہے جس کا سر ہاک (hawk) کی طرح ہے لیکن مختلف تصاویر میں اِسے مُختلف انداز میں ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کی علامتیں آئی آف ہورس اور ہاک ہیں the Eye of Horus and the hawk۔

ہو Hu- ہو سب سے پہلے بولا جانے والا لفظ ہے اور اِسی کے نام سے دیوتا ہے۔ یہی وہ لفظ ہے جو آتم را Atum (Ra) نے کائناتت کی تخلیق کے وقت بولا اور اِسی سے سب کُچھ وجود میں آیا۔اِسکا تعلق سیا اور ہیکا (Sia and Heka) سے مِلتا ہے۔ سیا نے دل کی نمائندگی کی، ہو نے زبان، اور ہیکا ان کی بنیادی قوت جس نے انہیں طاقت دی۔ ہو کو اکثر ہیکا یا آتم (power of Heka or Atum) کی طاقت کی نمائندگی کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اِسکا ذِکر جنازے کے متن میں کیا گیا ہے جو روح کو بعد کی زندگی کی طرف لے جاتا ہے۔

I

آیا (یا) Iah (Yah) - چاند کا دیوتا جو مصری کیلنڈر میں نمایاں طور پر شُمار ہوتا ہے۔ دنیا کی تخلیق کی کہانی میں، آتم (Atum) جیب ( Geb زمین) اور نٹ (Nut آسمان) کے درمیان گہرے رشتے سے ناراض ہے اور اس طرح انہیں الگ کر دیتا ہے، یہ اعلان کرتے ہُوئے کہ نٹ سال کے دوران کِسی بھی وقت بچوں کو جنم نہ دے۔ تھوتھ (Thoth) دیوتا نمودار ہوا اور چاندنی کی قیمت پر پانچ دن تک Iah کے ساتھ جوا کھیلا۔ وہ جیت گیا اور چاند کی روشنی کو دِنوں میں تقسیم کر دیا، کیونکہ وہ آتم کے مقرر کردہ سال کے دنوں کا حصہ نہیں تھے، جِس میں نٹ جنم دے سکتا تھا۔ اس کے بعد اس نے پہلے پانچ دیوتاؤں کو جولائی میں جنم دیا: اوسائرس، آئیسس، سیٹ، نیفتھیس، اور ہورس دی ایلڈر Osiris, Isis, Set, Nephthys, and Horus the Elder ۔ مصریوں نے اپنے کیلنڈر کو ان پانچ جادوئی دنوں کے ساتھ منظم کیا۔ Iah آخر کار خونسو (Khonsu) دیوتا میں جذب ہو گیا۔ (قدیم مصری 360 دن کے کیلنڈر کے اختتام پر پانچ intercalary days یعنی اضافی دِن شامل کیے گئے ہیں تاکہ اسے 365 دن کے شمسی سال کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے)۔

آیا بیٹ (Iabet) - زرخیزی اور دوبارہ جنم کی دیوی، جسے "مشرق کی وہ" (She of the East) کہا جاتا ہے، بعض اوقات امینیٹ ("مغرب کی وہ") (She of the West) سے منسلک تھی۔ Iabet نے مشرقی صحراؤں میں راج کیا اور وقت گزرنے کے ساتھ شخصیت میں بھی ظاہر ہوئی۔ وہ "را کی صفائی کرنے والی" (Cleanser of Ra) کے نام سے بھی مشہور تھی جس نے سورج کو طلوع فجر پر ظاہر ہونے سے پہلے غسل دیا اور صبح کے سورج کی تازگی کو شخصیت میں ظاہر کیا۔ وہ آخر کار Isis میں جذب ہو گئی۔

آئی (Ihy) - موسیقی اور خوشی کا دیوتا، خاص طور پر سسٹرم کی موسیقی (ہاتھ سے بجانے والا تار دار ساز جو دیوتا ہتھور سے مُنسلک تھا)۔ یہ ہتھور اور بڑے ہورس کا بیٹا تھا۔ ڈینڈرا (Dendera) میں ہتھور کے ساتھ اس کی پوجا کی جاتی تھی اور تہواروں میں اسے پکارا جاتا تھا۔ ڈینڈرا میں دیوتا کی تعظیم اُس گھر میں جہاں بچے کی پیدائش ہو، اِس عقیدہ سے کی جاتی تھی کہ بچوں کو اِس دُنیا میں خوشی اور موسیقی سے خوش آمدید کیا جائے۔ اِسے سیسٹرم پکڑے ہُوے بچے کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

اِم ہو ٹیپ (Imhotep) - بادشاہ جوسر ( Djoser تقریباؐ 2670 قبل از مسیح) کا وزیر جس نے سٹیپ پیرامڈ (Step Pyramid) ڈیزائن اور تعمیر کیا۔ اُسکا وقت تقریباؐ 2667 قبل از مسیح سے 2600 قبل از مسیح تک تھا اور وہ مطالعہ کے بہت سے شعبوں میں ماہر تھا۔ اس کے نام کا مطلب ہے "وہ جو امن میں آتا ہے" (He Who Comes in Peace)۔ اس کی موت کے بعد، اسے حکمت اور دوا کے دیوتا کے طور پر معبود کیا گیا۔ اس کی شناخت یونانیوں نے ایسکولپیئس (Aesculapius) سے کی اور شفا کے لیے اسے پکارا جاتا تھا۔ اس کے طبی مقالات نے روایتی عقیدے کے خلاف دعویٰ کیا کہ بیماری قدرتی طور پر تھی اور دیوتاؤں کی طرف سے سزا نہیں تھی۔

امسیٹی (Imsety) - ایک محافظ دیوتا، ہورس کے چار بیٹوں میں سے ایک جو جگر کو پکڑے ہوئے کینوپیک جار (canopic jar) کی حفاظت کرتا تھا۔ جنوب میں اِسکی پوجا کی جاتی تھی، اس کی شکل ایک انسانی مرد کی تھی، اور اس پر Isis کی نظر تھی۔

اِپی (Ipy) - ایک مادر دیوی جو کچھ متون میں اوسائرس کی ماں کے ساتھ منسلک تھی، جسے اوپیٹ اور "دی گریٹ اوپٹ"(The Great Opet) بھی کہا جاتا تھا۔ اسے ایک ہپوپوٹیمس یا ہپو، مگرمچھ، انسانی مادہ، اور شیر کے پاوؐں کے طور پر دکھایا گیا ہے، اکثر شیر کے سر، ہپو کے جسم، انسانی بازوؤں اور شیر کے پاؤں کے ساتھ۔ وہ "جادوئی تحفظ کی مالکن" Mistress of Magical Protection) کے طور پر جانی جاتی تھی اور اسے سب سے پہلے اہرامِ مصر کے تحریری نقوش/متون (Pyramid Texts) میں بادشاہ کی حفاظت اور پرورش کرنے والی دِکھاِئی گئی ہے۔

اشتر (Ishtar)- محبت، جنسیت اور جنگ کی مسوپٹامیہ دیوی۔ وہ اصل میں سمیریوں اور اکادیوں کی انانا (Inanna) تھی، جو اشوریوں کے لیے اشتر بن گئی اور اسی طرح کی دیگر دیویوں کی ترقی پر اثر انداز ہوئی جیسے کہ یونانیوں کی افروڈائٹ، فونیشینوں کی Astarte، مصریوں کی ہتھور، اور ہٹیوں کی سوسکا یا اِنکے عِلاوہ اور۔ وہ غالباً ابتدائی خاندانی دور (تقریباؐ 3150-2613 قبل از مسیح) میں تجارت کے ذریعے مصر میں متعارف ہوئی تھی لیکن یقینی طور پر اِس نے 666 قبل از مسیح میں اشوربانیپال Ashurbanipal) کی مصر پر آشوری فتح کے بعد نمایاں مقام حاصل کیا۔

آئیسس (Isis) - مصری تاریخ میں سب سے طاقتور اور مقبول دیوی۔ وہ انسانی زندگی کے ہر عملی پہلو سے وابستہ تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ اعلیٰ دیوتا، "دیوتاوؐں کی ماں" (Mother of the Gods) بن گئی، جس نے اپنے ساتھی دیوتاؤں کا خیال رکھا جیسا کہ وہ انسانوں کے لیے کرتی تھی۔ وہ پہلے پانچ دیوتاؤں (Osiris، Isis، Set، Nephthys، اور Horus the Elder) کے بعد کی پیدائش تھی، Osiris کی بہن- بیوی، (Horus the Younger) کی ماں اور علامتی طور پر ہر بادشاہ کی ماں کے طور پر سمجھی جاتی تھی۔ بادشاہ کے ساتھ اس کی وابستگی کی وجہ سے اس کا مصری نام، ایسٹ (Eset) ہے اور جِسکا مطلب ہے، "تخت کی دیوی" (Goddess of the Throne)۔ وہ اپنی ناقابل یقین طاقت کی وجہ سے ویرٹ کیکاؤ، "دی گریٹ میجک" (Weret-Kekau, "The Great Magic) کے نام سے بھی جانی جاتی تھی۔ وہ زندگی میں لوگوں کی دیکھ بھال کرتی تھی اور موت کے بعد انہیں جنت تک بحفاظت جانے کیلئے رہنمائی اور مدد کے لئے ان کے سامنے حاضر ہوتی تھی۔ 331 قبل از مسیح سکندر اعظم کی مصر پر فتح کے بعد، اس کی عبادت یونان اور پھر روم تک ہونے لگی۔ رومی سلطنت کے زمانے میں، برطانیہ سے لے کر پُورے یورپ میں اناطولیہ تک ہر کونے میں اس کی پوجا کی جاتی تھی۔ Isis کا فرقہ چوتھی سے چھٹی صدی عیسوی کے درمیان نئے مسیحی مذہب کا سب سے مضبوط مخالف تھا۔ Isis فرقے کے عقیدے کی آئیکنوگرافی (iconography) کو نئے عقیدے میں شامل کر لیا گیا۔ کنواری مریم کی اپنے بیٹے یسوع کو پکڑے ہوئے تصویر براہ راست آئیسس سے آتی ہے جو اس کے بیٹے ہورس کو پال رہی ہے اور خود یسوع کا مرنا اور زِندہ ہونا (افسانوی) اوسائرس کی ایک زِندہ مِثال ہے۔

Isis Figurine
آئیسس کی مجسمہ Mark Cartwright (CC BY-NC-SA)

آئیسس اوتھیریا (Isis-Eutheria) یہ آئیسس کا یونانی نام تھا جسکی مصر میں پوجا کی جاتی تھی اور یہ مانا جاتا تھا کہ جب اِس نے او سائرس کے لئے ماتم کیا تو اِس کے آنسو دریائے نیل کے سیلاب کا سبب بنے۔

اوسا سیٹ Iusaaset ایک بہت ہی ابتدائی ماں دیوی کو "دیوتاوؐں کی دادی" کہا جاتا تھا اور یہ دنیا کی تخلیق کے وقت آتم سے منسلک تھی۔ اسے ابتدائی خاندانی دور (تقریباؐ 3150-2613 قبل از مسیح) میں ایک عورت کے طور پر دکھایا گیا ہے جس کے سر پر یوریئس (کوبرا سانپ کی شکل میں دیوتا)، قرصِ آفتاب، ایک عصا (scepter) اور آنکھ ہے، جو زندگی کی علامت ہے۔ یہ ببول کے درخت جو زندگی کا درخت تھا، سے منسلک تھی، جسے مصر کا قدیم ترین درخت سمجھا جاتا تھا۔ وہ "ببول کی لیڈی" (Lady of the Acacia) کے نام سے بھی جانی جاتی تھی، جو بعد میں ہتھور سے منسوب کی گئی۔ وہ یونانیوں میں ساوسس (Saosis) کے نام سے جانی جاتی تھی۔

ای (Iw) ہتھور اور آتم سے وابستہ ہیلیوپولیس (Heliopolis قائرہ کے شمال مشرق میں واقع ایک قدیم شہر جِسے سورج کا شہر کہا جاتا تھا، وہ جگہ تھی جہاں دیوتا امون-را سب سے پہلے پانیوں میں سے اُبھرا اور جِس نے دُنیا کو مُتحرک کیا) میں ایک خلق کرنے والی دیوی کی پوجا کی جاتی تھی، جس میں ہتھور، نیبیٹ اور ہیٹیپیٹ (Hathor, Nebet, and Hetepet) کی خصوصیات شامل تھیں۔

J

فیصلہ کرنے والے دیوتا (Judgement Deities) (حوالہ بیالیس ججز)

جیوپٹر امون (Jupiter-Amun) دیوتاؤں کے بادشاہ Zeus-Amon کا رومن نام جِسکی سیوا نخلستان (Siwa Oasis مِصر کے مغرببی صحرا میں واقع ایک اِنتہائی زرخیز عِلاقہ) میں پوجا کی جاتی تھی۔

K

کباچیٹ یا کیوبھیٹ Kabechet (Kebehwet or Qebhet))۔ وہ اصل میں ایک آسمانی ناگ دیوی تھی جو Anubis کی بیٹی اور جنازے کی دیوی کے نام سے مشہور ہوئی۔ وہ مرنے والوں کی روح کو خالص ٹھنڈا پانی پیش کرتی تھی جب وہ ہال آف ٹروتھ (Hall of Truth) میں فیصلے کے منتظر ہوتے تھے۔ وہ Nephthys کے ساتھ مردہ کی دوست کے طور پر ہوتی تھی۔

کاگیمنی ۔ بادشاہ سنیفیرو king Sneferu (تقریباؐ 2613-2589 قبل از مسیح) کا ایک وزیر جس نے حکمت کا متن لکھا جسے کاگیمنی کی ہدایات کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ کتاب شاہی بچوں کے لیے ہدایات کی ضرورت کو مدِ نظر رکھتے ہُوئے اہم سمجھی جاتی تھی۔ اسے موت کے بعد دیوتا بنایا گیا اور حکمت کے دیوتا کے طور پر اس کی پرستش کی گئی۔

کیک اور کوکیٹ ۔ دھندلا پن اور رات کے دیوتا، ہرموپولیس کے اصل اوگڈوڈ کے ارکان (Ogdoad of Hermopolis آٹھ دیوتاوؐں کا مجموعہ)۔ Kek اور Kauket تاریکی کے نر و مادہ پہلو تھے لیکن کسی بھی طرح سے برائی سے منسلک نہیں تھے۔ کیک طلوع فجر سے پہلے کے وقت کا دیوتا تھا اور اسے "روشنی لانے والا" (Bringer-in-of-the-Light) کے نام سے جانا جاتا تھا کیونکہ اس نے دیوتا را کے سورج کے بجرے (sun barge) کو پاتال سے آسمان کی طرف رہنمائی کی۔ کوکیٹ، اس کا نسائی پہلو تھا اور یہ ایک ایسی عورت کے طور پر دکھایا گیا تھا جس کا سر سانپ کا سر تھا جسے "برنگر-ان-آف-دی ڈارکنس" (Bringer-in-of-the-Darkness) بھی کہا جاتا تھا جو سورج غروب ہونے کے وقت گودھولی کے اوقات (hours of twilight) پر حُکمرانی کرتی تھی اور سورج کے بجر کو انڈرورلڈ میں لے جاتی تھی۔

خینتیختای Khentekhtai (Khente-Khtai) وہ ایک مگرمچھ دیوتا تھا جس کی پوجا چوتھے خاندان (تقریباؐ 2613-2498 قبل از مسیح) میں اتھریبیس شہر city of Athribis (اپر مِصر میں سوہاگ کے نزدیک آثارِ قدیمہ کا ایک بڑا شہر) میں کی جاتی تھی۔ اس کا نام اور حفاظتی خصوصیات بعد میں ہورس نے جذب کر لی تھیں۔.

خینتیامینتی Khentiamenti (Khentiamentiu) ابیڈوس (Abydos) کا ایک زرخیزی دیوتا جو جنازے کا دیوتا بن گیا۔ اس کے نام کا مطلب ہے "مغرب والوں کا پہلا" (First of the Westerners)، جسے کردار کے حوالے سے مُردوں کے دیوتا (مغرب سے وابستہ) "مغربیوں کا سب سے آگے" بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے نام اور صفات کو بعد میں اوسائرس نے جذب کیا۔

کھنمو Khenmu (Khnum)۔ "دی گریٹ پوٹر" (The Great Potter) کے نام سے بھی جانا جانے والا بالائی مصر کا ابتدائی دیوتا تھا جو غالباً نوبیا سے تھا۔ ابتدائی افسانوں میں، وہ دیوتا تھا جس نے دریائے نیل کی مٹی سے انسانوں کو بنایا اور پھر انہیں بلند رکھا تاکہ را کی روشنی ان پر چمک سکے اور انہیں زندگی بخش سکے۔ پھر انسانوں کو ایک رحم میں رکھا گیا جہاں سے وہ زمین پر پیدا ہوئے۔ کھنمو کو ایک مینڈے کے سر (ram-headed) والے دیوتا کے طور پر دکھایا گیا ہے جو مردانہ اور زرخیزی کی علامت ہے۔ یہ نوبیا کی مصری سرحد پر ایلیفنٹائن (Elephantine) میں دیوتاؤں انوکیٹ اور سیٹس (Anuket and Satis) کے ساتھ ایک ٹرائیڈ (تین دیوتاوؐں کا مجموعہ) بناتے ہُوئے دیوتا کھیرٹی، مینڈے کے سر والا، سے منسلک تھا حالانکہ ایک بالکل مختلف ہستی تھی۔ وہ کمہاروں اور سیرامکس میں کام کرنے والوں کا سرپرست دیوتا تھا.

کھیپری (Khepri) را کا ایک پہلو، سورج دیوتا، اپنی صبح کی شکل میں، جس کی نمائندگی اسکاراب بیٹل scarab beetle کرتا تھا (ایک خاص قِسم کا کِیڑا جو دوبارہ جنم کِی علامت تھا اُسی جِسم میں یا کِسی دُوسری قِسم میں)۔

کھیرٹی Kherty (Cherti) وہ انڈرورلڈ کا ایک مینڈے کے سر والا دیوتا تھا جو مُردوں کو ان کے آخری سفر پر موت کے بعد کی زندگی میں لے جاتا تھا۔ پرانی بادشاہی (تقریباؐ 2613-2181 قبل از مسیح) میں کہا جاتا تھا کہ وہ اوسائرس کے ساتھ بعد کی زندگی پر حکومت کرتا تھا۔ کھیرٹی (Kherty) نے ہال آف ٹروتھ کی طرف جانے والے داخلی دروازوں اور دالانوں پر اِختیار رکھا جبکہ اوسائرس نے ہال اور ریڈز کے میدان (Field of Reeds) پر حکومت کی۔ مرنے والوں کو دوسرے دیوتا خوش آمدید کہتے تھے جب وہ بعد کی زندگی میں داخل ہوتے اور پھر انہیں کھیرٹی کے فیصلے کے لئے ہال آف ٹروتھ میں لایا جاتا۔ اس کردار میں وہ خیر خواہ ہوتا تھا لیکن کچھ تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اِس نظام کا دشمن تھا جس نے انڈرورلڈ میں داخل ہونے پر مرنے والے بادشاہ کو دھمکی دی تھی۔ اس کے برعکس، اسے بادشاہ کی حفاظت کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔.

خونسو Khonsu (Kons, Chonsu, Khensu, or Chons)) اس کے نام کا مطلب ہے "مسافر" (The Traveler) اور وہ چاند کا دیوتا تھا۔ اس نے اپنے والد امون اور ماں مٹ (Mut) کے ساتھ مل کر تھیبس (اپر مِصر کے جنوبی حِصہ میں دریائے نیل پر ایک قدیم شہر) میں سب سے اہم اور بااثر ٹرائیڈز (triads تین دیوتاوؐں کا گروپ) میں سے ایک تشکیل دیا۔ اسے ایک ممی (mummy) کے طور پر دکھایا گیا ہے جس کے سر پر یوریئس اور چاند کی ڈسک لگی ہوئی ہے۔ کھونسو نے پہلے دیوتا مونٹو (Montu) کی جگہ مٹ (آسمانی مادر دیوی) کے بیٹے کے طور پر لے لی اور اس نے اپنی حفاظتی خصوصیات کو بھی اپنا لیا۔ نئی بادشاہی (1570-1069 قبل از مسیح) کے وقت تک وہ انتہائی مقبول تھا اور امون کے بعد دیوتاؤں میں سب سے بڑا مانا جاتا تھا۔ ان کا تعلق شفا سے تھا اور خیال کیا جاتا تھا کہ کھونسو کی تصاویر میں بیماروں کو فوری طور پر شفا دینے کی معجزانہ صلاحیتیں تھیں۔

L

اوکیشیا کی خاتون (Lady of the Acacia کیکر کا درخت)- دیوی Iusaaset کے ناموں میں سے ایک نام اوکیشیا Acacia،یعنی دیوتاوؐں کی دادی۔ یہ نام بعد میں ہتھور کو دے دیا گیا۔

سائکمور کی خاتون (Lady of the Sycamore) ہتھور کے ناموں میں سے ایک جس کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ سائکمور کے درخت میں رہتی تھی جو اس کے فرقے کے لیے مقدس تھا۔

پھولوں کی جھیل (للی جھیل) Lake of Flowers (Lily Lake) - بعد کی زندگی میں ایسا پانی جسے راستی پر چلنے والوں کی روحیں سرکنڈوں کے میدان میں جنت تک پہنچنے کے لیے عبور کرتی تھیں۔ مُردوں کی کتاب میں راستباز روحوں کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ تیرنے اور اس جھیل کے کنارے لطف اندوز ہو سکتی تھیں۔

لیٹس-فِش (Lates-Fish) - نیل پرچ مچھلی (ایک ایسی بڑی تازہ پانی کی مچھلی جِسکا وزن دو سو کِلو گرام تک اور لمبائی دو میٹر تک ہوتی ہے) دیوی نیتھ (goddess Neith) کے لیے مقدس تھی، اور اِسے ایسنا (Esna اپر مِصر میں ایک قدیم شہر جو دیوتا خنم کے مندر کی وجہ سے مشہور تھا) میں ایک الہی ہستی کے طور پر پوجا کیا جاتا تھا۔

M

ماحِس Maahes (Mahes، Mihos یا Mysis) - وہ ایک طاقتور شمسی دیوتا اور معصوموں کا محافظ تھا جسے شیر کے سر والے آدمی کو ایک لمبی چُھری یا شیر کو پکڑے ہُوئے دِکھایا ہُوا تھا۔ اس کا نام ہم آہنگی اور سچائی کی دیوی مات (Ma'at) سے منسلک تھا۔ اس کا مطلب ہو سکتا ہے "مات سے پہلے سچا" (True Before Ma'at)۔ یہ تشریح اس لیے ممکن ہے کہ اس کے دوسرے ناموں میں "لارڈ آف سلاٹر" (Lord of Slaughter) اور "دی اسکارلیٹ لارڈ" (The Scarlet Lord) شامل ہیں جو دیوی کے زیر اِختیار، مقدس نظام زندگی کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا کے حوالہ سے تھے۔ اسے عام طور پر باسٹیٹ کا بیٹا سمجھا جاتا تھا لیکن اسے سیخمت کا بیٹا بھی کہا جاتا تھا، چونکہ قدرتی طور پر دونوں کا تعلق بلیوں/شیروں سے تھا۔ وہ باسٹیٹ کا بیٹا ہونے کی وجہ سے دیوتا نیفرٹم (Nefertum) کا ایک پہلو تھا۔ اس نے میمفس (Memphis) میں نیفرٹم اور امہوٹپ (Nefertum and Imhotep) کے ساتھ ایک ٹرائیڈ تشکیل دیا۔ اس کی انتقامی فطرت کی وجہ سے یونانیوں نے اسے فیوریس (Furies) سے جوڑا۔

مات (Ma'at) - سچائی، انصاف اور ہم آہنگی کی دیوی، مصری دیوتاوؐں کے گروہ میں سب سے اہم دیوتاؤں میں سے ایک تھا اور جِس نے آسمان پر ستارے قائم کیے اور موسموں کو منظم کیا۔ مات نے ہم آہنگی کے اصول کو ترتیب دیا جو قدیم مصر کی ثقافت میں مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔ مات زندگی میں ساتھ ساتھ چلتی تھی، موت کے بعد روح کے فیصلے کے وقت سچائی کے پنکھ (Feather of Truth) کی شکل میں موجود ہوتی تھی، اور سرکنڈوں کے میدان کی جنت (paradise of the Field of Reeds) میں موجود رہتی تھی۔ اسے شتر مرغ کے پروں والا تاج پہنے والی ایک عورت کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ اس لفظ کا مطلب ہے "وہ جو سیدھا ہے" (that which is straight)۔ ہم آہنگی کے تصور نے مصرکی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کیا۔ مات کے اندر ہر عمل اور وجود کے پہلو کا ایک وقت ہوتا ہے لیکن ضروری ہے کہ اسے پہچانا جائے اور مُناسب وقت پر عمل کیا جائے۔

مافڈیٹ Mafdet (Mefdet) - وہ انصاف کی ابتدائی دیوی (goddess of justice) تھی جو فیصلہ سُناتی تھی اور پھانسی کے لئے تیزی سے عمل درآمد کرتی تھی۔ اس کے نام کا مطلب ہے "وہ جو دوڑتی ہے" اس رفتار سے جِس رفتار سے وہ اِنصاف کرتی تھی۔ وہ مصر کی قدیم ترین بِلی کی شکل میں دیوی ہے، جو باسٹیٹ اور سیخمت دونوں سے پہلے کی ہے۔ وہ لوگوں کو زہریلے کاٹنے (venomous bites) سے بچاتی تھی، خاص طور پر بچھو سے۔ وہ سرکٹ (Serket) سے بھی پہلے کی ہے جِسکا کردار اُس نے اپنایا۔ مافڈیٹ (Mafdet) کی تمام خوبیوں کو بعد میں دیگر دیویوں نے فرض کیا لیکن مافڈیٹ ابتدائی خاندانی دور (تقریباؐ 3150-2613 قبل از مسیح) سے نئی بادشاہی (1570-1069 قبل از مسیح) تک ایک مقبول دیوی رہی جب وہ بعد کی زندگی میں جج کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ اسے ایک عورت کے طور پر دکھایا گیا جس کا سر ایک بلی، چیتا، چیتے، یا لنکس (lynx درمیانے سائز کی سفید بِلی) کا تھا اور وہ رسی اور جلاد کا بلیڈ پکڑے (executioner's blade). ہوئےتھی۔

منڈولس (مارول یا مرویل) Mandulis (Marul or Merwel) - ایک نیوبین شمسی دیوتا (Nubian solar deity) جسے مصری فلائی اور کالابشا میں پوجا کرتے تھے (Philae and Kalabsha مِصر میں اسوان کے نزدیک نوبیا کے قدیمی عِلاقے)۔ دونوں نیوبین سرحد کے قریب بالائی مصر میں ہوتے تھے۔ اس کے لیے پہلا مندر کالابشا میں 18ویں خاندان (تقریباؐ 1550-1292 قبل از مسیح) کے دوران تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کی شناخت را اور ہورس (Ra and Horus) دونوں کے ساتھ کی گئی تھی اور اسے ایک فالکن کے طور پر دکھایا گیا تھا جس نے سینگوں والا سرپوش (ہیم ہیم تاج hemhem crown قدیم مِصری تاج) پہنا ہوا تھا یا ایک انسان جس نے سانپوں کے ساتھ یہی تاج پہنا ہوا تھا۔ را کے ساتھ اپنی وابستگی میں صبح کے سورج کی علامت کے طور پر وہ ایک بچے کی صُورت میں نمو دار ہوتا تھا جبکہ دِن کے بعد کے حِصے کی نمائندگی وہ بالغ کے طور پر کرتا تھا۔

ماؤ (Mau) - الہی بلی جو، کچھ کہانیوں میں، را کے ایک پہلو کے طور پر تخلیق کے آغاز پر موجود تھی. ماؤ نے زندگی کے درخت کی حفاظت کی، جس نے ابدی زندگی اور الہی علم کے رازوں کو کوبرا ناگ ایپیپ (serprent Apep) سے محفوظ رکھا۔ ماؤ اور درخت کی کہانی مصری مُردوں کی کِتاب کے باب 17 میں بیان کی گئی ہے جہاں یہ واضح ہے کہ بلی را کی شخصیت ہے۔ اِسی باب میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ زمین پر بلیوں کی اصل ہے.

مہین (Mehen) - ناگ دیوتا جس نے اپنے آپ کو سورج کے بجرے میں را کے گرد لپیٹ لیا تاکہ اسے اپیپ کے حملوں (Apep افراتفری، تاریکی اور عدم وجود کا قدیم مصری دیوتا) سے بچایا جا سکے۔ ابتدائی افسانوں میں اسے را کی حفاظت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جبکہ سیٹ (Set) سانپ سے لڑتا ہے۔

مہٹ-ویرٹ Mehet-Weret - ایک قدیم آسمانی دیوی اور مصر کے قدیم ترین دیوتاؤں میں سے ایک۔ وہ آسمانی گائے دیوی ہے جو آغاز ہی میں سورج دیوتا را کو جنم دینے کے لیے افراتفری کے ابتدائی پانیوں سے نکلی تھی۔ اس کے نام کا مطلب ہے "عظیم سیلاب" اور اس کا تعلق زرخیزی اور کثرت سے ہے۔ سورج کو جنم دینے کے بعد، اس نے اسے اپنے سینگوں کے درمیان رکھا اور ہر صبح اسے آسمان پر اٹھا لیا۔ اس کی خوبیوں کو بعد میں ہتھور نے جذب کیا۔

میہت (میہت) Mehit (Meyht) - وہ ابتدائی خاندانی دور (تقریباؐ 3150-2613 قبل از مسیح) سے چاند کی دیوی تھی جس کی شناخت دور کی دیوی (Distant Goddess) کے تصور سے ہوتی ہے جو را سے روانہ ہوتی ہے اور تبدیلی لانے کے لیے واپس آتی ہے۔ یہ انہور (Anhur) کی ساتھی تھی اور اِسے عام طور پر ٹیک لگائے (reclining lioness) ہوئے شیرنی کے طور پر دکھایا جاتا ہے جس کے پیچھے تین لاٹھیاں پھیلی ہوتی ہیں۔

میکھیت (Mekhit) - جنگ کی دیوی، شاید اصل میں نوبیا سے ہے، ایک گرجنے والی شیرنی کے طور پر دکھایا گیا ہے اور چاند سے منسلک ہے۔ وہ را کی آنکھ کے انتقامی پہلو کی علامت تھی۔ ایک افسانے میں، را کی آنکھ نوبیا کے لیے روانہ ہوتی ہے جہاں وہ خود کو شیرنی میں بدل دیتی ہے۔ دیوتا (Onuris) اس کا شکار کرتا ہے اور اسے را کو واپس کرتا ہے جہاں یہ مینہت (Menhit) کو جنم دیتی ہے اور پھر (Onuris) کی ساتھی بن جاتی ہے۔ ابیڈوس (Abydos جنوبی مِصر کے بلائی حِصے میں واقع آثارِقدیمہ کا ایک قدیم عِلاقہ) میں اس کی پوجا کی جاتی تھی اور اس کی اور اونوریس کی عزت ہوتی تھی۔ مینہت، اونوریس، اور را کی آنکھ کی کہانی دور دیوی شکل (Goddess motif) کی ایک مثال ہے جہاں آنکھ را کو چھوڑ کر واپس آتی ہے یا، تبدیلی لاتی ہے۔

مینہت (مینہیت) Menhit (Menhyt))- وہ ایک شمسی دیوی تھی جو سورج دیوتا را کی پیشانی کی نمائندگی کرتی تھی، جسے ایک ٹیک لگائے ہوئے شیرنی کے طور پر دکھایا گیا تھا۔ ڈیلٹا کے علاقے میں اس کی پوجا کی جاتی تھی اور اسے ایک حفاظتی دیوی کے طور پر نیتھ اور وڈجیٹ (Neith and Wadjet) کے ساتھ منسلک کیا جاتا تھا۔

میرٹسیگر (Meretseger)- تھیبس (Thebes) میں پوجا کی جانے والی کوبرا کی شکل میں ایک محافظ دیوی۔ خاص طور پر، اس نے قدیم بادشاہوں کے قبرستان کی حفاظت کی۔

میرٹ (Merit)- موسیقی کی دیوی جس نے موسیقی کے ذرئعے کائناتی ترتیب قائم کرنے میں مدد کی۔ وہ ایک معمولی دیوی تھی جو بالآخر موسیقی کے حوالے سے مکمل طور پر ہتھور کے ساتھ جُڑ گئی۔ ہتھور جوخاص طور پر سسٹرم اور عام طور پر موسیقی سے وابستہ تھی پہلے میرٹ دیوی تھی جس نے کائناتی ترتیب کو "منظم" کیا۔

میشنیٹ (Meshenet) - بچے کی پیدائش کی دیوی اور مصر کے قدیم ترین دیوتاؤں میں سے ایک۔ Meshenet پیدائش کے وقت موجود ہوتی تھی جو بدن میں رُوح (ka) پُھونک دینے کی ذمہ دار تھی۔ ایسا کرنے سے وہ اُس رُوح کی تقدیر بناتی تھی۔ وہ بعد کی زندگی میں روح کے فیصلےکے دِن تسلی دینے کیلئے بھی موجود ہوتی تھی اور اسی طرح پیدائش کے وقت، دورانِ زِندگی، اور موت کے بعد فرد کے ساتھ ہوتی تھی۔ اسے عورت کے سر کے ساتھ اینٹ کے طور پر دکھایا گیا ہے (جو پتھر عورتیں بچے کو جنم دینے کے لیے اِستعمال کرتی تھیں) یا ایک بیٹھی ہوئی عورت جس کے سر پر اینٹ ہے۔ کسی کی تقدیر بنانے کے اس کے کردار کو بالآخر سات ہاتھور (Seven Hathors) نے سنبھال لیا لیکن مصر کی پوری تاریخ میں گھروں میں اس کی تعظیم کی جاتی رہی۔

میسٹجیٹ (Mestjet) - را کی آنکھ کے بہت سے پہلوؤں میں سے ایک کے طور پر ابیڈوس میں اُسکی شیر کے سر والی دیوی کی پوجا کی جاتی تھی۔ وہ بلاشبہ بہت پُرانی کہانیوں میں نمایاں تھی، جیسا کہ را کی آنکھ سے وابستہ کہانیاں، لیکن اب تک کوئی کہانی نہیں ملی۔ صرف ابیڈوس میں وہ ایک ہی سٹیلا (stela at Abydos) سے جانی جاتی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ وہ ایک ہاتھ میں ankh (ابدی، غیر فانی اور الہی طاقت کا نِشان) کے ساتھ کھڑی ہے اور دوسرے ہاتھ میں عصا ایک عورت کے طور پر جس کی بیٹی اسے خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے پہنچ رہی ہے۔

من (Min)- قبل از خاندانی دور Predynastic Period (تقریباؐ 6000-3150 قبل از مسیح) کا ایک قدیم زرخیزی دیوتا۔ من مشرقی صحراؤں کا دیوتا تھا جو مسافروں پر نظر رکھتا تھا لیکن اس کا تعلق مصری ڈیلٹا کی کالی زرخیز مٹی سے بھی تھا۔ ابتدائی نوشتہ جات میں اسے آیسِس کا شوہر اور ہورس کے والد کے طور پر دکھایا گیا ہے اور اسی طرح Osiris سے وابستہ ہے۔ من کو ایک ایسے شخص کے طور پر دکھایا گیا ہے جو ایک ہاتھ میں اپنے عضو تناسل کو تھامے ہوئے ہے اور دوسرے ہاتھ میں اختیار کی کمزوری ہے۔

مینیوس (Mnevis) (Mer-Wer or Nem-Wer) - مینیوس ہیلیو پولس (Heliopolis قدیم مِصری شہر جو شمسی شہر کے نام سے جانا جاتا تھا) کا مقدس بیل (bull) تھا جسے سورج دیوتا را کا ایک پہلو سمجھا جاتا تھا۔ وہ ایک زندہ بیل تھا جسے اپنے مکمل کالے رنگ کی وجہ سے ریوڑ سے منتخب کیا گیا تھا۔ صرف ایک منیویس بیل کسی بھی وقت موجود ہو سکتا تھا اور دوسرے کا انتخاب پہلے مرنے کے بعد کیا جاتا تھا۔ آخرکار وہ Apis میں جذب ہو گیا۔

مونٹو (Montu) - ایک فالکن دیوتا جو تھیبس (تقریباؐ 2060-1991 قبل از مسیح) میں 11 ویں خاندان میں نمایاں ہوا۔ اس کا نام خاندان کے تینوں حکمرانوں نے Mentuhotep کی شکل میں لیا جس کا مطلب ہے مونٹو خوش ہے "Montu is Pleased"۔ وہ بالآخر را کے ساتھ جامع سورج دیوتا مونٹ را (Mont-Ra) کے طور پر منسلک ہو گیا اور ہورس کے ساتھ جنگی دیوتا کے طور پر منسلک ہوا۔ یونانیوں نے اسے اپالو (Apollo) کے برابر قرار دیا۔

مُٹ (Mut) - ابتدائی ماں دیوی جس کا غالباً قبل از خاندانی دور (تقریباؐ 6000-3150 قبل از مسیح) میں معمولی کردار تھا جو بعد میں امون کی بیوی اور تھیبز سے تعلق رکھنے والے تین دیوتاوؐں کے ایک گروہ (Theban Triad) کا حصہ اور خونسو کی ماں کے طور پر نمایاں ہوئی۔ مٹ ایک محافظ دیوی تھی جس کا تعلق باسٹیٹ اور سیخمت (Bastet and Sekhmet) سے تھا۔ اس نے زندگی میں لوگوں کی حفاظت کی اور مُردوں کی کِتاب، باب 164 میں بعد کی زندگی میں شیطانوں کے ذریعے پھنسے ہوئے روحوں کی نجات دہندہ کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ وہ بادشاہ اور ریاست کی خدائی محافظ بھی تھی جسنے سازشیوں اور غداروں کو اپنے شعلے بھڑکا کر بھونا۔

N

نیبتھٹپیٹ (Nebethetpet) - دیوی جسے Heliopolis میں Atum کے ہاتھ کی شکل میں پوجا کیا جاتا تھا، جو مستعد دیوتا اور نسائی اصول تھا۔ (اِبتدائی دیوتا جِس نے بے ترتیب پانیوں میں سے اُبھر کر کائنات کو خلق کیا)۔

نیفرٹم Nefertum (Nefertem) - خوشبو اور میٹھی خوشبو کا دیوتا۔ Nefertum جو اصل میں Atum کا ایک پہلو تھا، تخلیق کے آغاز میں نیلے کنول کے پھول کی کلی سے پیدا ہوا تھا۔ اس کے نام کا مطلب ہے خوبصورت آتم (Beautiful Atum)۔ بعد میں اسے دیوتا سمجھا گیا اور خوشبودار پھولوں سے وابستہ ہو گیا۔ وہ سورج دیوتا اور پھولوں سے اپنے تعلق کے ذریعے دوبارہ جنم اور تبدیلی (rebirth and transformation) سے وابستہ ہے۔ مصری طب میں اسے بیماری کے علاج کے لیے شفا بخش خوشبو کے طور پراِستعمال کیا جاتا تھا اور اسے بخور (incense) سے منسلک کیا گیا۔

نیہبکاؤ Nehebkau (Nehebu-Kau) - "وہ جو کا کو جوڑتا ہے" He Who Unites the Ka۔ یہ ایک محافظ دیوتا تھا جس نے پیدائش کے وقت "کا" یعنی روح کے ایک پہلو کو جسم سے جوڑ دیا اور پِھر موت کے بعد کا (ka) کو با (ba) (روح کے پروں والا پہلو) کے ساتھ جوڑ دیا۔ اسے ایک سانپ کے طور پر دکھایا گیا ہے اور ہیکا کی طرح ہمیشہ سے موجود ہے۔ اس سے پہلے کہ آتم (Atum) ایک ترتیب لانے کے لئے افراتفری سے اُٹھا نیہبکاؤ (Nehebkau) تخلیق کے طلوع آفتاب کے وقت ابتدائی پانیوں (primordial waters) پر تیرتا تھا۔

نہمیتاوی (Nehmetawy)- ایک محافظ دیوی جس کے نام کا مطلب ہے "وہ جو ضرورت مندوں کو گلے لگاتی ہے" (She Who Embraces Those in Need)۔ ہرموپولس (Hermopolis) میں اس کی پوجا کی جاتی تھی جہاں اسے نہیبکاؤ کی ساتھی سمجھا جاتا تھا۔ دوسرے خطوں / عِلاقوں میں، وہ حکمت اور تحریر کے دیوتا تھوتھ کی ساتھی تھی۔

نہتھ (Neith) - قدیم مصر کے قدیم ترین اور سب سے زیادہ دیر تک با اثر رہنے والے دیوتاؤں میں سے ایک، جس کی قدیم دور (تقریباؐ 6000-3150 قبل از مسیح) سے بطلیموسی خاندان (323-30 قبل از مسیح Ptolemaic Dynasty) تک پوجا کی جاتی تھی، جو روم کے قبضے سے پہلے مصر پر حکمرانی کرنے والی آخری سلطنت تھی۔ نیتھ اپنے وقت کی جنگی، خالق، ماں اور جنازے کی دیوی تھی اور نیل ڈیلٹا میں سائس (Sais مِصر کے زیریں عِلاقے میں دریائے نیل کے مغربی حِصے پر واقع ایک قدیم شہر) شہر کی سرپرست تھی۔ وہ شُروع میں زیریں مصر کی سب سے اہم دیوی تھی اور صدیوں تک اِسکا عِبادت کیلئے نمایاں مُقام رہا۔ ابتدائی نِشانیوں میں وہ ایک کمان اور تیر کے ساتھ نظر آتی ہے۔ اس کا خصوصی نِشان "کمان کی مالکن" (Mistress of the Bow) تھا۔ تخلیق کرنے والی دیوی (creator goddess) کے طور پر اس کی شناخت تخلیق سے پہلے افراتفری کے پانیوں (Nun) سے ہوئی تھی اور اس کردار میں اسے "دیوتاوؐں کی دادی" (Grandmother of the Gods) یا "دیوتاوؐں کی ماں" (Mother of the Gods) کہا جاتا تھا۔ اس کے بارے میں سوچا جاتا تھا کہ پیدائش اِسی سے شروع ہُوئی اور وہ زندہ رہنے اور بڑھنے والی چیزوں سے گہرا تعلق رکھتی تھی۔ ایک ماں دیوی کے طور پر، وہ دیوتاؤں کے تنازعات کی ثالث تھی، سب سے زیادہ مشہور دیوی کے طور پر جو اس سوال کو حل کرتی کہ آیا ہورس یا سیٹ کو اُس وقت جب دیوتاؤں کا ٹریبونل فیصلہ نہ کر سکے، مصر پر حکومت کرنی چاہیے؟۔ چُونکہ وہ مَیَّت کی نِگرانی کرتی تھی وہ جنازہ کی دیوی کے طور پر بھی نمایاں ہو گئی۔ تاتنخمون کے مقبرے (Tutankhamun's tomb) میں اس کا مجسمہ آیسِس نفتھیز اور سرکٹ (Isis, Nephthys, and Serket) کے ساتھ نظر آتا ہے۔

نیکبت (Nekhbet) - گدھ کی شکل میں ایک محافظ دیوی جو بالائی مصر کی حفاظت کرتی تھی۔ وہ زیریں مصر کے محافظ واڈجیٹ (اِبتدائی دیوی) سے وابستہ تھی۔ دونوں کو "دو خواتین" (The Two Ladies) کہا جاتا تھا۔

نیخنی (Nekheny) - فالکن کی شکل میں ایک محافظ دیوتا جو Predynastic دور (تقریباؐ 6000-3150 قبل از مسیح) میں Nekhen شہر کا سرپرست تھا۔ اس کے اوصاف کو آخرکار ہورس نے جذب کر لیا۔

نیپر (Neper)- اناج کا دیوتا، فصل کی دیوی رینیٹیٹ کا بیٹا harvest goddess Renenutet۔ مکئی کا مجسمہ تھا اور ایک زرخیزی دیوتا کے طور پر اوسائرس سے وابستہ تھا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ پہلے کے دیوتاؤں میں سے ایک ہو جو اوسائرس کے افسانے کو پیش کرتے تھے۔ تابوت کے متن (Coffin Text II.95) میں اسے "مرنے کے بعد زندہ رہنے والا" دیوتا کہا گیا ہے اور نوشتہ جات اسے اوسائرس کی مقبولیت سے پہلے مرنے اور زندہ کرنے والے دیوتا کی شخصیت سے جوڑتے ہیں۔

نیفتھیس (Nephthys) - جنازے کی دیوی، دنیا کی تخلیق کے بعد Geb اور Nut سے پیدا ہونے والے پہلے پانچ دیوتاؤں میں سے ایک، سیٹ (Set) کی بیوی، Isis کی جڑواں بہن، اور Anubis کی ماں۔ اس کے نام کا مطلب ہے "مندر کے احاطہ کی مالکن" یا "گھر کی مالکن" Mistress of the Temple Enclosure" or "Mistress of the House جِو آسمانی گھر یا مندر کا احاطہ کرتی ہے۔ اسے ایک عورت کے طور پر دکھایا گیا ہے جس کے سر پر گھر ہے۔ نیفتھیس کو عام طور پر غلطی سے ایک معمولی دیوتا سمجھا جاتا ہے جب کہ، حقیقت میں مصر پر حکومت کرنے والے ابتدائی ادوار سے لے کر آخری خاندان تک اس کی پوجا کی جاتی تھی۔ اسے آئیسس کی روشنی کا تاریک پہلو سمجھا جاتا تھا لیکن اس کا کوئی منفی مفہوم نہیں تھا، صرف توازن تھا۔ نیفتھیس کو اوسائرس کے افسانے میں نمایاں کیا گیا ہے جب وہ اوسائرس کو بہکانے کے لیے خود کو آئیسس کی شکل میں تبدیل کرتی ہے، جب وہ اوسائرس کے جِسمانی مقام کے بارے میں سیٹ کو دھوکہ دیتی ہے، اور جب وہ اپنی بہن کی مردہ بادشاہ کو زندہ کرنے میں مدد کرتی ہے۔ وہ بعد کی زندگی میں روحوں کی دیکھ بھال کرنے کے لیے "مردہ کی دوست" (Friend of the Dead) کے نام سے جانی جاتی تھی اور جنازوں میں پیشہ ور سوگوار، جو غم کے کھلے اظہار کی حوصلہ افزائی کرتے تھے، انہیں "کائٹس آف نیفتھیس" (Kites of Nephthys) کے نام سے جانا جاتا تھا۔ The Lamentations of Isis and Nephthys کے متن میں وہ اوسائرس کی روح کو مردوں میں سے واپس بلاتی ہے۔ یہ عبارت پورے مصر میں تہواروں، اجتمعات اور جنازوں میں باقاعدگی سے پڑھی جاتی تھی۔

Nephthys Amulet
نیفتیس امیلٹ Rama (CC BY-SA)

نُو اور نونیٹ Nu (Nun) اور Naunet - Nu) ابتدائی افراتفری کا روپ، کائنات کا مادہ پہلو جس سے دنیا پیدا ہوئی۔ اِسے عام طور پر "دیوتاوؐں کا باپ" (Father of the Gods) کے طور پر سمجھا جاتا ہے اور اِس کا حوالہ آٹھ قدیم دیوتاؤں کی جماعت پر مُشتمل اوگڈوڈ (Ogdoad) سے ہے یعنی چار نر اور چار خواتین، جو تخلیق کے اصل عناصر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ بعد کے کچھ افسانوں میں، دیوی نیتھ کی نِسبت Nu سے ہے۔

نٹ -(Nut) قدیم آسمانی دیوی جو آسمانی چھتری کو ظاہر کرتی ہے وہ جیب (زمین) کی بیوی، اوسائرس، آئسس، سیٹ، نیپتھیس، اور ہورس دی ایلڈر کی ماں ہے۔ تخلیق کے وقت افراتفری کے پانی سے ابتدائی ٹیلے کے بننے کے بعد، اتم (Ra) نے اپنے بچوں شو اور ٹیفنٹ (Shu and Tefnut) کو دنیا بنانے کے لیے بھیجا۔ جب وہ واپس آئے تو وہ اتنا خوش ہوا کہ اس نے خوشی کے آنسو بہائے جو انسان بن گئے۔ ان مخلوقات کے رہنے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی اور اس لیے شو اور ٹیفنٹ نے جیب (زمین) اور نٹ کو جنم دیا۔ ان کا رشتہ اتنا گہرا تھا کہ اس نے آتم کو پریشان کر دیا جس نے نٹ کو جیب سے اونچا دھکیل دیا اور اسے وہاں کھڑا کر دیا۔ اس نے یہ بھی حکم دیا کہ وہ سال کے کسی دن بھی بچے کو جنم نہیں دے سکتی۔ تھوتھ، حکمت کے دیوتا، نے چاند کے دیوتا Iah کے ساتھ جوا کھیلا، اور چاندنی کی قیمت پر پانچ دن جیت لئے جسے اس نے دنوں میں بدل دیا۔ اس کے بعد نٹ جولائی میں لگاتار پانچ دنوں میں اپنے پانچ بچوں کو جنم دینے میں کامیاب رہی جو آتم کی اصل کا حصہ نہیں تھے۔ کُچھ کہانیوں کیمُطابق یہ کھونسو ہے جو تھوتھ کیساتھ جُوا ہار جاتا ہے۔

O

اگدود (Ogdoad) - تخلیق کے ابتدائی عناصر کی نمائندگی کرنے والے آٹھ دیوتا: Nu اور Naunet (پانی)؛ Heh اور Hauhet (لامحدود)؛ کیک اور کوکیت (تاریکی) Kek and Kauket؛ امون اور امونیٹ (پوشیدہ پن، مبہم) Amun and Amaunet۔ توازن کا تصور، جو مصری ثقافت کے لیے بہت اہم تھا، مصری دیوتاؤں کے مختلف دیوتاوؐں کے مجموعہ (ogdoads) میں مظہر تھا.

اونوریس Onuris (Anhur) - وہ جنگ اور شکار کا دیوتا تھا۔ اس کے نام کا مطلب ہے "وہ جو دور کو واپس لاتا ہے" (He Who Brings Back The Distant One) جو اس کی نوبیا سے را کی آنکھ کی بازیافت (retrieval of the Eye of Ra from Nubia).کے بارے میں کہانی کا حوالہ ہے۔ اس کہانی میں، را کی آنکھ مصر سے نکلتی ہے اور خود کو شیر میں بدل دیتی ہے۔ اونوریس شیر کا شکار کرتا ہے، اسے پکڑتا ہے، اور اسے را کو واپس کر دیتا ہے جہاں یہ دیوی میکھیت (goddess Mekhit) میں تبدیل ہو جاتا ہے جو پھر اس کی ساتھی بن جاتی ہے۔ یہ کہانی دور دیوی شکل (Distant Goddess motif) کی ایک مثال ہے جس میں را کی آنکھ سورج دیوتا سے الگ ہوتی ہے اور پھر تبدیل شُدہ حالت میں واپس آتی ہے۔ اونوریس کو را کا بیٹا سمجھا گیا اور پِھر اور اس کا تعلق شو دیوتا (god Shu) سے سے ہو گیا۔ ان کی تصویر (بطور انہور) مصری فوج کے بینرز (banners) پر نمودار ہوئی کیونکہ جنگ میں اِسنے اُنکی رانُمائی کی، تحفظ فراہم کیا اور اُنہیں سلامتی سے گھر لے آیا۔ وہ مصری فوج اور شکاریوں کا سرپرست دیوتا تھا۔

اوسائرس Osiris - مُردوں کا دیوتا اور جج، تخلیق کے آغاز پر نٹ (آسمانی دیوی) سے پیدا ہونے والے پہلے پانچ دیوتاؤں اور جو مصر کے سب سے زیادہ مقبول اور مستقل دیوتاؤں میں سے ایک تھا، اس کے نام کا مطلب ہے "طاقتور" یا "غالب" (Powerful or Mighty)۔ (پہلے پانچ دیوتا: اوسائرس انڈرورلڈ کا دیوتا، آیسِس ماں دیوی، سیٹ افراتفری کا دیوتا، نیفتھیز ماتم یا جنازہ کا دیوتا اور ہورس بادشاہت اور تحفظ کا دیوتا۔ یہ دیوتا جیب اور نٹ یعنی زمین اور آسمان سے پیدہ ہُوئے)۔ اوسائرس اصل میں زرخیزی کا دیوتا تھا جس کی مقبولیت اور اثر، اوسائرس افسانہ کے مُطابق، بڑھ گئی جِس کے مُطابق اِسکے بھائی سیٹ (Set) کے ہاتھوں اِسکا قتل ہوتا ہے، یہ آسمانی دیوتا ہورس کا باپ بنتا ہے اور پِھر مُردوں کے جج (Judge of the Dead) کے طور پر انڈر ورلڈ میں اُتر جاتا ہے۔ مصری مُردوں کی کِتاب کیمُطابق اس کا تذکرہ بار بار ہال آف ٹروتھ (Hall of Truth) میں ایک منصف جج کے طور پر کیا گیا ہے جو مات کے سفید پنکھوں (سچائی، توازن، ترتیب اور اِخلاق کی نمائندہ خصوصیات) کے مقابلے میں مُردوں کی روحوں کے دلوں کو تولتا ہے۔ (قدیم مِصری مِتھالوجی کیمُطابق، مرنے والے کے دِل کو ایک ترازو میں تولا جاتا تھا۔ ترازو کے ایک طرف دِل ہوتا تھا جو مرنے والے کے کاموں اور چال چلن کی نمائندگی کرتا تھا اور دُوسرے پلڑے میں مات دیوی کے پنکھے ہوتے تھے جو سچائی، اِنصاف اورترتیب کو ظاہر کرتے تھے۔ وہ اساطیر میں مرنے اور زندہ کرنے والی دیوتا کی شخصیت کی ابتدائی افسانوی مثال ہے جِو یسوع مسیح کے مرنے اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے میں ظاہر ہُوئی۔ مصری بادشاہ موت پر اپنی شناخت اوسائرس سے کرتے تھے۔ اسے عام طور پر ایک ممی (موت کی علامت) اور سبز یا کالی جلد (نیل زندگی کی زرخیزی کی علامت) کے ساتھ دکھایا جاتا تھا۔ وہ اتنا مشہور تھا کہ قدیم مصر میں لوگوں نے ان کی لاشوں کو اس کے کلٹ سینٹر کے قریب ابیڈوس میں دفن کرنے کے لئے ادائیگی کی تھی اور جو لوگ یہ برداشت نہیں کرسکتے تھے کہ وہ ابیڈوس میں ان کے یا ان کے پیاروں کے لئے یادگاریں تعمیر کرنے کے لئے ادائیگی کریں گے یہ مانتے تھے کہ زمین پر اوسائرس کی قربت موت کے بعد جنت تک آسان رسائی کی ضمانت دیتی تھی۔ اس کا فرقہ فطری طور پر اس کی بیوی آیسِس (Isis) کے نام کے فِرقہ میں ضم ہو گیا۔ یہ نجات، ابدی زندگی، مرنے اور زندہ کرنے والے دیوتا، اور ایک کنواری ماں سے پیدا ہونے والے الہی بیٹے کی علامت تھا جِس نے بعد میں ابتدائی مسیحت کی ترقی کو متاثر کیا۔

Egyptian God Osiris
مصری دیوتا اوسائرس A.K. (Copyright)

اوسائرس - اپِس (Osiris-Apis) بیل کی شکل کا یہ روایتی دیوتا جو Ptah کے ساتھ منسلک تھا، اوسائرس سے منسلک ہو گیا کیونکہ مؤخر الذکر دیوتا زیادہ مقبول ہوا۔ Saqqara میں (دریائے نیل کے مغربی کِنارے پر واقع ایک وسیع عِلاقہ جو قبرستان کیلئے مخصوص تھا)، مذہبی راہنُماوؐں نے ایک ہائبرڈ دیوتا (hybrid god ایک سے زیادہ جِنسی خصوصیات رکھنے والے دیوتا، مِثال کے طور پر اِنسانی، حیوانی خصوصیات) کی پوجا شروع کی جسے وہ Osiris-Apis کہتے تھے جو بیل کی شکل میں ہوتا تھا۔ روایتی Apis بیل کی طرح، ایک زندہ بیل کو دیوتا کا اوتار سمجھا جاتا تھا۔ جب مقدس بیل مر جاتا تو اسےاُسی طرح ممی کر دیا جاتا جیسے بادشاہ کو کیا جاتا تھا۔

P

پاخیٹ (Pakhet) - شیرنی کی شکل میں شکار کرنے والی دیوی، جِسکا مطلب ہے "وہ جو کھُرچتی ہے" یا "پھاڑنے والی (She Who Scratches or Tearer)۔ وہ Horus کی ساتھی، Sekhmet کے انتقامی پہلوؤں اور Isis کے انصاف سے وابستہ تھی۔ اُسکے بارے میں سوچا جاتا تھا کہ وہ رات کو شکار اور اپنے دُشمنوں کو خوفزدہ کرتی تھی۔

پینبتاوی (Panebtawy) - بچہ دیوتا، بادشاہ کی شخصیت میں Horus کے الہی بیٹے کے طور پر یا اُس حثیت میں جب Horus ابھی بچہ ہی تھا۔ اسے ایک نوجوان لڑکے کے طور پر اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھے ہُوئے دکھایا گیا تھا، جو ہارپوکریٹس (Harpocrates سکندرِ اعظم کے زمانے کی یونانی تہذیب" یہ نام ہورس کیلئے اِستعمال کیا گیا ہے جب وہ ابھی بچہ تھا) کی بعد کی تصویر اور بچے ہورس کے بچپن کا یونانی بیان / تشریح تھا۔ اس کے نام کا مطلب ہے "دو زمینوں کا رب" Lord of the Two Lands۔ وہ کام اومبو (Kom Ombo) کی ایک مقامی دیوی تسنیتنوفریٹ (Tasenetnofret) کا بیٹا تھا جو ہتھور کی مظہر تھی۔

پاٹیکوس (Pataikos) - ایسے معمولی دیوتا جنکے تعویز پہنے جاتے تھے اور جو Ptah دیوتا کی طاقت کی نمائندگی کرتے تھے۔ انہیں بونے دیوتاؤں (dwarf-gods) کے طور پر دکھایا گیا تھا اور تحفظ کے لیے پہنا جاتا تھا۔

پیک (Peak) - "مغرب کی چوٹی" (Peak of the West) کے طور پر جانا جاتا تھا۔ چٹانوں کی سب سے اونچی چوٹی کی شکل جس نے بادشاہوں کی وادی کو چھا لیا اور جِسکی دیر المدینہ (Deir el-Medina) میں کارکنوں کی طرف سے حفاظتی طاقت کے طور پر پوجا کی گئی۔

پیٹیز اور پیہور (Peteese and Pihor) - دو بھائی جنہیں "کوپر کے بیٹے" (sons of Kuper) کے نام سے جانا جاتا تھا، ڈینڈور (Dendur) کے قریب دریائے نیل میں ڈوب گئے۔ انہیں ڈُوب جانے کے بعد پیدہ ہونے کی وحہ سے اوسائرس کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے دیوتا سمجھا گیا۔ وہ مقامی حِفاظتی دیوتاؤں کے طور پر خدمات انجام دیتے تھے۔ آگسٹس سیزر (Augustus Caesar) نے ڈینڈور میں ان کے اعزاز میں ایک مندر تعمیر کیا جو اب نیویارک شہر کے میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ (Metropolitan Museum of Art) میں نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔ مندر کے اِمدادی شعبے میں دیوتا بھائیوں کو آئیسس کو تحفے پیش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

پٹا (Ptah) - قدیم ترین مصری دیوتاؤں میں سے ایک جو پہلے خاندانی دور (تقریباؐ 3150-2613 قبل از مسیح) میں نمودار ہوتا ہے لیکن غالباً اس کی تاریخیں Predynastic دور (تقریباؐ 6000-3150 قبل از مسیح) سے ملتی ہیں۔ Ptah میمفس کا عظیم دیوتا، دنیا کا خالق، سچائی کا رب، اور میمفس شہر اور اس کے آس پاس کے علاقے کا سب سے بڑا دیوتا تھا۔ 3000 قبل از مسیح، Ptah اصل میں وہ شخصیت تھی جو دنیا کی تخلیق کے وقت بین بین (ben-ben) کے ابتدائی ٹیلے primordial mound of the ben-ben at the creation of the world پر کھڑا تھا۔ وہ غالباً ابتدائی زرخیزی کا دیوتا تھا اور اس کا تعلق مورنگا (moringa tree سوہانجنا) کے درخت سے تھا جس کے (ابتدائی افسانوں میں) وہ نیچے آرام کرنا پسند کرتا تھا۔ وہ مجسمہ سازوں اور کاریگروں کے عِلاوہ یادگاروں کے معماروں کا سرپرست دیوتا تھا جیسا کہ خیال کیا جاتا تھا کہ اس نے زمین کا نقشہ بنایا تھا۔ اسے اپنے تخلیقی پہلو میں بعض اوقات Ptah-Nun یا Ptah-Naunet کے نام سے جانا جاتا تھا، جو اسے ابتدائی آٹھ دیوتاوؐں سے جوڑتا ہے۔ اسے ایک ممی شدہ آدمی کے طور پر دکھایا گیا ہے جس نے کھوپڑی کی ٹوپی پہنی ہوئی ہے جس کے اوپرکے حصے میں اینکھ اور ڈیج (ankh and djed) کی علامتیں ہیں۔ (مِصری متھالوجی میں ankh کے معنی ہیں زِندگی اور اِستحکام جبکہ djed کے معنی ہیں دوام)۔

پتا ہوتیپ (Ptah-hotep) - حِکمت کے تعلق سے یہ اُن متون کا مُصنف تھا جو زیادہ مشہور تھے، جِسکی پوجا اُسکی موت کے بعد کی گئی اور اُسکی عِزت اپنے ہی فِرقے میں ہُوئی۔

پتا-سوکر-اوسائرس (Ptah-Sokar-Osiris) - مخلوط نسل کے یہ تینوں دیوتا تخلیق، موت اور دوبارہ جنم کے ساتھ مُنسلک تھے۔ مڈل کنگڈم (2040-1782 قبل مسیح) کے دور میں اِنکی پوجا کی جاتی تھی۔

Q

کیو بت (Qebhet) حوالہ کیو بت

کیبیسینیف (Qebehsenuef) - ایک محافظ دیوتا، Horus کے چار بیٹوں میں سے ایک جو آنتوں کے کینوپیک جار (canopic jar of the intestines) کی حفاظت کرتا تھا۔ اس نے مغرب کی حُکمرانی کی اور یہ ایک باز کی شکل میں تھا اور سرکٹ کے زیرِ نِگرانی تھا.

قدشو (قادیش) - شام (مُلک) کی محبت اور جنگی دیوی، ریسپ (Reshep) کی ساتھی، نئی بادشاہی (1570-1069 قبل از مسیح) کے دوران مصری عبادت میں شامِل ہوگئی۔ وہ جنسی لذت اور رُوحانی وجد (sexual pleasure and sacred ecstasy) کی دیوی تھی جو ہتھور، انات اور عستارات (Hathor, Anat, and Astarte) سے وابستہ تھی۔ اس کے نام کا مطلب ہے "مقدس" (Holy) اور اسے ہمیشہ ایک پتلی ننگی عورت کے طور پر دکھایا جاتا ہے جس میں شہوانی، شہوت انگیزی اور زرخیزی کی علامتیں ہیں، دائیں ہاتھ میں کنول کا پھول ہے اور بائیں ہاتھ میں سانپ یا پپائرس کے تنے (papyrus stems) ہیں۔ پورے مصر میں اس کی بہت عزت کی جاتی تھی۔ اس کے فرقے نے قدشو اور ریشیپ (Qudshu and Reshep مغربی سامی/ کنعانی دیوتا جنہیں نئی ​​بادشاہی کے دور میں مصری پینتھین میں اپنایا گیا تھا) کے درمیان مقدس شادی کو دوبارہ فعال کیا۔ یہ رسم طویل عرصے سے اِشتار/ انانا کے فِرقہ جو میسوپوٹیمیا میں تھی اور عستارات جو فونیشیا میں تھی، سے وابستہ تھی۔

R

را Ra (Atum or Re)۔ ہیلیپلیس (Heliopolis (دریائے نیل کے مغربی کِنارے پر واقع آثارِ قدیمہ کا ایک قدیم شہر) کا عظیم سورج دیوتا جس کا فرقہ پورے مصر میں پھیل گیا اور پانچویں خاندان (2498-2345 قبل از مسیح) تک سب سے زیادہ مقبول ہوگیا۔ گیزا کے اہرام اعلیٰ ترین خالق دیوتا را (Ra) کے ساتھ منسلک ہیں جو زندہ اور مردہ دونوں زمینوں پر حکومت کرتا تھا۔ وہ دن کے وقت اپنے بجرے کو آسمانوں کے پار چلاتا ہے، ہر پیش قدمی کے ساتھ آسمان پر اپنا ایک اور پہلو دکھاتا ہے، اور پھر شام کے وقت انڈرورلڈ میں غوطہ لگاتا ہے جہاں اِسے قدیم سانپ ایپیپ (اپوفس) (primordial serpent Apep) سے خطرہ ہوتا ہے لیکن دوسرے دیوتا اور راستباز مرنے والوں (justified dead) کی رُوحیں اِسکا دِفاع کرتی ہیں۔ را مصر کے سب سے اہم اور مقبول دیوتاؤں میں سے تھا۔ یہاں تک کہ جب امون دیوتا کی مقبولیت میں اضافہ ہوا، را کا مقام کم نہیں ہوا اور وہ امون کے ساتھ ضم ہو کر امون را، اعلیٰ ترین دیوتا بن گیا۔

راتوائی Raettawy (Raet یا Raet-Tawy) - وہ را کی خاتون پہلو تھی۔ وہ ہتھور سے وابستہ ہے اور اسے ہتھور کے ساتھ ملتے جلتے دکھایا گیا ہے جِس کے سر پر پھن پھیلائے ہُوئے کوبرا (uraeus) ہے اور اُسکے ہاتھ میں قرصِ آفتاب ہے جِس پر بعض اوقات دو پر ہیں۔

را ہراختی Ra-Harakhte (Raharakty یا Ra-Harakhty) - را اور ہورس کی خصوصیات کا حامِل فالکن دیوتا جو سورج کو دو افقوں، طلوع آفتاب اور غروب آفتاب (two horizons) پر ظاہر کرتا تھا۔ 'ہرکھتے' کا مطلب ہے "افق کا ہورس" (Harakhte' means "Horus of the Horizon)۔ اسے ایک عُقاب کے سر والا آدمی دکھایا گیا ہے (hawk's head) جس نے قرصِ آفتاب کو تاج کے طور پر پہنا ہوا ہے۔

رینپیٹ (Renpet) - ایک دیوی جس نے سال کو ظاہر کیا۔ اس کی نمائندگی نوشتوں میں کھجور کی ایک دندانے دار شاخ سے کی گئی ہے جو وقت گزرنے کی نشاندہی کرتی ہے، اور یہ 'سال' کو ظاہر کرنے کیلئے ایک تصویری طریقہ تھا (hieroglyphic image for 'year)۔ اس کا کوئی رسمی فرقہ یا مندر نہیں تھا لیکن وہ وقت کے بارے میں مصریوں کی سمجھ کا ایک لازمی حصہ تھی: کہ یہ ہر چیز کی طرح شخصیت اور جاندار کے ساتھ جڑی ہوئی تھی۔

رینینوٹیٹ Renenutet (Renenet or Ernutet) - ایک بہت اہم دیوی جِس کو ایک کوبرا یا پھن پھیلائے کوبرا کی طرح جِسکا سر عورت کا ہو، کی طرح دکھایا گیا ہے۔ اس کے نام کا مطلب ہے "سانپ جو پرورش کرتا ہے" (Snake Who Nourishes) اور وہ بچوں کی پرورش اور پرورش کی دیوی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ، وہ بچے کی پیدائش اور تقدیر کی دیوی میسخنیٹ (Meskhenet) کے ساتھ قریب سے وابستہ ہو گئی، اور یہاں تک آگے بڑھ گئی کہ یہ کسی شخص کی عُمر درازی اور ان کے ساتھ پیش آنے والے اہم واقعات کا تعین بھی کر سکتی تھی۔ Meskhenet کے عِلاوہ وہ Neith کے ساتھ بھی منسلک تھی اور بعض اوقات اسے Atum کی بیوی یا ساتھی کے طور پر Osiris کی ماں یا Isis کے ساتھ Osiris کی بیوی اور Horus کی ماں کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ بعد کی زندگی میں وہ "لیڈی آف جواز" (Lady of Justification) کے طور پر ظاہر ہوئی جو اسے دیوی مات سے جوڑتی تھی۔ اس کے بارے میں سوچا جاتا تھا کہ وہ بعد کی زندگی میں بادشاہ کے پہنے ہوئے لباس کی حفاظت کرے گی۔ اسی لیے اسے "لیڈی آف دی روبز"(Lady of the Robes) کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ یہ صلاحیت رکھتے ہُوئے وہ آگ میں سانس لینے والے کوبرا کے طور پر نمودار ہوئی جو بادشاہ کے دشمنوں کو بھگا دیتی تھی۔ وہ ایک اناج کی دیوی بھی تھی جسے "لیڈی آف دی فرٹائل فیلڈز" (Lady of the Fertile Fields) اور "لیڈی آف دی گرانریز" (Lady of the Granaries) کے نام سے جانا جاتا تھا جو فصل کی حفاظت کرتی تھی اور اناج کی دیوتا نیپری (Nepri) کی ماں تھی۔ زرخیزی کی دیوی کے طور پر، اس کا مزید تعلق دریائے نیل اور سیلاب سے اور اسی طرح نیل کی زرخیز مٹی کے دیوتا ہاپی (Hapi) کے ساتھ بھی تھا۔

ریریٹ (Reret) - ہپوپوٹیمس (hippopotamus) کی شکل میں ایک محافظ دیوی جس کے نام کا مطلب ہے "Sow"۔ وہ ڈریکو برج (constellation Draco ڈریکو جِسکے معنی ہیں ڈریگون اور یہ سِتاروں کے مخصوص جُھرمٹوں میں سے ایک ہے) کی نمائندگی کرتی تھی اور سورج بجر کی محافظ تھی جب اس نے انڈرورلڈ سے اپنا راستہ بنایا۔ وہ کبھی کبھی ریریٹ- ویریٹ Reret-weret Great Sow کے نام سے بھی جانی جاتی ہے اور اسے (Mistress of the Horizon) کہا جاتا تھا۔ اس کا تعلق ہپپوٹیمس کی مشہور دیوی توریٹ (Taweret) سے اور ہتھور اور نٹ کے ساتھ۔ ایک آسمانی دیوی اور حفاظتی قوت کے طور پر ہے۔

ریسپ (Reshep) - ایک شامی جنگی دیوتا جو نئی بادشاہی (1570-1069 قبل از مسیح) کے دور میں مصری عبادت میں شامل ہوا۔ وہ جنسی لذت اور رُوحانی وجد (goddess of sexual pleasure and sacred ecstasy) قدشو (قدش) کی دیوی کا ساتھی ہونے کی وجہ سے تین دیوتاوؐں کے مجموعہ کا حصہ تھی جس میں زرخیزی کا دیوتا من (god Min) بھی شامل تھا۔ قدشو اور ریسپ کی مقدس شادی کو ان کے پیروکاروں نے میسوپوٹیمیا کے انانا/اشتر سے جوڑا جو ایک طویل عرصہ تک جاری رہا۔ میسوپوٹیمیا کے جنگی دیوتا نیرگل (Mesopotamian war god Nergal) کے ساتھ نقش نگاری میں اس کی شناخت کے ذریعے ریسپ کا مزید تعلق میسوپوٹیمیا سے ہے۔ وبا کے دیوتا کے طور پر، وہ سیٹ (Set)، افراتفری کے دیوتا اور بنجر عِلاقوں (arid wastes) سے بھی منسلک ہے۔ ریسیپ کو یکساں طور پر ایک مضبوط جنگجو کے طور پر دکھایا گیا ہے جس نے ایک وار کلب (war club) پکڑا ہوا ہے، اسکرٹ پہنی ہُوئی ہے اور لمبی میسوپوٹیمیا طرز کی داڑھی رکھی ہوئی ہے۔.

رُوٹی (Ruty) - جڑواں شیر دیوتا جو مشرقی اور مغربی افق کی نمائندگی کرتے تھے۔ نام کا مطلب ہے "شیروں کا جوڑا" (Pair of Lions)۔ وہ اصل میں شو اور ٹیفنٹ (Shu and Tefnut) کے ساتھ آسمانی دیوتا کے طور پر منسلک تھے اور آخر کار را اور شمسی بجر سے جڑ گئے۔

S

ساہ (Sah) - عِلمِ نجوم سے وابستہ دیوتا، برج اورین کا مظہر عام طور پر سوتھیس (سوپڈیٹ) Sothis (Sopdet) کے ساتھ مِلکر اوسائرس اور آئیسس کے نجومی پہلوؐوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ (constellation Orion یونانی افسانوی لفظ، مطلب ماہر شکاری، ستاروں کے گروہوں میں سے ایک اور سوتھِس قدیم مِصری زبان میں سِتارہ سیرس کا نام) ساہ کو اہرامِ مصر کے تحریری نقوش/متون (Pyramid Texts) میں "دیوتاؤں کا باپ" کہا جاتا ہے اور وہ آخری رسومات کا ایک اہم پہلو تھا جو بادشاہ کو بعد از موت خوش آمدید کہتا تھا۔ اہرامِ مصر کے نقوش کے باب 186 کیمُطابق اورین کا مُقامی ہونے کی حثیت سے وہ روح کا استقبال کرتا ہے۔ اُسے (Dweller in Orion) کہا جاتا ہے۔ باب 186 کیمُطابق ذیل میں ایک phrase دی گئی ہے "In the name of the Dweller in Orion, with a season in the sky and a season on earth" which can be understood as, "with a season in the sky after a season on earth".{(یہ بادشاہ کے دوبارہ جنم اور اُسکے آخرت کے سفر کے بارے میں ہے)۔ آسان الفاظوں میں اِسکا مطلب ہے، اوسائرس جِو اورین کی نمائندگی کرتا ہے، اُسکی رُوح زمین پر زِندہ رہنے کے بعد آسما ن میں بھی ِزِندہ رہے}۔ اسے ایک شخص کے طور پر دکھایا گیا ہے جس نے اینخ (ankh) کو پکڑ رکھا تھا اور وہ رات کے آسمان میں ستاروں سے گھری ہوئی کشتی میں کھڑا ہے۔ (ankh ٹی کی شکل میں ابدی زِندگی کو ظاہر کرنے ولا عصا جو دیوتا اکثر پکڑے ہوتے تھے)۔

سیٹس (سیٹ یا ستیت) Satis (Satet or Satit)) - یہ دیوی نوبیا کے ساتھ مِصر کی جنوبی سرحد پر اسوان کے عِلاقے میں ایلیفینٹائن سے وابستہ تھی۔ (نوبیا، جنوبی مِصر کا عِلاقہ جو وسائل اور افرادی ہُنر اور مہارت کی وجہ سے مشہور تھا۔ Elephantine اسوان میں ایک عِبادتی مرکز تھا) اسکا نام سب سے پہلے سقرہ کے پتھر کے برتنوں پر ظاہر ہُوا جو جوسر کے اہرام کے نچلے ایوانوں کے اندر رکھے گئے تھے (Saqqara زیریں مِصر، دریائے نیل کے مغربی کِنارے پر ایک وسیع قبرستان۔ Djoser تقریباؐ 2670 قبل از مسیح مِصر کی پُرانی تیسری سلطنت کا فرعون بادشاہ)۔ اسے مصر کے قبل از خاندانی دور (تقریباؐ 6000-3150 قبل از مسیح) سے بھی پرانی دیوی سمجھا جاتا تھا جِسے بعض اوقات ایلیفینٹائن میں نیل کے دیوتا خنم کی ساتھی کے طور پر دیکھا گیا جہاں مصریوں کا خیال تھا کہ دریا کی ابتدا ہوئی۔ اس کا تعلق کچھ کہانیوں میں را کی آنکھ (Eye of Ra) اور کِسی قدیمی دیوی کی شکل (motif) سے ہے جہاں وہ تبدیلی لانے کے لیے بہت دور سے واپس آئی۔ اس صلاحیت میں، وہ نیل کے سیلاب سے منسلک ہے. اس کا تعلق سوتھیس (سوپڈیٹ) سے بھی ہے، جو ستارے سیریس (Sirius) کی شخصیت ہے جس کی رات کے آسمان میں ظاہری شکل نے سیلاب کا اعلان کیا۔ اسے ہرن کے سینگوں کے ساتھ بالائی مصر کی سفید تاج پہننے والی ایک عورت کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

سبیمیکر (Sebiumeker) - ایک سرپرست دیوتا جو میرو (Meroe موجودہ سوڈان میں دریائے نیل پر واقع قدیم شہر)، کش (Kush) میں وجودِ کائنات سے پہلے اور زرخیزی کا دیوتا تھا۔ ایک خالق دیوتا کے طور پر سبیمیکر آتم (Atum) کیساتھ منسلک ہے اور ہو سکتا ہے کہ وہ اس خطے میں دیوتاوؐں کے خاندان (god of the pantheon) کا سب سے بڑا دیوتا رہا ہو جو موجودہ دور کا سوڈان ہے۔ اس کا مجسمہ، تابو (Tabo) نامی ایک اور دیوتا کے ساتھ، اکثر مندرکے دروازوں کے قریب پایا گیا ہے جو اس تشریح کو جنم دیتا ہے کہ وہ ایک محافظ دیوتا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ ایسا نہ ہو لیکن خاص طور پر مندروں کے دروازوں پر رکھا جانا کچھ معنی رکھتا تھا۔

سیڈ (Sed)- ایک قدیم گیدڑ دیوتا (jackal deity) جس کا نام پہلی بار پانچویں خاندان (2498-2345 قبل از مسیح) کے پالرمو پتھر پر ظاہر ہوتا ہے لیکن جو غالباً اس سے زیادہ پرانا تھا۔ (Palermo Stone غیر آتش گیر سیاہ بیسالٹ (یا ڈائیورائٹ) کا ایک اہم، قدیم مصری ٹکڑا جس پر پانچویں خاندان کے ابتدائی دور سے لے کر 2400 قبل از مسیح تک کے بادشاہوں کا سال بہ سال ریکارڈ تھا)۔ وہ بادشاہت کا اور ایک بادشاہ کا اِنفرادی حثیت میں مُحافظ دیوتا تھا۔ ہر 30 سال کے بعد بادشاہ کو دوبارہ جوان کرنے کے لیے ایک تہوار منایا جاتا تھا جِسے سیڈ فیسٹیول کہتے تھے اور اِس دیوتا کی اُس میں صدارتی حثیت ہوتی تھی۔ (Sed Festival جسے Heb-Sed فیسٹیول بھی کہا جاتا تھا)۔ وہ آخر کار Wepwawet میں جذب ہو گیا یا ہو سکتا ہے کہ Wepwawet (جس کے نام کا مطلب ہے "راستوں کا کھولنے والا") (Opener of the Ways) صرف سیڈ کی ایک خصوصیت تھی جو زیادہ مقبول ہوئی۔ الہی بادشاہ کے محافظ کے طور پر، سیڈ کا تعلق انصاف سے تھا اور اسی طرح دیوی مات (Ma'at) سے منسلک تھا۔

(سفیخ-اوبی) Sefkhet-Abwy -حوالہ Seshat

سیخمیٹ Sekhmet - قدیم مصر کی سب سے اہم دیویوں میں سے ایک لیونین دیوی تھی جِسے عام طور پر شیر کے سر والی عورت کے طور پر دکھایا جاتا تھا (leonine deity یعنی شیر جیسی)۔ اس کے نام کا مطلب ہے "طاقتور" (Powerful) اور عام طور پر "خاتون طاقتور" (Female Powerful One) سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ وہ تباہی اور شفا دینے والی، صحرائی ہواؤں اور ٹھنڈی ہواؤں کی دیوی تھی۔ وہ را کی بیٹی تھی جو را کی آنکھ /قدیم دور کی دیوی کا نِشان [(Eye of Ra)/ Distant Goddess motif] کہانیوں سے متعلق سب سے اہم کہانیوں میں سے ایک میں نظر آتی ہے۔ جب را انسانیت کے گناہوں سے تنگ آ گیا تو اس نے ان کو تباہ کرنے کے لیے Sekhmet کو بھیجا۔ اس نے زمین کو خاصا نُقصان پہنچایا جب تک دُوسرے دیوتاوؐں نے رُک جانے کی درخواست نہ کی، اِس سے پہلے کہ اِنسان مُکمل طور پر تباہ ہو جائیں۔ سیخمت کی خون کی ہوس سے توجہ ہٹانے کے لیے را کے پاس ٹب جِتنی سرخ رنگ میں بیئر تھی جِسے اُسنے ڈینڈرا میں چھوڑ دیا جہاں اس نے اسے پیا اور گہری نیند میں سو گئی (Dendera دریائے نیل کے مغربی کِنارے پر واقع ایک قدیم مِصری مندر)۔ جب وہ بیدار ہوئی تو وہ مہربان ہتھور تھی۔ تاہم، Sekhmet اپنی شیر کی خصوصیت رکھتے ہوے اپنی تباہی اور انتقامی طاقت کی وجہ سے فوج کی سرپرست دیوی تھی۔ وہ اس حوالے سے "Smiter of the Nubians" کے نام سے مشہور تھی اور قُدرتی آفات کا بھی سبب تھی۔ طاعون کو "میسنجر آف سیخمیٹ" یا "سیخمت کے ذبح کرنے والے" Messengers of Sekhmet" or "Slaughterers of Sekhmet کے نام سے جانا جاتا تھا۔ جِس طرح وہ صحرا کی ہواؤں کو لا سکتی تھی، وہ ان کو موڑ بھی سکتی تھی، اور اسی طرح وبا کو بھی۔ جیسے وہ طاعون لے کر آئی، وہ اس کا علاج بھی کر سکتی تھی۔ اس صلاحیت میں اسے "زندگی کی مالکن" (Mistress of Life) کے نام سے جانا جاتا تھا لہازہ قدیم ڈاکٹرشفا کیلئے منتروں اور تراکیب کے ذریعے اکثر اِسے بُلاتے تھے۔ وہ دوسرے لیونین دیوتاؤں جیسے باسٹیٹ اور پکھیت (Bastet and Pakhet) کے ساتھ قریبی تعلق رکھتی تھی اور اسے مٹ دیوی (goddess Mut کائنات کی ماں) کا جارحانہ، پرتشدد پہلو سمجھا جاتا تھا۔

سیپا (Sepa)- گدھے کے سر یا سینگوں کے ساتھ سینٹی پیڈ (centipede) کی شکل میں ایک محافظ دیوتا، جسے "ہورس کا سینٹی پیڈ" کہا جاتا ہے (Centipede کئی ٹانگوں والا رینگنے والا جانور جیسے کنکھجورا)۔ اس کی پوجا ایک دیوتا کے طور پر کی جاتی تھی جو سانپ کے کاٹنے سے حفاظت کے طور پر تھا۔ کسی بھی شکل میں سیپا کی قبل از خاندانی دور (تقریباؐ 6000-3150 قبل از مسیح) میں پوجا کی جاتی تھی۔ Heliopolis میں اس کا اپنا مندر تھا جہاں وہ Osiris کے ساتھ ایک ممی شدہ شکل میں منسلک تھا جو بعد کی زندگی میں اس کی حفاظتی طاقتوں کی علامت تھا۔

سراپِس (Serapis) - ایک ہائبرڈ (hybrid مخلوط دیوتا جسے مصر کے Ptolemy I Soter (دورِ حکومت 323-283 قبل از مسیح) کے پہلے حُکمران نے متعارف کیا جو مصر پر حکمرانی کرنے والا آخری خاندان تھا (323-30 قبل از مسیح) اِس سے پہلے کہ یہ خاندان رُومی حکومت کے تسلط میں آیا۔ یہ Osiris اور Apis (قدیم مِصر کا مُقدس بیل دیوتا) کا مرکب تھا لیکن ان دو مصری دیوتاؤں کے کردار اور صفات یونانی دیوتاؤں Zeus، Helios، Dionysius، Hedes اور Asklepius کے ساتھ مِلتے تھے۔ وہ اسکندریہ کی لائبریری کے قریب مشہور سیراپیئم میں سب سے بڑا دیوتا تھا (Serapeum یُونانی مُردوں کا قدیم قبرستان جو اپس بیلوں کی تدفین کے لئے مخصوص تھے جو تخلیق کرنے والے پتا Ptah دیوتا کے اوتار مانے جاتے تھے)۔ وہ اسکندریہ کی لائبریری کے قریب مشہور سیراپیئم میں سب سے بڑا دیوتا تھا۔ بطلیمی اول (Ptolemy I) اس قسم کا کثیر الثقافتی معاشرہ تشکیل دینا چاہتا تھا جس کی اس کے مرحوم کمانڈر اور قابلِ تقلید راہنما سکندر اعظم نے کوشش کی تھی اور اس میں سراپس ایک اہم جز تھا۔ Serapis مصری اور یونانی نظریات کا مکمل امتزاج تھا جو اس قسم کے معاشرے کے مطابق تھا جس کی بطلیمی اول نے حوصلہ افزائی کی تھی۔

سیریٹ (Seret)- ایک لیونین حفاظتی دیوی شاید لیبیا سے تھی۔ اس کا تذکرہ صرف پانچویں خاندان (2498-2345 قبل از مسیح) میں مصر کے ایک علاقے کی دیوی کے طور پر کیا گیا ہے جو بنیادی طور پر لیبیا کے تیسرے زیریں مصر کے صوبہ کے باشندوں سے آباد ہے- دوسرے لیونین دیوتاؤں کی طرح، وہ اپنے پیروکاروں کی سخت محافظ تھی اور ان کے ساتھ ہونے والی غلطیوں کا بدلہ لیتی تھی۔

سرکٹ (سیلکٹ، سیرکٹ یا سرکس Serket (Selket, Serqet or Serkis)) - وہ ایک حفاظتی اور ایک اہم جنازے کی دیوی تھی جو غالباً قبل از خاندانی دور (تقریباؐ 6000-3150 قبل از مسیح) میں شروع ہوئی تھی اور اس کا ذکر پہلی بار مصر کے پہلے خاندان (تقریباؐ 3150-2890 قبل از مسیح) کے دوران ہوا تھا۔ وہ توتنخمون کے مقبرے (Tomb of Tutankhamun) میں پائے جانے والے اپنے سنہری مجسمے سے مشہور ہے۔ سرکٹ ایک بچھو دیوی تھی جسے ایک عورت کے طور پر دکھایا گیا تھا جس کے سر پر بچھو اور بازو حفاظتی انداز میں پھیلے ہوئے تھے۔ وہ ایک ابتدائی مادر دیوی ہو سکتی ہے جو ایک دیوتا کے طور پر مانی گئی جس نے تمام لوگوں (خاص طور پر بچوں) کو بچھو کے زہر سے بچایا یا کِسی بھی زہر سے محفوظ رکھا۔ ایک کہانی جسے (Isis and the Seven Scorpions) کے نام سے جانا جاتا ہے بتاتی ہے کہ کس طرح ایک امیر عورت نے Isis کی توہین کی تھی اور Serket، جس نے اپنے سات بچھوؤں کو Isis کے محافظوں کے طور پر بھیجا تھا، ان میں سے ایک کو عورت کے بیٹے کو ڈنک مارنے کی ہدایت کی تھی۔ لڑکا زہر سے مرنے والا تھا لیکن Isis نے اسے بچا لیا اور امیرعورت کو معاف کر دیا۔ اس کے بعد، سرکٹ نے آیسِس (Isis) کی معافی کی مثال کی پیروی کی اور دوسرے بچوں کو بچھوؤں سے بچایا۔ اس کے پجاری زیادہ تر طبیب تھے جو شفا کیلئے اِسکا نام لیتے تھے۔ بعد کی زندگی میں اس نے مرنے والوں کی روحوں کو جنت میں لے جانے میں مدد کی اور سفر کے ایک خاص خطرناک حصے کی حفاظت کی۔ Isis، Neith، اور Nephthys کے ساتھ، وہ Horus کے چار بیٹوں کی نگرانی کرتی ہے جب وہ قبروں میں مردوں کے viscera کی حفاظت کرتے ہیں. (یہ ایک ایسا عمل تھا کہ مُردہ جِسم کے اہم عُضو کو احتیاط سے نِکال لیا جاتا اور اُنہیں مخصوص کنوپی جار میں مصالحہ لگا کر محفوظ کیا جاتا تا کہ وہ فیلڈ آف ریڈ نام کی جنت میں رہنے کیلئے دوبارہ زِندہ ہو جائیں).

سیشات Seshat (Sefkhet-Abwy یا Safekh-Aubi) - وہ لکھنے، کتابوں، اشارے (جیسے موسیقی کے اشارے وغیرہ) اور پیمائش کی دیوی تھی۔ اس کے نام کا مطلب ہے "خاتون کاتب" (The Female Scribe) اور وہ تھوتھ جو حکمت اور تحریر کا دیوتا تھا، کی ساتھی تھی، (حالانکہ بعض اوقات اسے اس کی بیٹی کے طور پر بھی دکھایا جاتا ہے)۔ وہ پبلک اور پرائیویٹ دونوں طرح کی لائبریریوں کی سرپرست تھی اور انہیں "وہ جو کتابوں کے گھر میں سب سے آگے ہے" (She Who is Foremost in the House of Books) کے نام سے جانا جاتا تھا۔ وہ کاتبوں کی سرپرست دیوی بھی تھی۔ پیمائش کی دیوی کے طور پر اس نے بادشاہ کے مندروں اور یادگاروں کی تعمیری اور پیمائشی کاموں کو یقینی بنایا اور رسومات کے اہتمام میں مدد کی۔ اس کا تذکرہ سب سے پہلے دوسرے خاندان (تقریباؐ 2890-2670 قبل از مسیح) میں بادشاہ خاصکیموی (Khasekemwy) کی مدد کے طور پر کیا گیا ہے۔ پیمائش کے ساتھ اس کی وابستگی نے بالآخر اسے معماروں، مویشیوں، دوسرے جانوروں اور جنگ میں پکڑے گئے اسیروں کا حساب کرنے والوں کا سرپرست بنا دیا۔ اگرچہ اس کا اپنا کوئی مندر نہیں تھا، جیسا کہ آر ایچ ولکنسن (R.H. Wilkinson) کا مشاہدہ ہے، "فاؤنڈیشن کی تقریب میں اپنے کردار کی وجہ سے وہ مندر کی ہر عمارت کا حصہ تھی" (167)۔ اسے ایک ایسی عورت کے طور پر دکھایا گیا ہے جس کے اوپر چیتے کی کھال ہے، سر پر پٹی ہے اور وہ ایک ایسی چھڑی پکڑے ہُوئے ہے جس کے اوپر کے سِرے پر ستارہ لگا ہے۔ اس کے دائیں ہاتھ میں تحریری سامان اور بائیں ہاتھ میں کھجور کا ڈنٹھل ہے جو برسوں کے گزرنے کو ظاہر کرتا ہے۔

سیٹ (سیٹھ) Set (Seth) - جنگ، افراتفری، طوفان، اور وبا کا دیوتا۔ اُس کے نام کا ترجمہ "الجھاؤ کا اکسانے والا" (Instigator of Confusion) اور "تباہ کنندہ" (Destroyer) کیا گیا ہے۔ اسے ایک سرخ درندے کے طور پر دکھایا گیا ہے جس کے کُھر پھٹے ہُوئے ہیں (cloven hooves)، اِسکی کانٹے دار دم ہے اور یہ کرسچن شیطان (Christian Devil) کی بعد کی آئیکنوگرافی (iconography) کا نمونہ ہے۔ سیٹ اصل میں ایک ہیرو دیوتا تھا جس نے سانپ ایپپ (Apophis) کو سورج دیوتا کے بجر سے بھگا دیا اور رات کو اسے مار ڈالا۔ وہ ایک صحرائی دیوتا تھا جو خشک زمینوں کی بری ہواؤں کو سرسبز وادی نیل تک پہنچاتا تھا اور اس کا تعلق دُوسریی سلطنتون اور لوگوں سے تھا۔ اس کی بیویاں انات اور عستارات (Anat and Astarte) تھیں، دونوں بیویاں اور Taweret بھی جنگ سے وابستہ اور بیرونی عِلاقوں سے تھیں۔، یہ بچے کی پیدائش اور زرخیزی کی بے نظیر حفاظتی دیوی تھی۔ سیٹ کو اکثر "برائی" کے طور پر پہچانا جاتا ہے، اور اس نے بہت سی بُری خصوصیات کو ظاہر بھی کیا، لیکن قدیم مصریوں نے اسے برائی یا تاریکی کا مجسم نہیں سمجھا۔ اس کے بجائے اوسائرس اور ہورس جو ہر چیز کی زرخیزی، زندہ دلی اور ابدیت کی نمائندگی کرتے تھے، اِنکے مُقابلے میں اِسے ایک ضروری توازن کے طور پر دیکھا ۔ سیٹ کو اوسائرس کے افسانے میں دنیا کے پہلے قاتل کے طور پر جانا جاتا ہے جہاں وہ تخت پر قبضہ کرنے کے لیے اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے۔ آئیسس نے اوسائرس کو زندہ کر دیا لیکن، چُونکہ وہ نامکمل ہے، انڈرورلڈ میں لارڈ آف دی ڈیڈ (Lord of the Dead) کے طور پر اترتا ہے۔ وہ آیسِس اوسائرس کے بیٹے، ہورس کو جنم دیتا ہے، جو سیٹ کو چیلنج کرنے کے لیے بڑا ہوتا ہے۔ ان کی لڑائیاں، جو اسّی سال تک جاری رہیں، اِسکا ذِکر The Contendings of Horus and Set میں کیا گیا ہے۔ ایک بیان / تشریح میں Isis نے معاملہ حل کیا جب کہ دوسرے میں Neith with Horus کو صحیح بادشاہ قرار دیا گیا اور سیٹ کو صحرا کی سرزمین پر جلاوطن کردیا۔

شے (شائی) Shay (Shai) - تقدیر کی شخصیت۔ شی ذاتی تقدیر کا مالک تھا، اسی لئے وہ میسکھنیٹ اور رینینٹ (Meskhenet and Renenutet) جیسی دیویوں سے وابستہ تھا۔ قدیم یونانیوں کے نظریہِ تقدیر کی طرح، کوئی بھی شی کے فیصلوں کی مزاحمت یا تبدیلی نہیں کر سکتا تھا۔ اسکالر ولکنسن نے ایک متن کا حوالہ دیا ہے جسے امینیموپیٹ کی ہدائات (Instructions of Amenemopet) کہا جاتا ہے جس میں کہا گیا ہے، "کوئی بھی شی کو نظر انداز نہیں کر سکتا" (128)۔ یہ بیان شی کی اہم خصوصیت یعنی ناگزیریت کا مظہر ہے۔ اسے بعد کی زندگی میں روح کے دل کے وزن کے وقت یا صبر کی حالت میں کھڑے آدمی کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ بطلیما خاندان (323-30 قبل از مسیح) کے دوران، جب مصری دیوتاؤں کو یُونانی تہذیب، مذہب اور زبان کو مدِ نظر رکھتے ہُوئے سمجھا گیا اُسے (Agathodaimon)، ناگ دیوتا کے نام سے جانا گیا جو کسی کا مستقبل بتا سکتا تھا۔

شیڈ (Shed)- ایک حفاظتی دیوتا جو جنگلی جانوروں یا فانی دشمنوں کے نقصان سے بچاتا تھا۔ اسے شکاری اور سپاہی اپنی مدد کیلئے پُکارتے تھے اور اِسی لئے اسے "He Who Rescues" "The Enchanter" کے نام سے جانا جاتا تھا۔ وہ جنگلی جانوروں اور ہتھیاروں کا مالک تھا اور اس لیے جو بھی اِسے پُکارتا تھا وہ اُسے تحفظ فراہم کرتا تھا۔ اسے کسی کے دشمنوں کے ذریعہ ڈالے گئے جادو منتروں اور ممکنہ طور پر بدروحوں یا بھوتوں کے خلاف تحفظ میں بھی تلاش کیا جاتا تھا۔ اسے ایک نوجوان کے طور پر دکھایا گیا ہے جس کا سر منڈوا ہوا ہے اور ایک طرف سے جوان لگتا ہے جو تیروں کا ترکش اٹھائے ہوئے ہے۔ وہ اکثر سانپوں کو اپنے ہاتھوں میں ایسے پکڑتا ہے جیسے انہیں کچل رہا ہو۔ آخر کار اس کی صفات ہورس نے جذب کر لیں حالانکہ لوگ پھر بھی اپنے گھروں میں اور تعویذوں کے ذریعے اس کی تعظیم کرتے تھے۔

شینتایت Shentayet- ایک غیر واضح حفاظتی دیوی جس کے نام کا مطلب ہے "بیوہ" (Widow) اور جو Isis کے اس پہلو سے وابستہ تھی جس نے اپنے شوہر کو کھو دیا اور پھر اسے دوبارہ زندہ کیا۔ اس پہلو کو Isis-Shentayet کہا جاتا تھا۔ ممکنہ طور پر بیواؤں کی محافظ کے طور پر اُسے پکارا جاتا تھا لیکن اس کے حوالے کم ہی ہیں تا ہم Isis نے اس کردار کو پورا کیا جیسا کہ اس نے بہت سے دوسرے کردار کیے تھے۔

شیپیٹ (Shepet)- ایک حفاظتی دیوی جو ہپوپوٹامین دیوتاؤں hippopotamine deities Reret or Taweret کا ایک پہلو تھی اور جِسکی ڈینڈرا میں پوجا کی جاتی تھی۔ نقش نگاری میں مگرمچھ کے سر کے ساتھ وہ ان دونوں میں سے کسی ایک کی طرح دکھائی دیتی ہے۔

شیسمٹیٹ (Shesmetet)- ایک حفاظتی لیونین دیوی جسے "لیڈی آف پنٹ" (دیوی کے اِس عِلاقے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے) کے نام سے جانا جاتا تھا اور غالباً ایک اہم دیوی کو پنٹ کے ساتھ تجارت کے ذریعے مصر لایا گیا تھا۔ اسے عام طور پر باسٹیٹ یا سیکھمیٹ (Bastet or Sekhmet) کا ایک پہلو سمجھا جاتا تھا لیکن ممکنہ طور پر وہ ایک بہت پُرانی دیوی تھی جس کی صفات کو بعد میں لیونین دیویوں نے جذب کر لیا تھا۔ اس کے نام کا تذکرہ پہلی سلطنت (تقریباؐ 3150-2890 قبل از مسیح) میں کیا گیا تھا جیسا کہ یہ شیشمٹیٹ کمر بند کے نام کی موتیوں سے جڑی کمر بند سے ظاہر ہوتا ہے جو اکثر اُس وقت کے بادشاہ پہنتے تھے۔ اسے شیر کے سر کے ساتھ ایک عورت کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

شیزمو (Shezmu)- شراب کا دیوتا جو بعد میں خوشبو کا دیوتا بن گیا جس نے نشے کے مثبت اور منفی پہلوؤں کو ظاہر کیا۔ شیزمو کو پیرامڈ ٹیکسٹ Pyramid Text( 403) میں بادشاہ کی خوشنودی کے لیے دیوتاؤں کو مارتے اور پکاتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور درمیانی سلطنت (2040-1782 قبل از مسیح) میں اسے مردہ لوگوں کی روحوں کو اذیت دیتے ہوئے، ملعونوں پر پھندہ ڈالتے ہوئے، اُنکو باڑے میں بند کرتے ہوئے اور ذبح کرنے کے لیے ان کے سر کو نچوڑتے ہُوئے دِکھایا گیا ہے " (ولکنسن، 129)۔ دوسروں نے پرامن پہلو کو مدِنظر رکھتے ہُوئے اس کی شبیہ کو شراب کی فیکڑری کے مالک کے طور پر ظاہر کر کے نرم کیا اور تیل اور خوشبو سے وابستہ کر کے مُزیر نرم کیا۔

شو (Shu)- ہوا کا اِبتدائی دیوتا جس کے نام کا مطلب ہے "خالی پن" (Emptiness)۔ وہ آتم (را) کی تخلیق کے آغاز میں پیدا ہوا تھا اور اسے اپنی بہن ٹیفنٹ (Tefnut نمی کی دیوی) کے ساتھ دنیا بنانے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ دونوں اتنے دور چلے گئے تھے کہ آتم ان کو یاد کرنے لگا اور اپنی آنکھ (را کی آنکھ) ان کی تلاش میں بھیج دی۔ جب آنکھ ان کے ساتھ واپس آئی تو آتم بہت خوش تھا وہ رو پڑا اور اس کے آنسوؤں نے انسانوں کو تخلیق کیا۔ اس کے بعد اس نے اور ٹیفنٹ نے ملاپ کیا اور گیب (Geb زمین) اور نٹ (Nut آسمان) کو جنم دیا جنہیں آتم نے ایک دوسرے سے اونچا دھکیل دیا، جس سے انسانوں کو رہنے کے لیے جگہ فراہم کی گئی۔ دھند (Mist) کو "شو کی جھیلوں" (Lakes of Shu) اور بادلوں کو "شو کی ہڈیاں" (Bones of Shu) کے طور پر منسوب کیا گیا تھا اور وہ روشنی اور چمک سے بھی وابستہ تھی۔ اس سلسلے میں وہ چاند کی روشنی کی وجہ سے تھوتھ (عقل، تحریر اور جادو کا دیوتا) اور کھونسو (چاند کا دیوتا) سے جڑے ہوئے تھے، دونوں کا تعلق چاند سے تھا۔

سیا (Sia)- ادراک اور سوچ کی شخصیت جو دل کی نمائندگی کرتی تھی (جذبات، سوچ اور کردار کی نشست seat of emotion, thought, and character)۔ سیا نے زبان کی نمائندگی کرتے ہُوئے ہو کے ساتھ مِلکر ایک ڈائڈ (dyad دو دیوتاوؐں کا مجموعہ) تشکیل دیا اور پھِر ہیکا جو جادو اور دوا کا دیوتا اور جو کائنات میں ایک اِبتدائی قوت بھی تھی، کے ساتھ مِل کر زِندگی کو با اِختیار بئایا اور مات (سچائی، کائناتی توازن،اِنصاف کی دیوی) کو برقرار رکھا، ایک ٹرائڈ بنائی۔ سیا نے عقل کی نمائندگی کی جبکہ ہو نے Ptah یا Atum کے کلام کو علامتی نِشان دیا اور سوچ حقیقت میں بدل گئی۔ ہیکا ایک چھُپی ہُوئی طاقت تھی جِس نے اُنہیں اِختیار بخشا۔ سیا کو ایک آدمی کے طور پر دکھایا گیا ہے جو Ptah (بعد میں، Atum/Ra) کے دائیں طرف کھڑا ہے اور اس نے اپنا پپائرس اسکرول (papyrus scroll) تھام رکھا ہے۔ بادشاہوں کی وادی میں وہ را کے سورج بجر پر سوار عملے کے ایک رکن کے طور پر، مصوری میں نظر آتا ہے۔

اسکائی بل (Sky Bull)- وہ دیوتا جس نے آسمانوں اور بعد کی زندگی (afterlife) کی حفاظت بطور محافظ کی، جسے بعد کی زندگی کے ساتھ اپنی وابستگی کی وجہ سے "مغرب کا بیل" Bull of the West بھی کہا جاتا تھا۔ عام طور پر ان سات گایوں کا شوہر سمجھا جاتا تھا جو اس کے ساتھ نظر آتی تھیں۔

سوبیک Sobek - مگرمچھ یا مگرمچھ کے سر والے آدمی کی شکل میں ایک اہم حفاظتی دیوتا، پانی کا دیوتا تھا لیکن اس کا تعلق دوا اور خاص طور پر سرجری سے بھی تھا۔ اس کے نام کا مطلب ہے "مگرمچھ" (Crocodile)۔ وہ دلدل اور گیلی زمینوں اور مصر کے دوسرے گیلے علاقوں کا مالک تھا۔ اہرامِ مصر کے تحریری نقوش/متون (Pyramid Texts) میں اس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ نیتھ (Neith قبل از پیدائش دیوی جو جنگ، شکار، بُنائی اور تخلیق سے وابستہ تھی) کا بیٹا تھا اور پرانی بادشاہی (2613-2181 قبل از مسیح) کے بعد سے اس کی بڑے پیمانے پر عبادت کی جاتی تھی۔ گیلی زمینوں کے مگرمچھ دیوتا کے طور پر وہ زرخیزی اور افزائشِ نسل سے وابستہ تھا اور بطور مگرمچھ دیوتا کے وہ غیر متوقع موت سے وابستہ تھا۔ اس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ بیویوں کو اپنے شوہروں سے منطقی فیصلے کے بجائے اچانک اپنی خواہش پر الگ کر دیتا تھا۔ سوبیک افق پر ایک افسانوی پہاڑ پر رہتا تھا جہاں سے وہ حُکمرانی کرتا تھا اور اس طرح بادشاہ کے اختیار سے منسلک تھا کیونکہ وہ خود، ایک مخصوص اِختیار رکھتا تھا۔ افق کے ساتھ ربط رکھنے کی وجہ سے اسے را سے جوڑ دیا اور را کی شکل اختیار کی جسے سوبیک - را (Sobek-Ra) کہا جاتا تھا۔ سوبیک قدیم مصر کے مشہور دیوتاؤں میں سے ایک تھا اور اپنے زمانے میں بہت مشہور تھا۔ اس کے پجاری مندروں میں زندہ مگرمچھوں کو رکھا کرتے تھے جنہیں بہترین گوشت کاٹ کر کھلایا جاتا تھا اور موجود انسانوں سے بہتر سلوک کیا جاتا تھا۔ جب یہ مگرمچھ مر جاتے تھے تو انہیں ممی کیا جاتا تھا اور اُسی عِزت و تعظیم کے ساتھ دفن کیا جاتا تھا جیسے ایک شخص کو دفن کیا جاتا تھا۔ اس کا تعلق دریائے نیل سے بھی تھا جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ سوبیک کا پسینہ تھا۔

سوکر (سیکر) Sokar (Seker) - میمفس (تقریباؐ 3200 قبل از مسیح مِصر کا قدیم شہر جِسے بادشاہ نرمر نے مذہبی مرکز کے طور پر قائم کیا) کا ایک حفاظتی فالکن دیوتا جو مصر میں ایک قدیم ترین زرعی دیوتا تھا۔ اس کا تہوار سب سے پہلے منائے جانے والے تہواروں میں سے ایک تھا اور اسے اوسائرس کے کھوئیک فیسٹیول (Khoiak Festival) کے ساتھ ملا کر مصر کی پوری تاریخ میں منایا جاتا رہا۔ اوسائرس کے زیادہ مقبول ہونے کے بعد وہ زراعت اور نشوونما کے دیوتا سے کاریگروں کے دیوتا اور میمفس نیکروپولیس (necropolis) کے سرپرست کے طور پر بن گیا۔ ( necropolis ایک وسیع قدیمی قبرستان جو مغربی صحرائے پلوٹو مِصر کے قدیم دارُلخلافہ میمفس کے نزدیک تھا)۔ سوکر کو اکثر فالکن کے سروں سے گھرا ہوا ایک جنازے کے ٹیلے کے طور پر دکھایا جاتا ہے، ایک فالکن کے طور پر، یا فالکن سر والے آدمی کے طور پر۔ وہ بعد کی زندگی کے ساتھ انڈرورلڈ کے داخلی دروازے کے محافظ اور دیوتا کے طور پر منسلک ہے جو مردہ بادشاہ کی روح کو جنت میں لے جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، وہ Ptah اور پھر Osiris کے ساتھ منسلک ہو گیا تاکہ آخر کار مشرق کی بادشاہی (2040-1782 قبل از مسیح) کو Ptah-Sokar-Osiris میں جوڑ دیا جائے جو بعد کی زندگی کی صدارت کرنے والا جنازے کی تعلق سے ایک مخلوط جِنسی (hybrid funerary) دیوتا تھا۔

ہورس کے بیٹے (Sons of Horus) - حوالہ ہورس کے چار بیٹے

سوپدو (Soped یا Sopedu) - مصر کی مشرقی سرحد کا ایک حفاظتی دیوتا جو سرحد پر چوکیوں اور فوجیوں کی حفاظت کرتا تھا۔ اسے ایک فالکن کے طور پر دکھایا گیا ہے جس کے دائیں بازو پر جھکاؤ ہے یا ایک داڑھی والے آدمی کے طور پر جس میں دو پروں والا تاج ہے۔ سوپڈو کا تعلق ہورس اور بادشاہ کے ساتھ اس کی نجومی شکل میں تھا۔ ولکنسن لکھتے ہیں، "کہا جاتا ہے کہ وفات پا جانے والا بادشاہ، اوسائرس-اورین (Osiris-Orion) کے کردار میں، Isis کے ساتھ مِل کر ستارہ سوتھیس (star Sothis) کے طور پر Horus-Sopdu پیدا کرتا ہے" (211)۔ زمینی حدود میں، اس نے اس بات کو یقینی بنایا کہ مناسب وسائل مشرقی سرحدی چوکیوں تک پہنچیں اور بادشاہ کو ان علاقوں میں مقامی آبادی کو کنٹرول کرنے میں مدد دیں۔

سوتھیس (Sothis)- سوتھیس ستارے سیریس Sirius ("dog star") کی شخصیت تھی جِسکا نظر آنا سیلاب کی خبر دینا تھا۔ خاندانی دور سے پہلے یہ سیریس سے وابستہ تھی (تقریباؐ 6000-3150 قبل از مسیح)، اور اُسکی گائے کی دیوی کے طور پر پوجا کی جاتی تھی۔ وہ ساہ (Sah) کی ساتھی تھی، جس نے برج اورین (constellation Orion) کو ظاہر کیا اور اِن دونوں کا تعلق اوسائرس اور آئیسس سے تھا۔ اس کردار میں، وہ سوپدو (Sopdu) کی ماں تھی اور اس لیے حفاظتی صِفات کی مالک نظر آتی تھی۔ اس کا تعلق ستیس (Satis) سے بھی تھا جو خنم (Khnum) کی ساتھی کے طور پر نیل کے سیلاب سے منسلک تھی۔ سوتھیس کی ابتدائی تصویریں اسے ایک گائے کے طور پر پیش کرتی ہیں جس کے سینگوں کے درمیان ایک پودا ہے جبکہ بعد کی تصاویر میں اسے ایک عورت کے طور پر دکھایا گیا ہے جس نے بالائی مصر کا سفید تاج پہنا ہوا ہے جس کے سر پر سینگ ہیں یا اس کے اوپر پانچ نکاتی ستارے کے ساتھ پنکھ ہیں۔ اس کی شناخت تیزی سے آیسِس کے ساتھ ہوتی گئی اور آخر کار وہ مکمل طور پر اس دیوی میں جذب ہو گئی۔ بطلیما خاندان (Ptolemaic Dynasty) کے دور کے آیسِس اور نیفتھیس کے ماتم The Lamentations of Isis and Nephthys (323-30 قبل از مسیح) کے متن کی ایک نقل میں آئسس نے خود کو سوتھیس کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے بیان کیا ہے کہ کیسے اس وقت تک سوتھیس کا آیسِس کے ساتھ انضمام تقریبا مکمل ہو گیا تھا۔

پی اور نیخن کی روحیں (Souls of Nekhen and Pe) - یہ بالائی مصر کے شہر Nekhen (جسے Hierakonopolis بھی کہا جاتا ہے دییائے نیل کے مغربی کِنارے پر واقح آثارِ قدیمہ کا ایک قدیم شہر) اور زیریں مصر میں Pe شہر (جسے بوٹو بھی کہا جاتا ہے) کی آبائی روحیں تھیں اور اِنہیں حفاظتی روحیں سمجھا جاتا تھا۔ ان روحوں نے علامتی طور پر بالائی اور زیریں مصر کو متحد کیا اور یہ بادشاہوں کی زِندگی میں اور موت تک خِدمت کرتی تھیں۔ زِندہ بادشاہ کی نِسبت ہورس دیوتا سے کی جاتی تھی، جس پر روحیں حوصلہ افزائی کرتی تھیں، اور جب بادشاہ مر جاتا تو اس کا تعلق اوسائرس سےکیا جاتا تھا، جس پر روحیں ماتم کرتی تھیں اور عزت کرتی تھیں۔ پی (Pe) کی روحوں کو فالکن کے سر والے مردوں کے طور پر اور نیخن (Nekhen) کی روحوں کو گیدڑ کے سر والوں کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔ دونوں کو بادشاہوں کے مقبرے کے نوشتہ جات میں دیکھا گیا ہے کہ وہ موت کے بعد کی زندگی میں بادشاہ کی آمد کا احترام کرنے کے لیے گھٹنے ٹیکتے ہیں۔

ستارہ دیوتا (Star Deities) - دیوتاؤں اور دیویوں کی شناخت رات کے وقت آسمان سے ہوتی تھی۔ درمیانی سلطنت (Middle Kingdom 2040-1782 قبل از مسیح) کے وقت تک مصریوں نے پانچ سیاروں کی شناخت کر لی تھی جنہیں وہ "ستارے جو آرام نہیں جانتے" (Stars That Know No Rest) کہتے تھے اور وہ دیوتاؤں سے منسلک تھے: مرکری 'سیبیگو' (Mercury دیوتا سیٹ کی ایک شکل)؛ وینس (Venus"وہ جو پار کرتا ہے" The One Who Crosses اور "صبح کا خدا")؛ مریخ Mars ("Horus of the Horizon" اور "Horus the Red")؛ مشتری Jupiter ("Horus جو دو زمینوں کو محدود کرتا ہے")؛ اور زحل ( Saturn"آسمان کا ہورس بیل" Horus Bull of the Heavens)۔ مزید یہ کہ ستارہ سیریس (Sirius) کا تعلق سوتھیس (Sothis) اور پھر آئسس (Isis) سے تھا جبکہ اورین (Orion) دیوتا ساہ (Sah) کی نمائندگی کرتا تھا۔ اِسے "دیوتاؤں کا باپ" بھی کہتے تھے۔ سیریس کا ظاہر ہونا دریائے نیل کے سیلاب کی خبر دینا، زرخیزی کا وعدہ، اور وجود کی چکراتی نوعیت کی نمائندگی کرنا تھا اور اسی طرح اس کا تعلق اوسائرس سے تھا جو مرنے اور زندہ ہونے والا دیوتا تھا اور آئسس جس نے اسے زندہ کیا۔ ستاروں کو "اوسائرس کے پیروکار" کہا جاتا تھا جو الہی اِنتظام کے مطابق رات کو آسمان پر سفر کرتے تھے۔ آسمانوں میں ساہ اور سوتھیس اوسائرس اور آئسس کی نمائدگی کرتے تھے اور دیوتا سوپڈو، (سوتھیس کا بیٹا)، ہورس کا نجومی عکس تھا۔ اس طرح رات کا آسمان مصری ثقافت کی سب سے زیادہ معنی خیز کہانیوں کا سبب بنا اور لوگوں کو دیوتاؤں کی موجودگی میں ایک ابدیت کا یقین دلایا جب انہوں نے ستاروں کی طرف دیکھا۔

سوٹیک (Sutekh) - دیوتا سیٹ (Seth) کا سامی نام جسے ہائکسوس (Hyksos) کے نام سے جانا جاتا تھا دوسرے درمیانی دور (تقریباؐ 1782-1570 قبل از مسیح) کے دوران متعارف کرایا گیا۔ ہائکسوس نے سیٹ کو اپنے دیوتا بعل کے جنگی پہلو سے شناخت کیا۔ سیٹ کو رامسیس دوم Ramesses II (1279-1213 قبل مسیح) کے دور حکومت میں سوتخ (Sutekh) کے نام سے جانا جاتا تھا اور اسے جنگ میں ہراول دستے کے طور پر پکارا جاتا تھا۔

T

ٹا بیجیٹ (Ta-Bitjet) - زہریلے کاٹنے اور ڈنک کے خلاف ایک حفاظتی دیوی جِسے شفا کے لئے کثرت سے منتروں کے ذریعے پکارا جاتا تھا اور اس کا تعلق دیوی سرکٹ سے تھا جو آخر کار Isis میں جذب ہو گئی۔

ٹاسینیٹنفریٹ (Tasenetnofret) کوم اوبو (Kom Ombo (مِصر کے بالائی حِصے میں دریائے نیل کے مشرقی کنارے پر واقع ایک قدیم مندر) کی ایک حفاظتی دیوی جس کے نام کا مطلب ہے "اچھی بہن" یا "خوبصورت بہن" The Good Sister" or "The Beautiful Sister۔ وہ دیوی ہتھور، ہورس کی بہن اور پنبتاوی کی ماں کی مقامی مظہر تھی۔ (Panebtawy قدیم مِصری دیوتا جو ایک بچہ تھا اور یہ بڑے ہورس کا بیٹا تھا جِسکی کوم اومبو مندر میں پُوجا کی جاتی تھی)۔

ٹیٹنن (Tatenen)- ایک زمینی دیوتا جس نے تخلیق کے وقت قدیم ٹیلے کو ظاہر کیا اور یہ مصر کی سرزمین کی علامت تھی۔ وہ غالباً وہی دیوتا ہے جسے پرانی بادشاہت (تقریباؐ 2613-2181 قبل از مسیح) کے دور میں Khenty-Tjenenet کہا جاتا تھا۔ وسطی بادشاہی (2040-1782 قبل از مسیح) کے دوران میمفس میں اس کی پوجا کی جاتی تھی اور مصر کی باقی تاریخ میں بنیادی طور پر اس خطے میں اس کی تعظیم کی جاتی رہی۔ ابتدائی ٹیلے کے ساتھ اس کی وابستگی نے اسے Ptah سے اور Ptah کے ذریعے Atum اور Ra کے ساتھ جوڑا جو خالق دیوتا/سورج دیوتا کے دوسرے نام تھے۔ ٹیٹنن ایک دو جِنسی دیوتا (bisexual god) تھا، جسے ایک متن میں "تمام دیوتاوؐں کی ماں" (Mother of All the Gods) کہا جاتا تھا۔

ٹوریٹ Taweret (Tauret) - ہپوپوٹیمس (hippopotamus) کی شکل میں ایک حفاظتی دیوی، قدیم مصر کی سب سے مشہور ہپوپوٹیمس دیوی، جس کا تعلق Isis اور Hathor دونوں سے تھا۔ Taweret بچے کی پیدائش اور زرخیزی کی دیوی تھی جو مصر کی پوری تاریخ میں بہت مشہور تھی۔ اسے بچوں کی حفاظت اور حمل اور پیدائش کے دوران مدد کے لیے باقاعدگی سے پکارا جاتا تھا۔ قدیم مصریوں نے مادہ ہپوپوٹیمس کو اپنے بچوں کے لیے مُحافِط دیوی دیکھا جس کی وجہ سے اِسے دیوی سمجھا گیا۔ نر ہپوپوٹیمس بہت جارحانہ تھا اور اسے مصر کے سب سے خطرناک جانوروں میں سے ایک سمجھا جاتا تھا لہذا اس کا تعلق سیٹ دیوتا (god Set) سے تھا جس کے نتیجے میں توریٹ کی تصاویر سیٹ کی ساتھی کے طور پر سامنے آئیں حالانکہ دونوں دیوتاؤں میں کوئی چیز مشترک نہیں تھی۔ Taweret قریب سے Hathor کے ساتھ منسلک تھا اور اسے "Horus کے پیروکار" کہا جاتا تھا حالانکہ دونوں سیٹ سے فاصلے پر تھے. اس کی مزید شناخت بیس (Bes) جو ایک بونا دیوتا تھا، کے ساتھی کے طور پر کی جاتی تھی، جو بچے کی پیدائش، جنسیت، مزاح اور جنگ کے تعلق سے تھے۔ Bes کی طرح، Taweret کو گھریلو اشیاء جیسے فرنیچر، کاسمیٹک کیسز، برتنوں، چمچوں اور گھر میں زرخیزی کی تصاویر میں نمایاں کیا جاتا تھا۔

ٹےیٹ Tayet (Tait) - ُبُنائی (weaving) کی دیوی جو بادشاہ کے لیے کپڑے مہیا کرتی تھی۔ پرانی بادشاہی (تقریباؐ 2613-2181 قبل از مسیح) سے اس کی پوجا کی جاتی تھی جہاں اسے بادشاہ کے سر کی حفاظت کرنے، موت کے بعد اس کی حفاظت کرنے، اس کی ہڈیوں کو اکٹھا کرنے اور بعد کی زندگی میں دوسرے دیوتاؤں کی طرف سے اسے خوش آمدید کہنے کا یقین دلایا جاتا تھا۔ وہ بعد میں امبلنگ (مردے میں خوشبوئیں بھرنا، لاش کو محفوظ رکھنا، یا ممبی بنانا) سے وابستہ ہوگئی اور کہا گیا کہ وہ خوشبو لگانے والے خیموں کے لیے کپڑا بُنتی تھی اور، بعد میں، ممی کو لپیٹنے کے لیے استعمال ہونے والی پٹیاں جو "طائیت (Tayet) کے ہاتھوں سے لپیٹنے" کے نام سے مشہور تھیں جو اسے نیفتھیس (Nephthys) سے منسلک کرتی تھیں۔

ٹیفنیٹ (Tefnut) -نمی کی دیوی، شو کی بہن، دنیا کی تخلیق کے موقع پر Atum (Ra) کی بیٹی۔ شو (دیوتا) اور ٹیفنٹ (دیوی) پہلے دو دیوتا تھے جو آتم نے اپنے سائے کے ساتھ مل کر یا تھوکنے سے بنائے تھے۔ R. H. Wilkinson نوٹ کرتے ہیں کہ اس کا نام تھوکنے کی آواز کی نمائندگی کرتا ہے اور بعد کے متون میں اُسے اکثر "ہونٹوں کے ایک جوڑے اور تھوکنے کے طور پر ظاہر کیا گیا" (183)۔ وہ نچلی دنیا یعنی زمین کی دیوی ہے، جس طرح شو (Shu) زمین کے اوپر اوپری ماحول کا دیوتا ہے۔ Tefnut (زمین Geb) اور نٹ (آسمان) کی ماں ہے جِنکی تخلیق اِس لئے ہُوئی کہ انسانوں کو رہنے کے لیے کہیں جگہ مل سکے۔ اسے اکثر شیر کے سر کے ساتھ بیٹھی ہوئی عورت یا شیر کے سر کے ساتھ ناگ کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔.

ٹینینِٹ (Tenenit (Tenenet یا Tjenenet) - بیئر،پینے اور بچے کی پیدائش کی دیوی۔ اس کا نام "ٹینیمو" (tenemu) سے آیا ہے جس کا مطلب ہے "بیئر"۔ وہ مونٹو (Montu) دیوتا کی بہن تھی اور میسخنیٹ (Meskhenet) سے شاہی پیدائش کی دیوی کے طور پر وابستہ تھی۔ وہ شراب بنانے والوں کی سرپرست دیوی ہے۔

ٹیٹراڈس (Tetrads)- مکمل ہونے کی نمائندگی جو کبھی کبھی کمپاس کے چار بنیادی نکات کے مطابق ہوتی ہے، ہورس کے چار بیٹے اِسکی نمائندگی کرتے ہیں۔ قدیم مصریوں کے لیے ترازو ایک اہم تصور تھا اور دیوتاؤں کی نمائندگی میں نمبر دو، چار، اور آٹھ نمایاں طور پر تھے (جیسا کہ تین، چھ اور نو)۔ ہر مرد دیوتا کا ایک مادہ ہم منصب یا ایک نسانی پہلو ہوتا تھا۔ چار دیویاں آئیسس، نیتھ، نیفتھیس اور سرکٹ Isis, Neith, Nephthys, and Serket کی نِسبت ہورس (Horus) کے چار بیٹوں کے ساتھ تھی، اور اوگڈوڈ (Ogdoad) تخلیقی مادوں کے آٹھ دیوتاؤں کا گروپ تھا۔

تھوتھ (Thoth)- تحریر، حکمت، سچائی اور سالمیت کا دیوتا، مصری پینتھیون (pantheon) میں سب سے اہم دیوتاؤں میں سے ایک جس کی پُوجا قبل از پیدائشی دور (تقریباؐ 3150- 6000 Predynastic Period) سے لے کر بطلیمی خاندان (323-30 قبل از مسیح) تک کی جاتی تھی، جو مصر پر حکمرانی کرنے والا آخری خاندان تھا۔ وہ غالباً اصل میں چاند کا دیوتا تھا اور آتم کا بیٹا تھا لیکن بعد کی تحریریں اسے ہورس کے بیٹے کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ تھوتھ کو کچھ نصوص میں ایک بابون (baboon) کے طور پر دکھایا گیا ہے لیکن زیادہ تر ایک ایسے آدمی کے طور پر جس کا سر ibis پرِندہ کا ہے (ایک مقدس پرندہ، حکمت، تحریر، جادو اور چاند کا دیوتا) جِوتحریری سامان پکڑے ہُوئے ہے۔ اسے تحریر کی ایجاد کرنے کا سہرا دیا جاتا ہے اور وہ دیوتاؤں کا ریکارڈ رکھنے والا تھا۔ وہ "وقت کا رب" اور "سالوں کا حساب کرنے والا" "Lord of Time" and "Reckoner of Years" کے نام سے جانا جاتا تھا کیونکہ اس نے وقت کے گزرنے کو نشان زد کیا اور الفاظ کے اپنے الہٰی علم کے طاقتور جادو کے ذریعے بادشاہ کو ایک طویل دورِ حکومت دیا تاکہ وہ زمین پر نظم و نسق برقرار رکھ سکے۔ وہ کتب خانوں اور کاتبوں کا سرپرست دیوتا تھا۔ اس کے بارے میں بتائی گئی ہر کہانی میں تھوتھ الہی دوست اور انسانیت کا محسن ہے جس نے تحریرکے تحفے کے ذریعے لوگوں کو سمجھ دی۔ وہ ایک کہانی میں نٹ کو پہلے پانچ دیوتاؤں کو جنم دینے کے لیے درکار پانچ دنوں کے لیے جوئے کے طور پر اور دوسری میں دیوتاؤں کے درمیان ثالثی کرنے اور پیغامات پہنچانے کے طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ بعد کی زندگی میں وہ اوسائرس کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور دل کے وزن کی رسم میں ہال آف ٹروتھ (Hall of Truth) میں ریکارڈ رکھتا ہے۔ اس کی ساتھی سیشات تھی، اس کی بیٹی یا اس کی بیوی، جو اس کی خاتون ہم منصب اور لائبریریوں اور کتابوں کی سرپرست دیوتا بھی تھی۔

ٹجینییٹ (Tjenenyet) بارویں ویں خاندان (1991-1802 قبل از مسیح) کی ایک حفاظتی دیوی جس کی پوجا غالباً پہلے سے کی جاتی تھی۔ وہ مونٹو دیوتا (god Montu) کی ساتھی تھی اور بنیادی طور پر تھیبس کے قریب ہرمونتھیس (آرمانٹ) {اپر مِصر کے قدیم تھیبزکے قریب ایک آثارِ قدیمہ کی جگہ} میں اس کی پوجا کی جاتی تھی۔

درختوں کی دیوی (Tree Goddesses)- متعدد مشہور مصری دیویوں کا تعلق درختوں سے تھا، خاص طور پر آئیسس، ہتھور اور نٹ کا (Isis, Hathor, and Nut)۔ مرد دیوتاؤں کو بعض اوقات کسی خاص درخت سے جوڑا جاتا تھا لیکن یہ صرف مخصوص افسانے یا تصویروں میں لگتا ہے۔ ہتھور مشہور طور پر سائکیمور کے درخت سے منسلک تھی اور اسے "لیڈی آف سائیکمور" (Lady of the Sycamore) کے نام سے جانا جاتا تھا لیکن آئسس بھی اس درخت سے منسلک تھی۔ ایک لکڑی کے تابوت میں لاش کو دفن کرنے کے رواج کے بارے میں سوچا جاتا تھا کہ ایسا کرنے سے میت واپس دیوی کے رحم میں آ جاتی تھی۔

ٹرائیڈس (Triads)- تین دیوتاؤں کا مجموعہ۔ عام طور پر اِسمیں باپ ماں اور اُنکا بچہ ہوتا تھا۔ دو سب سے زیادہ مشہور ٹرائیڈ تھے تھیبن (Theban) ٹرائیڈ آف امون، مٹ، اور کھونس Amun, Mut, and Khons اور ابیڈوس ٹرائیڈ (Abydos Triad) اوسائرس، آئیسس اور ہورس Osiris, Isis, and Horus۔ تاہم، دیگر ٹرائیڈز کی مثالیں موجود ہیں، جو اِس طرز کی نہیں ہیں جیسے کہ امون-را- پتا ٹرائیڈ (Amun-Ra-Ptah Triad) جہاں تینوں دیوتا ایک ہی آسمانی طاقت (سورج) کی نمائندگی کرتے تھے۔ ٹرائیڈز کو بعد کی زندگی کی تصویروں میں بھی دیکھا جاتا ہے جہاں مینڈھے، شیر اور گیدڑ کے سر والے دیوتاؤں کو ایک ساتھ اِکٹھے دِکھایا جاتا ہے۔

ٹو ٹو (Tutu) ایک حفاظتی دیوتا جسے "وہ جو دشمنوں کو فاصلے پر رکھتا ہے" He Who Keeps Enemies at a Distance کے نام سے جانا جاتا ہے، مصر کی تاریخ کے آخری حصے میں اس کی پوجا کی جاتی تھی۔ اس نے بدروحوں اور کالے جادو سے بچایا اور اسے آدمی کے سر، بڑے پروں اور دم کے لیے ایک سانپ کے ساتھ ایک دوڑتے ہوے شیر کے طور پر دکھایا جاتا تھا۔

U

اُت اُر (Uat-Ur) - بحیرہ روم کی شخصیت۔ حوالہ Wadj-Wer۔

یُوجائت Uajyt (Wadjet یا Uto) - Nekhbet کے ساتھ منسلک، زیریں مصر کی ایک حفاظتی دیوی جِسے ایک عورت کے سر کے ساتھ ایک سانپ کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ زیریں مصر سے آنے والی تصویروں میں وہ نخبیت کی بہن (sister of Nekhbet) وڈجیٹ کا ایک پہلو ہے۔

یونٹ (وینیٹ یا وینٹ {Unut (Wenet or Wenut))}- ایک حفاظتی دیوی جس کی ہرموپولس (Hermopolis مِصر کے بالائی حِصے میں دریائے نیل کے مغربی کِنارے پر واقع ایک قدیم شہر) میں پوجا کی جاتی تھی اور اسے "دی سوئفٹ ون" (The Swift One) کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اسے خرگوش کے سر والی عورت یا خرگوش کے سر کے ساتھ سانپ کے طور پر دکھایا گیا تھا اور اسے اکثر "خرگوش کی دیوی" (the rabbit goddess) کہا جاتا تھا۔ وہ دیوتا وینینو {god Wenenu معمولی مرد دیوتا} سے وابستہ تھی، جسے خرگوش کے سر والے آدمی کے طور پر دکھایا گیا تھا، جو اوسائرس یا کبھی را کا پہلو تھا۔ وہ بنیادی طور پر اپنی تصویروں والے تعویذوں سے جانی جاتی ہے۔

W

واجیٹ (Wadjet) - مِصر کے نِچلے حِصے کی سرپرست عظیم حفاظتی دیوی، مصری دیوتاوؐں کے گروہ کے قدیم ترین دیوتاوں میں سے ایک، کو مُحافظ کوبرا کے طور پر پیش کیا گیا اور یہی بادشاہ کا نشان (یوریئس) تھا۔ اسے اس کی جارحانہ شکل میں اجیت (Uajyt) کے نام سے بھی جانا جاتا تھا اور وہ اپنی بہن، نخبیت Nekhbet کے مُقابلے میں توازن قائم کرتی تھی۔ خاندانی سلطنتوں کے دور سے پہلے (تقریباؐ 6000-3150 قبل از مسیح) وڈجیٹ (Wadjet) کو ایک اہم دیوی کے طور پر پوجا جاتا تھا اور ابتدائی خاندانی دور (تقریباؐ 3150-2613 قبل از مسیح) تک وہ زیریں مصر کی اعلیٰ دیوی بن گئی جو اکثر Nekhbet کے مُقابلے میں نمائندگی کرتی تھی جو بالائی مصر کی علامت تھی۔ وہ را کی بیٹی تھی اور دیویوں میں سے ایک تھی جو را کی آنکھ کے بارے میں کہانیوں میں نمایاں تھی۔ تخلیق کے آغاز پر اسے را Ra نے اپنی آنکھ کے طور پر شو اور ٹیفنٹ کو دنیا کی تخلیق کے لیے بھیجا۔ اس نے پہلے پاپائرس کے پودے لگائے، نیل ڈیلٹا کے دلدل میں پاپائرس کے کھیتوں کو بچھایا، اور جب وہ سیٹ (Set) سے چھُپے ہوئے تھے تو وہاں Horus کی پرورش میں Isis کی مدد کی۔ اس کے لقبوں میں ویریٹ-ہیکاؤ (Weret-Hekau) ہے، جس کا مطلب ہے "جادو کی عظمت" (Great of Magic) اور اسے بدروحوں، بد قسمتی یا بھوتوں سے تحفظ کے لیے باقاعدگی سے پکارا جاتا تھا۔

ویج ور Wadj-Wer (Uat-Ur) - بحیرہ روم کو اگر شخصیت کے اعتبار سے جانا جائے تو اِسکا کا مطلب ہے "عظیم سبز"(The Great Green)۔ حالیہ تحقیق نے اس دیوتا کا روایتی نظریہ بدل دیا ہے اور اب اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ بحیرہ روم کے قریب ڈیلٹا کے علاقے کی جھیلوں، دلدلوں اور ساحلی یا چھوٹی جھیلوں کو اِس دیوتا کے ساتھ جوڑا گیا۔ ولکنسن (Wilkinson) کے نوٹس اِس بارے یہ اشارہ کرتے ہیں کہ یہ عِلاقہ جِسے "عظیم سبز" کا نام دیا گیا، اِسے پیدل عبور کیا گیا نہ کہ بذریعہ سمُندر ۔ اس کی پوجا قدیم بادشاہت (تقریباؐ 2613-2181 قبل از مسیح) میں کی جاتی تھی اور مصر کی بقیہ تاریخ میں خاص طور پر حفاظتی تعویذوں اور مقبرے کے نوشتہ جات کے ذریعے اس کا حوالہ دیا جاتا رہا ہے۔

وایسٹ Waset (Wosret) - تھیبس شہر کی ایک حفاظتی دیوی جس کے نام کا مطلب ہے "طاقتور خاتون" ۔ وہ اُس شہر کی شخصیت تھی جسے 'واسیٹ' بھی کہا جاتا تھا۔ وہ اصل میں ہتھور کا ایک پہلو تھی لیکن درمیانی سلطنت (تقریباؐ 2040-1782 قبل از مسیح) کے وقت تک اپنے الگ کردار اور نقش نگاری کے ساتھ ابھری۔ اسے ایک عورت کے طور پر دکھایا گیا ہے جس نے ایسا عصا پکڑا ہوا ہے جِسکے اُوپر کا حِصہ جانور کا سر اور آنکھ (ابدی زِندگی کو ظاہر کرنے والا نِشان) ہے اور اسے ربن (ribbons) سے مزین دکھایا گیا ہے لیکن اسے تھیبس کی فوجی طاقت کی نمائندگی کرنے والی کمان اور تیر اور کلہاڑی کے ساتھ بھی دکھایا گیا ہے۔

وینیگ (Weneg) - ایک حفاظتی دیوتا جس کا سب سے پہلے قدیم بادشاہی دور (تقریباؐ 2613-2181 قبل از مسیح) میں حوالہ دیا گیا جس نے آسمان کو تھام رکھا تھا اور آسمانوں اور زمین کے درمیان نظم و نسق برقرار رکھا تھا۔ وہ مات (ma'at) کے تصور اور مات دیوی سے گہرا تعلق رکھتا ہے جس نے ہم آہنگی کو ظاہر کیا اِسطرح کہ اس نے تنازعات میں دیوتاؤں کے درمیان ایک منصفانہ ثالث کے طور پر کام کیا۔

وینینو (Wenenu) - ایک حفاظتی دیوتا، اوسائرس کا پہلو یا کبھی را، انٹ (Unut) کا ساتھی۔ اسے خرگوش کے سر والے آدمی کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

ویپسیٹ (Wepset)- ایک حفاظتی دیوی جس کے نام کا مطلب ہے "وہ جلاتی ہے"She Who Burns جو اوسائرس کے دشمنوں کو تباہ کرتی ہے۔ اسے عام طور پر ایک سانپ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن بعد میں سینگوں کے ساتھ یوریئس (uraeus یعنی اُس مُحافظ کوبرا سے تھا جو شہنشاہی طاقت، کی عِلامت تھا یا قدیم مِصر کے زیریں عِلاقے سے تھا جہاں بادشاہ ایسا تاج پہنتے تھے جِس پر یہ نِشان ہوتا تھا) پہننے والی عورت کے طور پر جِس کے سر پر قرص آفتاب ہو۔ وہ کہانیوں میں را کی آنکھ سےظاہر ہوتی ہے اور وہ دور دیوی کی شکل (Distant Goddess motif) کی ایک ایسی شکل ہے جہاں را کی آنکھ دیوتا سے الگ ہو جاتی ہے اور تبدیل شُدہ حالت میں واپس آتی ہے ۔

ویپاویٹ Wepwawet (Wepiu یا Wepuaut) -مصر کے قدیم دیوتاؤں میں سے ایک، گیدڑ کے دیوتا کا قدیم عکس اور جو Anubis سے بھی پہلے تھا اور اِس سے مِلتا جلتا بھی تھا۔ اس کے نام کا مطلب ہے "راستہ کھولنے والا" (Opener of the Ways) اور اس کی تشریح جنگ میں بادشاہ کے لیے، بعد کی زندگی، اور پیدائش کے وقت راستہ کھولنے سے کی گئی ہے۔ اسے نرمر پیلیٹ میں دکھایا گیا ہے اور اس کا تعلق وڈجیٹ سے ہے۔ وہ آخر کار ہورس کے ساتھ قریب سے وابستہ ہو گیا اور بطور ویپاویٹ را (Wepwawet-Ra)، سورج دیوتا را کے ساتھ وابستہ ہو گیا۔ اسے گیدڑ کے طور پر دکھایا گیا ہے اور کبھی کبھی ایسا کہ اِس نے اسکارف پہنے ہوئے ہے اور اِس کے سامنے فالکن ہے۔

ویریتھیکو Werethekau (Weret-Hekau) - ایک اہم حفاظتی دیوی یا پھِر دُوسری دیویوں کی طرح جیسے کہ Isis جِن کے لئے مخصوص لقب اِستعمال کئے جاتے تھے۔ اس نام کا مطلب ہے "جادو کی عظمت" اور اس کا تعلق یوریئس سے تھا۔ Wadjet کو Weret-Hekau کے نام سے جانا جاتا ہے، جیسا کہ Isis ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس نام سے تحفظ کی ایک مخصوص دیوی کو بھی نامزد کیا گیا ہے جس کو مُحافظ سانپ کے طور پر دکھایا گیا ہے، حالانکہ یہ صرف اس کی جارحانہ شکل میں Wadjet ہو سکتا ہے۔

Y

یاہ - حوالہ آئیہ۔

یام (Yam) - سمندر کا فینیشین دیوتا (The Phoenician god) جس نے دنیا پر قابو پانے کے لیے بعل دیوتا سے جنگ کی۔ وہ تجارت کے ذریعے مصری دیوتاؤں کے گروہ میں داخل ہوا اور سیٹ کے ساتھ اپنی لڑائیوں کی کہانیوں کے ذریعے مصری افسانوں میں شامِل ہوا۔ وہ بِپھرے ہوئے سمندر کا مجسمہ تھا اور بہت خوفناک تھا۔ اس کے لیے کبھی کوئی مندر نہیں بنائے گئے تھے لیکن اس کا حوالہ کچھ مخطوطات میں ملتا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سمندری مسافروں کے لیے فکر مند تھا جو حفاظت کے لیے اس کے تصویری تعویذ پہنتے تھے۔

Z

زینینیٹ (Zenenet) - تھیبس کے قریب ہرمونتھیس شہر (جدید دور کے آرمانٹ Armant) میں آئیسس کا ایک اور نام۔

سوالات اور جوابات

مترجم کے بارے میں

Samuel Inayat
I began my professional career in July 1975 by joining a government service in scale 10 and continued till I retired in June 2013 in scale 17 after rendering 40 years unblemished service. Most of my service was as a Civil Servant.

مصنف کے بارے میں

Joshua J. Mark
ایک فری لانس لکھاری اورمارست کالج، نیو یارک کے سابقہ جزوقتی فلسفہ کے پروفیسر، جوشیا ج۔ مارک یونان اور جرمنی میں رہ چکے ہیں اور مصر کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔ انہوں نے کالج کی سطح پر تاریخ، ادب، تصنیف و تالیف اور فلسفی کی تعلیم دی ہے۔

اس کام کا حوالہ دیں

اے پی اے طرز

Mark, J. J. (2026, April 16). مِصری دیوتا - مُکمل فہرست. (S. Inayat, مترجم). World History Encyclopedia. https://www.worldhistory.org/trans/ur/2-885/

شکاگو طرز

Mark, Joshua J.. "مِصری دیوتا - مُکمل فہرست." تَرجَمۂ کَرن وول Samuel Inayat. World History Encyclopedia, April 16, 2026. https://www.worldhistory.org/trans/ur/2-885/.

ایم ایل اے اسٹائل

Mark, Joshua J.. "مِصری دیوتا - مُکمل فہرست." تَرجَمۂ کَرن وول Samuel Inayat. World History Encyclopedia, 16 Apr 2026, https://www.worldhistory.org/trans/ur/2-885/.

اشتہارات ہٹائیں