قدیم دنیا کے سات عجائبات سات متاثر کن ڈھانچے تھے جنہیں قدیم مصنفین نے مشہور سمجھ کر درج کیا جن میں دُوسروں کے عِلاوہ بازنطیم کے فیلو (Philo of Byzantium)، سائڈن کے اینٹیپیٹر (Antipater of Sidon)، ڈیوڈورس سیکولس (Diodorus Siculus)، ہیروڈوٹس (Herodotus)، اسٹرابو (Strabo)، اور سائرین کے کالیماکس (Callimachus of Cyrene) شامل ہیں. قرون وسطیٰ کے مورخ بیدے (Bede) اور دیگر مصنفین نے بھی اپنی اپنی فہرستیں مرتب کیں۔ سات قدیم عجائبات کی معیاری فہرست میں مندرجہ ذیل شامل ہیں:
- گیزا کا عظیم اہرام، مصر (The Great Pyramid of Giza, Egypt)
- بابل کے معلق باغات (The Hanging Gardens of Babylon)
- اولمپیا، یونان میں زیوس کا مجسمہ (The Statue of Zeus at Olympia, Greece)
- اِفسس (Ephesus) میں آرٹیمس کا مندر (The Temple of Artemis at Ephesus)
- ہیلیکارناسس میں مقبرہ (The Mausoleum at Halicarnassus)
- روڈز کے کولوسس (The Colossus of Rhodes)
- اسکندریہ، مصر کا لائٹ ہاؤس (The Lighthouse of Alexandria, Egypt)
ان سات عجائبات کی تعریف، سب سے پہلے بازنطیم کے فیلو (Philo of Byzantium تیسری صدی قبل مسیح) نے 225 قبل مسیح میں اپنی یونانی تحریر (themata for Hellenic sightseers) میں "چِزیں جِنکو دیکھا جائے" ("things to be seen") کی جبکہ آج کی دورِ جدید کی انگریزی میں مندرجہ ذیل فریز اِستعمال کی جا سکتی ہے (اُردو میں "ضرور دیکھیں" اور انگریزی میں "must-sees")۔ اِن سات عجائبات کے تعلق سے سائڈن کے فیلو اور اینٹیپیٹر نے اسکندریہ کے لائٹ ہاؤس (Lighthouse of Alexandria) کی بجائے بابل کی دیواروں کو فہرست میں شامل کیا جبکہ ڈیوڈورس سیکولس (Diodorus Siculus پہلی صدی قبل مسیح) نے اپنے ببلیوتھیکا Bibliotheca historica "تاریخی لائبریری" ("Historical Library") میں مندرجہ بالا سات عجائبات کو شامل کیا۔ ساتوں عجائبات ایک ہی وقت میں 60 سال سے کم عرصہ موجود رہے جِن میں سے آج صِرف عظیم اہرام مِصر موجود ہیں۔
قدیم دنیا کے سات عجائبات کی "مستند" فہرست کا مُتفقہ معیار نہیں ہے۔ فیلو کی فہرست کو پہلے کے ذرائع پر مبنی سمجھا جاتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اِس نے فہرست کو اپنے تجربے سے مرتب کیا ہو یا نہیں۔ وہ اسکندریہ کی لائبریری میں کام کرنے والا ایک انجینئر تھا، جہاں اس نے اپنا آن دی سیون ونڈرز (On the Seven Wonders) لکھا، جو اتنا مشہور تھا کہ مُکمل متن یا اِسکی ایک کاپی کو بازنطیم میں لایا گیا، اس کی نقل کی گئی، اور وہ کاپیاں دوسرے شہری دانشورانہ مراکز کو بھیجی گئیں۔ اس طرح یہ فہرست بیڈے کے زمانے (673-735 عیسوی) تک برقرار رہی جبکہ اُس وقت تک کوئی بھی عجوبہ قائم نہ رہ سکا سوائے اہرامِ مِصر کے۔ سات عجائبات کی ابتدا کے بارے میں علماء کی مُشترک رائے کے بارے میں علماء جان اور الزبتھ رومر (John and Elizabeth Romer) لکھتے ہیں:
بہت سے دُوسرے مشہور عجائبات کی طرح، دنیا کے سات عجائبات کہلانے والی اس فہرست کی اصل تو گم ہو گئی ہے تا ہم سات عجائبات کے حوالے کلاسیکی تحریروں میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر قدیم تحریریں مُصنفین کے حوالے سے مبہم ہیں اور اپنی تاریخوں میں متنازعہ ہیں جو صرف اس تاثر کو اجاگر کرتے ہیں کہ دنیا کے سات عجائبات اتنے ہی مشہور تھے اور شاید، اس وقت بہت کم پڑھے جاتے تھے، جتنا اب۔ محفوظ تاریخ کے تحریری شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ سات عجائبات کی فہرست کا پہلا مکمل جدید متن درحقیقت چار صدیوں سے بھی کم عرصہ قبل، اٹلی میں 1608 عیسوی میں مِِلا۔ اس تاریخ کے بعد بھی پچھلی صدی میں بڑے پیمانے پر طباعت اور جدید تعلیم کی آمد تک فہرست کے اِن سات عجائبات کو طے نہیں کیا گیا تھا۔ (ix-x)
بیڈے کی فہرست معیاری اور حتمی نہیں ہے کیونکہ اس میں کُچھ دیگر عجائبات بھی شامل ہیں جیسے کہ روم میں کیپیٹل اور ہیراکلیہ کا تھیٹر (Capitol at Rome and the Theater of Heraclea)۔ یہاں تک کہ قدیم مصنفین بھی اس بات پر متفق نہیں تھے کہ فہرست میں کون سے عجائبات ظاہر ہونے چاہئیں، لیکن ایسا نہیں لگتا کہ کسی نے آج تسلیم شدہ سات معیاروں کی عظمت سے انکار کیا ہو کیونکہ یہ سب بحیرہ روم کے آس پاس کے مقامات پر 2560-280 قبل مسیح کے درمیان تعمیر کئے گئے تھے۔
گیزا میں عظیم اہرام
گیزا میں عظیم اہرام 2589 اور 2566 قبل مسیح کے درمیان مصری فرعون خوفو (جسے یونانی میں 'Cheops' کے نام سے جانا جاتا تھا) کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا اور یہ تقریباً 4,000 سال تک دنیا کا سب سے اونچا انسان ساختہ ڈھانچہ تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی تکمیل ان کے جانشین خفرے (Khafre) نے تقریباؐ 2560 قبل مسیح میں 146 میٹر (479 فٹ) کی اونچائی اور 230 میٹر (754 فٹ) کی بنیاد کے ساتھ پتھر کے 20 لاکھ سے زیادہ بلاکس کا استعمال کر کے کی تھی۔ اہرام کے اندرونی حصے کی کھدائی صرف 18 ویں صدی کے آخر اور 19 ویں صدی کے اوائل میں شروع کی گئی تھی، اس لیے اندرونی حصے کی پیچیدگیاں جو جدید لوگوں کو اس قدر دلچسپ اور پُر تجسس بناتی ہیں، قدیم مصنفین اِس سے ناواقف تھے۔ یہ اپنی کامل ہم آہنگی اور مسلط اونچائی کے ساتھ خود ساختہ تھا جس نے قدیم زائرین کو متاثر کیا۔ جس وقت Diodorus لکھ رہا تھا، اہرام اُس وقت بھی کم از کم جزوی طور پر، سفید چونے کے پتھر کے چہرے کے ساتھ میان کیا گیا ہو گا جس کی وجہ سے یہ میلوں تک چمکتا رہا۔
بابل کے معلق باغات
بابل کے معلق باغات اگر وہ موجود تھے جیسا کہ بیان کیا گیا ہے، نبوکدنضر دوم (Nebuchadnezzar II) نے 605-562 قبل مسیح کے درمیان اپنی بیوی کیلئے تحفے کے طور پر تعمیر کیا تھا۔ انہیں Diodorus Siculus نے نباتات اور حیوانات کو پانی دینے والے خُود کار گملے قرار دیا ہے جو چڑھنے والی چھتوں (terraces) کی ایک سیریز کے ذریعے 23 میٹر (75 فٹ) سے زیادہ کی اونچائی تک پہنچتے ہیں۔ ڈیوڈورس نے لکھا کہ نبوکدنضر کی بیوی میڈیا سے تعلق رکھنے والی ایمٹیس (Amtis of Media) کو اپنے وطن کے پہاڑوں اور پھولوں کی کمی محسوس ہوئی اور اس لیے بادشاہ نے حکم دیا کہ بابل میں اس کے لیے ایک پہاڑ بنایا جائے۔
باغات کے وجود میں آنے کا شک اس حقیقت سے پیدا ہوتا ہے کہ بابل کی تاریخ میں ان کا کہیں ذکر نہیں ہے اور ہیروڈوٹس (تقریباؐ l. 484-425/413) نے بھی اپنی تفصیل میں ان کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ بہت سے دوسرے قدیم حقائق، اعداد و شمار، اور مقامات ہیں جِن کے مُطابق ہیروڈوٹس کی جانب سے اِن باغات کا ذِکر نہیں ہے۔ شک ہے کہ آیا اس نے واقعی بابل کا دورہ کیا تھا. ڈیوڈورس، فیلو، اور مورخ سٹرابو (Diodorus, Philo, and the historian Strabo) سبھی کا دعویٰ ہے کہ باغات موجود تھے، لیکن ہو سکتا ہے کہ انہوں نے بابل کو نینوہ (Nineveh) کے ساتھ الجھایا ہو جو اپنے باغات اور پارکوں کے لیے مشہور تھا۔ اگر یہ معلق باغات موجود تھے کہا جاتا ہے کہ وہ پہلی صدی عیسوی کے بعد کسی زلزلے کی وجہ سے تباہ ہو گئے تھے۔
اولمپیا میں زیوس کا مجسمہ
اولمپیا میں زیوس (Zeus) کا مجسمہ عظیم یونانی مجسمہ ساز فیڈیاس (Phidias) نے بنایا تھا، جسے 5ویں صدی قبل مسیح میں قدیم دنیا کے بہترین مجسمہ ساز کے طور پر جانا جاتا ہے۔ {(اس نے ایتھنز میں کنواری دیوی ایتھینا کا مُجسمہ بنانے میں بھی حِصہ ڈالا (Parthenon in Athens) جو کبھی مندر کے اندر کھڑا تھا}۔ زیوس کے مجسمے میں دیوتا زیوس کو اس کے تخت پر بیٹھے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ مجسمہ جو ہاتھی دانت کی جلد اور مضروب سونے کے لباس میں دِکھایا گیا تھا، 12 میٹر (40 فٹ) اونچا تھا اور اولمپیا میں زیوس کے مندر میں آنے والے عبادت گزاروں میں خوف پیدا کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ سیاحتی مصنف اور مؤرخ پوسینیاس Pausanias (110-180 عیسوی) اس مجسمے کو جسے باقاعدگی سے "دیوتا" کہتے تھے، اِس طرح اِسکی وضاحت کرتے ہیں:
سونے اور ہاتھی دانت سے بنا دیوتا ایک تخت پر بیٹھا ہے۔ اس کے سر پر زیتون کی ٹہنیوں کا ایک مالا ہے۔ اس کے دائیں ہاتھ میں ایک عصا ہے جو فاتح ہونے کی نِشانی ہے، جو سونے اور ہاتھی دانت سے بنا ہُوا ہے، اس نے ایک ربن پکڑا ہوا ہے اور اس کے سر پر چادر ہے۔ دیوتا کے بائیں ہاتھ میں ہر قسم کی قیمتی دھات سے مزین ایک عصا ہے۔ عصا پر جو پرندہ ہے وہ عقاب ہے۔ دیوتا کے جوتے سونے کے ہیں اور اِسی طرح اُسکا چوغہ بھی۔ چوغہ پر کڑھائی، جانوروں اور سفید کنول کے نمونے ہیں۔ تاج سونے اور زیورات سے آراستہ ہے، اس کے آبنوس ہاتھی دانت سے آراستہ ہیں۔ (یونان کی تفصیل، کتاب 5: I.xi، 1-2/رومر، 1)
اولمپین زیوس (Olympian Zeus) کے مجسمے کو ایسے ہی سمجھا جاتا تھا جیسے کہ وہ زِندہ ہے۔ تاہم، ہر کوئی اس عظیم کام سے حیران نہیں ہوا۔ جغرافیہ دان اور مؤرخ سٹرابو (تقریباؐ 64 قبل مسیح تا 24 عیسوی) تبصرہ کرتے ہیں:
ان مجسموں میں سے سب سے بڑا مُجسمہ زیوس کا تھا جو اتھینز سے تعقق رکھنے والے فیڈیاس کے بیٹے چارمائڈس (Charmides) نے ہاتھی دانت سے بنایا تھا۔ اگرچہ مندر بڑا تھا اور اِتنا بڑا تھا کہ تقریباً چھت کو چھو رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ کاریگر نے مناسب تناسب کا خیال نہیں رکھا تھا۔ اس طرح وہ یہ تاثر دیتا تھا کہ اگر وہ سیدھا کھڑا ہو تو وہ مندر کی چھت کو اُکھاڑ دے گا۔ (جغرافیہ، 8.3.30)
اولمپیا کا مندر مسیحت کے عروج اور کافرانہ رسومات کی وجہ سے اولمپک گیمز پر پابندی کے بعد تباہی کا شکار ہو گیا۔ اس مجسمے کو قسطنطنیہ لے جایا گیا جہاں بعد میں اسے 5ویں یا 6ویں صدی میں آگ یا زلزلے سے تباہ کر دیا گیا۔
اِفسس Ephesus میں آرٹیمس کا مندر
اِفسس Ephesus (Ephesos) میں آرٹیمس کا مندر جو ایشیا مائنر کی ایک یونانی کالونی میں تھا اِسے بنانے میں 120 سال لگے اور تباہ کرنے میں صرف ایک رات لگی۔ مندر 550 قبل مسیح میں مکمل ہوا، جو تقریباً 129 میٹر (425 فٹ) لمبا، تقریباً 69 میٹر (225 فٹ) چوڑا تھا، اِس میں 127 تقریباً 18 میٹر (60 فٹ) اونچے کالم تھے۔ ہیروڈوٹس کے مطابق، دوسرے مندروں کی طرح، لیڈیا کے امیر بادشاہ کروسیس (wealthy King Croesus of Lydia) جِس نے اِسکا تعمیراتی خرچ برداشت کیا اور خرچ میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، نے اِسے دیوی آرٹیمس کے لیے وقف کیا۔ مندر اِتنا شاندار تھا کہ اِسکے ہر تعریفی یا حیرانگی کے پہلو کو ایک ہی لہجے میں بیان گیا گیا تھا۔ ہر مورخ ایک دوسرے سے متفق ہے کہ یہ انسانی ڈھانچا اب تک کی سب سے حیرت انگیز تعمیرات میں سے ایک تھا۔
21 جولائی 356 قبل مسیح کو، ہیروسٹریٹس (Herostratus) نامی ایک شخص نے کہنے کے مُطابق دیرپا شہرت حاصل کرنے کے لیے مندر کو آگ لگا دی تا کہ وہ ہمیشہ کے لیے اتنی خوبصورت چیز کی تباہی سے وابستہ رہے۔ افسیوں (Ephesians) نے حکم دیا کہ اس کا نام کبھی بھی ذِکر نہ کیا جائے اور نہ ہی یاد رکھا جائے، لیکن سٹرابو (Strabo) نے اسے مندر کی تاریخ میں دلچسپی کا ایک نقطہ قرار دیا۔ جس رات مندر جل گیا، اسی رات سکندر اعظم پیدا ہوا اور بعد میں اس نے تباہ شدہ مندر کو دوبارہ تعمیر کرنے کی پیشکش کی، لیکن افسیوں نے اس کی سخاوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ سکندر کی موت کے بعد اسے عالیشان انداز میں، لیکن چھوٹے پیمانے پر، دوبارہ تعمیر کیا گیا لیکن گوتھوں (Goths) کے حملے سے تباہ ہو گیا۔ آخر کار اسے 401 عیسوی میں سینٹ جان کریسسٹوم (Saint John Chrysostom) کی قیادت میں ایک مسیحی ہجوم نے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔
ہیلیکارناسس میں مقبرہ
ہیلیکارناسس (Halicarnassus قدیم یونانی شہر) میں مقبرہ فارسی سٹراپ موسولس Persian Satrap Mausolus کا مقبرہ تھا، جِسے تقریباؐ 351 قبل مسیح جِسے موسولس نے Halicarnassus (جدید دور کے ترکی میں بودرم Bodrum کے نام سے ہے) کو اپنے دارالحکومت کے طور پر منتخب کیا۔ اُسنے اپنی پیاری بیوی آرٹیمیسیا (Artemisia) کیساتھ مِلکر ایک ایسا شہر بنانے کی کوشش کی کہ اُسکی خوبصورتی دُنیا میں کِسی بھی شہر سے بڑھ کر ہو۔ موسولس کی موت 353 قبل مسیح میں ہوئی، اور آرٹیمیسیا نے ایک ایسی آخری آرام گاہ بنانا چاہی جو اس عظیم بادشاہ کے لائق ہو۔ آرٹیمیسیا کا انتقال موسولس کے دو سال بعد ہوا، اور اس کی راکھ کو اس کے ساتھ مقبرے میں دفن کیا گیا۔ پلینی دی ایلڈر Pliny the Elder (l. 23-79 عیسوی) کے مُطابق کاریگروں نے اس کی موت کے بعد، ان کی سرپرستی کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے اور اِس غرض سے کہ مقبرے کی وجہ سے اُنہیں دیرپا شہرت حاصِل ہو، تعمیری کام کو جاری رکھا۔
مقبرہ 41 میٹر (135 فٹ) لمبا تھا اور اسے عمدہ سنگ تراشی / نقاشی سے آراستہ کیا گیا تھا۔ یہ زلزلوں کے ایک سلسلے میں تباہ ہو گیا اور سینکڑوں سالوں تک کھنڈرات کی صُورت میں رہا یہاں تک کہ 1494 عیسوی میں، اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا اور اِس دوران یہ مالٹا کے سینٹ جان کے مُحافظوں (Knights of St. John of Malta) کے اِستعمال میں رہا۔ Mausolus کی قبر انگریزی لفظ mausoleum سے ماخوذ ہے، معنی ہیں مقبرہ۔
روڈس کا کولوسس
روڈس کا کولوسس (Colossus دیو قامت مُجسمہ) دیوتا ہیلیوس (Helios) کا مجسمہ تھا جو 292 اور 280 قبل مسیح کے درمیان تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ روڈس کی مصروف بندرگاہ کا نظارہ کرتے ہُوئے 33 میٹر (110 فٹ میٹر) سے بھی زیادہ اونچا بنایا گیا تھا اور خیالی عکس بندی کے باوجود، یہ ایک مضبوط بُنیاد پر اپنی ٹانگوں پر کھڑا تھا (مثلاً ریاستہائے متحدہ امریکہ میں نیو یارک سٹی کے قریب بندرگاہ میں مجسمہ آزادی کی طرح، جو کہ کولوسس کے ماڈل پر بنایا گیا ہے)۔ یہ بندرگاہ پر ٹانگیں پھیلائے کھڑا نہیں تھا۔
یہ مجسمہ 304 قبل مسیح میں ڈیمیٹریس (Demetrius) کی حملہ آور فوج کی شکست کے بعد بنایا گیا تھا۔ ڈیمیٹریس نے اپنے محاصرے کا زیادہ تر سامان اور ہتھیار پیچھے چھوڑ دیے۔ اسے روڈینز (Rhodians) نے 300 ٹیلنٹ (تقریباً 360 ملین امریکی ڈالر) میں بیچا، جس رقم کو اُنہوں نے کولوسس کی تعمیر میں استعمال کیا۔ یہ مجسمہ 226 قبل مسیح میں زلزلے سے تباہ ہونے سے پہلے صرف 56 سال تک کھڑا رہا۔ سٹرابو کے مطابق، یہ 800 سالوں تک متاثر کن کھنڈرات میں پڑا رہا، اور اب بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز تھا۔ پلینی دی ایلڈر (Pliny the Elder) کا دعویٰ ہے کہ کولوسس (مُجسمہ) کی انگلیاں اس کے دور کے بیشتر مجسموں سے بڑی تھیں۔ مؤرخ تھیوفینس (Theophanes) کے مطابق، کانسی بھرے کھنڈرات کو بالآخر 654 کے لگ بھگ "ایڈیسا (Edessa) کے ایک یہودی تاجر" کو فروخت کر دیا گیا، جو انہیں پگھلانے کے لیے 900 اونٹوں پر لے گیا۔
اسکندریہ کا لائٹ ہاؤس
اسکندریہ کا لائٹ ہاؤس جو جزیرے فارس (Island of Pharos) پر بنایا گیا، قریباؐ 134 میٹر (440 فٹ) اونچا تھا اور اسے بطلیمی اول سوٹر (Ptolemy I Soter) نے بنایا تھا۔ تعمیر 280 قبل مسیح میں بطلیمی II فلاڈیلفس (Ptolemy II Philadelphus) کے دور حکومت میں مکمل ہوئی تھی۔ لائٹ ہاؤس، اہرام کے بعد، دنیا کا تیسرا سب سے اونچا انسانی ساختہ ڈھانچہ تھا اور اس کی روشنی، ایک آئینہ جو دن میں سورج کی شعاعوں اور رات کو آگ کو منعکس کرتا ہے، کیطرح سمندر سے 35 میل دور تک دیکھی جا سکتی تھی۔ یہ ڈھانچہ ایک مربع شکل بنیاد سے اُٹھائے ہُوئے، آٹھ کونی درمیانی شکل میں اور اُوپر سے گول بنایا گیا تھا۔ دیکھنے والوں نے اِسکی شان کے بارے میں بتایا کہ اس کی خوبصورتی کو بیان کرنے کے لیے الفاظ ناکافی تھے۔ یہ لائٹ ہاؤس 956 عیسوی میں زلزلے سے بری طرح تباہ ہوا، پھر 1303 اور 1323 عیسوی میں، اور 1480 عیسوی تک ختم ہو گیا۔ 15 ویں صدی کا قلعہ قیتبی (Fort Qaitbey) اب لائٹ ہاؤس کی جگہ پر کھڑا ہے، جسے اس کے کھنڈرات میں سے کچھ پتھروں سے بنایا گیا ہے۔
نتیجہ
قدیم دنیا کے سات عجائبات، کسی بھی طرح سے، اس وقت کے سب سے زیادہ متاثر کن ڈھانچے کی ایک جامع متفقہ فہرست نہیں تھے۔ بلکہ، فہرست بہت زیادہ جدید دور کے سیاحتی کتابچہ (pamphlet) کی طرح تھی یہ دیکھنے کیلئے کہ مسافروں کو کیا دیکھنا ہے۔ اوپر درج کئے گئے شاہکار روایتی طور پر قبول شدہ قدیم عجائبات ہیں، جیسا کہ سب سے پہلے ڈیوڈورس سیکولس (Diodorus Siculus) نے ترتیب دیا تھا، لیکن بازنطیم کے فیلو اور سائڈن کے اینٹیپیٹر (Philo of Byzantium and Antipater of Sidon) دونوں نے اسکندریہ کے لائٹ ہاؤس کو ایک عجوبہ کے طور پر نہ لیا، جبکہ بہت سے مصنفین ایسے تھے جو اس بات پر متفق نہیں تھے کہ "عجوبہ" کیا ہے اور کیا یہ صرف دلچسپی کا باعث تھا۔ مثال کے طور پر، ہیروڈوٹس نے ہوارہ میں مصری بھولبلیا (Egyptian Labyrinth at Hawara) کو گیزا کے اہرام سے کہیں زیادہ متاثر کن قرار دیا:
میں نے اسے ذاتی طور پر دیکھا ہے کہ اِس کیلئے وضاحت کی ضرورت نہیں۔ اگر کوئی یونانیوں کے تمام مضبوط قلعوں اور عوامی یادگاروں کو اکٹھا کرے تو ظاہر ہے کہ اس بھولبلیا کے مقابلے میں ان پر کم محنت اور پیسہ خرچ کیا گیا تھا- اور میں یہ اس حقیقت کے باوجود کہتا ہوں کہ افسس اور ساموس (Ephesus and Samos) کے مندر قابل ذکر تعمیرات ہیں۔ اہرام، بلاشبہ، ایک ایسی تعمیر ہے جِسکے لئے الفاظ نہیں ہیں اور ان میں سے ہر ایک، ایک بڑی یونانی عمارت کے برابر ہے، لیکن بھولبلیا اہرام سے بھی آگے نکل جاتی ہے۔ (تواریخ، II.148)






Reconstructions of the Seven Wonders of the Ancient World
اور نہ ہی سب اس بات پر متفق تھے کہ تعمیراتی عجائبات میں سے کون سا سب سے زیادہ شاندار تھا، جیسا کہ سائڈن کے اینٹیپیٹر کے اس حوالے میں، آرٹیمس کے مندر کی تعریف کی گئی ہے:
میں نے ناقابل تسخیر بابل کی دیواروں کو دیکھا ہے جِن پر رتھ دوڑ سکتے تھے، اور میں نے Alpheus کے کنارے زیوس کا مندر، معلق باغات، اور Helios کے Colossus، بلند اہراموں کے عظیم انسان ساختہ عجوبے، اور Mausolus کے بہت بڑے مقبرے کو دیکھا ہے۔ لیکن جب میں نے آرٹیمس کی عِبادت گاہ کو دیکھا، جِسکے بُلند گُنبد بادلوں کی طرف بڑھتے تھے، باقی اِسکے سایہ کی طرح تھے۔ سورج (دیوتا) نے بھی از خُود، اولمپس کے باہر کِسی کو بھی اِسکے برابر نہیں دیکھا۔
جیسا کہ نوٹ کیا گیا ہے، اینٹیپیٹر (Antipater) نے بابل کی دیواروں کی بجائے لائٹ ہاؤس کو فہرست میں شامِل گیا، اور سائرین کے کالیماچس {(Callimachus of Cyrene) 310 سے 240 قبل مسیح)} نے دوسروں کے عِلاوہ، بابل کے اشتر گیٹ کو سات عجائبات میں شامل کیا۔ Diodorus Siculus کی فہرست، تاہم، اب قدیم دنیا کے سات عجائبات کی سرکاری تعریف کے طور پر قبول کی گئی ہے۔ اگرچہ مختلف مصنفین نے "عجائبات" کے طور پر مختلف جگہوں کا انتخاب کیا، لیکن تمام فہرستیں اور تبصرے اس بات پر متفق ہیں کہ، ایک زمانے میں، انسانوں نے ایسے ڈھانچے بنائے جو دیوتاوؐں کا کام لگتا تھا اور، ایک بار نظر آنے کے بعد، انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا تھا۔


