دُوسری جنگِ عظیم سے اقوامِ مُتحِدہ کیسے وجود میں آئی

Mark Cartwright
بذریعہ ، ترجمہ بذریعہ Samuel Inayat
پر شائع ہوا
Translations 6
bookmark_addbookmark_addedمضمون محفوظ کریں printچھاپیں picture_as_pdfPDF

دُوسری جنگ عظیم (1939-45) کے اِختتام پر اتحادی ممالک نے، 1941 سے 1945 تک کئی اجلاسوں میں اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ زیادہ پُرامن اور تعاون پر مبنی، دنیا کی ضمانت کیسے دی جائے۔ عالمی تعاون کو فروغ دینے، آزاد تجارت کو آسان بنانے اور جنگ سے تباہ حال اور ترقی پذیر ممالک کو امداد دینے کے لیے، اقوام متحدہ کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، ورلڈ بینک اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف (International Court of Justice) جیسے نئے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تشکیل دیا گیا تھا۔ خوفناک عالمی تنازعہ کیبعد کم از کم یہ اُمید کی گئی تھی کہ یہ تنازعہ ایک دیرپا امن کے لیے کِسی حل کا سبب بنے گا۔

UN Headquarters, New York
اقوامِ مُتحِدہ کا ہیڈ کوارٹر، نیویارک Neptuul (CC BY-SA)

بین الاقوامی تعاون کا راستہ

پہلا حقیقی عالمی سیاسی ادارہ 'انجمنِ اقوام' (League of Nations) تھا، جو 'معاہدہ ورسائی' کے نتیجے میں وجود میں آیا جِس کے نتیجہ میں پہلی جنگِ عظیم (1914-18) کا باضابطہ اختتام ہُوا۔ امریکی صدر ووڈرو ولسن (1856-1924 Woodrow Wilson) کی سرپرستی میں چلنے والے ایک منصوبے کے تحت، عالمی امن اور فلاح و بہبود کے فروغ کے لیے جنوری 1920 میں اس لیگ کی بنیاد رکھی گئی۔ اس نے جنیوا میں واقع اپنے ہیڈ کوارٹر میں ایک ایسا بنیادی ڈھانچہ مہیا کیا جہاں 44 ممالک نے بین الاقوامی تنازعات کو پُرامن طریقے سے حل کرنے کا اِس طرح عہد کیا کہ کوئی مُلک کسی دوسرے مُلک پر حملہ کرے تو اسے دیگر تمام اراکین کی اجتماعی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا جو پہلے معاشی پابندیوں اور ضرورت پڑنے پر عسکری کارروائی کی صُورت میں ہو گی۔ اس تصور کو 'اجتماعی تحفظ' (collective security) کا نام دیا گیا۔ اس کے دیگر مقاصد میں معاشی اور سماجی معاملات، بالخصوص صحت اور مواصلات کے شعبوں میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا بھی شامل تھا۔

انجمنِ اقوام کے برعکس، ریاستہائے متحدہ کی سینیٹ نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی توثیق کی۔

بدقسمتی سے، انجمنِ اقوام (League of Nations) کئی موروثی کمزوریوں کا شکار تھی۔ شاید سب سے نمایاں بات یہ تھی کہ اِس میں امریکہ کی موجودگی نہ ہونے کا فیصلہ اِسلئے ہُوا کیونکہ جنگ کے بعد امریکی سیاست پر تنہائی پسندوں کا غلبہ تھا۔ لیگ متعدد براہ راست کئی مُشکلات کا حل فراہم کرنے میں ناکام رہی، خاص طور پر 1931 میں چین کے منچوریا پر جاپان کا قبضہ (occupation of Manchuria in China) اور 1935 میں اٹلی کا ابیسینیا پر حملہ (جدید ایتھوپیا Abyssinia modern Ethiopia)۔ لیگ کی کمزوریوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ اِس کے رُکن ممالک نے اِجتماعی سلامتی پر غور نہیں کیا بلکہ اپنی خارجہ پالیسی کے مقاصد کے حصول کیلئے اپنی توجہ علہدہ علہدہ عِلاقائی امن معادوں اور عسکری قوت اِستعمال کرنے کی طرف مرکوز کرنا شروع کر دی۔ 1939 تک عالمی معاملات میں لیگ انتہائی کمزور ہو چُکی تو تھی لیکن ایک خیال تھا کہ باوجود دنیا سب سے بڑے تنازعے سے پوری طرح گھری ہوئی تھی، یہ دوبارہ زندہ ہو جائے گا۔

League of Nations Cartoon
لیگ آف نیشنز کارٹون Leonard Raven-Hill (Public Domain)

امن کو کیسے یقینی بنایا جائے؟

دوسری جنگِ عظیم کے دوران اتحادیوں (خاص طور پر امریکہ، برطانیہ، فرانس اور سوویت یونین) کا یہ عام خیال تھا کہ آزاد تجارت، محصولات (ٹیرف) کا نہ ہونا اور معاشی و سیاسی استحکام، مُلکوں کے درمیان جنگ کے مقابلے میں امن کے امکانات کو کہیں زیادہ بڑھا دیتے ہیں۔ 1930 کی دہائی میں ممالک نے مالیاتی اور معاشی معاملات میں باہمی عدمِ تعاون کی وجہ سے یہ بات بڑے پیمانے پر محسوس کی گئی کہ دوسری جنگِ عظیم کی ایک وجہ یہی تھی۔

رُوزویلٹ اور چرچل نے سٹالن کو ایک ایسی مستقبل کی بین الاقوامی تنظیم میں شامل ہونے پر قائل کر لیا جس کا مقصد عالمی امن کو برقرار رکھنا تھا۔

صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ (1882-1945) طویل عرصے سے اس خیال کے حامی رہے تھے کہ لیگ آف نیشنز (League of Nations) کی جگہ ایک ایسی بین الاقوامی تنظیم قائم کی جائے جو دوسری جنگِ عظیم کے اختتام کے بعد عالمی امن کے فروغ میں کردار ادا کر سکے۔ اس تنظیم کا نام 'اقوامِ متحدہ' (United Nations) رکھا جانا تھا۔ روزویلٹ اس سمت میں پہلے ہی کچھ پیش قدمی کر چکے تھے جب انہوں نے 14 اگست 1941 کو برطانوی وزیرِ اعظم ونسٹن چرچل (1874-1965) کے ساتھ 'اٹلانٹک چارٹر' (Atlantic Charter) پر دستخط کیے۔ اس چارٹر میں یہ اصول طے کیا گیا تھا کہ تمام اقوام—خواہ وہ جنگ میں فاتح ہوں یا مفتوح—"حقِ خود ارادیت اور عالمی وسائل میں منصفانہ حصے کی حقدار ہیں" (بوٹنر، 647)؛ یعنی انہیں قدرتی وسائل اور تجارتی اِشتراکی مراکز (networks) تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔

اس کے بعد یکم جنوری 1942 کو اقوامِ متحدہ کا اعلامیہ (United Nations Declaration) سامنے آیا، جسے رُوزویلٹ اور چرچل نے مشترکہ طور پر جاری کیا۔ اس اعلامیے میں تعاون پر مبنی ایک بین الاقوامی تنظیم کے لیے 'اقوامِ متحدہ' (United Nations) کی اصطلاح کا پہلی بار سرکاری طور پر استعمال کیا گیا۔ اس اعلامیے پر امریکہ، برطانیہ، سوویت یونین اور چین کے علاوہ بعد ازاں 22 دیگر ممالک نے بھی دستخط کیے۔ اس کے بعد 30 اکتوبر 1943 کو ماسکو میں 'چار طاقتوں کے اعلامیے' (Four-Power Declaration) پر دستخط کیے گئے—جس میں دوبارہ امریکہ، برطانیہ، سوویت یونین اور چین شامل تھے—اور اس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد امن اور باہمی تعاون پر مبنی ایک بین الاقوامی تنظیم قائم کی جائے گی۔ نومبر-دسمبر 1943 کی تہران کانفرنس میں، جہاں روزویلٹ، سٹالن اور چرچل آپس میں ملے تھے، اس عزم اور جذبے کو مزید تقویت ملی۔

Roosevelt & Churchill, Casablanca Conference
رُوزویلٹ اور چرچل، کاسابلانکا کانفرنس Imperial War Museums (CC BY-NC-SA)

بریٹن ووڈز کانفرنس

بریٹن ووڈز کانفرنس (Bretton Woods Conference) امریکہ کی ریاست نیو ہیمپشائر کے مقام بریٹن ووڈز (Bretton Woods) میں 1 سے 22 جولائی 1944 تک منعقد ہوئی۔ اس اجلاس کو 'اقوامِ متحدہ کی مالیاتی اور زرِ مبادلہ سے متعلق کانفرنس' (United Nations Monetary and Financial Conference) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس میں 44 مُلکوں کے نمائندوں کی جانب سے کیے گئے فیصلے دُور رس اثرات کے حامل تھے۔ اس اجلاس کے انعقاد میں کلیدی کردار ادا کرنے والی دو اہم شخصیات میں برطانوی ماہرِ معاشیات اور حکومتی مشیر جان مینارڈ کینز (1883-1946 Maynard Keynes) اور اُس وقت کے امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری برائے خزانہ ہیری ڈیکسٹر وائٹ (1892-1948 Harry Dexter White) شریک تھے۔

بریٹن ووڈز میں جب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تو یہ اقوامِ مُتحِدہ کے قیام کا خیال حقیقت میں تیزی سے بدلنے کی جانب ایک اہم قدم تھا. آئی ایم ایف نے دسمبر 1945 میں اپنے کام کا آغاز کیا اور اس میں 22 ممالک شریک تھے۔ اِسے ایک مرکزی بینک کی طرز پر کام کرنے اور مخصوص ممالک کی بین الاقوامی ادائیگیوں میں عدم توازن کو دور کرنے میں مدد کے لیے تشکیل دیا گیا تھا یہ اُمید کرتے ہُوئے کہ اِن اقدام سے بین الاقوامی شرحِ تبادلہ میں استحکام ہو گا اور ٹیرف کی طرح کی تجارتی رکاوٹوں کی روک تھام ہو گئ۔

آئی ایم ایف کے ساتھ ساتھ، بریٹن ووڈز کے نمائندوں نے 'بین الاقوامی بینک برائے تعمیرِ نو و ترقی' (IBRD) بھی قائم کیا، جسے بعد میں 'عالمی بینک' (World Bank) کے نام سے جانا گیا۔ آئی بی آر ڈی کو 10 ارب ڈالر کا سرمایہ فراہم کیا گیا تاکہ وہ دوسری جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں اور درہم برہم حالات کے بعد مُختلف ممالک کی تعمیرِ نو میں مدد کا کام شروع کر سکے۔ آئی بی آر ڈی کا مقصد ترقی پذیر ممالک کے لیے امداد کا ذریعہ بننا بھی تھا۔

تمام ریاستیں بریٹن ووڈز میں کیے گئے فیصلوں سے متفق نہیں تھیں۔ سوویت یونین، ہیٹی، لائبیریا اور نیوزی لینڈ، سبھی نے اعلان کیا کہ وہ کانفرنس میں کیے گئے فیصلوں کے پابند نہیں ہوں گے۔

Churchill, Roosevelt, & Stalin in Yalta, 1945
1945 میں یالٹا کانفرس کے موقع پر چرچل، روزویلٹ اور سٹالن کی ایک یادگار تصویر Imperial War Musuems (CC BY-NC-SA)

ڈمبرٹن اوکس کانفرنس

بریٹن ووڈس کانفرنس (Bretton Woods Conference) کے بعد ہارورڈ یونیورسٹی میں ڈمبرٹن اوکس کانفرنس (Dumbarton Oaks Conference) منعقد ہوئی۔ 39 ممالک کے مندوبین مِل بیٹھے، پہلے 21 اگست سے 28 ستمبر 1944 تک اور پھر، یو ایس ایس آر (USSR delegation) کے وفد کی جگہ چین سے ایک وفد لیے جانے کے بعد، دوسرے مرحلے میں اجلاس 29 ستمبر سے 7 اکتوبر تک جاری رہا۔ کانفرنس میں رکھے گئے 12 ابواب پر مُشتمل متن (text) پر تفصیل سے بات ہُوئی کہ اقوام متحدہ کو کیسے چلایا جائے گا۔ یہ تنظیم سلامتی کونسل (ایگزیکٹیو اختیارات کے ساتھ) اور تمام رکن ممالک کی جنرل اسمبلی کے ساتھ مِلکر فیصلے کرے گی۔ بین الاقوامی عدالت انصاف کے قیام کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

یہ وعدہ کہ USSR، مستقبل میں اقوام متحدہ کی تنظیم میں شرکت کرے گا، 4-11 فروری 1945 کو ہونے والی یالٹا کانفرنس (Yalta Conference) میں پُختہ کیا گیا، جب روزویلٹ، چرچل اور سٹالن ایک بار پھر ملے۔ سٹالن جو ہچکچاہٹ میں تھے، کو فرانس کو اقوام متحدہ کی ایگزیکٹیو، سلامتی کونسل میں مستقل نشست کی اجازت دینے پر بھی آمادہ کیا گیا۔ ایک حقیقی بین الاقوامی تنظیم جس میں دنیا کے سب سے طاقتور ممالک شامل تھے اب ایک حقیقت پسندانہ امکان نظر آیا۔ تاہم، اب بھی کُچھ اِس پر شک کرتے تھے۔ بہت سے مذموم سفارت کار اور سیاست دان اس بات پر قائل رہے کہ طاقتور ممالک اقوام متحدہ کا حِصہ رہتے ہُوئے بھی اپنی خُود مُختاری پر آنچ نہیں آنے دیں گے اور عالمی سیاست، جیسا کہ ہمیشہ ہوتا رہا ہے، بعض طاقتور ممالک کے مفادات کے تحت چلتی رہے گی۔ وقت بتائے گا کہ آیا یہ نظریہ حد سے زیادہ مایوسی پر مبنی تھا یا نہیں۔

Signing the UN Charter
اقوامِ متحدہ کے چارٹر پر دستخط United Nations (CC BY-NC-ND)

اقوامِ متحدہ کا قیام

اقوامِ متحدہ کی تنظیم (UNO) بالآخر سان فرانسسکو (San Francisco) کانفرنس کے ذریعے حقیقت میں بدل گئی جسے باضابطہ طور پر 'اقوامِ متحدہ کانفرنس' کے نام سے جانا جاتا ہے جِسکا اجلاس 25 اپریل سے 26 جون 1945 تک جاری رہا۔ صدر روزویلٹ کا انتقال 12 اپریل کو ہو چکا تھا اور شبہ تھا کہ آیا یہ کانفرنس مزید جاری رہے گی؟۔ روزویلٹ کے نائب صدر، ہیری ایس ٹرومین (1884-1972 Harry S. Truman)، نئے صدر بنے۔ ٹرومین نے کانفرنس کے انعقاد کے لیے اپنی رضامندی ظاہر کر دی اور بعد میں وضاحت کی: "میں نے کہا کہ روزویلٹ یہی چاہتے تھے، اور اگر ہمیں امن برقرار رکھنا ہے تو اس کانفرنس کا ہونا ضروری ہے۔ یہ وہ پہلا فیصلہ تھا جو میں نے ریاستہائے متحدہ کے صدر کی حیثیت سے کیا" (موسکن، 9)۔ ٹرومین کی تقریر سے کانفرنس کا آغاز ہوا اور اس میں انہوں نے زور دے کر کہا: "ہم اب کسی بھی قوم، یا اقوام کے گروہ کو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ اپنے تنازعات کو بموں اور سنگینوں (bayonets) کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں" (موسکن، 146)۔

سان فرانسسکو (San Francisco) میں 50 ممالک نے شرکت کی اور 26 جون کو اقوامِ متحدہ کے سلامتی کے چارٹر (Security Charter) پر دستخط کیے۔ اس چارٹر نے ڈمبارٹن اوکس کانفرنس میں طے شدہ اصولوں کے مطابق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل قائم کی، جس میں پانچ مستقل ارکان شامل تھے: امریکہ، سوویت یونین، برطانیہ، چین اور فرانس؛ جِن میں سے ہر ایک کو 'ویٹو' (مسترد کرنے) کا حق حاصل تھا۔ شروع میں، سوویت یونین چاہتا تھا کہ ویٹو کے حق میں کسی مسئلے پر بحث کرنے سے انکار یا اسے سرے سے مسترد کرنا بھی شامل ہو، لیکن بعد میں اس مؤقف میں نرمی لائی گئی اور یہ طے پایا کہ ویٹو کا حق اُس وقت استعمال ہوگا جب سلامتی کونسل میں کسی مسئلے پر بحث ہو چکی ہو۔ کونسل میں باری باری (rotation basis) چھ دیگر ارکان بھی شامل ہوتے رہیں گے۔ چھوٹے ممالک 'بڑے پانچ' (Big Five) کے ویٹو کے حق سے زیادہ خوش نہیں تھے لیکن اس حق کے بغیر اس بات کا قوی امکان تھا کہ نہ تو امریکہ اور نہ ہی سوویت یونین اقوامِ متحدہ میں شامل ہوتے۔ تمام ممبر ممالک جنرل اسمبلی میں پانچ افراد پر مشتمل وفد بھیج سکتے تھے لیکن اُنہیں ایک ہی ووٹ کا حق حاصل تھا۔

Flag of the United Nations
اقوامِ متحدہ کا پرچم Wilfried Huss (Public Domain)

لیگ آف نیشنز کے برعکس، امریکی سینیٹ نے 2 کے مقابلے میں 89 ووٹوں سے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی توثیق کی۔ ٹرومین نے تبصرہ کیا کہ "سینیٹ کا یہ اقدام عالمی امن کے مقصد کو نمایاں طور پر آگے بڑھاتا ہے" (موسکن، 234)۔ اس دوران کچھ معاملات پر مزید غور و خوض کی ضرورت تھی، جن میں سب سے اہم فاشسٹ نواز ارجنٹائن (pro-fascist Argentina) کی رکنیت اور کمیونسٹ نواز پولینڈ کا باہر رہ جانا شامل تھا (اگرچہ پولینڈ نے چار ماہ بعد چارٹر پر دستخط کر دیے تھے)۔

اقوامِ متحدہ نے باقاعدہ طور پر اپنا کام 24 اکتوبر 1945 سے شروع کر دیا اور اس کا ہیڈ کوارٹر نیویارک میں قائم کیا گیا۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا پہلا اجلاس 10 جنوری 1946 کو منعقد ہوا، اور دو ہفتوں کے بعد اس کی پہلی قرارداد منظور کی گئی جس کا مقصد ایٹمی توانائی کے پُرامن استعمال کو یقینی بنانا اور ایٹمی ہتھیاروں کا خاتمہ تھا۔ 17 جنوری کو سلامتی کونسل کا پہلا اجلاس ہوا۔ اسی سال اپریل میں لیگ آف نیشنز کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا گیا اور اس کے معاہدے اور اثاثے اقوامِ متحدہ کو مُنتقل کر دیے گئے۔

اقوامِ مُتحیدہ کے رُکن ممالک کی تعداد اب بڑھ کر 193 ہو گئی ہے اور یہ چارٹر میں دئےگئے چار مقاصد کو فروغ دیتی ہے یعنی بین الاقوامی امن و سلامتی کا قیام، اقوام کے درمیان دوستانہ تعلقات کا فروغ، بین الاقوامی مسائل کے حل اور انسانی حقوق کے احترام کے لیے تعاون کو بڑھانا اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے تمام اقوام کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے والے مرکز کے طور پر کام کرنا۔ دُنیا بھر میں 24 اکتوبر کو اقوامِ مُتحِدہ کا دِن منایا جاتا ہے۔

کتابیات

ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا ایک ایمیزون ایسوسی ایٹ ہے اور اہل کتابوں کی خریداریوں پر کمیشن کماتا ہے۔

مترجم کے بارے میں

مصنف کے بارے میں

اس کام کا حوالہ دیں

اے پی اے طرز

Cartwright, M. (2026, September 21). دُوسری جنگِ عظیم سے اقوامِ مُتحِدہ کیسے وجود میں آئی. (S. Inayat, مترجم). World History Encyclopedia. https://www.worldhistory.org/trans/ur/2-2946/

شکاگو طرز

Cartwright, Mark. "دُوسری جنگِ عظیم سے اقوامِ مُتحِدہ کیسے وجود میں آئی." تَرجَمۂ کَرن وول Samuel Inayat. World History Encyclopedia, September 21, 2026. https://www.worldhistory.org/trans/ur/2-2946/.

ایم ایل اے اسٹائل

Cartwright, Mark. "دُوسری جنگِ عظیم سے اقوامِ مُتحِدہ کیسے وجود میں آئی." تَرجَمۂ کَرن وول Samuel Inayat. World History Encyclopedia, 21 Sep 2026, https://www.worldhistory.org/trans/ur/2-2946/.

اشتہارات ہٹائیں