پرتگالی سلطنت

تعریف

Mark Cartwright
کے ذریعہ، ترجمہ Zohaib Asif
19 July 2021 پر شائع ہوا
دوسری زبانوں میں دستیاب: انگریزی, چینی, فرانسیسی, اطالوی, پرتگالی, ہسپانوی
Portuguese Carrack (by Sebastião Lópes, Public Domain)
پرتگالی کیرک
Sebastião Lópes (Public Domain)

پرتگالی سلطنت کا ظہور پندروھیں صدی عیسوی میں ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے براعظم امریکہ سے جاپان کی سرزمین تک اس کا سورج پوری آب و تاب سے چمکتا تھا۔ مجموعی طور پر یہ سلطنت اکثر دفاعی قلعوں سے لیس ساحلی تجارتی مراکز کا ایک سلسلہ تھا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ بہت وسیع و عریض رقبوں پر محیط علاقائی نوآبادیاتی علاقہ جات بھی تھے جیسا کہ برازیل، انگولا اور موزمبیق۔ اس سلطنت کی تجارتی، سیاسی اور معاشرتی کاروائیوں اور سلسلوں پر سفید فام یورپیوں کا ہی غلبہ رہا، لیکن مختلف النسل اقوام کا ایک اہم اختلاط بھی تھا، اور کئی جگہوں پر، مخلوط نسب و حسب کے لوگ ہی ان نوآبادیات میں ارباب حل و عقد تھے اور کئی اہم عہدوں پر فائز تھے

پرتگالیوں نے اپنی سلطنت کا آغاز مغربی افریقہ کے سونے کے ذخائر تک رسائی حاصل کرنے کی کوششوں سے کیا اور بعد ازاں مشرقی دنیا (مشرقی ایشیا) کی مسالہ جات کی تجارتی کاروائیوں سے مستفید ہونے کی کوشش نے اس سلطنت کی بنیادوں کو مزید مضبوط کر دیا۔ اس کے علاوہ، یہ امید تھی کہ ایشیا میں ایسی عیسائی ریاستیں بھی ہوسکتی ہیں جو اسلامی خلافتوں کے ساتھ عیسائیت کی جاری صلیبی لڑائیوں میں مفید اتحادی بن سکتی ہیں۔ زراعت کے لیے نئی اراضی، نوآبادیاتی سربازوں اور مہم جو افراد کے لیے دولت اور جاہ و جلال کی تڑپ، اور مشنری (عیسائیت کی تبلیغ) امور ان عوامل میں پیش پیش ہیں جو ایک عظیم الشان سلطنت کے قیام کے محرکات ثابت ہوئے

کیرک بحری جہازوں (بڑے پیمانے پر تجارت کرنے والے بحری جہاز) نے ایک سمندری نیٹ ورک بنایا جس نے لزبن کو مغرب میں اپنی تمام کالونیوں اور مشرق میں ایستادو دے انڈیا('ریاست آف انڈیا') سے جوڑ دیا۔ راس امید کے مشرقی جانب ہندوستانی سلطنت کو اسی نام سے موسوم کیا جاتا تھا ۔ سونا، ہاتھی دانت، ریشم، مِنگ دور حکومت کی سرپرستی میں تیار وانے والی چینی کی مٹی کے ظروف اور مسالے جیسی اشیا کی تجارت پوری دنیا میں ہوتی تھی اور ان کی عالمی منڈی میں مانگ بہت زیادہ تھی۔ علاوہ ازیں، عالمی منڈی میں غلاموں کی تجارت بھی ایک بہت بڑے پیمانے پر کی جاتی تھی۔ ان غلاموں کو مغربی اور جنوبی افریقی علاقوں سے قید کر کے شمالی اوقیانوسی براعظم اور براعظم امریکہ کے کئی علاقوں میں زرعی کھیتوں اور میدانوں میں بطور مزدور فروخت کر دیا جاتا تھا اور ان سے جاں کسل کام لیا جاتا تھا

پرتگالی سلطنت کی اہم کالونیاں

استعمارِ پرتگیز جن اہم علاقوں پر مسلط رہا ان میں سے سب سے اہم درج ذیل ہیں:

  • مادئیرا (قیام ۱۴۲۰)
  • ازورس (۱۴۳۹)
  • کیپ وردے (۱۴۶۲)
  • ساؤ ٹومی اور پرنسپے (۱۴۸۶)
  • پرتگالی کوچین (۱۵۰۳)
  • پرتگالی موزمبیق (۱۵۰۶)
  • پرتگالی گوا (۱۵۱۰)
  • پرتگالی ملاکا (۱۵۱۱)
  • پرتگالی ہورموز (۱۵۱۵)
  • پرتگالی کولمبو (۱۵۱۸)
  • پرتگالی برازیل (۱۵۳۲)
  • پرتگالی مکاؤ (تقریباََ ۱۵۵۷)
  • پرتگالی ناگاساکی (تقریباََ ۱۵۷۱)
  • پرتگالی انگولا (۱۵۷۱)
  • شمالی اوقیانوسی جزائر

شمالی بحر اوقیانوس کے جزائر نے

پرتگالی بہت ماہر جہاز ران تھے اور اس لیے یہ بالکل قرین قیاس اور موزوں مفروضہ ہے کہ ان کے استعمار کا شکار ہونے والی سب سے اولین کالونیاں دور دراز جزائر پر مشتمل ہوں۔ نئے وسائل اور ایسی زمین کی تلاش میں جو پرتگال کے گندم کے قحط کو فرو کر سکے، ان پرتگالی بحری جہاز رانوں بحر اوقیانوس کے اس حصے کی جانب سفر شروع کیا جس جانب اب تک کسی انسان نے آنکھ دوڑائی یا قدم بڑھائے۔ پرتگالی بحری جہاز ران شہنشاہ ہنری دی نیویگیٹر (ہنری مانجھی: عرف انفینٹے ڈوم ہنریک، ۱۳۹۴ تا ۱۴۶۰) جیسے صاحب ثروت اور طاقتور حامیوں کی مالی حمایت اور دست گیری کی بدولت ان مہمات کو کامیابی سے ہم کنار کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان مہمات میں کامیابی حاصل کرنے میں کلیدی کردار جہازوں کا نادر ڈیزائن اور تکونے بادبان کا استعمال تھا (یہ بادبان ایک لمبے مستول پر ۴۵ درجے کے زاویے پر بندھا ہوتا تھا)

Portuguese Colonial Empire in the Age of Exploration
ازمنہ تحقیق و کھوج کیپرتگالی نوآبادیاتی سلطنت
Simeon Netchev (CC BY-NC-SA)

ان ماہر اور مشاق پرتگالیوں کے استعماری پنجوں میں سب سے پہلے پھنسنے والا آتش فشانی اور ہنوز غیر آباد بَحرُالجَزائرِ مادئیرا تھا۔ زرخیز آتش فشانی زمین، معتدل آب و ہوا اور خاطر خواہ بارش جیسے خوشگوار اور موزوں قدرتی ماحول اور عوامل کو بروئے کار لاتے ہوئے پرتگالیوں نے یہاں گندم، بیلیں اور گنے کی کاشت کی۔ مادئیرا کو جس انداز میں پرتگالیوں نے اپنے استعماری پنجوں میں جکڑا، وہ باقی استعماری قوتوں کے لیے ایک ماڈل کے طور پر اپنایا گیا۔ ۔ پرتگالی شاہی خاندان نے ان نوآبادیاتی جزائر کو تقسیم کیا اور امرا اور شرفا کی زرعی و تجارتی ترقیاتی میدانوں میں سرمایہ دارانہ سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ان جزائر کو ایک جاگیردارانہ نظام کے شاخسانے کے طور پر ان جزائر کو ’’کیپٹنسی‘‘ (عطیہ و ہدیہ) کے طور پر فارغ البال اور متمول طبقات کو مرحمت کر دیں۔ ان جزائر کی اصل ملکیت تو شاہی خاندان کے پاس ہی رہی لیکن ہر کپتان (ہدیہ وصول کرنے والا) کو چند ایک مالی اور عدالتی مراعات دی گئیں، اور اس کے بدلے میں، انہوں نے اپنے پیروکاروں کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے اپنی زمین کے چھوٹے چھوٹے حصے (سیمریاز) دے دیے، اور ان پیروکاروں پر لازم قرار دیا گیا کہ وہ ایک خاص دورانیے میں ان زمینوں پر کاشت کاری کے سلسلے شروع کریں گے۔ عموماََ یہ کیپٹنسی کئی خاندانوں میں وراثتی طور پر بھی چلنے لگی۔ آبادکاروں کے دلوں میں ایک بہتر زندگی کی امید روشن ہوئی، لیکن ان کے ساتھ ساتھ غیر مرغوب اور غیر مطبوع تارکین وطن بھی تھے۔ یہ تھے ڈیگراڈوس، اور یہ وہ لوگ تھے جنہیں پرتگالی قانون نافذ کرنے والی اداروں اور عام جنتا میں پسند نہیں کیا جاتا تھا، جیسا کہ مجرمین، گداگر، قحبائیں، یتیموں (ایتام)، یہودیوں اور مذہبی منکرین، وغیرہ جنہیں ان نوآبادیات میں منتقل کر دیا جاتا تھا۔

ساؤ تومے اور پرنسِپے اوقیانوس کے پانیوں پر سے ہونے والی غلاموں کی اس تجارت کا مرکز بن گیا جس کے نتیجے میں افریقی غلاموں کو یورپ اور براعظم امریکہ کے مختلف علاقوں میں فروخت کیا جاتا تھا.

مادئیرا ایک اور حوالے سے نوآبادیاتی نمونہ بن گیا اور وہ تھا گنے کی کاشت گاہیں تھیں، جو ۱۴۵۵ سے مادئیرا میں قائم کی جانی شروع کی گئی تھییں۔ معاشی و تجارتی حوالے سے اس فصل کی کامیابی اور اس کی کاشت میں درکار سخت محنت کے لیے ان پر کام کرنے کے لیے مغربی افریقہ سے غلاموں کو درآمد کیا گیا۔ کاشت کاری کا یہ نظام جس میں ان مغربی افریقی غلاموں جو جوتا جاتا تھا، نئی دنیا (براعظم شمالی و جنوبی امریکہ) میں معاشی میدان کا ایک اہم جزو بن گیا اور اس نے انسانی تاریخ کے اس گھناؤنے باب کا آغاز کیا جسے آج دنیا تجارت غلمان اوقیانوس (اٹلانٹک سلیو ٹریڈ: چونکہ یہ تجارت بحر اوقیانوس کے راست ہوتی تھی) کے نام سے جانتی ہے

مادئیرا کے بعد، اسی طرز پر چلتے ہوئے، ایزورس اور کیپ وردے جزائر کو نوآبادیات بنایا گیا۔یہ تمام کالونیاں ہندوستان اور امریکہ سے آنے والے بحری جہازوں کے لیے انمول بندرگاہیں بن گئیں۔ لیکن پرتگالیوں کو ان کالونیوں پر تسلط کے حوالے سے کئی ایک حریفوں سے بھی نبرد آزما ہونا پڑا۔ پرتگال اور اسپین کے درمیان کینری جزائر پر قبضے کے لیے کئی ایک جھڑپیں ہوتی رہیں ، لیکن ۱۴۷۹ تا ۱۴۸۰ کے الکاسُوَش ٹولیڈو معاہدے اور ۱۴۹۴ کے ٹورڈیسیاز معاہدے نے دنیا کے نقشے پر اثر و رسوخ کے دو دائرہ کار (ہسپانوی و پرتگالی) متعین کر دیے، دو ایسے دائرہ کار جو پوری دنیا پر محیط تھے۔ ان معاہدوں میں پایا جانے والے ابہام مستقبل میں اسپین اور پرتگال دونوں کے ایوانوں کو متزلزل کر دیا کیوں کہ اس سے مستقبل میں افریقہ میں پرتگال کے نئے علاقوں اور نئی زمینوں و قبائل کی دریافت کے حق پر اور جزائر کینیری سے پرے کی زمین، جنہیں بعد ازاں جزائر کیریبین اور جزائر امریکہ کے نام سے موسوم کیا گیا، پر اسپین کے حق پر دھاوا بول دیا۔

Ribeira Grande, Santiago, Cape Verde
ربئیرا گراندے، سانتیاگو، کیپ وردے
Caspar Schmalkalden (Public Domain)

شمالی بحر اوقیانوس کے جزائر نے پرتگالی شاہی خاندان کو شمالی افریقہ میں اسلامی ریاستوں سے دامن بچاتے ہوئے مغربی افریقہ کے سونے کے ذخائر تک براہ راست رسائی حاصل کرنے کی اجازت دے دی۔ ایک اہم رکاوٹ راس بوہاڈور پر واقع بندرگاہ تھی جو بحری جہازوں کو جنوب کی طرف جانے اور پھر واپس یورپ جانے سے روکتی تھی اور محصول وصول کرتی تھی۔۔ مشکل کی اس گھڑی میں پرتگال کا ساتھ دیا بحر اوقیانوس کے ان جزائر نے اور ان کے ساتھ ساتھ سمندری ہواؤں اور زیادہ سمندری دباؤ والے علاقہ جات کے استعمال کو مد نظر رکھتے ہوئے افریقی ساحل سے ممکنہ حد تک دور ایک سمندری راہداری و راستے کا تعین تھا۔ پرتگالی جہاز ران اب اعتماد کے ساتھ جنوب کی طرف سفر کر سکتے تھے، اور اس پیش قدمی کا حتمی نتیجہ ایشیا تک یورپی جہازوں کی رسائی کی صورت میں نکلا

مغربی افریقہ اور غلاموں کی تجارت

مغربی افریقہ میں واقع سونے اور نمک کے وسیع و عریض ذخائر سے تجارت کرنے کے خواہشمند و متمنی پرتگالیوں نے جنوبی ساحل (جدید غانا) کے ساتھ ساتھ کئی مضبوط تجارتی بستیاں قائم کر دیں جیسا کہ انہوں نے ۱۴۸۲ میں المینا کے مقام پر قائم کی۔ لیکن وبائی بیماریاں، مزدوروں کی کمی اور مقامی سرداروں کی جانب سے غلاموں کی برآمد کے حوالے سے ہچکچاہٹ نے پرتگالیوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ابتدا میں یہاں کے انگور کھٹے ہی معلوم ہونگے اور یہاں منافع کے مواقع بہت کم اور محدود ہیں۔ افریقی سربراہان اسلحے کی تجارت کے خواہشمند تھے، لیکن پرتگالی کبھی اس پر رضامند نہیں تھے۔ مغربی افریقہ کے جنوبی ساحل پر واقع غیر آباد جزائر ساؤ ٹومے اور پرنسپے (جو ۱۴۸۶ میں نوآبادیاتی ایجنڈے کا شکار ہوئے تھے) پر توجہ مرکوز کرنے والی ایک زیادہ کامیاب حکمت عملی پرتگالیوں کو بہت بھائی۔ یہ دو جزائر تجارت غلمان میں بہت زیادہ حد تک ملوث ہو گئے اور افریقہ میں بھی شمالی اوقیانوسی جزائر کے مانند کیپٹنسی ماڈل اپنایا گیا

ان جزائر پر آباد کاروں کو مغربی افریقہ میں مختلف قبائل کے ساتھ تجارت کرنے کی اجازت تھی، اور وہ چند دہائیوں پہلے کی گئی کوششوں سے زیادہ کامیاب ثابت ہوئیں۔ براعظم افریقہ میں پرتگالی تجارتی بستیاں جنوب میں لوانڈا (جدید انگولا میں) تک قائم کی گئی تھیں تاکہ اچھی طرح سے منظم افریقی تجارت سے نفع اٹھایا جا سکے جس کے ذریعے سامان اندرون و وسطی افریقہ سے وِشال ٹھاٹھیں مارتے ہوئے دریاؤں (جیسا کہ گیمبیا اور سینیگال) کی موجوں کے ساتھ افریقی ساحل تک جاتا تھا۔ ہتھیائے گئے سامان میں سونا، ہاتھی دانت، کالی مرچ، موم، ربڑ، اور صبغئی لکڑیاں شامل تھے۔ کانگو اور بینن کی شاہی ریاستوں سے غلاموں اور کنیزوں کو حاصل کیا گیا اور ان ریاستوں کے حکمران سوتی کپڑے، آئینہ، چاقو اور شیشے کی موتیوں جیسے یورپی تجارتی سامان کے شوقین تھے۔ پورے افریقہ سے ہتھیائے اور خریدے گئے غلاموں اور کنیزوں کو ان جزائر پر اکٹھا کیا جاتا اور پھر انہیں ان جہازوں پر ’’لاد‘‘ دیا جاتا جو انسانی تجارت کے لیے مخصوص تھے اور ان جزائر پر پہلے سے ہی لنگر انداز ہوتے تھے۔ ان بحری جہازوں پر لادے گئے غلاموں میں سے ہر پانچ میں سے ایک کی موت تو ان جہازون پر ہی پکی تھی اور اکثر باقی ماندہ چار میں سے دو کی ارواح ان کی ابتدائی قید کے واقعہ سے لے کر ان کی اختتامی منزل کے درمیانی فاصلے میں پرلوک سدھار جاتیں۔ بحر اوقیانوس کے پانیوں پر سے غلاموں کی تجارت انیوسری صدی کے وسط میں اپنے اختتام کو پہنچ گئی ، لیکن اس کے بعد بھی، ۱۹۰۸ میں نافذ کیے گئے امتناعی قوانین تک غلاموں کو ساؤ ٹومے اور پرنسپے میں درآمد کیا جاتا رہا۔ پھر غلاموں کی جگہ افریقی مزدوروں نے لے لی جنہیں ایک خاص عرصے کے دورانیے کے بعد واپس افریقہ بھیجنا پڑتا تھا۔ لیکن ان کی زندگی کے حالات ان سے کچھ کم ہی مختلف تھے جو بطور غلام ان کے پیشروؤں نے برداشت کیے تھے۔

Colonial Sugar Cane Manufacturing
نوآبادیاتی دنوں میں گنے کی تیاری کا ایک منظر
Unknown Artist (Public Domain)

مغربی افریقہ میں پرتگالیوں کی جانب سے علاقوں اور رقبے کو اپنے زیر تسلط لانے کی کوشش نہیں کی گئی کیونکہ تجارت، جو کہ ان کا بنیادی مقصد تھا، اپنے عروج پر تھی اور روز بروز فروغ پا رہی تھی اور یورپیوں کے پاس افریقہ میں زور زبردستی علاقے فتح کرنے کے فوجی وسائل بھی نہیں تھے۔ کچھ بستیوں کو قلعہ بند کیا گیا تھا، لیکن یہ عام طور پر مقامی افریقی قبائلی سردار کی اجازت سے کیا جاتا تھا۔ یورپی اور دوبارہ آباد ہونے والے افریقیوں نے کیپ وردے اور ان سے ملحق جزائر پر شادیاں بھی کیں، بچے بھی جنے اور ان شادیوں کے نتیجے میں ایک نیم افریقی نیم پرتگالی ثقافت کا ڈول ڈالا جس کا افریقی مذہبی اور فنی اثر و رسوخ مضبوط تھا۔ اکثر یہی آزاد مخلوط النسل کیپ ورڈے کے رہائشی (مُلاٹو) ہی تھے جنہوں نے افریقہ کے ساحل پر تجارتی بستوں کی بنا ڈالی

افریقی سرداروں کا صفایا کرنے اور براہ راست اندرون اور وسطی افریقہ سے غلاموں کو حاصل کرنے کے لیے اقدامات بھی کیے گئے، لیکن اس پالیسی نے کانگو کی شاہی ریاست کے ساتھ تعلقات کو بہت حد تک پیچیدہ کر دیا۔ دونوں فریقین ایک دوسرے کو خشمگیں نگاہوں سے دیکھنے لگے۔ عیسائی مشنریوں (مبلغین) کے خلاف ردعمل کے بعد صورت حال مزید بگڑ گئی کیونکہ روایتی ثقافتی سرگرمیاں اور قبائلی وفاداریاں کا شیرازہ بکھر گیا۔ یورپیوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ ساحل سے نیچے انڈونگو کے علاقے میں منتقل ہو جائیں، جہاں ان کی جا بجا مداخلت نے ایک ایسے علاقے میں جنگوں کا ایک طویل اور خونخوار سلسلہ شروع کر دیا جو جلد ہی پرتگالی انگولا کے نام سے دنیا کے نقشے پر نمودار ہونا تھا۔

مشرقی افریقہ

۱۴۹۸ میں جب واسکو ڈے گاما (دور حیات ۱۴۶۹ تا ۱۵۲۴) راس امید کے گرد چکر لگا کر بحر ہند میں داخل ہوا تو اس پیش قدمی نے پرتگالیوں کو افریقیوں، ہندوستانیوں اور اہل عرب پر مشتمل ایک بہت ہی وسیع پیمانے پرپھیلی ہوئی تجارتی کڑی کا ایک حصہ بنا دیا۔ یہ کڑی عرصہ ددراز سے یہی موجود تھی، لیکن جب پرتگالی اس کڑی کا حصے بنے، یہ اور زیادہ مضبوط ہو گئی اور اس سلسلے کی تجارت کو بہت فروغ حاصل ہوا۔ باقیوں سے بہتر بحری جہازوں اور توپوں کو استعمال کرتے ہوئے پرتگالیوں نے حریف ممالک کے بحری بیڑوں کو نیست و نابود کر دیا، ان کے عملے کو گرفتار کر کے موت کے گھات اتار دیا جاتا رہا اور ان کے ساز و سامان کو غصب کر لیا جاتا رہا۔ اور طُرہ یہ کہ یہ تاجر اکثر مسلمان ہوتے تھے، اور ان کا مسلمان ہونا صلیبی جنگوں میں ہونے والی ہزیمت اور ہرزہ سرائی کو سر پر سوار کیے ہوئے یورپیوں کے لیے جلتی پر تیل کا کام کرتا تھا۔

سواحلی ساحل پر موجود آزاد اور خودمختار تجارتی شہروں اور افریقہ کے جنوبی حصے میں مُٹاپا کی شاہی سلطنت جو کہ جنوبی وسطی افریقہ( موجودہ زمبابوے/زامبیا) میں موجود تھی، پر پرتگالی حملوں سے انہیں کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا کیونکہ ان حملوں سے تاجر صرف شمال کی طرف ہجرت کر گئے یا ان سے بچ نکلے۔ جب پرتگالیوں نے مالندی، ممباسا، پیمبا، سوفالہ اور کلوا جیسے علاقوں پر قبضہ کر لیا اور انہیں قلعہ بند کر لیا (ان کے گرد چار دیواری کھڑی کر دی)، تو انہوں نے محسوس کیا کہ وہ ان شہری ریاستوں کے تجارتی شراکت داروں کو پہلے ہی کھو چکے ہیں۔ پھر خلیج فارس کے عمانی عرب یہاں پہنچے۔ بحیرہ احمر کے تجارتی راستوں پر اپنے کنٹرول کر برقرار رکھنے کے لیے اور پرانے تجارتی نیٹ ورکس کو دوبارہ قائم کرنے کی خواہش کو دل میں لیے، یہ عمانی سواحلی ساحل پر وارد ہوئے اور ۱۶۹۸ میں پرتگالی ممباسا سمیت کئی شہروں پر قبضہ کر لیا۔ مشرقی افریقہ میں کامیابی کے فقدان نے بالآخر پرتگالیوں کو افریقہ کے جنوب میں موجود موزمبیق جانے پر مجبور کر دیا، لیکن وہ افریقہ سے زیادہ دنیا کے ایک نئے دریافت شدہ علاقے، ہندوستان، جس کی زرخیز اور دولت سے مالامال زمین پوری دنیا کو اپنے سحر میں پہلے ہی مبتلا کیے ہوئے تھی، کی چکا چاندنی کی جانب زیادہ مائل تھے

Traditional Dhow Sailing Vessel
روایتی دھاوٴجہاز (بحری تجارت میں استعمال ہونے والا مثلث نُما بادبانوں والا عربی جہاز)
Alessandro Capurso (CC BY-NC-ND)

ہندوستان اور اس کے مسالہ جات

واسکو ڈی گاما کے بنیادی مقاصد میں سے ایک ایشیا تک پہنچنے کے لیے ایک سمندری راستہ تلاش کرنا تھا تاکہ پرتگال کو مسالوں کی منافع بخش تجارت تک براہ راست رسائی حاصل ہو سکے۔ کالی مرچ، ادرک، لونگ، جائفل اور دار چینی جیسے مسالوں کی انگلینڈ سے لے کر چین تک کے بازاروں اور منڈیوں میں قیمتیں آسمانوں کو چھو رہی تھیں۔ جب وہ ہندوستان کے مالابار ساحل پر پہنچا تو سمندری بحری جہاز کو ایک ان دیکھی سطح پر تجارتی کاروائیاں ہوتی نظر آئیں اور وہ اور اس کا عملہ ہکا بکا رہا گیا۔ کالی کٹ شہر (کوزی کوڈ) پرتگالیوں کے لیے غیر دوستانہ اور مخاصمانہ ثابت ہوا، لیکن کالی کٹ کی ناکامی نے انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور نہ کیا، اور کالی کٹ کا عظیم حریف کوچی انہیں زیادہ امید افزا نظر آیا۔ مقامی حکمران کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا، اور ایک 1503 میں ایک قلعہ تعمیر کیا گیا، اور پرتگالی کچھ بڑا کرنے کے لیے وہاں آباد ہو گئے۔ بدقسمتی سے، ان کے سامنے ایک چٹانی مسئلہ تھا جو ان کی راہ میں روڑے اٹکا رہا تھا اور وہ یہ تھا کہ مقامی سطح پر بہت کم لوگ ایسے تھے جو کسی بھی قسم کے یورپی سامان میں دلچسپی رکھتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے وہی حکمت عملی اپنائی جو سواحلی ساحل اپنائی تھی اور وہ کیا تھی؟؟ اعلیٰ قسم کے جنگی بحری جہازوں اور توپوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بحر ہند کے تجارتی نیٹ ورک کو طاقت کے ذریعے اپنے قبضے میں لینے اور مسالوں کی تجارت پر اجارہ داری قائم کرنا۔ دیگر ساحلی شہروں پر یا تو قبضہ کر لیا گیا یا نئے ساحلی شہرر قائم کیے گئے، خاص طور پر گوا جس نے ۱۵۳۰ میں ایسٹاڈو دا انڈیا کے دارالحکومت کے طور پر کوچین کی جگہ لے لی۔

گوا میں ہی ہندوستان کا پرتگالی وائسرائے مقیم تھا، اور وہ ہندوستان میں پرتگالی طاقت کا سرچشمہ تھا اور وائسرائے کا یہ عہدہ تجارت کو کنٹرول کرنے کے بنیادی مقصد کے ساتھ قائم گیا تھا۔ وائسرائے پرتگالی ہندوستان کا سِوِل اور فوجی گورنر تھا اور صرف پرتگال کے بادشاہ کو جوابدہ تھا۔ لزبن میں، کنسلہو الٹرامرینو (مشیرِبالا بحر) کا ادارہ بادشاہ کو بیرون ملک مقیم کالونیوں کے معاملات پر مشورہ دیا کرتا تھا، جب کہ کاسا دا انڈیا (بیت ہندوستان) ایک شاہی ادارہ تھا جو ایشیا کے ساتھ تمام مواصلات اور تجارت کی نگرانی کرتا تھا۔

گوا اور دیگر کالونیوں میں، کامارا نامی ایک ادارہ قائم کیا جاتا جو ایک طرح کی کونسل تھی جس کا بنیادی فرض ٹیکس جیسے مقامی مسائل پر فیصلہ کرنا ہوتا تھا۔ مذہبی امور کی قیادت ایک آرچ بشپ یا بشپ کرتے تھے، اور چرچ، خانقاہیں، اصمعہ (راہب خانے) اور ہسپتال تمام بڑے مذہبی احکامات لیکن خاص طور پر جیسوئٹ سوسائٹی (یسوعی سوسائٹٰی) کے ذریعے قائم کیے گئے تھے۔ مسریکوردیا (انجمن راحمین) ادارے کی شاخوں نے غریبوں کو ضروری سماجی بہبود کی خدمات پیش کیں۔ قانونی معاملات گوا میں ایک ہائی کورٹ اور ہر کالونی میں مقامی عدالتوں کی ذمہ داری تھی۔ کپتان کے عہدے پر مامور ایک فوجی مقامی فوج کی قیادت کرتا تھا، جو عام طور پر ایک قلعے میں مقیم ہوتی تھی، اور اسی طرح کا ایک اور ادارہ شاہی تجارت اور دیگر اقسام کی تجارت سے منافع بخش محصول اخذ کرنے کا ذمہ دار تھا۔ یہ وہ نوآبادیاتی ماڈل تھا جو زیادہ تر کالونیوں میں لاگو ہوتا تھا۔

Cathedral of Santa Caterina, Goa
کلِیسیاۓ اُسقفِ سانتا کاترینا، گوا
Ondřej Žváček (CC BY-SA)

پرتگالیوں نے مسالوں کی تجارت پر ایشیا اور یورپ کے مابین اور درونِ ایشیا ہی اجارہ داری قائم کرنے کو اپنا بنیادی نصب العین بنایا۔ سمندروں میں بحری حرکات اب پرتگالی بیڑوں کی نظروں کے تلے ہوتی تھی۔ بغیر لائسنس کے تاجروں کو گرفتار یا پھانسی دی جاتی تھی اور ان کا سامان ضبط کر لیا جاتا تھا۔ بعض بندرگاہوں پر پابندیاں عائد تھیں، بحری جہازوں کو پرتگال سے جاری کردہ پاسپورٹ (کارتاز) اپنے ہمراہ رکھنا پڑتا تھا اور اکثر ان جہاز ان پرتگالی محافظ دستوں کی حفاظت میں سفر کرنے والے قافلوں کے ہمراہ سفر کرنے پر میں سفر کرنے پر پابند تھے۔ بندرگاہوں پر کسٹم ڈیوٹی (محصول) عائد کی جاتی تھی، اور یہ محصول مشرقی دنیا میں پوری پرتگالی آمدنی کا تقریباً ۶۰ فیصد بنتے تھے۔ اس کے باوجود، بہت سے تاجروں نے یورپیوں کو اپنے اور اپنی تجارتی سرگرمیوں کے قریب نہ پھٹکنے دیا، کچھ شہروں نے یورپیوں کو مسلح مزاحمت کی شکل میں ناکوں چنے چبوائے، اور پرتگالی سنلطنت اس قدر بسیط و عریض ہوتی جا رہی تھی کہ پرتگالیوں کے پاس اتنی قلیل فوج تھی ہی نہیں کہ وہ ایشیا کی اتنی وسیع تجارت کے ایک چھوٹے سے حصہ کو بھی کنٹرول کر سکیں۔ جوں جوں پرتگالی سلطنت پھیلتی گئی اور انتظامی طور پر پختہ ہوتی گئی، ان عملی تحفظات نے پرتگالیوں کو تجارتی اجارہ داریوں کے لیے خبط کو فرو کرنے پر مجبور کر دیا۔

مشرق بعید

تجارت کو کنٹرول کرنے کی ایک اور پرتگالی حکمت عملی قیمتی مسالوں کا ذریعہ تلاش کرنا تھی۔ بہت سے مسالے انڈونیشیا کے ایک چھوٹے مجموعہ الجزائر جنہیں، اسپائس جزائر/ مسالوں والے جزائر (مالوُکوُ جزائر یا مولوکاس) سے دنیا میں بھیجے جاتے تھے۔ ان جزائر سے زیادہ تر مسالے جزیرہ نما مالے کے جنوب مغربی ساحل پر ملاکا (میلاکا) بھیجے جاتے تھے جو بحر ہند سے جنوبی بحیرہ چین کی طرف جانے والی آبنائے مالائی کو کنٹرول کرتے تھے۔ الفونسو ڈی البَقَرقی (۱۴۵۳ تا ۱۵۱۵) کی قیادت میں ایک پرتگالی بحری بیڑے نے ۱۵۱۱ میں ملاکا پر قبضہ کر لیا، اور چندن کی لکڑی ۱۵۱۲ سے تیمور (موجودہ مشرقی تیمور) پر ان کی غیر رسمی بستیوں سے حاصل کی گئی۔

پرتگالی منافع بخش چینی ریشم کی منڈی تک رسائی کے خواہشمند تھے اور اسی لیے پرتگالی مکاؤ گوانگزو (کینٹن) کے قریب جنوبی چین میں دریائے پرل ڈیلٹا (دوشاخہ) کے ایک جزیرہ نما علاقے پر قائم کیا گیا۔ اسی طرح جاپان کے کیوشو جزیرے کے شمال مغربی ساحل پر پرتگالی ناگاساکی کی کالونی کی بنیاد تقریباََ ۱۵۷۱ میں رکھی گئی جس سے پرپتگالیوں کو اس ملک کے تجارتی سامان تک رسائی فراہم کی گئی۔ اس تجارتی سامان میں سب سے اہم چاندی تھی۔ تجارت کے لیے سامان سے لدے، پرتگالی بحری جہاز باقاعدگی سے لزبن، گوا، ملاکا، مکاؤ اور ان کی سب سے مشرقی کالونی ناگاساکی کے درمیان میں نقل و حمل کرتے رہتے تھے۔ جاپانی حکومت نے عیسائیت کے پھیلاؤ کے خلاف تنہائی اور ردعمل کی مستقل پالیسی کے تحت ۱۶۳۹ میں تمام غیر ملکیوں کو سرزمین سے نکال دیا، اور اس لیے پرتگالیوں کو ناگاساکی ترک کرنا پڑا۔

Portuguese Traders by Japanese Painters
جاپانی مصورین کی جانب سے پرتگالی تاجر کی منظر کشی
Unknown Artist (Public Domain)

برازیل

برازیل کو پرتگالیوں نے ۱۵۰۰ میں 'دریافت' کیا تھا، اور یہ ان کی تمام کالونیوں میں سب سے اہم ترین علاقہ تھا۔ برازیل قدرتی وسائل جیسے سخت لکڑیوں، ہیروں اور سونے (جو کہ (میناس گیریس کے علاقے سے نکالا جاتا تھا) سے مالا مال تھا ۔ شاہی خاندان نے کیپٹنسیز (علاقہ جات) کو امرا و شرفا میں ودعیت کر دیا، اور برازیلی علاقے میں ساؤ ویسینٹے ۱۵۳۲ میں پہلی پرتگالی بستی بن گئی۔ ۱۵۴۹ میں برازیل کا پہلا گورنر مقرر کیا گیا، اور برازیل کو ایک سرکاری شاہی کالونی بنا دیا گیا۔ دارالحکومت سلواڈور دا بہیا میں قائم کیا گیا تھا (جسے ۱۷۶۳ میں میں ریو ڈی جنیرو سے تبدیل کر دیا گیا)۔ ۱۵۷۲ میں برازیل کا وائسرائے مقرر کیا گیا۔

امیرنڈین اور بعد ازاں افریقی غلمان کے حوالے نوآبادیاتی کاشت کاری کا نظام باقی کالونیاں سے بہت بڑے پیمانے پر سے نافذ کیا گیا تھا۔ صرف ستروھیں صدی کے پہلے سہ ماہی عرصے میں، ۱۵۰،۰۰۰ افریقی غلاموں کو بحر اوقیانوس کے پار جنوبی امریکہ لایا گیا۔ ۱۸۵۳ میں آزاد برازیل کی طرف سے غلاموں کی تجارت کے خاتمے نے آخرکار بحر اوقیانوس کی تجارت کا قلع قمع کر دیا

غلاموں کے علاوہ پرتگالی نوآبادیاتی نظام کا ایک اور نقصان ٹوپی گوارانی امرینڈین کو ہوا تھا جن کے گاؤں اور ثقافت کو ایک با منظم طریقے سے تباہ و برباد اور نیست و نابود کر دیا گیا تھا، جو باقی ماندہ تھے وہ گھنے برسانی جنگلات کے اندرونی حصوں میں بھاگنے اور پناہ لینے پر مجبور ہو گئے تھے۔ بالآخر ۱۷۵۵ میں امیرنڈینز کو پرتگالی شاہی خاندان نے باضابطہ طور پر آزاد شہری تسلیم کیا گیا

برازیل میں نوآبادیاتی معاشرہ باقی علاقوں کے مانند کثیرالجہتی تھا۔ یورپیوں کو سماجی درجہ بندی میں اعلیٰ درجہ حاصل تھا، اور سماجی نمائش عام طور پر اسراف لباس اور ان کے پاس موجود نوکروں، غلاموں اور مسلح افراد کی تعداد کے ذریعے حاصل کی جاتی تھی۔ یورپیوں نے خود کو تین طبقات میں تقسیم کیا ہوا تھا: یورپی، کالونیوں میں پیدا ہونے والے یورپی، اور مخلوط نسل کے یورپی (کسی بھی کالونی میں بہت کم یورپی خواتین تھیں)۔ اس کے علاوہ چار اور پرتیں تھیں جن کی بنیاد شرافت و نجابت، اہل کلیسا سے مناسبت، فوج اور دیگر تمام افراد کی رکنیت پر تھی (ان کی مزید شادی شدہ اور غیر شادی شدہ طبقات میں تقسیم کی جاتی تھی)۔ یورپ افراد بھی ان کالونیوں میں اکثر آیا جایا کرتے تھے۔ ان میں سمندری تاجر، اور وسیع علاقے سے آئے ہوئے مقامی تاجر بھی شامل ہوتے تھے۔ ان کے بعد مقامی آبادی کا درجہ تھا، جو کہ تقریباََ تمام کالونیوں میں اکثریت میں موجود ہوتے تھے، جو ان کے اپنے سماجی صفوں اور عیسائیت اختیار کرنے جیسے عوامل سے اثر انداز ہوتی تھی۔ نوآبادیاتی معاشرے کے بالکل نچلے حصے میں غلام تھے۔

Slave Women, Brazil
برازیل میں موجود کنیزیں
Carlos Julião (Public Domain)

افریقہ کا جنوبی حصہ

انگولا کے علاقے کو پرتگالیوں نے ۱۵۷۱ میں اپنی نوآبادی بنایا اور اپنے استعمار کا شکار بنایا، اور یہ افریقہ میں پہلی باضاطبہ یورپی علاقائی کالونی تھی (ان شہری ریاستوں اور ساحلی آباد کاری جیسی نہیں)۔ انڈونگو کی شاہی ریاست (جس کا انت تقریباََ ۱۵۰۰ عیسوی میں ہوا) کا شیرازہ بکھر گیا اور وہ اپنی انتہا کو پہنچ گئی، لیکن اپنے اختتام و انقطاع سے پہلے اس کا یورپی طاقتوں نے شمال میں موجود کانگو کی شاہی ریاست کے خلاف بطور حلیف استحصال کیا تھا۔ یورپیوں کو اپنے بارودی ہتھیاروں کا فائدہ ہوا اور اس لیے پرتگالیوں کی اولین علاقائی فتح کاری کا سلسلہ شروع ہوا۔ آنے والی صدیوں میں پورے افریقہ میں جو کچھ ہونے والا تھا، یہ اس کا ایک نامبارک و نامسعود عندیہ تھا

ایک بار پھر، پرتگالی آباد کار انگولا کے علاقے میں مقامی لوگوں کے ساتھ گھل مل گئے تاکہ ایک مخلوط نسل بنائی جائے جسے لوسو-افریقی کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا۔ لوانڈا اور چند دیگر ساحلی بستیوں میں مقیم آباد کاروں اور ان کی اولاد و ذرِیّات نے انگولا کے اندرونی حصے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کی ۔ واضح رہے کہ انگولا کے اندرونی حصے پر ماتمبا کی شاہی ریاست جو کہ کچھ ہی عرصہ پہلے ظہور پذیر ہوئی تھی، کا دور دورہ تھا ۔ اس کے بعد ایک صدی تک محیط جنگ اور جھڑپیں ہوتی رہیں، جنہیں حروب انگولا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ کالونی پرتگال کے لیے انتہائی مایوس کن نتائج کا باعث ثابت ہوئی۔ ملک کے اندرونی حصے میں موجود چاندی کی کانوں کا چرچا صرف ایک افسانہ ثابت ہوا، اور دیگر وسائل بہت ہی محدود تھے، اور عیسائیت کو پھیلانے کی امیدیں حد سے زیادہ مبالغہ آمیز ثابت ہوئیں۔ کچھ نجی آباد کاروں اور تاجروں نے کسی حد تک ترقی کی، اور یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے کالونی کی مرکزی تجارت کے تسلسل کو جاری و ساری رکھاسولوھیں صدی کے آخر تک، انگولا سے سالانہ تقریباً ۱۰،۰۰۰ غلام برآمد کیے جاتے تھے تاکہ انہیں براہ راست لوانڈا سے برازیل اور امریکہ کے دیگر علاقوں میں بھیجا جا سکے۔ انگولا کے مقامی قبائل، جو پہلے ہی چیچک اور یورپیوں کی طرف سے تحفتاََ لائی گئی دیگر بیماریوں سے دوچار تھے، اس استحصالی تجارت کے پنجوں کی وجہ سے تخت و تاراج ہو گئے اور ناقابل علاج تک گھائل و چاک چاک ہو گئے۔

جنوبی افریقہ کے دوسری جانب، پرتگالیوں نے موزمبیق (جسے انیسویں صدی میں پرتگالی مشرقی افریقہ کا نام دے دیا گیا) نامی ایک اور بڑی علاقائی کالونی قائم کی تھی۔ پہلے پرتگالی آباد کاروں نے موزمبیق جزیرے پر ۱۵۰۶ میں اپنے انتہائی منحوس قدم رکھے۔ موزمبیق اتنا کچھ سونے سے مالا مال نہیں تھا جتنا کہ پرتگالیوں کو یہاں ملنے کی امید تھی لیکن وہاں دو چیزیں تو لازماََ تھی: اور وہ کیا تھیں؟؟؟ ہاتھی دانت اور غلام۔ موزمبیق ۱۵۷۱ سے ایسٹاڈو دا انڈیا کا ایک حصہ بن گیا (لیکن ۱۷۵۲ میں اسے علیحدہ کر دیا گیا)، اور کیریک بحری جہاز براہ راست گوا کے ساتھ اس راستے کے حصے کے طور پر تجارت کرتے تھے جسے کارئیرا دا انڈیا کہا جاتا تھا۔ ملک کے اندرونی حصے میں، پراتزو کے نام سے جانا جانے والا ایک نظام تیار ہوا جس کے تحت افریقی سربراہوں نے پرتگالیوں اور افریقی-پرتگالیوں کو زمین اور تجارت اور خراج و باج گزاری کے حقوق تفویض کیے، اس ملاقات کو پرتگالی شاہی خاندان نے رسمی طور پر تسلیم کیا۔ بدلے میں، مقرر کرنے والے شخص (مزنگو) کو اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ وہ اپنے علاقے میں انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے، روایتی رسومات کی نگرانی کرے، اور اپنے دائرہ اختیار میں چھوٹے دیہاتوں کے سربراہوں کی تقرری کو منظور کرے۔ اپنی پوزیشن کو برقرار رکھنے کے لیے، مزنگوز کے پاس ریٹینرز/محافظوں (چیکنڈا) کی ایک نجی فوج تھی جس میں کئی ہزار افریقیوں کو بھرتی کیا جاتا تھا۔ ۱۶۳۷ تک، کم از کم اسی پرازو تھے، اور زیادہ تر دارالحکومت ماپوٹو میں موجود ایک کمزور پرتگالی انتظامیہ سے آزادانہ طور پر افعال انجام دیا کرتے تھے اور ان کے ماتحت نہیں تھے

Island of Mozambique
جزیرہؑ موزمبیق
Stig Nygaard (CC BY)

اس کے بعد پرتگالی شاہی خاندانن نے نجی کمپنیوں جیسا کہ موزمبیق کمپنی اور نیاسا کمپنی کے ہاتھوں اس کا استحصال ہونے کے لیے اسے ان گِدھوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا اور موخر الذکر کو اس کے سیاہ و سفید کا مالک بنا دیا۔ مرکزی انتظامیہ کی کمی اور جنوبی افریقہ میں برطانویوں کی کامیابی نے پرتگالیوں کو انگولا میں موجود اپنی دو افریقی کالونیوں کو موزمبیق سے ملحق کرنے کے خواب کو بھی چکنا چور کر دیا۔

زوال، ترک نو آبادیات اور نوآبادیاتی ترکہ

مقامی حکمرانوں کی طرف سے ہمیشہ سے موجود خطرے کے علاوہ، پرتگالیوں کو دیگر یورپی سمندری طاقتوں سے سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا جنہوں نے جلد ہی اس سلطنت کو حسد کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیا تھا۔ یہ خاص طور پر پرتگالی قلعوں کی دیکھ بھال کے فقدان اور انفرادی ساحلی شہروں کی ایک دوسرے سے عمومی طور پر علیحدگی و تفرید کے پیش نظر تھا، جن کی مدد کے لیے کوئی مقامی آبادی نہیں تھی۔ انگریزی اور فرانسیسی سرمایہ داروں کو پرتگالی تجارتی بحری جہازوں کی ناک میں دم کرنے کے علاوہ کچھ آتا ہی نہیں تھا جب یہ بییڑے سمندر کے ایسے حصے پر سفر کرتے تھے جن پر کسی کا کوئی اختیار نہ ہوتا تھا اور مشترک تھے۔ ستم بالائے ستم ایک اور بڑا خطرہ جس سے انہیں نبرد آزما ہونا تھا وہ اپنے ہی ساتھی کھوجی، فرڈینینڈ میگیلن (دور حیات ۱۴۸۰ تا ۱۵۲۱) کی صورت میں نمودار ہوا، جس نے ۱۵۱۹ تا ۵۱۲۲ میں حکومت اسپین کی خدمت میں، جنوبی امریکہ کے جنوبی سرے کے گرد بحری چکر لگا کر بحر الکاہل کو پار کرتے ہوئے مشرق بعید تک کا بحری راستہ دریافت کر لیا۔ اور پھر اسی سفر کو جاری رکھتے ہوئے پوری دنیا کا چکر لگایا، لیکن اس دریافت کا سب سے اہم فائدہ مشرق بعید کے مسالوں کی تجارتی سلسلوں تک رسائی کی صورت میں سامنے آیا۔ دوسرے یوروپی ممالک نے میگیلن کے بعد اس راستے پر چلتے ہوئے اپنی جھولیاں بھرنا شروع کر دیا، اور یک دم ہی پرتگالیوں کو مشرق میں تجارتی اجارہ داری باقی بچتی نظر آنا بند ہو گئی۔

پرتگالیوں کو سب سے بڑا اور سنگین خطرہ ولندیزیوں کی طرف سے تھا جنہوں نے ستروھیں صدے کے پہلے نصف حصے میں موزمبیق پر دھاوا بول دیا، ۱۶۲۲ اور پھر ۱۶۲۶ میں مکاؤ پر ولندیزی پرچم لہرا دیا اور ۱۶۴۱ میں انگولا کو اپنا ماتحت بنا لیا۔ ۱۶۲۰ اور ۱۶۳۰ کی دہائیوں میں ولندیزیوں نے شمالی برازیل کے کئی علاقوں پر چڑھائی کر کے ان پر قبضہ جما لیا۔ ساتھ ہی ۱۶۴۱ میں انہوں نے ملاکا پر زبردستی کر کے اسے اپنا تابع و مطیع کر لیا، ۱۶۵۶ میں کولمبو نے ان کے ترانے پڑھنے شروع کر دیے، ۱۶۶۳ میں کوچی میں ہر طرف ولندیزیوں کی جے جے ہونے لگی۔ ولندیزیوں کے ساتھ ساتھ برطانوی بھی ایک اہم خطرہ تھا اور انہوں نے ۱۶۲۲ میں عربوں کو آبنائے ہرمز پر قبضہ حاصل کرنے میں قبل الذکر کی خوب حمایت کی۔

اٹھارویںن صدی میں، برازیل میں پرتگالی برطانیہ، فرانس اور ہالینڈ کی اعلیٰ سمندری طاقتوں کو بہت سازگار اور موخر الذکر کے لیے انتہائی سودمند تجارتی حقوق دینے کے پابند تھے۔ یہاں تک کہ انگریزوں نے ۱۷۹۹ سے ۱۸۱۵ تک گوا پر قبضہ کیے رکھا۔ ان بیرونی خطرات کے علاوہ کئی خطرات اندرونی بھی تھے۔ کئی وار سلطنت کے جسم کو اندر ہی اندر زخمی کر رہے تھے، اور اندرونی اعضا میں اندر ہی اندر سے خنجر گھونپ رہے تھے، برازیل میں، عام جنتا تمام شہریوں کے لیے مساوی حقوق چاہتے تھے، اور انھوں نے ۱۸۲۲ میں پرتگالی قبضے سے چھٹکارا حاصل کر لیا۔ انھوں نے پیڈرو اول (دور حکومت ۱۸۲۲ تا ۱۸۳۱) کو اپنا بادشاہ اور برازیل کا پہلا شہنشاہ قرار دیا۔ پیڈرو پرتگال کے ہواؤ چہارم کا بیٹا تھا (دور حکومت ۱۸۱۶ تا ۱۸۲۶)، اور اس کے بعد دونوں ممالک نے قریبی تعلقات برقرار رکھے۔

São Francisco Church, Cidade Velha
ساؤ فرانسسکو گرجا، چیداد ویلھا
Nice Marinho (CC BY-SA)

بیسویں صدی تک، پرتگالی کالونیوں میں سے بہت سی حریف طاقتوں سے یا تو ہار گئیں یا اندرونی خانہ جنگی کا شکار ہو کر فنا و برباد ہو گئیں۔ جو باقی رہ گئیں ان میں سے، مادئیرا اور ازورس پرتگال کے خودمختار علاقے بن گئے، اور گوا ۱۹۶۲ میں ہندوستان کا حصہ بن گیا۔ پرتگالی حکومت، جو کہ ان دنوں انتونیو ڈی اولیویرا سالزار (دور حکومت ۱۹۳۲ تا ۱۹۶۸) کے تحت ایک فوجی آمریت تھی، نے افریقہ میں جاری آزادی کی تحریکوں کی بے ثمری اور عبثِّیت کو ماننے سے انکار کر دیا اور اس کے اس فیصلے کے نتیجے میں انگولا اور موزمبیق خونریز جنگوں کا گڑھ بن گئے۔ کیپ وردے جزائر، ساؤ ٹومے اور پرنسپے، مشرقی تیمور، انگولا، اور موزمبیق سبھی نے ۱۹۷۵ میں پرتگال سے آزادی حاصل کر لی تھی۔ مکاؤ ۱۹۹۹ میں چین کو لوٹا دیا گیا تھا۔

پرتگالی نوآبادیاتی سلطنت نے مقامی لوگوں پر بہت سی آفات برپا کیں: غلامی، جنگ، مقامی تجارتی نیٹ ورک میں خلل، روایتی ثقافتی سرگرمیوں کا خاتمہ، جنگلات کی کٹائی، اور بیماریاں، اور یہ تو ان آفات کا عشر عشیر بھی نہیںن۔ سلطنے کے قیام کے دیگر نتائج میں آج دنیا کے بہت سے حصوں میں پرتگالی زبان اور کیتھولک مذہب کا مسلسل پھیلاؤ شامل ہے۔ پرتگالی دنیا بھر میں نباتات اور حیوانات کو پھیلانے کے لیے بھی براہ راست ذمہ دار تھے، بعض اوقات مقامی ماحولیاتی نظام پر تباہ کن اثرات کے ساتھ ساتھ ساتھ مینوایک ( جَزائر غَربُ الہِند کا ایک پودا جِس کی نِشاستے دار جَڑیں کھائی جاتی ہیں)، مکئی اور گنے جیسی فصلوں کے طور پر قابل ذکر کامیابیاں بھی جو بالکل نئے مقامات پر عام ہوگئیں۔ آخر کار، پرتگالی وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے کئی براعظموں میں حقیقی معنوں میں ایک عالمی سلطنت قائم کی، وہ علیحدہ بات ہے کہ یہ ریاست ایک غیر مستحکم، غیر مضطوب، متذبذب اور بے ربط تھی۔ ان کی سب سے بڑی نشانی، شاید اس وقت ہی تھی، یہ بدقسمتی ہے کہ اب دیگر یورپی طاقتوں نے سامراج کے امکانات کو بھانپ لیا ہے اور اس طرح دنیا بھر کے لوگوں کا استحصال اس سے بھی زیادہ حد تک کرنے کے لیے تیار ہیں جب استعمار نہ صرف تجارت پر کنٹرول بلکہ علاقائی، وسائل، اور آبادی کنٹرول کا بھی نام بن چکا ہے۔

سوالات اور جوابات

پرتگالی سلطنت کے زیر اثر کون کون سے ممالک تھے؟ْ

پرتگالی سلطنت نے افریقہ کے ساحل کے ارد گرد ازورس، مادئیرا، کیپ وردے، اور ساؤ تومے اور پرنسپے پر قبضہ جمائے رکھا،۔ برصغیر پاک و ہند میں کوچی، گوا اور کولمبو؛ مشرقی ایشیا میں مکاؤ اور ناگاساکی؛ افریقہ میں موزمبیق اور انگولا؛ اور برازیل پر اپنا تسلط برقرار رکھکا

پرتگالی اور ہسپانوی سلطنتوں میں کیا فرق تھا؟

پرتگالی اور ہسپانوی سلطنتیں مختلف اس صورت میں تھیں کہ ہسپانویوں نے زمین کے بڑے بڑے وسیع و عریض علاقوں پر قبضہ کیا تھا جبکہ پرتگالی صرف بڑی تجارتی بندرگاہوں کو کنٹرول کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔

پرتگالی سلطنت کا زوال کیسے ہوا؟

پرتگالی سلطنت کا زوال اس لیے ہوا کہ پوری دنیا میں ایک اتنی بڑی سلطنت کو کنٹرول کرنا بہت مشکل تھا اور دیگر، امیر اور زیادہ طاقتور یورپی ریاستوں جیسے ولندیزی، برطانوی اور فرانسیسی افواج و سرمایہ دارانہ تجارتی کمپنیوں سے مقابلہ بہت سخت تھا جو اپنی اپنی ذاتی سلطنتیں قائم کرنا چاہتے تھے۔

کتابیات

ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا ایک ایمیزون ایسوسی ایٹ ہے اور اہل کتاب کی خریداری پر کمیشن

مترجم کے بارے میں

Zohaib Asif
جی میں زوہیب ہوں، زبان کا جادوگر اور ذہن کا مورخ۔ وقت کی چابی موڑنے والا، ماضی کے دریچوں میں جھانکنے والا الفاظ کا سنار۔ زبان اور تاریخ کے اس سفر پر میرا ساتھ ضرور دیجیے کیوں کہ اکھٹے ہم تاریخ کے سر بستہ رازوں سے پردہ ہٹائیں گے اور ساتھ ساتھ اٹھکیلیاں بھی کریں گے

مصنف کے بارے میں

Mark Cartwright
مارک اٹلی کا ایک تاریخ پر لکھنے والی لکھاری ہے۔ ان کی دلچسپی کا مرکز کوزہ گری، فن تعمیر، عالمی اساطیری روایات اور ایسے خیالات تلاش کرنا ہے جو کہ مخلتلف تہذیبوں میں ایک جیسے ہیں۔ ان کی سیاسی فلسفہ میں ماسٹر ڈگری ہے اور وہ گھروں کے عالمی دائرۃ المعارف میں طباعت کے ڈائریکٹر ہیں۔

اس کام کا حوالہ دیں

اے پی اے اسٹائل

Cartwright, M. (2021, July 19). پرتگالی سلطنت [Portuguese Empire]. (Z. Asif, مترجم). World History Encyclopedia. سے حاصل ہوا https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-19821/

شکاگو سٹائل

Cartwright, Mark. "پرتگالی سلطنت." ترجمہ کردہ Zohaib Asif. World History Encyclopedia. آخری ترمیم July 19, 2021. https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-19821/.

ایم ایل اے سٹائل

Cartwright, Mark. "پرتگالی سلطنت." ترجمہ کردہ Zohaib Asif. World History Encyclopedia. World History Encyclopedia, 19 Jul 2021. ویب. 22 Jun 2024.