ابراہم لنکن کا قتل

Harrison W. Mark
بذریعہ ، ترجمہ بذریعہ Samuel Inayat
پر شائع ہوا
Translations
bookmark_addbookmark_addedمضمون محفوظ کریں printچھاپیں picture_as_pdfPDF

14 اپریل 1865 کی شام کو امریکی صدر ابراہم لنکن (Abraham Lincoln) کو جان ولکس بوتھ نے واشنگٹن ڈی سی کے فورڈ تھیٹر (Ford's Theatre) میں ایک ڈرامے میں شرکت کے دوران سر کے پچھلے حصے میں گولی مار دی اور اگلی صبح وہ انتقال کر گئے۔ امریکی غمزدہ قوم کو، جو ابھی تک خانہ جنگی کی ہولناکیوں سے نڈھال تھی، اِس قتل نے ہلا کر رکھ دیا اور متاثر کیا کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ جب کہ وہ تعمیر نو کی طرف گامزن تھی، خود کو کیسے بحال کرنے کی کوشش کرے۔

Assassination of President Lincoln
ابراہم لنکن کا قتل Currier & Ives (Public Domain)

پس منظر: ایک فتح، ایک شکست

10 اپریل 1865 کی صبح، واشنگٹن ڈی سی کا شہر توپوں کے چلنے کی آواز سے بیدار ہوا۔ یہ آواز، پچھلے چار سالوں سے، وہی تھی جس کو سننے سے واشنگٹن کے لوگ سب سے زیادہ خوفزدہ ہوتے تھے، کیونکہ امریکی خانہ جنگی کی جو خونی لہر اکثر ان کے شہر کے قریب بے چینی سے بہتی تھی، اب نہیں بہے گی۔ 500 توپوں کی سلامی جو فضا میں شاندار طور پر گونج رہی تھی، امن کیلئے ایک پیغام تھا کیونکہ صرف ایک دن پہلے، کنفیڈریٹ جنرل رابرٹ ای لی (General Robert E. Lee) نے اپومیٹوکس (Appomattox) نامی جگہ پر یونین جنرل یولیس ایس گرانٹ (Union General Ulysses S. Grant) کے آگے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ خراب موسم کے باوجود، واشنگٹن کے پُر جوش لوگ جشن منانے کے لیے گھروں سے باہر نکل آئے۔ صحافی نوح بروکس نے لکھا، "سڑکیں، کیچڑ کے باوجود، پُر جوش لوگوں سے بھری تھیں"اور اُس وقت جب جشن شروع ہوا تو وہ صدر کے ساتھ ناشتہ کر رہے تھے۔ "[وہ] خوش ہو رہے تھے اور گا رہے تھے، جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے اور سب کو سلام کر رہے تھے" (میچم، 388)۔ اُس پُورے اُداس دن میں، بینڈ بجتے رہے، لوگ روتے رہے جبکہ رات کو تاریک آسمان آتش بازی سے منور ہو گیا۔

جیسے ہی لنکن نے اپنا خطاب مُکمل کیا، بوتھ نے عہد کیا: "یہ وہ آخری تقریر ہے جو وہ کبھی کرے گا"۔

اگلی شام، 11 اپریل، وائٹ ہاؤس کے باغیچہ میں ، ہتھیار ڈالنے کی خبر آنے کیبعد، جب پہلی بار صدر نے خطاب کرنا تھا، لوگوں کا ایک بڑا ہجوم صدر کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے جمع ہوا۔ اگر پُرجوش یونین پسند ابراہم لنکن سے ان کی خوشیوں میں شریک ہونے کی توقع رکھتے تھے تو وہ غلطی پر تھے۔ ایک منقسم قوم کو ایک ساتھ رکھنے کے چار سالوں سے تھکے ہوئے، لنکن وائٹ ہاؤس کے شمالی دلان کے نیچے دوسری منزل کی کھڑکی پر کھڑے تھے۔ صدر نے، موم بتی کی چمکتی ٹمٹماتی ہوئی روشنی میں، جسے بروکس نے پکڑے ہُوئے تھا، ایک مخطوطہ سے پڑھا۔ جب صدر ایک صفحہ پڑھ کر ختم کر لیتا، تو وہ اسے گرنے دیتا، اسے اس کا جوان بیٹا ٹیڈ (Tad) اپنے قدموں پہ جُھکے ہُوئے جمع کر لیتا۔ صدر نے ماضی کی عظیم فتوحات کی نہیں بلکہ آنے والی جدوجہد کے بارے میں بات کی۔ اُس نے ان مشکلات کے بارے میں بات کی جو بغاوت کی وجہ سے لگنے والے زخموں کو باندھنے اور یونین کی تمام ریاستوں کے درمیان ہم آہنگی کو بحال کرنے کی ضرورت کے پیشِ نظر تعمیر نو کے ساتھ ہو سکتی تھیں۔ اُس نے اُن افریقی امریکیوں کے حق میں ووٹ دینے کی ضرورت کا ذِکر کیا، جو خاص طور پر فوجیوں کے طور پر خدمات دے چکے تھے۔ مختصراً، لنکن کی تقریر میں یہ تسلیم کیا گیا کہ اگرچہ سمجھا جاتا تھا کہ جنگ ختم تھی، تو بھی کافی کام کرنا باقی تھا۔

تقریر کے بعد، جیسے ہی آسمان سے ہلکی بوندا باندی شروع ہوئی، ہجوم منتشر ہو گیا۔ کچھ لوگ تو صدر کی باتوں سے اُلجھے ہوئے تھے اور کچھ مایوس تھے۔ خاص طور پر ایک آدمی، غصے میں تھا. جان ولکس بوتھ (John Wilkes Booth) ایک نوجوان اور خوبصورت اداکار تھا، جو اپنے مشہور بڑے بھائی ایڈون (Edwin) کے ساتھ شیکسپیئر کے ڈراموں میں کردار ادا کرنے کے لیے دور دور تک جانا جاتا تھا، جب کہ ایڈون ایک کٹر یونینسٹ (Unionist) تھا اور جان کو (امریکہ) کے جنوبی حِصہ کے ساتھ ہمدردی تھی۔ درحقیقت، وہ کنفیڈریٹ فوج میں بھرتی ہونا چاہتا تھا، لیکن اس کی ماں، جو اس کی حفاظت کے لیے فکر مند تھی، نے اس سے ایسا وعدہ نہیں کیا تھا۔ جنگ لمبی ہوتی گئی، وہ تلخ اور بے بسی کے عالم میں اندر ہی اندر سمجھ گیا، کیونکہ جنگ کے نتائج جنوب کے خلاف ہو گئے تھے۔ 1864 کے صدارتی انتخابات سے پہلے کے مہینوں میں، بوتھ نے لنکن کو اغوا اور تاوان کے لیے پکڑ کر کنفیڈریسی کی مدد کرنے کی سازش رچی تھی۔ وہ کئی سازشی ساتھیوں کی مدد حاصل کرنے کے لیے اس حد تک چلا گیا تھا، لیکن اسے کبھی بھی اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا موقع نہیں ملا تھا۔ لیکن اب، جنگ کے عملی طور پر ختم ہونے کے بعد، بوتھ کے خیالات اِنتہائی منفی اور قاتلانہ ہو گئے تھے۔ جیسے ہی لنکن نے تقریر ختم کی، بوتھ اپنے دوست لیوس پاول (Lewis Powell) کی طرف متوجہ ہوا اور منت مانی۔ "یہ،" اِس نے کہا، "وہ آخری تقریر ہے جو وہ کبھی کرے گا" (الفورڈ، 257)۔

لنکن کا آخری دن

معمول کے مطابق، لنکن گڈ فرائیڈے کے روز، 14 اپریل 1865 کو صبح 7 بجے اپنے دفتر میں تھا۔ اگرچہ وہ ایک رات پہلے ہی سے سر میں شدید درد کی وجہ سے بیمار تھا، وہ خوش مزاج تھا- ان کا بیٹا، رابرٹ ٹوڈ لنکن (Robert Todd Lincoln)، ورجینیا سے ہفتہ کے اختتامِ پر آیا ہُوا تھا اور ایسٹر کی چھٹی اپنے خاندان کے ساتھ گزار رہا تھا۔ معمول کے دُعائیہ سلسلے میں شرکت کرنے کے بعد، لنکن اپنے بیٹے اور اپنی بیوی مریم (Mary) کے ساتھ صبح 11 بجے کے قریب ناشتے میں شامل ہُوا، رابرٹ نے اپنے والد کو رابرٹ ای لی (Robert E. Lee) کی تصویر دِکھائی اور شکست خوردہ باغی جنرل کا مذاق اڑایا۔ صدر نے تصویر کو غور سے دیکھنے سے پہلے اپنی عینک کے شیشوں کو رومال سے صاف کیا۔ "یہ ایک اچھا چہرہ ہے،" لنکن نے آہستہ سے کہا۔ "مجھے خوشی ہے کہ جنگ ختم ہو گئی ہے" (فوٹے، 974)

۔

Abraham Lincoln
ابراہم لنکن Anthony Berger (Copyright)

ناشتے کے بعد، لنکن کام پر واپس چلا گیا۔ اُس نے امریکی ایوان نمائندگان کے سپیکر Schuyler Colfax اور امریکی سینیٹر جان کریس ویل (John Cresswell) سے ملاقات کی۔ "کریسویل جو ایک بُوڑھا آدمی تھا،" لنکن نے ادب سے کہا، "آج صبح سب کچھ روشن ہے۔ جنگ ختم ہو گئی ہے۔ یہ ایک مشکل وقت رہا ہے، لیکن ہم نے اسے گزارا ہے۔" (ibid لاطینی لفظ کا مُخفف جِسکے معنی ہیں وُہی ماخذ same source)۔ کام ختم ہونے کے بعد کانگریس کے لوگ چلے گئے، اور لنکن نے کچھ تقرریوں پر دستخط کیے اور ایک فوجی ڈسچارج منظور کر دی۔ ان صدارتی ذمہ داریوں کو نبھانے کے دوران، اسے 10 ویں سٹریٹ پر واقع فورڈ تھیٹر میں ایک قاصد بھیجنے کا وقت مِلا تاکہ کامیڈی آور امریکن کزن (Our American Cousin) کی شام کی پرفارمنس کے لیے اسٹیٹ باکس کو بُک کیا جا سکے۔ اُنہوں نے تھیٹر انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ وہ زیادہ لوگوں کے آنے کی توقع کر سکتے ہیں، کیونکہ وہ مہمان کے طور پر اُس وقت کے آہم شخص جنرل گرانٹ کو ساتھ لے کر جائیں گے۔ یقیناً تمام واشنگٹن کے لوگ یونین کو بچانے والے کی ایک جھلک دیکھنا چاہیں گے۔

دوپہر کے اوائل میں، ابراہم لنکن، یولیس ایس گرانٹ اور کابینہ کے کچھ اراکین سے ملنے کے لیے محکمہ دفاع میں گئے۔ وہ جنگ کے خاتمے کے بارے میں بات کرنے کے لیے وہاں موجود تھے- جبکہ لی (Lee) نے ہتھیار ڈال دیے ہوں گے، جنرل جوزف ای جانسٹن (Joseph E. Johnston) اب بھی 20,000 سے زیادہ آدمیوں کی باغی فوج کے ساتھ میدان میں تھا۔ بے پروا دکھائی دیتے ہوئے، لنکن نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ انہیں جلد ہی اچھی خبر ملے گی، کیونکہ اس نے ایک خواب دیکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک عجیب خواب تھا، وہی خواب تھا جو اس نے جنگ کے ہر بڑے واقعے سے پہلے دیکھا تھا۔ فورٹ سمٹر سے پہلے، اینٹیٹیم سے پہلے، گیٹسبرگ سے پہلے (before Fort Sumter, before Antietam, before Gettysburg)۔ اس میں، لنکن اکیلا تھا، اور ایسے لگتا تھا جیسے "وہ کسی وسیع اور غیر واضح سِمت پر، کسی نامعلوم ساحل کی طرف بڑھ رہا ہو" (فوٹے، 975)۔ اِس سے پہلے، صدر نے ایسا خواب کِسی بڑے موقع پر ہی دیکھا تھا، لیکن اِسے پُورا یقین تھا کہ اِس موقع پر یہ جانسٹن کے ہتھیار ڈالنے کا پیش خیمہ تھا۔

اجلاس ختم ہونے کے بعد، لنکن جو شام کے منصوبوں پر بات کرنے کے لیے بے چین تھا، نے گرانٹ کو پاس ہی رکھا۔ تاہم، وہ یہ جان کر مایوس ہوا کہ جنرل اس کے ساتھ شامل نہیں ہو گا۔ گرانٹ نے قدرے شرمندگی میں وضاحت کی کہ وہ ایسا کرنے سے قاصر تھا کیونکہ اسے اور اس کی بیوی، جولیا کو فلاڈیلفیا (Philadelphia) میں اپنے بچوں سے ملنے کے لیے ٹرین پکڑنی تھی۔ لیکن دونوں آدمی حقیقت سے آگاہ تھَے- کہ میری ٹوڈ لنکن پہلے ہی سے گرانٹس سے حسد کرتی تھی، اور جولیا، فورڈ تھیٹر میں سامعین کے سامنے ایک منظر بنانے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتی تھی۔

General Ulysses S. Grant
جنرل یولیسس ایس گرانٹ Constant Mayer (CC BY-NC-SA)

لنکن، چُونکہ گرانٹ کو پریشان کرنا نہیں چاہتے تھے، اُس نے اِس معاملے پر زور نہیں دیا، لیکن جب وہ اپنے دفتر میں واپس آیا تو اس کا رویہ اداس ہو گیا۔ ان کے باڈی گارڈ، ولیم ایچ کروک (William H. Crook) نے دیکھا کہ صدر افسردہ دکھائی دے رہے ہیں، اور یہاں تک شکایت کی کہ وہ اب تھیٹر نہیں جانا چاہتے۔ شام 4:30 بجے، جب کروک کی شفٹ ختم ہوئی، لنکن نے افسوس کے ساتھ اسے کہا، "گڈ بائے، کروک"، جو باڈی گارڈ کو بڑا عجیب لگا - لنکن نے کھی بھی صرف "گڈ نائٹ، کروک" کہا تھا، لیکن کبھی "گڈ بائے" نہیں کہا۔

لنکن بظاہر اچھے موڈ میں تھا جب وہ میری ٹوڈ (Mary Todd) کے ساتھ تھیٹر جاتے ہوئے اپنی گاڑی میں اُسکے ساتھ تھا۔ اس نے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے بتایا کہ اس کی مدت پوری ہونے کے بعد، وہ اسپرنگ فیلڈ، الینوائس (Springfield, Illinois) واپس آنے سے پہلے اکٹھے یورپ جائیں گے، جہاں وہ اپنی قانون کی پریکٹس دوبارہ شروع کریں گے۔ انہوں نے راستے میں جاتے ہُوئے، رات 8:30 بجے کے قریب فورڈ تھیٹر (Ford's Theatre) کے سامنے پہنچنے سے پہلے، آخری مہمان، جنہیں گرانٹس کی جگہ لینے کے لیے منتخب کیا گیا تھا وہ میجر ہنری رتھ بون (Major Henry Rathbone) اور اس کی منگیتر، کلارا ہیرس (Clara Harris) تھے- وہ دیر میں پہنچے، اور اُس وقت پہلے ایکٹ کی آدھی پرفارمنس چل چُکی تھی، لیکن اس نے آرکسٹرا کو "ہیل ٹو دی چیف" (Hail to the Chief) بجانے سے نہیں روکا- جیسے ہی لِنکن اور اُسکے (ہمراہ لوگ) اسٹیٹ باکس میں باہر نکلے، سامعین سے بھرے ہوئے 1,700 چہروں نے اوپر دیکھا اور بے حد خوش ہونے لگے۔ تالیاں بجنے کے بعد صدر اور ان کی اہلیہ شو دیکھنے بیٹھ گئے۔ مریم ٹوڈ، واضح طور پر اس پیار سے متاثر ہوئی جو اس کے شوہر نے اسے گاڑی میں دکھایا تھا، اس نے خود کو ایک نوجوان لڑکی کے انداز میں اُسکے بازو سے چمٹا ہوا پایا۔ "میرے اِس طرح آپ کے ساتھ چِمٹے رہنے کی وجہ سے، مِس ہیرس کیا سوچیں گی؟" اس نے سرگوشی کی. لنکن نے سٹیج سے توجہ نہیں ہٹائی۔ "کیوں، وہ اس کے بارے میں کچھ نہیں سوچے گی،" انہوں نے کہا (فوٹے، 979)۔

صدر کو قتل کرنا

اُسی وقت جب لنکن جنگ کے تعلق سے محکمہ دِفاع میں گرانٹ سے بات کر رہے تھے، جان ولکس بوتھ نے فورڈ تھیٹر کا رخ کیا۔ ایک گواہ نے یاد کیا، "وہ بہترین انداز میں سیاہ سوٹ میں ملبوس تھا اور ایک لمبی ریشمی ٹوپی پہنے تھا،" ایک دیکھنے والا یاد کرے گا، "اس کے پاس ہلکے رنگ والے نرم چمڑے کے دستانے تھے، ایک ہلکا اوور کوٹ اس کے بازو پر لٹکا ہوا تھا، اور اس نے چھڑی اٹھا رکھی تھی" (میچم، 398)۔ نوجوان اداکار نے تھیٹر کے مالکان میں سے ایک بنام ہیری فورڈ کو سلام کیا اور پوچھا کہ اس شام کیا چل رہا تھا؟۔ فورڈ نے خوشی سے کہا کہ یہ شو ہمارا امریکن کزن (Our American Cousin) ہوگا۔ لیکن یہ سب کچھ نہیں ہونے والا تھا۔ "صدر آج رات یہاں جنرل گرانٹ کے ساتھ آنے والے ہیں،" فورڈ نے کہا، اور پھر مذاق میں کہا، "اُنہوں نے جنرل لی کو قیدی بنا رکھا ہے۔ ہم اسے دوسرے باکس میں بٹھائیں گے!" (الفورڈ، 359)۔ بوتھ نے مذاق کی تعریف نہیں کی۔ "کبھی نہیں!" وہ غُصے میں بولا. "لی کبھی بھی خُود کو استعمال نہیں ہونے دے گا جیسے رومی اپنے قیدیوں کو استعمال کرتے اور ان کی نمائش کرتے تھے" (ibid)۔

John Wilkes Booth
جان ولکس بوتھ Alexander Gardner (Public Domain)

بوتھ کے ردعمل سے فورڈ تھوڑا سا حیران ہوا اور اس نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جب وہ لی کے بارے میں مذاق کر رہا تھا، حقیقت میں لنکن آ رہا تھا۔ بوتھ نے اِجازت لی اور نیشنل انٹیلی جنسر (National Intelligencer) کے ایڈیٹر جان ایف کوئل (John F. Coyle) سے بات کرنے کیلئے، 10ویں سٹریٹ سے نیچے چلنا شروع کر دیا۔ اس سے پہلے کہ بوتھ ایک طرح سے غصے بھری تقریر شروع کرتا، ہتھیار ڈالنے اور کنفیڈریسی کے زوال پر افسوس کا اظہار کرتے ہُوئے انہوں نے ایک دوسرے کو خوش آمدید کہا۔ پھر، بات چیت سنجیدہ باتوں کی طرف مڑ گئی- بوتھ نے کوئل سے پوچھا کہ اگر لنکن اور اس کے تمام حاضر سروس جانشین ایک ساتھ مارے جائیں تو کیا ہوگا۔ "انتشار،" کوئل نے اندازہ لگایا، "یا جو کچھ بھی آئین فراہم کرتا ہے۔ لیکن کیا بکواس ہے: وہ آج کل Brutuses (رُومی اِنقلابی سیاست دان) جیسے کردار نہیں بناتے ہیں۔" (میچم، 399)۔ بوتھ نے اتفاق کیا اور چل دیا (جبکہ) اس کا دماغ تیزی سے کام کر رہا تھا۔ وہ کرک ووڈ ہاؤس (Kirkwood House) گیا، جہاں اینڈریو جانسن (Andrew Johnson) ٹھہرے ہوئے تھے، یہ دریافت کرنے کے لیے کہ آیا نائب صدر اندر موجود ہیں یا نہیں۔ تھوڑی دیر بعد، وہ 440 کنفیڈریٹ جنگی قیدیوں کے ایک گروپ کے پاس سے گزرا، جسے دیکھ کر بوتھ خوفزدہ ہو گیا، پھر بھی اس کا عزم اور پُختہ ہو گیا۔

ایک مشہور اداکار کی حثیت سے، بوتھ کو تھیٹر کے تمام حصوں تک مفت رسائی حاصل تھی، اور اس لیے جب وہ اسٹیٹ باکس کی طرف چل کر گیا تو کسی نے آنکھ نہیں اٹھائی۔

شام 8:00 بجے، اس نے اپنے سازشی ساتھیوں کو ہرنڈن ہاؤس (Herndon House) میں ایک موم بتی کی میٹنگ (candlelit meeting) میں بلایا۔ انہوں نے انہیں بتایا کہ محض صدر کو اغوا کرنے کا وقت گُزر چُکا تھا۔ قتل ہی اب واحد آپشن تھا۔ "یہ دنیا کا سب سے بڑا واقعہ ہوگا،" انہوں نے کہا۔ لیکن بوتھ صرف لنکن کو مارنے سے مطمئن نہیں تھا۔ اس کے بجائے، اِنتقامی طور پر اس کا مقصد وفاقی حکومت کا مکمل خاتمہ اور قوم کو افراتفری میں ڈال کر شکست خوردہ کنفیڈریسی کا اِنتقام لینا تھا۔ اس نے اہداف تفویض کرنے میں کوئی وقت ضائع نہیں کیا۔ اس کا دوست، سابق کنفیڈریٹ سپاہی (ex-Confederate soldier) لیوس پاول، سکریٹری آف اسٹیٹ ولیم ایچ سیوارڈ (William H. Seward) کو مار ڈالے گا۔ عام خیال یہ تھا کہ کچھ دن پہلے ایک گاڑی کے حادثے میں اس کا جبڑا اور بازو ٹوٹ گئے تھے اور اب وہ بستر پر تھا۔ بستر پر اس پر حملہ کرنا شاید ہی کوئی رکاوٹ ہو۔ جارج ایٹزروڈٹ، (George Atzerodt) ایک جرمن امریکی مرمت کرنے والے کو نائب صدر جانسن کو قتل کرنے کے لیے کرک ووڈ جانے کا کام سونپا گیا تھا لیکن جب اُس نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ اس نے صرف لنکن کو اغوا کرنے کے لیے دستخط کیے تھے، قتل کرنے کے لیے نہیں اور اُس نے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی، تو پاگل بوتھ نے اسے گولی مارنے کی دھمکی دی۔ Atzerodt ہچکچاتے ہوئے جانسن کو مارنے پر راضی ہوگیا۔ بوتھ لنکن کو خود مار ڈالے گا، جبکہ چوتھا سازشی ڈیوڈ ہیرولڈ (David Herold) ان کے فرار میں مدد کے لیے کھڑا تھا۔ ہر قتل رات 10 بجے کے قریب ایک ساتھ ہونا تھا۔

اس کے بعد، ممکنہ قاتل رات کو چلے گئے، تاکہ بھیانک کام کی تیاری کریں جو اِنکے سامنے تھا۔ بوتھ نے 41 کیلیبر ڈیرنجر پستول (Deringer pistol) اور ایک بڑے بووی چاقو Bowie knife (لڑائی کیلئے اِستعمال ہونے والا چاقو جِسکے بلیڈ 6 سے 12 اِنچ کے ہوں) سے لیس فورڈ تھیٹر میں واپس آیا۔ وہ رات 10:10 پر تھیٹر میں داخل ہُوا۔ ایک مشہور اداکار کے طور پر، اسے تھیٹر کے تمام حصوں تک مفت رسائی حاصل تھی، اور اس لیے جب وہ اسٹیٹ باکس کی طرف چل کر گیا تو کسی نے آنکھ نہیں اٹھائی۔ اسے کئی دوستوں نے پہچانا، جن میں اداکارہ جینی گورلے (Jeannie Gourlay) بھی شامل ہیں، جو بعد میں یاد کریں گے کہ وہ "موت کی طرح پیلا" لگ رہا تھا (الفورڈ، 263)۔ رات 10:14 بجے، بوتھ خاموشی سے دروازہ کو اپنے پیچھے سے بند کرنے کیلئے اسٹیٹ باکس میں داخل ہوا، اور اسے اچھی طرح بند کرنے کے لیے لکڑی کے تختے کا استعمال کیا۔ پھر، وہ راہداری کے سائے میں کھڑا انتظار کرتا رہا، نیچے اسٹیج پر موجود اداکاروں کو کسی ایسے مکالمے کے لیے سنتا رہا جس کے بارے میں وہ جانتا تھا کہ (حاضرین) کی طرف سے قہقہوں کا طوفان اٹھے گا۔ جلد ہی، اس نے وہ سن لیا:

"اچھا، اچھے معاشرے کے آداب نہیں آتے، ہیں؟ خیر، مجھے اتنا ضرور پتا ہے کہ میں تمہاری ایسی تیسی پھیر دوں، sockdologizing old mantrap (پرکشش عورت کیلئے 19ویں صدی میں اِستعمال ہونے والا غیر رسمی محاورہ جو درج بالا شو میں اِستعمال کیا گیا)!"(فوٹے، 980)۔

حسب توقع سامعین سے بھرا تھیٹر قہقہوں سے گونج اٹھا۔ اب وہ لمحہ تھا۔ "مجھے پرواہ نہیں کہ میرا کیا بنتا ہے،" بوتھ نے بعد میں اپنی ڈائری میں لکھا۔ "میں نے دلیری سے مارا، اپنے ملک کے لیے اور اکیلے" (الفورڈ، 265)۔ اس نے آگے بڑھ کر پستول نکالا اور گولی چلا دی۔

قتل اور اُسکے نتائج

چمک (فلیش) کیساتھ ایک نیم دھماکا ہوا اور لنکن اپنی کرسی پر آگے کی طرف سینے پر جھک گیا، جب گولی اس کے بائیں کان کے بالکل پیچھے لگی۔ میجر رتھبون (Major Rathbone) – لنکن کے آخری لمحات کا مہمان – کھڑا ہوا اور فطری طور پر قاتل پر جھپٹ پڑا اور اُسے اپنے دونوں بازوؐں کی لپیٹ میں لے لیا، ایسا جیسے کہ ایک پاگل لومڑی جال میں پھنس گئی ہو۔ بوتھ نے چھُڑانے کی بڑی کوشش کی، "مجھے جانے دو، ورنہ میں تمہیں مار ڈالوں گا!" (ibid)۔ رتھبون نے نہیں سنا۔ رتھبون ابھی بوتھ کو گلے سے پکڑنے میں کامیاب ہوا ہی تھا کہ قاتل نے دایاں بازو آزاد کروا لیا، جیب سے چاقو نِکالا اور اسے میجر کے بازو میں گھونپ دیا۔ رتھبون نے درد سے چیخ ماری اور بوتھ کو چھوڑ دیا، جو باکس سے چھلانگ لگا کر بارہ فٹ اُونچے سٹیج سے گر گیا۔ وہ ہلکی آواز کے ساتھ گِرا، اور اس کی بائیں ٹانگ کا فیبولا (fibula پنڈلی کی بیرونی ہڈی) ٹوٹ گیا۔

اُس وقت، فاتح قاتل کا جِسم ایڈرینالئن (adrenaline) کے زیرِ اثر تھا اور اُسے کوئی درد محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ (اِنسانی جِسم میں یہ ایک ایسی غدود ہے جِسکے ہارمون پیدہ کرنے سے اِنسان جوش سے بھر جاتا ہے)۔ وہ کھڑا ہوا، خون آلود چاقو اپنے سر کے اوپر اٹھایا۔ سنسنی خیز انداذ میں، ایک اداکار کی طرح، اس نے یا تو "sic semper tyrannis" کا نعرہ لگایا (جِسکے معنی ہیں ہمیشہ ظالموں کے لیے'، ورجینیا کا ریاستی نعرہ) یا یہ نعرہ کہ "جنوب کا بدلہ لیا گیا ہے۔ پھر وہ مڑا اور سٹیج سے چلنے لگا۔ سامعین بیٹھے حیران تھے، یقین نہیں تھا کہ انہوں نے ابھی کیا دیکھا ہے۔ وہ، مسز لنکن کی دل دہلا دینے والی آہ و زاری اور میجر رتھبون کی طرف سے "اس آدمی کو روکنے کے لیے" بے چین چیخوں سے ہل گئے تھے۔ جو لوگ بوتھ کے قریب تھے وہ یاد کریں گے کہ "اس کے ہونٹ اس کے دانتوں سے کھنچے ہوئے تھے، اور وہ ہانپ رہا تھا" اور یہ کہ وہ اپنے آپ سے بڑبڑا رہا تھا، "میں نے یہ کیا ہے" (ibid)۔ قاتل اسٹیج کے دروازے سے باہر نکلا اور ایک گلی میں چلا گیا، جہاں تھیٹر کا نوعمر اِشتہار بانٹنے والا لڑکا (بل کیریئر) جوزف 'پینٹس' بروز (Joseph ‘Peanuts' Borroughs)، اس کا گھوڑا تھامے کھڑا تھا۔ بڑی کوشش کے ساتھ، زخمی بوتھ گھوڑے پر سوار ہو گیا اور جب سپاہی اور تھیٹر شو دیکھنے والے اسے ڈھونڈنے کے لیے تھیٹر سے نکلے تو وہ جا چکا تھا۔

Abraham Lincoln Assassination 1865
ابراہم لنکن کا قتل 1865 Nicha Sursock (CC BY-NC-SA)

دریں اثنا، چارلس لیل (Charles Leale) نامی 23 سالہ سرجن سٹیٹ باکس میں پہنچ گیا۔ لیل کو یاد ہوگا کہ لنکن جس طرح سے دیکھتا تھا، اپنی کرسی پر اس طرح پھیلا ہوا تھا جیسے گہری نیند میں ہو۔ اسے یہ جاننے میں زیادہ دیر نہیں لگی کہ زخم جان لیوا تھا۔ پھر بھی، اس نے اور اِسکے دیگر ساتھی معالجین نے فیصلہ کیا کہ صدر کو سڑک کے پار ولیم پیٹرسن (William Petersen) کی ملکیت والے بورڈنگ ہاؤس (boarding house) میں منتقل کرنا بہتر ہوگا۔ وہاں، لنکن کو نو فُٹ چوڑا اور پندرہ فُٹ لمبے تنگ بیڈ روم میں لایا گیا اور ایک بستر پر لٹایا گیا جو اس کے لمبے جسم کے لیے بہت چھوٹا تھا۔ کابینہ کے ارکان اور دیگر عہدیدار عمارت میں اکٹھے ہو گئے لیکن لیل اور دیگر سرجنوں نے صدر کیلئے اپنی خِدمات سرانجام دیں۔

نائب صدر جانسن وہاں موجود تھے – ایٹزروڈٹ نے (Atzerodt نائب صدر کے ساتھ ڈیوٹی پر معمور اور بوتھ کا سازشی ساتھی) بوتھ پر حملہ کرنے کی ہمت نہیں کی، بالکل اسی طرح جیسے پاول (بُنیادی سازشی) سیورڈ (Seward (سٹیٹ سیکرٹری) کو مارنے میں ناکام رہا تھا۔ صرف بوتھ اپنے مشن میں کامیاب ہوا۔ یونین کے عظیم چیمپئن سینیٹر چارلس سمنر (Charles Sumner) صدر کو دیکھ کر رو پڑے، جبکہ بحریہ کے سکریٹری گیڈون ویلز (Gideon Welles) کو یاد ہوگا کہ لنکن کیسا لگتا تھا: "ان کے نقوش پرسکون اور نمایاں تھے۔ میں نے شاید وہاں پہنچنے کے پہلے گھنٹے کے دوران انہیں کبھی اس سے بہتر حالت میں نہیں دیکھا تھا۔ اس کے بعد ان کی دائیں آنکھ سوجھنے لگی اور اس کا رنگ بدلنے لگا" (Beacham, 404)۔

مسز لنکن تسلی میں نہیں آ رہی تھیں اور انہیں اگلے کمرے میں لے جانا پڑا کیونکہ وہ روتی ہی جا رہی تھیں۔ جراحوں نے سب کُچھ کیا جو وہ کر سکتے تھے، لیکن کچھ دیر پہلے ہی سب پر واضح ہو گیا تھا کہ سوائے دعا کے اور کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ 15 اپریل 1865 کو صبح 7:22 بجے، گولی لگنے کے تقریباً 9 گھنٹے بعد، صدر ابراہم لنکن نے آخری سانس لی اور انتقال کر گئے۔ تماشائی اور سرجن ان کے اردگرد پُر نم آنکھوں میں کھڑے تھے، جب سیکرٹری جنگ ایڈون اسٹینٹن (Edwin Stanton) نے امر (لافانی) الفاظ کہے: "اب وہ زمانوں سے تعلق رکھتا ہے۔"

لنکن کی جسدِ خاکی کو کیپیٹل روٹونڈا (Capitol Rotunda) لایا گیا، جہاں اس سے پہلے کہ جسدِ خاکی کو اسپرنگ فیلڈ، الینوائے (Springfield, Illinois) کے دو ہفتے کے سفر کے لیے جنازے کی ٹرین میں رکھا جائے، جسدِ خاکی کو 19 سے 20 اپریل تک آخری دیدار کیلئے رکھا گیا۔ ٹرین کے گزرتے ہی لاکھوں امریکی ان کو خراج عقیدت پیش کرنے باہر نکل آئے۔ بوتھ بھاگ گیا اور 12 دن کی تلاش کا موضوع رہا یہاں تک کہ آخر کار وفاقی فوجیوں کے ذریعہ اس کا سراغ لگا کر اسے ہلاک کر دیا گیا۔ ابراہم لنکن کا قتل قوم کے لیے ایک اہم موڑ تھا جب وہ تعمیر نو کی طرف بڑھ رہی تھی۔ جس طرح شہید صدر نے پیشین گوئی کی تھی کہ ملکی تاریخ کے چند تاریک ترین اور ہنگامہ خیز دن ابھی باقی ہیں۔

سوالات اور جوابات

کتابیات

ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا ایک ایمیزون ایسوسی ایٹ ہے اور اہل کتابوں کی خریداریوں پر کمیشن کماتا ہے۔

مترجم کے بارے میں

مصنف کے بارے میں

اس کام کا حوالہ دیں

اے پی اے طرز

Mark, H. W. (2026, July 16). ابراہم لنکن کا قتل. (S. Inayat, مترجم). World History Encyclopedia. https://www.worldhistory.org/trans/ur/2-2940/

شکاگو طرز

Mark, Harrison W.. "ابراہم لنکن کا قتل." تَرجَمۂ کَرن وول Samuel Inayat. World History Encyclopedia, July 16, 2026. https://www.worldhistory.org/trans/ur/2-2940/.

ایم ایل اے اسٹائل

Mark, Harrison W.. "ابراہم لنکن کا قتل." تَرجَمۂ کَرن وول Samuel Inayat. World History Encyclopedia, 16 Jul 2026, https://www.worldhistory.org/trans/ur/2-2940/.

اشتہارات ہٹائیں