جارج واشنگٹن

سترہویں سالگرہ فنڈ ریزر

ہماری سترہویں سالگرہ کا جشن منائیں اور دنیا بھر میں مفت تاریخ کی تعلیم کی حمایت کے لیے سالگرہ کا تحفہ دیں!

$2104 / $5000
Harrison W. Mark
بذریعہ ، ترجمہ بذریعہ Samuel Inayat
پر شائع ہوا
Translations 7
bookmark_addbookmark_addedمضمون محفوظ کریں printچھاپیں picture_as_pdfPDF
George Washington (by Gilbert Stuart, Public Domain)
جارج واشنگٹن Gilbert Stuart (Public Domain)

جارج واشنگٹن (1732-1799) ایک امریکی فوجی افسر اور سیاستدان تھے جِنہوں نے امریکی انقلابی جنگ (1775-1783) کے دوران براعظمی فوج کو فتح تک پہنچا کر ریاستہائے متحدہ کے پہلے صدر (1789-1797) کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اِنہیں اکثر 'اپنے ملک کا باپ' سمجھا جاتا ہے (کیونکہ) یہ امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ قابل احترام اور مشہور شخصیات میں سے ایک ہیں۔

ابتدائی زندگی

جارج واشنگٹن 22 فروری 1732 کو صبح 10 بجے ورجینیا کی ویسٹمورلینڈ کاؤنٹی (Westmoreland County) میں واقع 'پوپز کریک' (Pope's Creek) کے زرعی فارم پر پیدا ہوئے۔ وہ ورجینیا کے ایک امیر زمیندار آگسٹین واشنگٹن (Augustine Washington) اور ان کی دوسری بیوی میری بال واشنگٹن (Mary Ball Washington) کے ہاں پیدا ہونے والے چھ بچوں میں سب سے بڑے تھے؛ جارج کے والد کی پہلی شادی سے چار سوتیلے بہن بھائی بھی تھے۔ جارج کے بچپن کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں۔ ان کے ابتدائی سال زیادہ تر دریائے ریپاہانوک (Rappahannock River) کے کنارے واقع خاندانی جائیداد 'فیری فارم' (Ferry Farm) پر گزرے، اور غالباً انہوں نے فریڈرکسبرگ (Fredericksburg)، ورجینیا میں اسکول کی تعلیم حاصل کی، جہاں وہ جیومیٹری، ٹرگونومیٹری اور نقشہ سازی (geometry, trigonometry, and mapmaking) جیسے مضامین میں نمایاں رہے۔ 1743 میں جب ان کے والد کا اچانک انتقال ہوا، تو 11 سالہ جارج کو ورثے میں 'فیری فارم' اور دس غلام ملے۔ اپنی دیکھ بھال کی خاطر کم عمر ہونے کی وجہ سے، وہ ماؤنٹ ورنن (Mount Vernon) میں اپنے سب سے بڑے سوتیلے بھائی لارنس واشنگٹن (پیدائش: 1718 Lawrence Washington) کے ساتھ رہنے چلے گئے۔ جارج لارنس کو اپنا آئیڈیل (قابلِ تقلید مِثالی شخص) مانتے تھے اور انہیں باپ کا درجہ اور بہترین دوست سمجھتے تھے۔

ریاضی کی طرف رُجحان جارج کو 'لینڈ سرویئر' (land surveyor اراضی کی پیمائش کرنے والا) کیریئر اپنانے کی طرف لے گیا، جو دولت اور سماجی ترقی کے حصول کا ایک باعزت راستہ تھا۔ 1748 میں، 16 سال کی عمر میں، اُس نے شیننڈواہ وادی (Shenandoah Valley) میں اپنے بااثر پڑوسی تھامس فیئر فیکس (Thomas Fairfax) کی جائیداد کی پیمائش کر کے اپنی پیشہ ورانہ مُہم کا آغاز کیا۔ اگلے ہی سال، اُس نے سرویئر کا لائسنس (surveyor's license) حاصل کیا اور فیئر فیکس کی سرپرستی میں کلپیپر کاؤنٹی (Culpeper County) کے لیے سرویئر مقرر ہوا۔ اگلے تین سالوں کے دوران، واشنگٹن نے پیمائش کے 200 کام (مہمات) مکمل کیے اور ورجینیا کی مغربی سرحد کے ساتھ کل 60,000 ایکڑ اراضی کی پیمائش کی۔ لیکن عین اس وقت جب جارج نے اپنے کیریئر کی پرواز لی ہی تھی، لارنس تپِ دق (ٹی بی) کا شکار ہو گیا۔ نومبر 1751 میں، وہ کیریبین جزیرے بارباڈوس (Barbados) چلا گیا اس امید کے ساتھ کہ وہاں کی آب و ہوا (گرم خطے کی ہوا) سے اُس کی حالت میں بہتری آئے گی۔ جارج بھی ان کے ہمراہ تھا اور جزیرے پر مختصر قیام کے دوران واشنگٹن خود چیچک (smallpox) کی تکلیف دہ بیماری کا شکار ہو گیا۔ جارج جلد ہی صحت یاب ہو گیا لیکن لارنس اتنا خوش قسمت نہ تھا کیونکہ 1752 میں ورجینیا واپسی کے کچھ ہی عرصے بعد اِس کا انتقال ہو گیا۔ اپنے بھائی کی وفات کے بعد، جارج نے لارنس کی بیوہ سے 'ماؤنٹ ورنن' (Mount Vernon) کو لیز پر لیا اور 1761 میں اُس کی وفات کے بعد اُسکی جائیداد کا قانونی مالک بن گیا۔

اپریل 1754 میں، واشنگٹن کو نَئی تشکیل کی گئی ورجینیا رجمنٹ میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پرترقی دی گئی۔

1753 میں، جارج واشنگٹن جوانی کی عُمر کو پہنچ کر نام پیدہ کرنے کی کسی ایسے موقع کی تلاش میں تھا جو جلد ہی اُسے مل گیا۔ فرانسیسیوں نے دریائے اوہائیو (Ohio River) کے سنگم پر جو زرخیز علاقہ تھا اور ورجینیا کی ملکیت سمجھا جاتا تھا، قلعے تعمیر کرنا شروع کر دیے۔ نومبر میں، واشنگٹن کو ایک سفیر کے طور پر بھیجا گیا تاکہ وہ فرانسیسیوں کو 'اوہائیو کنٹری' (اوہائیو کے علاقے Ohio Country) فوری طور پر خالی کرنے کا مطالبہ کرے۔ مغرب کے اس سفر میں کرسٹوفر گسٹ (ایک تجربہ کار سرحدی رہنما اور گائیڈ Christopher Gist) اور ٹاناچارسون (منگو قبیلے کے سردار جنہیں ورجینیا کے لوگ 'ہاف کنگ' (Half-King) کہتے تھے، ان کے ساتھ شامل ہوئے۔ یہ ٹاناچارسون (Tanacharison) ہی تھا جِس نے واشنگٹن کو سینیکا زبان میں 'کونوٹوکاریئس' (or 'Devourer of Villages Conotocaurius) یا 'دیہاتوں کو ہڑپ کرنے والے' کا نام دیا جو واشنگٹن کے پڑدادا (great-grandfather) کے حوالے سے دیا گیا تھا جِس نے ورجینیا میں مقامی امریکیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے میں مدد کی تھی۔ یہ چھوٹا سا وفد برفانی طوفان کے دوران فرانسیسی قلعے 'لے بوف' (Le Boeuf) پہنچا؛ اگرچہ قلعے کے کمانڈر نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، لیکن واشنگٹن کے مطالبات کو سختی سے مسترد کر دیا گیا۔ اس کے بعد واشنگٹن نے ورجینیا کا واپسی کا سفر شروع کیا جِس میں کئی خطرناک واقعات پیش آئے۔ برف سے اٹے دریائے ایلیگینی (Allegheny) کو ایک خُود ساختہ تختہ دار کشتی (raft) کے ذریعے عبور کرتے ہوئے واشنگٹن پانی میں گر گیا، اور اگر گسٹ (Christopher Gist) اُسے پانی سے باہر نہ نکالتا تو غالباً وہ ڈوب کر ہلاک ہو جاتا۔

George Washington as a Land Surveyor
جارج واشنگٹن بطور ماہرِ پیمائشِ اراضی Henry Hintermeister (Public Domain)

فرانسیسی اور انڈین جنگ

اپریل 1754 میں، واشنگٹن کو نئی تشکیل کی گئی ورجینیا رجمنٹ میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدہ پر ترقی دی گئی (لیکن) اس بار دوبارہ فرانسیسیوں کے نِکل جانے کا مطالبہ کرنے کے لیے اسے 159 آدمیوں کی ایک کمپنی کے ساتھ اوہائیو واپس بھیجا گیا۔ اس نے گریٹ میڈوز (Great Meadows) نامی گھاس کے میدان میں کیمپ لگایا، جہاں اسے تنچاریسن کے اسکاؤٹس (Tanacharison's scouts) میں سے ایک نے اطلاع دی کہ فرانسیسی سپاہیوں کی ایک پارٹی نے قریب ہی کیمپ لگایا ہُوا ہے۔ 28 مئی 1754 کی صبح سویرے، واشنگٹن اور تنچاریسن نے فرانسیسی کیمپ پر اچانک حملہ کیا اور اس کے بعد ہونے والی مختصر جھڑپ میں، کئی فرانسیسی فوجی مارے گئے، جن میں ان کا کمانڈر جوزف کولن ڈی جمون ویل (Joseph Coulon de Jumonville) بھی شامل تھا۔ واشنگٹن پیچھے ہٹتے ہُوئے فوری طور پر گریٹ میڈوز واپس چلا گیا، جہاں اس کے آدمیوں نے فوری طور پر فورٹ نیسیسیٹی (Fort Necessity) تعمیر کیا۔ لیکن جب 3 جولائی کو فرانسیسیوں نے حملہ کیا، تو قلعہ قائم نہ رہ سکا۔ آٹھ گھنٹے کی لڑائی کے بعد، واشنگٹن نے اس شرط پر ہتھیار ڈالنے پر رضامندی ظاہر کی کہ اس کے زندہ بچ جانے والے افراد ورجینیا واپس آ سکیں۔ اس واقعے نے برطانیہ اور فرانس کے درمیان کشیدگی کو بہت بڑھا دیا، جو ایک عالمی تنازعہ، سات سالہ جنگ (1756-1763) کو جنم دینے کا سبب بنا۔

واشنگٹن نے فلاڈیلفیا میں پہلی براعظمی کانگریس میں شرکت کی اور برطانوی فوجیوں کیساتھ ممکنہ تصادم کے پیشِ نظر ورجینیا ملیشیا کو تربیت دینے میں مدد کی۔

اگلے سال، بریگیڈیئر جنرل ایڈورڈ بریڈوک (Edward Braddock) دو باقاعدہ برطانوی رجمنٹوں کے ساتھ ورجینیا میں اترے، جنہیں فورٹ ڈوکیزنے (Fort Duquesne) پر قبضہ کرنے اور اوہائیو سے فرانسیسیوں کو ہمیشہ کے لیے نِکالنے کا کام سونپا گیا۔ جب مئی 1755 میں بریڈاک کی مہم کا آغاز ہُوا، تو واشنگٹن اِس کے معاون (aides-de-camp) کے طور پر اس کے ساتھ گیا، لیکن پیچش کی وجہ سے زیادہ تر مہم میں پیچھے رہنے پر مجبور ہوا۔ تاہم، جب 9 جولائی کو مونونگھیلا کی لڑائی (Battle of the Monongahela) میں فرانسیسی اور ان کے مقامی اتحادیوں نے گھات لگا کر حملہ کیا تو وہ فوج کے ساتھ تھا۔ اِسنے دو جنگی گھوڑے مارے جانے اور پسپائی کے باوجود، خوف زدہ برطانوی فوج کو اکٹھا کرنے کی قیادت کرنے میں مدد کی۔ گھات لگائے حملے میں 800 سے زائد برطانوی اور صوبائی فوجی ہلاک ہو چکے تھے جن میں بریڈاک بھی شامل تھا، جو جان لیوا زخمی ہو گیا تھا۔ اگلے دو سالوں میں، واشنگٹن، جو اب ورجینیا رجمنٹ کا مکمل کرنل تھا، نے کالونی کی مغربی سرحد کے دفاع کی نگرانی کی۔ 1758 میں، اس نے فوربس مہم (Forbes Expedition) میں شمولیت اختیار کی اور بغیر گولی چلائے فورٹ ڈوکیسن (Fort Duquesne) پر قبضہ کر لیا۔ اس مہم نے فرانسیسی اور اِنڈیں جنگ کا رخ موڑنے میں مدد دی، جس کے نتیجے میں بالآخر 1763 میں برطانوی فتح ہوئی۔

شادی اور زرعی زندگی

مایوس ہو کر کہ اس کے کارناموں کی وجہ سے اسے باقاعدہ برطانوی فوج میں کمیشن حاصل نہ ہُوا، واشنگٹن نے ورجینیا رجمنٹ سے استعفیٰ دے دیا اور ماؤنٹ ورنن (Mount Vernon) واپس چلا گیا۔ اس نے 1758 میں ہاؤس آف برجیس (House of Burgesses) کا انتخاب جیتا اور اگلے جنوری میں، امیر بیوہ مارتھا ڈینڈریج کسٹس (Martha Dandridge Custis) سے شادی کر لی۔ اس شادی سے واشنگٹن کو 18,000 ایکڑ کی کسٹس اسٹیٹ کے ساتھ ساتھ 84 غلاموں کا کنٹرول حاصِل ہو گیا، جس سے وہ ورجینیا کے سب سے بااثر زمینداروں میں سے ایک بن گیا۔ مارتھا سے اِسکی کبھی کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ کچھ علماء کی قیاس آرائیاں ہیں کہ 1751 میں چیچک کے ساتھ مقابلے نے اسے (مخصوص) جراثیم سے محروم کر دیا تھا۔ اس کی بجائے، واشنگٹن نے مارتھا کی پہلی شادی کے بچوں، جان پارکے کسٹس اور مارتھا 'پیٹسی' پارکے کسٹس (John Parke Custis and Martha 'Patsy' Parke Custis) کے ساتھ ایسا سلوک کیا جیسے وہ اس کے اپنے ہوں۔ افسوس کی بات ہے کہ دونوں بچے جوانی میں ہی فوت ہو گئے۔ پاٹسی 1773 میں 17 سال کی عمر میں مرگی کے دورے سے فوت ہو گئی، جب کہ جان 1781 میں یارک ٹاؤن میں خدمات انجام دیتے ہوئے 'کیمپ بخار' (فوجی کیمپوں میں پھیلنے والی متعدی بیماری) سے مر گیا۔ ان کی موت کے بعد بھی، واشنگٹن جان کے بچوں کی پرورش کرنے میں خوش تھا۔

George Washington as a Farmer
جارج واشنگٹن بطور کِسان Junius Brutus Stearns (Public Domain)

واشنگٹن نے 1760 کی دہائی کا بیشتر حصہ اپنے پیارے گھر 'ماؤنٹ ورنن' (Mount Vernon) کی دیکھ بھال میں گزارا، جہاں سینکڑوں غلام گندم اور تمباکو کی کاشت اور کٹائی کا کام کرتے تھے۔ واشنگٹن کی زندگی کے دوران، کل 577 غلام ماؤنٹ ورنن میں مقیم رہے اور وہاں کام کرتے رہے۔ اگرچہ اس دور کے معیار کے مطابق واشنگٹن کو غلاموں پر ظلم کرنے والا آقا نہیں سمجھا جاتا تھا، لیکن اس کے غلاموں کو اکثر ناکافی خوراک پر گزارا کرنا پڑتا تھا، تنگ اور ایک کمرے والے مکانوں میں رہنا پڑتا تھا، اور ہر وقت واشنگٹن کے نگرانوں کی سخت نگرانی میں زندگی گزارنی پڑتی تھی۔ اس کے علاوہ، واشنگٹن کو فرار ہونے کی کوشش کرنے والے غلاموں کو کوڑے مارنے یا فروخت کرنے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی تھی۔ غلامی کے نظام کے بارے میں واشنگٹن کے خیالات وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے گئے اور انقلاب کی آمد تک وہ اس کو انتہائی ناپسندیدہ سمجھنے لگا۔ اس کے باوجود، اس نے غلامی کے خاتمے کے لیے عملی طور پر بہت کم کام کیا اور بے شک اپنی موت تک غلاموں کو کرائے پر لینے اور خریدنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

جب واشنگٹن ماؤنٹ ورنن میں اپنی زندگی کے معاملات میں مصروف تھا، اسی دوران برطانیہ اور تیرہ کالونیوں کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی تھی۔ کالونی کے باشندوں کے حقوق اور آزادی پر اختلافِ رائے، جس کا اظہار پارلیمنٹ کے اس آئینی اختیار پر اعتراض کی صورت میں ہوا کہ وہ 'اسٹیمپ ایکٹ' اور 'ٹاؤن شینڈ ایکٹس' (Stamp Act and Townshend Acts) جیسے ٹیکس قوانین نافذ کرے۔ ایسے قوانین جن پر کالونی کے باشندوں نے کبھی رضامندی ظاہر نہیں کی تھی، نے ہنگاموں اور تشدد کے واقعات، جیسے کہ 'بوسٹن قتلِ عام' (1770)، کو جنم دیا۔ واشنگٹن کا جھکاؤ تیزی سے پارلیمنٹ کے خلاف ہوتا گیا اور ورجینیا کے ممتاز شہریوں میں سے ایک ہونے کی حیثیت سے خود بخود کالونی کی 'وِگ' (Whig) یا 'پیٹریاٹ' (حب الوطن) تحریک کا رہنما بن گیا۔ 1774 میں، اس نے فلاڈیلفیا میں 'پہلی برِ اعظمی کانگریس' (Continental Congress) میں شرکت کی اور برطانوی فوجیوں کے ساتھ ممکنہ تصادم کے پیشِ نظر ورجینیا کی ملیشیا (عوامی فوج) کو تربیت دینے میں مدد کی۔ جب 19 اپریل 1775 کو لیکسنگٹن اور کونکورڈ کی (Battles of Lexington and Concord) لڑائیوں میں خون بہا، تو واشنگٹن اپنے وطن کے لیے لڑنے کو تیار تھا۔

کمانڈر ان چیف

14 جون 1775 کو، برِ اعظمی کانگریس کے دُوسرے اجلاس میں برِ اعظمی فوج کو مُلک کی ایک باقاعدہ فوج کا درجہ دے دیا اور واشِنگٹن کو اِسکا کمانڈر انچیف نامزد کیا گیا۔ ان کے فیصلے کے پیچھے واشِنگٹن کا فوجی تجربہ تھا، اس لیے کہ انہیں لگتا تھا کہ جنوبی کالونیوں کا اُنکے اپنے ہی کِسی شخص کے پیچھے مُتحد ہونے کا زیادہ امکان تھا۔

2 جولائی کو، واشنگٹن کیمبرج، میساچوسٹس (Cambridge, Massachusetts) کے آرمی ہیڈکوارٹر میں پہنچا، جہاں برِ اعظمی فوج بوسٹن کا محاصرہ کر رہی تھی۔ واشنگٹن کو یہ جان کر مایوسی ہوئی کہ اس کی نئی فوج غیر مُظم ہونے کے ساتھ نوآبادیاتی ملیشیاؤں کے جھنجھٹ میں ہی اُلجھی ہُوئی تھی، اِس لئے اُس نے فوجیوں سے مُزید محنت کروائی اور اُن میں نظم وضبط قائم کیا۔ 1776 کے اوائل میں، آخر کار اسے محاصرہ جِتنے کا موقع مل گیا، جب کرنل ہنری ناکس (Henry Knox)، فورٹ ٹکونڈیروگا (Ticonderoga) سے پکڑا ہُوا بھاری توپخانہ لے کر پہنچا جو واشنگٹن نے بوسٹن کے اُوپر واقع ڈورچیسٹر ہائٹس (Dorchester Heights) پر نصب کیا۔ توپ خانے کی بمباری کا سامنا کرنے کے بجائے، برطانویوں نے 17 مارچ کو شہر کو سمندر کے ذریعے خالی کر دیا، اور بوسٹن واپس امریکی ہاتھوں میں چلا گیا۔

George Washington, 1776
جارج واشنگٹن، 1776 Charles Willson Peale (Public Domain)

اس کے بعد واشنگٹن اپنی فوج لے کر نیویارک شہر پہنچا، کیونکہ اُسے صحیح اندازہ تھا کہ برطانویوں کا اگلا ہدف یہی شہر ہوگا۔ جولائی میں، جب وہ شہر کا دفاعی انتظام کر رہا تھا، اُسے اطلاع ملی کہ کانگریس نے ریاستہائے متحدہ کی آزادی کا اعلان کر دیا ہے؛ چنانچہ 9 جولائی کو واشنگٹن نے اپنی فوج کو اکٹھا کیا اور پُر جوش سپاہیوں کے سامنے ’اعلامیہ آزادی‘ (Declaration of Independence) بلند آواز میں پڑھ کر سنایا۔ اسی دوران، 32 ہزار فوجیوں پر مشتمل برطانوی لشکر قریبی جزیرے ’سٹیٹن آئی لینڈ‘ (Staten Island) پر جمع ہو رہا تھا۔ بالآخر برطانوی فوج نے ’لانگ آئی لینڈ کی لڑائی‘ (27 اگست 1776 Battle of Long Island) میں حملہ کیا اور واشنگٹن کے دستوں کو ’ہائیٹس آف گوان‘ (Heights of Guan) پر قائم ان کے مورچوں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا، جس کے نتیجے میں 2 ہزار سے زائد امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے۔ اگر واشنگٹن 29 اور 30 ​​اگست کی درمیانی طوفانی رات اپنی فوج کو لانگ آئی لینڈ سے بحفاظت نکالنے میں کامیاب نہ ہوتا تو برطانوی فوج اسی وقت ’برِاعظمی فوج‘ (Continental Army) کو شکست دے سکتی تھی۔ تاہم، اُسے نیویارک شہر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا اور 15 ستمبر کو برطانوی فوج نے اس شہر پر قبضہ کر لیا۔

اگلے کئی ہفتوں تک، نیویارک کے نچلے حِصے اور نیو جرسی کے علاقوں میں واشنگٹن کا پیچھا کیا گیا اور اس دوران انہوں نے 16 ستمبر کو ہارلیم ہائٹس (Harlem Heights)، 28 اکتوبر کو وائٹ پلینز (White Plains) اور 16 نومبر کو فورٹ واشنگٹن (Fort Washington) کے مقامات پر غیر موثر جنگیں لڑیں، کیونکہ مسلسل نقصانات اور تھکن کے باعث اُس کی فوج کی تعداد کم ہوتی جا رہی تھی۔ دسمبر کے وسط تک اُس کی فوج محض 3,000 جوانوں پر مشتمل تھی، اور بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ یہ فوج سردیوں کا موسم برداشت نہیں کر پائے گی۔ لیکن واشنگٹن اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا کہ پورے انقلاب کی کامیابی کا انحصار اُس کی فوج کی بقا پر ہے، اس لیے وہ ہر قیمت پر اسے بچانے کے لیے پرعزم تھا۔ اسی سوچ کے تحت اُس نے 'فیبین حکمتِ عملی' (Fabian strategy) اپنائی، جس کے تحت جہاں تک ممکن ہُوا براہِ راست اُس نے بڑی جنگوں سے گریز کیا اور چھوٹے حملوں اور 'آگ بڑھکانے' (scorched earth) کی حکمتِ عملی کے ذریعے دشمن کو کمزور کرنے کو ترجیح دی۔ تاہم، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ واشنگٹن کوئی بزدل کمانڈر تھا؛ وہ مسلسل ایسے مواقع کی تلاش میں رہتا تھا جب دشمن غفلت کا شکار ہو اور اس پر کاری ضرب لگائی جا سکے۔ ایسا ہی ایک موقع 25 دسمبر 1776 کی رات پیش آیا جب واشنگٹن نے برفانی دریائے ڈیلاویئر (Delaware River) کو عبور کیا اور اگلی صبح 'جنگِ ٹرینٹن' (Battle of Trenton) میں ہیشین (Hessian) فوج کی چوکی کو حیران کن حملے کے ذریعے شکست دی۔ اس فتح اور اس کے فوراً بعد 'جنگِ پرنسٹن' (3 جنوری 1777 Battle of Princeton) میں ملنے والی کامیابی نے انقلاب کے لیے عوامی حمایت کو دوبارہ متحرک کر دیا۔

اگلے سال، واشنگٹن نے امریکی دارالحکومت فلاڈیلفیا کے دفاع کے لیے پنسلوانیا کی طرف پیش قدمی کی۔ اِسے 'جنگِ برانڈی وائن' (11 ستمبر Battle of Brandywine) اور 'جنگِ جرمین ٹاؤن' (4 اکتوبر Battle of Germantown) میں سخت مقابلے کے باوجود شکست کا سامنا کرنا پڑا اور وہ ستمبر کے اواخر میں برطانوی فوج کو فلاڈیلفیا پر قبضہ کرنے سے نہ روک سکا۔ لیکن دارالحکومت کے نقصان کا امریکی حوصلے پر وہ منفی اثر نہیں پڑا جس کی برطانوی توقع کر رہے تھے۔ دسمبر میں، واشنگٹن اپنی فوج کو 'ویلی فورج' (Valley Forge) لے گیا، جہاں اس نے سردیوں کا موسم اہم انتظامی اصلاحات کرنے (خاص طور پر رسد کے نظام میں بہتری)، فوجیوں کو چیچک سے بچاؤ کے ٹیکے لگانے اور اپنی قیادت کے خلاف 'کونوے کیبال' (Conway Cabal) نامی سیاسی سازش کا مقابلہ کرنے میں گزارا۔ اس دوران، بیرن فریڈرک وان اسٹیوبن (Baron Friedrich von Steuben) جیسے افسران نے 'برِ اعظمی فوج' (Continental Army) کی نئے سرے سے تربیت کی اور اسے زیادہ نظم و ضبط کی حامل اور مؤثر جنگی قوت میں تبدیل کر دیا۔ جب جون 1778 میں برِ اعظمی فوج ویلی فورج سے باہر نکلی تو وہ اپنی نئی مہارت کو آزمانے کے لیے بے تاب تھی؛ چنانچہ 'جنگِ مونموتھ' (28 جون Battle of Monmouth) میں، شدید گرمی میں برِ اعظمی فوجیوں نے برطانوی فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ اسی سال، فرانس امریکہ کے اتحادی کے طور پر جنگ میں شامل ہو گیا۔

Washington Rallying his Troops at the Battle of Monmouth
مونمتھ کی لڑائی میں واشنگٹن کا اپنے دستوں کو منظم کرنا Emanuel Leutze (Public Domain)

اس کے بعد واشنگٹن اپنی فوج کو نیویارک شہر سے باہر لے گیا اور اگلے دو سال تک یہیں ڈٹا رہا کیونکہ جنگ کا مرکز جنوب کی جانب منتقل ہو چکا تھا۔ واشنگٹن نے جنوبی فوج کی قیادت کے لیے اپنے قابلِ اعتماد جرنیل نیتھانیل گرین (Nathanael Greene) کو روانہ کیا، جبکہ وہ خود مین ہٹن (Manhattan) میں موجود برطانوی فوج کی بڑی تعداد پر نظر رکھنے کے لیے شمال ہی میں رہا۔ 1781 کے موسمِ خزاں میں، واشنگٹن نے بالآخر فرانسیسی اور امریکی مشترکہ فوج کی قیادت کرتے ہوئے جنوب کا رخ کیا تاکہ لارڈ چارلس کارنوالس (Lord Charles Cornwallis) کی زیرِ قیادت اس برطانوی فوج کا محاصرہ کر سکے جو ورجینیا کے علاقے یارک ٹاؤن میں پھنس گئی تھی۔ خشکی پر واشنگٹن کی فوج اور سمندر میں فرانسیسی بحریہ کے درمیان گھِر جانے کے بعد، کارنوالس کے پاس 19 اکتوبر 1781 کو واشنگٹن کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا، جس کے ساتھ ہی جنگ کا اہم مرحلہ اختتام پذیر ہوا۔ دو سال بعد 1783 میں 'معاہدہ پیرس' (Treaty of Paris) کو حتمی شکل دی گئی، اور نومبر میں برطانوی فوجیوں کے آخری دستے نے نیویارک شہر خالی کر دیا۔

آئینی بحران

دسمبر 1783 میں، واشنگٹن نے برِ اعظمی فوج کے کمانڈر انچیف کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا اور ماؤنٹ ورنن (Mount Vernon) واپس آ گیا، یہ اِرادہ کرتے ہُوئے کہ وہ (اپنی باقی زِندگی) ایک ریٹائر شریف آدمی کی طرح کاشتکار کے طور پر گُزارے گا۔ اگلے کئی سالوں تک، اس نے کھیتی باڑی کی نِگرانی کی جِس سے اِسکا لگاوؐ بھی تھا (اِور اِس دوران) کنفیڈریشن کی کمزوری پر قومی تشویش بڑھنے لگی (اِس لئے) کہ قوانین نے وفاقی حکومت کو ریاستوں کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے کمزور رکھا؛ کانگریس ٹیکس بڑھانے یا شیز کی بغاوت (1786-87 Shays' Rebellion) جیسی مسلح بغاوتوں کو ختم کرنے کے لیے بے اختیار تھی۔ واشنگٹن نے بالآخر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ قوانین کو مکمل طور پر تبدیل کرنا پڑے گا، اور جب مئی 1787 میں فلاڈیلفیا میں اجلاس مُنعقد ہُوا تو اس نے ہچکچاتے ہوئے آئینی کنونشن کے صدر کے طور پر کام کرنے پر اتفاق کیا۔

کنونشن نے حکومت کا ایک نیا ڈھانچہ تیار کیا یعنی ریاستہائے متحدہ کا آئین، جس کی 1788 تک نو ضروری ریاستوں نے توثیق کی تھی۔ نئے آئین میں قوم کے چیف ایگزیکٹو (سربراہِ انتظامیہ) کے طور پر خدمات انجام دینے کے لیے صدر کے انتخاب کا تقاضا کیا گیا تھا؛ اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ واشنگٹن ہی اس عہدے کے لیے موزوں ترین شخصیت تھے اور درحقیقت کسی اور امیدوار پر غور تک نہیں کیا گیا۔ 1789 کے امریکی صدارتی انتخابات میں، ووٹرز نے متفقہ طور پر انہیں پہلے صدر کے طور پر ووٹ دیا، جان ایڈمز (John Adams) نائب صدر منتخب ہوئے۔ واشنگٹن کا افتتاح 30 اپریل 1789 کو نیو یارک سٹی کے فیڈرل ہال (Federal Hall) میں ہوا، جس پر ایوان صدر کے دفتر کی وضاحت اور آنے والے ہنگامہ خیز سالوں میں کمزور اِبتدائی جمہوریہ کی رہنمائی کا بوجھ تھا۔

Washington at the Constitutional Convention, 1787
واشنگٹن آئینی کنونشن میں،1787 Junius Brutus Stearns (Public Domain)

صدارت

واشنگٹن نے وہ احتیاط جو اُس نے میدانِ جنگ میں برتی اور مُفید بھی رہی، اپنے دو صدارتی ادوار کے دوران اسی طرح احتیاط کی۔ انہوں نے کسی ایسے لقب یا سرکاری طریقہ کار کو اپنانے سے گریز کیا جس سے بادشاہت کی بو آتی ہو، اس کی بجائے ’مسٹر پریذیڈنٹ‘ (جناب صدر) جیسے سادہ اور عاجزانہ لقب کو ترجیح دی، نیز انہوں نے اپنی کابینہ میں پنپنے والی گروہ بندی اور سیاسی جانبداری سے بھی خود کو دور رکھا۔ واشنگٹن انتظامیہ کے ابتدائی سالوں میں، وزیر خزانہ الیگزینڈر ہیملٹن (Alexander Hamilton) نے ایک متنازعہ مالیاتی پروگرام پیش کیا جس کے تحت وفاقی حکومت کو ریاستوں کے قرضے اپنے ذمے لینے اور ایک قومی بینک کا قیام عمل میں لانا تھا۔ سیکریٹری خارجہ تھامس جیفرسن (Thomas Jefferson) اور جنوبی ریاستوں میں ان کے حامیوں نے اس منصوبے کی شدید مخالفت کی۔ کابینہ کے اجلاس میں ہیملٹن اور جیفرسن کے درمیان اکثر ٹکراؤ ہوتا رہا، یہاں تک کہ 1790 میں ایک سمجھوتہ طے پایا؛ جس کے تحت جیفرسن، ہیملٹن کے منصوبے کی حمایت کرنے پر اس شرط کے ساتھ راضی ہوئے کہ نیا وفاقی شہر جس کا نام واشنگٹن کے اعزاز میں رکھا جانا تھا، دریائے پوٹومیک (Potomac River) کے کنارے تعمیر کیا جائے۔ تاہم، سیاسی گروہ بندی اور کشمکش کا یہ سلسلہ ابھی شروع ہی ہوا تھا اور واشنگٹن کی بقیہ صدارت اور اس کے بعد کے عرصے میں بھی اس میں شدت آتی گئی۔

1794 میں مغربی پنسلوانیا میں ’وِسکی بغاوت‘ (Whiskey Rebellion) پھوٹ پڑی، جب کسانوں نے ہیملٹن کی جانب سے شراب پر عائد کیے گئے نئے ایکسائز ٹیکس کے خلاف بغاوت کر دی۔ اگرچہ واشنگٹن ابتدا میں فوجی طاقت کے استعمال سے یِچکچاتے رہے، لیکن بعد میں انہوں نے 13 ہزار افراد پر مشتمل ایک وفاقی ملیشیا تشکیل دی جس نے بغیر کسی لڑائی کے اس بغاوت کو کچل دیا۔ اس واقعے نے وفاقی حکومت کے اختیار اور ساکھ کو مضبوط کیا۔ واشنگٹن انتظامیہ نے ’نارتھ ویسٹ انڈین وار‘ (1790-1795 Northwest Indian War) بھی لڑی، جو امریکہ اور مقامی امریکی اقوام کے اتحاد کے درمیان ’نارتھ ویسٹ ٹیریٹری‘ (شمال مغربی علاقے) پر کنٹرول کے لیے ہوئی تھی۔ جنرل ’میڈ‘ انتھونی وین General 'Mad' Anthony Wayne کی قیادت میں امریکی فوجیوں نے ’فالن ٹمبرز‘ کی لڑائی Battle of Fallen Timbers میں فتح حاصل کی، جس کے نتیجے میں ہونے والے ’معاہدہ گرین وِل‘ (Treaty of Greenville) کے تحت مقامی امریکیوں کو اس علاقے پر اپنے دعوے امریکہ کے حق میں چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا (اور مُزید یہ کہ) اس دوران، مقامی باشندوں کی خفیہ حمایت کرنے والے برطانویوں کو بھی خطے میں اپنے قلعے چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔

واشنگٹن کی دوسری مدتِ صدارت کا بیشتر حصہ اُس دوران جاری رہنے والے فرانسیسی انقلاب (1789-1799 French Revolution) کے زیرِ اثر گزرا، جس نے پورے یورپ کو ایک ہمہ گیر جنگ کی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ اگرچہ جیفرسن اور ابھرتی ہوئی 'ڈیموکریٹک-ریپبلکن پارٹی' نے اُن پر زور دیا کہ وہ انقلابی فرانس کی حمایت کریں، لیکن واشنگٹن نے غیر جانبداری کی پالیسی اختیار کی اور فرانسیسی انقلابی جنگوں میں ملوث ہونے سے انکار کر دیا۔ اس فیصلے پر تنازعے میں 1794 کے 'جے معاہدے' (Jay Treaty) کی وجہ سے مزید شدت آ گئی، جس نے برطانیہ کے ساتھ امریکہ کے معاشی تعلقات کو مضبوط کیا تھا۔ ان دونوں معاملات نے ڈیموکریٹک-ریپبلکنز اور ہیملٹن کی 'فیڈرسٹ پارٹی' کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو مزید ہوا دی۔

Washington on his Deathbed
واشنگٹن بِسترِ مرگ پر Junius Brutus Stearns (Public Domain)

ریٹائرمنٹ اور وفات

اپنی دوسری مدتِ صدارت کے اختتام پر، واشنگٹن نے دوبارہ انتخاب لڑنے سے انکار کر دیا؛ تیسری بار عہدہ سنبھالنے سے ان کے اس انکار نے ایک ایسی روایت قائم کی جس کی پیروی فرینکلن ڈی روزویلٹ (Franklin D. Roosevelt) کے علاوہ بعد میں آنے والے ہر امریکی صدر نے کی۔ واشنگٹن نے 19 ستمبر 1796 کو اپنا الوداعی خطاب کیا، جس میں انہوں نے سیاسی جماعتوں سے لاحق خطرات کے بارے میں خبردار کیا۔ 4 مارچ 1797 کو اپنی مدتِ صدارت ختم ہونے پر وہ عہدے سے سبکدوش ہو گئے اور ماؤنٹ ورنن (Mount Vernon) واپس چلے گئے۔ 12 دسمبر 1799 کی شام، گھوڑے پر سوار کھیتی باڑی کے کاموں کی نگرانی کرتے ہوئے بارش میں دن گزارنے کے بعد، واشنگٹن گلے کی تکلیف کے ساتھ گھر واپس آئے۔ اگلی صبح وہ شدید بیمار پڑ گئے اور ڈاکٹروں نے ان کے جسم سے چار بار بڑی مقدار میں خون نکالا۔ 14 دسمبر 1799 کو رات 10 بجے 67 برس کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کی وفات پر ریاستہائے متحدہ اور مغربی دنیا بھر میں سوگ منایا گیا، جہاں انہیں آزادی اور حریت کے علمبردار کے طور پر سراہا جاتا تھا۔

سوالات اور جوابات

مترجم کے بارے میں

مصنف کے بارے میں

اس کام کا حوالہ دیں

اے پی اے طرز

Mark, H. W. (2026, August 24). جارج واشنگٹن. (S. Inayat, مترجم). World History Encyclopedia. https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-19629/

شکاگو طرز

Mark, Harrison W.. "جارج واشنگٹن." تَرجَمۂ کَرن وول Samuel Inayat. World History Encyclopedia, August 24, 2026. https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-19629/.

ایم ایل اے اسٹائل

Mark, Harrison W.. "جارج واشنگٹن." تَرجَمۂ کَرن وول Samuel Inayat. World History Encyclopedia, 24 Aug 2026, https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-19629/.

اشتہارات ہٹائیں