امریکی خانہ جنگی

ریاستہائے متحدہ کی پیدائشی تکالیف
Joshua J. Mark
بذریعہ ، ترجمہ بذریعہ Samuel Inayat
پر شائع ہوا
Translations 9
bookmark_addbookmark_addedمضمون محفوظ کریں printچھاپیں picture_as_pdfPDF
Map of the American Civil War, 1861-1865 (by Simeon Netchev, CC BY-NC-ND)
امریکی خانہ جنگی کا نقشہ، 1861-1865 Simeon Netchev (CC BY-NC-ND)

امریکی خانہ جنگی (1861-1865) ریاستہائے متحدہ کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم واقعہ تھا جو نپولین کی جنگوں (1815) کے خاتمے اور پہلی جنگِ عظیم (1914) کے آغاز کے درمیانی عرصے میں مغربی دنیا کی سب سے بڑی مسلح جنگ تھی۔

جنوبی ریاستوں اور شمالی ریاستوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعے کا سبب غلامی کا نظام تھا، جنوبی ریاستیں اپنی زرعی معیشت کے لیے غلاموں کی محنت پر بہت زیادہ انحصار کرتی تھیں جبکہ شمالی ریاستیں انتہائی صنعتی تھیں جنہیں غلاموں کی بہت کم ضرورت تھی۔

خانہ جنگی کے بعد کا یہ دعویٰ جو آج بھی دہرایا جاتا ہے کہ یہ تنازعہ ریاستوں کے حقوق کی خاطر تھا؛ اس وقت تک قابلِ قبول نہیں جب تک سوچ میں تبدیلی نہ لائی جائے کہ "خانہ جنگی ریاستوں کے غلامی کے نظام کو برقرار رکھنے کے حق کے لیے لڑی گئی تھی۔

" 1860 اور 1861 میں یونین (ریاستہائے متحدہ یعنی شمالی ریاستیں) سے علیحدگی اختیار کرنے والی غلام رکھنے والی ریاستوں کی دستاویزات میں بار بار غلامی کے نظام کو برقرار رکھنے کی ضرورت کا حوالہ دیا گیا ہے اور اس سے قبل کی دستاویزات اور واقعات بھی اس دعوے کی تائید کرتے ہیں کہ غلامی ہی وہ بنیادی وجہ تھی جس نے انیسویں صدی کے نصفِ اول میں شمال اور جنوب کے درمیان تقسیم پیدا کرنے والے دیگر تمام مسائل کو جنم دیا تھا۔

جنگ 12 اپریل 1861 سے شروع ہوئی، جب کنفیڈریٹ فورسز (Confederate forces) نے فورٹ سمٹر (Fort Sumter یونین کے زیرِ کنٹرول قلعہ) پر فائرنگ کی اور 9 اپریل 1865 تک جاری رہی، جب کنفیڈریٹ جنرل رابرٹ ای لی (Robert E. Lee) نے اپومیٹوکس کورٹ ہاؤس (Appomattox Court House) میں یونین جنرل یولیس ایس گرانٹ (Union general Ulysses S. Grant) کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ تاہم، اپریل کے بعد بھی مُخالفت جاری رہی۔ جنگ کا آخر کار اختتام اکثر 26 مئی 1865 سمجھا جاتا ہے، جب کنفیڈریٹ لیفٹیننٹ جنرل سائمن بی بکنر Confederate Lt. General) Simon B. Buckner) نے محکمہ ٹرانس-مسیسیپی یونین کے حوالے کر دیا۔

جنگ سے ریاستہائے متحدہ میں غلامی کا خاتمہ ہُوا، اور اِسمیں 650,000 سےبھی زیادہ کی جانیں گئیں۔

جنگ سے 650,000 سےبھی زیادہ کی جانوں کی قیمت پر، (قانون میں) تیرھویں ترمیم کے ذریعے، ریاستہائے متحدہ میں غلامی کا خاتمہ ہُوا۔ اِس جنگ نے شجرکاری کے نظام اور جنوب کی زرعی معیشت کو تباہ کر دیا اور شمال کو مزید صنعتی بنا دیا۔ تعمیر نو کا دور (1865-1877) متحارب ریاستوں کو ایک مربوط یونین میں واپس لایا اور اِسی سے ریاستہائے متحدہ امریکہ کا قیام عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔

پس منظر

جیسا کہ خیال کیا جاتا ہے کہ امریکی خانہ جنگی غلامی پر لڑی گئی تھی حالانکہ، ابتدائی طور پر، صدر ابراہم لنکن صرف یونین کے تحفظ اور ان علاقوں میں غلامی کے پھیلاؤ کو روکنے میں دلچسپی رکھتے تھے جِن کا درجہ ابھی ریاست کا نہیں تھا۔ جنگ کی طرف لے جانے والے تمام اہم واقعات کا تعلق آزاد ریاستوں اور غلام ریاستوں کے درمیان مندرجہ ذیل تنازعات سے تھا:

1808 میں بحر اوقیانوس کے پار سے غلاموں کی تجارت کے خاتمے سے ریاستہائے متحدہ کے باہر سے غلاموں کا آنا بند ہو گیا، حالانکہ جنوبی ریاستوں کی طرف سے یہ پُر زور مطالبہ تھا، جس کے نتیجے میں جنوب میں غیر قانونی درانداز کارروائیاں شروع ہوئیں اور وفاقی حکومت کی طرف سے انہیں روکنے کی کوششیں کی گئیں۔

1820 کے میسوری سمجھوتہ نے مسوری (Missouri) کو غلام ریاست اور مین (Maine) کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا جبکہ غلامی کے حوالے سے شمالی اور جنوبی مفادات کو تحفظ دینے کے لیے حکومت کی جانب سے توازن قائم کرنے کا عمل جاری رہا۔

1831 کی نیٹ ٹرنر کی بغاوت: امریکی تاریخ میں ٹرنر کی مُسلح مہلک غلام بغاوت نے بڑے پیمانے پر غُلامی سے آزادی کے بارے میں بحث کی حوصلہ افزائی کی۔ بُغاوت غلامی کے خِلاف سخت قانون سازی کا باعث بھی بنی جن کی شمالی انتہا پسندوں نے مذمت کی جبکہ جنوب سے غُلاموں کے مالکان نے بغاوت کا الزام غاصبوں کو ٹھہرایا۔

Nat Turner's Rebellion
نیٹ ٹرنر کی بغاوت Unknown Artist (Public Domain)

قوانین کی منسوخی کا بحران (1832): جنوبی کیرولائنا (South Carolina) نے وفاقی محصولات پر سوال اُٹھایا اور ریاستوں کے وفاقی قوانین اور ضوابط کو کالعدم کرنے کے حقوق پر زور دیا تا کہ بعد میں علیحدگی کا جواز پیش کرنے کے لیے ایک بنیاد قائم کی جا سکے۔

1845 میں فریڈرک ڈگلس کی سوانح عمری کی اشاعت: فریڈرک ڈگلس کی سوانح عمری 1852 میں ہیریئٹ بیچر سٹو (Harriet Beecher Stowe) کی انکل ٹام کیبن (Uncle Tom's Cabin) کی اشاعت سے پہلے سب سے زیادہ فروخت ہونے والا غُلامی بابت بیانیہ بن گیا۔ اِن اشاعتوں و دیگر جِن کے مُصنف پہلے غُلام تھے، کی وجہ سے غُلامی مُخالف مُہم تیز تر ہو گئی۔

1850 کے مفرور (Fugitive) غلام ایکٹ نے لازمی قرار دیا کہ تمام ریاستوں کے شہری جرمانہ اور قید ہونے کے خوف کے پیشِ نظر فرار ہونے والے غلاموں کو پکڑنے اور واپس کرنے میں مدد دیں۔ یہ قانون شمال میں انتہائی غیر مقبول تھا، جس کی وجہ سے جنوب سے تعلق رکھنے والے غُلام مالکان کیلئے یہ ناراضگی کا سبب تھا۔

1850 کے سمجھوتہ نے علاقوں میں مقبول خودمختاری کا تصور قائم کیا، جس سے لوگوں کو یہ انتخاب کرنے کی اجازت ملی کہ وہ غلام یا آزاد ریاست بنیں۔ قانون نے کیلیفورنیا (California) کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا لیکن ساتھ ہی، مفرور غلام ایکٹ کو مضبوط کیا۔

1854 کے کینساس-نبراسکا ایکٹ نے ایک ایسی خودمختاری جو مقبول بھی ہو، کیساتھ یہ فیصلہ کرنے کی اِجازت دی کہ آیا کنساس اور نیبراسکا (Kansas and Nebraska) کے علاقے آزاد ہوں گے یا غلام ریاستیں، جس کے نتیجے میں "خونی کنساس" (Bleeding Kansas) کا تشدد ہوا جس میں غلامی کے حامی اور آزاد ریاستوں نے ایک دوسرے سے جنگ کی، جسے اکثر "خانہ جنگی کی ڈریس ریہرسل" (dress rehearsal for the Civil War) سمجھا جاتا ہے۔

1857 کے ڈریڈ سکاٹ کے فیصلے نے یہ فیصلہ دیا کہ امریکہ میں سیاہ فام لوگ شہری نہیں ہیں، ان کے کوئی حقوق نہیں ہیں، اور اس لیے قانونی چارہ جوئی نہیں کر سکتے۔ اس نے یہ بھی فیصلہ دیا کہ کانگریس کو ان علاقوں میں غلامی پر پابندی لگانے کا کوئی اختیار نہیں ہے جو ابھی تک ریاستہائے متحدہ کا حصہ نہیں تھے۔

1859 میں ہارپرز فیری پر جان براؤن کا حملہ: غُلامی مُخالف جان براؤن (John Brown) نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں غلامی کے خاتمے کی امید میں ہارپرز فیری (Harpers Ferry ایک ٹاوؐن)، ورجینیا میں بڑے پیمانے پر غلام بغاوت کو بھڑکانے کی کوشش کی۔

1860 میں ابراہم لنکن کا بطور صدر انتخاب: مغرب کی طرف غلامی کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے لنکن کے پلیٹ فارم نے جنوبی باشندوں کو اِنتباہ کر دیا، جنہوں نے اسے اپنے طرز زندگی کے لیے خطرہ سمجھا۔ لنکن کے منتخب ہونے کے بعد، جنوبی کیرولینا، (South Carolina) یونین سے علیحدگی اختیار کرنے والی پہلی ریاست تھی۔

Abraham Lincoln
ابراہم لنکن Anthony Berger (Copyright)

لنکن کے انتخاب نے علیحدگی کے بحران کو بھڑکا دیا، جس میں سات ریاستیں اِس ڈر سے کہ یہ غلامی کو ختم کر دیں گی، یونین سے الگ ہو گئیں۔ یہ سات ریاستیں ترتیب میں یہ تھیں:

  • جنوبی کیرولینا (20 دسمبر 1860)
  • مسیسیپی (9 جنوری 1861)
  • فلوریڈا (10 جنوری 1861)
  • الاباما (11 جنوری 1861)
  • جارجیا (19 جنوری 1861)
  • لوزیانا (26 جنوری 1861)
  • ٹیکساس (1 فروری اور 23 فروری 1861)

لنکن کا افتتاح 4 مارچ 1861 کو ہوا، اور P. G.T. Beauregard کے ماتحت کنفیڈریٹ فورسز نے 12 اپریل کو فورٹ سمٹر پر گولی چلائی، جس سے امریکی خانہ جنگی شروع ہوئی۔ اس کے بعد، چار دیگر ریاستیں الگ ہوئیں:

  • ورجینیا (17 اپریل اور 23 مئی 1861)
  • آرکنساس (6 مئی 1861)
  • ٹینیسی (7 مئی اور 8 جون 1861)
  • شمالی کیرولینا (20 مئی 1861)

ٹیکساس، ورجینیا اور ٹینیسی کی دو مُختلف تاریخیں ہیں جو علیحدگی کے فیصلے اور رائے دہی کی تاریخ کی نشاندہی کرتی ہیں۔ یہ گیارہ ریاستیں امریکہ کی کنفیڈریٹ ریاستیں بن گئیں جن کے صدر جیفرسن ڈیوس (Jefferson Davis) تھے۔

1861

دسمبر 1860 اور اپریل 1861 کے درمیان بڑھتی ہُوئی کشیدگی، بالآخر مسلح تصادم میں بدل گئی جب کنفیڈریٹ فورسز نے جنوبی کیرولائنا کے ساحل سے ہٹ کر یونین فورٹ سمٹر پر فائرنگ کی۔ اس کے بعد لنکن نے بغاوت کو ختم کرنے کے لیے رضاکار فوج (militia) کو متحرک کیا۔

Bombardment of Fort Sumter by Currier & Ives
کوریئر اینڈ آئیوز کی جانب سے فورٹ سمٹر پر گولہ باری Currier & Ives (Public Domain)

امریکی فوج کے کمانڈنگ جنرل اور میکسیکو-امریکی جنگ کے ہیرو ونفیلڈ سکاٹ (Winfield Scott) نے بغاوت کو ختم کرنے کے لیے "ایناکونڈا پلان" (Anaconda Plan) اِسطرح تیار کیا کہ جنوب کو یونین کی زمینی اور بحری افواج سے گھیرا جائے گا، انہیں بیرونی تجارت سے منقطع اور پھر 'تنگ سے تنگ کر دیا جائے گا' یہاں تک کہ وہ ہتھیار ڈال دیں۔ اگرچہ ابتدائی طور پر تنقید کی گئی، سکاٹ کی منصوبہ بندی پر پُوری جنگ کے دوران عمل درآمد ہوتا رہا۔

پہلا زمینی آمنا سامنا ایک جھڑپ تھی جسے فلپی ریسز Philippi Races (فلپی کی جنگ، 3 جون) کے نام سے جانا جاتا ہے، یونین کی فتح تھی، لیکن بُل رن/فرسٹ ماناساس (Bull Run/First Manassas) پہلی جنگ تھی، جو کنفیڈریٹس (Confederates) نے جیتی تھی، جس سے یونین کی تنازعات کے فوری حل کی اُمیدیں ختم ہو گئیں۔ اسکاٹ (Scott) میدانِ جنگ میں کمان کرنے کے لیے بہت بوڑھا تھا، اس لیے لنکن نے میجر جنرل ارون میکڈویل (Irvin McDowell) کو کمان کرنے کیلئے مقرر کیا، جس کی جگہ (بعد میں) جنرل جارج بی میک کلیلن (General George B. McClellan) نے لے لی۔

سرحدی ریاستوں نے غیرجانبدار رہنے کی کوشش کی لیکن 1861 سےبڑھتے تنازعات کی وجہ سے وہ اِس سے بچ نہ سکیں۔

سرحدی ریاستیں - ڈیلاویئر، کینٹکی، میری لینڈ، مسوری (Delaware, Kentucky Maryland, Missouri) اور 1863 کے بعد، مغربی ورجینیا - جس نے "لنکن کی جنگ" (Lincoln's War) کی حمایت تو نہیں کی لیکن علیحدگی کو مسترد کر دیا – غیر جانبدار رہنے کی کوشش کی لیکن 1861 سے بڑھتے تنازعہ کی وجہ س وہ اِس سے آخر بچ نہ سکی۔ ان ریاستوں میں غلامی کے حامی اور مخالف گروہ اپنی داخلی جنگیں لڑتے رہے، جبکہ ساتھ ہی ساتھ وہ وقتاً فوقتاً وسیع تر کشمکش کی لپیٹ میں بھی آتے رہے۔

مقامی امریکی قومیں بھی جنگ میں شامل ہوتی گئیں، جس سے نہ صرف بڑے دھڑ بلکہ چھوٹے گروہ بھی تقسیم ہو گئے۔ مقامی امریکی، بشمول چیروکی، چوکٹا، کریک، اور سیمینول (Cherokee, Choctaw, Creek, and Seminole)، اپنی آبائی زمینوں کو واپس جیتنے کی امید میں، کنفیڈریسی کے لیے لڑے ، لیکن بہت سی مختلف قومیں 1861 میں دونوں طرف سے جنگ میں شامل ہوئیں اور آخر تک لڑتی رہیں۔

1861 میں ہر عمر کے امریکی مرد اور خواتین، اور دونوں طرف (حامی اور مُخالف) کے ساتھ ساتھ بیرونی ممالک سے بھی جنگی کوششوں میں شامل ہوئے۔ خواتین نہ صرف نرسوں بلکہ جاسوسوں، تخریب کاروں کے طور پر بھی کام کرتی تھیں، اور کچھ مردوں کے بھیس میں جنگ میں بھی گئیں۔

1862

مشرقی محاذ پر شروع کی لڑائیاں بے نتیجہ تھیں۔ میک کلیلن (McClellan) نے مارچ 1862 میں اپنی جزیرہ نما مہم (تین اطراف سے حملہ Peninsula Campaign) کا آغاز کیا جس کا مقصد کنفیڈریسی کے دارالحکومت رچمنڈ، ورجینیا (Richmond, Virginia), پر قبضہ کرنا اور جنگ کو جلدی سے ختم کرنا تھا۔ اس نے (اپنے حریف) جنرل جوزف ای جانسٹن (General Joseph E. Johnston) کی افواج کا سامنا کیا لیکن حریف کی چالاک جنگی حکمت عملی اور اِسکی اپنی جنگ میں پس و پیش کی وجہ سے مہم ناکامی کا شِکار ہو گئی۔

جونسٹن، مئی میں سیون پائنز کی لڑائی (Battle of Seven Pines) میں زخمی ہو گیا اور اس کی جگہ رابرٹ ای لی تعنات ہُوئے ، جس نے براہ راست جنگی تدابیر کی وجہ سے سات دنوں کی لڑائی (25 جون سے 1 جولائی) میں جنگ جیت کر مہم کو مُکممل کیا۔ اگرچہ ان میں سے بہت سے (محازوں پر) لڑائیاں حقیقت میں نتیجہ خیز نہ تھیں، لیکن لی کی حکمت عملی اعلیٰ ثابت ہوئی، جس نے میک کلیلن کی پیش قدمی کو اس وقت تک پسپا کر دیا جب تک کہ مؤخر الذکر نے ہار مان لی اور پیچھے ہٹ گئے۔ لی کے کمانڈروں جیمز لانگ سٹریٹ اور سٹون وال جیکسن (James Longstreet and Stonewall Jackson) نے میک کلیلن کی پیش قدمی کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔

Robert E. Lee, 1863
رابرٹ ای لی، 1863 Unknown Photographer (Public Domain)

ورجینیا میں مشرقی محاذ پر ہیمپٹن روڈز کی لڑائی ( Battle of Hampton Roads) 8-9 مارچ کو ہُوئی، جسے مانیٹر کی لڑائی اور میریمیک Battle of the Monitor and) the Merrimack) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، جو کہ آہن پوش جنگی جہازوں کی پہلی بحری جنگ تھی۔ اگرچہ یہ بے نتیجہ رہی، اس نے بحری جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت کیا۔

مغربی محاذ پر، یولیس ایس گرانٹ (Ulysses S. Grant) نے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے، فورٹ ہنری (6 فروری) اور پھر فورٹ ڈونلسن (16 فروری) فتح کر لیا اور اِس وجہ سے "غیر مشروط سرنڈر گرانٹ" (Unconditional Surrender Grant) کا لقب حاصل کیا۔ گرانٹ کی فتوحات نے کنفیڈریٹ جنرل ناتھن بیڈ فورڈ فورسٹ (Nathan Bedford Forrest) کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا، جس سے مرکزی ٹینیسی (central Tennessee) یونین کے کنٹرول کے لیے کھلا رہ گیا اور اِسطرح کنفیڈریسی کو ضروری سامان کی رسد منقطع کر دی۔

گرانٹ نے ہارڈن کاؤنٹی میں (ٹینیسی میں) شیلو کی جنگ (6-7 اپریل Battle of Shiloh) بھی جیتی جس میں کنفیڈریٹ جنرل البرٹ سڈنی جانسٹن (Albert Sidney Johnston) مارا گیا اور اس کی جگہ پی جی ٹی P.G.T). Beauregard) تعنات ہُوئے۔ میری لینڈ میں اینٹیٹیم کی لڑائی/شارپسبرگ کی لڑائی (Battle of Antietam/Battle of Sharpsburg) شمالی یونین اور جنوبی کونفیڈریسی اِس جنگ کو مُختلف ناموں سے پُکارتے تھے) جو 17 ستمبر کو ہوئی، شیلو (Shiloh) کے مُقام پر لڑی گئی جنگ ، خانہ جنگی کی سب سے مہنگی فتح تھی جو پوری جنگ کا واحد خونی دن تھا۔ انٹیٹیم میں یونین کی فتح اگرچہ کِسی حِکمتِ عملی کے تحت تھی، جنگ بے نتیجہ رہی ، لیکن کنفیڈریٹس نے میدان چھوڑ دیا۔ جِس سے لِنکن کنفیڈریٹ ریاستوں میں قید تمام غلاموں کو آزاد کرنے کیلئے آزادی کے اعلان کا ابتدائی مسودہ جاری کرنے کے قابل ہُوئے۔

میک کلیلن کی جگہ جنرل امبروز برن سائیڈ (General Ambrose Burnside) تعنات ہُوئے، جو مجموعی طور پر اتنے ہی نااہل ثابت ہوئے جتنے کہ وہ اینٹیٹیم میں تھے، جہاں "برن سائیڈز برج" کو عبور کرنے سے انکاری نے یونین کی ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ کیا۔ ورجینیا میں فریڈرکسبرگ کی جنگ (Battle of Fredericksburg) (11-15 دسمبر) میں یونین کی مہنگی شکست کے بعد، برنسائیڈ کی جگہ میجر جنرل جوزف آئے۔

Burnside's Bridge at Antietam Battlefield
اینٹیٹم کے میدانِ جنگ میں برن سائیڈ کا پل Zeete (CC BY-SA)

1863

1 جنوری 1863 کو، لنکن نے آزادی کا باضابطہ اعلان کر دیا ، جس سے نہ صِرف بغاوتی ریاستوں میں غلام آزاد ہُوئے بلکہ شمال کے سیاہ فاموں کو آزاد کرنے کے لیے یونین فوج میں بھرتی کا بھی آغاز ہُوا۔ پہلی سیاہ فام رجمنٹ کو جو ستمبر 1862 میں منظم کیا گیا تھا، اب وہاں بڑے پیمانے پر بھرتی کی گئی، جس کی حوصلہ افزائی ہیریئٹ ٹبمین اور فریڈرک ڈگلس (Harriet Tubman and Frederick Douglass) سمیت اعلیٰ شخصیات نے کی۔ فروری 1863 میں، مشہور 54 ویں میساچوسٹس رجمنٹ (Massachusetts Regiment) کی تشکیل کی گئی، جو جنگ میں کارکردگی کے لحاظ سے ابتدائی افریقی امریکی رجمنٹوں میں سے ایک تھی اور غالباً آج کل فلم گلوری (1989) سے مشہور ہے، جس میں جولائی 1863 میں فورٹ ویگنر (Fort Wagner) پر ان کے تباہ کُن حملے کو دکھایا گیا تھا۔

مارچ میں، لنکن نے کنسکرپشن ایکٹ (Conscription Act) پر دستخط کیے، جو کہ امریکی تاریخ کا پہلا فوجی مسودہ تھا، جس کے تحت یونین کی کوششوں میں بہت سے مزید فوجی شامل ہُوئے۔ جنرل ہُکر (General Hooker) نے ورجینیا میں چانسلروِل کی جنگ (30 اپریل تا 6 مئی Battle of Chancellorsville) تک اپنے آپ کو ایک قابل کمانڈر ثابت کیا، جس کے دوران جنرل لی نے مکمل فتح کے لیے اپنی فوجوں کی مُنظم تقسیم کی۔ اس کے باوجود، لی کو اس کے سب سے بڑے جرنیلوں میں سے ایک کی قیمت اس وقت ادا کرنا پڑی جب اسٹون وال جیکسن (Stonewall Jackson) کو غلطی سے یونین کی پیش قدمی کے لیے وفد جان کر گولی مار دی۔ جیکسن شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں 10 مئی کو نمونیا کے باعث انتقال کر گئے۔

Battle of Chancellorsville
چانسلرز وِل کی لڑائی Kurz and Allison (Public Domain)

جنگ کے مغربی محاذ پر، Ulysses S. Grant اور William Tecumseh Sherman نے Vicksburg مہم کو جاری رکھا جو 29 دسمبر 1862 کو شروع ہوئی تھی۔ مقصد وِکسبرگ شہر پر قبضہ کرنا تھا، جو دریائے مسیسیپی (Mississippi River) کے آخری کنفیڈریٹ کے زیر کنٹرول حصہ تھا۔ گرانٹ کی شاندار مہم نے آخر کار 4 جولائی کو وِکسبرگ لے لیا جِس سے کنفیڈریسی کا مشرقی محاذ مغرب سے منقطع ہو گیا۔

چانسلر ویل (Chancellorsville) کے بعد، ہوکر (Hooker) کی جگہ میجر جنرل جارج میڈ (Major General George Meade) آئے، اور وہ لی (Lee) کے شمال پر حملہ کرنے تک کمان کرتے رہے۔ دونوں فوجیں گیٹسبرگ کی جنگ 1-3 جولائی (Battle of Gettysburg) میں آمنے سامنے ہُوئیں، جو جنگ کا سب سے خونریز مُقابلہ تھا، جس میں تین دنوں میں 50,000 سے زیادہ جانیں ضائع ہوئیں۔ تیسرے دن، کنفیڈریٹ جنرل جارج پکیٹ (General George Pickett) نے یونین سینٹر پر حملہ کیا، جسے پکیٹ کے چارج (Pickett's Charge) کے نام سے جانا جاتا ہے اور جسے کنفیڈریسی کے انتہائی نقطہ کمال کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ کنٹرول ختم ہُوا، اور لی کو شکست ہوئی۔ گیٹسبرگ میں میڈ کی فتح Meade's victory at) Gettysburg) نے جنگ میں ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت اختیار کر لی، خاص طور پر جب اگلے دن وِکسبرگ میں گرانٹ کو کامیابی ہُوئی۔

Battle of Gettysburg
جنگِ گیٹسبرگ Thule de Thulstrup / Adam Cuerden (CC BY)

پھر بھی، جنگ جاری رہی کیونکہ یونین کی افواج نے کنفیڈریٹ ریاستوں پر دھاوا بول کر انہیں فتح کرنے کے لیے جارحانہ پیش قدمی کی۔"چکماوگا کی جنگ (18 سے 20 ستمبر Battle of Chickamauga) یونین میجر جنرل ولیم روزکرانس Major General William) Rosecrans) کی کنفیڈریٹ جنرل بریکسٹن بریگ Confederate General Braxton) Bragg) کے تحت ٹینیسی کی کنفیڈریٹ آرمی کو توڑنے کی کوشش کا نتیجہ تھا۔ یونین میجر جنرل جارج ہنری تھامس کے دلیرانہ دفاع کے باوجود چکماوگا ایک کنفیڈریٹ فتح تھی، اور مغربی مُحاذ میں دونوں فریقوں کے لیے سب سے مہنگی اور پوری جنگ میں ایک ہی لڑائی میں ہلاکتوں کی تعداد میں گیٹسبرگ کے بعد دوسرے نمبر پر تھی۔

لنکن نے 19 نومبر کو اپنا تاریخی مشہورِ ’گیٹیسبرگ خطاب‘ (Gettysburg Address) کیا اور قوم کو یکجہتی کے مقصد سے ازسرِ نو منسوب کیا۔ لیکن جنگ ایک اور سال تک جاری رہی۔

1864

سال جو جھڑپوں کے ساتھ شروع ہوا، فروری تک جھڑپیں جاری رہیں جب یونین جنرل شرمین (Union General Sherman) نے مسیسیپی میں اپنی میریڈیئن مہم (Meridian Campaign) شروع کی۔ 17 فروری کو کنفیڈریٹ آبدوز H.L. ہنلی نے USS Housatonic کو ڈبو دیا۔ اگرچہ ہنلی (H. L. Hunley) بھی، اپنے پورے عملے کے ساتھ اسی وقت ڈوب گیا۔ یہ حملہ پہلی بار ہوا جب آبدوز نے ایک جنگی جہاز کو ڈبو دیا، جس سے بحری جنگ کا چہرہ بدل گیا۔

9 مارچ کو، گرانٹ کو امریکی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل کی حثیت سے جنرل ان چیف General-in-Chief کے عہدے پر فائز کیا گیا، اُسنے مئی میں اپنی اوورلینڈ مہم جسے Wilderness Campaign، مئی-جون 1864 کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) شروع کی۔ مہم کا آغاز 5-6 مئی کی جنگ سے ہوا، اگرچہ وہ نتیجہ خیز نہ تھی، تو بھی لی (Lee) کو اپنے ایسے جوانوں سے ہاتھ دھونا پڑھا جِسکا وہ مُتحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ ۔سپاٹسلوانیا کورٹ ہاؤس کی جنگ (8-21 مئی Spotsylvania Courthouse) اس کے بعد ہوئی، اور جب یہ لڑی جا رہی تھی، یونین میجر جنرل فلپ شیریڈن Union Major General Philip Sheridan نے اپنے گھڑسواروں کو جے ای بی اسٹورٹ (J. E. B. Stuart) کے خلاف چڑھائی کرنے کو کہا، جو جنگِ یرون (11 مئی Battle of Yellow Tavern) میں شدید زخمی ہو گیا اور اگلے دن مر گیا۔

سپاٹ سلوینیا کورٹ ہاؤس کی جنگ بھی غیر نتیجہ تھی، لیکن گرانٹ نے شدید جانی نقصان کے باوجود پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا۔ ہر بار جب اُس نے نتائج کے قطع نظر لی کا سامنا کیا، دوبارہ منظم ہُوا اور ، کولڈ ہاربر کی جنگ (31 مئی سے 12 جون Battle of Cold Harbor) میں سنگین پسپائی کے باوجود بھی مہم کو جاری رکھا۔

Battle of Cold Harbor
کولڈ ہاربر کی لڑائی Kurz & Allison (Public Domain)

جون میں، یونین آرمی کے انجینئرز نے دریائے جیمز پر ایک پونٹون پل (pontoon bridge) تعمیر کیا، جو 2,200 فٹ (670 میٹر) تک پھیلا ہوا تھا، جو جنگ کا سب سے لمبا پونٹون پل تھا، جس سے فوجی رچمنڈ-پیٹرسبرگ مہم (9 جون 1864 سے 25 مارچ 1865) کی مدد کرنے کے قابل ہُوئے، جس میں پیٹرس برگ شہر کا محاصرہ شامل تھا جو کونفیڈرہٹ کے مفادات کیلئے اہم تھا۔

گرانٹ کی ترقی کے بعد، جنرل شرمین نے مغربی محاذ پر گرانٹ کی ذمہ داریاں سُنبھال لیں اور اُسکے ساتھ مِلکر ، مکمل جنگ کی پالیسی پر عمل کیا، یہ نتیجہ اخذ کرتے ہُوئے کہ تنازع صرف کنفیڈریسی کی جنگ کرنے کی صلاحیت کو ختم کر کے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ لی (Lee) پیٹرزبرگ (Petersburg) میں پھنس گیا تھا، اور گرانٹ اسے وہاں روکے رکھنے میں مصروف تھا، اور اسی لیے، 15 نومبر کو، شرمین نے اپنی ساوانہ مہم (Savanah Campaign) شروع کی، جسے شرمین سمندر کی جانب مارچ (Sherman's March to the Sea) کے نام سے جانا جاتا ہے۔

نہ صرف فوجی تنصیبات بلکہ صنعتوں، کھیتوں، گھروں اور سب کُچھ تباہ کرنے کی (scorched earth) کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے، شرمین (Sherman) نے 15 نومبر سے 21 دسمبر کے درمیان جارجیا کو تباہ کر دیا اور پھر کیرولیناس مہم شروع کی۔ ایسا ہی جنوبی کیرولائنا میں کیا اور قدرے کم شمالی کیرولائنا میں۔ اس سے قبل، اکتوبر میں، جنرل شیریڈن (General Sheridan) نے وادی شیننڈوہ (Shenandoah Valley) میں اپنی کامیاب مہم چلائی، جس میں کنفیڈریٹ میجر جنرل جوبل اے (Major General Jubal A) کو شکست ہُوئی اور، شرمین کی مثال پر عمل کرتے ہوئے، خطے میں کسی بھی ایسے اثاثوں کو تباہ کر دیا جو کنفیڈریسی کو کسی بھی طرح سے فعال کر سکتے تھے۔

Sherman's March to the Sea
شیرمین کا بحرِ اوقیانوس کی جانب پیش قدمی Felix Octavius Carr Darley & Alexander Hay Ritchie (Public Domain)

اس مرحلے پر کنفیڈریسی (جنوبی ریاستوں کے اتحاد) کو بڑی امید تھی کہ لنکن 1864 کا صدارتی انتخاب ہار جائیں گے اور نیا آنے والا صدر جنگ ختم کر دے گا۔ تاہم، لنکن نے 8 نومبر 1864 کو انتخاب جیت لیا اور جنگ نئے سال میں بھی جاری رہی، حالانکہ اس وقت کنفیڈریٹ کی فتح کا تصور کرنا بھی ناممکن معلوم ہوتا تھا۔

1865

1865 کے ابتدائی مہینوں کا آغاز بھی پہلے کی طرح مزید لڑائیوں کے ساتھ ہوا، لیکن جنوبی ریاستوں کی امید تیزی سے دم توڑ رہی تھی۔ یکم اپریل کو ورجینیا میں 'فائیو فورکس' (Five Forks) کی لڑائی میں شیریڈن (Sheridan) نے جنرل پِکٹ (General Pickett) کو شکست دے کر رسد کی ایک اہم لائن پر قبضہ کیا اور لی (Lee) کو مجبور کیا کہ وہ پیٹرزبرگ اور رچمنڈ کو یونین افواج کے حوالے کر دے۔ 2 اور 3 اپریل کو یونین کی 25 ویں کور (XXV Corps) نے، جو افریقی نژاد امریکی فوجیوں پر مشتمل تھی، نے رچمنڈ پر قبضہ کر لیا۔

لی (Lee) نے 'ایپومیٹکس اسٹیشن' (Appomattox Station) کی طرف پسپائی اختیار کی جہاں وہ دوبارہ رسد حاصل کر کے لڑائی دوبارہ شروع کرنا چاہتے تھے، لیکن گرانٹ نے 'ایپومیٹکس کورٹ ہاؤس (Appomattox Court House)' کے مقام پر انہیں گھیرے میں لے کر شکست دے دی۔ لی نے 9 اپریل 1865 کو 'آرمی آف ناردرن ورجینیا' Army of Northern) Virginia) گرانٹ کے حوالے کر دی، اگرچہ لڑائی کا سلسلہ کچھ عرصہ جاری تو رہا، لیکن جنگ کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ امریکی خانہ جنگی کا آخری معرکہ 13 مئی 1865 کو ٹیکساس میں 'پالمیتو رینچ' (Palmito Ranch) میں ہونے والی لڑائی تھی۔ جنگ کے اختتام کی تاریخ 26 مئی 1865 سمجھی جاتی ہے جب 'ٹرانس-مسیسیپی ڈیپارٹمنٹ' (Trans-Mississippi) نے ہتھیار ڈال دیے۔

Lee Surrenders to Grant at Appomattox
لی نے ایپومیٹکس میں گرانٹ کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ Thomas Nast (Public Domain)

19 جون 1865 کو میجر جنرل گورڈن گرینجر (Major General Gordon Granger)'جنرل آرڈر نمبر 3' (General Order No. 3) لے کر ٹیکساس پہنچے، جس کے ذریعے ان غلاموں کی آزادی کا اعلان کیا گیا جنہیں کنفیڈریٹ ریاستوں نے وہاں بھیجا تھا تا کہ وہ یونین افواج کے قبضے میں نہ آ سکیں۔ اس واقعے کو اب 'جون ٹینتھ' (Juneteenth) کے طور پر منایا جاتا ہے۔

نتیجہ

امریکی خانہ جنگی سے پہلے، ریاستہائے متحدہ میں لوگ اپنی شناخت اپنی ریاست سے کرتے تھے۔ ایک ورجینیائی (Virginian) کہلاتا تھا، ایک نیو یارک (New Yorker) کا، ایک ٹیکسن (Texan) کا اور ایک کنسان (Kansan) کا، جبکہ خانہ جنگی کے بعد، لوگوں نے اپنے آپ کو "امریکی" کے طور پر اس طرح پکارنا شروع کیا جو پہلے کبھی نہیں تھا۔

اگرچہ جنگ کی وجہ سے ہزاروں جانوں کا نُقصان ہُوا، بہت سے لوگ جنگ کی بجائے بیماری سے ہلاک ہُوئے جِس میں صدر ابراہم لنکن کا قتل بھی شامل تھا- بالآخر خانہ جنگی نے ریاستوں کو اسی طرح کی یونین کی طرف متوجہ کیا جس کا لنکن نے تصور کیا تھا اور لوگوں کو دفاع کے لیے ترغیب دی۔ امریکی انقلاب سے کہیں زیادہ، خانہ جنگی ریاستہائے متحدہ امریکہ کے جنم کا سبب بنا۔

سوالات اور جوابات

مترجم کے بارے میں

مصنف کے بارے میں

اس کام کا حوالہ دیں

اے پی اے طرز

Mark, J. J. (2026, August 03). امریکی خانہ جنگی: ریاستہائے متحدہ کی پیدائشی تکالیف. (S. Inayat, مترجم). World History Encyclopedia. https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-21889/

شکاگو طرز

Mark, Joshua J.. "امریکی خانہ جنگی: ریاستہائے متحدہ کی پیدائشی تکالیف." تَرجَمۂ کَرن وول Samuel Inayat. World History Encyclopedia, August 03, 2026. https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-21889/.

ایم ایل اے اسٹائل

Mark, Joshua J.. "امریکی خانہ جنگی: ریاستہائے متحدہ کی پیدائشی تکالیف." تَرجَمۂ کَرن وول Samuel Inayat. World History Encyclopedia, 03 Aug 2026, https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-21889/.

اشتہارات ہٹائیں