تہران کانفرنس، جسے 'یوریکا' کا خفیہ نام دیا گیا تھا، نومبر-دسمبر ۱۹۴۳ میں اتحادی افواج کے "حکما ثلاثہ"—روزویلٹ، اسٹالن اور چرچل—کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات تھی۔ ایران میں منعقدہ اس کانفرنس کا مقصد یہ طے کرنا تھا کہ جرمنی اور جاپان کے خلاف دوسری جنگِ عظیم کو عسکری اعتبار سے کیسے آگے بڑھایا جائے، مغربی یورپ پر کب حملہ کیا جائے، اور فتح کے بعد وسطی اور مشرقی یورپ کے کن علاقوں پر کس کس طاقت کا کنٹرول ہوگا۔
مشرق و مغرب کے تعلقات
ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ (۱۸۸۲ تا ۱۹۴۵) سوویت یونین کے رہنما جوزف اسٹالن (۱۸۷۸ تا ۱۹۵۳) اور برطانوی وزیرِ اعظم ونسٹن چرچل (۱۸۷۴ تا ۱۹۶۵) جنہیں اجتماعی طور پر حکما ثلاثہ یا سربرآوردگان ثلاثہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے نے ۲۸ نومبر سے یکم دسمبر ۱۹۴۳ تک ایران میں تہران کانفرنس کے دوران بالمشافہ ملاقات کی۔ اتحادیوں کے ان تینوں اہم رہنماؤں کو امید تھی کہ وہ ایک ایسی مشترکہ حکمتِ عملی وضع کر سکیں گے جس کے ذریعے جرمنی، جاپان اور اٹلی کی 'محوری طاقتوں' کے خلاف جنگ میں فتح کا پرچم لہرایا جا سکے۔ ہر رہنما کے ہمراہ عسکری سربراہانِ، فوجی عملہ، مشیروں اور سفارت کاروں پر مشتمل ایک ٹیم موجود تھی، جن میں برطانوی وزیرِ خارجہ انتھونی ایڈن اور سوویت وزیرِ خارجہ ویاچسلاو مولوتوف بھی شامل تھے۔
یہ تینوں قائدین کی پہلی مشترکہ ملاقات تھی۔ روزویلٹ اور چرچل کی ملاقات جنوری ۱۹۴۳ میں مراکش کے شہر الدار البيضاء میں منعقد ہونے والی کانفرس کے موقع پر ہو چکی تھی اور تہران کانفرنس سے چند دن پہلے قاہرہ میں ان کی دوبارہ ملاقات بھی ہوئی تھی تاکہ اسٹالن کو اپنے خیالات سے آگاہ کرنے کے لیے اور اس پر مائل کرنے کے لیے ایک متحدہ محاذ تیار کیا جا سکے۔ چرچل نے ۱۹۴۲ میں ماسکو میں سٹالن سے ملاقات کی تھی اور جنگ کے بابت مبادلہ خیالات و افکار کیا تھا۔ امریکی صدر نے محسوس کیا کہ وہ سٹالن کی توجہ اپنے طرزِ فکر کی جانب مبذول کروانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں، اور اس مقصد کے لیے روزویلٹ نے سٹالن کی پیشکش قبول کر لی اور سوویت سفارت خانے کو اپنا مستقر و مسکن بنایا۔ اس کانفرس کا انعقاد اسی سفارت خانے میں ہونا تھا۔ سٹالن کی سوچ کو نمایاں طور پر متاثر کرنے کا روزویلٹ کا خواب دھرا کا دھرا ہی رہ گیا کیوں کہ سٹالن بہت سے معاملات پر اپنے خیالات سے ٹس سے مس نہ ہوا اور اپنی تجویز پر مصر رہا
ان تینوں رہنماؤں کے درمیان تعلقات قدرے خوشگوار تھے، ۳۰ نومبر کو چرچل کی انہتروھیں سالگرہ منانے کے لیے ایک عشائیہ کا اہتمام کیا گیا، جس پر انھیں فارسی بھیڑ کی اون کی ٹوپی بطور تحفہ عنایت کی گئی۔ ایک اور تحفہ، جو ایک دن پہلے دیا گیا تھا، شمشیر سٹالن گراڈ تھی، یہ ایک رسمی تلوار تھی جسے برطانیہ کے بادشاہ جارج ششم نے کی طرف سے تیار کروائی گئی تھی اوراسے ایک سال پہلے سٹالن گراڈ میں جرمن فوج پر سوویت یونین کی فتح کا جشن منانے کے لیے سٹالن کو پیش کیا گیا تھا۔ تیغ درج ذیل نوشتے سے مرصع تھی: "اسٹالن گراڈ کے فولادی دل والے شہریوں کے لیے، بادشاہ جارج ششم کا تحفہ، برطانوی عوام کی تعظیم کے طور پر" (IWM)۔
کانفرس کے موقع پر جنگ کی صورتحال
اس جنگ میں اب تک جرمنی نے یورپ کے بیشتر حصے پر قبضہ کر لیا تھا اور 1941 میں آپریشن باربروسا کے ذریعے سوویت یونین پر دھاوا بول دیا تھا۔ مشرقی محاذ پر جنگ نے کارزار درماندگی (ایسی جنگ جس میں دشمن کے وسائل کو اس حد تک خرچ کاروا دینا مقصود ہوتا ہے کہ وہ جنگ جاری رکھنے کی استطاعت برقرار نہ رکھ سکے) کی صورت اختیار کر چکی تھی، لیکن پھر جرمنی کو فروری ۱۹۴۳ میں سٹالن گراڈ کی جنگ میں اور اگست ۱۹۴۳ میں کرسک کے میدان پر عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ شمالی افریقہ میں اطالوی افواج کو کی کمر ٹوٹ چکی تھی، لیکن جرمنی کی افریقی کورپس کی کمک نے اس محاذ کو پھر سے تقویت بخشی یہاں تک کہ نومبر ۱۹۴۲ میں العلمين کی دوسری جنگ میں برطانویوں نے فیصلہ کن فتح حاصل کر لی۔ اس کے بعد جنوبی اٹلی پر حملہ کیا گیا، اور ستمبر ۱۹۴۳ میں اس کی حکومت کا درخشاں غروب ہو گیا۔
پرل ہاربر میں امریکی بحری اڈے پر جاپان کے حملے نے دسمبر ۱۹۴۱ میں امریکہ کو جنگ میں شامل ہونے پر مجبور کر دیا تھا اور یوں بحرِ الکاہل پر جنگ نے ایک نیا روپ اختیار کر لیا تھا۔ اس دوران اتحادی افواج نے جنوب مشرقی ایشیا میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر لی تھیں اور برما (میانمار) میں پیش قدمی شروع کر دی تھی۔ یہ محسوس کیا جا رہا تھا کہ عسکری کامیابیوں کے ساتھ ساتھ امریکہ کے وسیع اقتصادی اور عسکری وسائل، دیر یا سویر، جنگ میں اتحادیوں کی فتح کو یقینی بنا دیں گے۔ مختصراً یہ کہ تہران میں اتحادی رہنما پُر اعتماد تھے؛ اور ان کا اعتماد اس حد تک تھا کہ وہ جنگ کے بعد کی دنیا کس ڈگر پر چلے گی، اس بارے میں بھی بات چیت شروع کر چکے تھے۔
جنگ کا محاذ ثانی
اس موڑ پر سب سے اہم سوال مغربی محاذ کو دوسری مرتبہ کیسے، کب اور کہاں کھولا جائے. جس سے نازی جرمنی کے خلاف 'دوسرا محاذ' تشکیل دیا جائے گا۔ ہٹلر نے اپنی افواج کو برطانیہ پر حملہ کرنے سے روک دیا تھا کیونکہ وہ جنگِ برطانیہ میں فضائی برتری قائم نہیں کر سکا تھا۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ، برطانیہ، اور ان کے اتحادی اب مستقل طور پر اپنی افواج اور وسائل کو مغربی یورپ پر حملہ کرنے کے لیے تیار کر رہے تھے، ایک ایسی تیاری جسے آپریشن اوورلورڈ کا نام دیا گیا
سٹالن چاہتا تھا کہ مغربی محاذ پر کاروائی جلد از جلد شروع کی جائے اور اس طرح سوویت یونین پر جگن کے نتیجے میں پڑے والے حد سے زیادہ دباؤ کو دور کرے۔ اتحادی سٹالن کی نسبت زیادہ محتاط تھے۔ براعظم یورپ پر ایک آبی حملہ جانی طور پر اتحادی افواج کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہو سکتا تھا۔ اس آپریشن کی کامیابی بھر پور عسکری تربیت و تیاری اور وسائل کی فراوانی پر مرہونِ منت تھی۔ اتحادیوں کی خواہش تھی کہ سوویت یونین مشرقی محاذ پرایک حملے کا آغاز کرے تاکہ یہ حملہ جرمن افواج پر مکمل قبضہ کرنے کے کی خواہش لیے کیے گئے حملے کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اس پر سٹالن نے اتفاق کیا۔ نارمنڈی کے لیے مئی ۱۹۴۴ میں مرکزی حملے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی (اس صورت میں کہ ڈی ڈے میں ایک ماہ کی تاخیر ہو گئی تھی)، جبکہ ایک ثانوی حملہ بیک وقت بحیرہ روم سے کیا جانا تھا اور جنوبی فرانس سے کے راستے حملہ کیا جانا تھا۔
چرچل اس حملہ کے مفروضات اور نکات میں ایک تیسرے نکتے کا اضافہ کرنا چاہتا تھا، تاکہ (جرمن زیر کنٹرول) شمالی اٹلی اور بحیرہ روم سے ملحقہ علاقوں پر اپنی چڑھائی جارے رکھے، لیکن سٹالن اور روزویلٹ دونوں نے محسوس کیا کہ اٹلی پر کیے جانے والے اس حملے سے فرانس پر جرمنی کے لشکر پر ہونے والے حملے کی شدت کم ہو جائے گی، جو آپریشن کا بنیادی مرکز رہنا چاہیے۔ جرمن فوج کے ارباب اختیار کو الجھانے کے لیے اور انھیں اپنے قیمتی عسکری وسائل کو ایسے عسکری حوالے سے غیر ضروری محاذ پر جھونکنے پر مجبور کے لیے جہاں انہیں درحقیقت ضرورت نہ ہو، تینوں اتحادیوں نے تخریب کاری کے مختلف منصوبے بنانے میں باہمی تعاون کرنے پر اتفاق کیا۔ آپریشن اوور لارڈ کا کمانڈر ان چیف کون ہوگا؟ اتفاق کیا گیا کہ آئندہ ہونے والی کانفرس میں اس کا جواب طے پایا جائے گا۔
معاہدے کے دیگر نکات
تہران میں زیر بحث دیگر امور میں یہ بھی شامل تھا کہ ترکی کو اتحادیوں کی طرف سے جنگ میں کیسے شامل کیا جائے۔ یوگوسلاویہ میں اشتراکی پارٹیوں اور ان کے رہنما جوسیپ بروز ٹیٹو (1892-1980) کی حمایت پر اتفاق کیا گیا۔ اسٹالن نے وعدہ کیا کہ یورپ میں جرمنی کی شکست کے بعد یو ایس ایس آر جاپان کے خلاف جنگ میں شامل ہو جائے گا۔ تہران میں طے پانے والا ایک اور مسئلہ یہ اعلان تھا کہ اس وقت اتحادی افواج کے زیر قبضہ ایران کو ایک آزاد ریاست قرار دیا جائے گا۔
فتح کی صورت میں جرمنی کے ساتھ کیسا رویہ اپنایا جائے گا، اس بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ بنیادی نکتہ یہ یقینی بنانا تھا کہ جرمنی مستقبل میں دوبارہ جارحیت کا راستہ اختیار نہ کرے، لیکن ساتھ ہی اس کے ساتھ ایسا سخت رویہ بھی نہ اپنایا جائے جس سے دیرپا تلخی یا انتقامی جذبات پیدا ہوں۔ بالکل یہی صورتِ حال 'معاہدہ ورسائی' کے بعد پیدا ہوئی تھی جس سے پہلی جنگِ عظیم (1914-18) کا اختتام ہوا تھا۔ اس بار مقصد یہ تھا کہ امن کا دورانیہ، دو بڑی جنگوں سے متاثرہ اس صدی میں محض ایک عارضی وقفہ ثابت نہ ہو۔ اس مقصد کے حصول کے لیے، روزویلٹ نے کسی حد تک اسٹالن اور چرچل کو امن قائم رکھنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم کے قیام کی حمایت پر قائل کر لیا—جو 'لیگ آف نیشنز' کی جانشین ثابت ہو اور جنوری 1942 کے 'اقوامِ متحدہ کے اعلامیے' (جس پر سوویت یونین، برطانیہ، امریکہ اور چین نے دستخط کیے تھے) کی روح کے مطابق تشکیل دی جائے۔
اسٹالن پورے مشرقی یورپ اور وسطی یورپ کے بیشتر حصے پر اپنا اختیار قائم کرنا چاہتا تھا۔
ایک پرامن جرمنی کو یقینی بنانے کے لیے مختلف تجاویز بحث و تمحیص کا مرکز تھیں، جن میں اسے الگ الگ ریاستوں میں تقسیم کرنا (جس کی اسٹالن حمایت کرتا تھا)، اسے شمال سے جنوب کی رواں ایک فرضی جغرافیائی خط کے ساتھ دو حصوں میں تقسیم کرنا (چرچل کی تجویز)، یا اسے ایک اکائی کے طور پر برقرار رکھنا لیکن اتحادی قوتوں کے ذریعے ملک یا اس کی اہم صنعت اور معیشت کے کچھ حصوں کا انتظام مشترکہ طور پر چلانا (روزویلٹ کا موقف) شامل تھا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آسٹریا—جسے 1938 میں 'انشلوس' (Anschluss) کے ذریعے جرمنی میں ضم کر دیا گیا تھا—اس کی آزادی بحال کی جائے۔ نیز، جرمنی کو فاتح ممالک اور ان علاقوں کے لیے کسی نہ کسی قسم کا مالی ہرجانہ ادا کرنے کا پابند بنایا جائے جن پر اس نے بے رحمی سے قبضہ کیا تھا (اور کر رکھا تھا)۔
مقدمہ پولینڈ
پولینڈ اور فن لینڈ دونوں کے مستقبل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سٹالن 1939 کے نازی سوویت معاہدے میں سوویت یونین کے لیے مختص کردہ مقبوضہ علاقے کو برقرار رکھنا چاہتا تھا اور مشرقی پرشیا کے راستے بالٹک ساحل تک رسائی حاصل کرنا چاہتا تھا، اور بعد ازاں، پورے مشرقی یورپ اور زیادہ تر وسطی یورپ کو اپنے زیر تسلط لانا چاہتا تھا۔ روزویلٹ اور چرچل نے امید ظاہر کی کہ جنگ کے دوران ہونے والی پیش رفت اس دعوے کی تکمیل کی راہ میں کوئی نہ کوئی رکاوٹ حائل کر دے گی۔ لیکن یہ تسلیم کیا گیا کہ اگر یو ایس ایس آر کی ریڈ آرمی نے جرمنی سمیت یورپ پر قبضہ کر لیا، تو اس کے بعد یہ فوج شتر بے مہار ثابت ہو کر پورے یورپ کا یلغار کر دے گی
سٹالن ایک نہائیت شاطر و جہاندیدہ معاملہ گر شخص تھا، اور روزویلٹ کو سوویت سفارت خانے میں قیام کرنے کی اس کی دعوت نے اسے سفارتی محاذ پر خوب فائدہ پہنچایا تھا۔ سب سے پہلے، سوویت امریکی وفد پر گہری نظر رکھنے میں کامیاب رہے۔ دوم، اس قدم نے روزویلٹ اور چرچل کو ایک دوسرے کے زیادہ قریب رہنے سے روک دیا۔ چرچل یقینی طور پر قیام و طعام کے انتظامات سے خوش نہیں تھا:
برطانوی وزیر اعظم نے اپنی یادداشتوں میں بیان کیا کہ کس طرح ان کی کوشش تھی کہ وہ سٹالن سے ذاتی طور پر استفسار کریں روزویلٹ اب ان سے گریز کرتے نظر آتے ہیں۔ اس ذاتی گفت و شنید کی کوشش کرنے کی ایک وجہ اس مفروظے کو رد کرنا بھی تھا کہ سٹالن روزویلٹ کی خیرسگالی کے جذبے اور خوش اخلاقی، اور عالمی معاملات سے ان کی ناشناسی اور غفلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکی و برطانوی تعلقات میں رخنہ اندوزی کرنا چاہتے تھے
(امپیریل وار میوزیم)
روزویلٹ اور چرچل کم از کم اس بات پر ایک دوسرے کے دم ساز تھے کہ اگر بری سے بری صورتحال بھی وقوع پذیر ہو اور اس کے نتیجے میں مغربی اتحادی افواج کے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی ریڈ آرمی پولینڈ کے بیشتر حصے پر قبضہ کر لے، تو پولینڈ کو ایک شکست خوردہ جرمنی کی جانب سے ادا کیے جانے والے ہرجانے کے طور پر، موقع فراہم کیا جائے گا کہ پولینڈ اپنی مغربی سرحد کو مزید توسیع بخش دے۔ سٹالن اس بات پر اٹل تھا کہ موجودہ پولینڈ کی حکومت، جو اس وقت لندن میں جلاوطنی میں چل رہی تھی، پولینڈ کے مستقبل میں اپنی کوئی رائے نہیں رکھ سکتی، اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اس کے کچھ اراکین، ان کے خیال میں، یو ایس ایس آر کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے جرم کے مرتکب تھے۔ یہ مسائل، جنہیں اجتماعی طور پر 'مقدمہ پولینڈ' کہا جاتا ہے، اور بہت سے دیگر دوسرے مسائل پر، بعد ازاں ہونے والی کانفرنسوں میں بحث کی جانی تھی۔
کانفرس مابعد
اتحادی رہنما 1945 میں اپنی قیادت میں ہونے والی کچھ تبدیلیوں کے ساتھ دو بار پھر میز کے گرد جلوہ افروز ہوئے۔ فروری 1945 میں یالٹا کانفرنس میں روزویلٹ، چرچل اور سٹالن ایک مرتبہ پھر جنگ کے اہم نکات پر غور و تدبر کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ جرمنی اور آسٹریا کو متحدہ قبضے کے چار علاقوں میں تقسیم کیا جائے گا اور ہر ایک میں مشترکہ فوجی حکومت قائم کی جائے گی۔ برلن اور ویانا کے متعلقہ دارالحکومتوں کو اسی طرح کنٹرول کے علاقوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پولینڈ کے لیے نئی سرحدوں کے نکتہ پر اتفاق کیا گیا۔ پولینڈ کی مغربی سرحد کو، جیسا کہ تہران میں تجویز کیا گیا تھا، جرمنی سے ہرجانے کے طور پر حاصل کیے گئے رقبے کے نتیجے میں مزید مغرب کی طرف منتقل کیا جانا تھا۔ پولینڈ میں آزادانہ انتخابات کرانے کے وعدے سے سٹالن ہمیشہ روگردانی اختیار کرتا رہا اور حیلہ سازیوں سے کام لیتا رہا۔ جاپان کے بارے میں، روزویلٹ اور سٹالن نے ایک معاہدہ کیا کہ اگر روس جاپان کے خلاف جنگ میں شامل ہو جائے تو، ایشیا میں سوویت یونین کے بعض زمینی مطالبات پورے کیے جائیں گے۔ جن دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ان میں جرمنی کو تلافی جنگی نقصانات کے پیش نظر ادا کی جانے والی رقم، اقوام متحدہ کی تشکیل، اور جنگی مجرموں کے لیے عوامی مقدمات کا انعقاد شامل تھا۔
کئی مفکرین کے مطابق روزویلٹ اور چرچل نے یالٹا میں مشرقی یورپ کا کنٹرول یو ایس ایس آر کے حوالے کرنے پر غور و خوض کیا تھا، لیکن حقیقت یہ تھی کہ سوویت فوج کے پاس پہلے ہی یورپ کے اس حصے کا کنٹرول تھا۔ بعد ازاں جولائی سے اگست 1945 تک پوٹسڈیم کانفرنس کے نام سے موسوم ایک کانفرس منعقد ہوئی۔ یورپ میں فتح کے بعد، نئے امریکی صدر، ہیری ایس ٹرومین، چرچل، اور پھر ان کے جانشین، کلیمنٹ ایٹلی، اور سٹالن نے پوٹسڈیم میں ملاقات کی۔ جاپان کو ہتھیار ڈالنے کا الٹی میٹم (آخری انتباہ) جاری کیا گیا، جسے پوٹسڈیم ڈیکلریشن کہا جاتا ہے۔ الٹی میٹم کو اس وقت تک نظر انداز کر دیا گیا جب تک کہ امریکی طیاروں نے ہیروشیما اور ناگاساکی شہروں پر ایٹم بم نہیں گرائے۔ جاپان نے 14 اگست کو ہتھیار ڈال دیے۔ پوٹسڈیم میں تمام پارٹیوں نے نازی جرمنی کے زیر قبضہ ممالک میں جمہوری انتخابات کی اجازت دینے پر اتفاق کیا تھا، لیکن یو ایس ایس آر کے زیر اختیار نصف یورپ میں ایسا نہیں کیا گیا۔ مشرق اور مغرب کے مابین باہمی شکوک و شبہات کا مطلب یہ تھا کہ اتحادی رہنماؤں کی مزید کانفرنسیں نہیں ہوں گی کیونکہ دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو گئی ہے جسے سرد جنگ کے نام سے جانا جاتا ہے
