فرانسیسی انقلاب (1789-1799) فرانس میں سماجی اور سیاسی ہلچل کا دور تھا۔ اس دور میں بادشاہت کا خاتمہ ہُوا اور پہلی فرانسیسی جمہوریہ کا قیام عمل میں آیا۔ یہیں سے نپولین بوناپارٹ (Napoleon Bonaparte) کے عروج پر پہنچنے کیلئے بیج بویا گیا اور پھراِسی دور سے اُسکا دور شروع ہُوا۔ تمام وہ واقعات جِن سے مغربی تاریخ کو سمجھا جا سکتا ہے، فرانسیسی اِنقلاب اُن میں سے ایک ہے۔
1789 کا انقلاب، جیسا کہ بعض اوقات اسے سمجھا جاتا ہے کہ یہ بعد میں آنے والے فرانسیسی انقلابات سے مُختلف ہے۔ اس کی ابتداء بڑے گہرے مسائل سے ہوئی جِنہیں فرانس کے بادشاہ لوئس XVI (r. 1774-1792) کی حکومت حل کرنے میں ناکام ثابت ہوئی۔ بنیادی طور پر فرانس کے مالی مسائل کے ساتھ ساتھ قدیم حکومت کے اندر پہلے سے موجود سماجی عدم مساوات سے متعلق مسائل تھے۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے 1789 کے اسٹیٹس جنرل (Estates-General مذہبی پیشوا،اشرفیہ اور عام لوگوں کے نمائدگان کی اجتماعی اسمبلی) کو طلب کیا گیا، جس کے نتیجے میں سماجی تقسیم کے تینوں حِصوں کے نمائدوں پر مُشتمل ایک دستور ساز اسمبلی تشکیل دی گئی، جس نے حلف اٹھایا کہ جب تک نیا آئین نہیں لِکھا جاتا وہ اِس اسمبلی کو کبھی نہیں توڑیں گے۔ اگلی دہائی کے دوران، انقلابیوں نے جابرانہ پرانے معاشرے کو ختم کرنے اور روشن خیالی کے اصولوں پر مبنی ایک نیا قانون سازی کا ڈھانچہ بنانے کی کوشش کی جس کی مثال اس نعرے میں دی گئی ہے: "Liberté, égalité, fraternité."(اِسکے معنی ہیں Liberty,Equality and Fraternity آزادی، مساوات اور بھائی چارہ)
اگرچہ فرانسیسی ابتدائی طور پرجمہوریہ قائم کرنے میں کامیاب تو ہو گئے لیکن انقلابی جلد ہی انقلابی جنگوں (1792-1802) میں الجھ گئے جس میں فرانس نے بڑی یورپی طاقتوں کے اتحاد کا سامنا کیا۔ انقلاب تیزی سے پرتشدد ماحول میں بدل گیا، اور 20-40,000 لوگ دہشت گردی کے دور (1793-94) میں مارے گئے، جن میں انقلاب کے بہت سے سابق رہنما بھی شامل تھے۔ دہشت گردی کے بعد، انقلاب 1799 تک رک گیا، جب نپولین بوناپارٹ (1769-1821) نے 18 برومائر کی بغاوت (Coup of 18 Brumaire فرانسیسی کلینڈر کا دُوسرا مہینہ) میں حکومت کا کنٹرول سنبھال لیا اور بالآخر جمہوریہ کو پہلی فرانسیسی سلطنت (1804-1814، 1815) میں تبدیل کر دیا۔ اگرچہ انقلاب فرانس کو دوبارہ آمریت میں گرنے سے روکنے میں تو ناکام رہا، لیکن کُچھ اور پہلوؐوں میں کامیاب رہا۔ اس نے پوری دنیا میں متعدد انقلابات کو متاثر کیا اور قومی ریاستوں، مغربی جمہوریتوں اور انسانی حقوق کے جدید تصورات کو تشکیل دینے میں مدد کی۔
وجوہات
فرانسیسی انقلاب کے زیادہ تر اسباب کا پتہ ان معاشی اور سماجی عدم مساوات سے لگایا جا سکتا ہے جو قدیم حکومت (Ancien Régime "پرانی حکومت") کے ٹوٹنے سے بڑھ گئے تھے۔ یہ نام پہلے سے فرانس کی بادشاہت کے سیاسی اور سماجی نظام کو اس کے ابتدائی وجود کی آخری چند صدیوں میں دیا گیا تھا۔ قدیم دورِحکومت میں سماجی نظام تین درجات پر مُشتمل تھا یعنی مذہبی پیشوا، اشرافیہ اورعام لوگ۔ پہلے دو طبقوں نے جو آبادی کا 90% سے زیادہ تھے، بہت ساری سماجی مراعات بشمول ٹیکس میں چھوٹ حاصل کیں،جوعام لوگوں کونہیں دی گئی تھیں۔ تیسرے طبقہ پر زیادہ ٹیکس ادا کرنے کے ساتھ ساتھ دستی مزدوری کا بوجھ بھی تھا۔
تیزی سے آبادی میں اضافے سے عام مصائب میں اضافہ ہُوا اور 1789 تک فرانس 28 ملین سے زیادہ آبادی والی ریاست تھی۔ بڑھتی ہوئی آبادی کیمُطابق ملازمتوں میں اُتنا اضافہ نہ ہُوا جس کی وجہ سے 8-12 ملین لوگ غریب ہو گئے۔ زراعت کے پُرانے طریقے اور مُسلسل توقعات کے بر عکس فصلیں،بھوک کا باعث بنیں۔ اُسی دوران دولت مند عام لوگوں کا ایک ابھرتا ہوا طبقہ، بورژوازی (bourgeoisie)، اشرافیہ کے خِلاف کھڑا ہو گیا جو مراعات یافتہ طبقہ تھا۔ اِس سے سماجی طبقات کے درمیان تناؤ بڑھ گیا۔ مُزید روشن خیالی کے زمانے کے خیالات بھی قومی بے چینی کا سبب تھے۔ لوگوں نے قدیم حکومت کو بدعنوان، اِنتطامی طور پر نااہل اورظالم کے طور پر دیکھنا شروع کیا۔ نفرت خاص طور پرملکہ میری اینٹونیٹ (Queen Marie Antoinette اِنقلاب سے پہلے فرانس کی ملکہ) کی طرف تھی، جو حکومت کے ساتھ ہر چیز کو غلط ثابت کرتی نظر آتی تھی۔
نمایاں وجہ فرانس کا ریاستی قرض تھا، جو اس کی عالمی طاقت کے طور پر حیثیت کو برقرار رکھنے کی وجہ سے اِکٹھا ہُوا تھا۔ جنگوں اور دیگر منصوبوں نے فرانسیسی خزانے کو اربوں کے قرضوں تلے دبا دیا تھا، کیونکہ اسے بہت زیادہ شرح سود پر قرض لینے پر مجبور کیا گیا تھا۔ ملک کا ٹیکس لگانے کا فاسد نظام غیر موثر تھا، اور جیسے ہی قرض دہندگان نے 1780 کی دہائی میں واپسی کا مطالبہ کرنا شروع کیا، آخر کار حکومت کو احساس ہوا کہ کچھ کرنا ہے۔
بڑھتا ہُوا طوفان: 1774-1788
10 مئی 1774 کو، فرانس کے بادشاہ لوئس XV تقریباً 60 سال کے اقتدار کے بعد انتقال کر گیا اور اپنے پوتے کو ایک پریشان حال اور ٹوٹی ہوئی بادشاہی کا وارث بنا گیا۔ (چُونکہ اُسکے بیٹے کی پہلے ہی بچپن میں وفات ہو چُکی تھی)۔ صرف 19 سال کی عمر میں، لوئس XVI ایک متاثر کن حکمران تھا جس نے اپنے وزراء کے مشورے پر عمل کیا اور فرانس کو امریکہ کی جنگ آزادی میں دھکیل دیا۔ امریکی انقلاب میں فرانسیسی شمولیت برطانیہ کو کمزور کرنے میں کامیاب تو رہی لیکن اس سے فرانس کے قرضوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہُوا جبکہ امریکیوں کی کامیابیوں سے اندرونِ مُلک امریکیوں کیخِلاف جذبات میں اضافہ ہُوا۔
1786 میں، لوئس XVI کو اس کے وزیر خزانہ چارلس الیگزینڈر کالون (Charles-Alexandre Calonne) نے اس بات پر قائل کیا کہ ریاستی قرض کے مسئلے کو مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کالون نے مالیاتی اصلاحات کی ایک فہرست پیش کی اور ان پر مُہر لگانے کیلئے 1787 کے قابل ذکر افراد کی اسمبلی بلائی۔ (قابلِ ذِکر افراد جو اکثر پادری یا دیگر چُنیدہ شہری ہوتے تھے، قانون سازی نہیں کرتے تھے بلکہ اِنکا کام بادشاہ کی مشاورت ہوتا تھا)۔ مشاورت دینے والے اِن افراد نے انکار کر دیا اور وزیر خزانہ کو انقلاب سے پہلے فرانس کی تین ریاستوں کی اسمبلی کا حوالہ دیتے ہُوئے کہا کہ صرف ایک اسٹیٹس جنرل ہی اس طرح کی بنیاد پرست اصلاحات کی منظوری دے سکتا ہے کیونکہ ایسا اجلاس 175 سالوں میں طلب نہیں کیا گیا تھا۔ لوئس XVI نے انکار کر دیا یہ سمجھتے ہوئے کہ ایک اسٹیٹ جنرل اس کے اختیار کو کمزور کر سکتا تھا۔ اس کے بجائے اس نے کالون کو برطرف کیا اور اصلاحات کو پارلیمنٹ میں بحث کیلئے لے گیا۔
پارلیمان اُن 13 عدالتوں پر مُشتمل تھیں جو شاہی فرمانوں کے نفاذ سے پہلے ان کے اندراج کے لیے ذمہ دار تھیں۔ اشرافیہ پر مشتمل، پارلیمنٹ نے طویل عرصے سے شاہی اتھارٹی کے خلاف جدوجہد کی تھی کیونکہ یہ تلخ تھا کہ ان کے طبقے کو ایک صدی سے فرانس کے "سورج بادشاہ" لوئس XIV نے محکوم بنا رکھا تھا۔ کِسی حد تک طاقت بحال کرنے کا موقع دیکھتے ہوئے، انہوں نے شاہی اصلاحات کو رجسٹر کرنے سے انکار کر دیا اور اسٹیٹس جنرل کے اِنتظام کی حمایت کرتے ہُوے، قابلِ ذِکر افراد جو بادشاہ کی مشاورت کیلئے تھے، اِنکے ساتھ مِل گئے۔ جب بادشاہ نے عدالتوں کو جلاوطن کر دیا تو ملک بھر میں فسادات پھوٹ پڑے۔ پارلیمنٹ نے عوام کے چیمپئن کے طور پرعام لوگوں کی حمایت حاصل کر لی۔ ان فسادات میں سے ایک واقع 7 جون 1788 کو گرینوبل (Grenoble) کے مُقام پر پھوٹ پڑنے کا ہے جِس سے ایسا راستہ بنا کہ بادشاہ کی رضامندی کے بغیر تینوں اسٹیٹس اکٹھی ہو گئیں۔ اِسے ٹائلوں کے دن (Day of Tiles) کے طور پر جانا جاتا ہے۔ کچھ مورخین کیمُطابق یہ اِنقلاب کا آغاز تھا۔ لوئس XVI نے مقبول شخصیت جیکس نیکر (Jacques Necker) کو اپنا نیا وزیر خزانہ مقرر کیا اور مئی 1789 میں ایک اسٹیٹ جنرل کا اجلاس منعقد کرنے کا شیڈول دیا۔
تیسری سماجی طاقت کا قیام: فروری-ستمبر 1789
پورے فرانس میں، 6 ملین لوگوں نے اسٹیٹس جنرل کے انتخابی عمل میں حصہ لیا، اور کل 25,000 شکایات کی فہرستیں بحث کے لیے تیار کی گئیں (cahiers de doléances)۔ جب 1789 کا اسٹیٹس جنرل کیلئے اجلاس بالآخر 5 مئی کو ورسیلز میں بلایا گیا، تو تھرڈ اسٹیٹ (سماجی درجہ بندی کے اعتبار سے تیسری قِسم کے عام لوگ جو کُل آبادی کا تقریباؐ 90 فیصد سے زیادہ تھے) کی نمائندگی کرنے والے 578 نائبین تھے، 282 اشرافیہ کے اور 303 پادریوں کے تھے۔ تیسری اسٹیٹ کی دوہری نمائندگی بے معنی تھی، کیونکہ ووٹ تو (Head یعنی فرد) کے بجائے اسٹیٹ کے حساب سے شمار کیے جانے تھے۔ چونکہ جب اعلیٰ طبقوں یعنی مذہبی پیشواوؐں اوراشرافیہ کا ایک ساتھ ووٹ دینا یقینی تھا تو پھر تیسری اسٹیٹ نقصان میں تھی۔
اس کے بعد، تیسری اسٹیٹ نے اپنے ہی انتخابات کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا۔ تیسری اسٹیٹ نے ووٹوں کو (Head) کے حساب سے شمار کرنے کا مطالبہ کیا لیکن اشرافیہ نے سختی سے انکار کر دیا۔ دریں اثنا، لوئس XVI کی توجہ اس کے بیٹے کی موت کی وجہ سے ہٹ گئی جِس سے شاہی اتھارٹی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ 13 جون تک ایک تعطل میں رہتے ہُوئے تیسری اسٹیٹ نے بادشاہ کی رضامندی کے بغیر کارروائی شروع کرکے پروٹوکول کو توڑتے ہوئے رول کال شروع کی۔ 17 جون کو، Abbé Emmanuel-Joseph Sieyes کی تجویز کردہ تحریک کے بعد، تیسری اسٹیٹ نے باضابطہ طور پر خود کو ایک قومی دستور ساز اسمبلی کا اعلان کیا۔ دو دن بعد، مذہبی پیشواوؐں نے باضابطہ طور پر اس میں شامل ہونے کے لیے ووٹ دیا، اور اشرافیہ نے بھی بے تکلفی سے اس کی پیروی کی۔ 20 جون کو، خود کو اسمبلی ہال سے باہربند پا کر، قومی اسمبلی کے نائبین (Deputies) نے شاہی ٹینس کورٹ میں اکٹھ کیا جہاں انہوں نے ٹینس کورٹ حلف اٹھایا، اور وعدہ کیا کہ جب تک وہ فرانس کو نیا آئین نہیں دے دیتے، اسے کبھی نہیں توڑیں گے۔ فرانس کا انقلاب شروع ہو چکا تھا۔
لوئس XVI نے محسوس کیا کہ اسے دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ جولائی کے شروع میں، اس نے 30,000 سے زیادہ فوجیوں کو پیرس کے بیسن (فرانس کے جُغرافیائی خِطوں میں سے ایک اہم خِطہ) میں بلایا، اور 11 جولائی کو، اس نے نیکر (Necker) اور دیگر وزراء کو برطرف کر دیا جو انقلابیوں کے دوست سمجھے جاتے تھے۔ بادشاہ کے خوف کے معنی یہ تھے کہ انقلاب کو کچلنا تھا، پیرس کے لوگوں نے 12 جولائی کو فساد کیا۔ ان کی بغاوت 14 جولائی کو باسٹیل کے طوفان کے ساتھ عروج پر پہنچ گئی، جب سینکڑوں شہریوں نے گولہ بارود کی ضرورت لوٹ کر پُوری کرنے کے لیے باسٹیل (Bastille) قلعے پر کامیابی سے حملہ کیا۔ بادشاہ پیچھے ہٹ گیا، اپنے سپاہیوں کو بھیج کر نیکر (Necker) کو بحال کیا۔ ان واقعات سے بے چین ہو کر، بادشاہ کا سب سے چھوٹا بھائی، کومٹے ڈی آرتوئس (Comte d'Artois) جولائی 16 کی رات کو شاہی خاندانوں کے ایک وفد کے ساتھ فرانس سے فرار ہو گیا اور وہ فرار ہونے والے ہزاروں مہاجرین میں سے پہلے تھے۔
آنے والے ہفتوں میں فسادات فرانسیسی دیہی علاقوں تک پھیل گئے، کیونکہ شہریوں میں اشرافیہ کی سازشں پھیل گئی کہ وہ اُن کو اُن کی آزادی سے محروم کر دیں گیں۔ ان فسادات کے نتیجے میں منی باسٹیلس (Mini-Bastilles) کی صورت نِکلی کیونکہ کسانوں نے مقامی قبضہ کرنے والوں کی جاگیروں پر چھاپے مارے، اور امرا کو اُنکے جاگیردارانہ حقوق سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا۔ ("Mini-Bastilles" سے مراد پیرس میں Bastille قلعے کے چھوٹے پیمانے کے ماڈل ہیں)۔ اِسے بعد میں خوفِ عظیم کے نام سے جانا گیا۔ خوف و ہراس کی اس لہر نے قومی اسمبلی کو جاگیرداری کے مسئلے سے نِمپٹنے پر مجبور کیا۔ 4 اگست کی رات، حب الوطنی کے جذبے کی لہر میں، اسمبلی نے اعلان کیا کہ جاگیردارانہ نظام "مکمل طور پر تباہ" ہو گیا ہے اور اعلیٰ طبقات کی مراعات کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اس مہینے کے آخر میں اِنسانی بُنیادوں پر شہریوں کے حقوق کے اعلامیہ کو قبول کیا گیا جو انسانی حقوق کی ایک تاریخی دستاویز ہے جس نے لوگوں کی عمومی مرضی، اختیارات کی علیحدگی، اور اس خیال کو فروغ دیا کہ انسانی حقوق عالمگیر ہیں۔ یہ دونوں کامیابیاں انقلاب کی سب سے اہم اور طویل ترین کامیابیاں سمجھی جاتی ہیں۔
عوامی بادشاہت: 1789-1791
جیسے ہی قومی اسمبلی نے آہستہ آہستہ آئین تیار کیا، لوئس XVI کا اپنے ورسائی محل کا غم بڑھتا گیا۔ اس نے اگست حکمنامے اور اِنسانی حقوق کے اعلامیہ پر اپنی رضامندی ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بجائے اِسنے یہ مطالبہ کیا کہ نائبین کو نئے آئین میں مطلق ویٹو کا حق ہو۔ اس سے پیرس کے لوگ مشتعل ہو گئے اور 5 اکتوبر 1789 کو 7,000 لوگوں کا ایک ہجوم، جن میں زیادہ تر بازاری خواتین تھیں، موسلا دھار بارش میں پیرس سے ورسائی تک مارچ کیا، روٹی کا مطالبہ کیا اور یہ کہ بادشاہ اسمبلی کی اصلاحات کو قبول کرے۔ لوئس XVI کے پاس اِن شرائط کو ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ اسے ورسیلز میں اپنی تنہائی چھوڑ کرخواتین کے ساتھ واپس پیرس چلا جانے پرمجبور کیا گیا، جہاں وہ ٹیولریز پیلس (Tuileries Palace) میں مُقیم رہا۔ ورسائی پر خواتین کے مارچ یا اکتوبر کے دنوں کے نام سے جانی جانے والی یہ بغاوت قدیم حکومت کے خاتمے اور فرانس کی مختصر مدت کے آئینی بادشاہت کے آغاز کا باعث بنی۔
اِنقلاب کا اگلا ڈیڑھ سال کا عرصہ نسبتاً پرسکون تھا۔ بے شک، بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ انقلاب آ چکا ہے۔ لوئس XVI نے اسمبلی کی اصلاحات کو اپنانے پر رضامندی ظاہر کی اور یہاں تک کہ tricolor cockade ( قومی نشان) قبول کرکے انقلاب سے مفاہمت کرتے نظر آئے۔ دریں اثناء، اسمبلی نے فرانس پر حکومت کرنا شروع کر دی، اپنی بدقسمت کرنسی، اسائنٹ (assignat), کو اپنایا، تاکہ بقایا قرضوں سے نمٹنے میں مدد ملے۔ اشرافیہ کو ختم کرنے کے بعد، اس نے اب اپنی توجہ کیتھولک چرچ کی طرف موڑ دی۔ پادریوں کے سول آئین نے، جو 12 جولائی 1790 کو جاری کیا گیا، تمام علما کو مجبور کیا کہ وہ نئے آئین کا حلف اٹھائیں اور روم میں پوپ کے ساتھ اپنی وفاداری سے پہلے ریاست سے اپنی وفاداری رکھیں۔ اسی وقت، چرچ کی زمینوں کو اسمبلی نے ضبط کر لیا، اور پوپ کے شہر Avignon کو دوبارہ فرانس میں ضم کر دیا گیا۔ چرچ پر ان حملوں نے بہت سے لوگوں کو انقلاب سے دور کر دیا، بشمول متقی لوئس XVI ۔
14 جولائی 1790، باسٹیل کی پہلی برسی، چیمپ ڈی مارز (Champ de Mars پیرس میں وسیع و عریض سر سبز علاقہ) پر ایک زبردست جشن منایا گیا۔ مارکوئس ڈی لافائیٹ کی قیادت (Marquis de Lafayette) میں، فیڈریشن کے تہوار کا مقصد نئے آزاد فرانسیسی عوام کے اپنے شہری بادشاہ کی شاندار حکمرانی کے تحت اتحاد کے طور پر منانا تھا، لیکن بادشاہ کے دوسرے منصوبے تھے۔ ایک سال بعد، 20-21 جون 1791 کی درمیانی رات اِسنے خاندان سمیت بھیس بدل کر ٹیولریز (Tuileries) کو چھوڑ دیا اور فرانس سے فرار ہونے کی کوشش کی جو کہ فلائٹ ٹو ویرنس (Flight to Varennes) کے نام سے مشہور ہے۔ وہ جلدی سے پکڑے گئے اور پیرس واپس آ گئے۔ ان کی اِس کوشش سے بادشاہت پر لوگوں کا مُکمل طور پر اعتماد اُٹھ گیا۔ لوئس XVI کو معزول کرنے کیلئے آوازیں بُلند ہونے لگیں، جب کہ کچھ لوگوں نے فرانسیسی جمہوریہ کا سنجیدگی سے مطالبہ بھی کرنا شروع کر دیا۔ اس مسئلے نے جیکوبن کلب (Jacobin Club) کو تقسیم کر دیا۔ (اِنقلاب کے بعد قانون کی پاسداری کرنے والے با اثر سیاسی افراد پر مُشتمل یہ ایک ایسا کلب تھا جہاں انقلابی اپنے مقاصد اور ایجنڈوں پر بات کرنے کے لیے جمع ہوتے تھے)۔ وہ اعتدال پسند اراکین جو بادشاہی دستور کے حامی تھے اُنہوں نے اِس کلب سے علہدہ ہو کر ایک اور Feuillant Club کے نام کا کلب بنا لیا جبکہ Jacobins مُزید بُنیاد پرست ہو گئے۔
17 جولائی 1791 کو بادشاہ کی معزولی کا مطالبہ کرنے کے لیے مظاہرین کا ایک ہجوم چیمپ ڈی مارس پر (Champ de Mars) جمع ہوا۔ ان پر پیرس نیشنل گارڈ، زیرِکمان لافائیٹ (Lafayette) کی طرف سے فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں 50 افراد ہلاک ہو گئے۔ چیمپ ڈی مارس کے قتل عام نے ریپبلکنوں (republicans) کو بھاگتے پر مجبُور کیا جس سے فیولنٹس کو ایک کمزور اور لبرل بادشاہت کے گرد مرکوز آئین کو آگے بڑھانے کے لیے کافی وقت مِلا۔ 30 ستمبر 1791 کو، نئی قانون ساز اسمبلی کا اجلاس ہوا، لیکن طویل انتظار کے باوجود، انقلاب پہلے سے کہیں زیادہ منقسم تھا۔
جمہوریہ کی پیدائش: 1792-1793
قانون ساز اسمبلی کے بہت سے نائبین (deputies) دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئے: وہ جو زیادہ قدامت پسند تھے یعنی فیولنٹس، اسمبلی کے صدر کے دائیں طرف، جب کہ بنیاد پرست جیکوبن اس کے بائیں طرف بیٹھے۔ اس سے سیاسی اسمبلیوں میں بائیں / دائیں بیٹھنے کا اصول وضع کیا گیا جو آج بھی استعمال ہوتا ہے۔ بادشاہی نظام کے تحت چلنے والی آسٹریا اور پرشیا نے اِنقلاب کو قرار دادِ پیلنتز کے تحت (Declaration of Pillnitz) تباہ کرنے ک دھمکی دی تواِسکے بعد ایک تیسرا دھڑا، جیکوبن سے الگ ہو گیا، جس نے یہ مُطالبہ کیا کہ اِنقلاب کو بچانے کیلئے جنگ ہی ایک واحد راستہ ہے۔ جنگی عزائم والی اِس پارٹی کو گیرونڈنز (Girondins) کے نام سے جانا جاتا تھا، جِس نے قانون ساز اسمبلی پر تیزی سے غلبہ حاصل کر لیا اور پھراِس نے 20 اپریل 1792 کو آسٹریا کے خلاف اعلان جنگ کے حق میں ووٹ دیا۔ اس سے فرانسیسی انقلابی جنگیں (1792-1802) شروع ہوئیں، کیونکہ یورپ کی پرانی حکومتیں، بنیاد پرست انقلابیوں سے خطرہ محسوس کرتے ہوئے، فرانس کے خلاف ایک اتحاد میں شامل ہو گئیں۔
ابتدائی طور پر یہ جنگ فرانسیسیوں کے لیے تباہ کن تھی۔ 1792 کے موسم گرما میں ایک پرشیائی (Prussian) فوج نے اُن لوگوں کیساتھ جو بادشاہی نظام کے خواہاں تھے (royalist émigrés) پیرس کی طرف آہستہ آہستہ مارچ کیا۔ اگست میں، حملہ آوروں نے برنسوک مینی فیسٹو (Brunswick Manifesto), جاری کیا، جس میں فرانسیسی شاہی خاندان کو کوئی نقصان پہنچنے کی صورت میں پیرس کو تباہ کرنے کی دھمکی دی گئی۔ اس دھمکی نے پیرس کے لوگوں کو ایک خوفناک خوف میں ڈال دیا جس کی وجہ سے 10 اگست 1792 کو Tuileries محل پر طوفان برپا ہوا۔اس بغاوت نے بالآخر بادشاہت کا تختہ الٹ دیا۔ پھربھی انقلابی دشمنوں سے خوفزدہ تھے جو Prussians کی مدد کر سکتے تھے (پروشیا بالٹک سمندر کا جنوب مشرقی علاقہ)۔ پیرس کے ہجوم نے پھر شہر کی جیلوں پر حملہ کیا اور ستمبر کے قتل عام میں 1,100 سے زیادہ افراد کو قتل کر دیا۔
20 ستمبر 1792 کو فرانسیسی فوج نے بالآخر والمی کی معجزاتی جنگ (Battle of Valmy) میں پرشیا کے حملے کو روک دیا۔ اگلے دن، اِنتہائی خُوشی میں قانون ساز اسمبلی نے باضابطہ طور پر فرانسیسی جمہوریہ کا اعلان کیا۔ بعد میں فرانسیسی ریپبلکن کیلنڈر رائج کیا گیا، جسے انسانیت کی حتمی کامیابی کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ اسمبلی کو توڑ دیا گیا، اور ایک نئے آئین کا مسودہ تیار کرنے کے لیے ایک قومی کنونشن بلایا گیا۔ کنونشن کے اولین کاموں میں سے ایک معزول لوئس XVI کی قسمت کا فیصلہ کرنا تھا۔ بالآخر، 21 جنوری 1793 کو اس پر مقدمہ چلایا گیا اور اسے گلوٹائن (سر قلم کرنے کی مشین) کیا گیا، اس کے خاندان کو میری اینٹونیٹ کے مقدمے اور اکتوبر میں اُسکی پھانسی تک ٹاور آف دی ٹیمپل (Tower of the Temple) میں قید رکھا گیا۔ لوئس XVI کے مقدمے اور پھانسی نے یورپ کو چونکا دیا، جس کی وجہ سے برطانیہ، اسپین اور ڈچ جمہوریہ فرانس کے خلاف اتحاد میں شامل ہوئے۔
دہشت کا دور: 1793-1794
Feuillants کے زوال کے بعد، Girondins انقلاب کا اعتدال پسند دھڑا بن گیا۔ 1793 کے اوائل میں، ماؤنٹین (Mountain) کہلانے والے بنیاد پرست جیکوبینز کے ایک گروپ نے ان کی مخالفت کی، جس کی قیادت بنیادی طور پر میکسمیلیئن روبسپیئر(Maximilien Robespierre)، جارج ڈینٹن (Georges Danton)، اور جین پال مارات ( Jean-Paul Marat) کر رہے تھے۔ Girondins اور Mountain نے 2 جون 1793 کو Girondins کے زوال تک ایک تلخ دشمنی برقرار رکھی، جب تقریباً 80,000 San-culottes، یا نچلے طبقے کے انقلابیوں، اور نیشنل گارڈز نے سرکردہ Girondins کی گرفتاریوں کا مطالبہ کرتے ہوئے Tuileries محل کو گھیرے میں لے لیا۔ اِن واقعات کے بعد Girondin لیڈروں کو پھانسی دے دی گئی تھی۔
Mountain کی فتح نے قوم کو تقسیم کر دیا۔ شارلٹ کورڈے (Charlotte Corday) کے ذریعہ مارات (Marat) کا قتل، مُختلف مُقامات پر ہونے والی خانہ جنگی کے دوران ہُوا، جیسے کہ وینڈی میں جنگ (War in the Vendée) اور وفاقی بُغاوتیں، جِسکی وجہ سے نوزائیدہ جمہوریہ کے اُبھرنے کی راہ ہموار ہُوئی۔ اس اختلاف کو ختم کرنے اور اتحادی فوجوں کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے، کنونشن نے پبلک سیفٹی (Public Safety) کی کمیٹی کے قیام کی منظوری دی، جس نے فوری طور پر مکمل انتظامی اتھارٹی حاسِل کر لی۔ بڑے پیمانے پر بھرتی جیسے اقدامات کے ذریعے، کمیٹی نے خانہ جنگیوں کو بے دردی سے کچل دیا اور ملکی غداروں اور انقلابی ایجنٹوں کو بے نقاب کرنے کی طرف توجہ مبذول کرنے سے پہلے غیر ملکی فوجوں کو چیک کیا۔ ستمبر 1793 سے جولائی 1794 تک جاری رہنے والے دہشت گردی کے دور کے نتیجے میں لاکھوں گرفتاریاں ہوئیں، 16,594 کو گیلوٹین کے ذریعے پھانسی دی گئی اور ہزاروں کی تعداد میں اضافی اموات ہوئیں۔ سابق انقلابی رہنماؤں اور ہزاروں عام لوگوں کے ساتھ اشرافیہ اور پادریوں کو پھانسی دی گئی۔
Maximilien Robespierre (فرانسیسی لیڈر1758-1794) نے اس دور میں تقریباً آمرانہ طاقت حاسِل کی۔ بڑھتی ہُوئی اِنقلابی مسیحت کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے، اس نے فرانس کو اخلاقی طور پر خالص معاشرے کے اپنے وژن میں آسانی پیدا کرنے کے لیے دیوتاوؐں کی پرستش کرنے والے فرقے (deistic Cult) کو نافذ کیا۔ اس کے دشمنوں نے اسے مکمل طاقت کا دعوی کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا اور اپنی جانوں کے خوف سے اسے معزول کرنے کا فیصلہ کیا۔ 28 جولائی 1794 کو میکسمیلیئن روبسپیئر (Maximilien Robespierre) اور اس کے اتحادیوں کے زوال نے دہشت کا خاتمہ کر دیا۔ کچھ مورخین اسے انقلاب کے زوال کی علامت سمجھتے ہیں۔
تھرمیڈورینز اور ڈائرکٹری: 1794-1799
Robespierre کی پھانسی کے بعد Thermidorian (Thermidor فرانسیسی جمہہوریہ کے کلینڈر کا گیارواں مہینہ-اِس دور کے لوگوں کو تھرمیڈورین کہتے تھے) کا ردِ عمل سامنے آیا۔ یہ قدامت پسند ردِ انقلاب کا دور تھا جس میں جیکوبن کی حکمرانی کے آثار مٹ گئے تھے۔ جیکوبن کلب کو نومبر 1794 میں مستقل طور پر بند کر دیا گیا تھا، اور 1795 میں پریرل کے مہینے میں (Prairial Uprising نواں مہینہ) میں جیکوبن کی دوبارہ اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کو کچل دیا گیا تھا۔ تھرمیڈورین نے 13 وینڈیمائر (اِنقلاب کا پہلا مہینہ اکتوبر 1795) کوآئین کے تیسرے سال (1795) آئین کو اپنانے اور فرانسیسی ڈائریکٹری (نیشنل کنوینشن کی جگہ لی جانے والی 1795 کے قانون کے تحت گورنمنٹ کی برانچ) میں منتقل ہونے سے پہلے ایک شاہی بغاوت کو شکست دی۔ یہ وہ حکومت تھی جس نے انقلاب کے آخری سالوں میں جمہوریہ کی قیادت کی۔
دریں اثنا، فرانسیسی فوجیں اتحادی افواج کو پیچھے دھکیلنے میں کامیاب ہوگئیں اور1797 تک اتحادی ممالک کی اکثریت کو شکست دے دی گئی۔ 9 نومبر 1799 کو، بوناپارٹ (Bonaparte) نے 18 برومائر کی بغاوت میں حکومت کا کنٹرول سنبھال لیا، جس سے غیر مقبول ڈائریکٹری کا خاتمہ ہوا۔ اس کے عروج نے فرانسیسی انقلاب کے خاتمے اور نپولین دور کے آغاز کی نشاندہی کی۔

