قدیم مِصر

Joshua J. Mark
کے ذریعہ، ترجمہ Samuel Inayat
Translations
پرنٹ کریں PDF
The Great Sphinx of Giza (by Jorge Láscar, CC BY)
گیزا کی عظیم اسفنکس Jorge Láscar (CC BY)

مصر شمالی افریقہ میں بحیرہ روم پر واقع ایک ملک ہے اور کُرہِ عرض پر قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک اور تہذیبوں کا گھر ہے۔ 'Egypt' نام یونانی Aegyptos سے آیا ہے جو قدیم مصری نام 'Hwt-Ka-Ptah' کا یونانی تلفظ تھا۔ اِس اِصطلاح کے معنی ہیں کائنات کو تخلیق کرنے والی ہستی کی رُوح کا گھر۔شروع میں یہ میمفس شہر کا نام تھا۔

میمفس (Memphis) مصر کا پہلا دارالحکومت، ایک مشہور مذہبی اور تجارتی مرکز تھا جِسکی اعلیٰ حیثیت کی تصدیق یونانیوں نے اسی نام سے پورے ملک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کی تھی۔ قدیم مصریوں کے لیے، ان کا ملک صرف کیمیٹ (Kemet) کے نام سے جانا جاتا تھا، جس کا مطلب ہے 'بلیک لینڈ' (Black Land)۔ دریائے نیل کے کنارے زرخیز تاریک مٹی کی وجہ سے یہ نام دیا گیا جہاں پہلی بستیاں شروع ہوئیں۔ بعد میں اس ملک کو مصر (Misr) کے نام سے جانا گیا جس کا مطلب ہے 'ملک'، جو مِصری آج بھی اپنی قوم کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ مصر ہزاروں سالوں تک (8000 سے 30 قبل مسیح تک) ایک آزاد قوم کے طور پر ترقی کرتا رہا جس کی ثقافت انسانی علم کے ہر شعبے میں فنون سے لے کر سائنس، ٹیکنالوجی اور مذہب تک ثقافتی ترقی کے لیے مشہور تھی۔ آج بھی منائی جانے والی قدیم مِصر کی عظیم یادگاریں مصری ثقافت کی گہرائی اور عظمت کی عکاسی اور قدیم تہذیبوں کو متاثر کرتی ہیں جن میں یونان اور روم شامل ہیں۔

مصری ثقافت کی مستقل مقبولیت کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ انسانی تجربے کی عظمت پر زور دیتی ہے۔ ان کی عظیم یادگاریں، مقبرے، مندر، اور فن پارے سبھی زندگی کا منظر پیش کرتے ہیں اور اس بات کی یاددہانی کے طور پر کھڑے ہوتے ہیں کہ پہلے کیا تھا اور انسان اپنے بہترین طریقے سے کیا حاصل کرنے کے قابل ہے۔ اگرچہ مشہور ثقافت میں قدیم مصر کا تعلق اکثر موت اور مردہ خانے کی رسومات سے ہوتا ہے، لیکن پِھربھی ہر شے کِسی بھی عُمر کے حِصے میں موجود لوگوں کو اُنکی توجہ اِس بات کی طرف مبذول کراتی ہے کہ اِنسان کا مطلب، مقصد اور یاداشت کیا ہے۔

مصر کی تحریری تاریخ 3400 اور 3200 قبل مسیح کے درمیان شروع ہُوئی جب نقاد کلچر (Naqada Culture III) کے ذریعہ ہائروگلیفک رسم الخط (hieroglyphic script) تیار کیا گیا۔

قدیم مصریوں کیمُطابق، زمینی زندگی ابدی سفر کا صرف ایک پہلو ہے، روح لافانی ہے اور اس جسم میں مختصر وقت کے لیے آباد ہے۔ موت کے وقت اِسے ایک ہال آف ٹروتھ (Hall of Truth) میں (نیکی و بدی) کو مدِ نظر رکھتے ہُوئے فیصلے کا اِنتظار کرنا ہے تا کہ اہل ثابت ہونے پر ابدی جنت میں جائے جسے فیلڈ آف ریڈز (The Field of Reeds) کہا جاتا ہے جو زمین پر کسی کی زندگی کا آئینہ دار ہے۔ ایک بار جب کوئی فرد جنت میں پہنچ جاتا ہے تو وہ ان لوگوں کی صحبت میں سکون سے رہ سکتا ہے جو زمین پر رہتے ہوئے اپنے پالتو جانوروں سمیت پیار کرتے تھے، اُسی محلے میں اُسی ندی کے کنارے، انہی درختوں کے نیچے، جن کا خیال موت کے وقت کھو گیا تھا۔ ابدی زندگی صرف ان لوگوں کے لیے تھی جنہوں نے اِس مقصد کیلئے اچھی زندگی دیوتاؤں کی مرضی کے مطابق مصر کی موزوں ترین سرزمین پر گزاری تھی۔

مِصر کی ایک طویل تاریخ ہے جو تحریری دُنیا سے بہت پہلے کی ہے، جِسمیں دیوتاوؐں اور یادگاروں کا ذِکر ہے اور جِس کی وجہ سے ثقافت مشہور ہُوئی۔ اس زمین پر مویشیوں کے چرنے کے شواہد تقریباً 8000 قبل مسیح سے ملتے ہیں اور یہ وہ مُقام ہے جِسے اب صحرائے صحارا (Sahara Desert) کہتے ہیں۔ دریافت شدہ نمونے اس خطے میں ایک فروغ پزیر زرعی تہذیب کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ چونکہ اُس وقت بھی زمین زیادہ تر بنجر تھی، شکاری خانہ بدوشوں نے دریائے نیل کی وادی کے ٹھنڈے پانی کی تلاش کی اور 6000 قبل مسیح سے کچھ عرصہ قبل وہاں آباد ہونا شروع کیا۔

Naqada II pottery
مٹی کے برتن نقاد دوم کے مُطابق Guillaume Blanchard (CC BY-SA)

خطے میں منظم کاشتکاری کا آغاز تقریباؐ 6000 قبل مسیح میں ہُوا جب بدریان ثقافت (Badarian Culture) کے نام سے مشہور برادریاں دریا کے ساتھ ساتھ پھلنے پُھولنے لگیں۔ صنعت تقریباً اسی وقت پروان چڑھی جس کا ثبوت ایبیڈوس (Abydos) میں دریافت ہونے والی فئینس ورکشاپس (faience workshops) سے ملتا ہے جب تقریباؐ 5500 قبل مسیح بدریان کے بعد امراتین (Amratian)، گرزین (Gerzean) اور نقاد ثقافتوں نے مصری تہذیب کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔( آثارِ قدیمہ کے شواہد کے اعتبار سے نقاد اول، نقاد دوم، اور نقاد III کہا جاتا تھا۔ مِصر کے بالائی حِصے میں موجود نقادہ شہر کے کلچر کو نقادہ کلچر کہتے تھے)۔ خِطے کی تحریری تاریخ 3400 اور 3200 قبل مسیح کے درمیان کسی وقت شروع ہُوئی جب نقاد کلچر III کے ذریعہ ہائروگلیفک (hieroglyphic) رسم الخط تیار کیا گیا۔ 3500 قبل مسیح تک ہیراکون پولس (Hierakonpolis) شہر میں مرنے والوں کی ممی کرنے کا عمل رائج تھا اور ایبیڈوس میں پتھر کے بڑے مقبرے تعمیر کیے گئے تھے۔ Xois شہر کو 3100-2181 قبل مسیح تک قدیم ہونے کے طور پر ریکارڈ کیا گیا جیسا کہ مشہور پالرمو پتھر (Palermo Stone) پر لکھا گیا ہے۔ دنیا بھر کی دوسری ثقافتوں کی طرح، چھوٹی زرعی برادریاں مرکزی بن گئیں اور بڑے شہری مراکز بن کر پروان چڑھیں۔

مصر کی ابتدائی تاریخ

مصر میں ابتدائی خاندانی دور بالائی مصر کے بادشاہ مینیس (جسے مینی یا مانیس بھی کہا جاتا ہے) کے تحت تقریباؐ ( 3150 - 2613 قبل مسیح) میں شمالی اور جنوبی ریاستوں کے اتحاد میں دیکھا گیا جب زیریں مِصر کو فتح کیا گیا۔ تقریباؐ 3118 یا 3150 قبل مسیح ابتدائی تاریخ کا یہ نسخہ ایجپٹیکا Aegyptica (مصر کی تاریخ) قدیم مورخ مانیتھو Manetho کے ذریعہ آیا ہے جو تیسری صدی قبل مسیح میں بطلیما خاندان Ptolemaic Dynasty (323-30 قبل مسیح) کے تحت رہتا تھا۔ اگرچہ اس کی تاریخ کو بعد کے مورخین نے متنازعہ قرار دیا ہے، لیکن اب بھی خاندانی جانشینی اور قدیم مصر کی ابتدائی تاریخ کے بارے میں جاننے کیلئے اِنہی کو زیرِ غور لایا جاتا ہے۔

Narmer Palette [Two Sides]
نرمر پیلیٹ [دو طرفہ] Unknown Artist (Public Domain)

مانیتھو (Manetho) کا کام واحد ذریعہ ہے جس میں مینیس اور فتح کا حوالہ دیا گیا ہے، اور اب یہ خیال کیا جاتا ہے کہ مینیتھو نے جس شخص کو 'مینس' (Menes) کہا ہے وہ بادشاہ نارمر (Narmer) تھا جس نے بالائی اور زیریں مصر کو پرامن طریقے سے ایک حکمرانی کے تحت متحد کیا۔ تاہم، نارمر کے ساتھ مینیس کی شناخت عالمی سطح پر قبول نہیں کی گئی ہے، اور مینیس کو اس کے بعد آنے والے بادشاہ ہور-آہا Hor-Aha (قبل مسیح 3100-3050 ) سے اتنا ہی معتبر طور پر جوڑا گیا ہے۔ مینیس کے اپنے پیشرو اور جانشین کے ساتھ وابستگی کی ایک وضاحت یہ ہے کہ 'مینز' ایک اعزازی لقب ہے جس کا مطلب ہے "وہ جو برداشت کرتا ہے" نہ کہ ذاتی نام اور اسی طرح ایک سے زیادہ بادشاہوں کا حوالہ دینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔ یہ دعویٰ بھی متنازعہ ہے کہ مُختلف خِِطوں کو فوجی مہم کے ذریعے متحد کیا گیا تھا کیونکہ مشہور نرمر پیلیٹ (Narmer Palette)، جس میں فوجی فتح کی عکاسی ہوتی ہے، کو کچھ علماء نے شاہی پروپیگنڈا سمجھا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ملک پہلے پرامن طور پر متحد ہو گیا ہو، لیکن اس کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

قدیم مِصر کا جُغرافیہ دریائے نیل کے پانی کے بہاوؐ کے اعتبار سے ہے، اس لیے بالائی مصر جنوبی علاقہ ہے اور زیریں مصر شمالی علاقہ بحیرہ روم کے قریب ہے۔ نارمر نے ہیراکونوپولس شہر اور پھر میمفس اور ابیڈوس سے حکومت کی۔ مصر میں ابتدائی خاندانی دور کے حکمرانوں کے دور (Dynastic Period) میں تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا اور وسیع مستبا مقبرے تدفین کیلئے تیار ہوئے جو بعد کے اہرام کے پیش خیمہ تھے جن میں وسیع تر ممی بنانے کی تکنیکیں شامل تھیں۔(mastaba tombs عربی لفظ مستبا سے جِسکے معنی ہیں بنچ)۔

دیوتا

مصر میں قبل از خاندانی دور تقریباؐ ( 6000 - 3150 قبل مسیح) مصری ثقافت کی تعریف دیوتاؤں پر یقین تھا۔ ابتدائی مصری تخلیق کا افسانہ بتاتا ہے، اِس سے پہلے کہ کِسی چیز کا آغاز ہُوا، آٹم دیوتا (god Atum) افراتفری/ گھماؤ پھراؤ کے درمیان (midst of swirling chaos) کھڑا تھا اور تخلیق کی بات کرتا تھا۔ ایٹم کے ساتھ ہیکا (heka magic) کی ابدی قوت تھی، جسے دیوتا ہیکا اور دُوسری روحوں کی شکل دی گئی جِنہوں نے دُنیا کو مُتحرک کیا۔ ہیکا ہی وہ اِبتدائی قوت تھی جو کائنات کے وجود کا سبب بنی اور دُنیا کی تمام چیزیں اُسی سے مُتحرک ہُوئیں۔ یہی مِصری ثقافت کا کلیدی نُقطہ تھا جِسکی مات کیساتھ ہم آہنگی اور توازن تھا۔ مِصری ثقافت میں کائنات کا اِنتظام، ترتیب، توازن،اِنصاف اور سچائی کی دیوی کو مات کہتے تھے۔

تمام دیوتاوؐں اور اُنکی ذمہ داریاں مات اور ہیکا سے وابسطہ ہو گئیں۔ سُورج کائناتی دستور کیمُطابق طلوح اور غروب ہُوا، چاند نے اپنا طے شُدہ سفر کیا جو اِنہی دو دیوتاوؐں کی وجہ سے مُمکن تھا۔ اِنہی دیوتاوؐں کے سبب موسم ترتیب اور توازن کے ساتھ آئے اور چلے گئے۔ مات کو شتر مرغ کے پروں میں ایک دیوی کے طور پر پیش کیا گیا، جس سے ہر بادشاہ نے اپنی پوری صلاحیتوں اور عقیدت کا وعدہ کیا تھا۔ زِندگی میں بادشاہ کو ہورس (Horus) دیوتا اور موت کے بعد کا دیوتا اوسائرس (Osiris) سمجھا جاتا تھا اور یہ ایک افسانہ پر بُنیاد کرتا تھا جو مِصری تاریخ میں سب سے زیادہ مشہور ہو گیا۔

Egyptian God Osiris
مصری دیوتا اوسائرس A.K. (Copyright)

اوسائرس (Osiris) اور اس کی بیوی آئیسس (Isis) جو اِسکی بہن بھی تھی، وہ اصل بادشاہ تھے جنہوں نے دنیا پر حکومت کی اور لوگوں کو تہذیب کے تحفے دیے۔ اوسائرس کے بھائی سیٹ (Set) نے اس سے حسد کرتے ہُوئے قتل کر دیا لیکن اسے آئیسس (Isis) نے دوبارہ زندہ کر دیا جس کے بعد اس کا بیٹا ہورس (Horus) پیدا ہوا۔ تاہم، اوسائرس نامکمل ہونے کی صُورت میں انڈرورلڈ (underworld) پر حکومت کرنے کے لیے اترا جب کہ ہورس نے بالغ ہو جانے کیبعد اپنے والد کا بدلہ اِسطرح لیا کہ اُسنے سیٹ کو شکست دے دی۔ اس افسانے نے واضح کیا کہ کس طرح ترتیب انتشار پر فتح یاب ہُوئی تا کہ مصری مذہب، مردہ خانے کی رسومات، اور مذہبی مواد اور آرٹ میں ایک مستقل مُقدس نمونہ بن جائیں۔ کوئی دور ایسا نہیں تھا جس میں دیوتاؤں نے مصریوں کی روزمرہ کی زندگی میں اٹوٹ کردار ادا نہ کیا ہو اور یہ ملک کی تاریخ کے ابتدائی دور سے واضح طور پر نظر آتا ہے۔

قدیم سلطنت

مصر کی قدیم بادشاہی تقریباؐ ( 2613-2181 قبل مسیح) کے دورانیہ میں ایسے فن تعمیر میں تیزی سے اضافہ ہوا جن سے دیوتاوؐں کی تعظیم نظر آتی تھی اور اِسطرح مصر میں کچھ مشہور یادگاریں، جیسے اہرام (pyramids) اور گیزا کا عظیم اسفنکس (چُونے سے بنا ایک ایسا مُجسمہ جِسکا سر تو آدمی کا ہو اور جِسم شیر کا Sphinx of Giza)، تعمیر کی گئیں۔ بادشاہ جوسر (Djoser)، جس نے تقریباؐ 2670 قبل مسیح، سقرہ میں اہرام کی پہلی قِسط پر تعمیری کام کیا، جسے اس کے چیف معمار اور معالج Imhotep امہوٹپ تقریباؐ (2667-2600 قبل مسیح) نے ڈیزائن کیا تھا اور جس نے 200 سے زیادہ مختلف بیماریوں کے علاج کو بیان کرنے والی پہلی طب کی تحریروں میں سے ایک میں لکھا اور یہ دلیل دی کہ بیماری کی وجہ قدرتی ہو سکتی ہے، دیوتاؤں کی مرضی نہیں۔ خوفو (Khufu) کا عظیم اہرام قدیم دنیا کے سات عجائبات میں سے آخری (2589-2566 قبل مسیح) کے دوران خفری (2558-2532 قبل مسیح) اور مینکورے (2532-2503 قبل مسیح) کے اہراموں کے ساتھ ہی تعمیر کیا گیا تھا۔

The Pyramids, Giza, Egypt
اہرام جیزا، مصر Shellapic76 (CC BY)

گیزا کی سطح مرتفع پر اہرام کی عظمت، جیسا کہ وہ اصل میں، چمکتے ہوئے سفید چونے کے پتھر میں لپٹے ہوئے ظاہر ہوئے ہوں گے، اس دور کے حکمرانوں کی طاقت اور دولت کا ثبوت ہے۔ ان یادگاروں اور مقبروں کی تعمیر کے بارے میں بہت سے نظریات پائے جاتے ہیں، لیکن جدید معمار اور علماء کسی ایک پر متفق نہیں ہیں۔ اس وقت کی ٹیکنالوجی پر غور کرتے ہوئے، کچھ لوگوں نے دلیل دی ہے کہ گیزا کے عظیم اہرام جیسی یادگار کا وجود نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم، دوسروں کا دعویٰ ہے کہ ایسی عمارتوں اور مقبروں کا وجود اعلیٰ ٹیکنالوجی کی نشاندہی کرتا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو چکی ہے۔

اس بات کا قطعی طور پر کوئی ثبوت نہیں ہے کہ گیزا کی سطح مرتفع کی یادگاریں - یا مصر میں کوئی اور - غلاموں کی محنت سے تعمیر کی گئی تھی اور نہ ہی بائبل کی خروج کی کِتاب میں دئیے گئے واقعات کا کوئی ثبوت ہے۔ آج کے بیشتر نامور علماء اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں کہ اہرام اور دیگر یادگاریں غلاموں کی محنت سے تعمیر کی گئی تھیں، حالانکہ مصر میں یقینی طور پر مختلف قومیتوں کے غلام موجود تھے اور کانوں میں باقاعدگی سے کام کرتے تھے۔ مصری یادگاروں کو ریاست کے لیے تخلیق کردہ عوامی کام سمجھا جاتا تھا اور تعمیر میں ہنر مند اور غیر ہنر مند مصری کارکنوں کا استعمال کیا جاتا تھا، جن میں سے سبھی کو ان کی محنت کی ادائیگی کی جاتی تھی۔ گیزا، بہتوں میں سے ایک پر کام کرنے والے کارکنوں کو دن میں تین بار بیئر (beer) دیا جاتا تھا اور ان کی رہائش، آلات اور یہاں تک کہ ان کی صحت کے معیار کو جاننے کیلئے واضع اصول طے کئے گئے تھے۔

پہلا درمیانی دور اور ہائکسوس (Hyksos)

مصر کے پہلا درمیانی دور (2181-2040 قبل مسیح) میں مرکزی حکومت کی طاقت میں کمی دیکھی گئی اور آخر کار اپنے اِختتام کو پہنچ گئی۔ بڑے اِضلاع آزاد حثیت سے اپنے گورنروں کے ساتھ پورے مصر کے زیریں عِلاقے ہیراکونپولیس (Hierakonpolis) اور بالائی عِلاقے تھیبس (Thebes) تک بتدریج ترقی کرتے گئے۔ ان مراکز نے اپنے اپنے خاندانوں کی بنیاد رکھی جنہوں نے اپنے علاقوں پر آزادانہ طور پر حکمرانی کی اور وقفے وقفے سے ایک دوسرے پر اپنا اثر جمانے کیلئے اُس وقت تک جنگیں کرتے رہے جب 2040 قبل مسیح میں تھیبس کے بادشاہ مینتوہوٹیپ Mentuhotep II (تقریباؐ 2061-2010 قبل مسیح) نے ہیراکونپولیس کی افواج کو شکست دی اور مصر کو متحد کیا۔

مصر کی وسطی سلطنت کو اس کا 'کلاسیکی دور' سمجھا جاتا ہے جب آرٹ اور ثقافت بہت بلندیوں پر پہنچ گئی تھی اور تھیبس سب سے اہم اور امیر ترین شہر بن گیا تھا۔

تھیبس میں استحکام اور پھلنے پھولنے کا موقع مِلا جسے وسطی سلطنت (2040-1782 قبل مسیح) کہا جاتا ہے۔ اِسی دور کو مصر کا کلاسیکی دور (Classical Age) بھی سمجھا جاتا ہے جب آرٹ اور ثقافت بہت بلندیوں پر پہنچ گئی تھی اور تھیبس ملک کا سب سے اہم اور امیر ترین شہر بن گیا تھا۔ مورخین اوکس اور گہلن (Oakes and Gahlin) کے مطابق، "بارہویں خاندان کے بادشاہ مضبوط حکمران تھے جنہوں نے نہ صرف پورے مصر پر بلکہ جنوب میں نوبیا (Nubia) پر بھی حاقمیت قائم کی جہاں مصر کے تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے کئی قلعے بنائے گئے تھے (11)۔ پہلی تربیت یافتہ فوج وسطی بادشاہت کے دوران بادشاہ امینہت اول (Amenemhat I) (c. 1991-1962 قبل مسیح) کے دور میں قائم کی گئی، کرناک کا مندر سینروسیٹ (Senruset I) (c. 1971-1926 قبل مسیح) کے تحت شروع ہوا اور کچھ عظیم اور مصری ادب اور آرٹ دیکھنے کو مِلا۔ تاہم، تیرواں خاندان بارویں خاندان کے مقابلے میں کمزور تھا اور اندرونی مسائل کی وجہ سے پریشان تھا جس کی وجہ سے غیر ملکی لوگوں کو جِنکو ہائکسوس (Hyksos) کے نام سے جانا جاتا تھا، نے نیل کے ڈیلٹا کے ارد گرد زیریں مصر میں اقتدار حاصل کیا۔

Hyksos پراسرار لوگ تھے، غالباً شام/فلسطین کے علاقے سے پہلی بار مصر میں تقریباؐ 1800 قبل مسیح میں نمودار ہوئے اور آواریس (Avaris) قصبے میں آباد ہوئے۔ اگرچہ Hyksos بادشاہوں کے نام اصل میں سامی (Semitic) تھے ان کے لیے کوئی مخصوص نسل ظاہر نہیں کی گئی۔ ہائکسوس طاقت میں زیریں مصر کے ایک اہم حصے پر تقریباؐ (1720 قبل مسیح) بالائی مصر کے تھیبن خاندان کو ایک جاگیردار ریاست قرار دینے تک بڑھتے گئے۔

Map of Ancient Egypt
قدیم مصر کا نقشہ Tina Ross (Copyright)

اس دور کو مصر کا دوسرا درمیانی دور (c. 1782 - 1570 قبل مسیح) کہا جاتا ہے۔ Hyksos (جس کا مطلب ہے غیر ملکی حکمران) سے مصری نفرت تو کرتے تھے لیکن انہوں نے ثقافت میں بہت سی اصلاحات متعارف کروائیں جیسے جامع کمان، گھوڑے اور رتھ کے عِلاوہ موسمی فصلیں اور کانسی اور سیرامک ​​کے کاموں میں ترقی۔ اسی وقت ہائکسوس نے زیریں مصر کی بندرگاہوں کو زیر کیا۔ 1700 قبل مسیح تک کُش (Kush) کی بادشاہی نوبیا میں تھیبس کے جنوب کی طرف بڑھ چکی تھی اور اب اس سرحد پر قابض تھی۔ مصریوں نے ہائکسوس کو باہر نکالنے اور نیوبینوں (Nubians) کو زیر کرنے کے لیے بہت سی مہمیں چلائیں، لیکن تھیبس کے شہزادہ احموس اول (Ahmose I) (c. 1570-1544 قبل مسیح) تک کامیاب نہ ہوئے اور ملک کو تھیبان کی حکمرانی میں متحد کر دیا۔

نئی بادشاہی اور امرنا (Amarna) کا دور

جب احموس اول (Ahmose I) کے دور کا آغاز ہُوا تو اُسی دور کو نئی بادشاہت کا دور سمجھا جاتا ہے (c. 1570 - 1069 قبل مسیح) جِس میں ایک مضبوط مرکزی حکومت کے تحت بڑی خوشحالی دیکھی گئی۔ مصر کے حُکمرانوں کے لیے فرعون کا لقب نئی بادشاہت کے دور سے ہی آتا ہے۔ پہلے بادشاہوں کو صرف بادشاہ کہا جاتا تھا۔ آج کے دور میں جِن حاکمین کو مِصری بادشاہوں کے طور پر جانا جاتا ہے وہ اُسی دور کے ہیں جب مصری فن تعمیر کے عظیم ڈھانچے جیسے کہ رامسیم، ابو سمبل، کرناک اور لکسر کے مندر Ramesseum, Abu Simbel, the temples of Karnak and Luxor، اور بادشاہوں کی وادی اور ملکہ کی وادی کے مقبرے بنائے گئے تھے یا بڑھا دیے گئے تھے۔

1504-1492 قبل مسیح کے درمیان فرعون تھٹموس اول (Tuthmosis I) نے اپنی طاقت کو مُزید مضبوط کیا اور مصر کی سرحدوں کو شمال میں دریائے فرات، مغرب میں شام اور فلسطین اور جنوب میں نوبیا تک پھیلا دیا۔ اس کے دور حکومت کے بعد ملکہ ہتشیپسٹ (Hatshepsut) (1479-1458 قبل مسیح) نے دوسری قوموں کے ساتھ تجارت کو بہت بڑھایا، خاص طور پر پنٹ کی سرزمین (Land of Punt)۔ اس کا 22 سالہ دور مصر کے لیے امن اور خوشحالی کا تھا۔

Portrait of Queen Hatshepsut
ملکہ ہیٹشیپسٹ کا پورٹریٹ Rob Koopman (CC BY-SA)

ملکہ ہتشیپسٹ کے جانشین، III تھٹموس (Tuthmosis III) نے اپنی پالیسیوں کو جاری رکھا (اگرچہ اس نے پِچھلی تمام یادوں کو مٹانے کی کوشش کی جیسا کہ خیال کیا جاتا ہے۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ دوسری خواتین کے لیے رول ماڈل کے طور پر کام کرے کیونکہ صرف مردوں کو حکمرانی کے قابل سمجھا جاتا تھا) اور 1425 قبل مسیح میں اس کی موت کے وقت تک، مصر ایک عظیم اور طاقتور قوم بن گیا۔ دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ، خوشحالی مختلف اقسام کی بیئر (beer) بنانے اور کھیلوں کی ترقی کا باعث بنی۔(اِسی طرح) طب میں ترقی سے صحت میں بہتری آئی۔

طویل عرصے سے روزانہ غسل کرنا مصری طرز عمل کا ایک اہم حصہ رہا ہے کیونکہ اس کی حوصلہ افزائی ان کے مذہب اور ان کے پادریوں نے کی تھی۔ تاہم، اس وقت، زیادہ وسیع حمام تیار کیے گئے تھے، غالباً حفظان صحت سے زیادہ تفریح ​​کے لیے۔ خواتین کی صحت اور مانع حمل ادویات کے بارے میں کاہون گائناکولوجیکل پیپرس (Kahun Gynecological Papyrus) لکھا گیا تھا۔ 1800 قبل مسیح اور اس عرصے کے دوران، ایسا لگتا ہے کہ ماہرِ طِب نے اس کا وسیع استعمال کیا ہے۔ سرجری اور دندان سازی دونوں پر وسیع پیمانے پر اور بڑی مہارت کے ساتھ مشق کی گئی تھی، اور 200 سے زیادہ مختلف بیماریوں کی علامات میں آسانی کے لیے ماہرِ طِب کی طرف سے بیئر تجویز کی گئی تھی۔

Kahun Gynaecological Papyrus
کہون گائناکولوجیکل پیپرس Francis Llewellyn Griffith (Public Domain)

1353 قبل مسیح میں فرعون امین ہوٹیپ چہارم (Amenhotep IV) تخت نشین ہوا اور کچھ ہی عرصے بعد، ایک خدا، ایٹن (Aten) پر اپنے اعتقاد کی عکاسی کرنے کے لیے اپنا نام بدل کر اخیناتن ('آٹین کی زندہ روح') رکھ دیا۔ مصری، جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے، روایتی طور پر بہت سے خداؤں پر یقین رکھتے تھے جن کی اہمیت ان کی روزمرہ کی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرتی تھی۔ ان دیوتاؤں میں سب سے زیادہ مشہور امون، اوسیرس، آئسس اور ہتھور (Amun, Osiris, Isis, and Hathor) تھے۔ امون کا فرقہ، اس وقت، اتنا مالدار ہو چکا تھا کہ پادری تقریباً فرعون کی طرح طاقتور تھے۔ اخیناتن اور اس کی ملکہ نیفرتیتی (Nefertiti) نے مصر کے روایتی مذہبی عقائد اور رسم و رواج کو ترک کر دیا اور ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھی جو ایک خُدا پر یقین رکھنے پر بُنیاد کرتا تھا۔

اخیناتن پہلا حکمران تھا جس نے اپنے یا دیوتا کے بجائے اپنی ملکہ کے اعزاز میں مجسمہ اور مندر کا حکم دیا۔

اخیناتن کی نافذ کردہ مذہبی اصلاحات کی وجہ سے امون (دیوتا) کے پادریوں کا اِختیار موثر طور پر کم کر دیا گیا اور اُسکا اپنا بڑھا دیا گیا۔ اس نے اپنی حکمرانی کو اپنے پیشروؤں سے مزید دور کرنے کے لیے دارالحکومت تھیبس سے امرنا منتقل کیا۔ یہ امرنا دور (1353-1336 قبل مسیح) کے نام سے جانا جاتا ہے جس کے دوران امرنا ملک کے دارالحکومت کے طور پر بڑھتا گیا اور مشرکانہ مذہبی رسوم پر پابندی لگا دی گئی۔

ان کے بہت سے کارناموں میں سے، اخیناتن (Akhenaten) پہلا حکمران تھا جس نے اپنے یا دیوتاؤں کی بجائے اپنی ملکہ کے اعزاز میں مجسمہ اور مندر کا حکم جاری کیا اور خرچ اُس رقم میں سے کیا جو کبھی عوامی کاموں، پارکوں اور مندروں میں جاتی تھی۔ مرکزی حکومت کے بڑھنے کے ساتھ ہی پادریوں کے اِختیار میں تیزی سے کمی ہوئی، جو کہ اخیناتن کا ہدف معلوم ہوتا تھا، لیکن وہ اپنے اِختیار کو اپنے لوگوں کے بہترین مفاد کے لیے استعمال کرنے میں ناکام رہا۔ امرنا کے خطوط واضح کرتے ہیں کہ وہ خارجہ پالیسی یا مصر کے لوگوں کی ضروریات سے زیادہ اپنی مذہبی اصلاحات کے بارے میں فکر مند رہتا تھا۔

اخیناتن کے دور حکومت کے بعد اس کا بیٹا، موجودہ دور میں سب سے زیادہ پہچانا جانے والا مصری حکمران تاتنخامن (Tutankhamun) تھا جِس نے تقریباؐ 1336 - 1327 قبل مسیح تک حکومت کی۔ اس کا اصل نام اپنے والد کے مذہبی عقائد کی عکاسی کرنے کے لیے تاتنخاتن رکھا گیا تھا لیکن، تخت سنبھالنے کے بعد، قدیم دیوتا امون کی تعظیم کے لیے اپنا نام تبدیل کر کے تاتنخامن رکھ دیا۔ اس نے قدیم مندروں کو بحال کیا، اپنے والد کے بحثیت واحد دیوتا کے تمام حوالوں کو ہٹا دیا، اور تھیبس کو دوبارہ دارالحکومت بنا دیا۔ اس کی موت پر اس کا دور ختم ہو گیا اور آج وہ 1922 عیسوی میں دریافت ہونے والے مقبرے کی عظمت کی وجہ سے سب سے زیادہ مشہور ہے، جو اس وقت ایک بین الاقوامی سنسنی بن گیا تھا۔

Death Mask of Tutankhamun
توتنخمون کا موت کا ماسک Richard IJzermans (CC BY-NC-SA)

نئی بادشاہی کا سب سے بڑا حکمران، تاہم، رامسیس دوم (Ramesses II) تھا (جسے رامسیس دی گریٹ 1279-1213 قبل مسیح بھی کہا جاتا ہے) جس نے کسی بھی مصری حکمران کے سب سے وسیع تعمیراتی منصوبوں کا آغاز کیا اور جس نے مؤثر طریقے سے حکومت کی کیونکہ اس کے پاس ایسا کرنے کے ذرائع تھے۔ اگرچہ 1274 قبل مسیح کی مشہور جنگِ قادیش Battle of Kadesh (مصر کے رامسیس دوم اور ہٹیوں Hittites کے مواتلی دوم (Muwatalli II) کے درمیان) کو آج ہار جیت کے بغیر سمجھا جاتا ہے۔ رامیسس نے اسے مصر کی ایک عظیم فتح سمجھا اور خود کو لوگوں کے چیمپئن کے طور پر اور آخر کار بہت سے عوامی کاموں میں ایک دیوتا کے طور پر منایا۔

اس کا ابو سمبل کا مندر (temple of Abu Simbel) جو اس کی ملکہ نیفرتاری (Nefertari) کے لیے بنایا گیا تھا قادیش کی جنگ کی تصویر کشی کرتا ہے اور اس مقام پر چھوٹا مندر، اخیناتن (Akhenaten) کی مثال کے بعد، رامسیس کی پسندیدہ ملکہ نیفرتاری کے لیے وقف تھا۔ رمسیس دوم کے دور میں، دنیا کا پہلا امن معاہدہ (قادیش کا معاہدہ) 1258 قبل مسیح میں ہوا اور مصر بے مثال دولت سے مُستفید ہوا جیسا کہ اس کے دور حکومت میں تعمیر یا بحال کی گئی یادگاروں کی تعداد سے ظاہر ہوتا ہے۔

رامسیس دوم کے چوتھے بیٹے، کھیم ویسیٹ (Khaemweset) (تقریباؐ 1281 - 1225 قبل مسیح)، پرانی یادگاروں، مندروں اور ان کے اصل مالک کے ناموں کو محفوظ کرنے اور ریکارڈ کرنے کی کوششوں کے لیے "پہلے مصری ماہر" کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ بڑی حد تک کھیم ویسیٹ کے اقدام کی وجہ سے ہے کہ مصر میں بہت سے قدیم مقامات پر رمسیس II کا نام بہت نمایاں ہے۔ کھیم ویسیٹ نے اپنی کوششوں کا ریکارڈ چھوڑا، یادگار یا مندر کے اصل بنانے والوں کا ریکارڈ، اور اپنے والد کا نام بھی۔

Abu Simbel Panorama
ابو سمبل پینوراما Dennis Jarvis (CC BY-SA)

رامسیس دوم بعد کی نسلوں میں 'عظیم آباؤ اجداد' کے نام سے جانا جانے لگا اور اس نے اتنا عرصہ حکومت کی کہ اس نے اپنے بچوں اور بیویوں سے بھی زیادہ عُمر پائی۔ وقت گزرنے کے ساتھ، اس کی تمام رعایا صرف رامسیس II کو اپنا حکمران جانتے ہوئے پیدا ہوئی تھی اور کسی دوسرے کی یاد نہیں تھی۔ اس نے 96 سال کی غیر معمولی لمبی زندگی کا لطف اٹھایا، جو ایک قدیم مصری کی اوسط عمر سے دوگنا ہے۔ اس کی موت کے بعد، یہ ریکارڈ کیا گیا ہے کہ بہت سے لوگ خوفزدہ تھے کہ دنیا کا خاتمہ ہو گیا ہے کیونکہ وہ کسی دوسرے فرعون اور مصر کی کسی دوسری قسم کو نہیں جانتے تھے۔

مصر کا زوال اور سکندر اعظم کی آمد

رامسیس دوم کے جانشینوں میں سے، رامسیس III (1186-1155 قبل مسیح) نے رامسیس دوم کی پالیسیوں پر عمل کیا لیکن، اس وقت تک، مصر کی کثیر دولت نے سمندری لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی تھی جنہوں نے ساحل کے ساتھ باقاعدہ دراندازی شروع کر دی تھی۔ سمندر کے لوگ، ہائکسوس کی طرح، نامعلوم اصل کے تھے لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ وہ جنوبی ایجین (southern Aegean) کے علاقے سے آئے تھے۔ 1276-1178 قبل مسیح کے درمیان سمندری لوگ مصری سلامتی کے لیے خطرہ تھے۔ رامسیس دوم نے اپنے دور حکومت کے اوائل میں ایک بحری جنگ میں انہیں شکست دی تھی جیسا کہ اس کا جانشین میرنپٹاہ Merenptah (1213-1203 قبل مسیح) نے بھی اُنہیں شکست دی تھی۔ تاہم، میرینپٹاہ کی موت کے بعد، انہوں نے اپنی کوششوں میں اضافہ کیا، قادیش کو، جو اس وقت مصر کے زیر کنٹرول تھا، تباہ کر دیا۔ 1180-1178 قبل مسیح کے درمیان رامسیس III نے ان کا مقابلہ کیا، آخر کار 1178 قبل مسیح میں Xois کی جنگ (Battle of Xois) میں انہیں شکست دی۔

رامسیس III کے دور کے بعد، اس کے جانشینوں نے اِسکی پالیسیوں کو برقرار رکھنے کی کوشش کی لیکن مصر کے لوگوں کو، مفتوحہ علاقوں میں رہنے والوں اور خاص طور پر پادری طبقے کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ توتنخامون (Tutankhamun) کی طرف سے آمون دیوتا کے پرانے مذہب کو بحال کرنے کے بعد کے سالوں میں، اور خاص طور پر رمسیس دوم کے دور میں خوشحالی کے عظیم دور میں، آمون کے پجاریوں نے بہت زیادہ اراضی حاصل کر لی تھی اور بڑی دولت اکٹھی کی تھی جس سے اب مرکزی حکومت کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا اور مصر کے اتحاد کو درہم برہم کر دیا تھا۔ رامسیس XI (1107-1077 قبل مسیح) کے وقت تک، 20 ویں خاندان کے اختتام تک، مصری حکومت پادریوں کی طاقت اور بدعنوانی سے اتنی کمزور ہو چکی تھی کہ ملک دوبارہ ٹوٹ گیا اور مرکزی انتظامیہ منہدم ہو گئی، جس سے مصر کا نام نہاد تیسرا درمیانی دور 1069-525 قبل مسیح شروع ہوا۔

Map of the Third Intermediate Period
تیسرے درمیانی دور کا نقشہ Jeff Dahl (CC BY-SA)

کُشائٹ کنگ پیئے Kushite King Piye (752-722 قبل مسیح) کے تحت، مصر دوبارہ متحد ہوا اور ثقافت پروان چڑھی، لیکن 671 قبل مسیح میں، ایسرحدڈون (Esarhaddon) کے ماتحت آشوریوں (Assyrians) نے مصر پر اپنا حملہ شروع کیا، اور اسے اپنے جانشین اشوربنیپال (Ashurbanipal) کے تحت 666 قبل مسیح تک فتح کیا۔ ملک کے کنٹرول کے لیے کوئی طویل مدتی منصوبہ بندی نہ کرنے کے بعد، آشوریوں نے اسے مقامی حکمرانوں کے ہاتھوں میں برباد کر کے چھوڑ دیا اور مصر کو اس کی قسمت پر چھوڑ دیا۔ تاہم، مصر دوبارہ تعمیر ہُوا اور دوبارہ مضبوط ہُوا، اور یہ وہ موقع تھا جب فارس کے کمبیسیس دوم (Cambyses II) کو 525 قبل مسیح میں پیلوسیئم کی لڑائی (Battle of Pelusium) میں اُلجھنا پڑھا۔ بلیوں کے لیے مصریوں کی عقیدت کو جانتے ہوئے (جن کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ مشہور دیوی باسیٹ Bastet کی زندہ نمائندگی کرتی ہیں)، کیمبیس دوم نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ وہ بلیوں کو اپنی ڈھال پر پینٹ کریں اور بلیوں اور دوسرے جانوروں کو جو مصریوں کی نظر میں مُقدس تھے، فوج کے سامنے، پیلوسیم (Pelusium) کی طرف لے جائیں۔ مصری افواج نے ہتھیار ڈال دیے اور ملک فارس کے قبضے میں آ گیا جو 332 قبل مسیح میں سکندر اعظم کے آنے تک فارس کے قبضے میں رہا۔

الیگزینڈر جِس کا ایک آزادی دِلانے والے کے طور پر استقبال کیا گیا، اس نے مصر کو بغیر کسی لڑائی کے فتح کر لیا۔ اس نے اسکندریہ شہر قائم کیا اور فینیشیا (Phoenicia) اور فارس سلطنت کے باقی عِلاقے کو فتح کرنے کے لیے آگے بڑھا۔ 323 قبل مسیح میں اس کی موت کے بعد اس کا جنرل، ٹولیمی اول سوٹر (Ptolemy I Soter)، اس کی لاش کو واپس اسکندریہ لایا اور بطلیما خاندان (Ptolemaic Dynasty) (323-30 قبل مسیح) کی بنیاد رکھی۔ Ptolemies میں سے آخری کلیوپیٹرا VII تھی جس نے 30 قبل مسیح میں اپنی افواج اور اس کے ساتھی مارک انٹونی (Mark Antony) کو ایکٹیم کی لڑائی Battle of Actium (31 قبل مسیح) میں آکٹیوین سیزر (Octavian Caesar) کے ماتحت رومیوں کے ہاتھوں شکست کے بعد، خودکشی کر لی تھی۔ مصر اس کے بعد رومی سلطنت (30 قبل مسیح -476 CE ) پھر بازنطینی سلطنت (c. 527-646 CE) کا ایک صوبہ بن گیا یہاں تک کہ اسے 646 عیسوی میں خلیفہ عمر کے تحت عرب مسلمانوں نے فتح کیا اور اسلامی حکومت کے تحت آ گیا۔

Artist's Depiction of an Excavation in Egypt
مصور کی مصر میں کھدائی کی تصویر Mohawk Games (Copyright)

مصر کی ماضی کی شان جو 18ویں اور 19ویں صدی عیسوی کے دوران دوبارہ معلوم ہوئی تھی اس نے قدیم تاریخ اور دنیا کے بارے میں موجودہ دور کی تفہیم پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ مورخ ول ڈیورنٹ (Will Durant) بہت سے لوگوں کی طرف سے محسوس ہونے والے جذبات کا اظہار کرتا ہے:

تاریخ کے اوائل میں مصر نے جو کچھ کیا اس کا اثر یا یاد ہر قوم اور ہر دور میں اثر رکھتا ہے۔ 'یہ بھی ممکن ہے'، جیسا کہ فاؤر (Faure) نے کہا ہے، 'کہ مصر، یکجہتی، اتحاد، اور اپنی فنی مصنوعات کی نظم و ضبط کے ذریعے، طویل مدت اور اپنی مسلسل کوشش کے ذریعے، اس عظیم ترین تہذیب کا نمونہ پیش کرتا ہے جو ابھی تک زمین پر نمودار ہوئی ہے۔' ہم اسے برابر کرنے کے لیے اچھا کریں گے۔ (217)

مصری ثقافت اور تاریخ طویل عرصے سے لوگوں کے لیے ایک عالمگیر توجہ رکھتی ہے، چاہے 19ویں صدی عیسوی میں ابتدائی آثار قدیمہ کے ماہرین کے کام کے ذریعے {(جیسے چیمپولین Champollion جس نے 1822 عیسوی میں روزیٹا پتھر (Rosetta Stone) کو سمجھا تھا)} یا 1922 عیسوی میں ہاورڈ کارٹر (Howard Carter) کے ذریعے جِس نے توتنخمون (Tutankhamun) کا مقبرا دریافت کیا۔ زندگی کے بارے میں قدیم مصری عقیدہ کہ یہ ابدی زِندگی کی جانب ایک سفر ہے، نے بعد میں آنے والی ثقافتوں میں بھی الہی جادو کے ذریعے اثر کیا اور یہ برقرار رہا۔ مصری مذہب کے زیادہ تر نقش اور عقائد نے مسیحت کے نئے مذہب میں اپنا راستہ تلاش کیا اور ان کی بہت سی علامتیں آج بڑی حد تک ایک ہی معنی رکھتی ہیں۔ یہ مصری تہذیب کے اثر کا ایک اہم ثبوت ہے کہ تخیل کے بہت سے کام، فلموں اور کتابوں سے لے کر پینٹنگز (paintings) تک حتیٰ کہ مذہبی عقیدے تک، کائنات کے بارے میں اس کے بلند اور گہرے نقطہ نظر اور اس میں انسانیت کے مقام سے متاثر ہوئے ہیں اور جاری ہیں۔

سوالات اور جوابات

مترجم کے بارے میں

Samuel Inayat
I began my professional career in July 1975 by joining a government service in scale 10 and continued till I retired in June 2013 in scale 17 after rendering 40 years unblemished service. Most of my service was as a Civil Servant.

مصنف کے بارے میں

Joshua J. Mark
ایک فری لانس لکھاری اورمارست کالج، نیو یارک کے سابقہ جزوقتی فلسفہ کے پروفیسر، جوشیا ج۔ مارک یونان اور جرمنی میں رہ چکے ہیں اور مصر کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔ انہوں نے کالج کی سطح پر تاریخ، ادب، تصنیف و تالیف اور فلسفی کی تعلیم دی ہے۔

اس کام کا حوالہ دیں

اے پی اے اسٹائل

Mark, J. J. (2025, September 29). قدیم مِصر. (S. Inayat, مترجم). World History Encyclopedia. https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-74/

شکاگو سٹائل

Mark, Joshua J.. "قدیم مِصر." ترجمہ کردہ Samuel Inayat. World History Encyclopedia, September 29, 2025. https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-74/.

ایم ایل اے سٹائل

Mark, Joshua J.. "قدیم مِصر." ترجمہ کردہ Samuel Inayat. World History Encyclopedia, 29 Sep 2025, https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-74/.

اشتہارات ہٹائیں