میسوپوٹامیہ (یونانی لفظ، جس کا مطلب ہے دو دریاؤں کے درمیان) مشرقی بحیرہ روم میں واقع ایک قدیم خطہ تھا جو شمال مشرق میں زگروس پہاڑوں (Zagros Mountains) اور جنوب مشرق میں عربی سطح مرتفع سے جُڑا ہوا تھا، آج کے عراق، ایران، شام، کویت اور ترکی کے کچھ حصوں پر مُشتمل ہے جِسے تہذیب کا گہوارہ اور زرخیز ہلال سمجھا جاتا ہے۔
دو دریاوؐں سے مراد دجلہ اور فرات ہیں اور چُونکہ یہ پانی سے گِھری ہُوئی زرخیز زمین تھی، عربوں کے لیے 'الجزیرہ' (جزیرہ) کے نام سے مشہور تھی۔ "زرخیز کریسنٹ" (Fertile Crescent) کی اصطلاح مصری تہذیب کے ماہر J.H. بریسٹڈ (J.H. Breasted l. 1865-1935) نے 1916 میں خلیج فارس کے شمالی حِصے پر واقع خطہ کو بیان کرنے کے لیے بائبل کے باغِ عدن کے ساتھ جوڑتے ہُوئے دی۔
میسوپوٹامیہ، ہزاروں سالوں پر محیط بہت سی مختلف تہذیبوں کا گھر تھا جس نے عالمی ثقافت اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ روزمرہ کی زندگی کے بہت سے پہلو جِنکو موجودہ دور میں یقین سے سمجھا جاتا ہے، جیسے تحریر، پہیہ، ضابطہِ قوانین، بحری جہاز رانی، 24 گھنٹوں پر مُشتمل دن کا تصور، پُرانا رسمی شراب بنانے کا طریقہ (beer-brewing)، شہری حقوق، اور فصلوں کی آبپاشی سب سے پہلے اِنہی دو دریاؤں کے درمیان کی زمین میں قائم کئے گئے تھے اور یہی عظیم مسوپتامی تہذیب کا گھر تھا اور یہی آغاز تھا۔
تہذیب کا گہوارہ
مصر یا یونان کی تہذیبوں کے برعکس، میسوپوٹامیہ مُختلف ثقافتوں کا ایک مجموعہ تھا جن کا حقیقی بندھن ان کا رسم الخط، ان کے دیوتا، اور عورتوں کی جانب ان کا رویہ تھا۔ اگرچہ، سمیری لوگوں (Sumerian people) کے سماجی رسم و رواج، قوانین، اور زبان بھی اکادی (Akkadian Period) دور سے مختلف تھے، یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ بابل کی تہذیبوں سے مطابقت رکھتے تھے، تاہم، ایسا لگتا ہے کہ خواتین کے حقوق (کچھ ادوار کے دوران)، خواندگی کی اہمیت، اور دیوتاؤں کے سِلسلے (pantheon of the gods) درحقیقت پورے خطے میں مشترک تھے، حالانکہ مختلف خطوں اور ادوار میں دیوتاؤں کے نام مختلف تھے۔
اس وجہ سے، میسوپوٹامیہ کو بطور ایک خِطہ صحیح طور پر اِسطرح سمجھا جانا چاہیے کہ اِس تہذیب نے متعدد سلطنتوں اور تہذیبوں کو جنم دیا۔ یہی وجہ ہے کہ، میسوپوٹامیہ کو "تہذیب کا گہوارہ" (cradle of civilization) سمجھا جاتا ہے اِسلئے کہ بنیادی طور پر چوتھی صدی قبل از مسیح میں سمر کے علاقے (region of Sumer) میں مندرجہ ذیل دو طرح کی ترقیاں وجود میں آئیں:
- شہر کا قیام جیسا کہ آج تسلیم کیا جاتا ہے۔
- تحریر کی ایجاد (اگرچہ تحریر کو مصر، وادی سندھ، چین اور میسوامریکہ (Mesoamerica) میں آزاد ایجاد بھی سمجھا جاتا ہے)۔
پہیے کی ایجاد کا سہرا بھی میسوپوٹامیہ کے لوگوں کو جاتا ہے۔ 1922 عیسوی کے ماہر آثار قدیمہ سر لیونارڈ وولی (Sir Leonard Woolley) نے "دو- چار پہیوں والی ویگنوں کی باقیات، [قدیم شہر Ur کے مقام پر] تاریخ کی سب سے پرانی پہیوں والی گاڑیاں چمڑے کے ٹائروں کے ساتھ دریافت کیں" (Bertman, 35)۔ اہم پیشرفت یا دیگر ایجادات جن کا سہرا میسوپوٹامیہ کے لوگوں کو دیا گیا ہے ان میں جانوروں کا پالنا، زراعت اور آبپاشی، عام اوزار، جدید ترین ہتھیار اور جنگی سازوسامان، رتھ، شراب، بیئر (beer)، وقت گھنٹوں، منٹوں اور سیکنڈوں میں، مذہبی رسومات، بادبانی اور قانونی ضابطہ کار شامل ہیں۔ مستشرق سیموئیل نوح کریمر (Orientalist Samuel Noah Kramer) نے اپنی کِتاب (تاریخ سمر سے شروع ہوتی ہے History Begins at Sumer) میں 39 مُختلف مُعاشرتی کاموں کی فہرست دی ہے جو اِنسانی تہذیب میں سب سے پہلے تھے:
- پہلے اسکول
- چاپلوسی کا پہلا کیس
- نوجوان مجرمانہ رویے کا پہلا کیس
- اعصابی جنگِ اول
- پہلی دو ایوانوں والی کانگریس
- پہلا مورخ
- ٹیکس میں کمی کا پہلا کیس
- پہلا 'موسیٰ'
- پہلی قانونی نظیر
- پہلی فارماکوپیا (طِبی فارماکوپیا یا مخزنِ ادویہ جِسمیں ادویات کی تصریحات دی جاتی ہیں)
- پہلا 'کسانوں کا سالنامہ'
- سایہ دار درختوں کی باغبانی کا پہلا تجربہ
- انسان کی پہلی کائنات شناسی اور علمِ فلکیات
- اولین اخلاقی نظریات
- پہلا ایوب ( دُکھ و غم کی بابت ایک سمیری ادبی متن جِسکے متوازی بائبل میں ایوب کی کِتاب ہے)
- پہلے مقولے اور کہاوتें
- پہلی حیوانی کہانیاں
- پہلی ادبی بحث
- پہلی بائبل کے متوازی (کہانیاں)
- پہلا 'نوح'
- قیامت کی پہلی کہانی (دیوتا انانا (اِشتار) کا نزول)
- پہلا 'سینٹ جارج' 303 عیسویں کا رومن سِپاہی جو یونان سے تعلق رکھتا تھا اور جو مسیحی ایمان میں شہید ہُوا، اِسے ایک سینٹ کا درجہ دیا گیا۔ کریمر نے اپنی کِتاب میں ہیرو نیروتا کو ڈریگون کو مارنے کی صلاحیت رکھنے کے وجہ سے سینٹ جارج کہا)
- ادبی اُدھار لینے کا پہلا کیس
- انسان کا پہلا بہادری دور
- پہلا محبت کا نغمہ
- پہلی لائبریری کی فہرست
- انسان کا پہلا سنہری دور
- پہلا 'بیمار' معاشرہ
- عبادتی نوحہخوانیاں
- پہلا مسیحا
- پہلا لمبے فاصلے کا چیمپیئن
- ادب میں پہلی تمثیلیں
- جنس کی پہلی علامت نگاری
- پہلی میٹر ڈولوروسا (کریمر کا اشارہ سمیری دیوی انانا جِسے بعد میں اشتار بھی کہا گیا، کو اُس کردار میں ظاہر کیا گیا ہے جب وہ اپنے پیارے خاوند ڈموزی، بعد میں جِسے ٹموز کہا گیا، کے لئے ماتم کرتی ہے۔ مسیحی تصویری علامت نگاری میں کنواری مریم کے غم کا پیش خامہ ہے)
- پہلی لوری
- ادب میں پہلا پورٹریٹ
- پہلا مرثیا
- مزدوروں کی پہلی فتح
- پہلا ایکویریم (مچھلی گھر)
1840 عیسوی میں شروع ہونے والی آثار قدیمہ کی کھدائیوں نے میسوپوٹامیہ میں 10,000 قبل از مسیح سے شروع ہونے والی انسانی بستیوں کا انکشاف کیا جِس سے اِس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ دو دریاؤں کے درمیان کی زمین زرخیزی کی وجہ سے شکار پر گُزارا کرنے والوں کی زراعت کی طرف توجہ آباد کاری اور جانوروں کو پالنے کی وجہ سے ہُوئی۔ جلد ہی اس کے بعد تجارت ہوئی، خوشحالی کے ساتھ شہری آباد کاری ہُوئی اور شہر آباد ہُوئے۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ لکھنے کی ایجاد تجارت کی وجہ سے یا دُور دراز کے عِلاقوں سے مواصلاتی رابطے اور کاروباری حِساب کِتاب رکھنے کی وجہ سے ہُوئی۔
سیکھنا اور مذہب
میسوپوٹامیہ قدیم دور میں سیکھنے کی جگہ کے طور پر جانا جاتا تھا، اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ میلٹس کے تھیلس Thales of Miletus (585 قبل از مسیح، تھیلز کو 'پہلے فلاسفر کے نام سے جانا جاتا ہے) نے وہاں تعلیم حاصل کی۔ بابل کے لوگوں کا خیال تھا کہ پانی وہ 'پہلا اصول' تھا جس میں سے باقی سب کُچھ بنا، اور جیسا کہ تھیلس اسی دعوے کے لیے مشہور ہے، ایسا لگتا ہے کہ اس نے اس خطے میں تعلیم حاصل کی ہو۔
پورے میسوپوٹامیہ میں حصولِ دانش کی بہت زیادہ قدر کی جاتی تھی، اور اسکولوں کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ مندروں سے شُمار میں زیادہ تھے جہاں پڑھنا، لکھنا، مذہب، قانون، طب اور علم نجوم سکھایا جاتا تھا۔ میسوپوٹامیہ کی ثقافتوں کے دیوتاؤں کے پینتھین (pantheon) میں 1,000 سے زیادہ دیوتا تھے اور دیوتاؤں سے متعلق بہت سی کہانیاں تھیں (جیسے، تخلیق کا افسانہ، اینوما ایلیش Enuma Elish)۔ یہ عام طور پر مانا جاتا ہے کہ بائبل میں بیان کی گئی انسان کے زوال اور عظیم سیلاب (بہت سے دُوسروں میں سے) کی کہانیوں کی ابتدا میسوپوٹامیہ کی داستانوں سے ہوئی ہے جیسے کہ ارودو جینسز (Eridu Genesis)، اڈاپا کا افسانہ (The Myth of Adapa) اور گلگامیش کا مہاکاوی (Epic of Gilgamesh)، جو دنیا کی سب سے قدیم تحریری کہانی ہے۔ میسوپوٹامیہ کے لوگوں کا خیال تھا کہ وہ دیوتاؤں کے رفیقِ کار تھے اور یہ کہ زمین یا دُنیا میں رُوحیں اور شیاطین سرایت کر چُکی تھیں (حالانکہ 'شیطان' کو اُس طرح نہیں سمِجھنا چاہئے جیسے موجودہ مسیحت میں سمجھا جاتا ہے)۔
ان کے خیال میں دنیا کی شروعات دیوتاؤں کا افراتفری کی قوتوں پر فاتح ہونا تھا۔ اگرچہ دیوتاؤں کی جیت ہوئی، اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ افراتفری دوبارہ کامیاب نہیں ہو سکتی تھی۔ روز مرہ کی رسومات، دیوتاؤں کی طرف توجہ، آخری رسومات کے مناسب طریقوں، اور فرض شناسی کے ساتھ سادہ شہری زِندگی جیسے اصولوں نے میسوپوٹامیہ کے لوگوں کی دنیا میں توازن برقرار رکھنے میں مدد دی اور افراتفری اور تباہی کی قوتوں کو دور رکھا اِن توقعات کے ساتھ کہ ہر کوئی اُن کاموں کے ذریعہ جو وہ روزانہ کرتا تھا، دیوتاؤں کی عزت کے ساتھ ساتھ اپنے بزرگوں کا احترام کرے گا اور لوگوں کے ساتھ احترام سے پیش آئے گا۔
پیشے
مرد اور عورت دونوں کام کرتے تھے، اور "چونکہ قدیم میسوپوٹامیہ بنیادی طور پر ایک زرعی معاشرہ تھا، اس لیے بنیادی پیشے فصلیں اگانا اور مویشیوں کی پرورش کرنا تھا" (برٹ مین، 274)۔ دیگر پیشوں میں کاتب ہونا، شفا دینے والا، کاریگر، بُنکر (weaver)، کمہار، موچی، مچھیرا، استاد، اور پادری یا خاتون پادری شامل تھے۔ برٹ مین لکھتے ہیں:
معاشرے میں سربراہ یا بادشاہ ہوتے تھے یا وہ کاہن جو مندر / عِبادت گاہ میں خِدمت کا کام سر انجام دیتے تھے اور جِنکی خِدمت مندر ہو یا محل ایک بڑا عملہ کرتا تھا۔ سامراجی وُسعت کے ساتھ، فوجی اداروں کے افسران اور پیشہ ور سپاہیوں نے میسوپوٹامیہ کی توسیع پذیر اور متنوع افرادی قوت میں اپنی جگہ بنا لی۔ (274)
خواتین تقریباً مساوی حقوق رکھتے ہُوئے زمین کی مالک ہو سکتی تھیں، طلاق کے لیے کیس فائل کر سکتی تھیں، کاروبار کر سکتی تھیں، اور تجارتی معاہدے بھی کر سکتی تھیں۔ معاہدے، کاروباری انتظامات، اور خط و کتابت کینیفارم (cuneiform) رسم الخط میں مٹی کی تختیوں پر کی جاتی تھی اور بغرض شناخت مہر لگا دی جاتی تھی۔ تختی کے خُشک ہو جانے کے بعد اِسے مٹی کے برتن میں رکھا جاتا تھا اور دوبارہ سر بہ مہر کر دیا جاتا تھا تاکہ صرف وصول کنندہ ہی خط یا معاہدہ پڑھ سکے۔ بابلی یا دُوسرے لوگوں کی طرح سمیرین مُعاشرے میں کیونیفارم رسم الخط سامی (Semitic) زبانوں میں اِستعمال ہوتا تھا اور اِسکا اِستعمال اُس وقت تک کیا گیا جب تک اِس رسم الخط کی جگہ حروف تہجی نے نہ لی۔ سامان یا دُوسری اشیا کی رسیدیں کینیفارم پر لکھی جاتی تھیں بشمول ادبی کاموں کے۔ اِس طرح بنائی گئیں رسیدیں پپائرس یا کاغذ پر لکھی گئی دستاویزات سے کہیں زیادہ دیر تک قابلِ اِستعمال رہتی تھیں۔
دنیا میں سب سے قدیم بیئر کی رسید میسوپوٹامیہ سے آتی ہے، جسے الولو (Alulu) رسید کہا جاتا ہے (تقریباؐ 2050 قبل از مسیح)، جسے Ur شہر میں لکھا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر بیئر اور شراب بنانے والے، نیز کمیونٹی میں شفا دینے والے، شروع میں خواتین تھیں۔ اِس قِسم کی تجارت کو بعد میں مردوں نے اپنے قبضے میں لے لیا، جب یہ معلوم ہوا کہ یہ منافع بخش پیشے تھے۔ تاہم، کسی نے جو کام کیا، اسے کبھی بھی محض ایک 'نوکری' نہیں سمجھا بلکہ یہ سمجھا کہ یہ کمیونٹی سے تعاون تھا اور مُزید یہ کہ، دنیا کو امن اور ہم آہنگی میں رکھنے کے لیے دیوتاوؐں کا عمل دخل تھا۔
عمارتیں اور حکمران
مندر ہر شہر کے مرکز میں جسے زگگرات (ziggurat قدم بقدم چڑھائی والا پیرامِڈ جو مُقامی تہذیب کی عکاسی کرتا ہو) کہا جاتا تھا، شہر کے سرپرست دیوتا کی اہمیت کی علامت تھا جس کی پوجا ہر طرح کی کمیونٹی کرتی تھی۔ اپنے سرپرست دیوتا کی تعظیم کے لیے ہر شہر کے اپنے زگگرات تھے (بڑے شہرمیں ایک سے زیادہ)۔ دُنیا کی تاریخ میں سب سے پہلے میسوپوٹیمیا ہی میں شہرتعمیر کئے گئے جو زیادہ تر سورج سے خُشک کی گئی اینٹوں سے بنے تھے۔ برٹ مین کے الفاظ میں:
میسوپوٹامیہ کا گھریلو فن تعمیر اس مٹی سے تھا جس پر یہ کھڑا تھا۔ مصر کے برعکس، میسوپوٹیمیا - خاص طور پر جنوب میں پتھریلی تھا جِس پر تعمیر کی جا سکتی تھی۔" زمین لکڑی حاصل کرنے کیلئے درخت اُگانے کے قابل نہیں تھی، لہٰذا لوگ "دوسرے قدرتی وسائل کی طرف متوجہ ہوئے جو قابلِ دسترس تھے: یعنی دریا کے کناروں کی کیچڑ والی مٹی اور دلدل میں اگنے والی جھاڑیاں اور سرکنڈے۔ ان کے ساتھ، میسوپوٹامی لوگوں نے دنیا کے پہلے کالم، محراب اور چھت والے ڈھانچے بنائے۔ (285)
سادہ گھر، آپس میں جڑے ہوئے سرکنڈوں کے بنڈلوں سے بنائے گئے تھے جو زمین میں بھی گاڑے گئے تھے، جب کہ بڑے گھر مٹی کی اِینٹوں سے جو دھُوب میں خُشک کی گئی ہوں، بنائے گئے تھے (بعد میں مصریوں نے اس کی پیروی کی)۔ شہر اور مندروں کے احاطے، ان کے مشہور زِگگورات کے ساتھ، سبھی کو تندور سے پکی ہوئی اینٹوں کا استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا تھا جس پر پھر پینٹ کیا گیا تھا۔
کسی بھی تعمیراتی منصوبے کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد کے وقت یہ سوچا جاتا تھا کہ دیوتا موجود تھے۔ اُنہیں منصوبے کی کامیابی اور گھر کے مکینوں کی خوشحالی میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا تھا۔ اِس لئے مخصوص دیوتا کے حضور مخصوص مقررہ دعائیں ترتیب سے پڑھی جاتی تھیں۔
میسوپوٹامیہ میں جس بھی بادشاہ کا غلبہ رہا، کسی بھی تاریخی دور میں، لوگوں کی زندگیوں میں دیوتاؤں کا اہم کردار کم نہیں رہا۔ الہٰی ہستی کی تعریف کارکُن اور بادشاہ دونوں کی زندگیوں کو نمایاں کرتی تھی۔ مورخ ہیلن چاپن میٹز (Helen Chapin Metz) لکھتی ہیں۔
جنوبی میسوپوٹامیہ میں وجود کی نزاکت نے مذہب کے بارے میں ایک ایسا احساس پیدہ کیا جو زیادہ سے زیادہ گہرہ ہوتا گیا۔ Eridu جیسے مذہبی مراکز جو 5000 قبل از مسیح کے ہیں، سمر (Sumer) کے عروج سے پہلے ہی زیارت اور عقیدت کے نُقطہِ نظر سے کام کر رہے تھے۔ میسوپوٹامیہ کے بہت سے اہم ترین شہر قبل از سمیری (Sumerian) مذہبی مراکز، آس پاس کے علاقوں میں قائم ہُوئے جِس سے مذہب اور حکومت کے درمیان قریبی تعلق کو تقویت ملی۔ (2)
بادشاہ کا کردار 3600 قبل از مسیح کے بعد کسی وقت قائم ہوا اور اس سے پہلے آنے والے پادری حکمرانوں کے برعکس، بادشاہ عوام کے ساتھ براہ راست تعلق رکھتا تھا اور اپنے وضع کردہ قوانین کے ذریعے اپنی مرضی واضح کرتا تھا۔ ایک بادشاہ کے تصور سے پہلے، پادری حکمرانوں کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ علامات اور شگون کے ذریعے الہی پیغامات وصول کرتے تھے اورمذہبی اصولوں کے مطابق قانونی حکم دیتے تھے۔ بادشاہ، دیوتاؤں کی تعظیم میں دیوتاؤں کو اتنا طاقتور نمائندہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ اپنی آواز کا استعمال کرتے ہوئے، اپنا حُکم جاری کر سکتا تھا۔
یہ سب سے زیادہ واضح طور پر بابل کے حمورابی کے مشہور قوانین laws of Hammurabi ( دورِ اِقتدار قبل از مسیح 1792-1750 ) میں دیکھا گیا ہے، لیکن میسوپوٹامیہ کی پوری تاریخ میں دیوتاؤں کے ساتھ براہ راست رابطے کا دعویٰ کرنے والا ایک حکمران کافی عام تھا، خاص طور پر اکادی کے بادشاہ نارم سن Naram-Sin ( دورِ اِقتدار قبل از مسیح 2254-2218 ) جِس نے یہ کہا کہ وہ ایک اوتار دیوتا تھا۔ بادشاہ اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود کا ذمہ دار تھا اور ایک اچھا بادشاہ، جو خدا کی مرضی کے مطابق حکومت کرتا تھا، اس علاقے کی خوشحالی سے پہچانا جاتا تھا جس پر اس نے حکومت کی۔
پھر بھی، یہاں تک کہ انتہائی باصلاحیت حکمرانوں، جیسے سرگون آف اکاد Sargon of Akkad (دورِ اِقتدار قبل از مسیح 2334-2279 )، کو اپنے قانونی جواز کا مقابلہ کرتے ہوئے، دھڑوں، یا پورے عِلاقے سے دائمی بغاوتوں اور بغاوتوں سے نمٹنا پڑا۔ چونکہ میسوپوٹامیہ اتنا وسیع خطہ تھا، اس کی سرحدوں میں بہت سی مختلف ثقافتوں اور نسلوں کے ساتھ، ایک واحد حکمران جو مرکزی حکومت کے قوانین کو نافذ کرنے کی کوشش کرتا تھا اسے ہمیشہ کسی نہ کسی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
میسوپوٹامیہ کی تاریخ
اس خطے کی تاریخ، اور وہاں پر پروان چڑھنے والی تہذیبوں کی ترقی کو مُختلف ادوار میں تقسیم کر کے آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے:
مٹی کے برتنوں سے پہلے کا نولیتھک دور
جیسے کہ اِس دور (تقریباؐ 10,000 قبل از مسیح) کو پتھر کے زمانے کا دور کہا جاتا ہے، اگرچہ ایسے شواہد مِلے ہیں کہ انسانی رہائش بہت پہلے سے ہے کیونکہ آثار قدیمہ کی تصدیق کیمُطابق کچی بستیوں اور قبائل کے درمیان جنگ کے ابتدائی اشارے ہیں، غالباً فصلوں کے لیے زرخیز زمین اور کھیتوں پر مویشیوں کے چرنے کے سبب سے۔ اس دوران شکاری کلچر سے زرعی ثقافت کی طرف منتقل ہونے کی وجہ سے مویشی پالنے کا رجحان تیزی سے بڑھا۔ اس کے باوجود، مورخ مارک وان ڈی میروپ Marc Van De Mieroop نوٹ کرتا ہے:
شکار پر اِنحصار سے کھیتی باڑی تک کوئی اچانک تبدیلی نہیں آئی تھی، بلکہ ایک سست عمل تھا جس کے دوران لوگوں نے اپنے وسائل پر انحصار بڑھایا جس کا وہ براہ راست انتظام کرتے تھے، لیکن پھر بھی جنگلی جانوروں کے شکار کو وہ اضافی خُوراک کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ زراعت نے لوگوں کو مسلسل آباد کاری کے قابل بنایا۔ (12)
جیسے جیسے مزید آبادیاں بڑھتی گئیں، تعمیراتی ترقیات برائے مستقل رہائش گاہوں کی تعمیر میں آہستہ آہستہ زیادہ نفاست آتی گئی۔
مٹی کے برتنوں کا نولیتھک دور (تقریباؐ 7,000 قبل از مسیح)
اس دور میں اوزاروں اور مٹی کے برتنوں کا وسیع استعمال ہوا اور زرخیز خِطوں میں ایک مخصوص ثقافت ابھرنا شروع ہو گئی۔ اسکالر اسٹیفن برٹ مین لکھتے ہیں، "اس دور میں، واحد جدید ٹیکنالوجی 'کٹنگ ایج' تھی (cutting edge)" کیونکہ پتھر کے اوزار اور ہتھیار زیادہ نفیس ہوتے گئے۔ برٹ مین مزید نوٹ کرتے ہیں کہ "نولیتھک معیشت بنیادی طور پر کھیتی باڑی اور مویشی پالنے کے ذریعے خوراک کی پیداوار پر مبنی تھی" (55) اور آبادیاں (communities) پتھر کے زمانے کے مقابلے میں زیادہ متحرک تھیں۔ تعمیراتی ترقی قدرتی طور پر مستقل بستیوں کے نتیجے میں ہوئی جیسا کہ عبید دور سے پہلے (تقریباؐ 6500-4000 قبل از مسیح) سیرامکس اور پتھر کے اوزاروں کی تیاری میں پیش رفت ہوئی۔
تانبے کا دور (5,900 - 3,200 قبل از مسیح)
پتھر کے اوزاروں اور ہتھیاروں سے تانبے سے بنے آلات میں منتقلی کی وجہ سے یہ دور چلکولیتھک دور (Chalcolithic period) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جِسمیں عبید دور(Ubaid Period) ٹیل العبید (Tell al-'Ubaid) شامِل ہے جوعراق میں ہے جہاں سب سے زیادہ نمونے پائے گئے ہیں اور جہاں پہلے مندر تعمیر کیے گئے تھے اور یک مکانی چھٹپٹ بستیوں سے غیر دیواری گاؤں بنے۔ ان دیہاتوں نے پھر یورک دور Uruk period (4000-3100 قبل از مسیح) کے دوران شہری آباد کاری کے عمل کو جنم دیا جب شہروں میں اضافہ ہوا، خاص طور پر سمیر کے علاقے میں سوسا شہر کے ساتھ اریدو، اروک، اُر، کیش، نوزی، لگاش، نیپور اور نگرسو، اور ایلام شامِل ہیں Eridu, Uruk, Ur, Kish, Nuzi, Lagash, Nippur, Ngirsu, and Elam۔
قدیم ترین شہر کا حوالہ اکثر یوروک (Uruk) کے طور پر دیا جاتا ہے، اگرچہ ارودو (Eridu) قدیم سمیری شہر کو بھی پہلا شہر سمجھا گیا تھا۔ وان ڈی میروپ لکھتے ہیں، "میسوپوٹامیہ قدیم دنیا کا سب سے زیادہ گنجان شہری علاقہ تھا" (جیسا کہ برٹ مین، 201 میں درج ہے)، اور وہ شہر جو دجلہ اور فرات کے دریاؤں کے کِناروں پر آباد ہُوئے اور وہ جو اِسکے بعد اِن سے دُور آباد ہُوئے، اُنہوں نے تجارت کا نظام قائم کیا جس کے نتیجے میں بہت زیادہ خوشحالی ہوئی۔
اس دور میں پہیے کی ایجاد (تقریبا 3500 قبل از مسیح) اور تحریر (تقریبا 3500/ 3600 قبل از مسیح) (دونوں ہی سمیریوں کے ذریعے)، پادریوں کی حکمرانی کو تبدیل کرنے کے لیے بادشاہتوں کا قیام، اور سمر اور ایلام (2700 قبل از مسیح) کی بادشاہتوں کے درمیان دنیا کی پہلی جنگ ریکارڈ کی گئی جس میں سمر فاتح تھا۔ ابتدائی خاندانی دور (تقریبا 2350/2334-2900 قبل از مسیح) کے دوران تمام ترقی کے لئے اقدامات اُٹھائے گئے اور شہر اور حکومت عام طور پر مستحکم ہو گئے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی خوشحالی سے آرائشی مندروں، مجسموں، جدید ترین مٹی کے برتنوں اور بچوں کے لیے کھلونوں (بشمول لڑکیوں کے لیے گڑیا اور لڑکوں کے لیے پہیوں والی گاڑیاں) کا اِستعمال، جائیداد کی ملکیت ظاہر کرنے کیلئے ذاتی مہروں (جسے سلنڈر سیل کہا جاتا تھا) اور فرد کے دستخط کا طریقہ رائج ہُوا۔ مہروں کا موازنہ جدید دور کے شناختی کارڈ یا ڈرائیور کے لائسنس سے کیا جا سکتا ہے۔ درحقیقت، کسی کی مہر کا کھو جانا یا چوری ہونا اتنا ہی اہم ہوتا تھا جتنا جدید دور میں کسی کے شناختی کارڈ کا چوری ہونا یا کسی کے کریڈٹ کارڈ کا کھو جانا۔
ابتدائی کانسی کا دور (3,000 - 2119 قبل از مسیح)
اِس دور میں کانسی نے تانبے کو ایسے مواد میں تبدیل کیا جس سے اوزار اور ہتھیار بنائے جاتے تھے۔ شہری ریاست کے عروج نے معاشی اور سیاسی استحکام کی بنیاد رکھی جو بالآخر اکادی سلطنت (2154-2350/2334 قبل از مسیح) کے عروج کا باعث بنی جِس سے اس وقت کے دو سب سے خوشحال شہری مراکز اکاد اور ماری (Akkad and Mari) کے مراکز نے تیزی سے ترقی کی۔ اس خطے میں فن کی تخلیق کے لیے ضروری ثقافتی استحکام کے نتیجے میں فن تعمیر اور مجسمہ سازی میں مزید پیچیدہ ڈیزائنوں کے ساتھ ساتھ درج ذیل ایجادات ہُوئیں یا اُن میں بہتری آئی:
متعدد مخصوص اور اہم ایجادات: ہل اور پہیہ، رتھ اور بادبانی کشتی، اور سلنڈر مہر، قدیم میسوپوٹامیہ کی واحد سب سے مخصوص آرٹ اور ملک کی روزمرہ زندگی میں جائیداد کی ملکیت اور کاروبار کی اہمیت کا ایک وسیع مظاہرہ۔ (برٹ مین، 55-56)
سارگن دی گریٹ (Sargon the Great) کی اکادی سلطنت دنیا کی پہلی کثیر القومی سلطنت تھی اور سرگون کی بیٹی، اینہیڈوانا Enheduanna (تقریبا 2300 قبل از مسیح )، نام سے مشہور ادبی کاموں کی پہلی مصنفہ تھیں۔ ماری کی لائبریری میں 20,000 سے زیادہ کینیفارم تختیاں موجود تھیں اور وہاں کے محل کو خطے میں بہترین میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔ میسوپوٹامیہ میں اکادی سلطنت گوٹیوں کے ہاتھوں شکست کھا کر گوٹیوں کے دورِ اِقتدار میں داخل ہو گیا اور یہ دور 2141 تا 2050 قبل از مسیح رہا۔
کانسی کا درمیانی دور (2119-1700 قبل از مسیح)
آشوری سلطنتوں کی توسیع (اسور، نمرود، شروکین، دور، اور نینوی Assur, Nimrud, Sharrukin, Dur, and Nineveh) اور بابلی خاندان کے عروج (جس کا مرکز بابل اور کلڈیا Chaldea میں تھا) نے تجارت کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا اور اس کے ساتھ جنگ میں بھی اضافہ ہوا۔ گوٹی قبیلہ (Gutians)، خانہ بدوش جو اکادی سلطنت کا تختہ الٹنے میں کامیاب ہوا، میسوپوٹامیہ کی سیاست پر اس وقت تک حاوی رہا جب تک انہیں سمر کے بادشاہوں کی اتحادی افواج کے ہاتھوں شکست نہ ہوئی جِنکا دورِ حکومت قبل از مسیح 2004- 2112 تھا۔ اموریوں، علومیوں اور گوٹیوں کے آنے سے سمیری تہذیب کا 1750 قبل از مسیح میں خاتمہ ہو گیا۔
حمورابی (Hammurabi)، بابل کا بادشاہ، اس علاقے کو فتح کرنے اور 43 سال تک حکومت کرنے کے لیے نسبتاً مبہم سے اٹھ کھڑا ہوا۔ ان کے بہت سے کارناموں میں سے ان کا مشہور ضابطہ قانون (code of laws) تھا، جو دیوتاؤں کے اسٹیل (stele of the gods) پر کندہ تھا۔ بابل اس وقت علمی جستجو اور فنون اور خطوط میں اعلیٰ کارنامے کا ایک اہم مرکز بن گیا۔ تاہم، یہ ثقافتی مرکز قائم رہنے والا نہیں تھا، اور اسے ہٹیوں (Hittites) نے برطرف کر کے لوٹ لیا تھا، جن کے بعد کاسیوں (Kassites) نے اس کی جگہ لی تھی۔
کانسی دورکے بعد کا دورانیہ (1700-1100 قبل از مسیح)
کاسائٹ خاندان (Kassite) کے عروج سے (ایک قبیلہ جو شمال میں زگروس پہاڑوں سے آیا تھا اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی ابتداء جدید دور کے ایران میں ہوئی) بابل کو فتح کرنے کے بعد اقتدار میں تبدیلی اور ثقافت اور تعلیم میں توسیع ہُوئی۔ کانسی کے دور کے خاتمہ کے بعد دھات کی کان کنی اور لوہے کے استعمال کا دور آیا۔ یہ ایک ایسی ٹیکنالوجی تھی جسے کاسائٹس (Kassites) اور اس سے قبل، ہٹیوں نے جنگ میں استعمال کیا تھا۔
اس دور میں کاسیوں کی طاقت میں اضافے کی وجہ سے بابلی ثقافت کے زوال کا آغاز ہوا یہاں تک کہ انہیں ایلامیٹس (Elamites) نے شکست دے کر باہر نکال دیا۔ ایلامیوں (Elamites) کے ارامیوں (Aramaeans) کو راستہ دینے کے بعد، اسور کی چھوٹی مملکت نے کامیاب مہمات کا ایک سلسلہ شروع کیا، اور اسوری سلطنت مضبوطی سے قائم ہوئی اور Tiglath-Pileser I (دورِ حکومت 1115-1076 قبل از مسیح) کی حکمرانی میں ترقی کی اور اس کے بعد، Ashurnasirpal II (دورِ حکومت 884-859 قبل از مسیح) نے سلطنت کو مزید مضبوط کیا۔ کانسی کے دور کے خاتمے کے بعد میسوپوٹامیہ کی زیادہ تر ریاستیں، ایک مختصر "تاریک دور" کی طرف بڑھتے ہُوے (تقریبا 1250-1150 قبل از مسیح) یا کمزور ہوگئیں یا تو تباہ ہوگئیں۔
لوہے کا دور (1000 - 500 قبل از مسیح)
اس دور میں تِگلات پلیسر (Tiglath-Pileser III) کے تحت (دورِ حکومت 745-727 قبل از مسیح) نیو-آشوری سلطنت کے عروج اور توسیع، عظیم آشوری بادشاہوں کے تحت یعنی Sargon II (دورِ حکومت 722-705 قبل مسیح)، سنچیرب Sennacherib (دورِ حکومت 705-681 قبل از مسیح) اور ایسار حدون Esarhaddon (دورِ حکومت 681-669 قبل از مسیح ) اور اشوربانیپال Ashurbanipal (دورِ حکومت 668-627 قبل از مسیح)، دیکھنے کو مِلی جِنہوں نے بابل، شام، اسرائیل اور مصر کو فتح کیا۔ 612 قبل مسیح میں مرکزی شہروں پر بابلیوں، میڈیس اور سیتھیوں (Babylonians, Medes, and Scythians کے بار بار حملوں کی وجہ سے سلطنت کو جتنا تیزی سے عروج حاصل ہُوا اُتنا ہی تیزی سے زوال کا سامنا کرنا پڑا۔
ہٹی اور میتانی (Hittites and the Mitanni) کے قبائل نے اس دوران اپنی اپنی سلطنتوں کو مضبوط کیا جس کے نتیجے میں نیو ہٹی اور نیو بابلی Neo-Hittite and Neo-Babylonian Empires سلطنتوں کا عروج ہوا۔ بابل کے بادشاہ نبوکدنضر دوم (دورِ حکومت 605/604-562 قبل از مسیح) نے اس عرصے کے دوران یروشلم (588 قبل از مسیح) کو تباہ کیا اور اسرائیل کے باشندوں کو "بابل کی جلاوطنی" پر مجبور کیا۔ اُسنے بابل میں وسیع پیمانے پر تعمیرات مُکمل کیں، جِن میں مشہور عمارتیں اشتر گیٹ (Ishtar Gate) اورعظیم زیگرات Great Ziggurat جِسے اٹیمینانکی (Etemenaanki) جِسکی نِسبت بائبل کے "بابل کا ٹاور" (Tower of Babel) ہیں ۔ 539 قبل از مسیح میں فارس کے سائرس دوم عظیم Cyrus II of Persia (دورِ حکومت 550 - 530 قبل از مسیح) کے ہاتھوں بابل کے فتح ہو جانے سے اُسکی ثقافت مؤثر طور سے ختم ہو گئی۔
کلاسیکی قدیم (500 قبل از مسیح - ساتویں صدی عیسوی)
سائرس دوم (Cyrus II) کے بابل پر قبضہ کرنے کے بعد، میسوپوٹامیہ کا بڑا حصہ اچمینیڈ فارسی (Achaemenid Persian) سلطنت کا حصہ بن گیا، اور اس دور میں خطے میں تیزی سے ثقافتی تبدیلی دیکھنے میں آئی جس میں متعدد تبدیلیاں شامل ہیں، خاص طور پر کینیفارم رسم الخط کا ختم ہو جانا۔ 331 قبل از مسیح میں سکندر اعظم کی طرف سے فارسیوں کی فتح نے ثقافت کو دفن کر دیا اگرچہ اُسنے بابل کی اہمیت کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کی لیکن جاہ و جلال کے دِن گُزر چُکے تھے۔
اس کی موت کے بعد، اِسکے جنرل سلیکس نکاتر Seleucus I Nicator ( دورِ حکومت 305 - 281 قبل از مسیح) نے اس علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا اور Seleucid Empire (312 - 63 قبل از مسیح) کی بنیاد رکھی جس نے 63 قبل از مسیح تک حکومت کی جب اس سرزمین کو پارتھیوں (Parthians) نے فتح کر لیا، جِن پر بعد میں ساسانیوں (Sassanians) کا غلبہ ہُوا جنہوں نے پہلے کی قائم شُدہ مسوپتامی تہذیبوں (Mesopotamian civilizations) کی وراثت کا احترام کیا اور اِنکے کئے گئے اِمتیازی کاموں کو محفوظ رکھا۔
پارتھی اور ساسانی سلطنتوں (247 - 224 قبل از مسیح) کے درمیان، رومی سلطنت نے خود کو تقریبا 198 میں اس خطے میں قائم کیا، (اگرچہ روم اس سے پہلے 116 - 117 عیسوی میں آیا اور پیچھے بھی ہٹ گیا)۔ رومیوں نے بہتر سڑکوں اور پلمبنگ (plumbing) کے ذریعے اپنی کالونیوں کے بنیادی ڈھانچے کو نمایاں طور پر بہتر کیا اور رومی قانون لاگو کیا۔ اس کے باوجود، یہ خطہ حصولِ کنٹرول مسلسل جنگوں میں اُلجھتا رہا جو مختلف رومی شہنشاہوں نے شروع کیں، پہلے پارتھیوں اور پھر ساسانیوں کے ساتھ۔
اس علاقے کی قدیم ثقافت، جسے ساسانیوں نے محفوظ کیا تھا، ساتویں صدی عیسوی میں مسلم عربوں کے ذریعے میسوپوٹامیہ کی فتح سے تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں اسلام کے تحت قانون، زبان، مذہب اور ثقافت کو یکجا کر دیا گیا۔ ثقافت کو ہر لہاز سے برقرار رکھا گیا، جیسا کہ برٹ مین نے نوٹ کیا، "651 عیسوی کی اسلامی فتح کے ساتھ قدیم میسوپوٹامیہ کی تاریخ ختم ہو جاتی ہے" (58)۔ آج وہ عظیم شہر جو کبھی دجلہ اور فرات کی ندیوں کے کنارے آباد ہُوئے تھے اورجو زرخیز کریسنٹ کا خطہ تھے ختم ہو کر انسانی عوامل کی وجہ سے یعنی زمین کو حد سے زیادہ اِستعمال کی وجہ سے یا زرعی سرگرمیوں کی وجہ سے، اب وہ بنجر میدان کی شکل میں ناققابلِ اِستمال زمین ہیں، غیر کھدائی شدہ ٹیلے یا اینٹیں ہیں۔
میراث
میسوپوٹامیہ کی میراث (legacy) دورِ جدید میں بھی بہت سے بنیادی پہلوؤں، جیسے کہ ساٹھ سیکنڈ کا منٹ اور ساٹھ منٹ کا گھنٹہ کے ذریعے برقرار ہے۔ ہیلن چیپین میٹز (Helen Chapin Metz) لکھتی ہیں:
چونکہ کمیونٹی کی فلاح و بہبود کا انحصار قدرتی مظاہر(natural phenomena) کے قریبی مشاہدے پر تھا، اس لیے پادریوں کا زیادہ تر وقت سائنسی یا پروٹو سائنسی (protoscientific سائنس سے پہلے کی) سرگرمیوں میں زیادہ مُشتمل ہوتا تھا۔ مثال کے طور پر، سمیریوں (Sumerians) کا خیال تھا کہ ہر دیوتا کی نمائندگی ایک عدد سے ہوتی تھی۔ ساٹھ کا عدد جو دیوتا این (god An) کے لیے مقدس تھا اور یہی ان کی بنیادی اکائی تھی۔ ایک گھنٹہ کے منٹ اور دائرے کی علامتی حدود (notational degrees meaning 360 degrees) سمیری نظریات تھے۔ انتہائی ترقی یافتہ زرعی نظام اور بہتر آبپاشی اور پانی پر قابو پانے کے نظام جس نے سمر کو اضافی پیداوار حاصل کرنے کے قابل بنایا، کی وجہ سے بھی بڑے شہروں کی ترقی ہوئی۔ (4)
شہری آباد کاری (Urbanization)، پہیہ، تحریر، فلکیات، ریاضی، ہوا کی طاقت، آبپاشی، زرعی ترقیات، مویشی پالنا اور وہ حکایات جِو آخر کار عِبرانی صحیفوں کا حِصہ بنیں اور جِومسیحی پُرانے عہد نامے کی بُنیاد بنیں، سب کا تعلق مسوپوٹامیہ کی سر زمین سے ہی تھا۔
جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے، کریمر (Kramer) اپنی کتاب ہسٹری بیگنز ایٹ سمر History Begins at Sumer میں میسوپوٹامیہ کی ثقافت سے مُتعلق اہم متاثر کن باتوں جو تعداد میں 39 ہیں، کی فہرست دیتا ہے جو سب سے پہلے ہیں۔ فہرست یہاں ختم نہیں ہوتی۔ میسوپوٹامی لوگوں نے مصر اور یونان کی ثقافتوں کو دُور دُور تک کی گئی تجارت اور ثقافتی پھیلاؤ کے ذریعے متاثر کیا اور پِھر روم کی ثقافت کوبھی متاثر کیا جو مغربی تہذیب کی ترقی اور پھیلاؤ کیلئے ایک معیار تھا۔ میسوپوٹامیہ عام طور پر، اور خاص طور پر، سمر نے دنیا کو اس کے سب سے زیادہ پائیدار ثقافتی پہلو دیے۔ اگرچہ شہر اور عظیم محلات بہت پہلےسے ختم ہو چُکے ہیں لیکن میراث جدید دور تک جاری ہے۔
19 ویں صدی عیسوی میں، مختلف قومیتوں کے ماہرین آثار قدیمہ میسوپوٹامیہ پہنچے تاکہ ان شواہد کے لیے کھدائی کریں جو عہد نامہ قدیم کی بائبل کی کہانیوں کی تصدیق کریں۔ اُس وقت، بائبل کو دنیا کی سب سے قدیم کتاب سمجھا جاتا تھا اور اس کے صفحات میں پائی جانے والی کہانیوں کو اصل کمپوزیشن (original compositions) سمجھا جاتا تھا۔ آثار قدیمہ کے ماہرین جنہوں نے بائبل کی کہانیوں کی حمایت کرنے کے لئے جسمانی ثبوت تلاش کیے، قدیم مٹی کی تختیاں دریافت ہونے کے بعد بالکل اس کے برعکس پایا اور یہ سمجھا گیا کہ ان پر نشانات ڈیزائن نہیں بلکہ تحریر کی ایک شکل تھی۔
1872 عیسوی میں عُلما اور مترجم جارج سمتھ (George Smith 1840-1876) نے کینیفارم کی ان تختیوں کی وضاحت کی اور اس نے میسوپوٹامیہ کی قدیم تہذیبوں کو جدید دنیا کے لیے کھول دیا۔ عظیم سیلاب اور نوح کی کشتی کی کہانی، انسان کے زوال کی کہانی، عدن کے باغ کا تصور، یہاں تک کہ ایوب کی شکایات یہ سب کچھ میسوپوٹامیہ کے لوگوں نے بائبل کے متن سے صدیوں پہلے لکھا تھا۔
ایک بار کینیفارم کو جب پڑھا گیا، میسوپوٹامیہ کی قدیم دنیا جدید دور کے لیے اِسطرح کھل گئی کہ اس نے دنیا کی تاریخ کے بارے میں لوگوں کی سمجھ کو بدل دیا۔ سمیری تہذیب Sumerian Civilization کی دریافت اور کینیفارم تختیوں کی کہانیوں نے علم کے تمام شعبوں میں فکری تحقیقات کی ایک نئی آزادی کی حوصلہ افزائی کی۔ اب یہ سمجھا گیا کہ بائبل کی حکایتیں اصل عبرانی کام نہیں تھے کیونکہ واضح طور پر دنیا چرچ کے بیانیہ سے زیادہ پرانی تھی۔ ایسی تہذیبیں تھیں جوعروج پر پہنچیں اور زوال پذیر ہُوئیں جیسا کہ کوئی اِس بارے میں سوچ سکتا تھا۔ اگر چرچ اور حکام کے دعوے غلط تھے تو شاید دوسرے لوگ بھی غلط تھے۔
19 ویں صدی کے آخر میں جب اسمتھ نے کینیفارم کے بارے میں ابہام دُور کیا تو تحقیقی جذبہ جب قبول شدہ نظریات کو چیلنج کرتے ہُوے اپنا راستہ بنا رہا تھا، میسوپوٹامیہ کی ثقافت اور مذہب نے اس کی مزید حوصلہ افزائی کی۔ قدیم زمانے میں، میسوپوٹامیہ نے اپنی ایجادات، اختراعات اور مذہبی نقطہ نظر کے ذریعے نہ صِرف دنیا کو متاثر کیا بلکہ جدید دور میں بھی اِسنے جاری انسانی تہذیب، تاریخ اور ایک فرد کی حثیت کو سمجھنے کے طریقے کو بدل دیا۔
