میسوپوٹامیہ

Joshua J. Mark
کے ذریعہ، ترجمہ Samuel Inayat
Translations
پرنٹ کریں PDF
Assyrian Lion Hunt Relief (by Jan van der Crabben (Photographer), Copyright)
اسوری شیر کے شکار سے نجات Jan van der Crabben (Photographer) (Copyright)

میسوپوٹامیہ (یونانی لفظ، جس کا مطلب ہے دو دریاؤں کے درمیان) مشرقی بحیرہ روم میں واقع ایک قدیم خطہ، تہذیب کا گہوارہ اور زرخیز ہلال سمجھا جانے والا شمال مشرق میں زگروس پہاڑوں (Zagros Mountains) اور جنوب مشرق میں عربی سطح مرتفع سے جُڑا ہوا تھا جو آج کے عراق، ایران، شام، کویت اور ترکی کے کچھ حصوں پر مُشتمل ہے۔

اِس سے مراد دجلہ اور فرات ہیں اور چُونکہ یہ پانی سے گِھری ہُوئی زرخیز زمین تھی، عربوں کے لیے 'الجزیرہ' (جزیرہ) کے نام سے مشہور تھی۔ "زرخیز کریسنٹ" کی اصطلاح مصری تہذیب کے ماہر J.H. بریسٹڈ (J.H. Breasted l. 1865-1935) نے 1916 میں خلیج فارس کے شمالی حِصے پر واقع خطہ کو بیان کرنے کے لیے بائبل کے باغِ عدن کے ساتھ جوڑتے ہُوئے دی۔

میسوپوٹامیہ، ہزاروں سالوں پر محیط بہت سی مختلف تہذیبوں کا گھر تھا جس نے عالمی ثقافت اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ روزمرہ کی زندگی کے بہت سے پہلو جِنکو موجودہ دور میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، جیسے تحریر، پہیہ، ضابطہِ قوانین، جہاز، 24 گھنٹوں پر مُشتمل دن کا تصور، بیئر بنانا (beer-brewing)، شہری حقوق، اور فصلوں کی آبپاشی سب سے پہلے اِنہی دو دریاؤں کے درمیان کی زمین میں تیار کئے گئے تھے۔

تہذیب کا گہوارہ

مصر یا یونان کی تہذیبوں کے برعکس، میسوپوٹامیہ مُختلف ثقافتوں کا ایک مجموعہ تھا جن کا حقیقی بندھن ان کا رسم الخط، ان کے دیوتا اور عورتوں کی جانب ان کا رویہ تھا۔ اگرچہ، سمیری لوگوں (Sumerian people) کے سماجی رسم و رواج، قوانین اور زبان بھی اکادی (Akkadian Period) دور سے مختلف تھے، یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ بابل کی تہذیبوں سے مطابقت رکھتے تھے، تاہم، ایسا لگتا ہے کہ خواتین کے حقوق (کچھ ادوار کے دوران)، خواندگی کی اہمیت اور دیوتاؤں کے سِلسلے (pantheon of the gods) درحقیقت پورے خطے میں مشترک تھے، حالانکہ مختلف خطوں اور ادوار میں دیوتاؤں کے نام مختلف تھے۔

اس وجہ سے، میسوپوٹامیہ کو بطور ایک خِطہ صحیح طور پر اِسطرح سمجھا جانا چاہیے کہ اِس تہذیب نے متعدد سلطنتوں اور تہذیبوں کو جنم دیا۔ یہی وجہ ہے کہ، میسوپوٹامیہ کو "تہذیب کا گہوارہ" جانا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر چوتھی صدی قبل مسیح میں سمر کے علاقے (region of Sumer) میں مندرجہ ذیل دو طرح کی ترقیاں ہُوئیں:

  • شہر کا عروج جیسا کہ آج تسلیم کیا جاتا ہے۔
  • تحریر کی ایجاد (اگرچہ تحریر کو مصر، وادی سندھ، چین اور میسوامریکہ (Mesoamerica) میں آزادانہ ایجاد بھی سمجھا جاتا ہے)۔

پہیے کی ایجاد کا سہرا بھی میسوپوٹامیہ کے لوگوں کو جاتا ہے اور 1922 عیسوی کے ماہر آثار قدیمہ سر لیونارڈ وولی (Sir Leonard Woolley) نے "دو- چار پہیوں والی ویگنوں کی باقیات، [قدیم شہر Ur کے مقام پر] تاریخ کی سب سے پرانی پہیوں والی گاڑیاں چمڑے کے ٹائروں کے ساتھ دریافت کیں" (Bertman, 35)۔ اہم پیشرفت یا دیگر ایجادات جن کا سہرا میسوپوٹامیہ کے لوگوں کے سر ہے ان میں جانوروں کا پالنا، زراعت اور آبپاشی، عام اوزار، جدید ترین ہتھیار اور جنگی سازوسامان، رتھ، شراب، بیئر (beer)، وقت گھنٹوں، منٹوں اور سیکنڈوں میں، مذہبی رسومات، بادبانی اور قانونی ضابطہ کار شامل ہیں۔ عالم سیموئیل نوح کریمر (Orientalist Samuel Noah Kramer) کیمُطابق سمر (Sumer) تہذیب کی ابتدا مندرجہ ذیل 39 مُختلف مُعاشرتی کاموں سے ہُوئی:

سکولوں کا قائم ہونا، سیب پر پالش، نوعمر جرم کا پہلا کیس The First Case of Juvenile Delinquency، پہلی اعصابی جنگ، پہلی دو طرفہ کانگریس، پہلا مؤرخ، ٹیکس میں کمی کا پہلا کیس (The First Case of Tax Reduction)، پہلا 'موسیٰ، پہلا قانونی نظیر، پہلا فارماکوپیا (The First Pharmacopoeia)، پہلا 'کِسانوں کیلئے موسمی اوقاتِ کار The First Farmer's Almanac، شیڈ ٹری گارڈننگ میں پہلا تجربہ The First Experiment in Shade-Tree Gardening ،کائنات کا آغاز اور پھیلاوؐ Man's First Cosmogony and Cosmology، پہلے اخلاقی نظریات، پہلی نوکری، کہاوتیں اور اقوال، پہلے جانوروں کے افسانے، پہلی ادبی بحثیں، پہلی بائبل کے متوازی باتیں/ واقعات The First Biblical Parallels، پہلا 'نوح'، قیامت کی پہلی کہانی (The First Tale of Resurrection)، پہلا سینٹ جارج، ادبی قرض لینے کا پہلا کیس، انسان کا پہلا بہادری کا دور، پہلا محبت کا گانا، پہلا لائبریری کیٹلاگ، انسان کا پہلا سنہری دور، پہلا بیمار معاشرہ (The First `Sick' Society)، پہلا لٹرجک لیمینٹس The First Liturgic Laments، پہلا مسیحا (The First Messiahs)، پہلا طویل فاصلے کا چیمپئن، پہلا ادبی امیجری (The First Literary Imagery)، پہلی جنسی علامت (The First Sex Symbolism)، پہلا میٹر ڈولوروسا (The First Mater Dolorosa لاطینی زبان کا لفظوں کا مجموعہ جِسکا مطلب ہے غمزدہ ماں اور یہ ٹائٹل مُقدسہ مریم کیلئے کاتھولک فِرقے میں خاص طور پر اُس وقت کی نشاندہی کرتا ہے جب وہ یسوع کو مصلوب ہُوئے دیکھ رہی تھی)، پہلی لوری (The First Lullaby) پہلا ادبی پورٹریٹ (The First Literary Portrait)، پہلا مرثیہ (The First Elegies)، مزدوروں کی پہلی فتح اور پہلا ایکویریم First Aquarium۔

Lion of Babylon [Detail]
بابل کا شیر [تفصیل] oversnap (Copyright)

1840 عیسوی میں شروع ہونے والی آثار قدیمہ کی کھدائیوں نے میسوپوٹامیہ میں 10,000 قبل مسیح سے شروع ہونے والی انسانی بستیوں کا انکشاف کیا جِس سے اِس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ دو دریاؤں کے درمیان کی زمین زرخیزی کی وجہ سے شکار پر گُزارا کرنے والوں کی آباد کاری، جانوروں کو پالنا اور زراعت ترقی کا سبب بنی۔ جلد ہی اس کے بعد تجارت ہوئی، خوشحالی کے ساتھ شہری آباد کاری ہُوئی اور شہر آباد ہُوئے۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ لکھنے کی ایجاد تجارت کی وجہ سے یا دُور دراز کے عِلاقوں سے مواصلاتی رابطے اور کاروباری حِساب کِتاب رکھنے کی وجہ سے ہُوئی۔

تعلیم اور مذہب

میسوپوٹامیہ کی ثقافتوں کے دیوتاؤں کے پینتھیون (دیوتاوؐں کا سِلسلہ) میں 1,000 سے زیادہ دیوتا تھے۔

میسوپوٹامیہ قدیم دور میں سیکھنے کی جگہ کے طور پر جانا جاتا ہے، اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ میلٹس کے تھیلس Thales of Miletus (585 قبل مسیح، تھیلز کو 'پہلے فلاسفر کے نام سے جانا جاتا ہے) نے وہاں تعلیم حاصل کی۔ بابل کے لوگوں کا خیال تھا کہ پانی وہ 'پہلا اصول' تھا جس میں سے سب کُچھ نِکلا، اور جیسا کہ تھیلس اسی دعوے کے لیے مشہور ہے، ایسا لگتا ہے کہ اس نے اس خطے میں تعلیم حاصل کی ہو۔

پورے میسوپوٹامیہ میں حصولِ دانش کی بہت زیادہ قدر کی جاتی تھی، اور اسکولوں (بنیادی طور پر پادری طبقے کے لیے وقف) کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ مندروں کی طرح بے شمار تھے اور پڑھنا، لکھنا، مذہب، قانون، طب اور علم نجوم سکھایا جاتا تھا۔ میسوپوٹامیہ کی ثقافتوں کے دیوتاؤں کے پینتھیون (pantheon) میں 1,000 سے زیادہ دیوتا تھے اور دیوتاؤں سے متعلق بہت سی کہانیاں (جیسے، تخلیق کا افسانہ، اینوما ایلیش Enuma Elish)۔ یہ عام طور پر مانا جاتا ہے کہ بائبل میں بیان کی گئی انسان کے زوال اور عظیم سیلاب (بہت سے دُوسروں سیلابوں میں سے ایک) کی کہانیوں کی ابتدا میسوپوٹامیہ کی داستانوں سے ہے، کیونکہ اِن کا ذِکر سب سے پہلے اڈاپا کا افسانہ (The Myth of Adapa) اور گلگامیش کا مہاکاوی (Epic of Gilgamesh)، جو دنیا کی سب سے قدیم تحریری کہانی ہے ، میں پایا گیا ہے۔ میسوپوٹامیہ کے لوگوں کا خیال تھا کہ وہ دیوتاؤں کے ساتھ مِل کر کام کرتے تھے اور یہ کہ زمین روحوں اور شیاطین سے بھری ہوئی تھی (حالانکہ 'شیطان' کو اُس طرح نہیں سنجھنا چاہئے جیسے موجودہ مسیحت میں سمجھا جاتا ہے)۔

ان کے خیال میں دنیا کی شروعات دیوتاؤں، جو افراتفری کا شِکار تھے، پر فتح کے سبب ُہوئی اگرچہ دیوتاؤں کی جیت ہوئی۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ افراتفری دوبارہ کامیاب نہیں ہو سکتی تھی۔ روز مرہ کی رسومات، دیوتاؤں کی طرف توجہ، آخری رسومات کے مناسب طریقوں، اور فرض شناسی کے ساتھ سادہ شہری زِندگی جیسے اصولوں نے میسوپوٹامیہ کے لوگوں کی دنیا میں توازن برقرار رکھنے میں مدد دی اور افراتفری اور تباہی کی قوتوں کو دور رکھا اِن توقعات کے ساتھ کہ ہر کوئی دیوتاؤں کی عزت کیساتھ ساتھ اپنے بزرگوں کا احترام کرے گا اور لوگوں کے ساتھ احترام سے پیش آئے گا۔

Map of Mesopotamia, 2000-1600 BCE
میسوپوٹامیہ کا نقشہ P L Kessler (Copyright)

نوکریاں

مرد اور عورت دونوں کام کرتے تھے، اور "چونکہ قدیم میسوپوٹامیہ بنیادی طور پر ایک زرعی معاشرہ تھا، اس لیے بنیادی پیشے فصلیں اگانا اور مویشیوں کی پرورش کرنا تھا" (برٹ مین، 274)۔ دیگر پیشوں میں کاتب ہونا، شفا دینے والا، کاریگر، بُننے والا (weaver)، کمہار، موچی، مچھیرا، استاد، اور پادری یا کاہن (مرد یا خاتون) شامل تھے۔ برٹ مین لکھتے ہیں:

معاشرے میں سربراہ یا بادشاہ ہوتے تھے یا وہ کاہن جو مندر یا عِبادت گاہ میں خِدمت کا کام سر انجام دیتے تھے۔ سامراجی وُسعت کے ساتھ، فوجی اداروں کے افسران اور پیشہ ور سپاہیوں نے میسوپوٹامیہ کی توسیع پذیر اور متنوع افرادی قوت میں اپنی جگہ بنا لی۔ (274)

خواتین تقریباً مساوی حقوق رکھتے ہُوئے زمین کی مالک ہو سکتی تھیں، طلاق کے لیے کیس فائل کر سکتی تھیں، کاروبار کر سکتی تھیں، اور تجارتی معاہدے بھی کر سکتی تھیں۔ معاہدے، کاروباری انتظامات، اور خط و کتابت کینیفارم (cuneiform) رسم الخط میں مٹی کی تختیوں پر کی جاتی تھی اور بغرض شناخت مہر لگا دی جاتی تھی۔ تختی کے خُشک ہو جانے کے بعد اِسے مٹی کے برتن میں رکھا جاتا تھا اور دوبارہ سربہ مہر کر دیا جاتا تھا تاکہ صرف وصول کنندہ ہی خط یا معاہدہ پڑھ سکے۔ بابلی یا دُوسرے لوگوں کی طرح سمیرین مُعاشرے میں کیونیفارم رسم الخط سامی (Semitic) زبانوں میں اِستعمال ہوتا تھا اور اِسکا اِستعمال اُس وقت تک کیا گیا جب تک اِس رسم الخط کی جگہ حروف تہجی نے نہ لی۔ سامان کی رسیدیں کینیفارم پر لکھی جاتی تھیں۔ اِس کے عِلاوہ رسیدوں کا اِستعمال ادبی کاموں کیلئے بھی ہوتا تھا اور یہ پپائرس یا کاغذ پر لکھی گئی دستاویزات سے کہیں زیادہ دیر تک چلتی تھیں۔

دنیا میں سب سے قدیم بیئر کی رسید میسوپوٹامیہ سے آتی ہے، جسے الولو (Alulu) رسید کہا جاتا ہے (تقریباؐ 2050 قبل مسیح)، جسے Ur شہر میں لکھا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر بیئر اور شراب بنانے والے، نیز کمیونٹی میں شفا دینے والے، شروع میں خواتین تھیں۔ اِس قِسم کی تجارت کو بعد میں مردوں نے اپنے قبضے میں لے لیا، جب یہ ظاہر ہوا کہ یہ منافع بخش پیشے تھے۔ تاہم، ہر کسی نے جو کام کیا، کبھی بھی محض ایک 'نوکری' نہیں سمجھا بلکہ یہ سمجھا کہ یہ کمیونٹی کیساتھ تعاون اور دیوتاؐوں کی طرف سے توسیع تھی تا کہ دُنیا میں امن اور ہم آہنگی ہو۔

عمارتیں اور حکمران

مندر، ہر شہر کے مرکز میں، جسے زگگرات (ziggurat) کہا جاتا تھا، شہر کے سرپرست دیوتا کی اہمیت کی علامت تھا اور اُسی کی پوجا ہر طرح کی کمیونٹی کرتی تھی۔ اپنے سرپرست دیوتا کی تعظیم کے لیے ہر شہر کے اپنے زگگرات تھے (بڑے شہرمیں ایک سے زیادہ)۔ دُنیا کی تاریخ میں سب سے پہلے، میسوپوٹامیہ ہی میں شہرتعمیر کئے گئے جو زیادہ تر سورج سے خُشک کی گئی اینٹوں سے بنے تھے۔ برٹ مین کے الفاظ میں:

میسوپوٹامیہ کا گھریلو فن تعمیر اُسی مٹی سے تھا جس پر وہ کھڑا تھا۔ مصر کے برعکس، جنوبی میسوپوٹامیہ میں جو کہ پتھریلی عِلاقہ تھا، تعمیراتی کام اُسی پر ہُوا۔" لکڑی حاصل کرنے کیلئے زمین درخت اُگانے کے قابل نہیں تھی، لہٰذا لوگ "دوسرے قدرتی وسائل کی طرف متوجہ ہوئے جو اُنکی دسترس میں تھے: یعنی دریا کے کناروں کی کیچڑ والی مٹی اور دلدل میں اگنے والی جھاڑیاں اور سرکنڈے۔ ان کے ساتھ، میسوپوٹامیہ نے دنیا کے پہلے ستُون، محراب اور چھت والے ڈھانچے بنائے۔ (285)

سادہ گھر، آپس میں جڑے ہوئے سرکنڈوں کے بنڈلوں سے بنائے گئے تھے جو زمین میں بھی گاڑھے ہوتے تھے، جب کہ بڑے گھر دھُوب میں خُشک کی گئی اِینٹوں سے بنائے گئے تھے (بعد میں مصریوں نے بھی یہی طریقہ اپنایا)۔ شہر اور مندروں کے احاطے، مشہور زِگگرات کے ساتھ، سبھی کو تندور سے پکی ہوئی اینٹوں سے بنایا گیا تھا جس پر پینٹ کیا گیا تھا۔

بادشاہ کے تصور سے پہلے، یہ خیال کیا جاتا تھا کہ پادری حکمرانوں نے مذہبی اصول کے مطابق قانون کو ترتیب دیا تھا۔

کسی بھی تعمیراتی منصوبے کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد کے وقت یہ سوچا جاتا تھا کہ دیوتا موجود ہوتے تھے۔ مخصوص دیوتا کے حضور مخصوص مقررہ دعائیں ترتیب سے پڑھی جاتی تھیں کیونکہ اُنہیں منصوبے کی کامیابی اور گھر کے مکینوں کی خوشحالی میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا تھا۔

میسوپوٹامیہ میں جس بھی بادشاہ کا غلبہ رہا، کسی بھی تاریخی دور میں، لوگوں کی زندگیوں میں دیوتاؤں کا اہم کردار کم نہیں رہا۔ الہٰی ہستی کی تعظیم، کھیت میں کام کرنے والے کارکُن اور بادشاہ دونوں کی زندگیوں کو نمایاں کرتی تھی۔ مورخ ہیلن چاپن میٹز (Helen Chapin Metz) لکھتی ہیں۔

جنوبی میسوپوٹامیہ میں (کِسی بھی چِیز) کے وجود کی نزاکت نے مذہب کے بارے میں ایک ایسا اھساس پیدہ کیا جو زیادہ سے زیادہ گہرہ ہوتا گیا۔ 5000 قبل مسیح کے ایرادُو (Eridu) جیسے مذہبی مراکز ، سمر (Sumer) کے عروج سے پہلے ہی زیارت اور عقیدت کے نُقطہِ نظر سے کام کر رہے تھے۔ قبل از سمیری مذہبی مراکز (Sumerian cult centers) میسوپوٹامیہ کے بہت سے اہم ترین شہر آس پاس کے علاقوں میں ابھرے اور اس طرح مذہب اور حکومت کے درمیان قریبی تعلق کو تقویت ملی۔ (2)

بادشاہ کا کردار 3600 قبل مسیح کے بعد کسی بھی وقت قائم ہوا۔ اس سے پہلے پادری حکمرانوں کے برعکس، بادشاہ عوام کے ساتھ براہ راست تعلق رکھتا تھا اور اپنے وضع کردہ قوانین کے ذریعے اپنی مرضی واضح کرتا تھا۔ بادشاہ کے تصور سے پہلے، پادری حکمرانوں کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ مذہبی اصول و قانون کے مطابق حکم دیتے تھے اور علامات اور شگون کے ذریعے الہی پیغامات وصول کرتے تھے۔ بادشاہ، دیوتاؤں کی تعظیم اور خُوشی کیلئے، دیوتا کا طاقتور نمائندہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ اپنی آواز اور اپنے حکم کے ذریعے دیوتا کی مرضی کا اظہار کر رہا تھا۔

Shalmaneser III
شلمانیسر III A.K. (Copyright)

سب سے زیادہ واضح طور پر یہ بابل کے حمورابی (Hammurabi) کے مشہور قوانین (تقریباؐ 1792-1750 قبل مسیح) میں دیکھا گیا ہے، لیکن میسوپوٹامیہ کی پوری تاریخ میں دیوتاؤں کے ساتھ براہ راست رابطے کا دعویٰ کرنے والا ایک حکمران عام تھا، خاص طور پر اکادی کے بادشاہ نارم سن Naram-Sin (تقریباؐ 2261-2224 قبل مسیح) جِسنے یہاں تک بھی کہہ دیا کہ وہ دیوتا کا اوتار تھا۔ بادشاہ اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود کا ذمہ دار تھا اور ایک اچھا بادشاہ، جو خدا کی مرضی کے مطابق حکومت کرتا تھا، اس علاقے کی خوشحالی سے پہچانا جاتا تھا جس پر اس نے حکومت کی ہو۔

پھر بھی، انتہائی باصلاحیت حکمران، جیسے اکاد کا سرگون Sargon of Akkad (تقریباؐ 2334-2279 قبل مسیح)، کو اپنی سلطنت میں قانونی حیثیت کا مقابلہ کرنے کیلئے یکے بعد دیگرے اُٹھنے ولی شورشوں اور بُغاوتوں سے نمٹنا پڑا اِس لئے کہ میسوپوٹامیہ مختلف ثقافتوں اور نسلوں کیساتھ ایک وسیع خطہ تھا۔ اس کی سرحدوں میں، ایک ایسا حکمران جو مرکزی حکومت کے قوانین کو نافذ کرنے کی کوشش کرتا تھا اسے ہمیشہ کسی نہ کسی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

میسوپوٹامیہ کی تاریخ

اس خطے کی تاریخ، اور وہاں پر پروان چڑھنے والی تہذیبوں کی ترقی کو مندرجہ ذیل تقسیم کردہ ادوار سے آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے:

مٹی کے برتنوں سے پہلے کا نیولیتھک دور

نیولیتھک دور پتھر کے زمانے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے (اگرچہ تقریباؐ 10,000 قبل مسیح، شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ انسانی رہائش بہت پہلے سے ہے)۔ آثارِ قدیمہ بھی تصدیق کرتے ہیں کہ وہاں کچی بستیاں تھیں اور شکار پر گُزارہ کرنے والا کلچر تیزی سے زرعی اور مویشی پالنے والی ثقافت میں تبدیل ہو گیا اور اُن کے درمیان فصلوں اور کھیتوں کے سبب لڑاوؐں کے بھی اشارے مِلے۔ اس کے باوجود، مورخ مارک وان ڈی میروپ (Marc Van De Mieroop) نوٹ کرتا ہے:

شکار سے کھیتی باڑی تک کوئی اچانک تبدیلی نہیں آئی تھی، بلکہ ایک سست عمل تھا جس کے دوران لوگوں نے اپنے وسائل پر انحصار بڑھایا جس کا وہ براہ راست انتظام کرتے تھے، لیکن پھر بھی اپنی خوراک کی ضرورت کو جنگلی جانوروں کے شِکار سے پُوری کرتے تھے۔ زراعت لوگوں کی مسلسل آباد کاری میں اضافے کا سبب بنی۔ (12)

جیسے جیسے آبادیاں بڑھتی گئیں، مستقل رہائش گاہوں کی صُورت میں تعمیرات آہستہ آہستہ زیادہ نفیس ہوتی گئیں۔

مٹی کے برتنوں کا نیولیتھک دور (تقریباؐ 7,000 قبل مسیح)

اس دور میں اوزاروں اور مٹی کے برتنوں کا وسیع استعمال ہوا اور زرخیز ہلال نُما خِطے میں ایک مخصوص ثقافت ابھرنا شروع ہوئی۔ اسٹیفن برٹ مین،عالم (Stephen Bertman) لکھتے ہیں، "اس دور میں، واحد جدید ٹیکنالوجی لفظی طور پر 'اوزاروں کو تراشنے کا دور' 'cutting edge' تھی" کیونکہ پتھر کے اوزار اور ہتھیار زیادہ نفیس ہوتے گئے۔ برٹ مین مزید لِکھتا ہے کہ "نیولیتھک معیشت بنیادی طور پر کھیتی باڑی اور مویشی پالنے کے ذریعے خوراک کی پیداوار پر مبنی تھی" (55) اور پتھر کے زمانے کے مقابلے میں زیادہ مستقل تھی کیونکہ کمیونٹیز زیادہ متحرک تھیں۔ تعمیراتی ترقی قدرتی طور پر مستقل بستیاں آباد ہونے میں ہوئی جیسا کہ سیرامکس اور پتھر کے اوزاروں کی تیاری میں پیش رفت ہوئی۔

Reconstruction of the Ziggurat of Ur
یور کے زیگورات کی تعمیر نو wikiwikiyarou (Public Domain)

تانبے کا دور (5,900 - 3,200 قبل مسیح)

پتھر کے اوزاروں اور ہتھیاروں والے دور کو، تانبے سے بنے آلات والے دور میں منتقلی کی وجہ سے چلکولیتھک دور کے (Chalcolithic) نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس دور میں نام نہاد عبید دور Ubaid Period ( 5000-4100 قبل مسیح، جسے ٹیل العبید (Tell al-`Ubaid) کے نام سے منسوب کیا گیا، عراق میں وہ مقام تھا جہاں سب سے زیادہ نمونے پائے گئے) جس کے دوران میسوپوٹامیہ میں پہلے مندر تعمیر کیے گئے تھے اور فی گھر ایک مکان والی بستیوں سے غیر دیواری گاؤں تیار ہوئے تھے۔ ان دیہاتوں نے پھر یورک دور Uruk Period (4100-2900 قبل مسیح) کے دوران شہروں کی طرف نقلِ مکانی شروع ہُوئی اور شہروں میں اضافہ ہوا، خاص طور پر سمیر (Sumer) کے علاقے میں، بشمول اریدو، اروک، اُر، کیش، نوزی، لگاش، نیپور اور نگرسو، اور ایلام میں سوسا. Eridu, Uruk, Ur, Kish, Nuzi, Lagash, Nippur and Ngirsu, and in Elam with its city of Susa

قدیم ترین شہر کا حوالہ اکثر یوروک (Uruk) کا دیا جاتا ہے، حالانکہ ایریڈو (Eridu) اور اُر (Ur) بھی ہیں۔ وان ڈی میروپ (Van De Mieroop) لکھتے ہیں، "میسوپوٹامیہ قدیم دنیا کا سب سے زیادہ گنجان شہری علاقہ تھا" (جیسا کہ برٹ مین، میں نقل کیا گیا ہے (201)، اور وہ شہر جو دجلہ اور فرات کے دریاؤں کے کنارے پروان چڑھے، اور اِس کے عِلاوہ وہ جِنہوں نے دُور کے عِلاقوں میں تجارت کی، اُن میں خوشحالی آئی۔

اس دور میں پہیے کی ایجاد ( 3500 قبل مسیح) اور تحریر (3600 قبل مسیح) دونوں ہی سمیریوں (Sumerians) کے ذریعے ہُوئی، مذہبی حکمرانی کو تبدیل کرنے کے لیے بادشاہی نظام قائم ہُوا اور سمر اور ایلام (2700 قبل مسیح) کی بادشاہتوں کے درمیان دنیا کی پہلی جنگ کی تفصیل درج کی گئی جس میں سمر فاتح تھا۔ ابتدائی خاندانی دور (2900-2334 قبل مسیح) کے دوران، یوروک دور کی تمام پیشرفتیں آگے بڑھِیں اور شہر اور حکومت عام طور پر مستحکم ہو گئے۔

خطے میں بڑھتی ہوئی خوشحالی نے آرائشی مندروں، مجسموں، جدید ترین مٹی کے برتنوں، مجسموں، بچوں کے لیے کھلونوں (بشمول لڑکیوں کے لیے گڑیا اور لڑکوں کے لیے پہیوں والی گاڑیاں)، اور ذاتی مہروں (سلنڈر سیل) کے استعمال کو جائیداد کی ملکیت ظاہر کرنے اور کسی اِنفرادی شخص کے دستخط کرنے کے طریقوں کو جنم دیا۔ سلنڈر مہروں کا موازنہ کسی کے جدید دور کے شناختی کارڈ یا ڈرائیور کے لائسنس سے کیا جا سکتا ہے اور درحقیقت، کسی کی مہر کا کھو جانا یا چوری ہونا اتنا ہی اہم ہوتا جتنا جدید دور کے شناختی کارڈ کا چوری ہونا یا کسی کے کریڈٹ کارڈ کا کھو جانا ہے۔

Ancient Mesopotamia from Cities to Empires
قدیم میسوپوٹامیہ شہروں سے سلطنتوں تک Simeon Netchev (CC BY-NC-ND)

ابتدائی کانسی کا دور (3,000 - 2119 قبل مسیح)

اس عرصے کے دوران، کانسی نے تانبے کو ایسے مواد کے طور پر تبدیل کیا جس سے اوزار اور ہتھیار بنائے جاتے تھے۔ شہری ریاست کے عروج نے معاشی اور سیاسی استحکام کی بنیاد رکھی جو بالآخر اکادی سلطنت Akkadian Empire (2334-2218 قبل مسیح) کے عروج اور اس وقت کے دو سب سے خوشحال شہری مراکز اکاد اور ماری کے شہروں کی تیزی سے ترقی کا باعث بنی۔ اس خطے میں فن کے شروع میں ثقافتی استحکام کے نتیجے میں فن تعمیر اور مجسمہ سازی میں بہتری آئی اور پیچیدہ ڈیزائنوں کے ساتھ ساتھ درج ذیل ایجادات ہُوئیں:

متعدد مخصوص اور اہم ایجادات: ہل اور پہیہ، رتھ اور بادبانی کشتی، اور سلنڈر مہر، قدیم میسوپوٹامیہ کی واحد سب سے مخصوص مسوپٹامی آرٹ اور ملک کی روزمرہ زندگی میں جائیداد کی ملکیت اور کاروبار کی اہمیت کا ایک وسیع مظاہرہ۔ (برٹ مین، 55-56)

سارگن دی گریٹ (Sargon the Great) کی اکادی سلطنت دنیا کی پہلی کثیر القومی سلطنت تھی اور سرگون کی بیٹی، اینہیڈوانا Enheduanna (l. 2285-2250 قبل مسیح)، نام سے مشہور ادبی کاموں کی پہلی مصنفہ تھیں۔ ماری کی لائبریری میں 20,000 سے زیادہ کینیفارم تختیاں موجود تھیں اور وہاں کے محل کو خطے میں بہترین میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔

حمورابی (Hammurabi) بابل کا بادشاہ (1792-1750 قبل مسیح)، کم عِلمی کے زمانے سے باہر نِکلنے کیبعد، ایک فاتع کی حثیت سے 43 سال تک حکومت کرتا رہا۔

کانسی کا درمیانی دور (2119-1700 قبل مسیح)

آشوری سلطنتوں کی توسیع (اسور، نمرود، شروکین، دور، اور نینوی) Assur, Nimrud, Sharrukin, Dur, and Nineveh اور بابلی خاندان کے عروج (جس کا مرکز بابل اور کلڈیا میں ہے) نے تجارت کے لیے سازگار ماحول تو پیدا کیا لیکن اس کے ساتھ جنگ ​​میں بھی اضافہ ہوا۔ خانہ بدوش قبیلہ گوٹی (Guti) جو اکادی سلطنت کا تختہ الٹنے میں کامیاب ہُوا، میسوپوٹامیہ کی سیاست پر اس وقت تک حاوی رہا جب تک انہیں سمر کے بادشاہوں کی اتحادی افواج کے ہاتھوں شکست نہ ہوئی۔

حمورابی، بابل کا بادشاہ، کم عِلمی کے زمانے سے باہر نِکلنے کیبعد، ایک فاتع کی حثیت سے 43 سال تک حکومت کرتا رہا۔ ان کے بہت سے کارناموں میں سے ایک کاررنامہ مشہور ضابطہ قانون تھا، جو ایسی لکڑی کی تختتی پر لِکھا گیا تھا جو دیوتاوؐں کیلئے اِستعمال ہوتی تھی۔ بابل اس وقت علمی جستجو اور فنون اور خطوط میں اعلیٰ کارنامے کا ایک اہم مرکز بن گیا۔ تاہم، یہ ثقافتی مرکز قائم رہنے والا نہیں تھا، اور اسے ہٹیوں (Hittites) نے فتح کر کے لوٹ لیا، جن کے بعد کاسیوں (Kassites) نے اس کی جگہ لی ۔

Map of the Middle Assyrian Empire
درمیانی اسوری سلطنت کا نقشہ Simeon Netchev (CC BY-NC-ND)

کانسی دورکے بعد کا دورانیہ (1700-1100 قبل مسیح)

کاسائٹ خاندان (Kassite) کا عروج (ایک قبیلہ جو شمال میں زگروس پہاڑوں سے آیا تھا اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی ابتداء جدید دور کے ایران میں ہوئی) بابل کو فتح کرنے کے بعد اقتدار میں تبدیلی اور ثقافت اور تعلیم میں توسیع کا باعث بنی۔ کانسی کے زمانے کے بعد دھات کی کان کنی اور لوہے کا استعمال کا دور آیا۔ یہ ایک ایسی ٹیکنالوجی تھی جسے کاسائٹس اور اس سے قبل، ہٹیوں نے جنگ میں استعمال کیا تھا۔

اس دور میں کاسیوں کی طاقت میں اضافے کی وجہ سے بابلی ثقافت کے زوال کا آغاز ہوا یہاں تک کہ انہیں ایلامیٹس (Elamites) نے شکست دے کر باہر نکال دیا۔ ایلامیوں (Elamites) کے ارامیوں کو راستہ دینے کے بعد، اسور کی چھوٹی مملکت نے کامیاب مہمات کا ایک سلسلہ شروع کیا، اور اسوری سلطنت مضبوطی سے قائم ہوئی اور Tiglath-Pileser I (r. 1115-1076 قبل مسیح) کی حکمرانی میں ترقی کی اور اس کے بعد، Ashurnasirpal II (r. 884-859 قبل مسیح) نے سلطنت کو مزید مضبوط کیا۔ کانسی کے دور کے خاتمے کے بعد میسوپوٹامیہ کی زیادہ تر ریاستیں، ایک مختصر "تاریک دور" کی طرف بڑھتے ہُوے (1250-c.1150 قبل مسیح) یا کمزور ہوگئیں یا تو تباہ ہوگئیں۔

Ashurnasirpal II Wall Relief
اشورناصرپال II وال ریلیف Geni (CC BY-SA)

لوہے کا دور (1000 - 500 قبل مسیح)

اس دور میں Tiglath-Pileser III کے تحت (r. 745-727 قبل مسیح) نیو-آشوری سلطنت کا عروج اور توسیع عظیم آشوری بادشاہوں کے تحت یعنی Sargon II (r. 722-705 قبل مسیح)، سنچیرب (Sennacherib. 705-681 قبل مسیح) اور ایسار حدون Esarhaddon 681-669 قبل مسیح اور اشوربانیپال Ashurbanipal ( c. 668-627 قبل مسیح)، دیکھنے کو مِلی جِنہوں نے بابل، شام، اسرائیل اور مصر کو فتح کیا۔ 612 قبل مسیح میں مرکزی شہروں پر بابلیوں، میڈیس اور سیتھیوں (Babylonians, Medes, and Scythians کے بار بار حملوں کی وجہ سے سلطنت کو تیزی سے زوال کا سامنا کرنا پڑا۔

ہٹی اور میتانی (Hittites and the Mitanni) کے قبائل نے اس دوران اپنی اپنی سلطنتوں کو مضبوط کیا جس کے نتیجے میں نیو ہٹی اور نیو بابلی سلطنتوں کا عروج ہوا۔ بابل کے بادشاہ نبوکدنضر دوم (r. 605/604-562 قبل مسیح) نے اس عرصے کے دوران یروشلم (588 قبل مسیح) کو تباہ کیا اور اسرائیل کے باشندوں کو "بابل کی جلاوطنی" پر مجبور کیا۔ اُسنے بابل میں وسیع پیمانے پر تعمیرات مُکمل کیں، جِن میں مشہور عمارتیں اشتر گیٹ (Ishtar Gate) اورعظیم زیگرات Great Ziggurat ("بابل کا ٹاور") ہیں ۔ 539 قبل مسیح میں فارس کے سائرس دوم عظیم ( r. 550 - 530 قبل مسیح) کے ہاتھوں بابل کے فتح ہو جانے سے اُسکی ثقافت مؤثر طور سے ختم ہو گئی۔

کلاسیکی قدیم (500 قبل مسیح - ساتویں صدی عیسوی)

سائرس II کے بابل پر قبضہ کرنے کے بعد، میسوپوٹامیہ کا بڑا حصہ فارسی سلطنت کا حصہ بن گیا اور تیزی سے ثقافتی طور پر زوال پذیر ہُوا۔

سائرس دوم (Cyrus II) کے بابل پر قبضہ کرنے کے بعد، میسوپوٹامیہ کا بڑا حصہ اچمینیڈ فارسی (Achaemenid Persian) سلطنت کا حصہ بن گیا، اور اس دور میں خطے میں تیزی سے ثقافتی تبدیلی دیکھنے میں آئی جس میں متعدد تبدیلیاں شامل ہیں، خاص طور پر کینیفارم رسم الخط ختم ہو جانا۔ 331 قبل مسیح میں سکندر اعظم کی طرف سے فارسیوں کی فتح نے ثقافت کو دفن کر دیا اگرچہ اُسنے بابل کی اہمیت کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کی لیکن جاہ و جلال کے دِن گُزر چُکے تھے۔

اس کی موت کے بعد، اِسکے جنرل Seleucus I Nicator (r. 305 - 281 قبل مسیح) نے اس علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا اور Seleucid Empire (312 - 63 قبل مسیح) کی بنیاد رکھی جس نے 63 قبل مسیح تک حکومت کی جب اس سرزمین کو پارتھیوں (Parthians) نے فتح کر لیا، جو پہلے ساسانیوں (Sassanians) کے زیر تسلط تھی جنہوں نے پہلے کی قائم شُدہ مسوپتامی تہذیبوں (Mesopotamian civilizations) کی وراثت کا احترام کیا اور اِنکے کئے گئے اِمتیازی کاموں کو محفوظ رکھا۔

پارتھی اور ساسانی سلطنتوں (247 - 224 عیسوی) کے درمیان، رومی سلطنت نے خود کو 198 عیسوی میں اس خطے میں قائم کیا، (اگرچہ روم اس سے پہلے 116 - 117 عیسوی میں آیا اور پیچھے بھی ہٹ گیا)۔ رومیوں نے بہتر سڑکوں اور پلمبنگ (plumbing) کے ذریعے اپنی کالونیوں کے بنیادی ڈھانچے کو نمایاں طور پر بہتر کیا اور زمین پر رومی قانون لاگو کیا۔ اس کے باوجود، یہ خطہ حصولِ کنٹرول مسلسل جنگوں میں اُلجھتا رہا جو مختلف رومی شہنشاہوں نے شروع کیں، پہلے پارتھیوں اور پھر ساسانیوں کے ساتھ۔

اس علاقے کی قدیم ثقافت، جسے ساسانیوں نے محفوظ کیا تھا، ساتویں صدی عیسوی میں مسلم عربوں کے ذریعے میسوپوٹامیہ کی فتح سے تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں اسلام کے تحت قانون، زبان، مذہب اور ثقافت کو یکجا کر دیا گیا۔ ثقافت کو ہر لہاز سے برقرار رکھا گیا، جیسا کہ برٹ مین نے نوٹ کیا، "651 عیسوی کی اسلامی فتح کے ساتھ قدیم میسوپوٹامیہ کی تاریخ ختم ہو جاتی ہے" (58)۔ آج وہ عظیم شہر جو کبھی دجلہ اور فرات کی ندیوں کے کنارے ابھرے تھے وہ بنجر میدانوں میں کھدائی نہ کیے گئے ٹیلے یا ٹوٹی ہوئی اینٹیں ہیں، اور زرخیز کریسنٹ کا خطہ (زرعی سرگرمیوں کے ذریعے زمین کا زیادہ استعمال) انسانی عوامل کی وجہ سے بنجر زمینی علاقوں میں گھٹتا چلا گیا ہے۔

Queen of the Night Plaque
رات کی تختی کی ملکہ Davide Ferro (CC BY)

میراث

میسوپوٹامیہ کی میراث (legacy) دورِ جدید میں بھی بہت سے بنیادی پہلوؤں، جیسے کہ ساٹھ سیکنڈ، ساٹھ منٹ اور ساٹھ منٹ کا گھنٹہ کے ذریعے، برقرار ہے۔ ہیلن چیپین میٹز(Helen Chapin Metz) لکھتی ہیں:

چونکہ کمیونٹی کی فلاح و بہبود کا انحصار قدرتی مظاہر(natural phenomena) کے قریبی مشاہدے پر تھا، اس لیے پادریوں کا زیادہ تر وقت سائنسی یا پروٹو سائنسی (protoscientific سائنس سے پہلے کی) سرگرمیوں میں زیادہ مُشتمل ہوتا تھا۔ مثال کے طور پر، سمیریوں (Sumerians) کا خیال تھا کہ ہر دیوتا کی نمائندگی ایک عدد سے ہوتی تھی۔ ساٹھ کا عدد دیوتا این (god An) کے لیے مقدس تھا اور یہی ان کی بنیادی اکائی تھی۔ ایک گھنٹہ کے منٹ اور دائرے کی علامتی حدود (notational degrees) سمیری تصورات تھے۔ انتہائی ترقی یافتہ زرعی نظام اور بہتر آبپاشی اور پانی پر قابو پانے کے نظام جس نے سمیر کو اضافی پیداوار حاصل کرنے کے قابل بنایا، اس کی وجہ سے بھی بڑے شہروں کی ترقی ہوئی۔ (4)

شہری آباد کاری (Urbanization)، پہیہ، تحریر، فلکیات، ریاضی، ہوا کی طاقت، آبپاشی، زرعی ترقیات، مویشی پالنا اور وہ حکایات جِوآخر کار عِبرانی صحیفوں کا حِصہ بنیں اور جِومسیحی پُرانے عہد نامے کی بُنیاد بنیں، سب کا تعلق مسوپوٹامیہ کی سر زمین سے ہی تھا۔

جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے، کریمر اپنی کتاب ہسٹری بیگنز ایٹ سمر History Begins at Sumer میں میسوپوٹامیہ کی ثقافت سے مُتعلق اہم باتوں کی فہرست دیتا ہے جو متاثر کن ہیں اور یہ تعداد میں 39 ہیں۔ فہرست یہاں ختم نہیں ہوتی۔ میسوپوٹامی لوگوں نے مصر اور یونان کی ثقافتوں کو لمبے فاصلے تک کی گئی تجارت اور ثقافتی پھیلاؤ کے ذریعے متاثر کیا اور پِھر روم کی ثقافت کوبھی متاثر کیا جو مغربی تہذیب کی ترقی اور پھیلاؤ کیلئے ایک معیار تھا۔ میسوپوٹامیہ عام طور پر، اور خاص طور پر، سمر نے دنیا کو اس کے سب سے زیادہ پائیدار ثقافتی پہلو دیے۔ اگرچہ شہر اور عظیم محلات بہت پہلےسے ختم ہو چُکے ہیں لیکن میراث جدید دور تک جاری ہے۔

19 ویں صدی عیسوی میں، مختلف قومیتوں کے ماہرین آثار قدیمہ میسوپوٹامیہ پہنچے تاکہ ان شواہد کے لیے کھدائی کریں جو عہد نامہ قدیم کی بائبل کی کہانیوں کی تصدیق کریں۔ اُس وقت، بائبل کو دنیا کی سب سے قدیم کتاب سمجھا جاتا تھا اور اس کے صفحات میں پائی جانے والی کہانیوں کو اصل کمپوزیشن (original compositions) سمجھا جاتا تھا۔ آثار قدیمہ کے ماہرین جنہوں نے بائبل کی کہانیوں کی حمایت کرنے کے لئے جسمانی ثبوت تلاش کیے، قدیم مٹی کی تختیاں دریافت ہونے کے بعد بالکل اس کے برعکس پایا اور یہ سمجھا گیا کہ ان پر نشانات ڈیزائن نہیں بلکہ تحریر کی ایک شکل تھی۔

1872 عیسوی میں اسکالر اور مترجم جارج سمتھ George Smith (1840-1876 عیسوی) کے ذریعہ کینیفارم کی ان تختیوں کی وضاحت کی گئی اور اس نے میسوپوٹامیہ کی قدیم تہذیبوں کو جدید دنیا کے لیے کھول دیا۔ عظیم سیلاب اور نوح کی کشتی کی کہانی، انسان کے زوال کی کہانی، عدن کے باغ کا تصور، یہاں تک کہ ایوب کی شکایات یہ سب کچھ میسوپوٹامیہ کے لوگوں نے بائبل کے متن سے صدیوں پہلے لکھا تھا۔

ایک بار کینیفارم کو جب پڑھا گیا، میسوپوٹامیہ کی قدیم دنیا جدید دور کے لیے اِسطرح کھل گئی کہ اس نے دنیا کی تاریخ کے بارے میں لوگوں کی سمجھ کو بدل دیا۔ سمیری تہذیب (Sumerian Civilization) کی دریافت اور کینیفارم تختیوں کی کہانیوں نے علم کے تمام شعبوں میں فکری تحقیقات کی ایک نئی آزادی کی حوصلہ افزائی کی۔ اب یہ سمجھا گیا کہ بائبل کی حکایتیں اصل عبرانی کام نہیں تھے کیونکہ واضح طور پر دنیا چرچ کے بیانیہ سے زیادہ پرانی تھی۔ ایسی تہذیبیں تھیں جوعروج پر پہنچیں اور زوال پذیر ہُوئیں جیسا کہ کوئی اِس بارے میں سوچ سکتا تھا۔ اگر چرچ اور حکام کے دعوے غلط تھے تو شاید دوسرے لوگ بھی غلط تھے۔

19 ویں صدی کے آخر میں جب اسمتھ نے کینیفارم کے بارے میں ابہام دُور کیا تو تحقیقی جذبہ قبول شدہ نظریات کو چیلنج کرتے ہُوے اپنا راستہ بنا رہا تھا لیکن میسوپوٹامیہ کی ثقافت اور مذہب نے اس کی مزید حوصلہ افزائی کی۔ قدیم زمانے میں، میسوپوٹامیہ نے اپنی ایجادات، اختراعات اور مذہبی نقطہ نظر کے ذریعے نہ صِرف دنیا کو متاثر کیا بلکہ جدید دور میں بھی اِسنے جاری انسانی تہذیب، تاریخ اور ایک فرد کی حثیت کو سمجھنے کے طریقے کو بدل دیا۔

سوالات اور جوابات

کتابیات

ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا ایک ایمیزون ایسوسی ایٹ ہے اور اہل کتاب کی خریداری پر کمیشن

مترجم کے بارے میں

Samuel Inayat
I began my professional career in July 1975 by joining a government service in scale 10 and continued till I retired in June 2013 in scale 17 after rendering 40 years unblemished service. Most of my service was as a Civil Servant.

مصنف کے بارے میں

Joshua J. Mark
ایک فری لانس لکھاری اورمارست کالج، نیو یارک کے سابقہ جزوقتی فلسفہ کے پروفیسر، جوشیا ج۔ مارک یونان اور جرمنی میں رہ چکے ہیں اور مصر کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔ انہوں نے کالج کی سطح پر تاریخ، ادب، تصنیف و تالیف اور فلسفی کی تعلیم دی ہے۔

اس کام کا حوالہ دیں

اے پی اے اسٹائل

Mark, J. J. (2025, October 14). میسوپوٹامیہ. (S. Inayat, مترجم). World History Encyclopedia. https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-34/

شکاگو سٹائل

Mark, Joshua J.. "میسوپوٹامیہ." ترجمہ کردہ Samuel Inayat. World History Encyclopedia, October 14, 2025. https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-34/.

ایم ایل اے سٹائل

Mark, Joshua J.. "میسوپوٹامیہ." ترجمہ کردہ Samuel Inayat. World History Encyclopedia, 14 Oct 2025, https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-34/.

اشتہارات ہٹائیں