قدیم چین

Joshua J. Mark
کے ذریعہ، ترجمہ Samuel Inayat
Translations
پرنٹ کریں PDF
The Great Wall of China in Snow (by Steve Webel, CC BY-NC-SA)
برف میں ڈھکی عظیم دیوارِ چین Steve Webel (CC BY-NC-SA)

قدیم چین نے ایسی ترقی کی جِسکی وجہ سے وہ دُنیا کی ایک بڑی ثقافت بن گئی ہے۔ 'چین' نام سنسکرت زبان کے لفظ سینا سے آیا ہے جو چینی چِن خاندان (Qin Dynasty) سے ماخوز ہے جِسکا ترجمہ فارسیوں نے سِن '(Cin) کیا تھا اور ایسا لگتا ہے کہ یہ شاہراہ ریشم کے ذریعے تجارت کی وجہ سے مقبول ہوا ہے۔

رُومی اور یُونانی اِس خِطے کو سرز (Seres) کے نام سے جانتے تھے یعنی ایسی زمین جیاں سے ریشم پیدہ ہوتا ہے ۔'چائنا' (China) نام مغربی دُنیا میں 1516 عیسوی تک مشرق میں باربوسا کے جرائد (Barbosa's journals) میں اِسکے سفر کے بیان سے پہلے تک نظر نہیں آیا (حالانکہ یورپی لوگ ایک عرصہ سے شاہراہ ریشم سے کی جانے والی تجارت کے ذریعے چین کے بارے میں جانتے تھے)۔ مارکو پولو، مشہور ایکسپلورر (explorer نئی دریافت کرنے والا) جس نے 13ویں صدی عیسوی میں چین کو یورپ سے آشنا کیا، نے اس سر زمین کو کیتھے (Cathay) کہا۔ مینڈارن چینی میں (Mandarin Chinese) اس ملک کو 'Zhongguo' کے نام سے جانا جاتا تھا جس کا مطلب ہے "مرکزی ریاست" یا "درمیانی سلطنت"۔

قبل از تاریخ

خطے میں کِسی تہذیب کے پتہ چلنے سے پہلے، یہاں پر hominids (بندر اور موجودہ اِنسان کے درمیانی دور کا دو پاوؐں پر چلنے والا اِنسان) رہتے تھے لیکن بیجنگ کے قریب 1927 عیسوی میں دریافت ہونے والی کھوپڑی کے جیواشم (قدیم حیاتیاتی نمونے جیسے ہڈیاں وغیرہ) سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں پر 700,000 سے 300,000 سال پہلے پیکنگ مین (Peking Man) رہتا تھا جبکہ یون ماوؐ مین (Yuanmou Man) کی نسل کے لوگ جن کی باقیات 1965 CE میں ملی تھیں، 1.7 ملین سال پہلے یہاں پر آباد تھے۔ ان دریافتوں سے ملنے والے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ابتدائی باشندے پتھر کے اوزار بنانے اور آگ کا استعمال کرنا جانتے تھے۔

عام طور پر یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ انسان افریقہ میں پیدا ہوئے اور پھر دنیا بھر کے دوسرے مقامات پر ہجرت کر گئے لیکن چین کے ماہرین حیاتیات "انسان کی ابتدا کے بارے میں 'علاقائی ارتقاء' کے نظریہ کی حمایت کرتے ہیں" (China.org) جِسکے مُطابق انسان کی پیدائش کا سِلسلہ ایک آزاد عِلاقائی سِلسلہ تھا۔ "Shu Ape، پرائمیٹ جس کا وزن 100 سے 150 گرام تھا اور سائز ایک چوہے سے ملتا تھا، 4.5 سے 4 ملین سال قبل وسطی Eocene Epoch میں (چین میں) رہتا تھا۔ اس کی دریافت نے نسل انسانی کے افریقہ سے شروع ہونے کے نظریہ پر سوال اُٹھا دیا (China.org)۔ شو ایپ فوسل (Shu Ape fossil) اور پہلے اور ترقی یافتہ پرائمیٹ کے درمیان جینیاتی روابط کی وجہ سے اس چیلنج کو قابل فہم سمجھا جاتا ہے، تاہم ارتقائی عمل میں یہ بات واضع نہیں ہے۔

چینی نتائج کو بین الاقوامی برادری نے متنازعہ قرار دیا ہے، کوئی اس کو اِسطرح سمجھتا ہے کہ دوسرے ذرایع سے حاصِل شُدہ ٹھوس شواہد اِسکا تعلق ہومینیڈز اور ہومو سیپینز (hominids and homo sapiens) سے جوڑتے ہیں اور اِس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ ثقافت اعلیٰ درجہ کی اور نفیس تھی۔ اس کی ایک مثال ژیان کے قریب بانپو گاؤں (Banpo Village) ہے، جو 1953 عیسوی میں دریافت ہوا تھا۔ بانپو ایک نوولیتھک گاؤں (Neolithic village پتھر کا دور) تھا جو 4500 اور 3750 قبل مسیح کے درمیان آباد ہُوا اور اس میں 45 مکانات تھے جن کے فرش مضبوطی کے لیے زمین میں دھنسے ہوئےتھے اور گاؤں کے گِرد خندق حملے اور نکاسی دونوں کیلئے تحفظ فراہم کرتی تھی (گھریلو جانوروں میں باڑ لگانے میں بھی مدد کرتی تھی) جبکہ انسانوں کی بنائی ہوئی غاریں جو زمین کے اندر کھودی گئی تھیں خوراک کو ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کی جاتی تھیں۔ گاؤں کا ڈیزائن، اور وہاں سے دریافت ہونے والے نمونے (جیسے مٹی کے برتن اور اوزار)، اس کی تعمیر اور جدید ثقافت کی دلیل دیتے ہیں۔

Banpo Village, Xi'an, China
بانپو گاؤں، ژیان، چین Ian Armstrong (CC BY-SA)

عام طور پر یہی جانا گیا ہے کہ چینی 'تہذیب کا گہوارہ' دریائے زرد کی وادی ہے جہاں تقریباً 5000 قبل مسیح میں گاؤں آباد ہُوا، اگرچہ اس بارے اختلافِ رائے بھی ہے کیونکہ آبادیوں کی وسیع تر ترقی کےبارے دلائل دیے گئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دریائے زرد کی وادی میں واقع ہینان (Henan) صوبہ بہت سے ابتدائی دیہاتوں اور کاشتکاری برادریوں کا مقام تھا۔

2001 عیسوی میں، ماہرین آثار قدیمہ نے ایک منہدم مکان میں دبے ہوئے دو ڈھانچوں (skeletons) کا پتہ لگایا، جو دریائے زرد سے مٹی کے ذخائر کی ایک موٹی تہہ سے ڈھکے ہوئے تھے۔ ذخائر کی تہہ میں، ماہرین آثار قدیمہ کو 20 سے زیادہ ڈھانچے، ایک قربان گاہ، ایک مربع شکل کی چِیز، مٹی کے برتن، اور پتھر اور جاڈینا ملے۔ یہ سائٹ تاریخ سے پہلے، علاقے کے بہت سے دیہاتوں میں سے صرف ایک تھی۔

اِبتدائی سلطنتیں

ان چھوٹے دیہاتوں اور کاشتکاری برادریوں سے مرکزی حکومت بنی جن میں سے پہلا زیا خاندان ( Xia Dynasty c. 2070-1600 BCE) تھا جب ابھی لکھائی شروع نہیں ہوئی تھی۔ زیا خاندان کو کئی سالوں تک حقیقت سے زیادہ افسانہ سمجھا جاتا تھا یہاں تک کہ 1960 اور 1970 کی دہائی میں کھدائیوں سے ایسی جگہوں کا انکشاف ہُوا جو اس کے وجود کے مضبوط دلائل تھے۔ کانسی کے کام اور مقبرے واضح طور پر پتھر کے زمانے کے مختلف دیہاتوں اور ایک قابل شناخت ہم آہنگ تہذیب کے درمیان ترقی کے ارتقائی دور کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

اس خاندان کی بنیاد افسانوی یو دی گریٹ (Yu the Great) نے رکھی تھی جس نے دریائے زرد کے سیلاب کو کنٹرول کرنے کے لیے 13 سال تک انتھک محنت کی جس سے کسانوں کی فصلیں معمول کے مطابق تباہ ہو جاتی تھیں۔ وہ اپنے کام پر اتنا مگن تھا کہ کہا جاتا ہے کہ وہ ان تمام سالوں میں ایک بار بھی گھر نہیں لوٹا، حالانکہ ایسا لگتا ہے کہ وہ کم از کم تین مواقع پر اپنے گھر کے پاس سے گزرا۔ اس کی لگن نے دوسروں کو اس کی پیروی کرنے کی ترغیب دی۔

شانگ خاندان کے دور میں تحریر کے عِلاوہ مذہب، کانسی کی دھات کاری اور فن تعمیر میں ترقی ہُوئی۔

سیلاب پر قابو پانے کے بعد، یو (Yu) نے سانمیاو قبائل (Sanmiao tribes) کو فتح کیا اور اس وقت کے حکمران کا جانشین نامزد ہونے کے بعد موت تک حکومت کی۔ یو نے جانشینی کا موروثی نظام قائم کیا اور اس طرح خاندان کا تصور زیادہ مانوس ہو گیا۔ حکمران طبقہ اور اشرافیہ شہری آبادی میں رہتے تھے جبکہ کسانوں کی آبادی، جو اشرافیہ کے طرز زندگی کی حمایت تو کرتی تھی لیکن زراعت سے تعلق رکھنے کی وجہ سے دیہی علاقوں میں رہتے تھے۔ یو کے بیٹے کیوئ (Qi) نے اس کے بعد حکومت کی اور اقتدار اس خاندان کے ہاتھ میں رہا جب تک آخری زیا (Xia) حکمران، جی (Jie) کو تانگ نے معزول کر دیا جس نے شانگ خاندان (Shang Dynasty) (1600-1046 قبل مسیح) کی بُنیاد رکھی۔

تانگ (Tang) کا تعلق شانگ (Shang) کی سلطنت سے تھا، جِسکے تعلق سے تفویض کردہ تاریخیں (1675-1646 BCE) کسی بھی طرح سے ان واقعات سے مطابقت نہیں رکھتیں جن میں اس نے حصہ لیا تھا لہازہ اسے غلط سمجھا جانا چاہیے۔ جو معلوم ہے وہ یہ ہے کہ وہ شانگ کی بادشاہی میں حکمران تھا، یا کم از کم ایک بہت اہم شخصیت، جس نے تقریباً 1600 قبل مسیح میں، جی (Jie) کے خلاف بغاوت کی اور منگتیاو کی جنگ (Battle of Mingtiao) میں (Xia) کی افواج کو شکست دی۔

خیال کیا جاتا ہے کہ زیا عدالت (Xia court) کی اسراف اور اس کے نتیجے میں عوام پر بوجھ اس بغاوت کا باعث بنا۔ اس کے بعد تانگ نے سلطنت کی قیادت سنبھالی، ٹیکسوں میں کمی کی اور شروع کیے گئے عظیم الشان تعمیراتی منصوبوں،جِن سے وسائل میں کمی آ رہی تھی، کو معطل کر دیا۔ اِسنے ایسی حکمت اور استعداد کے ساتھ حکومت کی کہ فن اور ثقافت کو فروغ مِلا۔ تحریر نے شانگ خاندان کے دور میں مذہب، کانسی کی دھات کاری اور فن تعمیر میں ترقی کی۔

King Tang of Shang
شانگ کا تانگ بادشاہ Ma Lin (Public Domain)

شانگ سے پہلے، لوگ دیوتاوؐں کے سربراہ شانتی (Shangti) نام کے دیوتا کے عِلاوہ دوسری ثقافتوں کی طرح اور بہت سے دیوتاؤں کی پوجا کرتے تھے۔ شانتی کو زراعت، موسم, حکومت اور جنگ کے میدان میں فتح کا الہی سبب اور 'عظیم آباؤ اجداد' سمجھا جاتا تھا ۔ وہ (لوگوں) سے دُور تو ہوتا تھا مگر مصرُوف، تاہم، لوگوں کو اپنی ضرورت کے پیشِ نظر فوری شفاعت کی غرض سے اُس سے مِلنے کی ضرورت محسوس ہوتی تھی اور اِسی وجہ سے آباؤ اجداد کی عبادت کا آغاز ہوا۔

جب کوئی فوت ہو جاتا، تو یہ خیال کیا جاتا تھا کہ اُسنے الہی طاقت حاصل کر لی ہے اوراُسکو ضرورت کے وقت مدد کے لیے پُکارا جا سکتا ہے (والدین میں رومن عقیدے کی طرح)۔ یہ عمل آباؤ اجداد کی روحوں کو تسکین دینے کے لیے وقف کردہ انتہائی نفیس رسومات کا باعث بنی جس میں عظیم الشان مقبروں میں آرائشی تدفین شامل تھی جس میں وہ سب چِزیں شامِل تھیں جِنکی اُنہیں بعد از موت ایک آرام دہ زِندگی گُزارنے کیلئے ضرورت ہو۔

مذہبی فرائض کے عِلاوہ، بادشاہ اپنے تمام فرائض زندہ اور مردہ کے درمیان اعلیٰ عہدہ دار کی حشیت سے ثالث کے طور پر ادا کرتا تھا اور اس کی حکمرانی کو ایسے ہی سمجھا جاتا تھا جیسے خُدا نے یہ فرائض سونپے ہیں۔ اگرچہ اِسکا اختیار نامہ (Mandate of Heaven) بعد کے ژاؤ خاندان (Zhou Dynasty) نے تیار کیا تھا، لیکن ایک منصف حکمران کو خدائی مرضی سے جوڑنے کے خیال کی جڑیں شانگ کے ذریعے پروان چڑھائے گئے عقائد میں تھیں۔

Chinese Dynasties Visual Timeline
چینی خاندانوں کی بصری ٹائم لائن Simeon Netchev (CC BY-NC-ND)

سلطنتِ ژاؤ

1046 قبل مسیح کے لگ بھگ، صوبہ ژاؤ (Zhou) کے حُکمران وو ( Wu r. 1046-1043 قبل مسیح) نے شانگ کے بادشاہ ژاؤ (Zhou) کے خلاف بغاوت کی اور میوے کی لڑائی (Battle of Muye) میں اُسکی افواج کو شکست دے کر ژاؤ سلطنت (1046-256 قبل مسیح) قائم کی۔ 1046-771 قبل مسیح مغربی ژاؤ دور جبکہ 771-256 قبل مسیح مشرقی ژاؤ دور جانا جاتا ہے۔ وو(Wu) نے حکمران شانگ کے خلاف اُس وقت بغاوت کی جب شانگ نے اُسکے بڑے بھائی کو ناحق قتل کردیا۔ وو اور اس کے خاندان نے بغاوت کو قانونی حیثیت دینے کے لیے جنت کے اِختیار کو عمل میں لایا کیونکہ اس نے محسوس کیا کہ شانگ لوگوں کے مفادات میں کام نہیں کر رہا تھا۔ اس لیے اس نے بادشاہت اور امن و امان و انصاف کے دیوتا کے درمیان جنت کا اختیار نامہ ختم کر دیا۔

جنت کے اِختیار (Mandate of Heaven) کی تعریف اِسطرح کی گئی کہ دیوتاوؐں کی برکت اِنصاف پسند بادشاہ پر ہوتی ہے اور ایسی حُکمرانی قُدرت کی طرف سے ہے۔(یہ ایمان تھا) کہ اگر کوئی حکومت دیوتاوؐں کی مرضی پر نہ چلی تو اُسکا تختہ اُلٹ دیا گیا۔ مزید یہ کہ چین کا صرف ایک ہی حکمران ہو اور اس کی حکمرانی مناسب طرز عمل سے ہو ایسا کہ یہ اُسے آسمان کی طرف سے زمینوں کے محافظ کے طور پرسونپی گئی ہے۔ حکمرانی باپ سے بیٹے کو منتقل ہو سکتی ہے لیکن صرف اس صورت میں جب بیٹے میں حکمرانی کے لیے ضروری خُوبیاں ہوں۔ اس اِختیار کو بعد میں اکثر مختلف حکمرانوں کی طرف سے جوڑ توڑ کرتے ہُوے نااہل اولاد کو سونپ دی گئی۔

Bronze Zhou Cooking Vessel
ژاوؐ خاندان کا کھانا پکانے کیلئے کانسی کا برتن Editor at Large (CC BY-SA)

ژاؤ کے تحت ثقافت پروان چڑھی اور تہذیب پھیلی۔ تحریر کو کوڈفائیڈ (codified) کیا گیا اور لوہے کی دھات کاری تیزی سے بہتر ہوتی گئی۔ سب سے بڑے اور مشہور چینی فلسفی اور شاعر، کنفیوشس (Confucius)، مینشیئس (Mencius)، مو ٹی (Mot Zu)، لاؤ-تزو (Lao-Tzu)، تاؤ چیان (Tao Chien) اور فوجی حکمت عملی رکھنے والا سن زو (Sun-Tzu) بالخصوص اور سینکڑوں نظریات ژاو (Zhou) کے دور سے ہیں۔

رتھ، جو شانگ کے دور میں متعارف کرایا گیا تھا، ژاؤ کے دور میں مُکمل طور پر تیار ہو گیا۔ واضح رہے کہ اِن ادواروں اور خاندانی سلطنتوں کے آغاز اور اِختتام کا وقت وہ نہیں ہے جو تاریخ کی کِتابوں میں درج ہے۔ یہ ضرور ہے کہ ژاو اور شانگ سلطنتوں کی بہت سی صِفات بشمول زبان اور مذہب ایک جیسی تھیں۔ جب کہ مورخین یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ وضاحت کی خاطر، واقعات کو ادوار میں تقسیم کیا جائے۔ ژاؤ خاندان مندرجہ ذیل تسلیم شدہ ادوار تک قائم رہا جنہیں بہار اور خزاں کا دور اور جنگی ریاستوں کا دور کہا جاتا ہے۔

بہار اور خزاں کا دورانیہ اور متحارب ریاستیں۔

772-476 قبل مسیح کے بڑے وقفے کو بہار اور خزاں کا دور (Spring and Autumn Annals) کہا جاتا ہے جو اس وقت کی ریاست کا سرکاری اور ابتدائی ماخذ دور تھا جس میں جنرل سن-زو (Sun-Tzu) کا ذکر کیا گیا تھا اور جِسمیں ژاؤ (Zhou) حکومت اپنی مرکزی حثیت ختم کر کے اپنے نئے دارالحکومت میں منتقل ہو گئی تھی اور اِسکے ساتھ ہی مغربی Zhou کے دور کا اختتام ہُوا اور مشرقی Zhou کے دور کا شروح ہُوا۔ یہ وہ دورتھا جب فلسفہ، شاعری اور فنون میں ترقی کے لیے سب سے زیادہ مشہور ہُوا اورکنفیوشس، تاؤسٹ اور موہسٹ (Confucian, Taoist, and Mohist) فکر کا عروج دیکھا گیا۔

تاہم، ایک ہی وقت میں، مختلف ریاستیں مرکزی شہر Luoyang سے الگ ہو رہی تھیں اور خودمختار ہونے کا اعلان کر رہی تھیں۔ اس کے بعد، نام نہاد متحارب ریاستوں کا دور (c. 481-221 BCE) شروع ہوا جس میں سات ریاستیں کنٹرول کے لیے ایک دوسرے سے لڑیں۔ سات ریاستیں چو، ہان، کیوئ، چِن، وی، یان، اور ژاؤ تھیں Chu, Han, Qi, Qin, Wei) Yan, and Zhao)۔ یہ ریاستیں اپنے آپ کو خودمختار سمجھتی تھیں، ان میں سے کسی نے بھی جنت کے اِختیار کا دعویٰ کرنے میں پراعتماد محسوس نہیں کیا جو اُس وقت بھی لوئیانگ (Luoyang) کے ژاؤ کے پاس تھا۔ ساتوں ریاستوں نے ایک ہی حکمت عملی کا استعمال کیا اور جنگ میں ایک ہی طرز عمل اپنایا اور کوئی بھی دوسرے پر برتری حاصل نہ کرسکا۔

Map of the Warring States of China & Qin Conquest
متحارب ریاستوں کا چین اور چِن کو فتح کرنے کا نقشہہ Simeon Netchev (CC BY-NC-ND)

اس صورت حال کا فائدہ امن پسند فلسفی مو ٹی (Mo Ti) نے اٹھایا، جو ایک ہنر مند انجینئر تھا، جس نے کسی ایک ریاست کو دُوسروں سے زیادہ فائدہ میں نہ رکھنے کی خاطر جنگ کو ختم کرنے کی امید میں ہر ریاست کو قلعہ بندی اور محاصرے کے وقت اِستعمال کی جانے والی سیڑھیوں ( siege ladders قرون وسطائی دور میں مضبوط قِسم کی سیڑھیاں سِپاہیوں کو شہر یا قِلعے میں داخِل ہونے کیلئے دی جاتی تھیں) کا یکساں علم فراہم کرنا اپنا مشن بنایا۔ تاہم اس کی کوششیں ناکام رہیں اور 262 اور 260 قبل مسیح کے درمیان ریاست چِن (Qin) نے آخر کار چانگپنگ کی جنگ (Battle of Changping) میں صُوبہ ژاوؐ کو شکست دے کر اُن پر بالادستی حاصل کر لی۔

شانگ یانگ (Shang Yang متوفی 338 قبل مسیح) کے نام سے ایک چِن سیاست دان (Qin statesman) جو کارکردگی اور قانون میں بہت زیادہ یقین رکھتا تھا، نے کسی بھی قیمت پر فتح پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے جنگی حِکمتِ عملی میں تبدیلی پیدہ کی تھی۔ چین میں فوجی مروجہ اداب اور حکمت عملی کی اصلاح کا سہرا سن زو یا شانگ یانگ (Sun-Tzu or Shang Yang) کو دیا جائے یا نہیں اس کا انحصار سن زو کی تاریخ کو قبول کرنے پر ہے۔ کیا سن زو کا وجود ایسا ہی تھا جیسا کہ لوگ دعوی کرتے تھے، تاہم، یہ بہت ممکن ہے کہ شانگ یانگ مشہور تصنیف دی آرٹ آف وار(The art of war) سے واقف تھا، جس کے مصنف کے طور پر سن-زو کا نام ہے۔

ینگ ژینگ ریاست (Ying Zheng) 221 قبل مسیح میں، چھ مُتحارب ریاستوں کے درمیان تنازعہ کے نتیجہ میں اُنہیں زیر کر کے اُبھری، اُنہیں محکوم کر کے مُتحد کیا اور پھر خُود کو شی ہوانگڈی (پہلا با اختیار شہنشاہ) کا اِعلان کر دیا۔

ان اصلاحات سے پہلے، چین جنگی محاز آرائی کو ایک رئیس کا ہنر مندی کا کھیل سمجھا جاتا تھا اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ جنگ خُدا کی مرضی کے مُطابق ہے۔ کوئی کِسی کمزور پر حملہ نہیں کرتا تھا جب تک مُخالف کی تیاری نہ ہو اور توقع یہ کی جاتی تھی کہ اُس وقت تک تاخیر کی جائیگی جب تک حریف تیار ہو کر میدانِ جنگ میں درجہ بندی کی ترتیب کے ساتھ صفیں نہ باندھ لے۔ شانگ فتح کیلئے مُکمل جنگ چاہتا تھا (لہازہ) اُسنے اپنی فوجوں کو دشمنوں کو ہر قیمت پر فتح کرنے کا مشورہ دیا۔ شانگ کے اصول چِن (Qin) میں مشہور تھے اور انہوں نے یہ اصول چانگپنگ (Changping) میں استعمال کیے (جہاں 450,000 سے زیادہ ژاوؐ قیدی فوجیوں کو جنگ کے بعد پھانسی دی گئی) اور چِن کو وہ فائدہ پہنچا جس کا وہ انتظار کر رہے تھے۔

پھر بھی، انہوں نے چِن کے بادشاہ ینگ زینگ کے عروج تک ان حربوں کا مزید موثر استعمال نہیں کیا۔ شانگ کی ہدایات کو بروئے کار لاتے ہوئے، اور لوہے کے ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے اور رتھوں کو چلاتے ہوئے بڑے سائز کی فوج کے ساتھ، ینگ زینگ 221 قبل مسیح میں تنازعہ والی مُتحارب ریاستوں میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرا۔ اس نے اپنی حکمرانی کے تحت دیگر چھ ریاستوں کو محکوم اور متحد کیا اور اپنے آپ کو شی ہوانگڈی (یعنی پہلا با اختیار شہنشاہ) کا اعلان کر دیا۔

سلطنتِ چِن

شی ہوانگڈی (Shi Huangdi) نے چِن خاندان 221-206 BCE میں قائم کیا اور یہیں سے شہنشاہت (221 BCE-1912 CE) شروع ہونے کیبعد خاندانوں (Dynasties) کا نظام قائم ہُوا۔ اس نے ان تمام فصیلوں کو تباہ کرنے کا حکم دیا جِن سے ریاستیں ایک دُوسرے سے الگ ہُوئی ہُوئی تھیں اور پِھر اپنی سلطنت کی شمالی سرحد کے ساتھ ایک عظیم دیوار کی تعمیر کا کام شروع کر دیا۔ اگرچہ اصل دیوار کی آج بہت کم باقیات باقی ہیں (جِن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ) چین کی عظیم دیوار ان کے دور حکومت میں شروع ہوئی تھی۔

یہ 5,000 کلومیٹر (3,000 میل) سے زیادہ ، مشرق میں کوریا کی سرحدوں سے لے کر مغرب میں اورڈوس شہر کے مُشکل و پریشان کن صحرا ( troublesome Ordos Desert) تک پہاڑی اور میدانی علاقوں میں پھیلی ہوی تھی۔ رسد کیلئے یہ ایک بہت بڑا کام تھا، حالانکہ اس کے زیادہ تر شروح کے حصے چوتھی اور تیسری صدیوں میں شمالی سرحدوں کے دفاع کے لیے الگ چینی سلطنتوں نے تعمیر کئے تھے۔ (Scarre and Fagan, 382)

شی ہوانگدی نے سڑک کو تعمیر کر کے بنیادی ڈھانچہ مضبوط کیا جس سے سفر میں آسانی پیدہ ہُوئی اور تجارت کو بڑھانے میں مدد ملی۔

پانچ بڑی سڑکیں شاہی دارالحکومت سے Xianyang میں جاتی تھیں جبکہ ہر ایک کو پولیس کا عملہ اور پوسٹنگ اسٹیشن (پولیس چوکی) فراہم کیے گئے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر سڑکیں ریت، مٹی اور بجری کی مِلاوٹ سے تعمیر کی گئی تھیں اور 15 میٹر (50 فٹ) چوڑی تھیں۔ سب سے لمبی سڑک جنوب مغرب میں 7,500 کلومیٹر (4,500 میل) سے زیادہ یونان (Yunnan) کے سرحدی علاقے تک تھی۔ دیہی عِلاقے تو اِتنے خطرناک تھے کہ عمودی چٹان کی طرح اُونچے تھے یا نیچے اوراِس صُورت میں وہاں سڑک کے حِصوں کو لکڑی کا سہارا دے کر بنانا پڑا۔ (Scarre and Fagan, 382)

شی ہوانگڈی (Shi Huangdi) نے ایک مُنصف حُکمران کی حشیت سے اپنی سلطنت کی حدود کو بڑھایا، جنوب میں ایک بڑی نہر بنوائی اور زمین کی دوبارہ تقسیم کی۔

Shi Huangdi
شی ہوانگڈی Dennis Jarvis (CC BY-SA)

جب کہ اس نے تعمیراتی منصوبوں اور فوجی مہمات میں زبردست پیش رفت کی، اس کی حکمرانی تیزی سے گھریلو معاملات میں بھاری ثابت ہُوئی۔ جنتی مینڈیٹ کا دعویٰ کرتے ہوئے، (Shang Yang) کے تیار کردہ قانونی ڈحانچے کے عِلاوہ اس نے تمام فلسفوں کو دبا دیا اور اپنے چیف ایڈوائزر (اعلیٰ مشیر) لی سیو (Li Siu) کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے، تاریخ یا فلسفے کی کسی بھی کتاب کو تباہ کرنے کا حکم دیا جو قانون، خاندانی نسب اور ریاست سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔

چونکہ کتابیں اس وقت swivel pins (باندھنے کیلئے) سے بندھے ہوئے بانس کی (ُکُچھ وزنی) پٹیوں پر لکھی جاتی تھیں اس لیے شہنشاہ کے حکم سے بچنے کی کوشش کرنے والے علماء کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ روایت کیمُطابق ان میں سے بہت سے لوگوں کو عظیم دیوار پر مشقت کے لیے بھیجا گیا اور چار سو ساٹھ کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اس کے باوجود کچھ ادیبوں نے کنفیوشس (Confucius) کےتمام کاموں کو یاد رکھتے ہُوئے اُنہیں از بر بھی کر لیا۔ (ڈیورنٹ، 697)

مُختلف قِسم کی آزادیوں اور آزادیِ رائے کو دبانے کی وجہ سے شی ہوانگڈی بتدریج غیر مقبول ہوتا گیا۔ ماضی کی آباؤ اجداد کی عبادت اور مُردوں کی دُنیا جیسے نظریات زِندوں کی دُنیا سے زیادہ اُسکی توجہ کی وجہ بن گئے۔ وہ اِس ِخیال میں مگن ہو گیا کہ دوسری دنیا کس چیز پر مشتمل ہے اور وہ وہاں سفر کرنے سے کیسے بچ سکتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس نے موت کے بارے میں جنون پیدا کر لیا تھا اور اپنی زِندگی کے حوالے سے جوش میں لافانیت کی تلاش میں بے وقوف بن گیا۔

The Terracotta Army Panorama
ٹیراکوٹا آرمی پینوراما Bernd Thaller (CC BY-NC-SA)

موجودہ زندگی کے مطابق بعد کی زندگی کی خواہش نے اسے اپنے مقبرے کے لیے ایک محل اور 8,000 سے زیادہ ٹیراکوٹا جنگجوؤں کی فوج کو ہمیشہ کے لیے اس کی خدمت کے لیے تیار کیا۔ {(قدیم مذہبی مواد (ٹیٹراکوٹا) پکی مٹی سے بنی اشیا پر لِکھا جاتا تھا}۔ ٹیٹراکوٹا جنگجوؐوؐں سے مُراد وہ پکی مٹی سے بنے ہُوئے جنگجو تھے جنکوعقیدہ کو مدِ نظر رکھتے ُہوئے بادشاہ کے ساتھ ہی دفن کر دیا گیا تھا)۔ اس کے ساتھ دفن کی گئی سیرامک ​​فوج میں رتھ، گھڑ سوار فوج، ایک کمانڈر ان چیف، اور طرح طرح کے پرندے اور جانور بھی شامل تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی موت 210 قبل مسیح میں امرت کی تلاش کے دوران ہوئی تھی اور لی سیو نے، حکومت پر کنٹرول حاصل کرنے کی امید میں، اپنی موت کو اس وقت تک خفیہ رکھا جب تک وہ اپنے قابل بیٹے، ہو-ہائی (Hu-Hai) کو وارث کے طور پر نامزد کرنے کے لیے اپنی وصیت کو تبدیل نہ کر سکا۔

تاہم، یہ منصوبہ ناقابل عمل ثابت ہوا کیونکہ نوجوان شہزادے نے غیر مُستحکم ہوتے ہُوئے بہت سے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور ملک میں بڑے پیمانے پر بغاوت شروع کی۔ شی ہوانگڈی کی موت کے فوراً بعد، چِن خاندان جلد ہی ہو-ہائی، لی سیو (Hu-Hai, Li Siu) اور ایک اور مشیر، ژاؤ گاؤ (Zhao Gao) اور ہان خاندان (202 قبل مسیح-220 عیسوی) جیسے لوگوں کی سازشوں اور نااہلی کی وجہ سے ٹوٹ گیا۔ پھِر لیو بنگ (Liu-Bang) کے الحاق کے ساتھ ہی ہان خاندان کا آغاز ہوا۔

چو-ہان تنازعہ

چِن خاندان کے زوال کے ساتھ، چین افراتفری میں ڈوب گیا جسے چو-ہان تنازعہ (206-202 BCE) کہا جاتا ہے۔ چِن کے خلاف بغاوت کرنے والی قوتوں میں دو جرنیل ابھرے: ہان کے لیو بینگ ( Liu-Bang l. c 256-195 قبل مسیح) اور جنرل ژیانگ یو آف چو General XiangYu (232-202 قبل مسیح)، جنہوں نے حکومت کی کمان سمبھالنے کیلئے جنگ کی۔ ژیانگ یو، جس نے خود کو چِن کا سب سے مضبوط حریف ثابت کیا تھا، لیو بینگ کو ان کے دارالحکومت ژیان یانگ (Xianyang) میں چِن افواج کے فیصلہ کن شکست کے اعتراف میں 'کنگ آف دی ہان' کے خطاب سے نوازا۔

Chu-Han Contention Map
چو-ہان تنازعہ کا نقشہ SY (CC BY-SA)

دونوں سابق اتحادی جلد ہی ایک دُوسرے کے مخالف بن گئے، تاہم، اقتدار کی جدوجہد میں چو-ہان تنازعہ، ژیانگ-یو کے ہانگ کینال (Hong Canal) کے معاہدے پر بات چیت کرنے اور عارضی امن قائم ہونے تک جاری رہا۔ ژیانگ یو (Xiang-Yu) نے مشرق میں چو (Chu) اور مغرب میں ہان (Han) کی حکمرانی کے تحت چین کو تقسیم کرنے کا مشورہ دیا، لیکن لیو بینگ، ہان کی حکمرانی کے تحت ایک متحدہ چین چاہتے تھے اور معاہدے کو توڑتے ہوئے، دشمنی دوبارہ شروع کر دی۔ 202 قبل مسیح میں Gaixia کی جنگ میں، Liu-Bang کے عظیم جرنیل، Han-Xin نے Xiang-yu کے ماتحت چو کی افواج کو پھنسایا اور شکست دی اور Liu-Bang کو شہنشاہ قرار دیا گیا (جو بعد میں ہان کے شہنشاہ گاؤزو کے نام سے جانا جاتا ہے)۔ ژیانگ یو نے خودکشی کی لیکن اس کے خاندان کو رہنے اور یہاں تک کہ سرکاری عہدوں پر کام کرنے کی اجازت دی گئی۔

نئے شہنشاہ گاؤزو (Gaozu) نے اپنے تمام سابقہ ​​مخالفین کے ساتھ احترام کے ساتھ برتاؤ کیا اور عِلاقے کو اپنی حکمرانی میں متحد کیا۔ اس نے خانہ بدوش Xiongnu قبائل کو پیچھے دھکیل دیا، جو چین میں دراندازی کر رہے تھے، اور دوسری ریاستوں کے ساتھ صلح کر لی جو ناکام چن سلطنت کے خلاف بغاوت میں اٹھی تھیں۔ اب ہان خاندان (جس کا نام ہانزہونگ صوبے میں لیو بینگ کے گھر سے نکلا ہے) ، مختصر وقفے کے ساتھ اگلے 400 سالوں کے لیے 202 قبل مسیح سے 220 عیسوی تک چین پر حکمرانی کرے گا۔ ہان کو دو ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے: مغربی ہان - 202 BCE-9 CE اور مشرقی ہان - 25-220 CE۔

سلطنتِ ہان

گاؤزو (Gaozu) کی جانب سےاُٹھائے گئے اقدامات کی وجہ سے اِستحکام پیدہ ہُوا جو ثقافت کو دوبارہ پھلنے پھولنے کیلئے ضروری تھا۔ اس دوران مغرب کے ساتھ تجارت کا آغاز ہوا اور فنونِ لطیفہ اور ٹیکنالوجی میں ترقی ہُوئی۔ ہان کو پہلا خاندان سمجھا جاتا ہے جس نے اپنی تاریخ لکھی تھی لیکن چونکہ شی ہوانگڈی نے اپنے سے پہلے آنے والوں کے بہت سے تحریری ریکارڈ کو تباہ کر دیا تھا، اس دعوے پر اکثر اختلاف کیا جاتا ہے۔ تاہم، اس میں کوئی شک نہیں کہ ثقافت کے ہر شعبے میں ہان کے دور میں بڑی ترقی ہوئی تھی۔

گاؤزو نے کنفیوشس ازم کو قبول کیا اور حکومت کا خصوصی فلسفہ بنایا، ایک ایسا نمونہ قائم کیا جو آئیندہ بھی جاری رہے گا۔

زرد شہنشاہ کا کینن آف میڈیسن (Yellow Emperor's Canon of Medicine)، طب پر چین کا قدیم ترین تحریری ریکارڈ ہان خاندان کے دور میں مرتب کیا گیا تھا۔ اس زمانے میں کاغذ ایجاد ہوا اور لکھنا زیادہ نفیس ہو گیا۔ گاؤزو نے کنفیوشس ازم کو قبول کیا اور اسے حکومت کا خصوصی فلسفہ بنا دیا، ایک ایسا نمونہ قائم کیا جو مُسقبِل میں بھی جاری رہے گا۔

شی ہوانگدی کے برعکس، اس نے دوسروں کے لیے قانون سازی نہیں کی۔ اس نے دیگر تمام فلسفوں کے لیے رواداری دِکھائی نتیجتاؐ اس کے دور حکومت میں ادب اور تعلیم کو فروغ ملا۔ اس نے ٹیکسوں میں کمی کی اور اپنی فوج یعنی اپنے مُحافظین نہ رکھے تو بھی بلائے جانے پر بلا تاخیراُنہون نے اِس کے خِلاف ریلی نکالی۔

195 قبل مسیح میں اس کی موت کے بعد، اس کی بیوی، مہارانی لو ژی ( Lu Zhi l. 241-180 BCE) نے کٹھ پتلی بادشاہوں کا ایک سلسلہ قائم کیا، جس کا آغاز ولی عہد شہزادہ لیو ینگ Liu Ying (شہنشاہ ہوئی، 195-188 قبل مسیح) سے ہوا، جنہوں نے اس کے مفادات کا خیال رکھا لیکن پھر بھی اپنی پالیسیوں کو جاری رکھا۔ ان پروگراموں سے ثقافت میں اِستحکام پیدہ ہُوا اور ہان شہنشاہوں کے سب سے بڑے شہنشاہ، وو تی Wu Ti (جسے وو دی گریٹ بھی کہا جاتا ہے، r141-87 BCE) اِس قابِل ہُوا کہ وہ عوامی اور ثقافتی کام شروع کر سکے۔ اس نے 138 قبل مسیح میں اپنے سفیر ژانگ کیان (Zhang Qian) کو مغرب میں بھیجا جس کے نتیجے میں 130 قبل مسیح میں شاہراہ ریشم کا باضابطہ افتتاح ہوا۔

کنفیوشس ازم کو حکومت کے سرکاری نظریے کے طور پر شامل کیا گیا اور وو ٹی نے خواندگی کو فروغ دینے اور کنفیوشس کے اصول سکھانے کے لیے پوری سلطنت میں اسکول قائم کیے۔ اس نے نقل و حمل، سڑکوں اور تجارت میں بھی اصلاحات کیں اور بہت سے دوسرے عوامی منصوبوں کا حکم دیا، ان کاموں میں ریاستی کارکنوں کے طور پر لاکھوں افراد کو ملازمت دی۔ وو تی کے بعد، اس کے جانشینوں نے، کم و بیش، چین کے لیے اپنے وژن (vision) کو برقرار رکھا اور کامیابی حاصل کی۔

Han Dynasty Farm Model
ہان ڈائنسٹی فارم ماڈل Mark Cartwright (CC BY-NC-SA)

دولت میں اضافے سے بڑی جائدادیں بنیں اور عمومی خوشحالی آئی لیکن زمین پر کام کرنے والے کسانوں کے لیے زندگی مشکل سے مشکل ہوتی گئی۔ 9 عیسوی میں، قائم مقام مُختارِ خاص، وانگ منگ (l. 45 BCE-23 CE Wang Mang) نے اپنے لیے جنت کے اِختیار کا دعویٰ اور ہان خاندان کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت پر قبضہ کر لیا۔ وانگ منگ نے زن خاندان (9-23 عیسوی Xin Dynasty) کی بنیاد وسیع زرعی اصلاحات اور دولت کی دوبارہ تقسیم کے اصولوں پر رکھی۔

شروع میں اسے کسانوں کی طرف سے زبردست حمایت حاصل تھی جبکہ زمینداروں نے اس کی مخالفت کی۔ تاہم، اس کے پروگراموں کو ناقص تصور کیا گیا اور (اِسکے اصلاحاتی پروگرام) پر عمل درآمد کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر بے روزگاری اور ناراضگی پیدا ہوئی۔ بغاوتوں، اور دریائے زرد کے وسیع سیلاب نے وانگ مینگ کی حکمرانی کو مزید غیر مستحکم کر دیا اور اسے کسانوں کے ایک مشتعل ہجوم نے قتل کر دیا جِن کی وساطت سے اس نے بظاہر حکومت پر قبضہ کیا تھا اور اپنی اصلاحات کا آغاز کیا تھا۔

سلطنتِ ہان کا عروج اور زوال

زن (Xin) خاندان کے عروج نے مغربی ہان (Han) کے نام سے جانے والے دور کا خاتمہ کیا اور اس کے انتقال سے مشرقی ہان دور کا قیام عمل میں آیا۔ شہنشاہ گوانگو (Guangwu r. 25-57 CE) نے زمینیں مالکان کو واپس کر دیں اور مغربی ہان حکمرانوں کی پہلی پالیسیوں کو برقرار رکھتے ہوئے زمینی نظم و ضبط بحال کیا۔ Xin خاندان کے تحت کھوئی ہوئی زمینوں پر دوبارہ دعویٰ کرنے میں، اپنا زیادہ تر وقت بغاوتوں کو ختم کرنے اور جدید دور کے کوریا اور ویتنام کے علاقوں میں چینی حکومت کو دوبارہ قائم کرنے میں صرف کرنے پر مجبور ہوا۔

ویتنام میں 39 عیسوی کی ٹرنگ سسٹرز کی بغاوت (Trung Sisters Rebellion)، جس کی قیادت دو بہنوں نے کی تھی، کو گِرانے کیلئے ہزاروں آدمی (ہان کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق) اور چار سال درکار تھے۔ اس کے باوجود، شہنشاہ نے اپنی حکمرانی کو مضبوط کیا اور اپنی حدود کو بھی وسیع کیا، استحکام فراہم کیا جس سے تجارت اور خوشحالی میں اضافہ ہوا۔ شہنشاہ ژانگ Zhang (r 75-88 عیسوی) کے وقت تک، چین اس قدر خوشحال ہو گیا تھا کہ وہ اس وقت کی تمام بڑی قوموں کے ساتھ تجارت میں شراکت دار تھا اور اس کی موت کے بعد بھی اسی طرح جاری رہا۔ 166 عیسوی میں مارکس اوریلیس (Marcus Aurelius) کے ماتحت رومیوں نے چینی ریشم کو سونے سے زیادہ قیمتی سمجھا اور چین کو مُُنہ مانگے دام دئیے۔

زمینداروں اور کسانوں کے درمیان تنازعات، تاہم، حکومت کے لیے مسائل کا باعث بنتے رہے، جس کی مثال پانچ پیکس آف رائس ریبلین (Five Pecks of Rice Rebellion (142 عیسوی) اور پیلی پگڑی بغاوت Yellow Turban Rebellion (184 عیسوی) میں ملتی ہے۔ فائیو پیکس بغاوت Five Pecks of Rice Rebellion ایک مذہبی تحریک کے طور پر شروع ہوئی، اس میں کسان طبقے کی ایک بڑی تعداد حکومت اور اشرافیہ کے کنفیوشس نظریات سے متصادم تھی۔ یہ دونوں بغاوتیں حکومت کی طرف سے لوگوں کو نظر انداز کرنے کے ردعمل میں تھیں کیونکہ ہان خاندان بہت زیادہ بد عنوان اور غیر موثر ہو گیا۔ دونوں بغاوتی رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ ہان نے جنت کا مینڈیٹ ختم کر دیا ہے اور اسے دستبردار ہو جانا چاہیے۔

لوگوں کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومت کی طاقت منتشر ہونا شروع ہو گئی یہاں تک کہ پورے ملک میں پیلی پگڑی کی بغاوت زور پکڑنے لگی۔ ہان جرنیلوں کو بغاوت کو ختم کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا، لیکن جیسے ہی ایک بغاوتی محصورہ (enclave) کو کچل دیا جائے گا، دوسرا جنم لے گا۔ بغاوت کو بالآخر جنرل کاو کاو Cao Cao (155-220 عیسوی) نے ختم کر دیا اور اس کے سابق دوست اور حلیف یوان شاو Yuan-Shao (متوفی 202 عیسوی) پھر خِطہ پر قابو پانے کیلئے ایک دوسرے سے لڑے اور کاو کاو نے شمال میں فتح حاصل کی۔

کاو نے جنوب پر حملہ کر کے چین کے مکمل اتحاد کی کوشش کی لیکن 208 عیسوی میں ریڈ کلفس (Red Cliffs) کی جنگ میں اسے شکست ہوئی، جس سے چین تین الگ الگ سلطنتوں میں تقسیم ہو گیا - کاو وی (Cao Wei)، مشرقی وو، اور شو ہان - جن میں سے ہر ایک نے جنت کے مینڈیٹ کا دعویٰ کیا۔ اس دور کو تین بادشاہتوں کے دور (220-280 عیسوی) کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ یقیناؐ تشدد اور غیر یقینی صورتحال کا دور تھا جو بعد میں چینی ادب میں عظیم کاموں کو متاثر کرے گا۔

Cao Cao, Battle of Red Cliffs
کاو کاو، سرخ چٹانوں کی جنگ Shizhao (CC BY-SA)

ہان خاندان اب ایک یادگار تھا اور دیگر، مختصر مدت کے خاندانوں (جیسے وی اور جن، وو ہو، اور سوئی Wei and Jin, the Wu Hu, and the Sui) نے بدلے میں حکموتی اِختیار سنبھال لیا اور تقریباً 208-618 عیسوی کے درمیان اپنے منصوبوں کا آغاز کیا۔ سوئی خاندان (589-618 عیسوی) بالآخر 589 عیسوی میں چین کو دوبارہ متحد کرنے میں کامیاب ہوا۔ سوئی خاندان کی اہمیت انتہائی موثر افسر شاہی کے نفاذ میں ہے جس نے حکومت کے کام کو ہموار کیا اور سلطنت کو برقرار رکھنے میں زیادہ آسانی پیدا کی۔ شہنشاہ وین (Wen)، اور پھر اس کے بیٹے، یانگ (Yang) کے تحت، گرینڈ کینال کو مکمل کیا گیا، عظیم دیوار کو بڑھایا گیا اور حصوں کو دوبارہ تعمیر کیا گیا، فوج کو سب سے زیادہ بڑھایا گیا، اور سکے کو مُلکی حدود میں معیاری بنایا گیا.

ادب پروان چڑھا اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ہوا مولان (Legend of Hua) کا مشہور افسانہ، ایک نوجوان لڑکی کے بارے میں جو فوج میں اپنے والد کی جگہ لیتی ہے اور ملک کو بچاتی ہے، اس وقت تیار کی گئی تھی (حالانکہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اصل نظم شمالی وی دور، 386-535 عیسوی کے دوران لکھی گئی تھی)۔ بدقسمتی سے، وین اور یانگ دونوں داخلی استحکام سے مطمئن نہیں تھے اور جزیرہ نما کوریا کے خلاف بڑے پیمانے پر مہمات کا اہتمام کیا۔ وین اپنے تعمیراتی منصوبوں اور فوجی مہمات کے ذریعے پہلے ہی خزانے کو دیوالیہ کر چکے تھے اور یانگ نے اپنے والد کی مثال کی پیروی کی اور فوجی فتح کی کوششوں میں یکساں طور پر ناکام رہا۔ یانگ کو 618 عیسوی میں قتل کر دیا گیا جس کے بعد لی یوآن (Li-Yuan) کی بغاوت کو جنم دیا جس نے حکومت کا اِختیار سنبھالا اور اپنے آپ کو تانگ کا شہنشاہ گاؤ-زو (r. 618-626 CE) کہا۔

سلطنتِ تانگ

تانگ خاندان (618-907 عیسوی) کو چینی تہذیب کا 'سنہری دور' سمجھا جاتا ہے۔ گاؤ زو Gao-Tzu نے سوئی خاندان (Sui Dynasty) کی طرف سے شروع کی گئی افسر شاہی کو ہوشیاری سے برقرار رکھا اور اس میں بہتری لائی جبکہ بڑے پیمانے کے مہنگے اور مُشکل فوجی مِشن اور تعمیراتی منصوبوں کو جاری رکھا۔ معمولی ترامیم کے ساتھ تانگ خاندان کی افسر شاہی پالیسیاں آج بھی چینی حکومت کے استعمال میں ہیں۔

شہنشاہ Xuanzong (712-756 CE) کے دور تک چین دنیا کا سب سے بڑا، سب سے زیادہ آبادی والا اور سب سے خوشحال ملک بن گیا۔

گاؤ زو کو اس کی موثر حکمرانی کے باوجود، اس کے بیٹے لی-شیمین نے 626 عیسوی میں معزول کر دیا۔ اپنے والد کو قتل کرنے کے بعد، لی شیمین (Li-Shimin) نے پھر اپنے بھائیوں اور دیگر معزز گھرانوں کو قتل کر دیا اور شہنشاہ تائیزونگ ( Taizongr. 626-649 CE) کا لقب اختیار کیا۔ تاہم، خونی بغاوت کے بعد، تائیزونگ نے حکم دیا کہ جنگی مقاصد کیلئے اِستعمال کی جانے والی جگہوں پر بدھ مندر بنائے جائیں اور مرنے والوں کو بھی یاد کیا جائے۔

آباؤ اجداد کی عبادت اور جنت کا مُختارنامہ کے تصورات کو جاری رکھتے ہوئے اور اُسی کو بُنیاد بناتے ہُوئے، تائیزونگ نے کہا اُسکے اعمال الہی مرضی کیمطابق ہیں اور کہا جِن لوگوں کو اُسنے مارا ہے وہ بعد کی زِندگی میں اُسکے مُشیر ہوں گے۔ چونکہ وہ ایک قابل ذکر حکمران ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ماہر فوجی اور جنگجو ثابت ہوا، اس کی بغاوت کو چیلنج نہیں کیا گیا اور اس نے اپنی وسیع سلطنت پر حکومت کرنے کا کام شروع کیا۔

تائیزونگ نے سوئی خاندان میں جو اچھا دیکھا اُسے اپناتے ہُوئے اُس میں بہتری لانے میں اپنے والد کے اصولوں پر عمل کیا۔ یہ خاص طور پر تائیزونگ کے قانونی ضابطے میں دیکھا جا سکتا ہے جِس میں سوئی کے تصورات پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ اِس میں جُرم اور سزا کی شِکیں شاّمِل کر کے توسیع کی گئی۔ تاہم، اس نے اپنے والد کی خارجہ پالیسی کے ماڈل کو نظر انداز کیا، اور کامیاب فوجی مہمات کا ایک سلسلہ شروع کیا، سلطنت کو بڑھایا اور محفوظ بنایا اور اس کے قانونی ضابطے اور چینی ثقافت کو پھیلانے میں بھی کام کیا۔

تائیزونگ کی جگہ اس کا بیٹا گازونگ ( Gaozong r. 649-683 عیسوی) تھا جس کی بیوی، وو زیٹیان Wu Zetian، چین کی پہلی اور واحد خاتون بادشاہ بنیں۔ مہارانی وو زیٹیان (r. 690-704 عیسوی) نے متعدد پالیسیاں شروع کیں جس سے چین میں حالات زندگی بہتر ہوئے اور شہنشاہ کی پوزیشن مضبوط ہوئی۔ اس نے اپنے دشمنوں، غیر ملکی اور ملکی دونوں سے ہمیشہ ایک قدم آگے رہنے کے لیے خفیہ پولیس فورس اور مواصلات کے انتہائی موثر ذرائع کا بھی کافی استعمال کیا۔

Glazed Tang Dynasty Camel
تانگ خاندان کا چمکدار اونٹ James Blake Wiener (CC BY-NC-SA)

تجارت سلطنت کے اندر اور شاہراہ ریشم کے ذریعے، مغرب کے ساتھ پھلی پھولی۔ روم کے زوال کے بعد، بازنطینی (Byzantine) سلطنت چینی ریشم کی سب سے بڑی خریدار بن گئی۔ شہنشاہ Xuanzong (r. 712-756 CE) کے دور تک چین دنیا کا سب سے بڑا، سب سے زیادہ آبادی والا، اور سب سے زیادہ خوشحال ملک تھا۔ بڑی آبادی کی وجہ سے، ہزاروں آدمیوں کو فوج میں بھرتی کیا جا سکتا تھا اور (اِسکی وجہ سے) ترک خانہ بدوشوں یا گھریلو باغیوں کے خلاف فوجی مہمیں تیز اور کامیاب تھیں۔ فن، ٹکنالوجی اور سائنس نے تانگ خاندان کے دور میں ترقی کی (حالانکہ سائنس میں اعلیٰ مقام 960-1234 عیسوی کے بعد کا سنگ خاندان سمجھا جاتا ہے) اور چینی مجسمہ سازی اور چاندی کے کام کے کچھ انتہائی متاثر کن نمونے اس دور سے ہیں۔

سلطنتِ تانگ کا عروج اور زوال

پھِر بھی، مرکزی حکومت کی عالمی سطح پر قبولیت نہ ہُوئی اور علاقائی بغاوتیں ایک باقاعدہ تشویش بنی رہیں۔ ان میں سب سے اہم 755 عیسوی کی این شی بغاوت تھی (An Shi جسے این لوشان بغاوت بھی کہا جاتا ہے)۔ جنرل این لوشان (An Lushan)، جو شاہی عدالت کے پسندیدہ تھے، حکومت میں ضرورت سے زیادہ اسراف کو دیکھتے ہوئے پریشان ہو گئے اور اس نے 100,000 سے زیادہ فوج کے ساتھ، بغاوت کی اور جنت کے مینڈیٹ کے اصولوں کے مطابق خود کو نیا شہنشاہ قرار دیا۔

اگرچہ اس کی بغاوت کو 763 عیسوی تک ختم کر دیا گیا، بغاوت کی بنیادی وجوہات اور مزید فوجی کارروائیاں 779 عیسوی تک حکومت کو پریشان کرتی رہیں۔ این لوشان کی بغاوت کا سب سے واضح نتیجہ چین کی آبادی میں ڈرامائی کمی تھی۔ یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ تقریباً 36 ملین لوگ یا بغاوت کے براہ راست نتیجے میں، یا جنگ میں،یا انتقامی کارروائیوں میں، یا بیماری اور یا وسائل کی کمی کی وجہ ہلاک ہُوئے۔

تجارت کو نقصان پہنچا، ٹیکس جمع نہیں ہوئے، اور حکومت، جو بغاوت شروع ہونے پر چانگان (Chang'an تاریخی مشہور شہر جِسے اب Xi'an کے نام سے پُکارا جاتا ہے) سے بھاگ گئی تھی، کسی بھی قسم کی اہمیت کو برقرار رکھنے میں غیر موثر تھی۔ تانگ خاندان مسلسل گھریلو بغاوتوں کا شکار رہا اور ہوانگ چاؤ بغاوت (874-884 عیسوی Huang Chao Rebellion) کے بعد کبھی صحت یاب نہیں ہوا۔ یہ ملک پانچ خاندانوں اور دس سلطنتوں (907-960 عیسوی) کے نام سے جانے والے دور میں ٹوٹ گیا، جس میں ہر ایک حکومت نے سونگ خاندان (عرف سنگ) کے عروج تک اپنے لیے قانونی حیثیت کا دعویٰ کیا۔

Chinese Students Taking Civil Service Exams
چینی طلباء سول سروس کے امتحانات دے رہے ہیں۔ Yu Ren, Wu Yue (Public Domain)

سانگ ( dynasty Song) خاندان کے دور میں چین ایک بار پھر مستحکم ہو گیا اور ادارے، قوانین اور رسم و رواج کو ثقافت میں مُزید مربوط کر دیا گیا۔ نو کنفیوشس ازم (Neo-Confucianism) ملک کا سب سے مقبول فلسفہ بن گیا، جس نے ان قوانین اور رسم و رواج کو متاثر کیا، اور چین کی ثقافت کو جدید دور میں قابلِ قبول شکل دی۔ پھر بھی، تہذیب و ثقافت کے ہر شعبے میں ترقی کے باوجود، دولت مند زمینداروں اور اس زمین پر کام کرنے والے کسانوں کے درمیان پرانی لڑائی اگلی صدیوں تک جاری رہی۔

وقتاً فوقتاً ہونے والی کسانوں کی طرف سے کی گئی بغاوتوں کو جلد از جلد کچل دیا گیا، لیکن عوام کی شکایات کا کبھی کوئی تدارک نہیں کیا گیا، اور ہر فوجی کارروائی مسئلے کی بجائے خود مسئلے کی علامت سے نمٹتی رہی۔ 1949 عیسوی میں، ماؤ تسے تنگ (Mao Tse Tung) نے چین میں عوامی انقلاب کی قیادت کی، حکومت کا تختہ الٹ دیا اور عوامی جمہوریہ چین کو اس بنیاد پر قائم کیا کہ آخر کار، سب یکساں طور پر امیر/ با اثر ہوں گے۔

مترجم کے بارے میں

Samuel Inayat
I began my professional career in July 1975 by joining a government service in scale 10 and continued till I retired in June 2013 in scale 17 after rendering 40 years unblemished service. Most of my service was as a Civil Servant.

مصنف کے بارے میں

Joshua J. Mark
ایک فری لانس لکھاری اورمارست کالج، نیو یارک کے سابقہ جزوقتی فلسفہ کے پروفیسر، جوشیا ج۔ مارک یونان اور جرمنی میں رہ چکے ہیں اور مصر کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔ انہوں نے کالج کی سطح پر تاریخ، ادب، تصنیف و تالیف اور فلسفی کی تعلیم دی ہے۔

اس کام کا حوالہ دیں

اے پی اے اسٹائل

Mark, J. J. (2025, September 17). قدیم چین. (S. Inayat, مترجم). World History Encyclopedia. https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-467/

شکاگو سٹائل

Mark, Joshua J.. "قدیم چین." ترجمہ کردہ Samuel Inayat. World History Encyclopedia, September 17, 2025. https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-467/.

ایم ایل اے سٹائل

Mark, Joshua J.. "قدیم چین." ترجمہ کردہ Samuel Inayat. World History Encyclopedia, 17 Sep 2025, https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-467/.

اشتہارات ہٹائیں