دُوسری عالمی جنگ (1939-45) کے دوران، ایٹم بم تیار کرنے کیلئے امریکہ کی زیرِ قیادت، منہٹن پروجیکٹ (Manhattan Project) ایک خُفیہ پروگرام کا کوڈ نام تھا۔ اِنتہائی مہنگا پروجیکٹ کامیاب رہا جِسمیں یورپ اور امریکہ کے ذہین ترین سائنس دانوں سے کام لیا گیا۔ ایک ہی تجربہ کے بعد، دو بم (two bombs) ایک جاپانی شہر ہیروشیما اور دوسرا ناگاساکی پر، اگست 1945 کو گِرائے گئے۔ ان بموں نے فوری طور پر تباہی پھیلائی اور بھاری جانی نقصان کیا لیکن جاپان نے ہتھیار پھینک دِئے۔ ایٹم بم نے جنگ تو جیت لی لیکن دنیا راتوں رات بدل گئی اور بعد کی نسلوں کیلئے یہ ایک مُستقل منڈلاتا ہُوا سایہ بن گیا کہ انسانیت اپنے آپ کو کیسے تباہ کر سکتی ہے۔
تابکار مادے کو قابو میں لا کر اپنے مقصد کیلئے اِستعمال کرنا
جوہری ہتھیاروں کا سفر طویل اور پیچ دار تھا، جِس میں سائنس کی دُنیا کے چند بہترین ذہنوں نے اپنا حِصہ ڈالا۔ فرانسیسی سائنسدان ہنری بیکوریل (Henri Becquerel) نے پہلی بار 1896 میں تابکار مادّہ (radioactive material) دریافت کیا۔ تابکاری کے حامل ایٹموں کی حرکی قوت (kinetic power of atoms) کا اندازہ برطانوی سائنسدانوں ارنسٹ رُتھر فورڈ (Ernest Rutherford) اور فریڈرک سوڈی (Frederick Soddy) نے 1903 میں کیے گئے تجربات میں کیا۔ یہ واضح تھا کہ تابکاری سے توانائی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ پیدا ہوتا تھا، ایک ایسی توانائی جو بھاری تابکار ایٹموں کے مرکزوں (Nuclei) کے پھٹنے (نیوکلیائی انشقاق/ فیشن) سے خارج ہوتی تھی۔ (یہ دریافت کیا گیا) کہ اگر کسی طرح اس توانائی پر قابو پا لیا جائے (یا اسے کام میں لایا جائے)، تو ایک نیا تباہ کن ہتھیار بنایا جا سکتا ہے۔ درحقیقت، 1904 میں، سوڈی (Soddy) نے برطانوی فوج کے کور آف رائل انجینئرز (British Army's Corps of Royal Engineers) سے رابطہ کیا اور اس صلاحیت کو بیان کیا۔
1920 میں برطانوی سائنسدان آرتھر ایڈنگٹن (Arthur Eddington) نے ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے یہ دریافت کیا کہ ہلکے ایٹمی مرکزوں (nuclei) کے آپس میں مِلنے سے بھی توانائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ البرٹ آئن سٹائن (Albert Einstein) کے پیش کردہ نظریات اور فرانسس ایسٹن (Francis Aston) کی تحقیق کو بنیاد بناتے ہوئے، (ہائیڈروجن و ہیلیم کے مرکزوں میں کمیت (mass) اور توانائی کا باہمی تعلق)، ایڈنگٹن نے یہ نظریہ پیش کیا کہ ہائیڈروجن کے مرکزوں سے ہیلیم کے مرکزے بننے کے عمل میں توانائی کی بہت بڑی مقدار خارج ہوگی۔ شاعرانہ انداز میں کہا جائے تو اس عمل کے ذریعے ایک ایسا بم تیار کیا جا سکتا تھا جو خلا میں موجود کسی ستارے کی طرح دھماکے سے پھٹ سکے۔
اگلا اہم قدم 1923 میں اُٹھایا گیا جب برطانوی ماہرِ طبیعیات جیمز چیڈوک (James Chadwick) نے نیوٹران کو ایٹم کے مرکزوں (نیوکلیئس) میں سرایت کر جانے کی صلاحیت کی شناخت کی۔ مزید برآں (یہ دریافت کیا گیا) کہ کچھ مرکزوں نے جب نیوٹران کو جذب کیا تو وہ تابکار (radioactive) ہو گئے اور ایسا ہونے پر چارج شدہ ذرات یا مزید نیوٹران کا اخراج ہُوا جو دیگر مرکزوں کو بھی توڑنے کا باعث بنا۔ یوں ایک سلسلہ وار ردِ عمل ( chain reaction) کا عمل وجود میں آیا، ایک ایسی دریافت جو 1924 میں ہنگری کے ماہرِ طبیعیات لیو زیلارڈ (Leo Szilard) نے کی تھی۔
اینریکو فرمی (Enrico Fermi) نے جوہری تجربے میں یہ دریافت کر کے حصہ ڈالا کہ دھات کی تابکاری بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے جب اسے نیوٹران (neutrons) سے ٹکرایا جاتا ہے جو پانی یا پیرافین (paraffin مائع پیرافین / سفید تیل) کے استعمال سے سست ہو جاتی ہے۔ فرمی (Fermi)(جو) ایک نوبل انعام یافتہ، 1938 میں فاشسٹ اٹلی سے امریکہ کے لیے فرار ہو گیا تھا، سٹاک ہوم میں نوبل تقریب سے براہ راست نیو یارک میں اُس نے نئی زندگی شروع کی۔
جب یہ بین الاقوامی سائنسدان اپنے تجربات کرنے میں مصروف تھے، تو نازی، جرمنی میں ان کے ہم عصر سائنسدان بھی آرام سے نہیں بیٹھے تھے۔ درحقیقت، اتحادیوں کے کئی ممتاز سائنسدانوں کو یقین تھا کہ جرمنی جوہری بم تیار کر رہا تھا۔ ستمبر 1939 میں آئن سٹائن اور زیلارڈ (Einstein and Szilard) نے امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ کو خط لکھ کر اسی خدشے کا اظہار کیا۔ ان سائنسدانوں کی بات درست تھی کیونکہ جرمنی واقعی 'یوران ویرین' (یورینیم سوسائٹی Uranverein Uranium Society) نامی منصوبے کے تحت اپنا جوہری بم تیار کر رہا تھا، جس کی قیادت ورنر ہائزنبرگ (Werner Heisenberg) کر رہے تھے۔
1938 میں، برلن میں کام کرنے والے اوٹو ہان اور فرٹز سٹراسمن Otto Han and Fritz Strassmann نے دریافت کیا کہ یورینیم کے مرکزوں (nuclei) پر نیوٹرانز کی بمباری سے ایک نیا عنصر 'بیریم' (barium ایٹم کی تقسیم شُدہ حالت میں ایک ذیلی پیدہ وار، یورینیم سے تقریباؐ آدھی طاقت کا حامل) وجود میں آیا۔ اسکینڈینیویا (Scandinavia) میں کام کرنے والے آسٹرین سائنسدانوں (Austrian scientists)، اوٹو فرِش اور لیز مائٹنر (Otto Frisch and Lise Meitner) نے دریافت کیا کہ یورینیم کے مرکزے عام طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں اور اس عمل کے دوران کبھی کبھار کچھ اضافی چھوٹے ذرات بھی خارج ہوتے ہیں۔ ان حصوں کا مجموعی وزن (ماس) اصل مرکزے کے وزن سے کم ہوتا ہے۔ ثابت یہ ہُوا کہ فشن (fission) کے عمل سے حاصل ہونے والی ممکنہ توانائی میں ماس اور توانائی mass and energy کا آپس میں براہِ راست تعلق تھا۔ اگلا چیلنج ایک ' قابو شُدَہ سِلسلہ وار ردِ عمل' (controlled chain reaction) پیدا کرنا تھا جو انتہائی اہم چیلنج سمجھا جانے لگا کیونکہ 1939 میں جرمنی کی جانب سے پولینڈ پر حملے کے ساتھ ہی دوسری جنگِ عظیم کا آغاز ہو چکا تھا۔
1940 تک، ڈنمارک کے نیلس بوہر Danish Niels Bohr (نوبل انعام یافتہ اور نازی یورپ سے جلاوطن ہونے والے سائنسدان) اور امریکی جان وہیلر (John Wheeler) نے یہ دریافت کیا کہ فشن (fission) کے عمل کے ذریعے تقسیم کیے جانے کے لیے بہترین مرکزے (nuclei) یورینیم کے آئسوٹوپ U235 کے تھے، کیونکہ یہ زیادہ عام پائے جانے والے یورینیم U238 کی نسبت کم مستحکم تھے۔ اصل چیلنج فشن کے عمل کی رفتار کو دھیما رکھنا تھا؛ بصورتِ دیگر، کوئی بھی بم مطلوبہ ہدف کے قریب پھٹنے کے بجائے فوراً ہی دھماکے سے اڑ جاتا۔ ایک اور مسئلہ مطلوبہ فشن پیدا کرنے کے لیے یورینیم کی مقدار کا تھا۔ اوٹو فرِش اور روڈولف پیئرز (Otto Frisch and Rudolph Peierls)، دونوں یہودی ماہرِ طبیعیات جو ایڈولف ہٹلر کی 'تھرڈ ریش' (نازی حکومت Adolf Hitler's Third Reich) سے فرار ہو کر آئے تھے، نے انگلینڈ کے شہر برمنگھم میں اکٹھے کام کیا اور ایک انتہائی اہم اور نیا خیال پیش کیا کہ صرف پانچ کلوگرام یورینیم سے ڈائنامائٹ کے کئی ہزار ٹن کے برابر دھماکہ خیز اثر پیدا کیا جا سکتا ہے۔ سائنسدانوں بشمول جرمنی کے سائنسدانوں، (جن کی وجہ سے وہاں اس خیال کو نظر انداز کر دیا گیا تھا)، کا عام خیال یہ تھا کہ اس مقصد کے لیے ٹنوں یورینیم کی ضرورت ہوگی۔ فرِش اور پیئرز کا اندازہ بالکل درست ثابت ہوا۔ یہ خیال برطانوی حکومت کے لیے اتنا پرکشش تھا کہ اس نے اس بات کی تحقیق کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی کہ آیا جوہری بم بنایا جا سکتا ہے یا نہیں، اور ساتھ ہی مزید تحقیق کے لیے فنڈز بھی فراہم کیے۔
برطانیہ اور امریکہ دونوں جگہوں پر ایک متوازی پیش رفت ہو رہی تھی، جہاں ہانس وان ہالبان اور لیو کووارسکی (Hans von Halban and Lew Kowarski) (جو جرمنی کے زیرِ قبضہ یورپ سے آنے والے مہاجرین تھے) جیسے سائنسدانوں نے U235 اور U238 کے نیوکلیائی ذرات (nuclei) کو ملانے کے فوائد دریافت کیے۔ اس عمل کے نتیجے میں ایک نیا عنصر 'پلوٹونیم' (plutonium) وجود میں (سامنے) آیا، جسے یورینیم کی نسبت بہت آسانی سے الگ کیا جا سکتا تھا۔ اس طریقے سے بم بنانا زیادہ عملی بھی تھا کیونکہ اس میں نایاب U235 کی بہت کم مقدار چاہئے تھی (U235 اور U238 کا تناسب تقریباً 1:140 تھا)۔ تاہم اس میں ایک پیچیدگی بھی تھی (اور وہ یہ تھی) کہ ردِعمل کے دوران U235 کے چند نیوکلیائی ذرات کا تقسیم ہونا لازمی تھا۔ اس عمل کو یقینی بنانے کے لیے 'موڈریٹر' (moderator) کہلانے والا ایک مادہ ارد گرد surrounding 'moderator' material استعمال کیا جانا تھا جو نیوٹرونز کو واپس پلٹا کر تب تک بھیجتا رہتا جب تک کہ وہ U235 کے کسی نیوکلیئس کو تقسیم نہ کر دے۔ بہترین موڈریٹنگ مواد کے طور پر گریفائٹ یا ڈیوٹیریم (بھاری پانی) کی شناخت کی گئی۔ امریکہ میں مقیم سائنسدانوں نے جو نسبتاً اطمینان اور سست رفتاری سے کام کر رہے تھے اور جنہیں حکومت کی جانب سے خاطر خواہ فنڈز بھی نہیں مل رہے تھے (کیونکہ ملک ابھی جنگ میں شامل نہیں ہوا تھا)، اپنی توجہ پلوٹونیم کے ذخیرے (جو درحقیقت گرام کے بہت چھوٹے حصوں پر مشتمل تھا) کو جمع کرنے پر مرکوز رکھی۔
امریکی فوج کی شمولیت کا آغاز
امریکہ میں مقیم سائنسدانوں کی جانب سے دسمبر 1941 میں کی گئی مشترکہ سفارش کے بعد امریکی حکومت نے ایٹمی بموں پر اپنی پہلی تحقیق کا آغاز کیا۔ ان میں سے کئی سائنسدانوں نے برطانیہ میں اپنے ساتھیوں کے کام کو ذاتی طور پر دیکھا تھا اور وہ سمجھ گئے تھے کہ بم کی تیاری کا منصوبہ تکمیل کے قریب تھا۔ یوں اگست 1942 میں 'مین ہٹن پروجیکٹ' کا آغاز ہوا۔
'مین ہٹن پروجیکٹ' کا یہ خفیہ نام (code name) دراصل 'مین ہٹن انجینئر ڈسٹرکٹ'(Manhattan Engineer District) نامی لمبی اصطلاح سے ماخوذ ہے جو نیویارک کے اس علاقے کے لیے ایک خفیہ شناخت تھی جہاں ایٹمی بم تیار کرنے پر مامور سائنسدانوں کے لیے عمارتیں مختص کی گئی تھیں۔ فوج نے اس منصوبے پر اپنی کڑی نِگرانی رکھی اور ستمبر 1942 میں ایک فوجی انجینئر، کرنل لیسلی آر گرووز Colonel Leslie R. Groves (جنہیں بعد میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی) کو اس منصوبے کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ گرووز اس سے قبل واشنگٹن میں امریکی مسلح افواج کے ہیڈ کوارٹر 'پینٹاگون' کی تعمیر کے منصوبے کے نگران کے طور پر شہرت حاصل کر چکے تھے۔ انتہائی سینئر سائنسدانوں کے علاوہ کسی بھی فرد کو اس منصوبے کی مجموعی صورتحال کا علم نہیں تھا کیونکہ حِفاظتی وجوہات کی بنا پر کام کو مختلف حصوں میں الگ الگ رکھا گیا تھا۔ بہت سے سائنسدانوں کو تو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کسی ہتھیار کی تیاری پر کام کر رہے تھے۔ یہ منصوبہ اتنا خفیہ رکھا گیا تھا کہ کانگریس کو بھی اس بارے میں مطلع نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس کی منظوری لی گئی۔
ایٹمی بم تیار کرنے والی سائنسدانوں کی بین الاقوامی ٹیم (جس میں زیادہ تر امریکی اور برطانوی سائنسدان شامل تھے، بشمول وہ جو برطانوی تحقیقی منصوبے سے یہاں منتقل کیے گئے تھے) کی سربراہی کے لیے ماہرِ طبیعیات رابرٹ اوپن ہائیمر Robert Oppenheimer (1904-1967)) کا انتخاب کیا گیا۔ اوپن ہائیمر جو تحقیق اور تدریس دونوں شعبوں میں معروف اور اچھی شہرت رکھتے تھے، شخصیت کے اعتبار سے کچھ منفرد اور عجیب بھی تھے۔ سوانح نگار ایم ایم بوٹنر (M. M. Boatner) نے انہیں "کمزور جسامت کے حامل، شدید جذباتی اور دنیا داری سے بے نیاز" شخص قرار دیا، جن کا رویہ "ان لوگوں کے ساتھ سرد مہری اور تلخی پر مبنی ہوتا تھا جن کا وہ احترام نہیں کرتے تھے" (404)۔ کم از کم اِس شعبے کیلئے وہ کم عُمر تھے اور ان کی تقرری پر کئی دیگر اہم سائنسدانوں نے اعتراض بھی کیا تھا۔ مزید برآں، ایف بی آئی (FBI) کے پاس اوپن ہائیمر کے بائیں بازو کی تنظیموں کے ساتھ ابتدائی روابط کے بارے میں ایک فائل موجود تھی جو امریکی حکومتی اداروں کی شدید تشویش یا "شکوک و شبہات میں گھرے رہنے" (paranoia) کے رجحان کی عکاسی کرتی تھی جو سوویت یونین (USSR) کے ایجنٹوں کی جانب سے جاسوسی کے خطرے کے پیشِ نظر پیدا ہوا تھا۔ اس کے باوجود، گرووز (Groves) مین ہٹن پروجیکٹ کے لیے ٹیم لیڈر کے طور پر اوپن ہائیمر کی تقرری کے فیصلے پر ڈٹے رہے۔
اوپن ہائیمر نے بم کی تیاری اور اس کی آزمائش کیلئے نیو میکسیکو میں واقع 'لاس الاموس' (Los Alamos) کے مقام کا انتخاب کیا۔ اس کے علاوہ تحقیق کے دو اور مراکز بھی تھے: ایک ٹینیسی میں 'اوک رج' (Oak Ridge) کے مقام پر اور دوسرا واشنگٹن ریاست میں 'ہینفورڈ' (Hanford) کے مقام پر۔ بالآخر، پورے امریکہ میں پھیلے ہوئے کارخانے اور تحقیقی مراکز اس بم کی تیاری کی دوڑ میں شامل ہو گئے جسے خفیہ طور پر "S-1 بم" کا نام دیا گیا تھا۔ مین ہٹن پروجیکٹ میں ایک لاکھ سے زائد افراد شامل ہوئے اور اس پر تقریباً 2.5 ارب ڈالر کی لاگت آئی (Moskin, 281)۔
بم کا آزمائشی تجربہ
بم کو عملی بنانے کیلئے اب بھی ایک مسئلہ درپیش تھا کہ انشقاق ردعمل (fission reaction) کو قابو میں رکھنا ضروری تھا۔ زیلارڈ (Szilard)، جو 1933 میں نازی جرمنی سے فرار ہو گئے تھے، نے پہلا نیوکلیئر سِلسلہ وار ردِ عمل (nuclear chain reaction) دریافت کیا جِسکا تجربہ دسمبر 1942 میں شکاگو میں فرمی (Fermi) کے ساتھ مل کر کیا گیا تھا۔ پلوٹونیم کے ذریعے ہونے والے دھماکے کو قابو کرنے کا حل نسبتاً سادہ ثابت ہوا۔ اس کا طریقہ یہ تھا کہ پلوٹونیم کی مقدار کے دونوں اطراف یا اس کے چاروں طرف روایتی دھماکہ خیز مواد استعمال کیا جائے، جو اسے دبائے رکھے (compress کرے)، جس سے اس کی کثافت اور فشن کی رفتار میں اضافہ ہو جائے۔ اس قسم کے دھماکے کا تجربہ، جسے 'ٹرینیٹی' (Trinity) کا خفیہ نام دیا گیا تھا، 16 جولائی 1945 کو نیو میکسیکو میں ایلاموگورڈو (Alamogordo) کے قریب صحرا کے ایک ویران مقام پر کیا گیا۔
ٹرینیٹی تجربے (Trinity test) کے دوران ہونے والا دھماکہ، 18,600 ٹن ٹی این ٹی (TNT) کے برابر تھا، جِس نے ایک میل کے دائرے میں موجود تمام نباتاتی اور حیوانی زندگی کو تباہ کر دیا۔ دھماکے کی لہر (shockwave) اتنی شدید تھی کہ اس نے 200 میل (322 کلومیٹر) دور واقع عمارتوں کی کھڑکیاں بھی توڑ دیں۔ یہ دھماکہ سائنسدانوں کی توقع سے دس گنا زیادہ طاقتور تھا۔ اس ایک ہی لمحے میں نہ صرف جنگ بلکہ پوری دنیا کی تقدیر بدل گئی تھی۔ اوپن ہائمر کو ہندوؤں کی مقدس کتاب 'بھگوت گیتا' کا وہ جملہ یاد آیا: "اب میں موت بن چکا ہوں، جہانوں کو تباہ کرنے والا" (مارسٹن، 292)۔
یورینیم بم کے لیے ایک مختلف حل چاہئے تھا۔ حل یہ نکالا گیا کہ 'کریٹیکل ماس' (critical mass) کو ضرورت کیمُطابق دو الگ الگ حصوں میں رکھا جائے۔ دھماکہ پیدا کرنے کے لیے ایک حصے کو دوسرے حصے کی طرف تیزی سے داغا جائے۔ یہی وہ طریقہ تھا جو 'لٹل بوائے' (Little Boy) نامی یورینیم بم میں استعمال کیا گیا تھا، جسے 6 اگست 1945 کو بوئنگ بی-29 سپر فورٹریس 'اینولا گے' (Enola Gay) طیارے کے ذریعے جاپانی شہر ہیروشیما پر گرایا گیا تھا۔ درحقیقت، یہ آپریشن بھی ایک آزمائشی دھماکہ ہی تھا۔ پلوٹونیم بم کی قسم، جسے 'فیٹ مین' (Fat Man) کا نام دیا گیا تھا، اسے تین دن بعد 9 اگست 1945 کو بی-29 طیارے 'بوکس کار' (Bockscar) کے ذریعے ناگاساکی پر گرایا گیا۔
دونوں بم پیراشوٹ کے ذریعے گرائے گئے تاکہ زمین سے تقریباً 1,625 فٹ (500 میٹر) کی بلندی پر پھٹ سکیں۔ آنجہانی صدر روزویلٹ کے نام سے منسوب 'لٹل بوائے' (Little Boy) کی لمبائی 9 فٹ 9 انچ (3 میٹر) اور وزن تقریباً 8,000 پاؤنڈ (3,600 کلوگرام) تھا اور اس کی تباہ کن قوت 12.5 کلوٹن ٹی این ٹی (TNT) کے برابر تھی۔ 'اینولا گے' (Enola Gay) کے ساتھ پرواز کرنے والے ایک دوسرے طیارے میں موجود برطانوی مبصر، جیفری لیونارڈ چیشائر Geoffrey Leonard Cheshire نے اس کے اثرات کو یوں بیان کیا:
اس چمک نے پائلٹ کے کیبن (cockpit) کو روشن کر دیا اور جس لمحے میں نے اسے پہلی بار دیکھا، یہ آگ کے گولے کی طرح تھا، جو تیزی سے مدھم پڑ گئی اور جِس نے ایک متلاطم، ابلتے اور بلبلے چھوڑتے ہوئے بادل کی شکل اختیار کر لی۔ یہ مسلسل پھیلتا اور تیزی سے اوپر کی جانب بڑھتا جا رہا تھا۔ میرا اندازہ ہے کہ 2 یا 3 منٹ کے اندر ہی یہ 60,000 فٹ کی بلندی پر پہنچ چکا تھا۔ (امپیریل وار میوزیمز)
برطانیہ کے جسیم جسامت والے وزیرِ اعظم ونسٹن چرچل کے نام سے منسوب 'فیٹ مین' (Fat Man) کی لمبائی 11 فٹ 4 انچ (3.5 میٹر) اور وزن 9,000 پاؤنڈ (4,000 کلوگرام) سے زائد تھا، اور اس کی تباہ کن قوت 22 کلوٹن ٹی این ٹی (TNT) کے برابر تھی۔
جاپان پر دو ایٹم بم گرانے کا فیصلہ امریکہ کے نئے صدر ہیری ٹرومین نے چرچل کی مکمل رضامندی سے کیا اور یہ طے پایا کہ حملے کے نفسیاتی اثر کو بڑھانے کے لیے کوئی پیشگی اِطلاح نہیں دی جائے گی۔ اسی وجہ سے ایسے اہداف کا انتخاب کیا گیا جو اتحادیوں کی روایتی بمباری مہم سے نسبتاً محفوظ رہے تھے۔ امید یہ تھی کہ ایک ایسا ہولناک نیا ہتھیار جاپان کی فوجی حکومت کو فوری ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دے گا۔
بحر الکاہل کی جنگ کے دوران ، امریکی اور اتحادی افواج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا کیونکہ وہ بحر الکاہل کے ان تمام جزیروں پر قبضہ کر رہے تھے جن پر جاپانی افواج قابض تھیں اور آخری سپاہی تک ان کا دفاع کر رہی تھیں۔ اپریل، مئی اور جون 1945 میں اوکیناوا (Okinawa) کی لڑائی میں تقریباً 100,000 جاپانی جنگجو، 150,000 تک عام شہری اور تقریباً 12,000 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ امید کی جا رہی تھی کہ ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرائے جانے والے دو بموں کے نتیجے میں جاپان ہتھیار ڈال دے گا، جس سے جاپان کے مرکزی جزیروں پر ایک انتہائی خطرناک بحری و زمینی مشترکہ حملے (amphibious operation زمینی اور سمُندری) کی ضرورت نہیں پڑے گی، ایک ایسا آپریشن جس کی کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں تھی۔ اگر یہ آپریشن کامیاب بھی ہو جاتا، تب بھی اگر اوکیناوا والا 35 فیصد جانی نقصان کا تناسب دہرایا جاتا، تو پینٹاگون کے اندازے کے مطابق اس آپریشن میں کم از کم پانچ لاکھ امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہو سکتے تھے۔ بالآخر، دو بم گرانے کا مقصد حاصل کر لیا گیا۔ شہنشاہ ہیروہیتو (Hirohito) نے 15 اگست کو ہتھیار ڈالنے کے معاہدے پر دستخط کرنے پر اپنی رضامندی کا اعلان کر دیا۔ ایٹم بم نے جنگ جیت لی تھی۔
نتائج: ایک نئی بہادر دنیا
طبیعیات کے ذہین ترین اس مسئلے کو حل کرنے میں مصروف تھے کہ ایٹمی بم کو بہترین طریقے سے (محفوظ انداز میں) کیسے تیار کیا جائے۔ بہت کم لوگوں نے اس بات پر غور کیا تھا کہ حقیقت میں اس کے اثرات کیا ہو سکتے تھے۔ ظاہر ہے کہ بم کے فوری اثرات کا سامنا ہیروشیما اور ناگاساکی کے عوام کو کرنا پڑا۔
بم کے دھماکوں سے ایک تیز چمک اور گرج پیدا ہوئی اور پھر 6,000 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت والے آگ کے ایک دیوہیکل گولے نے ہر چیز اور ہر شخص کو بھاپ بنا کر اڑا دیا۔ دھماکوں کے مرکزِ سے کچھ فاصلے پر، دھماکوں کے اثر سے لوگوں کی جلد فوراً جھلس گئی، اور صدمے یا دباؤ کی لہر نے، جو ایک شدید طوفانِ باد و باراں کی طرح تھی، ایک سیکنڈ تک برقرار رہی۔ اِس نےکپڑے پھاڑ دیے اور عمارتوں کو زمین بوس کر دیا۔ ریل گاڑیاں (Trams) ہوا میں اچھل گئیں، درخت فوراً جل کر کوئلہ ہو گئے اور شہر بھر میں آگ پھیل گئی جبکہ ملبے اور گرد و غبار کا ایک بادل ہر چیز پر چھا گیا اور کئی میل بلندی تک فضا میں بلند ہوا۔
اگرچہ اندازے مختلف ہیں، لیکن ہیروشیما پر ہونے والے حملے میں غالباً 140,000 افراد ہلاک ہوئے، جس میں شہر کا 5 مربع میل (13 مربع کلومیٹر) سے زائد رقبہ راکھ کا ڈھیر بن گیا۔ ناگاساکی میں، بم نے تقریباً 74,000 افراد کی جان لی اور مزید 75,000 کو زخمی کر دیا، جہاں شہر کا تقریباً 2.6 مربع میل (6.7 مربع کلومیٹر) رقبہ بھی راکھ میں تبدیل ہو گیا۔ ایٹمی بم کے دونوں حملوں میں، بچ جانے والے ہزاروں افراد کو آنے والے ہفتوں، مہینوں اور سالوں میں تابکاری (radiation) کے منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑا۔ بے شق، ابتدائی دھماکے کے مقابلے میں اس طرح مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی۔
اوپن ہائمر کو بم پر کیے گئے کام کے لیے 'صدارتی تمغہ لیاقت' (Medal of Merit) سے نوازا گیا لیکن اُس نے خُود اور کئی دیگر ممتاز سائنسدانوں نے ہتھیاروں کے لیے 'نیوکلیئر فشن' (جوہری انشقاق) کے استعمال پر احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ ایسے ہتھیاروں کا کنٹرول کسی بین الاقوامی ادارے کے سپرد کیا جائے۔ اس موقف کی وجہ سے اوپن ہائمر کی سیکیورٹی کلیئرنس منسوخ کر دی گئی، ایک ایسا اقدام جس نے مؤثر طریقے سے انہیں اس شعبے میں جدید ترین تحقیق اور کام کرنے سے روک دیا۔ زیلارڈ (Szilard) نے تو اوپن ہائمر سے بھی آگے بڑھ کر جوہری ہتھیاروں پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا۔ لیکن اب، وکٹر فرینکنسٹائن (ایک کردار) کے بے ڈھنگے اور دیوہیکل عفریت کی طرح، سائنس کا اختیار سائنسدانوں کے ہاتھوں سے نکل چکا تھا۔
گرائے جانے والے دو بموں نے سوویت یونین پر یہ واضح کر دیا کہ اب امریکہ کے پاس زمین پر سب سے طاقتور ہتھیار موجود ہے۔ یہ دو عسکری طاقتیں پہلے ہی اس کشمکش میں مبتلا تھیں کہ شکست خوردہ طاقتوں کے زیرِ قبضہ علاقوں پر کس کا کنٹرول ہوگا؟۔ درحقیقت، بم گرانا اور اس کے نتیجے میں امریکہ اور سوویت تعلقات پر پڑنے والا اثر اس پورے منصوبے کا ایک بنیادی مقصد تھا، اگرچہ اتحادی فوجیوں کی جانیں بچانا اس کا ظاہری جواز پیش کیا گیا تھا۔ جیسا کہ مین ہٹن پروجیکٹ کے سربراہ جنرل گرووز نے نشاندہی کی:
اس منصوبے کا چارج سنبھالنے کے تقریباً دو ہفتوں بعد ہی مجھے اس بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں رہی تھی کہ روس ہمارا دشمن ہے اور یہ منصوبہ اسی بنیاد پر چلایا گیا۔ (Dear, 57)
سوویت یونین جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت کو سمجھنے میں کچھ سست روی کا شکار رہا اور مئی 1942 تک اس نے سنجیدہ تحقیق شروع نہیں کی۔ بہرحال، سوویت حکومت نے مغرب میں پروان چڑھنے والے خیالات کو چوری کرنے کے لیے جاسوسی میں سرمایہ کاری کرنے کو ترجیح دی۔ لہاذہ لاس الاموس (Los Alamos) میں کام کرنے والے ایلن نن مے (Allan Nunn May) اور کلاؤس فوکس (Klaus Fuchs)(سوویت کیلئے جاسوسی کرنے والے جاسوس) جیسے جاسوسوں کی بدولت اس حکمت عملی کا فائدہ جنگ کے بعد اس وقت حاصل ہُوا جب ان کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ترقی کر گیا۔
اس دوران، امریکہ میں سائنسدانوں نے اس سے بھی زیادہ طاقتور بم، یعنی ہائیڈروجن بم بنانے کے تجربات جاری رکھے، جس کا پہلا تجربہ 1952 میں مارشل جزائر (Marshall Islands) میں کیا گیا۔ جوہری ہتھیاروں کا سِلسلہ جاری رہا جِس نے مشرق اور مغرب کے درمیان طویل عرصے تک جاری رہنے والی اس تقسیم میں اہم کردار ادا کیا جسے 'سرد جنگ' (Cold War) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آج بھی مستقل خدشہ موجود ہے کہ مستقبل کے کسی تنازعے میں تباہ کن جوہری ہتھیار دوبارہ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
