پولُس یسوع مسیح کا پیروکار تھا جیسا کہ عام طور پر مشہور ہے کہ اُس نے دمِشق جانے والے راستے پر مسیحت کو قبول کیا، اُسی گروہ کے پیروکاروں پر ظلم و ستم ڈھانے کیبعد، جِن میں وہ شامِل ہو گیا۔ تاہم، جیسا کہ ہم دیکھیں گے، پولس کے بارے میں یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ وہ ایک مذہب کے بانیوں میں سے ایک تھا، نہ کہ محض مذہب کو اختیار کرنے والا کوئی عام شخص۔ ماہرینِ علمِ الٰہیات، عہد نامہ جدید' (New Testament) کی سات کتابوں کو پولُس سے منسوب کرتے ہیں؛ وہ ایشیائے کوچک (Asia Minor) اور موجودہ دور کے یونان کے وسیع علاقوں میں ایک بااثر استاد اور مبلغ کی حیثیت سے سرگرمِ عمل رہا۔
مسیحت کے بانی
پِچھلی صدی میں، علماء نے پولُس کو اُس مذہبی تحریک کے اصل بانی کے طور پر سراہا جو بعد میں مسیحیت بن گیا۔ پولُس ایک جلاوطن یہودی اور فریسیوں کی جماعت کا رکن تھا جسے یسوع کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے مُکاشفہ کا تجربہ ہُوا۔ اس تجربے کے بعد، اس نے مشرقی رومی سلطنت میں وسیع پیمانے پر سفر کیا اور اس "خوشخبری" (good news) کو پھیلایا کہ یسوع جلد ہی آسمان سے واپس آئے گا اور خدا کی ("بادشاہی") کا آغاز کرے گا۔ پولُس کوئی نیا مذہب قائم نہیں کر رہا تھا، اُس کا خیال تھا کہ اُ س وقت کی نسل دُنیا کے آخر سے پہلے کی تھی جب یہ زمانہ بدل جائے گا۔ تاہم، جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اور یسوع واپس نہیں آیا تو پھِر دوسری صدی کے آبائے کلیسیا (Church Fathers) نے پولُس کی تحریروں کی طرف رجوع کیا تاکہ اس بات کی توثیق کی جا سکے کہ آخر مسیحی عقیدہ کیا ہوگا۔ اس طرح، پولُس کو مسیحت کے بانی کے طور پر یہودیت کے علاوہ ایک الگ مذہب کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
مسیحی روایت میں، وہ ترسس کا پولُس جانا جاتا ہے کیونکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں لُوقا رسُول کہتا ہے کہ وہ پیدا ہُوا تھا (اعمال 9:11)۔ اس وقت، ترسس صوبہ سلیشیا (Cilicia) میں واقع تھا، جو اب جدید ترکی ہے۔ تاہم، پولُس خود اشارہ کرتا ہے کہ وہ دمِشق کے عِلاقے سے تعلق رکھتا تھا جو شام میں تھا (گلتیوں کو لِکھے خط میں دیکھیں)۔ لُوقا رسُول نے پولُس کی زندگی کے بارے میں بہت سی معیاری باتیں لِکھی ہیں لیکن ان میں سے زیادہ تر اُن کے مُطابق نہیں ہیں جو پولُس خود اپنے خطوط میں ظاہر کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، لُوقا کا دعویٰ ہے کہ پولُس یروشلم میں پلا بڑھا، بہت سے ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں پڑھا، جنہیں یہودیت کے پہلے ربی (Rabbis) سمجھا جاتا تھا اور بعد میں وہ مجلسِ شوریٰ یا سنہیڈرن (Sanhedrin) کے رکن بن گئے۔ پولُس خود کہتا ہے کہ وہ صرف دو بار یروشلم گیا جہاں اِس کا قیام چند دن تھا۔
ایک طرف، لُوقا کا پولُس کی پیشکش میں ایک واضح مقصد ہے جو کسی ایسے شخص کے طور پر ہے جو یروشلم کے کسی بھِی حکم کی دِل سے اطاعت کرتا ہے، ان سے مسلسل مشورہ کرتا ہے کہ اُسے اپنا "مشن" (mission) کیسے پُورا کرنا ہے۔ دوسری طرف، پولُس کا بھِی ایک مقصد ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ کسی انسان نے اسے نہیں بتایا کہ اسے کیا کرنا ہے، یہ مُردوں میں سے جی اُٹھا مسیح ہی تھا جِس نے اُسے منصوبہ بندی دی کہ اُسے کیا کرنا ہے (دیکھیں گلتیوں) اور اس لیے وہ اپنی مجموعی سرگرمیوں میں یروشلم کے کسی بھی اثر کو مستقل طور پر مسترد کرتا ہے۔ حتمی تجزیے میں، جب بات پولُس کے مقصد اور اِسکے کاموں کے بارے میں ہو تو یہ بہتر ہو گا کہ پولُس کے خطوط کو تاریخی اعتبار سےلُوقا کے نُقطہِ نظر سے دیکھا جائے۔
پولُس رسُول کے کام
روایتی طور پر، نئے عہد نامے میں،14 خطوط پولُس رسُول کیساتھ منسوب ہیں لیکن اب علمی اتفاق رائے یہ ہے کہ اِن میں سے سات اصل میں پولُس کے لکھے ہوئے تھے (جو مندرجہ ذیل ہیں):
- تھسلنیکیوں کے نام پہلا خط
- گلتیوں کے نام خط
- فلیمون کے نام خط
- فلِپیوں کے نام خط
- کرنتھیوں کے نام پہلا اور دُوسرا خط
- رومیوں کے نام خط
دوسرے خطوط غالباً پولُس کے کسی شاگرد (شاِگِردوں) نے اُسی کا اِختیار ظاہر کرنے کیلئے اُس کا نام اِستعمال کر کے لِکھے۔ ہم ان خطوط کو حالات کے لحاظ سے سمجھتے ہیں، یہ معنی لیتے ہُوئے کہ ان کا مقصد کبھی بھی منظم الہیات یا مسیحت پر مقالے کے طور پر نہیں تھا۔ دوسرے لفظوں میں، خطوط مختلف برادریوں میں پیدا ہونے والے مسائل کے جوابات تھے۔ یہ خطوط مسیحی نظریہ کو سامنے رکھتے ہُوئے عالمی احکامات کے طور پر نہیں لِکھے گئے تھے بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ اہمیت اور معنویت اختیار کرتے گئے تھے.
پولُس کی تبدیلی
پولُس ایک فریسی تھا، اور دعویٰ کرتا ہے کہ جب ’’شریعت‘‘ (the Law) کی بات آئی تو وہ زیادہ پرجوش تھا اور شریعت کے بارے میں کسی اور سے زیادہ جانتا تھا۔ اس کے خطوط میں زیادہ تر زیر بحث جِس قانون کا ذِکر کیا گیا ہے وہ موسیٰ کا قانون تھا۔ وہ بنیامین کے قبیلے سے تھا (اور اس طرح لُوقا پہلے کا نام ساؤل استعمال کر سکتا تھا، جو کافی مشہور بنیامینی نام ہے؛ نام کی تبدیلی اکثر ایک شخص کے نقطہ نظر کی تبدیلی کے ساتھ ہوتی ہے جیسے ابرام سے ابراہام، یعقوب سے اسرائیل، شمعون سے پطرس، وغیرہ)۔ وہ تاریخ کا سب سے مشہور مذہب تبدیل کرنے والا بھی بن گیا ہے۔ دمشق کی سڑک پر اندھا ہو جانا اچانک روشن خیالی (آگہی) اور تبدیلی کا استعارہ بن گیا ہے۔
تاہم، اُسکے لئے اِستعمال کیا جانے والا لفظ 'تبدیلی' (convert) درست اصطلاح نہیں ہے۔ تبدیلی ایک عقیدے سے دوسرے عقیدے میں جانا فرض کرتی ہے۔ اس تصور کے ساتھ دو مندرجہ ذیل اہم باتیں پولُس پر پُوری اُترتی ہیں:
- اُس وقت، اس کے لیے مذہب تبدیل کرنے کے لیے بنیادی طور پر کوئی مسیحی مذہب نہیں تھا۔
- پولُس خود مبہم ہے جب یہ سمجھنے کی بات آتی ہے کہ اس نے اپنے آپ کو کیا سمجھا ہوگا۔
جب وہ یہ کہتا ہے کہ "جب میں غیر یہودیوں کے درمیان ہوتا تو غیر یہودی بن کر رہتا، اور جب یہودیوں کے درمیان ہوتا تو یہودی بن کر رہتا؛ میں ہر طرح کے لوگوں کے لیے سب کچھ بن گیا،" تو اس سے ہمیں مسئلے کو حل کرنے میں کوئی خاص مدد نہیں ملتی۔ پولس کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے بارے میں بات کرتے ہوئے، غالباً یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ انہیں قدیم اسرائیل کے انبیاء کی طرح خدا کی طرف سے بلاوا ملا تھا۔
گلتیوں کو لِکھے گئے خط میں، پولس نے کہا ہے کہ انہیں جی اُٹھے یسوع کی رویا مِلی جس میں یسوع نے اُسے غیر اقوام کیلئے رسُول مُقرر کیا۔ پولس کے لیے اختیار (authority) کے حوالے سے یہ بات انتہائی اہم تھی۔ سب جانتے تھے کہ وہ کبھی بھی یسوع کے قریبی اور خاص شاگردوں کے حلقے (inner circle) کا حصہ نہیں رہا تھا، لہٰذا براہِ راست یسوع کی طرف سے ملنے والا حکم ہی وہ ذریعہ تھا جس کے ذریعے پولس یہ دلیل دیتا تھا کہ انہیں بھی اتنا ہی اختیار حاصل تھا جتنا کہ ابتدائی رسولوں کو تھا۔ جب ہم پولس کے 'موسوی شریعتِ' کے بارے میں ان کے نظریات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ پہلو انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کہ اُنکے تبلیغی دائرہ کار کو اُنکے نظریات کے تناظر میں دیکھا جائے۔
غیر اقوام کے لیے رسُول بننے کی خاطر پولُس کا چناؤ ایک حیران کن بات تھی جیسا کہ وہ خود برملا تسلیم کرتا ہے کہ اس سے قبل وہ کلیسیا پر ظلم و ستم ڈھاتا رہا تھا۔ یہ کتنا وزن دار اور معنی خیز جملہ ہے! اکثر ماہرینِ الہیات اس بات کے مفہوم پر متفق نہیں ہو پاتے۔ پہلا مسئلہ لفظ 'persecuted' (زیرِ ظلم و ستم) کے ساتھ ہے۔ یونانی زبان میں اس کا مطلب زبانی فقرے کسنے یا انڈے پھینکنے سے لے کر جسمانی تشدد تک کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اُس نے کبھی اس کی وضاحت نہیں کی، اور نہ ہی اس کی کوئی وجہ بتائی کہ اُس نے ایسا کیوں کیا۔ لوقا کا کہنا ہے کہ وہ غالباؐ 'سنیڈرن' (یہودی مجلسِ شوریٰ) میں مسیحیوں کو سزائے موت دینے کے حق میں اپنی رائے دیا کرتا تھا اور پھر اُس نے دمشق (جہاں اُسے الہامی رویا مِلی تھی) میں مسیحیوں کو گرفتار کرنے کے لیے سردار کاہن سے (شرعی طور پر) اِجازت حاصِل کی تھی۔ لوقا کی یہ بات مبالغہ آرائی پر مبنی لگتی ہے کیونکہ اس وقت کے سردار کاہن کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں تھا، خاص طور پر کسی دوسرے صوبے میں۔
پولُس بطورِ ستم گر
غالباً پولس نے وہی سزا دوسروں کو دی جو اسے خود ملی تھی—یعنی 39 کوڑے، جو عبادت گاہ (synagogue) میں تادیبی کارروائی کی ایک قسم تھی۔ لیکن اس سے مزید سوالات جنم لیتے ہیں۔ عبادت گاہ کی کونسلوں کو اختیار صرف اسی صورت میں حاصل ہوتا تھا جب برادری کے لوگ متفق ہوں۔ دوسرے لفظوں میں، پولُس اس عمل سے کنارہ کش ہو سکتا تھا، مگر اس نے ایسا نہیں کیا—کیا اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اب بھی (تبدیلی کے بعد) خود کو یہودی ہی سمجھتا تھا؟ اور پھر، اسے کوڑے کس جرم میں مارے گئے؟ مسیحی ایسی کیا باتیں کر رہے تھے جس کی وجہ سے تادیبی کارروائی کی نوبت آئی؟ صدیوں کے دوران اس حوالے سے کئی نظریات پیش کیے گئے ہیں:
- مسیحی موسیٰ کی شریعتِ کے خلاف تعلیم دیتے تھے۔ غیر اقوام (gentiles) کے معاملے میں تو یہ بات درست ہے، لیکن اُن سے کبھی یہ توقع نہیں کی گئی تھی کہ وہ اس قِسم کی شریعت کی پیروی کریں۔
- مسیحی 'مسیحا' کے ظہور کے پیشِ نظر لوگوں کو ابھار رہے تھے۔ یہ وہ دہائیاں تھیں جب یہودیوں کی بغاوت (Jewish Revolt) زور پکڑ رہی تھی۔ کیا عبادت گاہ کے حکام ایسی تبلیغ کو روم کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں اپنی برادری کے امن کے لیے خطرہ سمجھتے تھے؟
- مسیحی اور یہودی اُن غیر اقوام کو اپنے گروہ میں شامل کرنے کے لیے سخت مقابلے میں تھے جو عبادت گاہوں میں آیا جایا کرتے تھے اور یہودی مسیحیوں کو اپنے حلقہِ کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔ یہ نظریہ سراسر غلط ہے کیونکہ یہودیت کوئی تبلیغی مذہب نہیں تھا۔
- پولُس کی تحریروں میں، یوحنا کی طرح، مسیح کے بارے میں اعلیٰ ترین تصورات (High Christology) ملتے ہیں۔ آسمان پر یسوع کو دیکھنے کے تجربے کا مطلب یہ تھا کہ یسوع اس کے لیے ایک لحاظ سے پہلے ہی خدائی درجے پر فائز ہو چکا تھا۔ اس نے یسوع کی پرستش کی وکالت کی، جو غالباً یہودیوں اور مسیحیوں کے درمیان علیحدگی کا اہم موڑ ثابت ہوا۔ وہ فلپیوں کے نام اپنے خط میں ایک ایسی خواہش کا اعادہ کرتا ہے جو اسے ورثے میں ملی تھی (فلپیوں باب 2 آیت 5 سے 11 مندرجہ ذیل ہے):
5 ویسا ہی مزاج رکھّو جیسا مسیح یسوع کا بھی تھا۔
6 اس نے اگرچہ خدا کی صورت پر تھا، خدا کے برابر ہونے کو قبضہ میں رکھنے کی چیز نہ سمجھا۔
7 بلکہ اپنے آپ کو خالی کر دیا اور خادم کی صورت اختیار کی اور انسانوں کے مشابہ ہو گیا۔
8 اور انسانی شکل میں ظاہر ہو کر اپنے آپ کو پست کر دیا اور یہاں تک فرمانبردار رہا کہ موت بلکہ صلیبی موت گوارا کی۔
9 اسی واسطے خدا نے بھی اسے بہت سر بلند کیا اور اسے وہ نام بخشا جو سب ناموں سے اعلیٰ ہے۔
10 تاکہ یسوع کے نام پر ہر ایک گھٹنا جھکے، خواہ آسمانیوں کا ہو خواہ زمینیوں کا، خواہ ان کا جو زمین کے نیچے ہیں۔
11 اور خدا باپ کے جلال کے لئے ہر ایک زبان اقرار کرے کہ یسوع مسیح خداوند ہے۔
”تاکہ ہر گھٹنا جھکے“، یہ عبادت کی طرف اشارہ ہے۔ ہیلنسٹک یہودیت (Hellenistic Judaism یہودیت اور یونانی ثقافت کا مِلا جُلا رُجحان) میں بہت سی آسمانی ہستیوں اور اُن کے درجات و مراتب (جیسے کہ بڑے فرشتے، کروبی، سرافیم وغیرہ) کو شامل کر لیا گیا تھا لیکن کسی نے بھی اِن میں سے کسی ہستی کی عبادت کرنے کی وکالت نہیں کی (کیونکہ) یہ حق صرف خدا کے لیے مخصوص تھا۔ یہیں سے مسیحیوں نے اپنے بنیادی مذہب (یہودیت) سے الگ ہونے کا عمل شروع کیا۔
پولُس اور شریعت
پولُس کے نزدیک اُس کا کام غیر اقوام تک ”خوشخبری“ پہنچانا تھا۔ شریعت کے بارے میں اُس کی تقریباً تمام تحریریں اسی موضوع سے متعلق ہیں۔ اسرائیلی روایت میں موسیٰ کی شریعت کا اطلاق کبھی بھی غیر اقوام پر نہیں سمجھا جاتا تھا، لہٰذا غیر اقوام کے لیے ختنہ، خوراک کے قوانین یا سبت (آرام کے دن) کی پابندیوں کا ماننا ضروری نہیں تھا۔ یہ تینوں چیزیں مرکزی اہمیت رکھتی تھیں کیونکہ یہ ایسی جسمانی رسومات تھیں جو برادریوں کو ایک دوسرے سے الگ رکھتی تھیں، اور پولس برادریوں کے درمیان حائل رکاوٹوں کو ختم کرنا چاہتا تھا۔ پولُس اس معاملے میں بہت پختہ عزم رکھتا تھا۔ اس کی ایک وجہ غالباً اُن کا ذاتی تجربہ تھا۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ اُس نے غیر اقوام کے بپتسمہ کے وقت روح کے نزول یا فعالیت کا کوئی مظہر دیکھا ہو (جیسے کہ مختلف زبانیں بولنا، کمرے کا لرزنا، نبوت کرنا وغیرہ)، اور اسی لیے اُسے یقین ہو گیا تھا۔ اگر خدا نے غیر اقوام کو اس طرح قبولیت بخشی تھی، تو وہ بادشاہی میں کیسے شامل نہ ہو سکتے تھے؟
لیکن پولُس کو ایک مسئلہ در پیش تھا کہ وہ ایک فریسی تھا۔ قانون اس کے لیے بہت معنی رکھتا تھا۔ خدا قانون کیسے بنا سکتا تھا، اگر وہ اسے عالمی سطح پر لاگو نہ کرتا؟ یہاں وہ رُک جاتا ہے۔ وہ کبھی نہیں کہہ سکتا کہ قانون اچھا نہیں ہے، اس لیے وہ اس کا دفاع کرتا ہے لیکن ساتھ ہی (یہ بھی ہے) اس کا اطلاق غیر اقوام پر نہیں ہوتا۔ اور ایسا کرتے ہوئے، وہ بعض اوقات خود کو ایک مشکل صورتحال میں پھنسا لیتا ہے اور اسی موضوع پر صدیوں پر محیط علمی کتب اور تفاسیر (کے لیے مواد) فراہم کرتا ہے۔
گلتیوں کے نام خط میں شریعت سے متعلق اسی مسئلے کو زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ پولُس کا منصوبہ مشرقی سلطنت میں مختلف مقامات پر ایمانداروں کی جماعتیں قائم کرنا تھا تا کہ وہ خطوط کے ذریعے یا دوبارہ دورہ کر کے ان کی خیریت اور حالات سے آگاہ ہو۔ گلتیا وسطی ترکی کا ایک صوبہ تھا۔ بظاہر، پولس کے (یہاں سے) جانے کے بعد کچھ اور لوگ وہاں آئے اور اُنہوں نے مختلف انجیلی پیغام دیئے۔ پولُس اِس بات پر سخت برہم ہُواِ۔ جیسا کہ اس نے کہا، "اگر فرشتے بھی کوئی اور پیغام لائیں، تو اُس (مسیح) کی انجیل کے سوا کوئی اور انجیل نہیں ہے۔" مختلف پیغامات میں ختنہ، خوراک سے متعلق قوانین اور سبت (آرام کے دن) کی پابندیوں کی وکالت کی گئی تھی—یعنی وہی چیزیں جن کے خلاف پولس نے جدوجہد کی تھی۔ چنانچہ، اس نے ان جماعتوں کے لیے اس معاملے پر اپنی تعلیم کا اعادہ کیا۔
کلامِ مقدس کی طرف رجوع کرتے ہوئے، اسے اپنی دلیل کی بنیاد پیدائش 12 میں اِبراہام کو بلائے جانے کے واقعے میں ملی۔ قوموں کا باپ اور وعدہ—دونوں ہی کی بنیاد پر پولس نے یہ دعویٰ کیا کہ غیر یہودی (gentiles) بھی اس ابتدائی عہد میں شامل تھے (یونانی لفظ 'ایتھنوس' [ethnos]، جس کا ترجمہ 'قوموں' کے طور پر کیا جاتا ہے، اسی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ لیکن پھر خدا نے موسیٰ کی شریعت کیوں دی، جو اس شمولیت کو محدود کرتی ہے؟ پولس نے دلیل دی کہ شریعت نے ایک 'پیڈاگوگس' (pedagogus) کا کردار ادا کیا۔ 'پیڈاگوگس کی' ایک اتالیق یا استاد کی حثیت تھی—اکثر ایک غلام—جو کم عمر لڑکوں کی سکول جانے میں راہنُمائی کرتا تھا اور گھر پر بھی انہیں تعلیم دیتا تھا۔ دوسرے الفاظ میں، شریعت نے گناہ کی تعریف کرنے والے ایک رہنما کا کام کیا؛ کیونکہ اگر ہمیں یہ معلوم نہ ہوتا کہ گناہ کیا ہے، تو ہم انتخاب کیسے کر سکتے تھے؟ لیکن اب مسیح ہی "شریعت کا ٹیلوس" (telos of the Law) ہے۔ کچھ بائبل تراجم میں اس کا مطلب "شریعت کا خاتمہ" (the end of the Law) لیا گیا ہے، لیکن زیادہ درست مفہوم "شریعت کا مقصد" ہے۔
کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ مسیح کے یہودی پیروکاروں کو اب شریعت کی پیروی کرنے کی ضرورت نہیں تھی؟ ہرگز نہیں—اگر آپ شریعت کے تحت پیدا ہوئے ہیں، تو آپ پر اس کی پیروی کرنا لازم ہے۔
صدیوں تک پولس کی تعلیمات کا خلاصہ اس جملے میں کیا جاتا رہا کہ "غیر اقوام کے لیے شریعت سے آزاد مشن" (the law-free mission to the gentiles)، لیکن درحقیقت یہ ایک غلط اصطلاح ہے جس کی وجہ سے پولس کی فکر کے بارے میں کئی غلط نتائج اخذ کیے گئے۔ اس کے غیر یہودی پیروکار ختنہ، کھانے پینے کے قوانین اور سبت (Sabbath) کے ضوابط کی پابندی سے تو آزاد تھے لیکن وہ کلی طور پر شریعت سے آزاد نہیں تھے۔ ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہ سوچیں کہ پولُس نے اپنے غیر یہودی پیروکاروں کو بت پرستی یا کسی بھی دوسرے مشرکانہ رواج پر قائم رہنے کی اجازت دی؛ اس نے اپنی برادریوں میں یہودی اخلاقی اور فلاحی تصورات کو شامل کیا۔ اپنی کتاب "پولُس" (Paul) میں، ای پی سینڈرز (E. P. Sanders) شریعت کے بارے میں پولُس کے نظریات کا مطالعہ کرنے کے لیے جدید سماجی و سائنسی طریقوں کا استعمال کرتے ہیں اور اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ وہ مذہب کے ایک ایسے نمونے (pattern) کی پیروی کرتے ہیں جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کوئی شخص مذہب میں کیسے داخل ہوتا ہے اور اس میں کیسے قائم رہتا ہے۔ پولُس کے نزدیک، غیر یہودی شریعت کی پیروی کر کے مذہب میں داخل نہیں ہوتے لیکن ایک بار شامل ہو جانے کے بعد، وہ شریعت (یا اس کی پولُس والی تشریح) کی پیروی کرتے ہیں۔
پولُس کا ایک اور جملہ صدیوں تک کی جانے والی تشریحات کی بنیاد بنا، جس کا حتمی نتیجہ مارٹن لوتھر کی روم کے کلیسیا سے علیحدگی کی صورت میں نکلا۔ پولس کا دعویٰ تھا کہ غیر اقوام کی نجات محض ایمان کے ذریعے ہوتی ہے، نہ کہ شریعت کے اعمال کے ذریعے۔ "شریعت کے اعمال" سے اس کی مراد وہ رسمی رکاوٹیں تھیں جو مختلف برادریوں کے درمیان حائل تھیں، جیسے ختنہ، کھانے پینے کے قوانین وغیرہ۔ لیکن صدیوں تک اسے یہودیت اور مسیحیت کے درمیان ایک بڑی تفریق کے طور پر سمجھا جاتا رہا۔ اس کے خطوط کا بغور مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ پولس دراصل خود یہودیت کے خلاف نہیں کھڑا تھا بلکہ ان دیگر مسیحیوں کے خلاف تھا جن کا ماننا تھا کہ غیر اقوام کو برادری میں شامل ہونے سے پہلے یہودی بننا ضروری ہے۔ یہ دیگر مسیحی کون تھے؟ ہمارا خیال ہے کہ وہ غالباً غیر یہودی مسیحی ہی تھے، نہ کہ یہودی۔ تو پھر غیر یہودی مسیحی، ختنہ کی حمایت کیوں کرتے؟
پولُس کا کہنا ہے کہ تبلیغی میدان میں کئی سال گزارنے کے بعد، وہ غیر اقوام (gentiles) کے معاملے پر ایک اجلاس کے لیے یروشلم گیا (ہو سکتا ہے کہ یہ وہی اجلاس ہو جس کا ذکر لوقا نے 'اعمال' باب 15 میں کیا ہے)۔ اس اجلاس کا وقت کچھ عجیب تھا (ماہرین اس کا زمانہ 49 یا 50 عیسوی کے لگ بھگ قرار دیتے ہیں)۔ لوقا کے مطابق، پطرس کی کرنلیس (Cornelius) سے ملاقات کے بعد غیر اقوام کی شمولیت کی منظوری دی جا چکی تھی؛ تو پھر اتنے سال بعد اس مسئلے کو طے کرنے کے لیے اجلاس کی کیا ضرورت پیش آئی؟ ایک نظریہ یہ ہے کہ وقت گزرتا جا رہا تھا اور یسوع کی واپسی (دوبارہ آمد) ابھی تک نہیں ہوئی تھی۔ شاید کچھ غیر اقوام سے تعلق رکھنے والے مسیحیوں کا خیال تھا کہ انہوں نے پہلے یہودی نہ بن کر غلطی کی ہے اور انہیں لگا کہ ایسا کرنے سے 'آخرت' یا ' اِختتامِ زمانہ' کی آمد میں تیزی لانے میں مدد ملے گی۔
پولس کو وقت کے حوالے سے ایسی کوئی تشویش نہیں تھی۔ اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر، انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جب غیر اقوام اسرائیل کے خدا کی طرف مائل ہوتے ہیں تو یہ آخری ایام کی نشانی ہوتی ہے (یہ خدا کی جانب سے حتمی مداخلت سے متعلق نبوتی روایت کا ایک جزو ہے)۔ "غیر اقوام کے رسول" کی حیثیت سے، اس گروہ کے درمیان اِس کا کردار آخری ایام کے آغاز کے لیے انتہائی اہم تھا۔ دوسرے الفاظ میں، بادشاہی کا قیام اس بات پر منحصر تھا کہ پولُس زیادہ سے زیادہ غیر اقوام تک پہنچیں۔ جب یہ کام مکمل ہو جائے گا، تب یہودی بھی حق کی روشنی دیکھیں گے اور اس میں شامل ہو جائیں گے (رومیوں 9-11)۔
وفات
ہم اِس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ پولُس کی موت کہاں یا کیسے ہوئی۔ رومیوں کے نام پولُس کا خط غالباً ان کی آخری محفوظ تحریروں میں سے ایک ہے، جس میں اُُس نے اپنے مخاطبین کو بتایا تھا کہ وہ یروشلم جا رہے ہیں اور پھر ان سے ملنے روم آئیں گے (اور وہاں سے اسپین جانے کا ارادہ بھی رکھتے تھے)۔ لوقا نے یروشلم میں پولس کی گرفتاری کا احوال بیان کیا ہے، جہاں انہیں (ایک رومی شہری ہونے کے ناطے) رومی شہنشاہ کے سامنے اپیل کرنے کا حق حاصل تھا۔ 'اعمال' کی کتاب اس طرح ختم ہوتی ہے کہ پولُس روم میں نظر بندی (house arrest) کے دوران اپنی تبلیغ جاری رکھے ہُوئے تھا۔ صرف بعد کے دور، یعنی دوسری صدی عیسوی کی روایات میں ہمیں روم میں پولُس کے مقدمے سے متعلق روایتی مواد ملتا ہے (جس میں پولُس اور اسٹوئک فلسفی سینیکا (Stoic philosopher, Seneca) کے درمیان مبینہ خط و کتابت کا ذکر بھی شامل ہے۔ مجرم قرار دیے جانے کے بعد، ان کا سر قلم کر دیا گیا اور ان کی لاش شہر کی فصیل کے باہر، اوسٹیا (Ostia) جانے والی سڑک پر دفن کی گئی، تاکہ ان کی قبر کسی زیارت گاہ کی شکل اختیار نہ کر سکے۔ برسوں بعد، یہی مقام روم میں موجود 'سینٹ پال آؤٹ سائیڈ دی والز' (St. Paul's Outside-the-Walls) نامی باسیلیکا (عظیم گرجا گھر) میں تبدیل ہو گیا، اور ویٹیکن (Vatican) کا ہمیشہ سے یہ دعویٰ رہا ہے کہ ان کا جسدِ خاکی اس گرجا گھر کے اندر موجود ایک تابوت میں مدفون ہے۔

