اینڈریو جانسن

پہلا امریکی صدر جِسکا مواخذہ کیا گیا

ہماری سالگرہ کو ٹریویا کے ساتھ منائیں!

23 اگست کو ہماری مفت ورچوئل ٹریویا پارٹی میں شامل ہوں، جس میں قدیم تہذیبوں، امریکی تاریخ، غیر معمولی تاریخی حقائق، پاپ کلچر اور دیگر موضوعات پر سوالات ہوں گے۔

$513 / $5000
Harrison W. Mark
بذریعہ ، ترجمہ بذریعہ Samuel Inayat
پر شائع ہوا
Translations 3
bookmark_addbookmark_addedمضمون محفوظ کریں printچھاپیں picture_as_pdfPDF
President Andrew Johnson (by Mathew Brady, Public Domain)
صدر اینڈریو جانسن Mathew Brady (Public Domain)

اینڈریو جانسن (1808-1875) ریاستہائے متحدہ کے 17ویں صدر تھے، جِنہیں 1865 میں ابراہم لنکن کے قتل کے بعد اچانک اس عہدے پر فائز کیا گیا۔ جنوب سے تعلق رکھنے والے سخت مزاج ڈیموکریٹ، جانسن 'تعمیرِ نو' (Reconstruction - تقریباً 1863-1877) کو جلد مُکمل کرنے کے حق میں تھے، جس کی وجہ سے کانگریس پر قابض 'انتہا پسند ریپبلکن' (Radical Republicans) کے ساتھ ان کا ٹکراؤ تھا۔ اُنکا تعمیر نو کو جلد مُکمل کرنا اُنکے خِلاف مواخذے (1868) کی کارروائی کا سبب بنا جِس میں سے محض ایک ووٹ کے فرق سے بچ گئے۔ 4 مارچ 1869 کو رسوائی کے عالم میں صدارت چھوڑنے کے بعد انہوں نے قومی سیاست میں واپسی کی منصوبہ بندی کی لیکن امریکی سینیٹ کا انتخاب جیتنے کے کچھ ہی دیر بعد 31 جولائی 1875 کو انتقال کر گئے۔ انہیں اکثر امریکہ کے بدترین صدور میں شمار کیا جاتا ہے جو 'تعمیرِ نو' کے انتہائی اہم دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کے اہل ثابت نہ ہو سکے۔

ابتدائی زندگی

جانسن غربت کے ماحول میں پیدا ہوئے۔ بے شک، جیسا کہ بعد میں اِنکے ایک جاننے والے نے بیان کیا۔ جانسن کی زندگی "ترقی کی جانب بڑھنے کی ایک سخت اور مسلسل مایوس کُن جدوجہد" تھی (Foner, 176 حوالہ)۔ وہ 29 دسمبر 1808 کو ریلی (Raleigh)، شمالی کیرولائنا میں دو کمروں پر مشتمل ایک چھوٹے سے مکان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد، جیکب جانسن (Jacob Johnson) جو ہوٹل میں سامان اٹھانے کا کام کرنے والے ایک غریب اور ان پڑھ شخص تھے،اُنکا انتقال اس وقت ہوا جب اینڈریو (Andrew) کی عمر صرف تین سال تھی۔ جیکب، ہوٹل کے دو امیر مہمانوں کو ڈوبنے سے بچانے کے فوراً بعد دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے بعد اینڈریو کی بیوہ والدہ، میری 'پولی' میک ڈونو (Mary 'Polly' McDonough)، خاندان کی کفالت کی واحد ذمہ دار رہ گئیں؛ جِنہوں نے اینڈریو اور ان کے بڑے بھائی ولیم (جانسن کے تیسرے بچے، الزبتھ، کا انتقال بچپن ہی میں ہو چکا تھا) کی خاطر اُنکی خُوراک اور گُزر و اوقات کیلئے کپڑے دھونے والی خاتون کی طرح کام کر کے انتھک محنت کی۔

جانسن نے غریب اور عام آدمی کے حامی کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔

شاید مالی بوجھ کو ہلکا کرنے کے لیے، پولی نے اپنے دونوں بیٹوں کو ایک مقامی درزی، جیمز سیلبی (James Selby) کے پاس تربیت دِلوانے کا فیصلہ کیا۔ صرف 14 سال کی عمر کا اینڈریو اپنی 21 ویں سالگرہ تک سیلبی کی دکان پر معاہدہ کے تحت کام کرنے کا پابند تھا۔ اس دوران اس نے ہنر سیکھ لیا اور کافی ماہر ہو گیا۔ اکثر اوقات، جب وہ کام کرتا، پڑوسی دکان میں آتے اور اسے اور دوسرے کام کرنے والوں کو پڑھ کر سناتے; اِس سے اُسکے اندر زِندگی بھر پڑھنے اور سیکھنے کا شوق پیدہ ہُوا، جِو جانسن کی سیاسی ترقی میں اچھی طرح سے کام کرے گا۔ 1826 میں، 17 سالہ جانسن سیلبی کی دکان میں زِندگی سے بور ہو گیا۔ اس نے اور ولیم نے معاہدہ توڑ دیا اور بھاگ کر مغربی عِلاقے نیو کارتھیج (New Carthage)، شمالی کیرولائنا میں بھاگ گئے، جہاں انہوں نے درزی کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا۔ سیلبی نے اپرنٹس شپ کی خلاف ورزی کا جواز بناتےہُوئے ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے، جس کی وجہ سے جانسن اپنی ماں کے پاس واپس چلا گیا۔ پورا خاندان جلد ہی (مُلک) کے مغربی حِصہ گرین ویل (Greeneville)، ٹینیسی میں چلا گیا جہاں اُس نے اپنے گھر کے سامنے درزی کی دکان کھول لی۔ اس کی ملاقات ایک جوتا بنانے والے کی 16 سالہ بیٹی ایلیزا میک کارڈل (Eliza McCardle) سے ہوئی۔ انہوں نے فوراً قانونی طور پر شادی شروع کر دی اور جلد ہی شادی کر لی۔ ایلیزا نے اپنے نئے شوہر کو پڑھنے، لکھنے، اور ریاضی میں ٹیوشن دے کر اس کی تعلیم کو آگے بڑھانے میں مدد کی۔

سیاسی عروج

جانسن کو گرین ویل کمیونٹی کا منظورِ نظر ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ مقامی لوگ اس کے سادہ، قُدرتی اندازِ گُفتگو، پس منظر کے اعتبار سے اُسکے خُود ساختہ اور خُود تعلیم یافتہ ہونے کے طور پر اس سے متاثر ہوئے۔ اس کی دکان سیاسی بحث کے لیے ایک اجتماع کی جگہ بن گئی، جس کی وجہ سے ایلیزا (Eliza) نے ایک دفتر برائےسیاسی مقاصد حاصل کرنے کی ترغیب دی۔ 1829 میں، 21 سالہ جانسن کو ایلڈرمین (alderman میونسپل کمیٹی کا ممبر) منتخب کیا گیا اور صرف چند سال بعد، گرین ویل کا میئر بن گئے۔ 1835 میں، وہ ٹینیسی کی نمائیدہ اسمبلی کے ممبر (Tennessee House of Representatives) کے لیے منتخب ہوئے اور اسطرح وہ اگلے آٹھ سالوں کے لیے ریاستی سیاست میں اپنا کیریئر بناتے رہے۔ ریاستی دارالحکومت نیش وِل (Nashville) میں اپنے دورِ اقتدار میں، جانسن نے عام غریب آدمی کے محافظ کے طور پر شہرت حاصل کی۔ اس نے مکینکس (mechanics)، کاریگر اور دیہی کسانوں کی حمایت حاصل کی جو اس کے حلقے کا بنیادی جُز تھے۔ جانسن کی سیاست تیزی سے جیکسونین ڈیموکریٹس (Jacksonian Democrats) کے ساتھ مل گئی۔ درحقیقت، وہ اکثر صدر اینڈریو جیکسن کی پاپولسٹ (populist administration) انتظامیہ کے حق میں بات کرتے تھے۔

Andrew Johnson's Tailor Shop
اینڈریو جانسن کی درزی کی دکان T. M. Schleier (Public Domain)

1843 میں، جانسن نے امریکی ایوان نمائندگان کا انتخاب جیتا اور واشنگٹن ڈی سی کے لیے روانہ ہُوئے، وہ ایلیزا کو پیچھے چھوڑنے پر مجبور ہُوئے کیونکہ اسے تپ دق کا مرض لاحق ہو گیا تھا جس کی وجہ سے وہ کمزور ہو گئی تھی اور سفر کرنے سے قاصر تھی۔ اس کے باوجود وہ دور سے اس کا ساتھ دیتی رہیں اور اس کی تقریریں لکھنے میں بھی مدد کرتی رہیں۔ کانگریس میں، جانسن نے غلامی اور ریاستوں کے حقوق سے متعلق مسائل میں مسلسل ڈیموکریٹک پارٹی کا ساتھ دیا۔ آقا ہوتے ہُوئے اُس نے خُود ایک غُلام خریدا تھا جِو ایک چودہ سالہ لڑکی تھی جِسکا نام ڈولی تھا، اسی سال وہ کانگریس میں گیا تھا۔ اس وقت، اس کا خیال تھا کہ غلام ذاتی ملکیت ہیں، اور یہ کہ امریکی آئین نے وفاقی یا ریاستی حکومتوں کو ان بنیادوں پر غلامی کو ختم کرنے سے منع کیا ہے۔

انہوں نے ڈیموکریٹس کی توسیع پسندانہ، پالیسیوں (manifest destiny' policies) کی حمایت کی، بشمول میکسیکن-امریکی جنگ (1846-1848)، حالانکہ وہ ذاتی طور پر صدر جیمز کے پولک (President James K. Polk) کو ناپسند کرتے تھے اور اکثر ان کے ساتھ اِنکا ٹکراوؐ بھی ہوتا تھا۔ جانسن نے 1850 کے سمجھوتہ، بابت کیلیفورنیا کو بطور آزاد ریاست یونین میں داخل ہونے کی حمایت کی۔ تاہم، اس نے واشنگٹن، ڈی سی میں غلامی پر پابندی عائد کرنے والی قانونی شق کی مخالفت کی. وہ 1852 میں اپنی کانگریس کی نشست سے محروم ہو گئے، جب اس کے مخالفین نے حلقہ بندی کرتے ہُوئے کامیابی کے ساتھ اس کے ضلع کا وجود ہی ختم کر دیا۔ شروع میں وہ مایوس تھے اور افسوس میں تھے کہ اُنکا کیرئیر ختم ہو گیا تھا.

Map of the United States Under the Compromise of 1850
1850 کے سمجھوتے کے تحت ریاستہائے متحدہ کا نقشہ Simeon Netchev (CC BY-NC-ND)

تاہم، انہوں نے جلد ہی سیاسی میدان میں واپسی کی اور اگلے ہی سال ٹینیسی کے گورنر منتخب ہو گئے۔ نیش وِل (Nashville) واپس آ کر انہیں احساس ہوا کہ اس عہدے پر رہتے ہوئے ان کے پاس کوئی حقیقی اختیار نہیں تھا اور وہ محض ایک علامتی سربراہ بن کر رہ گئے تھے۔ اس کے باوجود، انہوں نے اپنے محدود اثر و رسوخ کو عوامی لائبریریوں کے قیام اور ٹینیسی میں پہلا پبلک اسکول سسٹم نافذ کرنے کے لیے استعمال کیا۔ 1856 میں وہ کانگریس واپس آئے، لیکن اس بار بطور امریکی سینیٹر۔ انہوں نے ایک بار پھر ڈیموکریٹک پارٹی کی پالیسیوں کی پیروی کی اور درآمدی محصولات (ٹیرف) میں کمی کی حمایت کی اور غلامی کے خاتمے کے اقدامات کی مخالفت کی۔

اس وقت تک، ملک تیزی سے خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا تھا؛ غلامی کے مسئلے نے ملک کو علاقائی بنیادوں پر تقسیم کر دیا تھا اور شمال کی 'آزاد ریاستوں' کو جنوب کی 'غلام رکھنے والی ریاستوں' کے مدمقابل لا کھڑا کیا تھا۔ اگرچہ جانسن کا تعلق جنوب سے تھا اور وہ خود بھی غلام رکھے ہُوئے تھے، لیکن وہ 'یونین' (وفاق) کے زبردست حامی بھی تھے اور اس خوف سے ہِل جاتے تھے کہ غلام رکھنے والی ریاستیں وفاق سے علیحدہ ہو کر اپنا الگ ملک بنا سکتی ہیں۔ دسمبر 1859 میں، 'ہارپرز فیری' (Harpers Ferry) پر جان براؤن کے حملے John Brown's raid کے بعد، جانسن نے سینیٹ میں ایک تقریر کی جس میں انہوں نے شمالی باشندوں اور غلامی کے خاتمے کے حامیوں کو غلامی کے مسئلے پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اس بڑھتے ہوئے بحران کا ذمہ دار ان کے سخت رویے کو ٹھہرایا۔

خانہ جنگی کے دوران کیریئر

کشیدگی نومبر 1860 تک بدتر ہوتی رہی، جب نئی غلامی مخالف ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ابراہم لنکن نے صدارت کا انتخاب جیت لیا۔ اس نے 1860-61 کے موسم سرما میں نام نہاد علیحدگی پسند تحریک (Secession Winter) کو متحرک کیا اور سات غُلام پسند ریاستیں یونین سے علیحدہ ہو گئیں اور اپنے آپ کو کنفیڈریٹ ریاستوں کی حثیت سے آزادی کا اِعلان کر دیا۔ جانسن نے علیحدگی کی شدید مخالفت کی اور یہ جان کر خوفزدہ ہوئے کہ ان کی آبائی ریاست کنفیڈریسی میں شامل ہونے پر غور کر رہی ہے۔ 1861 کے موسم بہار میں وہ علیحدگی کے خلاف بحث کرنے کے لیے ٹینیسی واپس آئے۔ یونین کے حامی موقف رکھنے پر اِنکو جان سے مارنے کی کئی دھمکیاں بھی دی گئیں اور حملہ ہونے کے پیشِ نظر اسے اکثر بندوق رکھ کر تقریریں کرنی پڑتی تھیں۔ ان کی کوششوں کے باوجود، ٹینیسی نے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا اور جون 1861 میں کنفیڈریسی میں شامل ہو گئے۔ بہت سے دوسرے جنوبی سیاست دانوں کے برعکس جو اپنی ریاست کے ساتھ وفادار رہے، چاہے وہ ابتدا میں یونینسٹ ہی کیوں نہ ہوں، جانسن نے ٹینیسی کے فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور امریکی سینیٹ میں ڈٹے رہے۔

یونین کے ساتھ وفاداری کے باوجود، جانسن یقینی طور پر غُلامی کو ختم کرنے کے قائل نہیں تھے۔ اِنہوں نے لنکن کو قائل کیا کہ وہ ٹینیسی کو آزادی کے اعلان سے مستثنیٰ کرے۔

یونین (وفاق) کے حق میں جانسن کے سخت مؤقف نے انہیں ریپبلکنز اور شمالی باشندوں کے درمیان ہیرو بنا دیا۔ انہوں نے 1861 کا موسم سرما اپنی آبائی ریاست کو واپس حاصل کرنے کے لیے فوجی کارروائی کی وکالت کرتے ہوئے گزارا اور انہیں اگلے موسم بہار میں اس وقت اطمینان نصیب ہوا جب یونین کی افواج نے وسطی اور مغربی ٹینیسی کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا اور نیش وِل (Nashville) کو فتح کر لیا۔ مارچ 1862 میں، صدر لنکن نے جانسن کو ٹینیسی کا فوجی گورنر مقرر کیا اور انہیں ریاست کے ان حصوں کا انتظام سنبھالنے کی ذمہ داری سونپی جو یونین کے قبضے میں تھے۔ جب جانسن نے یہ عہدہ قبول کیا تو کنفیڈریٹ (باغی جنوبی قوتوں نے) انتقامی کارروائی کرتے ہوئے ان کی زمینیں اور غلام ضبط کر لیے اور ان کے گھر کو فوجی ہسپتال میں تبدیل کر دیا۔

جانسن نے ٹینیسی میں کنفیڈریٹ کو دبانے کے لیے اقدامات کیے۔ انہوں نے سرکاری عہدیداروں کے لیے یونین سے وفاداری کا حلف اٹھانا لازمی قرار دیا، کنفیڈریٹ نواز اخبارات بند کر دیے اور نیش وِل کے دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے کام کیا۔ یونین سے وفاداری کے باوجود، جانسن غلامی کے خاتمے کے حامی (abolitionist) ہرگز نہیں تھے; درحقیقت، انہوں نے ہی لنکن کو اس بات پر قائل کیا تھا کہ ٹینیسی کو 1863 کے 'اعلانِ آزادیِ غلاماں' (Emancipation Proclamation) سے مستثنیٰ رکھا جائے، جس کے تحت دیگر تمام باغی ریاستوں میں غلاموں کو آزاد کر دیا گیا تھا۔ تاہم، بالآخر انہیں احساس ہوا کہ اگر کنفیڈریسی کو شکست دینی ہے تو غلامی کا خاتمہ ضروری ہے، ہچکچاہٹ کے ساتھ اُنہوں نے سابقہ ​​غلاموں کو یونین کی فوج میں بھرتی کرنے کی کوششوں کی حمایت کی۔

1864 کے انتہائی اہم امریکی صدارتی انتخابات سے قبل، بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ انتخابات جنگ کے نتیجے کا حتمی فیصلہ کریں گے، جانسن کو لنکن کے انتخابی ٹکٹ پر ان کے نائب (رننگ میٹ) کے طور پر شامل کیا گیا۔ چونکہ جانسن کا تعلق جنوب سے تھا اور وہ ڈیموکریٹ تھے، اس لیے یہ سمجھا جاتا تھا کہ ان کی موجودگی شمالی 'کاپر ہیڈز' (شمالی ریاستوں میں موجود جنگ مخالف ڈیموکریٹس) کے خدشات کو کم کرے گی، جنہیں شاید یہ لگتا تھا کہ لنکن اور ریپبلکنز بہت زیادہ انتہا پسندانہ رویہ اختیار کر رہے تھے۔ مزید برآں، لنکن کے ٹکٹ پر جانسن کی موجودگی سے قومی اتحاد کے اس پیغام کو تقویت ملنے کی امید تھی جسے لنکن انتظامیہ فروغ دینے کی کوشش کر رہی تھی۔

لنکن اور جانسن کا یہ اتحاد، جو 'نیشنل یونین پارٹی' کے نام سے جانا جاتا تھا، نومبر 1864 کے انتخابات میں جیتنے کی وجہ سے کامیاب رہا اور انہوں نے ڈیموکریٹک امیدوار جارج بی میکلیلن (George B. McClellan) کو شکست دی۔ ان کی فتح نے کنفیڈریسی کی قسمت کا فیصلہ تقریباً طے کر دیا تھا، کیونکہ کنفیڈریسی غیر مشروط ہتھیار ڈالنے سے بچنے کے واحد راستے کے طور پر میکلیلن کی صدارت پر انحصار کر رہی تھی۔ جانسن نے 4 مارچ 1865 کو نائب صدر کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ تقریب سے ایک رات قبل، اپنے اعزاز میں منعقدہ ایک پارٹی میں وہ شدید نشے کی حالت میں تھے۔ باوجود نشے کے خمار میں مبتلا ، اس نے ایک طویل، بے ربط اور غیر واضح تقریر کی جس نے اس کے اتحادیوں کو حیران اور شرمندہ کر دیا۔

صدارت

جانسن کو غیر متوقع طور پر 15 اپریل 1865 کو صدارت کا عہدہ سنبھالنا پڑا، وہی صبح جب لنکن کا انتقال ہوا، جنہیں اسٹیج اداکار اور کنفیڈریٹ (جنوبی ریاستوں کے حامی) ہمدرد جان ولکس بوتھ (John Wilkes Booth) نے گولی مار کر زخمی کر دیا تھا۔ جانسن جو خود بھی بوتھ کی سازش کا ہدف تھے لیکن محفوظ رہے تھے، لنکن کے انتقال کے وقت (صبح 7:22 بجے) ان کے بسترِ مرگ کے پاس موجود تھے اور کچھ ہی گھنٹوں بعد انہوں نے بطور صدر حلف اٹھایا۔ کابینہ کے ارکان، جن میں سے اکثر نے جانسن کو حلف برداری کی تقریب کے دوران نشے کی حالت میں دیکھا تھا، ان کے سنجیدہ اور باوقار رویے کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ جانسن نے اسی دن اپنی کابینہ کا پہلا اجلاس بلایا اور لنکن کی کابینہ کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اگلے چند دن انتہائی ہنگامہ خیز رہے۔ جانسن نے واشنگٹن ڈی سی میں لنکن کی آخری رسومات کی صدارت کی اور انہیں اطلاع ملی کہ کنفیڈریٹ فوج کے آخری بڑے دستے نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ امریکی خانہ جنگی اب ختم ہو چکی تھی، لیکن قوم کی تعمیرِ نو کا کام ابھی باقی تھا۔ قیادت کے لیے سب کی نظریں جانسن پر مرکوز تھیں۔

Assassination of President Lincoln
ابراہم لنکن کا قتل Currier & Ives (Public Domain)

شروع میں، بہت سے ریپبلکنز جانسن کی صدارت کے حوالے سے پرامید تھے کیونکہ انہیں یقین تھا کہ وہ نہ صرف لنکن کے جاری کاموں کو آگے بڑھائیں گے بلکہ سابقہ ​​غلاموں (جنہیں 13ویں ترمیم کے تحت آزادی ملی تھی) کو ووٹ کا حق بھی دلائیں گے اور جنوبی ریاستوں کو سزا دیں گے۔ آخرکار، یہ وہی شخص تھے جنہوں نے کبھی کہا تھا کہ غداری کو "قابلِ نفرت فعل قرار دیا جانا چاہیے، اور غداروں کو سزا دی جانی چاہیے اور کنگال کر دیا جانا چاہیے" (حوالہ: وائٹ، 35)۔ تاہم، جلد ہی یہ واضح ہو گیا کہ تعمیرِ نو (Reconstruction) کے معاملے پر جانسن کے خیالات 'ریڈیکل ریپبلکنز' (انتہائی اصلاح پسند ریپبلکنز) کے خیالات سے بالکل مختلف تھے۔

جانسن کا بھی اپنے پیشرو (لنکن) کی طرح یہ ماننا تھا کہ ریاستوں کا وفاق سے علیحدہ ہونا غیر آئینی تھا اور جنوبی ریاستیں درحقیقت کبھی وفاق (یونین) سے الگ نہیں ہوئی تھیں۔ اسی لیے، ان کا خیال تھا کہ تعمیرِ نو کا عمل جلد از جلد اور کم سے کم مشکلات کے ساتھ مکمل ہونا چاہیے۔ انہوں نے سابقہ ​​کنفیڈریٹ ریاستوں کو وفاق میں واپسی کے لیے نرم شرائط پیش کیں، جن میں آزاد ہونے والوں کو ووٹ کا حق یا شہری حقوق دینے کی شرط شامل نہیں تھی۔ جانسن کا ماننا تھا کہ حق رائے دہی کے حقوق کا معاملہ ریاستوں پر چھوڑ دیا جانا چاہیے اور مزید برآں، ان کا خیال تھا کہ شمالی ریاستوں کو، جن میں سے کئی آزاد ہونے والے سیاہ فام افراد کو ووٹ کا حق نہیں دیتی تھیں اُنہیں جنوب پر ایسا کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ انہوں نے ان سابقہ ​​کنفیڈریٹ حامیوں کو بھی عام معافی کی پیشکش کی جن کی جائیداد کی مالیت 20,000 ڈالر سے کم تھی۔ اس سے جانسن کے اس یقین کی عکاسی ہوتی تھی کہ غلام رکھنے والے اشرافیہ نے جنوبی ریاستوں کے غریب سفید فام باشندوں کو وفاقی حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے لیے گمراہ کیا تھا۔

جانسن کا دھیما تعمیر نو کا پروگرام، جسے بعد میں 'صدارتی تعمیر نو' Presidential Reconstruction کے نام سے جانا جاتا تھا، نے کانگریس کے ریپبلک اراکین کو ناراض کیا جن کا ماننا تھا کہ جنوب کو سزا دینے کی ضرورت تھی، اور یہ کہ سابق غلاموں کو صحیح معنوں میں آزادی کے لیے وفاقی تحفظ اور امداد کی ضرورت تھی۔ اس کے باوجود مہینوں تک وہ کچھ نہ کر سکے کیونکہ کانگریس کو دسمبر تک دوبارہ اجلاس نہیں کرنا تھا۔ اس دوران، سابق کنفیڈریٹ ریاستوں نے جانسن کی نرمی کا فائدہ اٹھا کر اپنی سیاسی قوت کو بڑھایا۔

انہوں نے کانگریس کے لیے سابق کنفیڈریٹ منتخب کیے اور بلیک کوڈز (Black Codes سیاہ فام امریکییوں کی آزادی کو محدود کرنے والا قانون) کے ذریعے غُلامی سے آزاد کئے ہُوئے لوگوں کے حقوق کو محدود کرنے کی کوشش کی۔ 1865-66 کے درمیان تقریباً تمام سابقہ کنفیڈریٹ ریاستوں کے ذریعے منظور ہونے والے، بلیک کوڈز نے سیاہ فام امریکیوں کی نقل و حرکت کی آزادی کو محدود کرنے کے لیے پرانے قوانین یعنی (old vagrancy laws بابت اِنسدادِ آوارگی) کو زندہ کیا اور انھیں مجبور کیا کہ وہ خود کو یا تو کھیتوں میں کام کرنے کیلئے پابند کریں یا پھِر قید کا سامنا کریں۔ بہت سے ریپبلک اراکیں بلیک کوڈز قوانین سے ناراض تھے، جسے وہ ایک نئے نام سے غلامی کے طور پر دیکھتے تھے، پھر بھی جانسن کے تعمیر نو کے منصوبے کے تحت، کچھ نہیں کیا جا سکا۔ سفید بالادستی کے دہشت گرد گروہ، جیسے کو کلوکس کلان (Ku Klux Klan ایک خُفیہ دہشت گرد تنظیم)، نے بھی اسی عرصے کے دوران جنم لیا، جس نے سیاہ فام ووٹروں اور برادریوں کو خوفزدہ کیا۔

The Union as It Was
یونین جیسی وہ تھی Thomas Nast (Public Domain)

جب کانگریس کا دوبارہ اجلاس ہوا، ریپبلکن اراکین جانتے تھے کہ انہیں تیزی سے آگے بڑھنا ہے، ایسا نہ ہو کہ وہ خانہ جنگی جیت کر حاصل کی گئی بالا دستی سے محروم ہو جائیں۔ انہوں نے نو منتخب جنوب سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے اراکین کو نشِستیں دینے سے انکار کر دیا اور تعمیر نو کے منصوبے کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کی۔ جانسن اس بات کو اپنے صدارتی اختیارات کے غصب کے طور پر دیکھتے ہوئے مشتعل تھے۔ اُنہوں نے تعمیر نو کے اس نئے مرحلے، انتہائی اصلاحی تعمیرِ نو (Radical Reconstruction) کو ناکام بنانے کی کوشش کی جس کا مقصد سیاہ فاموں کی آزادی کے تحفظ کے لیے کانگریس کے دو اقدامات کو ویٹو کرنا تھا۔ تاہم، اس کے ویٹو صرف متعصبانہ تقسیم کو مزید گہرا کرنے میں کامیاب ہوئے، جس سے اعتدال پسند اور ریڈیکل ریپبلکن دونوں ہی اس کے خلاف ہو گئے۔

کانگریس نے دونوں ویٹو کو بے اثر کر دیا جبکہ سول رائٹس ایکٹ 1866 اور فریڈ مینز بیورو بل (Freedmen's Bureau Bill) توسیعی قانون بن گئے۔ کانگریس نے امریکی آئین میں چودھویں ترمیم منظور کر کے امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے تمام افراد کو شہریت کی ضمانت دی اور انہیں قانون کے تحت مساوی تحفظ دیا۔ جانسن نے ترمیم کی مخالفت کی، لیکن بے سُود کیونکہ بشمول آبائی ریاست ٹینیسی اس کی توثیق ریاستوں کی مطلوبہ تعداد نے کی تھی۔

کانگریس کی اس مخالفت کے جواب میں، جانسن سیاسی ُکشتی لڑنے اُٹھے۔ وہ 1866 کے وسط میں ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں مڈویسٹ (Midwest) کے 18 روزہ تقریری دورے پر گئے (جِس دوران) اُنہوں نے اپنے اقدامات کا دفاع اور اِنتہا پسند ریپبلکن مخالفین پر تنقید کی۔ یہ دورہ، جسے "دائرے کے گرد جھولے" (swing around the circle) کا نام دیا اور بُری طرح ناکام رہا۔ جانسن نے خود کو بڑھاوا دینے والی تقریریں کیں، بعض اوقات اپنا موازنہ یسوع سے کیا، اور اکثر ہیکلرز (hecklers رُکاوٹ ڈالنے والے) کے ساتھ غیرمعمولی بحث میں پڑ گئے۔ آخر کار، ریپبلکنز نے وسط مدتی انتخابات کو بھاری اکثریت سے جیت لیا اور کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا۔

جنوری 1867 میں، اِنتہائی اِصلاح پسند ریپبلکن رہنما تھیڈیئس سٹیونز (Thaddeus Stevens) نے جنوبی علاقوں میں مارشل لاء نافذ کرنے کے لیے قانون سازی کی تجویز پیش کی، جس کے تحت ریاستی حکومتوں کو تحلیل کر کے ان علاقوں کو پانچ عسکری اضلاع میں تقسیم کیا جانا تھا۔ اس عمل کا نتیجہ 'ریکنسٹرکشن ایکٹس' (قوانینِ تعمیرِ نو) کی صورت میں نکلا، جنہیں کانگریس نے جانسن کے 'پاکٹ ویٹو' (pocket veto) کے باوجود 2 مارچ 1867 کو نافذ کر دیا۔ ستم ظریفی کہ 'تعمیر نو' کے عمل کو جلد ختم کرنے کی کوشش میں جانسن نے انجانے میں اسے مزید طول دیا اور سیاسی تقسیم کو اور بھی سنگین بنا دیا۔

مواخذہ اور صدارت کے بعد کا دور

جِس دِن تعمیرِ نو کا ایکٹ (پارلیمنٹ سے منطور شُدہ قانون) منطور ہُوا، اُسی دِن کانگریس کی مدت کا ایکٹ بھی منطور ہُوا، جس کے تحت صدر کے کُچھ عہدیداروں کو کانگریس کی منظوری کے بغیر ہٹانے کے حق کو محدود کر دیا گیا; یہ ایکٹ ان افواہوں کے براہ راست جواب میں تھا کہ جانسن اپنی کابینہ کے کچھ ایسے اراکین کو برطرف کرنے کا ارادہ رکھتے تھے جنہوں نے ریڈیکل تعمیرِ نو کی حمایت کی۔ جانسن جو پہلے ہی غُصے میں تھے کہ وہ کانگرس کے سامنے کِتنی طاقت کھو رہے ہیں، اُنہوں نے ریپبلکنز کے انتہائی حامی اور سیکرٹری جنگ ایڈون ایم اسٹینٹن کو برطرف کر کے انہیں کھلا چیلنج دینے کا فیصلہ کیا۔

بجائے اس کے کہ جانسن ریپبلکنز کو چیلنج کرتے، وہ سیدھے ان کے جال میں پھنس گئے، کیونکہ کانگریس نے فوراً ہی صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کردی تھی۔ اس سے پہلے کبھی کسی صدر کا مواخذہ نہیں کیا گیا تھا، اور بہت سے امریکی حیران تھے کہ قوم کے مستقبل کے لیے اس کا کیا مطلب ہو گا؟۔ ریپبلکن نے اس پر خوشی کا اظہار کیا کہ جانسن کو ہٹایا جا سکتا ہے اور اس کی جگہ ریڈیکل تعمیرِ نو کے حامی کو لایا جا سکتا ہے، جب کہ جانسن کے حامیوں کا خیال تھا کہ کانگریس صدر کی طاقت کو ختم کرنے اور اپنے لیے آمرانہ اختیارات سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

U.S. Senate Ticket to the Impeachment of Andrew Johnson
اینڈریو جانسن کے مواخذے کے لیے امریکی سینیٹ کا ٹکٹ United States Senate (Public Domain)

24 فروری 1868 کو، امریکی ایوانِ نمائندگان نے 47 کے مقابلے میں 128 ووٹوں سے جانسن کے خلاف مواخذے (impeachment) کی کارروائی منظور کی، یہ اِلزام لگاتے ہُوئے کہ انہوں نے 'ٹینور آف آفس ایکٹ' (عہدے کی مدت سے متعلق قانون Tenure of Office Act) کی خلاف ورزی کی ہے۔ 5 مارچ کو سینیٹ میں مواخذے کی کاروائی جو شروع ہُوئی اور جس کی صدارت چیف جسٹس سالمن پی چیس (Salmon P. Chase) نے کی، اگر جانسن مجرم قرار پاتے تو انہیں عہدے سے ہٹا دیا جاتا۔ استغاثہ کا مؤقف تھا کہ اسٹینٹن (Stanton) کو برطرف کر کے اور اس عہدے پر اپنے پسندیدہ امیدوار کو تعینات کر کے، جانسن نے اپنے انتظامی اختیارات کا غلط استعمال کیا اور کانگریس کے اختیار کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔

جانسن کے وکلاء نے دلیل دی کہ انہوں نے 'ٹینور آف آفس ایکٹ' کی خلاف ورزی نہیں کی، ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون صرف موجودہ انتظامیہ کی طرف سے تعینات کردہ عہدیداروں پر لاگو ہوتا ہے، اور چونکہ اسٹینٹن کو لنکن نے تعینات کیا تھا، اس لیے جانسن نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ مزید برآں، وکلاء نے یہ بھی دلیل دی کہ صدر کو یہ فکر کیے بغیر کہ ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی ہو سکتی ہے، کانگریس کے بنائے گئے قوانین کی آئینی حیثیت کو جانچنے یا چیلنج کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ آخر کار، جانسن بری ہو گئے کیونکہ استغاثہ سزا کے لیے درکار دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں صرف ایک ووٹ سے پیچھے رہ گیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ نتیجہ سن کر صدر آبدیدہ ہو گئے تھے۔

اگرچہ جانسن اپنی صدارتی مدت کا بقیہ حصہ بچانے میں کامیاب رہے، بطور رہنما، ان کی افادیت اور موثر ہونا ختم ہو چکا تھا۔ کانگریس پر اب بھی 'ریڈیکل ریپبلکنز' کا غلبہ تھا جو ان سے شدید نفرت کرتے تھے اور مواخذے کی کارروائی نے ان کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا تھا۔ اگرچہ وہ سابقہ ​​کنفیڈریٹس (جنوبی ریاستوں کے حامیوں) اور جنوبی علاقوں کے غریب سفید فام لوگوں میں بہت مقبول رہے، جولائی 1868 میں ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن میں وہ دوبارہ نامزدگی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

انہوں نے اپنی صدارت کے آخری مہینے 'ریڈیکل ری کنسٹرکشن' (Radical Reconstruction) کی مخالفت کرنے اور سابقہ ​​باغیوں کو معاف کرنے میں گزارے۔ 25 دسمبر 1868 کو کرِسمس کے دِن، انہوں نے سب سے بڑا معافی نامہ جاری کیا جس کے تحت کنفیڈریٹ صدر جیفرسن ڈیوس (Jefferson Davis) کو بھی عام معافی دے دی گئی۔ 3 مارچ 1869 کو، جو ان کی صدارت کا آخری دن تھا، انہوں نے وائٹ ہاؤس میں ایک بڑی عوامی تقریب کا اہتمام کیا اور اپنے جانشین یولیسس ایس گرانٹ (Ulysses S. Grant) کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا۔

Death of Andrew Johnson
اینڈریو جانسن کی وفات Currier & Ives (Public Domain)

1869 میں واشنگٹن چھوڑنے کے بعد، جانسن گرینویل (Greeneville) واپس آئے، جہاں اس کے دوستوں اور پڑوسیوں نے انہیں خوش آمدید کہا۔ گھر واپسی جلد ہی بے مزہ ہوگئی کیونکہ جانسن کے بیٹے رابرٹ نے اسی سال خودکشی کر لی۔ رابرٹ کی موت سے بیزار اور چھوٹے سے گرین ویل میں بے چین، جانسن نے قومی سیاست میں واپس آنے اور اپنی ساکھ کو بحال کرنے کی کوشش کی۔ 1875 میں اس نے امریکی سینیٹ کا انتخاب جیت لیا اور ملک کے دارالحکومت میں واپس آ گئے۔

اُس وقت تک، تعمیر نو کا کام ختم ہو رہا تھا (کیونکہ) امریکی شہری ریپبلکنز کی جانب سے جنوب میں فوجی قبضے سے تنگ آ رہے تھے اور یہ کہ مالی مشکلات اور بدعنوانی کے سکینڈلز (بدنامیاں) کی وجہ سے صدر گرانٹ کی انتظامیہ کی مقبولیت کم ہو رہی تھی۔ جانسن کی سیاسی واپسی کے لیے وقت مناسب دکھائی دے رہا تھا۔ تاہم، قسمت کی مداخلت کی وجہ سے وہ 31 جولائی 1875 کو، سیاست میں واپسی کے چند ماہ بعد ہی، 66 سال کی عمر میں فالج کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ انہیں اکثر سب سے کمزور اور کم موثر امریکی صدور کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جو تعمیر نو کے نازک لمحے تک زندہ رہنے کے قابل نہ رہے۔

مترجم کے بارے میں

مصنف کے بارے میں

اس کام کا حوالہ دیں

اے پی اے طرز

Mark, H. W. (2026, August 15). اینڈریو جانسن: پہلا امریکی صدر جِسکا مواخذہ کیا گیا. (S. Inayat, مترجم). World History Encyclopedia. https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-26463/

شکاگو طرز

Mark, Harrison W.. "اینڈریو جانسن: پہلا امریکی صدر جِسکا مواخذہ کیا گیا." تَرجَمۂ کَرن وول Samuel Inayat. World History Encyclopedia, August 15, 2026. https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-26463/.

ایم ایل اے اسٹائل

Mark, Harrison W.. "اینڈریو جانسن: پہلا امریکی صدر جِسکا مواخذہ کیا گیا." تَرجَمۂ کَرن وول Samuel Inayat. World History Encyclopedia, 15 Aug 2026, https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-26463/.

اشتہارات ہٹائیں