برطانوی صنعتی انقلاب (1760-1840)، نئے طریقوں پر مبنی جدید مشینی تکنیک اور ایک گہری سماجی تبدیلی لایا اور اس عمل میں بھاپ سے چلنے والی مشینوں کی ایجاد ہوئی جو مسلسل پھیلتے ہوئے شہری مراکز میں فیکٹریوں میں استعمال کی جاتی تھیں۔ زراعت کی اہمیت تو برقرار رہی، لیکن سوتی ٹیکسٹائل برطانیہ کی سب سے بڑی برآمد بن گئی، دولت کے پیمانے کے طور پر سرمائے نے زمین کی جگہ لے لی اور محنت کش افرادی قوت اتنی وسیع ہو گئی کہ اس میں خواتین اور بچوں کی بہت بڑی تعداد بھی شامل ہو گئی۔
'انقلاب' کی تعریف
برطانیہ میں صنعتی انقلاب کے صحیح آغاز اور اختتام کا تعین کرنا مشکل ہے کیونکہ تمام مورخین قطعی تاریخوں پر متفق نہیں ہیں۔ 'انقلاب' ایک ڈرامائی واقعہ یا اُنکا ایک سلسلہ نہیں تھا، بلکہ جدید مشینی تکنیک کے ذریعے صنعت، زراعت کے ایک طویل اور بتدریج عمل تھا، جس کے نتیجے میں کئی اہم اور دیرپا سماجی تبدیلیاں آئیں، جن میں سے اہم ترین برطانیہ میں شہری آباد کاری کا تیز ہونا تھا۔ 18 ویں صدی کے وسط سے 19 ویں صدی کے وسط تک کا عمومی متفقہ دورانیہ (آغاز اور اختتام کے بارے میں جاننے کیلئے) کارآمد تو ہے، لیکن یہ اس سے پہلے کی اہم اور ناگزیر پیشرفت (مثال کے طور پر، زراعت میں بڑھتی ہوئی کارکردگی) اور بعد میں ہونے والی مشینی ایجادات (جیسے ٹیلی فون) کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی کے ذریعہ 2024 میں شائع ہونے والی تحقیق میں پیشوں پر توجہ مرکوز کی گئی اور اِس بات کی حمایت کی گئی کہ اِنقلاب کا آغاز 17 ویں صدی میں ہُوا۔
'صنعتی انقلاب' کی اصطلاح، جسے مورخ آرنلڈ ٹوئنبی (Arnold Toynbee) نے 1884 میں وضع کیا تھا، وہ غلط فہمی پر مبنی تھا کیونکہ تبدیلی کا یہ عمل نہ تو تیز تھا اور نہ ہی یہ عوامی اِنقلابی اقدام کا نتیجہ تھا۔ اِسکے عِلاوہ لفظ 'صنعتی' کی تعریف جو اُس دور میں کی گئی، اُسمیں دیہی زِندگی میں تبدیلیوں کی اہمیت شامِل نہیں۔ جو بات زیادہ یقینی ہے وہ یہ ہے کہ نامکمل لیبل 'صنعتی انقلاب' اس خیال کو ظاہر کرتا ہے کہ زبردست تبدیلیاں رونما ہوئیں تاکہ 19ویں صدی کے آخر میں دیہی علاقوں، شہروں اور عملی زندگی 16ویں صدی کے آخر سے آنے والوں کو ناقابل یقین لگیں۔ مصنف تھامس ہارڈی (Thomas Hardy 1840-1928) نے لِکھا کہ صِرف بھاپ سے چلنے والا ریلوے، 1066 میں نارمن کی انگلستان کی فتح کے بعد، شاید زیادہ تر لوگوں کے لیے 'انقلاب' کا سب سے زیادہ نظر آنے والا عنصر، کسی بھی ترقی سے زیادہ تبدیلی لایا۔
صنعتی انقلاب سب سے پہلے برطانیہ میں آیا، اس لیے جب صرف اِسی ملک کا ذکر کیا جائے تو اسے اکثر پہلا صنعتی انقلاب کہا جاتا ہے۔ اِس طرح کی مشینی اور شہری آبادکاری جب دوسرے ممالک میں پھیلی، اسے دوسرا صنعتی انقلاب کہا جاتا ہے، مثال کے طور پر فرانس میں 1830 سے، جرمنی میں 1850 سے اور امریکہ میں 1865 سے۔
صنعتی انقلاب کی وجوہات
صنعتی انقلاب برطانیہ میں کئی وجوہات کی بنا پر شروع ہوا۔ پہلے وہاں ایک موثر زرعی نظام تھا جو بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضرورت کو پُورا کر سکتا تھا۔ کوئلے کے ذخائر کی شکل میں، برطانیہ کے پاس وافر سستا ایندھن موجود تھا اور 1700ء میں ہی کان کنی میں مہارت کی وجہ سے، وہ یورپ کے کل کوئلے کا 80 فیصد پیدا کر رہا تھا۔ برطانیہ اعلیٰ معیار کا لوہا بنانے کے لیے گرے رنگ کا سخت گھُرگھرا کوئلہ (coke) بطور ایندھن استعمال کرنے کا عِلم رکھتا تھا۔ کوک کو بھٹی میں بیکنگ کوئلے سے بنایا جاتا تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ آلودگی سے پاک ہو۔ کوک کو استعمال کرنے والی پہلی کام کرنے والی بلاسٹ فرنس (working blast furnace) کا استعمال 1709 میں کول بروکڈیل کے مُقام پر شروپ شائر (Shropshire) میں کیا گیا تھا، یہ ابراہام ڈربی (1678-1717 Abraham Darby) کی ملکیت تھا۔ برطانیہ کے پاس صنعتی انقلاب کے باقاعدہ آغاز سے پہلے ہی مشینیں بنانے کے لیے مواد اور ان کو طاقت دینے کے لیے ایندھن دونوں موجود تھے۔
برطانیہ میں پھیلتے ہُوئے زرعی نظام کی وجہ سے مزدوری نِسبتاؐ مہنگی تھی کیونکہ باڑ لگا کر مخصوص کی گئی زمین استعمال کی جا رہی تھی (عام زمین کو کاشتکاری کیلئے مانگ لیا گیا تھا) لہازہ فارموں کو زیادہ مزدوروں کی ضرورت تھی، جیسے جیسے شہری آبادی بڑھی، مزدُور طبقہ میں کمی آ گئی، اور یوں اُجرتوں میں اضافہ ہوا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ مُوجدوں کا مشینوں کو ڈیزائن کرنے کے پیچھے مقصد مُنافع کمانا تھا تا کہ مزدُوری کی لاگت کم ہو سکے۔ حکومتوں کی طرف سے سرمایہ داروں کو ایجادات میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے سازگار حالات فراہم کیے گئے تھے اور اب برطانیہ کی تجارتی سلطنت، ایسٹ انڈیا کمپنی کے قیام کیساتھ، تیار کردہ اشیا کے لیے منڈی فراہم کر کے ایسی اختراعات سے فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کی جا سکتی تھی۔ لوگوں میں کام تلاش کرنے کے لیے دیہی علاقوں کو چھوڑنے کا رجحان بھی تھا، اور اس کا فائدہ اٹھا کر کاروباری مالکان نے مشینی کارخانے، خاص طور پر سُوتی ملیں قائم کرنے میں تیزی کی۔ اِسطرح جب شہری آبادکاری ایک رفتار سے بڑھ رہی تھی، ایجادات نے 'انقلاب' کو تیز کر دیا کیونکہ اس سے بھی بہتر مشینیں بنانے کے لیے مزید مشینیں ایجاد کی گئیں، اور اس طرح مشینوں کے ذریعے کام لینا بڑھ گیا۔ ریل کی پٹری بِچھانے سے لوہے اور اسٹیل کی اور بھی زیادہ مانگ پیدا کرکے اس عمل کو جاری رکھا۔ شہری آبادکاری کی رفتار میں مزید اضافہ ہوا، اور ایک نئی متوسط طبقے کی صارف منڈی پیدہ کی گئی، جس نے مزید جدت اور مصنوعات کی مانگ کو بڑھا دیا۔ کچھ دوسرے ممالک میں ان میں سے کچھ کارآمد عوامل موجود تھے لیکن کسی میں بھی برطانیہ جتنے نہیں تھے۔
موجد اور مشینیں
بھاپ کا انجن
پانی، ہوا اور مسل پاور یعنی پٹھوں کی طاقت طویل عرصے سے بھاری مشینری، جیسے کہ ونڈ ملز (ہوا کی چکیوں) اور واٹر وہیلز (پانی کے پہیوں) کے لیے استعمال کی جا رہی تھی۔ ان ابتدائی مشینوں کی وجہ سے کاروباری مالکان کو گھریلو صنعت کے پرانے ماڈل کو تبدیل کرنے میں مدد مِلی، مثال کے طور پر، ہنر مند بنکر (skilled weavers) اپنے گھروں میں کام کرتے تھے اور ایک فیکٹری سسٹم میں رہتے ہُوئے بہت سے غیر ہنر مند کارکن فیکٹری کے احاطے میں رہتے تھے اور مشینیں چلاتے تھے۔ بھاپ کے انجن کی ایجاد اس سے بھی بڑی تبدیلی کا محرک تھی۔ سب سے پہلے بھاپ کی طاقت کو تیار کیا گیا تاکہ پمپ، کان کی شافٹ (mine shafts) کو نکال سکیں اور گہری کان کنی کی جا سکے۔ اسٹیم پمپ کو 1698 میں تھامس سیوری (Thomas Savery تقریباؐ 1650-1715) نے پیٹنٹ کیا تھا (حقِ اِیجاد کیساتھ آغاز کیا)۔ 1710 میں، تھامس نیوکومن (Thomas Newcomen 1664-1729) نے سیوری کے ڈیزائن (Savery's design) کو ضرورت کیمُطابق ترتیب دیا اور مشین کو مزید موثر بنایا۔ نیوکومین کی مشین 153 فٹ (46.6 میٹر) گہری کان کے شافٹ میں سے ہر گھنٹے میں 5,000 گیلن (22.7 K لیٹر) کھینچ سکتی تھی۔ مسئلہ مشین کے لیے درکار ایندھن کی مقدار کا تھا۔ 1769 میں، میتھیو بولٹن (Matthew Boulton 1728-1809) کی پیشرفت کے ساتھ جیمز واٹ (1736-1819) کے ڈیزائن کردہ واٹ اسٹیم انجن نے ایک طاقتور انجن کی مارکیٹ کی مانگ کا جواب دیا جسے کہیں بھی استعمال کیا جا سکتا تھا۔ فخریہ طور پر 1800 تک، بھاپ کے انجنوں کی تعداد 2,500 تک پہنچ گئی، جن میں سے زیادہ تر کانوں، رُوئی کی ملوں اور کارخانوں میں استعمال ہوتے تھے۔ اس کا موازنہ فرانس میں 200 اور امریکہ میں 10 سے کم انجنوں سے ہوتا ہے۔ اور بھی بنانے والے آئے جِنہوں نے بھاپ کے انجن کی طاقت کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا تاکہ 1830 کی دہائی تک انہیں ریل گاڑیوں اور بحری جہاز چلانے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
ٹرانسپورٹ
بھاپ سے چلنے والی ریلوے نے سفر اور خود برطانیہ میں انقلاب برپا کردیا۔ 27 ستمبر 1825 کو جارج سٹیفنسن ( George Stephenson 1781-1848) کی ایجاد کردہ لوکوموشن 1 (Locomotion 1) ریل گاڑی کے ذریعے سب سے پہلے انگلینڈ کے شمال مشرق میں اسٹاکٹن سے ڈارلنگٹن (Stockton to Darlington) تک ریل کے مسافروں نے سفر کیا۔ 1829 میں، جارج سٹیفنسن کے بیٹے، رابرٹ سٹیفنسن (Robert Stephenson 1803-1859) نے راکٹ بنایا، اور اسے رین ہل ٹرائلز (Rainhill Trials برطانیہ میں ہونے والا ایک اہم ریلوے مقابلہ) میں داخل کیا۔ آزمائشی مُقابلے، مانچسٹر سے لیورپول کو جوڑنے والی ریلوے لائن پر، بہترین انجن تلاش کرنے کے لیے مُنعقد کئے گئے تھے، جو 1830 میں کھلا تھا۔ 1838 میں برمنگھم کو لندن سے مِلا دیا گیا، 1841 میں، مسافر، دارالحکومت سے برسٹل تک، ایک عظیم مغربی ریل لائن پر سفر کر سکتے تھے۔ 1845 تک، مانچسٹر سے لندن تک ایک ریلوے پٹڑی تھی، جِسکی وجہ سے یہ سفر آٹھ گھنٹے کا رہ گیا (پرانے اسٹیج کوچز میں 80 گھنٹے لگتے تھے)۔ ریل کا سفر عروج پر تھا۔ 1870 کی دہائی تک، 15,000 میل (24,000 کلومیٹر) سے زیادہ ریل کی پٹریاں تھیں، جن میں ہر سال 300 ملین سے زیادہ مسافر اور 150 ملین ٹن سے زیادہ سامان لے جانے والی ریل گاڑیاں چلتی تھیں۔
بھاپ سے چلنے والی ریل گاڑیوں کے نظام کے بعد یہی نظام بحری نقل و حرکت میں بھی اِستعمال ہُوا۔ انجینئر اسامبارڈ کنگڈم برونیل (1806-1859 Isambard Kingdom Brunel) نے اپنے بڑے بحری جہاز ایس ایس گریٹ ویسٹرن (1838)، اختراعی پروپیلر سے چلنے والے (innovative propellor-driven) ایس ایس گریٹ برطانیہ (1843) اور ایس ایس گریٹ ایسٹرن (1858) کو طاقت دینے کے لیے بھاپ کے انجن کا استعمال کیا، جو دنیا کا سب سے بڑا بحری جہاز 692 میٹر (1112 فٹ) لمبا تھا۔ ان بحری جہازوں اور دیگر نے پہلے سے کہیں زیادہ تیز رفتاری سے بحر اوقیانوس کو عبور کیا ( 32 کے مقابلے میں 10 دن کا سفر)۔ حوصلے بڑھے اور جلد ہی ہندوستان اور آسٹریلیا کے لیے نئے راستے قائم ہو گئے۔
کارخانے
1790 کی دہائی سے بھاپ سے چلنے والی مشینیں، سُوتی کپڑے کی صنعت میں اتنی کامیابی کے ساتھ استعمال کی گئیں کہ 1835 تک تقریباً 75 فیصد کپڑے کے کارخانے بھاپ کی طاقت سے چل رہے تھے۔ سلسلہ وار مشینوں کی ایجاد نے انقلاب برپا کیا کہ کس طرح کپاس کو صاف کیا جائے، کاتا جائے اور بُنا جائے۔ ان تکنیکی آلات میں مندرجہ ذیل سُوت کاتنے کے آلات شامِل تھے: فلائنگ شٹل ( 1733 John Kay)، اسپننگ جینی (James Hargreaves 1764)، واٹر فریم (Richard Arkwright 1769)، اسپننگ مول (Samuel Crompton 1779)، پاور لوم (Edmund Cartwright 1785)، کاٹن جِن (Eli Whitney, 1794)، اور رابرٹ کا لوم Robert's loom اور خُود کار مُول (سُوت کاتنے کی مشین) (Richard Roberts 1822-5)۔ مشینی کارخانے کے نظام کی وجہ سے، برطانوی "1836 کی کاٹن مل اتنی موثر تھی کہ یہ دنیا میں کہیں بھی ہاتھ کی کتائی کا مقابلہ کر سکتی تھی" (ایلن، 187)۔
کچھ لوگوں نے بڑھتے ہوئے اِس مشینی نظام کیخلاف احتجاج کیا۔ 1811 اور 1816 کے درمیان کا عرصہ فیکٹری مالکان کے لیے خاصا مشکل تھا۔ لدیوں (Luddites اُنیسویں صدی کے سُوتی کارخانوں میں کام کرنے والے) نے فیکٹریوں میں گھس کر ان مشینوں کو توڑ دیا جنہوں نے ان کی روزی روٹی چھین لی تھی۔ تاہم، طویل مدت میں، کارخانوں میں پرانی سُوتی صنعتوں سے کہیں زیادہ ملازمتیں پیدا ہوئیں۔ 1830 تک، 80 میں سے ایک برطانوی، سُوتی کارخانے میں کام کرتا تھا۔
زراعت
صنعتی انقلاب کو اکثر زرعی سے صنعتی معاشرے میں منتقل ہونے کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، لیکن زراعت برطانوی معیشت کا ایک اہم شعبہ رہی۔ کھیتی باڑی کے ذریعے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضرورت پُوری کرنے کے لیے زمین کی توسیع کی گئی۔ 1760 سے 1815 تک کے 55 سالوں میں، 7 ملین ایکڑ (28,300 km²) سے زیادہ برطانوی فرقہ وارانہ اراضی صنعتی مقاصد کیلئے لی گئی۔ بہتر کھادوں سے فصل کی پیداوار بہتر ہُوئی اور افزائش کے نئے طریقوں سے مویشیوں، جانوروں میں بہتری آئی۔
واٹ سٹیم انجن (Watt steam engine) کی نقل و حرکت اور ایندھن کی کارکردگی کا مطلب یہ تھا کہ کسان مختلف مشینوں کو کہیں بھی ضرورت کے عین مطابق استعمال کر سکتے تھے۔ اینڈریو راجرز (Andrew Rodgers) نے 1737 میں وننونگ مشین (winnowing machine) ایجاد کی (جس نے گندم کو بھوسے سے الگ کیا)۔ 1787 میں اینڈریو میکل (1719-1811 Andrew Meikle ) نے بھاپ سے چلنے والی پہلی تھریشنگ مشین ایجاد کی (جس نے اناج کو بھوسی سے الگ کیا)۔ بھاپ سے چلنے والی مشینیں ان درختوں کو اکھاڑ سکتی تھیں جو کھیتوں کو مسدود کر رہے تھے اور سیم علاقوں کو سیم سے آزاد کر سکتے تھے اور اُن عِلاقوں کو قابل کاشت بنا سکتے تھے۔ مشین سے بنے اوزار سستے تھے، ان کے کاٹنے والے کنارے بہتر تھے، اور پہلے سے زیادہ دیر تک چلتے تھے۔ بڑے پیمانے پر پیداوار، کسانوں کی مشینوں کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کے بجائے اضافی پُرزوں سے مرمت کرنے کا سبب بنی۔
ان تمام عوامل سے سب کے لیے خُوراک سستی ہو گئی۔ برطانوی زرعی مصنوعات، درآمدات کے ساتھ، آبادی کی خُوراک کی ضرورت پُورا کرنے کے قابل تھیں جو کہ 1750 میں 6 ملین سے بڑھ کر 1851 میں 21 ملین تک پہنچ گئی تھی۔ ایک منفی پہلو یہ تھا کہ جیسے جیسے کاشتکاری زیادہ پیداواری ہوتی گئی، کرائے بڑھنے لگے، جس کا مطلب تھا کہ بہت سے چھوٹے پیمانے پر کسانوں کو دوسری جگہ منتقل ہونے یا ایک مختلف پیشہ اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ Luddites کی طرح، کچھ نے مشینی نِظام کیخِلاف پرتشدد احتجاج کیا۔ 1830 سے 1832 کے سوئنگ ہنگاموں (Swing Riots) کی وجہ سے، ایک مُختصر وقت کیلئے دیہی ِعِلاقوں میں مشینوں کی تباہی کا منظر دیکھنے کو مِلا ۔ اگرچہ یہ سچ تھا کہ لوگوں نے نئے کام اور شہروں میں نئی زندگی کی تلاش کے لیے دیہی علاقوں کو چھوڑ دیا، لیکن بہت سے لوگ باقی رہ گئے۔ 1841 میں، "5 میں سے صرف 1 سے تھوڑا زیادہ، ملک کی افرادی قوت کا 22 فیصد، زمین پر کام کرتا تھا" (شیلی، 44)۔
دیگر ایجادات
صنعتی انقلاب کے دوران دیگر اہم ایجادات میں جان ہیریسن (1693-1776 John Harrison) کا سمندری کرونومیٹر (marine chronometer) بھی شامل تھا، جو اُس نے 1770 میں ایجاد کیا، جس نے بحری جہاز رانوں کو طول بلد کی درست پیمائش کرنے کی سہولت فراہم کی۔ دنیا کا پہلا کاسٹ آئرن پل (cast iron bridge) ابراہام ڈربی (III Abraham Darby1750-89) نے شروپشائر میں دریائے سیورن پر بنایا، جسے 1781 میں عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ فریڈرک البرٹ ونسر (1763-1830 Frederick Albert Winsor) نے 1807 میں لندن میں اپنی نئی ایجاد سٹریٹ لائٹ کا مظاہرہ کیا، جِس کے لئے کوئلہ کی گیس اِستعمال ہُوئی جو ایک اِنتہائی مُفید (مادہ) گیس تھی اور جوکھانا بنانے اور گھر کو گرم کرنے کیلئے بھی اِستعمال ہُوئی. گھسائی کرنے والی مشین (milling machine) کی ایجاد 1818 کے آس پاس ہوئی، لیکن، اس دور میں مخصوص ایجادات کی خاص بات یہ تھی کہ چُونکہ خیالات کا یا تو تبادلہ ہوتا تھا، یا اِنہیں ادھار اور چوری کیا جاتا تھا، اس بات کا تعین کرنا مشکل ہے کہ کونسی ایجاد کس کی تھی۔ مشین کے ذریعے کاٹے گئے ٹُکڑے جیسے بولٹ اور نٹ کا ہاتھ سے بنانا ناممکن ہوتا۔ پورٹ لینڈ سیمنٹ (Portland cement) کوالٹی کے اعتبار سے ایک تیز سیمنٹ تھا جو 1824 میں جوزف اسپڈین (1778-1859 Joseph Aspdin) نے ایجاد کیا۔ ٹیلی گراف مشین 1837 میں ولیم فودرگل کک (1806-1879 William Fothergill Cook) اور چارلس وہیٹ اسٹون (1802-1875 Charles Wheatstone) نے ایجاد کی جس نے مواصلات میں انقلاب برپا کیا۔ بھاپ کے ہتھوڑے کو 1839 میں جیمز نیسمتھ (1808-1890 James Nasmyth) نے تیار کیا جِس سے دھات کے بڑے ٹکڑوں کو یکساں طور پر موڑنے میں مدد مِلی، جو بڑے بھاپ کے انجنوں، پلوں اور جہازوں کے لیے ضروری تھا۔ آخر کار، بیسیمر کنورٹر (Bessemer converter)، جسے ہنری بیسیمر (1813-1898 Bessemer converter) نے 1856 میں ایجاد کیا،جو لوہے سے زیادہ مضبوط اور ہلکا تھا اور جِس سے اسٹیل کی پیداوار اِنتہائی سستی، آسان ہو گئی۔
صنعتی انقلاب کے مثبت اثرات
برطانوی صنعتی انقلاب کے اثرات ڈرامائی تھے۔ بھاپ سے چلنے والی مشینوں نے پیداواری لاگت کو کم کیا، زیادہ منافع کمایا گیا، اور بڑے پیمانے پر پیداواری اشیا سستی ہُوئیں۔ نقل و حمل کے انقلاب نے اس رجحان کو جاری رکھا کیونکہ ایک ریل گاڑی نہری کشتی سے 20 گنا زیادہ سامان لے جا سکتی تھی اور آٹھ گنا تیز رفتاری سے اپنی منزل تک پہنچ سکتی تھی۔ مشینی ذرائع اور ریلوے نے کوئلے کی کان کنی، لوہے اور سٹیل کی صنعتوں میں تیزی پیدا کی (جِس کی وجہ سے) بہت بڑی تعداد میں نئی مُلازمتیں، ریلوے اسٹیشنوں، تعمیراتی مقامات پر، اور فیکٹریوں میں پیدہ ہُوئیں۔ خواتین کو زیادہ مالی آزادی ملی، سُوتی فیکٹریوں میں نصف سے زیادہ افرادی قوت خواتین پر مشتمل تھی۔ زیادہ تر لوگ سال میں ایک بار سمندر کے کنارے سیر و تفریح کی غرض سے ریل گاڑی کے متحمل ہوسکتے تھے۔ ٹیلی گراف کا مطلب تھا مواصلات کی رفتار میں بہت زیادہ اضافہ۔
کاغذ سازی اور پرنٹنگ مشینوں کی بدولت کتابیں سستی ہونے کی بدولت خواندگی میں بہتری آئی اور بنیادی تعلیم کے مواقع بڑھے۔ شہروں میں لوگوں نے کم عمری میں شادی کی اور ان سے زیادہ بچے ہوئے۔ بہتر خوراک اور نئی ویکسینیشن (vaccinations) کی وجہ سے متوقع عمر میں اضافہ ہوا لیکن زیادہ تر انحصار کسی شخص کے کام پر تھا جبکہ کچھ ادوار میں بچوں کی اموات کی شرح زیادہ ہو سکتی تھی۔
1800 تک شہری آبادی کا تقریباً 25% حِصہ متوسط درجہ کو پہنچ گیا، اور وہ اکثر خوشگوار سبزہ زار شہری مُضافات میں رہنے کے قابل تھے۔ متوسط طبقے کے لوگ ان دکانوں پر کثرت سے جانے لگے تھے جن کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا اور جہاں برطانیہ اور اس کی سلطنت کے مختلف حصوں سے لائی گئی نت نئی اور وسیع اقسام کا سامان دستیاب ہوتا تھا۔ اب اُنکے لئے، قابلِ خرچ آمدنی (یعنی ٹیکس کٹوتی کے بعد کی خالص آمدنی) کو مارکیٹنگ کی نئی حکمت عملی جیسے بڑے پیمانے پر اشتہارات، جوشیہ ویگ ووڈ (1730-1795 Josiah Wedgwood) جیسے خوبصورت شو رومز کے ذریعے خرچ کرنا آزمائش تھا۔ متوسط طبقہ لوگوں کو ملازمت پر رکھ سکتا تھا اور اپنے بچوں کو بہتر اسکولوں یا نجی معلّم کے پاس بھیج سکتا تھا۔ صنعتی انقلاب کے دوران زیادہ تر لوگوں کا معیار زندگی اوسطاً 30 فیصد تک بلند ہوا، لیکن صرف 1830 کی دہائی سے یہ نچلے طبقے کا تجربہ تھا۔
صنعتی انقلاب کے منفی اثرات
'انقلاب' کے فوائد کی ایک قیمت ادا کرنا پڑی۔ روایتی صنعتیں جیسے ہینڈ ویونگ اور سٹیج کوچز (handweaving and stagecoaches) بھاپ کی طاقت کے متعارف ہونے کے بعد ختم ہو گئے تھے۔ سستی مزدوری کی طلب غیر تسلی بخش تھی کیونکہ کاروباری مالکان کے لیے منافع کا مقصد، زیادہ اہم ہو گیا تھا۔ 1800 سے 1850 تک، کان کنی کی افرادی قوت میں بچوں کی تعداد 20-50% کے درمیان تھی، جو اوسطاً آٹھ سال کی عمر سے کام کرتے تھے۔ چائلڈ لیبر (بچوں کی مزدوری) کا استعمال ہر صنعت میں کیا جاتا تھا اور اُن سے کم تنخواہ پر بالغوں کی طرح 12 گھنٹے کی شفٹ کے حِساب سے کام لے کر استحصال کیا جاتا تھا۔ 1851 کے ایک کمیشن نے دیکھا کہ "15 سال سے کم عمر کے ایک تہائی بچے گھر سے باہر کام کرتے ہیں" (ہارن، 57)۔ یہ بچے اکثر مختصر اور غیر تعلیم یافتہ زندگی گزارتے تھے۔
فیکٹریوں نے بہت سی نئی ملازمتیں پیش کیں، لیکن زیادہ تر کام غیر ہنر مند، بے لطف اور دہرایا جانے والا تھا۔ تنخواہ باقاعدگی سے تو دی جاتی تھی، لیکن کام کے لئے گھڑی کی حکمرانی تھی. کم از کم اجرت کا کوئی اصول نہیں تھا، تنخواہوں کا تعلق مہنگائی سے نہیں تھا، اور ملازمین کو فوری طور پر برطرفی کے مستقل خطرے کا سامنا ہوتا تھا۔ فیکٹری کے کارکنوں کے پاس قابل منتقلی مہارتیں کم تھیں، اس لیے وہ اُسی کام میں پھنسے ہوتے تھے، جِس میں وہ تھے۔ اب اگر کوئی کاروبار کھولنے کے لیے مشینری میں سرمایہ کاری کرے تو اُسے اہم سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ مصنوعات کی مُقابلے کی قیمت حاصِل ہو سکے۔ مزید برآں، فیکٹری کے نظام میں، جہاں مزدور پیداواری عمل کے صرف ایک مخصوص حصے پر توجہ مرکوز کرتے تھے، اُنہیں تیار مصنوعات کی جانکاری کا کم احساس ہوتا تھا، اُس پیداواری عمل کے مُقابلے میں جہاں ایک کارکن کسی ایک ہی چیز پر کام کرتا ہو۔






A Gallery of 30 Industrial Revolution Inventions
مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے فیکٹریاں خطرناک اور غیر صحت بخش جگہیں تھیں۔ کپاس کے دھاگوں کی حفاظت کے لیے سُوتی ملوں کو ہمیشہ اندھیرا اور نم دار رکھا جاتا تھا جو کارکنوں کے پھیپھڑوں کے لیے نقصان دہ تھا۔ بارودی سرنگوں میں بھی اسی طرح کا خطرہ تھا اور دیگر مشینیں بھی خطرناک تھیں اور ٹکڑوں کے ٹوٹ جانے یا تیزی سے چلنے والے پرزے انگلیوں اور اعضاء میں پھنس جانے پر شدید چوٹ کا باعث بنتی تھیں۔ فیکٹریوں میں شور ہوتا تھا، اور کارکن اکثر سماعت کی کمزوری کا شکار ہوتے تھے۔ سیسہ اور پارے جیسے زہریلے مادوں کا عام استعمال صحت کے لیے ایک اور خطرہ تھا۔ نگران (Managers) سخت قوانین نافذ کرتے تھے اور جرمانے کرتے تھے۔ 1799 اور 1824 میں حکومت کی طرف سے انجمن پیشہ وران trade unions بنانے کی کوششوں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔ بتدریج 1830 کی دہائی سے اصلاحات ہوئیں، اور کام کے حالات اور کارکنوں کے حقوق میں بہتری آئی کیونکہ اوقاتِ کار 10 گھنٹے تک محدود تھے اور آجر کام کی جگہ پر حفظان صحت اور حفاظت پر زیادہ توجہ دینے کے پابند تھے۔
صنعتی انقلاب کے دوران شہری آبادی میں بہت تیزی آئی۔ 1851 کی مردم شماری سے پتہ چلا کہ، پہلی بار، زیادہ لوگ دیہی علاقوں کی نسبت قصبوں اور شہروں میں رہ رہے تھے۔ اِس رجحان سے کئی مسائل نے جنم لیا۔ شہر زیادہ گُنجان ہو گئے، اور اب اکثر کارکُن مکانات کا کرایہ بانٹ کر سستے مکانات میں رہنے لگے۔ صفائی نہ ہونے سے گلیاں آلودہ ہو گئیں۔ 1837، 1839 اور 1847 میں ٹائفس (typhus) کی وبا پھیلی تھی، 1831 اور 1849 میں ہیضے کی وبا پھیلی اور ہوا بھی آلودہ تھی (کیونکہ) بہت سی فیکٹریاں اپنے کوئلے کی بھٹیوں سے دھواں نکال رہی تھیں۔ جرائم میں اضافہ ہوا، اگرچہ زیادہ ترمعمولی نوعیت کے تھے، کیونکہ غریب شہریوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور بڑے شہروں میں گُمنامی کی وجہ سے انصاف سے بچنا آسان ہو گیا۔ ریاست نے بے روزگاروں کی مدد کے لیے ورک ہاؤس کی صورت میں ایک نیم دلی کوشش کی۔ یہ ایک ایسا ادارہ تھا جس نے جان بوجھ کر سہولیات کو عام کم ترین مزدور کی زندگی سے بھی گھٹیا رکھا، تاکہ لوگ اسے روزگار کا کوئی پرکشش متبادل نہ سمجھ بیٹھیں۔ تمام مسائل کے باوجود، شہری آباد کاری جاری رہی کہ 1880 تک برطانیہ کی صرف 20% آبادی دیہی علاقوں میں رہتی تھی، اور زمین کی ملکیت صرف 5% آبادی پر مرکوز تھی۔
صنعتی انقلاب کا پھیلاؤ
دوسرے ممالک بھی برطانیہ کیساتھ مِل گئے۔ ٹیکنالوجی، صنعت، اور کاشتکاری کے تعلق سے خیالات آسانی سے سرحدوں کو عبور کر گئے۔ بہت سستی مزدوری یا مہنگا ایندھن والے کچھ ممالک کو مشینیں سستی اور زیادہ کارآمد ہونے تک انتظار کرنا پڑا۔ ریلوے کا پھیلاؤ اس عمل کا ایک اچھا اشارہ تھا۔ ریاستہائے متحدہ میں، پہلی ورکنگ ریل روڈ 1833 (نیویارک سے فلاڈیلفیا) میں مکمل ہوئی۔ براعظم یورپ میں پہلی ریلوے لائن بیلجیم میں 1835 میں مکمل ہوئی (برسلز سے مالینز)۔ 1870 تک، کینیڈا، آسٹریلیا، بھارت، اور یورپ کا بیشتر حصہ ریلوے مینیا میں شامل ہو چکا تھا (ریلوے کے میدان میں سرمایہ کاری کیلئے ایک پلیٹ فارم)۔ دُوسری قِسم کی تبدیلیوں میں بھی ایسا ہی طرزِ عمل تھا۔ 20ویں صدی تک، خواہ براہ راست یا بالواسطہ، دنیا کی چند ریاستیں صنعتی انقلاب کی پیش کردہ ترقی کے اثرات سے متاثر نہیں رہیں۔
