ہنومان

تعریف

Anindita Basu
کے ذریعہ، ترجمہ Zohaib Asif
28 July 2016 پر شائع ہوا
دوسری زبانوں میں دستیاب: انگریزی
Monumental Statue of Hanuman (by Puja 1984, CC BY-SA)
ہنومان جی کا شاہکار مجسمہ
Puja 1984 (CC BY-SA)

ہنومان ہندی دیو مالائی روایات میں متعدد حيوانی پيکَر کرداروں میں سے ایک ہے، لیکن وہ واحد ایسی شخصیت ہیں جن کی مکمل طور پر ایک غیر انسان ہونے کے باوجود ایک دیوتا کے طور پر تعظیم کی جاتی ہے۔ دیو مالائی اور مافوق الفطرت متون اس کے بارے میں دیوتائے باد و صبا کے پَون پتر کے طور پر ان کا تذکرہ کرتے ہیں، جن میں بہت زیادہ طاقت اور فطانت موجود تھی اور جنہیں ویدوں کے ساتھ ساتھ علم و فضل کی دیگر شاخوں پر مکمل عبور تھا۔ وہ شری رام کے ایک پر جوش بھکت بھی بھی تھے، جو مہاکاوی و رزمیہ و حمامہ(دیو مالائی کہانی) رامائن کے مرکزی کردار تھے، اور ان میں یہ صلاحیت بھی موجود ہے کہ وہ اپنی اِچھا کے مطابق جو چاہے وہ شکل اختیار کر سکتے تھے۔

رامائن میں ہنومان جی کا کردار

مہاکاوی/رزمیہ کہانی رامائن میں ہنومان جی کا پہلا حوالہ ’’ بندروں کے گروہ‘‘ میں موجود ایک عام سے بندر کے طور پر دیا جاتا ہے- اور مانَو جاتی اور کسی جن و انس کو ان کے اتنے بڑے کردار کا رتی برابر بھی اندازہ نہیں ہوتا، جو انہوں نے کہانی کے آئندہ و باقی حصے میں ادا کرنا تھا۔ راون، ایک راکشس، نے جلاوطن شہزادے شری رام کی دھرم پَتنی ماں سیتا کو اغوا کر لیا اور اس کے چنگل میں ماں سیتا کو طرح طرح کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ جب راون اپنے ہوائی رتھ میں ماں سیتا کو لے جا رہا تھا تو سیتا نے ایک پہاڑ کے اوپر کچھ بندروں کو دیکھا اور اپنے زیورات نیچے پھینک دیے، اس امید پر کہ بندروں کے پاس ماں سیتا کے زیورات دیکھ کر ان کے شوہر شری رام کی توجہ ان کی جانب مبذول ہو جائے گی، جو یقیناً اسی جنگل میں انہیں تلاش کر رہے ہوں گے۔ ہنومان جی انہیں چار بندروں میں سے ایک تھے۔ بندروں کے اس گروہ نے شری رام کو ماں سیتا کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے شری رام سمندر کے پار پہنچانے میں ایک پل تیار کرنے میں ان کی مدد کی اور بندروں کی ایک فوج کے ساتھ سمندر پار کر کے راکشس راون کے قلعے پر دھاوا بول کر ماں سیتا کو اس کے چنگل سے آزاد کروایا

شری رام اور راون کی لڑائی میں ہنومان جی کا کردار بہت عظیم تھا۔ یہ وہی شخصیت ہیں جو سمندروں کی مسافتوں کو اڑ پر طے کر لیتے ہیں چونکہ وہ دیوتائے صبا و باد کے چشم و چراغ تھے۔ اور اس ٹھکانے کا پتہ لگاتے ہے جہاں ماں سیتا کو قید کیا گیا تھا اور یہ معلومات شری رام تک پہنچاتے ہیں۔ ماں سیتا کی تلاش میں شیطانی قلعے کے اندر، ہنومان جی نے پوری جگہ کو آگ لگا کر لنکا باسیوں کو ناکوں چنے چبوا دیے اور راون کو آئندہ ہونے والی فیصلہ کن جنگ کے بارے میں خبردار کیا اگر وہ ماں سیتا کو بغیر کسی نقصان کے واپس نہ کر دے۔

اپنے والد بزرگوار، دیوتائے صبا و باد سے ہنومان جی کو اپنی طاقت اور رفتار وراثت میں ملتی ہے۔ ان میں اپنی شکل بدلنے کی قوت بھی موجود ہے اور وہ اپنے مرضی کے تابع ہو کر اپنی جسامت کو بڑھا اور گھٹا بھی سکتے ہیں.

شری رام اور راون کی جنگ کے دوران میں، ہنومان جی نہ صرف کئی شیطان جرنیلوں کو موت کے گھاٹ اتار رہے تھے بلکہ شری رام کے بھائی لکشمن کو بھی انہوں نے ہی زندہ کیا تھا اور ان میں دوبارہ روح پھونکی تھی۔ لیکن انہوں نے ایسا کیا کیسے؟ دراصل، ہوا کچھ یوں تھا کہ شری رام کا بھائی راون کے بیٹے کے ہاتھوں زخمی ہو کر اپنی جان جان آفرین کے سپرد کر دیتے ہیں، اور بنروں کے فوجی طبیب کا خیال تھا کہ ہمالیہ کی چوٹیوں پر اگنے والی صرف چار مخصوص جڑی بوٹیاں ہی لکشمن جی کی جان بچا سکتی ہیں۔ کہانی کا لطف تو اس وقت دوبالا ہوتا ہے جب آپ سوچتے ہیں کہ جنگ لنکا میں ہو رہی ہے جڑی بوٹیاں ہمالیہ پر۔ کہاں لنکا اور کہاں ہمالیہ؟ اور جڑی بوٹیاں چاہیے بھی اگلے کچھ گھنٹوں میں اس سے پہلے کہ اگلے دن کا سورج طلوع ہو جائے۔ بس پھر کیا تھا؟؟؟ ہنومان جی نے اپنی دیویآئی خوبیوں کو بروئے کار لاتے ہیں اور بجلی کی رفتار سے فراٹے بھرتے ہوئے ہمالیہ کی چوٹوں پر جا کر دم لیتے ہیں۔ وہاں پہنچ کر اصل معمہ ان کے سامنے ظاہر ہوتا ہے۔ بندر فوج کے طبیب نے جڑی بوٹیوں کی شناخت کے حوالے سے تذکرہ کیا تھا کہ یہ جڑی بوٹیاں مانند جگنو روشنی چمکتی ہیں اور اس لیے ان کو تلاش کرنا آسان ہوگا۔ اب ہنومان جی کیا دیکھتے ہیں کہ ایک پورا پہاڑ رنگا رنگ روشنیوں سے دمکتی ہوئی جڑی بوٹیوں پر مشتمل تھا۔ ہر جڑی بوٹی اپنی الگ ہی روشنی ظاہر کر رہی تھی۔ طبیب کے بیان کردہ چار جڑی بوٹیوں کی صحیح شناخت کرنے سے قاصر ہونے کی وجہ سے، ہنومان جی نے وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ایک بہت نڈر اور بڑا فیصلہ لیا۔ انہوں نے پورے پہاڑ کو اکھاڑ کر بالکل اسی حالت میں عین میدان جنگ میں لے کر حاضر ہو گئے۔ طبیب کو اس کی مطلوبہ جڑی بوٹیاں مل جاتی ہیں، اور ابدی موت کے دہانے پر موجود شہزادے لکشمن کو دوبارہ حیات بخش دی جاتی ہے۔ اور ہزار خوشبودار جڑی بوٹیوں سے بھرے پہاڑ کا اثر اتنا قوی اور مضبوط تھا کہ دوسرے بندر جو جنگ میں مارے گئے تھے، وہ بھی صرف دوا کی خوشبو سے لبریز فضا میں کو سانس لینے سے دوبارہ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

Hanuman finds Sita
ہنومان جی کا ماں سیتا کو تلاش کرنے کے منظر کی عکاسی
M.V. Sharma (Public Domain)

ہنومان کو ہندو اساطیری روایات میں میں انتہائی خوش شکل، فصیح و بلیغ، اور بے عیب آداب و اطوار کے مالک شخص کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ انہیں تین ویدوں پو بھی عبور تھا۔اپنے والد بزرگوار، دیوتائے صبا و باد سے ہنومان جی کو اپنی طاقت اور رفتار وراثت میں ملتی ہے۔ ان میں اپنی شکل بدلنے کی قوت بھی موجود ہے اور وہ اپنے مرضی کے تابع ہو کر اپنی جسامت کو بڑھا اور گھٹا بھی سکتے ہیں

مہابھارت میں ہنومان جی کا کردار

مہابھارت ایک خاندان کی دو شاخوں کے بارے میں ایک مہاکاوی/دیومالائی قصہ و اساطیری روایت ہے جو تخت کے حصول کے لیے لڑی گئی تھی۔ مہابھارت کے شہزادوں میں سے ایک دیوتائے صبا کا فرزند مبارک بھی ہے اور اسی شہزادے کے سامنے ہی ہنومان جی ظاہر ہوتے ہیں۔ اس کہانی میں ہنومان جی کا واحد تذکرہ اسی مقام پر ہے۔ بھیم نام کا یہ شہزادہ، ہوا کے مانند چاق تھا اور ایک بار کھیلتے کھیلتے کیلے کے ایک بڑے جھنڈ میں گم گیا تھا، جسے اس نے تصادفاََ (ایسے ہی) تباہ کرنا شروع کر دیا۔ پھلوں کے درختوں کو اکھاڑتے ہوئے، اس شہزادے نے ایک بوڑھے بندر کو راستے کے کنارے سوتے ہوئے دیکھا، اور سوتے ہوئے اس بندر کی دم جھنڈ کے راستے پر پڑی ہوئی تھی۔ بھیم نے بندر کو حکم دیا کہ وہ اپنی دم ایک طرف کر لے۔ بندر نے آنکھیں کھولیں اور کہا کہ وہ بڑھاپے کی وجہ سے کافی کمزور و لاغر ہو چکا ہے اور اگر شہزادہ اسے آہستگی اور نرمی سے ایک طرف اٹھا سکتا ہے تو وہ اس کا ممنون و متشکر ہوگا۔ بھیم نہ تو اب تک صبر نام کی کسی چیز سے واقف تھا اور نہ ہی ادنی مخلوق سے بات چیت کرنے کا عادی تھا۔ اور اسی ریت کو دیکھتے ہوئے جب وہ بندر کو کیلے کے درختوں سے دور کہیں پھینکنے کے ارادے سے دم کو اٹھانے کے لیے جھکا تو ان تھک کوشش کرنے کے باوجود وہ دم کے ایک بال تک کو نہ ہلا پایا۔ بھیم تھک ہار کر بیٹھ گیا۔ بعد ازاں یہ معمہ کھلا کہ یہ بندر کوئی اور نہیں، ہنومان جی ہی تھے، جو کہ کرہ ارض پر سب سے زیادہ طاقت ور مخلوق تھے۔"طاقت و قوت کے ساتھ مذاق کرنا چاہیے اور نہ ہی اس کی وجہ سے مغرور ہونا چاہیے‘‘، یہ وہ الفاظ ہیں جو ہنومان جی نے شکست خوردہ بھیم سے کہے۔

بھیم سے اپنی نسبت کو ظاہر کرنے کے لیے علامتی طور پر، ہنومان جی نے بھیم کے چھوٹے بھائی ارجن کے رتھ کے جھنڈے پر سکونت اختیار کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ یہی وجہ ہے کہ ارجن کو کپی دھواج (کپی = بندر، دھواج = جھنڈا، کپی + دھواج = بندر کے جھنڈے والا، حامل علم بوزینہ) بھی کہا جاتا ہے۔ مہابھارت کی آخری جھڑپ کے دوران میں، ارجن کی جنگی چیخ و پکار کو جھنڈے پر موجود ہنومان جی کے نشان سے خارج ہونے والی گرج نے بہت زیادہ تک بڑھا دیا تھا، جس نے نتیجتاََ دشمن کے دل کمزور ہو گئے اور خوف و ہراس نے ان کے دلوں میں جگہ بنا لی

Rama & Hanuman
بھگوان رام اور ہنومان جی
Sowrirajan (CC BY)

پرانوں میں ہنومان جی کا تذکرہ

پرانوں میں بھیی ہنومان جی دیتائے صبا اور شہزادی انجنا کا سپُتر بیان کیا گیا ہے۔ انہیں اپنے نسبت مادری نام کی وجہ سے انجائینا کہہ کر پکارا گیا ہے۔ نسبت مادری ناموں سے پکارنے کی رویات اکثر ہندی افسانوی روایات اور اساطیری کہانیوں میں مروج تھی۔ مختلف پرانوں کے مطابق ماں انجنا کی شادی بندروں کے سردار کیسری سے ہوئی تھی۔ اور اس جوڑے نے شیو سے بیٹے کے لیے دعا کی، اور ہنومان ان کے ہاں شیو جی کے ایک اوتار، دیوتائے صبا کے توسط سے پیدا ہوئے تھے۔ اس طرح، ہنومان جی کے دو نام ہیں: وایو پتر (ہوا کا بیٹا) اور ساتھ ساتھ کیسری نندن (کیسری کا بیٹا)۔

پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہنومان جی کو ہنومان جی ہی کیوں کہا جاتا ہے؟؟؟ کہانی کچھ یوں ہے کہ : پیدا ہوتے ہی ہنومان جی کافی بڑے ہو گئے، اور حسب معمول تمام بندروں کی طرح چھلانگ لگانا شروع کر دیں، اور اپنی ماں سے پوچھا کہ اسے کیا کھانا چاہیے۔ انجنا نے ابھرتے ہوئے سورج کی طرف اشارہ کیا، جو کہ ہنومان جی کے لیے تو سنہری سحر میں سرخ رنگ کی ایک گول گیند نما شے ہی تھی، اور اسے بتایا کہ جو کچھ بھی اس جیسا نظر آتا ہے (یعنی پکے ہوئے پھل کی طرح) وہ اس کی خوراک ہے اور اسے کھا سکتا ہے۔ ہنومان جی نے سورج کو ہی ایک پکا ہوا پھل سمجھا اور اسے پکڑنے کے لیے ہوا میں چھلانگ لگا دی۔ دیوتاؤں کے بادشاہ نے آسمان پر سورج کی طرف تیز رفتاری سے ایک تاریک دھار دیکھ کر ہکا بکا رہ گئے اور انہیں ایسا محسوس ہوا جیسا کہ یہ دھار ابھی پورے سورج کو ہی نگل لے گی، اور انہوں نے اس اڑتی ہوئی شخصیت پر اپنی گرج برسائی۔ اس پر ہنومان نے قہقہہ لگایا اور کہا، "بادشاہ، کیا آپ نہیں جانتے کہ مجھ پر یہ سب وار کام نہیں کرتے؟ میں شیو کے دامن سے پیدا ہوا ہوں، آپ کی گرج میرا کچھ کیسے بگاڑ سکتی ہے؟ تاہم، اس لیے کہ دنیا تمہارا مذاق نہ بنائے اور تمہارا ٹھٹھہ نہ اڑائے، میں اپنی ٹھوڑی نوچنے کے لیے تمہارے ہتھیار کواجازت دیتا ہوں۔ "۔ ، دیوتاؤں کے بادشاہ کی عزت برقرار رہی، بے چُوک گرج سیدھا اپنے نشانے پر لگی اور کیسرن نندن کی ٹھوڑی کی حالت بگڑ گئی، اور وہ ہنومان کے نام سے مشہور ہو گئے (ہنو سے مراد ٹھوڑی، مان سے مراد ’’والا، کی‘‘، ہنومان= ٹوٹی ٹھوڑی والا)

پران ہمیں یہ بھی بتاتے ہیں کہ ہنومان کو وید اور دیگر علوم خود سوریا دیوتانے سکھائی تھیں۔ ہنومان جی نے اپنے اسباق کو سورج دیوتا کے رتھ کے ساتھ ساتھ گھومتے ہوئے سیکھا جب یہ آسمان میں گشت کر رہے تھے۔

Hanuman
ہنومان جی
Fae (Public Domain)

بعد میں تخلیق ہونے والے ادبی شہ پاروں میں ہنومان جی کا بیان

سولوھیں عیسوی کے دوران میں ، تلسی داس نامی شاعر نے رامائن کو مقامی زبان میں (سنسکرت جو کہ تعلیمی و تدریسی زبان تھی کے بجائے) عام جنتا میں مقبول اودھی زبان میں دوبارہ سنایا اور دیوتاؤں کے لیے کئی بھجن بھی لکھے۔ ایسا ہی ایک بھجن، ہنومان چالیسہ، آج بھی ہزاروں لوگ پڑھتے رہتے ہیں۔ تقریباً ۴۰ اشعار پر مشتمل یہ نغمہ ان تمام خصوصیات کی عکاسی کرتا ہے جن کی اہمیت کو ہنومان جی نے صدیوں پہلے اجاگر کر تھی: طاقت، عقیدت، ناکتخدائی و تجرُد، اور راستبازی۔ اس طرح ہنومان جی کا درجہ ایک بھگوان تک کا ہو گیا۔ ہنومان چالیسہ سے ایک اقتباس ذیل میں موجود ہے:

بھوت پِشاچ نِکٹ نہیں آویں

مہاویر جب نام سناویں

ناسے روگ ہرے سب پِیرا

جپن نِنرتر ہنومان بیرا

(بھوت پریت قریب نہیں آویں

جب مہاویر کا نام آوے

آزار ختم اور روگ ختم

جاپ کرو جو ہنومان کا تم)

اکیسویں صدی میں ہنومان جی کا تذکرہ

ہنومان جی کو آج ہندوستان کے کئی حصوں میں دیوتا کے طور پر پوجا جاتا ہے۔ ملک بھر میں خاص طور پر شمالی ہندوتان میں پولیس اسٹیشنوں اور ریسلنگ کلبوں میں ان سے منسوب ایک چھوٹا سا مندر تلاش کرنا تقریباً عام سی شے ہے۔ ہندوستان سے باہر بھیی، ہنومان جی کو ان ممالک میں جانا جاتا ہے جو ہندو ثقافت سے متاثر تھے جیسے انڈونیشیا، تھائی لینڈ اور ملائیشیا۔

صدیوں قبل ہندوستان میں تعمیر کیے جانے میں منادر میں ہنومان جی کا اظہار رامائن کی تصویری عکاسی سے ان منادر کی زینت کو بڑھا رہا ہے۔ انہیں اکثر اپنے پسندیدہ ہتھیار، گدی کے ساتھ دکھایا جاتا ہے۔ انہیں اکثر ایک ہاتھ میں گدی اور دوسرے ہاتھ میں جڑی بوٹیوں والا پہاڑ اٹھائے بھی آسمان کے پار اڑتے ہوئے بھی دکھایا جاتا ہے۔

کتابیات

ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا ایک ایمیزون ایسوسی ایٹ ہے اور اہل کتاب کی خریداری پر کمیشن

مترجم کے بارے میں

Zohaib Asif
جی میں زوہیب ہوں، زبان کا جادوگر اور ذہن کا مورخ۔ وقت کی چابی موڑنے والا، ماضی کے دریچوں میں جھانکنے والا الفاظ کا سنار۔ زبان اور تاریخ کے اس سفر پر میرا ساتھ ضرور دیجیے کیوں کہ اکھٹے ہم تاریخ کے سر بستہ رازوں سے پردہ ہٹائیں گے اور ساتھ ساتھ اٹھکیلیاں بھی کریں گے

مصنف کے بارے میں

Anindita Basu
انِندِتا تکنیکی مواد پیدا کرنے والی لکھاری اور مدیر ہیں۔ ٹیکنیکل میدان سے ہٹ کر ان کی دلچسپی کے مرکز و محور تعلیمات ہند، ڈیٹا ویژوالائیزیشن، اور اشتقاق ہیں

اس کام کا حوالہ دیں

اے پی اے اسٹائل

Basu, A. (2016, July 28). ہنومان [Hanuman]. (Z. Asif, مترجم). World History Encyclopedia. سے حاصل ہوا https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-14399/

شکاگو سٹائل

Basu, Anindita. "ہنومان." ترجمہ کردہ Zohaib Asif. World History Encyclopedia. آخری ترمیم July 28, 2016. https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-14399/.

ایم ایل اے سٹائل

Basu, Anindita. "ہنومان." ترجمہ کردہ Zohaib Asif. World History Encyclopedia. World History Encyclopedia, 28 Jul 2016. ویب. 22 Jun 2024.