ارشمیدس

سرور لاگت فنڈ ریزر 2024

دنیا کو مفت تاریخ کی تعلیم فراہم کرنے کے لئے ہمارے مشن کی مدد کریں! براہ کرم عطیہ کریں اور 2024 میں ہمارے سرور کے اخراجات کو پورا کرنے میں تعاون کریں۔ آپ کی حمایت سے، لاکھوں لوگ ہر ماہ مکمل طور پر مفت تاریخ کے بارے میں سیکھتے ہیں۔
$3760 / $18000

تعریف

Joshua J. Mark
کے ذریعہ، ترجمہ Zohaib Asif
11 March 2022 پر شائع ہوا
دوسری زبانوں میں دستیاب: انگریزی, فرانسیسی, ہسپانوی
Archimedes by Fetti (by Domenico Fetti, Public Domain)
فیتی کی بنائی گئی ارشمیدس کی تصیر
Domenico Fetti (Public Domain)

ارشدمیدیس (دور حیات ۲۸۷ تا ۲۱۲ قبل مسیح) ایک یونانی ماہر تعمیرات، فقید المثال معمار اور موجد تھا جسے زمانہ قدیم کا سب سے عظیم ریاضی دان مانا جاتا ہے اور جنہیں اب تک کی انسانی تاریخ کے سب سے بلند رتبہ ماہران ریاضی میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کے سر کئی ایجادات کا سہرا رکھا گیا ہے جو آج بھی مستعمل ہیں (جیسے ارشدمیدیس پچی: سکریِو) اور اسے ریاضی اور ریاضی کی طبیعیات کا باوا آدم بھی کہا جاتا ہے۔

انہوں نے یونانی زیر تسلط سسلی کے شہر سیراکیوز (سرقوسہ) میں آنکھ کھولی، اور انہوں نے اپنی ساری زندگی وہیں گزاری بجز کچھ عرصے کے جو انہوں نے تعلیم کی پیاس بجھانے کی خاطر اسکندریہ، مصر میں گزارا۔ سکندریہ میں ہی ان کی ملاقات اور بعد ازاں دوستی ایک مشہور جامع العلوم شخص اراتوسینس (دور حیات ۲۷۶ تا ۱۹۵ قبل مسیح) اور ماہر فلکیات کونون ( دور حیات ۲۸۰ تا ۲۲۰ قبل مسیح) سے ہوئی، جن میں سے موخر الذکر ساموس کے رہائشی تھے۔ سیراکیوز واپس آنے پر، اس نے بادشاہ ہیرو دوم (دور حیات ۲۷۰ تا ۲۱۵ قبل مسیح) کے دربار میں بھی اپنی خدمات انجام دیں۔ شاہ وقت ہیئرو کے لیے ارشمیدیس کی حیثیت ایک ماہر معمار اور ایک ذکی و فہیم عالم کی سی تھی جو پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل کا حل نکالنا جانتا تھا اور جو گنجھلک گرہیں کھولنے کے قابل تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے دوسری پوینک جنگ (۲۱۸ تا ۲۰۱) کے دوران میں رومیوں کے خلاف سیراکیوز کے دفاع کے لیے بہت سے ہتھیار تیار کیے یا ان میں بہتری لائی۔ ان ہتھیاروں میں سے ایک اختراع حرارت کی کرن کا استعمال بھی تھا جس کے وجود اور افادیت پر ابھی تک بحث جاری ہے۔

ارشمیدس آرکیمڈیز اسکرو کی ایجاد، لیور کے استعمال اور ریاضی کے میدان میں نئی ایجادات سے اس میدان کی ترقی کے لیے مشہور ہے۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ فکری مشاغل میں اس قدر جذب ہو گیا تھا کہ وہ اکثر کھانا یا نہانا بھول جاتا تھا۔ اور یہی یک ذہنیت ممکنہ طور پر اس کی موت کا سبب بنی کیونکہ ۲۱۲ قبل مسیح میں رومیوں کے ہاتھوں سیراکیوز کے زوال کے بعد، اسے ایک سپاہی نے اپنے پیروی کرنے کا حکم دیا تھا لیکن وہ ریاضی کے حساب کتاب میں اس قدر مبہوت اور منہمک تھا کہ اس نے انکار کر دیا ۔ اس کے بعد اسے رومن جنرل مارکس کلاڈیئس مارسیلس (دور حیات ۲۷۰ تا ۲۰۸ قبل مسیح) کے واضح احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک سپاہی نے قتل کر دیا کیونکہ وہ اسے پہچانتا نہ تھا۔ وہ اپنے زمانے میں ریاضی اور تعمیراتی منصوبہ جات کا ماہر سمجھا جاتا تھا، اور اس کی یہ شہرت آج تک موجودہ دور میں برقرار ہے۔

زندگی اور سکندریہ میں گزارا گیا وقت

ارشمیدیس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہون نے ایسے فلکیاتی آلات ایجاد کیے جو سورج، چاند اور سیاروں کیے مقامات اور حرکات کی شناخت کر سکتے تھے۔

ارشمیدیس کی زندگی کے بارے میں تقریباً کچھ معلوم نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ سائراکیز، سسلی میں پیدا ہوئے تھے، جو اس وقت اس خطے کا حصہ تھا جسے میگنا گریشیا ("گریٹر یونان یا یونان عظیم") کہا جاتا تھا، جو کہ جنوبی اٹلی میں یونانی نوآبادیات کے ذریعے آباد کیے گئے علاقوں کے لیے رومی اصطلاح ہے۔ اس کے والد، ایک ماہر فلکیات تھے جن کو فیڈیاس کے نام سے جانا جاتا تھا، اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا خاندان اعلیٰ طبقے میں شمار کیا جاتا تھا، یا ممکنہ طور پر اشرافیہ میں، کیونکہ وہ اسے تعلیم کے لیے اسکندریہ بھیجنے کے متحمل تھے۔ ارشمدیسی کا پہلا موجودہ حوالہ پولی بیئس (دور حیات ۲۰۰ تا ۱۱۸ قبل مسیح) کے مسودات سے اخذ کیا گیا ہے، جو بنیادی طور پر ارشمیدیس کی ڈیزائن کردہ جنگی مشینوں میں دلچسپی رکھتا تھا۔ پولی بیئس نے غالباً ارشمیدیس کی زندگی کے بارے میں معلومات کو حذف کر دیا یا انہیںن تحریر کرنا اس قدراہم نہ سمجھا کیونکہ ایک ارشمیدیس کی زندگی پر ایک سوانح عمری پہلے ہی شائع ہو چکی تھی جو اب تاریخ کے دھارے میں کہیں محو اور گم ہو گئی ہے۔

حیات کے کسی موڑ پر اس کے والد نے اسے اسکندریہ بھیجا جو اس وقت بطلیما خاندان (۳۲۳ تا ۳۰ قبل مسیح) کے زیر سایہ ایتھنز کا مقابلہ کرتے ہوئے ایک دانشورانہ مرکز کے طور پر ترقی کر رہا تھا۔ اسکندریہ میں، اس کی دوستی سائرین کے ایراتوسٹینیز اور ساموس کے کونون سے ہوئی، جو شہر کے معروف ترین دانشوران تھے۔ کونن ایک معزز ماہر فلکیات اور ریاضی دان تھا، اور ایراسٹوتھینز اسکندریہ کی لائبریری کا سربراہ اور ایک جامع علوم پر دسترس رکھنے والا معلم تھا جس نے سب سے پہلے زمین کے احاطے کا تخمینہ لگایا۔ ان تعلقات کی تفصیلات معلوم نہیں ہیں، لیکن ارشمیدیس نے ایراسٹوتھینز کی اس قدر تعریف کی اور وہ موخر الذکر کو اس قدر تعظیم کی نگاہ سے دیکھتا تھا کہ انہوں نے اپنے کام دی میتھڈ (ضوابط اصول ریاضیات کو ان سے منسوب کر دیا۔

فلکیاتی میدان میں ترقی

یہ امکان ہے کہ کونون اور اراٹوتھینس دونوں نے ریاضی اور فلکیات کے شعبوں میں ارشمیدس کو بہت متاثر کیا تھا، لیکن اس اثر کی قبولیت کے بارے میں کوئی بھی تجویز محض قیاس آرائی پر ہی مبنی ہو سکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ارشمیدس نے فلکیات کے موضوع پر مختلف النوع تحریرات مسودات تیار کئے، جن کا حوالہ بعد میں آنے والے مصنفین اور محققین نے دیا، لیکن ان میں سے کوئی بھی مسودہ وقت کے گرداب سے بچ نہ سکا سوائے سینڈ ریکنر (حاسب ریت) کے، جس کی مدد سے ارشدمیس نے کائنات کے حجم کا حساب لگایا۔ کتاب کے اس عنوان کی وجہ تسمیہ ارشدمیس کی متجسسانہ فکر تھی کہ ریت کے کتنے ذرات سے کائنات مکمل طور بھر سکتی ہے اور ایسا کرنے کے لیے اسے پہلے یہ جاننے کی ضرورت تھی کہ کائنات درحقیقت کتنی بڑی اور وسیع ہے۔ یہ کتاب سموس کے ماہر فلکیات اریسٹارکس (دور حیات ۳۱۰ تا ۲۳۰ قبل مسیح) کے تجویز کردہ ہیلیو سینٹرک ماڈل (شمسی مرکز) کے تحفظ کے لیے مشہور ہے۔ اسکالر ٹی ایل ہیتھ تبصرہ کرتے ہیں:

سینڈریکنر ایک ایسے نظام کی ترقی اور فوز کے لئے قابل ذکر ہے جس میں ہزارہا طاقتوں پر مبنی ترتیب اور ادوار کے ذریعہ ایک بہت بڑی تعداد کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اس میں کائنات کے ہیلیو سینٹرک تھیوری کا اہم حوالہ بھی شامل ہے جسے ساموس کے اریسٹارکس نے 'مفروضہ جات/خیالات/ہائپوتھیسز' نامی کتاب میں پیش کیا ہے، نیز زمین کے سائز اور جسمات کو ماپنے اور شمس و قمر کے سائز اور ان کے مابین فاصلے کا تعین کرنے کی سابقہ ​​کوششوں کی تاریخی تفصیلات بھی شامل ہیں۔ . (لیونگ اسٹون، ۱۲۶)

کہا جاتا ہے کہ ارشدمیدس نے کئی فلکیاتی آلات ایجاد کیے تھے جو سورج، چاند اور سیاروں کی پوزیشنوں/مقامات اور حرکات کو پہچان سکتے تھے اور ان کا تعین کر سکتے تھے۔ ان آلات میں سے ایک آلہ ایسا بھی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کانسی کا ایک دائرہ نما آلہ تھا جو موڑے جانے پر سیاروں کی پوزیشنوں کو ظاہر کرتا ہے اور یہ بھی دکھاتا ہے کہ وہ زمین کے گرد کیسے گھومتے ہیں (چونکہ اس وقت زمین کو کائنات کا مرکز سمجھا جاتا تھا)۔ بعد میں آنے والے مصنف اور خطیب سیسرو (دور حیات ۱۰۶ تا ۴۳ قبل مسیح) ان آلات کے بارے میں تذکرہ کرتے ہیں جسے جدید دور کے اسکالرز نے حوالہ دیتے ہوئے یہ تجویز پیش کی ہے کہ ممکنہ طور پر ارشمیدس ہی اینٹیکیتھرا میکانزم کے موجد ہو سکتے ہیں۔

Antikythera Mechanism
اینٹیکائیتھیرا میکانیہ
Mark Cartwright (CC BY-NC-SA)

اینٹیکیتھرا میکانزم/میکانیہ (جسے اینٹیکیتھرا ڈیوائس بھی کہا جاتا ہے) کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دنیا کا پہلا اینالاگ کمپیوٹر ہے۔ یہ آلہ، ۱۹۰۱ میں یونانی جزیرے اینٹیکیتھراسے دریافت ہوا، جو دوسری صدی کے اواخر/پہلی صدی قبل مسیح کا ہے اور اسے سورج، چاند اور سیاروں کی پوزیشن کا حساب لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ آلہ بابل اور مصری فلکیاتی اصولوں پر انحصار کرتا تھا لیکن اس میں یونانی حروف تہجی کے حروف استعمال کیے گئے تھے اور اسے یونان میں تیار کیا گیا تھا۔ کرینک کو موڑ کر، کسی نے ایک پوائنٹر کو منتقل کیا، جو چاند کے مرحلے، سیاروں کے مقام کو دکھانے کے لیے جگہ پر کلک کرتا ہے، اور چاند گرہن کا حساب بھی لگا سکتا ہے۔

ارشمیدس اس آلے کے موجد کے طور پر صرف ایک امیدوار ہے کیونکہ اس کا انتساب نیسیا کے رہائشی ابرخش (دور حیات ۱۹۰ تا ۱۲۰ قبل مسیح) اور دیگر افراد سے بھی کیا گیا ہے۔ تاہم، ارشمیدس کی اسی طرح کی ایجادات کے بارے میں سیسرو کے ذکر کی تصدیق اسکندریہ کے ریاضی دان پاپس (دور حیات ۲۹۰ تا ۲۵۰ عیسوی) نے بھی کی ہے، جس نے دعویٰ کیا کہ ارشمیدس نے ایسے آلات کی تعمیر اور تیاری کے بارے میں ایک کتاب لکھی تھی۔ تاہم، اس کا مطلب لازمی طور پر یہ نہیں ہے کہ ارشمیدیس نے اینٹیکیتھرا ڈیوائس بنائی تھی - اس کے کاموں نے ابرخش یا کسی اور کو متاثر کیا ہو گا کہ وہ اس آلے کی تخلیق پر کام کریں- اور اب تک اس کے موجد کی شناخت پر بحث جاری ہے۔

ارشمیدیس کا تیار کیا گیا پیچ

ارشمیدس کا سکرو (پیچ) ایک سلنڈر (اُسطوانہ) تھا جس میں ایک مڑا ہوا بلیڈ تھا جو اوپر کی طرف گھومتا تھا جب ایک کرینک (چکر دھنی)سے گھمایا جاتا تھا اور یہ طریقہ کار آج بھی مستعمل ہے

یہ امر یہاں اس قدر قابل ذکر اور قابل توجہ نہیں ہے کہ آیا کہ وہ واقعی ہی اینٹیکیتھرا ڈیوائس کا خالق تھا یا نہیں، لیکن اس کی حیثیت ارشمیدس اسکرو کے موجد کے طور پر ہمیشہ قائم رہے گی، جو پانی کو نچلی سطح سے اوپر تک کھینچنے کا ایک ذریعہ ہے۔ جیسا کہ حجم،ارشمیدس کی زندگی سے متعلق بہت سی کہانیوں اور روایات منسوب ہیں، اسی طرح ارشمیدس سکرو کی ایجاد کا محرک بننے والے حالات و واقعات سے بھی ایسی ہی روایات منسوب کی جاتی ہیں، لیکن ایک بات تو مسلم ہے، اور وہ یہ کہ ان سب مفروضہ جات میں جہاز کے نچلے حصے سے پانی کے اخراج کا مسئلہ موجود تھا۔

ان روایات سے سب سے مشہور روایت یونانی مصنف ناکراٹس کے اتھیناؤس کا بیان کردہ ہے، جو بتاتا ہے کہ کس طرح ہئیرو دوم نے ارشمیدس سے اس کے لیے ایک بہت بڑا جہاز ڈیزائن کرنے کی درخواست کی، ایک ایسا جہاز جو کسی جاگتی آنکھ نے نہ دیکھا ہو اور جو کسی فعال کان نے نہ سنا ہو، شاید ایسا جو کہ چشم تخیل میں بھی نہ آسکے۔ جو کہ بطور سوار جہاز، ایک شاہانہ نمونہ کے فرائض انجام دے سکے، اور بیک وقت ضرورت پڑنے پر جنگ میں ایک مضطوط اور توانا عنصر کے طور پر بھی۔ ارشمیدس نے اس وقت تک کی انسانی تاریخ کا سب سے بڑا اور عظیم الشان جہاز تیار کیا، اور اس کا نام سیراکوزیا رکھا گیا، اس جہاز میں افروڈائٹ دیوی کے لیے ایک وسیع مندر، باغات، ایک جم، ریاستی کمرے، اور دیگر سہولیات موجود تھیں، ۱۹۰۰ سے زیادہ مسافروں، عملے، اور فوجیوں کے لیے کافی جگہ موجود تھی، اور جنگی میناروں کے ساتھ ساتھ ایک تختے پر بہت عظیم الجثہ منجنیق بھی نسب تھی۔ یہ جہاز ارشمیدس کے منصوبے کے مطابق تیار گیا تھا لیکن پھر اچانک ہی دیکھا گیا کہ جہاز کی اس قدر جسمات اور وزن کی وجہ سے جہاز کی بیرونی سطح سے کثیر مقدار میں پانی کا اخراج ہو رہا تھا۔

ارشمیدس کا سکرو (پیچ) ایک سلنڈر (اُسطوانہ) تھا جس میں ایک مڑا ہوا بلیڈ تھا جو اوپر کی طرف گھومتا تھا جب ایک کرینک (چکر دھنی)سے گھمایا جاتا تھا اور یہ طریقہ کار آج بھی مستعمل ہے ۔ سلنڈر کے ایک سرے کو پانی میں رکھ کر اور کرینک کو موڑ کر پانی کو کھینچ کر جہاز سے خارج کیا جاتا تھا۔ یہ طریقہ کار آج بھی دنیا بھر میں متعدد حوالوں سے استعمال ہوتا ہے۔ سیراکوزیا نے صرف ایک بار سمندری میدان پر قدم رکھا، اور یہ سفر سیراکیوز سے اسکندریہ تک کا تھا، جہاں اسے بطلیموس سوم یورگیٹیس کو تحفے کے طور پر پیش کیا گیا، لیکن اس کے بعد اس عظیم الشان اور قوی المرتبت جہاز کا نصیب کیا بنا، افسوس کے تاریخ بھی اس سے نابلد رہی

اصول ارشمیدس

ارشمیدس کے حوالے سے گردش کرنے والی کہانیوں اور قصہ جات میں سے کئی ایک میں اس جہاز کا تذکرہ موجود ہے۔ اصول ارشدمیس کے تحت یہ ثابت کیا گیا تھا کہ کوئی بھی تیرتی ہوئی چیز اپنے وزن کو اس سیال کے وزن سے تبدیل کر دیتی ہے جس میں وہ موجود ہوتی ہے۔ ارشمیدس اصول وضاحت کرتا ہے کہ کوئی بھی شت ڈوبنے کی بجائے کیوں تیرتی ہے (اصول تیراکی)، اور اسی نسبت سے اسے ہائیڈرو سٹیٹکس (ماسکونیات/علم سکون سیالات) کا باپ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ارشمیدسد اس اصول کا تعین کرنے میں اس وقت کامیاب ہوا جب وہ اس سوال کے جواب کے بارے میں غور و فکر کر رہا تھا، اور وہ سوال یہ تھا کہ سیراکیوسیا جیسا اتنا بڑا جہاز جتنا کیسے تیرنے کے قابل ہو سکتا ہے؟؟؟۔ ارشمیدس کی کتاب، تیرتی اشیا پر تبصرہ جات(جو کہ عالمی کتب خانوں میں آج بھی موجود ہے) نے اپنی دریافت کے سلسلے میں کبھی بھی سائراکیوسیا کا ذکر نہیں کیا، لیکن نہ ہی اس نے مشہور سنہری تاج کا ذکر کیا ہے جو اس واقعہ کے حوالے سے گردش کرنے والی زیادہ تر روایات میں موجود ہے

Syracusia
سیراکیوزیا
Unknown Artist (CC BY-SA)

سب سے مشہور ترین روایت کے مطابق، جو کہ رومی ماہر فن تعمیر اور معمار وِٹروُوِیس (دور حیات ۹۰ تا ۲۰ قبل مسیح) کی طرف سے بیان کردہ ہے، ہئیرو دوم نے ایک سنہری تاج بنانے کے لیے ایک کاریگر کو خالص سونا فراہم کیا۔ جب تاج بادشاہ کو پیش کیا گیا تو اسے شک ہوا کہ سنار نے خالص سونے کی جگہ ایک کم مایہ دھات کا استعمال کیا ہے اور اس پر خالص سونا ، زیبہت کم مقدار میں صرف ہوا ہے۔ اور فراہم کیے جانے والے خالص سونے کی زیادہ تر مقدار کو ہتھیا لیا ہے۔ بادشاہ وقت نے ارشمیدس سے تاج کو نقصان پہنچائے بغیر اس معمے کو سلجھانے کا کوئی طریقہ وضع کرنے کا حکم دیا۔ کہا جاتا ہے کہ آرکیمیڈیز نے اس مسئلے پر کچھ دیر سوچا حتی کہ ایک دن غسل کرنے کی خاطر جب وہ پانی میں اترا تو اس نے محسوس کیا کہ پانی کی سطح بلند ہو گئی ہے کیونکہ پانی کے جس حصے پر اس نے قدم رکھا تھا، اس جگہ کے وزن کو اس نے اپنے جسم کے وزن سے بدل دیا تھا اور سمجھ گیا کہ اس اصول کو تاج کی کثافت معلوم کرنے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اس انکشاف پر اتنا پرجوش ہو گیا تھا کہ وہ اپنے گھر سے باہر اور سڑک پر برہنہ ہو کر "یوریکا!" ("میں نے پا لیا، میں نے پا لیا!")۔چیختا ہوا دوڑتا گیا۔ ہیتھ نے اس اصول کی وضاحت کچھ ان الفاظ میں کی ہے:

ارشمیدس نے ہائیڈرو سٹیٹکس (ماسکونیات /علم سکون سیالات) کی پوری سائنس کو یک سر ایجاد کی۔ تیرتے جسم کتاب کا آغاز وہ ایک سیال میں یکساں دباؤ کے بارے میں ایک مفروضے کے ساتھ کرتا ہے۔ وہ سب سے پہلے یہ ثابت کرتا ہے کہ غیر متحرک اور جامد سیال کی سطح ایک کرہ ہے جس کا مرکز زمین کے مرکز پر موجود ہے۔ دیگر تجاویز سے پتہ چلتا ہے کہ، اگر کوئی ٹھوس کسی سیال میں تیرتا ہے، تو ٹھوس کا وزن اس سیال کے اس حصے کے وزن کے برابر ہو گا جس کی جگہ اس نے خود کو (ٹھوس کے جسم کو) ٹھہرایا ہے اور اگر اس میں کسی سیال سے زیادہ بھاری ٹھوس کا وزن ہو، تو یہ اس کے حقیقی وزن سے اتنا ہلکا ہوگا جتنا کہ اس سیال کا وزن جس کی جگہ اس نے لی ہے۔ جب کسی چیز کو کسی سیال (جیسے پانی) میں رکھا جاتا ہے، تو وہ ہلکا محسوس کرے گا کیونکہ یہ اپنے لیے جگہ بنانے کے لیے کچھ سیال کو ایک طرف دھکیل رہا ہے۔ بعد ازاں، ایک دوسرے مفروضے کے تحت جو اجسام ایک سیال میں اوپر کی طرف دھکیلے جاتے ہیں وہ ان عمودی خطوط پر اوپر کی جانب دھیکیلے جاتے ہیں جو ان کے مراکز ثقل سے گزرتے ہیں، ارشمیدس ایک ایسے تیرتے ہوئے کرہ کے ایک حصے کے آرام اور سکون و جمود کو اپنی فکر کا مرکز بناتا ہے جو سطح کے اوپر یا مکمل طور پر نیچے تیر رہا ہو۔ اس سیریز کی دوسری کتاب غیر معمولی طور پر قوت /فورس سے منسلک تمام مفروضہ جات کو مکمل طور پر بیان کرتی ہے، جس میں مائع میں تیرتے ہوئے پیرابولائڈ ( ایک تین سمتی سطح جس کا بیضوی عرضی تراشہ مستوی کے معد دات کے متوازی ہوتا ہے ) کے حقیقی اور درست حصے کے آرام اور سکون کی تمام پوزیشنوں کی مکمل طور پر چھان بین کی جاتی ہے، (۱) ٹھوس کے محور اور پیدا کرنے والے پیرابولا (شلجمی اشکال /قطع مُکافی: ایک ایسا مستوی منعنی جو ایک مخروط کو بیچ میں سے اس کی ایک جانب کے متوازی کاٹ کر پیدا کیا جائے ۔ دو ، ایک سطح مستوی پر اسے نقطوں کا محل وقوع جو اسی سطح مستوی پر ایک قائم نقطے اور قائم خط سے ہم فاصلہ ہوں) کے احاطے کے درمیان تعلق سے۔ اور، (۲) سیال کے سلسلے میں ٹھوس کی مخصوص کشش ثقل تک؛ 'مخصوص کشش ثقل' کی اصطلاح استعمال نہیں کی گئی ہے، لیکن اس خیال کو دوسرے الفاظ میں مکمل طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔ (لیونگ اسٹون، ۱۲۵)

وٹرویس کے مطابق، ارشمیدس نے اس اصول کو تاج کی کثافت کا تعین کرنے کے لیے استعمال کیا اور پایا کہ سنار نے واقعی ایک کم مایہ دھات کا استعمال کیا تھا اور زیادہ تر سونا اپنے لیے رکھا تھا۔

ریاضی کے میدان میں ترقی

ریاضی کے ماہر کے طور پر ارشمیدس کی شہرت ان کے متعدد کاموں پر منحصر ہے، جن میں سے بہت سے اب بھی موجود ہیں، جنہیں اس میدان میں اہم شراکت سمجھا جاتا ہے۔ ہیتھ لکھتے ہیں:

ارشمیدس کے تمام کام ان کی اپنی ذاتی تخلیق ہیں اور ریاضیاتی فکر کے بہترین نمونے ہیں۔ اور ان اختراعات کی اہمیت زندہ رہنے والوں کے لیے ہمیشہ مسلم رہے گی: کرہ اور اسطوانہ پر مضامین (سفئیر اور سلنڈر اول و دوم) ، دائرے کی پیمائش، کونائیڈز اور اسفیرائڈز (مخروط نما اور کرہ نما اشکال پر مضامین)، سپائرل (مرغولہ) پر مضامین، توازن طیارہ جات اول و دوم، سینڈ ریکنر (حاسب ریت)، پیرابولا (قطع مکافی) کا چوکور ، تیرتے اجسام پر مضامین اول و دوم ، اور آخر میں، میکانکی مسائل کےاصول و ضوابط، جو صرف ۱۹۰۶میں دریافت ہوئی۔ (لیونگ اسٹون، ۱۲۳)

آخری کام جس کا ہیتھ حوالہ دیتے ہیں وہ میکانکی مسائل کےاصول و ضوابط ہیں جس کی شناخت ۱۹۰۶ میں ارشمیدس کے اصل یونانی زبان میں لکھی ہوئی کتاب کے طور پر مورخ، ماہر فلکیات، اور ارشمیدس پر تحقیقاتی کاموں کے ماہر جوہان ہیٗبرگ (۱۸۵۴ تا ۱۹۲۸) نے کی تھی۔ یہ کتاب/تحریر ارشمیدس کے بہت بعد کے دور کے ایک عیسائی مذہبی تحریر کے متن کے پیچھے چھپا ہوا تھا اور اسے چھاپنے والے نے ارشمیدس کی تحریر کے صفحات کو دوبارہ استعمال کیا تھا۔ قرون وسطی میں یہ ایک عام رواج تھا کہ پرانی کتابوں کا شیرازہ بکھور کر اور ان کی جلد کھول کر، صفحات کو کھرچ ک، انہیں دھو کر، اور پھر انہیں نئے کام کے لیے قابل استعمال بنایا جاتا تھا، کیونکہ چمڑے کی جِھلّی کا چرمی کاغذ بہت مہنگا تھا۔

Archimedes Illustration
ارشمیدس کا خاکہ
Dr. Manuel (CC BY-SA)

ہائبرگ نے جس کام کی نشاندہی کی (جو اب آرکیمیڈیز پالمپسٹ؛ مسودہ جس پر ایک تحریر مٹا کر دوسری تحریر لکھی جا سکے، کے نام سے جانا جاتا ہے) کو ۱۲۲۹ کے قریب اس طرح سے دوبارہ قابل استعمال بنایا گیا تھا جس میں وہ مذہبی تحریر اصل دستاویز کی سطح کے اوپر لکھی گئی تھی۔ دلچسہت بات یہ ہے کہ اس کے باوجود وہ اصل یونانی پھر بھی قابل قراتٔ تھا۔ ۔ ۱۹۹۹ تا ۲۰۰۸ کے درمیان امیجنگ (گرافیکل امیجز کے حصول سٹوریج ڈسپلے اور چھپائی کے افعال میں شامل مراحل) کے ساتھ حالیہ کام نے آرکیمیڈیز کے کام کو واضح کر دیا ہے اور یہ کتاب اب ایک مکمل دستاویز کے طور پر پڑھنے کے قابل ہے۔

آرکیمیڈیز نے Pi پائی کی قدر کو ۱۴۔۳ شمار کیا، لامحدود اشیاء کی دریافت کے ذریعے کیلکولس (عِلم الاحصاء ۔ صِفاری احصاء ۔ مُسلسل تبدیل ہوتی ہوئی مقداروں کے بارے میں حِساب لگانے کا طریقہ) قائم کیا، پیرابولاس کی تعریف کی، دائرے کا رقبہ وضع کیا، اور دیگر اہم شراکتوں کے ساتھ حقیقی اعداد کی خاصیت کو بیان کیا۔ اس کا کام خالصتاً قیاس آرائی یا تجریدی سوچ نہیں تھا، تاہم، اس نے ریاضی کو مسائل کے حل اور ڈیزائن پر لاگو کیا جیسا کہ اپنی مشہور حربی مشینوں اور جنگی آلات کے معاملے میں۔

جنگی آلات و حربی مشینیں

ارشمیدس کو اکثر لیور/ بَیرم ( وَزنی چيز اٹھانے يا حَرکَت دينے کے لِيے اِستِعمال ہونے والی سُلاخ) ایجاد کرنے کا سہرا دیا جاتا ہے لیکن اس نے اصل میں یہ کیا کہ یہ لیور درحقیقت کام کیسے کرتا ہے اور اس کا بہتر استعمال کیسے کیا جا سکتا ہے۔ ارشمیدس نے اوڈومیٹر (جو فاصلے کی پیمائش کرتا ہے) بھی ایجاد کیا اور اس ایجاد نے ایک چھکڑے پر لیور کا استعمال کیا جسے لپیٹنے پر، دو پوائنٹس کے درمیان ہر میل کی نشاندہی کرنے کے لیے ایک چھوٹی سی گیند کو جمع کر دیتا تھا۔ لیور رومیوں کے خلاف سیراکیوز کے دفاع کے لیے موجودہ منجنیقوں کو بہتر بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔

دوسری پِیونک جنگ کے دوران میں سیراکیوز کا روم کے ساتھ الحاق اور اتحاد تھا لیکن قرطنجہ کی حمایت کے لیے روم سے اتحاد کو منسوخ کر دیا۔ روم نے جرنیلوں کلاڈیئس مارسیلس اور اپیئس کلاڈیئس پلچر (متوفی ۲۱۱ قبل مسیح) کو ۲۱۴ قبل مسیح میں سائراکیز کی سرکشی کو بھیجا تاکہ اسے دوبارہ اپنی اتحادی صف میں لایا جا سکے۔ رومیوں کے ذہن میں نہ جانے یہ خیال کہاں سے آ بیٹھا کہ سیراکیوز کی مہم خالی جی کا گھر ثابت ہوگی لیکن اس وقت ان کے خواب چکنا چور ہو گئے جب انہوں نے ارشمیدس کی تیار کی گئی جنگی مشینوں کا سامنا کیا جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے دو سال تک شہر کا دفاع کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ بہتر منجنیقوں کے علاوہ بھی، دو سب سے مشہور آلات ارشمیدس کا پنجہ اور اس کی حرارت کی کرن والا آلہ تھا۔

آرکیمڈیز کا پنجہ ایک کرین سے مماثلت رکھنے والا آلہ تھا جس کے ایک سرے پر کنڈی ہوتی تھی جسے جہازوں کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک سے زیادہ آلات جہازوں کے نچلے حصے میں نسب کیے گئے تھے، اور جب رومی جہاز قریب آتے تھے، تو کرین نیچے جھول جاتی تھیں اور یا تو جہاز کو الٹا دیتی تھی یا اسے اٹھا کر کسی دوسرے جہاز میں دے مارتی تھی۔ رومن مورخ لیوی (۵۹ ق م تا ۱۷ عیسوی) بیان کرتا یے کہ روم کو ارشمیدس کے دفاعی ہتھیاروں کی وجہ سے بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ اور وہ خاص طور پر پنجہ ارشمیدس کی افادیت پر تبصرہ بھی کرتا ہے۔ جدید دور میں ٹیکنالوجی کی مدد سے اس آلے کی تعمیر نو یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ آلہ واقعی ایک مفید آلہ تھا جیسا کہ مورخین بیان کرتے ہیں اور اس کی افادیت میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں ہے

حرات کی کرن موجودہ دور کے تقاضوں کے حوالے سے کہیں زیادہ متنازعہ ہے کیونکہ کچھ مفکرین و مورخین یہ سوال اس کے عمل پر سوال اٹھاتے ہیں اور بعض تو اس کے وجود پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔ جن تاریخی تحریروں میں اس کا حوالہ دیا گیا ہے ان میں سے کسی بھی تاریخی کام میں ہمیں اس آلہ کی مکمل تعریف نہیں ملتی ۔ مثال کے طور پر مصنف لوسیان جو ساموستا کا رہائشی تھا(دور حیات ۱۲۵ تا ۱۸۰ قبل مسیح)، صرف یہ کہتا ہے کہ ارشمیدس نے دشمن کے جہازوں کو آگ سے تباہ کیا، اور ٹریلس کے اینتھیمیئس نے دعویٰ کیا کہ اس نے "جلتے ہوئے شیشے" کا استعمال کرتے ہوئے ایسا کیا، لیکن وہ یہ بیان کرنا گوارہ نہیں کرتے ہیں یہ فعل درحقیقت انجام کیسے دیا جاتا تھا.

اپنی کتاب چیلیڈس (تواریخ) کی کتاب دوم کے صفحات ۱۱۹ تا ۱۲۷ میں باروھیں صدی کے بازنطینی مورخ جان زیزی (دور حیات ۱۱۱۰ تا ۱۱۸۰) اس آلے کی سب سے مفصل انداز میں وضاحت کرتے ہیں:

معمر شخص [ارشمیدس] نے کسی قسم کا ایک چھ زاویہ والا آئینہ تیار کیا تھا۔ آئینے کے برابر ناپے گئے ایک مخصوص وقفے سے چھوٹے چھوٹے اور آئینے نسب کیے گئے تھے۔ یہ چھوٹے آئینے کناروں پر چوتہہ (چوگنا) تھے، جو کپوں اور کچھ قبضوں کی مدد سے حرکت میں آتے تھے، اس نے وہ چھ زاویہ والے آئینہ کو موسم سرما و گرما میں عین دوپہر کے وقت سورج کی کرنوں کے بالکل بیچ میں نسب کیا۔ جب شعاعیں، بعد میں، اس میں منعکس ہوتی تھیں، تو ایک خوفناک آگ کے مانند روشنی کا اظہار ہوتا جن کا رخ دشمن کے سمندری جہازوں کی جانب ہوتا اور دیکھتے ہی دیکھتے انہیں ایک تیر کمان کے حملے کے گنجائشی فاصلے پر انہیں نیست و نابود کر دیتی۔ (زیزی، چیلڈس، کتاب دوم)

یہ روایت اسکندریہ کے ریاضی دان پیپس (دور حیات ۲۹۰ تا ۳۵۰ عیسوی) کے گمشدہ کام سے اخذ کیا گیا ہے۔ جیسا کہ بیان کیا گیا ہے حرارت کی شعاع کی عملییت کا جدید دور میں تجربہ کیا گیا ہے اور اسے ناقابل فہم پایا گیا ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ پیپس کی وضاحت کتنی درست تھی یا آئینے کو کس طرح ایک خاص زاویہ پر نسب کیا گیا تھا۔ اسکالرز اس بات پر بحث کرتے رہتے ہیں کہ آیا یہ آلہ کبھی موجود تھا بھی یا نہیں جیسا کہ بیان کیا گیا ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ کسی قسم کی انوکھی ایجاد ضرور تھی (منجنیق نہیں) جو دور سے جہازوں کو آگ لگا دیتی تھی

اختتامیہ

اردشمیدس کے دفاعی منصوبہ جات، جو کچھ بھی ان کی نوعیت تھی، نے انتہائی مؤثر طریقے سے رومیوں کو دو سال تک روکے رکھا۔ آخر کار رومی افواج نے شہر کی بیرونی فصیلوں کو اس وقت توڑ دیا جب محافظ افواج آرٹیمس دیو و خدا کے اعزاز میں ایک مذہبی تہوار کی تیاریوں میں مشغول تھے۔ مارسیلس نے سخت حکم دیا کہ ارشمیدس کو زندہ پکڑا جائے کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ وہ جانتا تھا کہ شہر کے دفاع کی کامیابی کے پیچھے اسی کا ہاتھ تھا اور وہ اسے ایک فوجی اثاثہ سمجھتے تھے۔

بلوطرخس (پلوٹارخ: دور حیات ۴۵ یا ۵۰ عیسوی سے ۱۲۰ تا ۱۲۵ عیسوی) کے مطابق، ارشمیدس ساحل سمندر پر کچھ حساب کتاب میں مصروف تھا جب اس کے پاس ایک رومی سپاہی آیا جس نے اسے اپنے ساتھ چلنے کا حکم دیا۔ ارشمیدس جو کچھ بھی کر رہا تھا اس میں اس قدر گہرا مشغول تھا کہ اس نے مبینہ طور پر اس شخص سے کہا، "میرے بنائے گئے دائروں میں خلل نہ ڈالو،" اور ان دائروں سے اس کی مراد وہ خاکے تھے جو اس نے ریت میں کھینچے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ اس کے آخری الفاظ تھے جب سپاہی نے اسے نہ پہچانتے ہوئے اپنی تلوار نکالی اور اسے بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سپاہی جانتا تھا کہ وہ درحقیقت کون ہے اور اس نے بہت سے رومیوں سے بدلہ لینے کے لیے اسے مار ڈالا جو اس کی ایجادات سے واصل جہنم ہوئے تھے۔

اسے شہر میں ایک وسیع و عریض مقبرے میں دفن کیا گیا تھا، لیکن یہ کیسے ہوا ہو گا یہ واضح نہیں ہے کیونکہ مارسیلس نے ارشمیدس کی موت کے بعد مزید آٹھ ماہ تک اندرونی قلعے کا محاصرہ کیا اور پھر شہر کو مکمل طور پر نیست و نابود کر دیا۔ تاہم، سیسرو کا دعویٰ ہے کہ اس نے مقبرے کا دورہ کیا تھا، جو اب تک نظر انداز کیا جارہا تھا اور انتہائی ناگفتہ بہ اور بوسیدہ حالت میں تھا، اور جب وہ سسلی (صقلیہ) میں مجسٹریٹ (حاکم فوجداری) کے طور پر خدمات انجام دے رہا تھا تو اس نے اس کی تعمیر نو کا منصوبہ شروع بھی کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ مقبرے کو ایک کرہ اور ایک سلنڈر کے مجسمے سے آراستہ کیا گیا تھا، کیونکہ ارشمیدس کی ان آلات پر مبنی ایک مشہور زمانہ کتاب کا نام بھی انہی دو آلات پر تھا اور اس زیبائش کا مقصد ، قدیم زمانے کے سب سے رسا ذہن کی عزت کرنا تھا اور اسے تقدس اور احترام سے نوازنا تھا

سوالات اور جوابات

ارشمیدس کون تھا؟

ارشمیدس (دور حیات ۲۸۷ تا ۲۱۲ قبل مسیح) ایک یونانی ریاضی دان، معمار، اور موجد تھا جسے دنیا کی تاریخ کے عظیم ترین ریاضی دانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

ارشمیدس کیوں مشہور ہے؟

ارشمیدس ہائیڈرو سٹیٹکس( ما سکونیت)، میکانکس، فلکیات، ریاضی اور انجینئرنگ میں اپنی گوناگوں ایجادات اور نئے تصورات کو جنم دینے کے لیے مشہور ہے۔ وہ ارشمیدس اصول اور ارشمیدس سکرو کے لیے بھی جانا جاتا ہے

ارشمیدس پالیمسیٹ کیا شے ہے؟

ارشمیدس پالمیسیٹ (مسودہ جس پر ایک تحریر مٹا کر دوسری تحریر لکھی جا سکے) ارشمیدس کی کتاب دی میتھڈ اور دیگر کاموں کا ایک ایسا مخطوطہ ہے جو ۱۹۰۶ میں دریافت کیا گیا تھا اور یہ معلوم ہوہا تھا کہ اسے ایک عیسائی مذہبی متن و تحریر کو لکھنے کے لیے دوبارہ استعمال کیا گیا تھا۔ پالیمسیٹکو جدید دور کی امیجنگ اور ڈیجیٹلائزنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بحال کیا گیا ہے۔

ارشمیدس کی موت کیسے واقع ہوئی؟

آرکیمیڈیز کی موت سائراکیز کے محاصرے کے دوران میں ہوئی جب اسے ایک رومی سپاہی، جو نہیں جانتا تھا کہ وہ درحقیقت کون ہے، نے قتل کر ڈالا۔

مترجم کے بارے میں

Zohaib Asif
جی میں زوہیب ہوں، زبان کا جادوگر اور ذہن کا مورخ۔ وقت کی چابی موڑنے والا، ماضی کے دریچوں میں جھانکنے والا الفاظ کا سنار۔ زبان اور تاریخ کے اس سفر پر میرا ساتھ ضرور دیجیے کیوں کہ اکھٹے ہم تاریخ کے سر بستہ رازوں سے پردہ ہٹائیں گے اور ساتھ ساتھ اٹھکیلیاں بھی کریں گے

مصنف کے بارے میں

Joshua J. Mark
ایک فری لانس لکھاری اورمارست کالج، نیو یارک کے سابقہ جزوقتی فلسفہ کے پروفیسر، جوشیا ج۔ مارک یونان اور جرمنی میں رہ چکے ہیں اور مصر کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔ انہوں نے کالج کی سطح پر تاریخ، ادب، تصنیف و تالیف اور فلسفی کی تعلیم دی ہے۔

اس کام کا حوالہ دیں

اے پی اے اسٹائل

Mark, J. J. (2022, March 11). ارشمیدس [Archimedes]. (Z. Asif, مترجم). World History Encyclopedia. سے حاصل ہوا https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-913/

شکاگو سٹائل

Mark, Joshua J.. "ارشمیدس." ترجمہ کردہ Zohaib Asif. World History Encyclopedia. آخری ترمیم March 11, 2022. https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-913/.

ایم ایل اے سٹائل

Mark, Joshua J.. "ارشمیدس." ترجمہ کردہ Zohaib Asif. World History Encyclopedia. World History Encyclopedia, 11 Mar 2022. ویب. 24 Jul 2024.