اموی سلطنت ( ٦٦١ تا ٧٥٠ عیسوی) کا قیام ٦٦١ عیسوی میں خلیفہ رابع حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد، حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ( دور حیات ٦٠٢ تا ٦٨٠ عیسوی )، جو کہ خلافت راشدہ میں شام کے گورنر کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھا چکے تھے، کی قیادت میں عمل میں لایا گیا. امت مسلمہ کی باقاعدہ ریاستی طور پر خلافت کی باگ ڈور سب سے پہلے انھی اموی فرمانرواؤں نے اپنے ہاتھ میں لی. بنو امیہ نہایت ہی احسن انداز سے اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آ ہوۓ اور انھوں نے خلافت کے ادارے کی سطوت کو شر پسند عناصر اور بیرونی دنیا کے دل و دماغ پر بزور شمشیر بہترین طور پر واضح کیا. شر انگریزوں کو ہمیشہ کیفر کردار تک پہنچایا گیا اور بغاوتوں کا قلع قمع کیا گیا.
انہوں نے ایک وسیع علاقے پر اپنی طاقت کا سکہ جماۓ رکھا اور اپنی سلطنت کی توسیع کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے بعید از مصر شمالی افریقہ، اسپین، وسطی ایشیا، برصغیر پاک و ہند کے کچھ حصے، اور بحیرہ روم کے متعدد جزائر جیسے نۓ مفتوحہ علاقہ جات کو شامل کیا (گو کہ بعد ازاں ان میں سے بعض علاقوں پر وہ اپنا تسلط دیر تک برقرار نہ رکھ سکے)۔ یہ امر مسلم ہے کہ اموی دور میں اسلامی پرچم ہنوز دنیا کے سب سے زیادہ رقبے پر لہرا رہا تھا، لیکن اندرونی خلفشار اور خانہ جنگیوں نے اس تمام رقبے پر ان کی گرفت کو کمزور کر دیا، اور 750 عیسوی میں نبی کریم صل اللہ علیہ والہ سلام کی نسل میں سے ہونے کا دعویٰ کرنے والے ایک حریف دھڑے، خاندان بنو عباس( دور حکومت ٧٥٠ تا ١٢٥٨) نے ان کا تختہ الٹ دیا
پیش خیمہ
نبی علیہ الصلوۃ والسلام( دور حیات ٥٧٠ تا ٦٣٢ عیسوی ) کی رحلت کے بعد حضرت ابوبکر صدیق( دور حکومت ٦٣٢ تا ٦٣٤ عیسوی )جو کہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے یار غار تھے، نے مسلمانوں کی عنان خلافت اپنے ہاتھ میں لی. اس طرح انہوں نے خلافت کے سلسلے کا ڈول ڈالا. حضرت ابوبکر صدیق ان چاروں خلفا میں سے سابق ہیں جنہیں اہل تسنن کے عقیدے کے مطابق مجموعی طور پر "خلفائے راشدین" کے لقب سے جانا جاتا ہے جبکہ اہل تشیع صرف ان میں سے چوتھے خلیفہ حضرت علی المرتضی کو جو کہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے نہایت قریبی ساتھی اور داماد تھے، کو خلافت کے عہدے کا اکلوتا وارث قرار دیتے ہیں
خلافت راشدہ میں لشکر اسلام نے شام، مصر، بحر روم کے مشرقی کنارے، شمالی افریقہ کے کچھ حصے، یونان کے جزائر اور پوری ساسانی سلطنت پر تابڑ توڑ حملے کیے. فتوحات کے اس سلسلے کی ابتدا حضرت ابوبکر صدیق نے کی تھی اور اس سلسلے کو ان کے دو جانشین: حضرت عمر بن خطاب( دور حکومت ٦٣٤ تا ٦٤٤ ) اور حضرت عثمان غنی(٦٤٤ تو ٦٥٦ عیسوی ) نے بہت کامیابی سے اگے بڑھایا. حضرت عثمان غنی انتظامی طور پر اتنے مضبوط اور موثر حاکم ثابت نہ ہو سکے اور انہیں 656 عیسوی میں باغیوں کے ہاتھوں اپنے ہی گھر میں قتل کر دیا گیا. ان کی شہادت اسلامی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھی: ان کے جانشین، حضرت علی وجہ الکریم نے خلافت کے عہدے پر فائز ہوتے ہی خود کو دو نہایت پریشان کن مشکلات سے نبرد آزما ہوتے پایا. ان میں سے پہلی اندرونی طور پر دیمک کی زد ہوتی اسلامی سلطنت کا شیرازہ بکھرنے سے بچانا اور دوم، اپنے پیشرو کے قاتلوں کو جہنم واصل کرنے کے حوالے سے عوام کا دباؤ برداشت کرنا.
[11546:image]
شیر خدا سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کو سب سے زیادہ مخالفت کا سامنا شام کے گورنر حضرت معاویہ بن ابو سفیان کی طرف سے کرنا پڑا. حضرت معاویہ حضرت عثمان غنی کے چچیرے بھائی تھے اور وہ بضد تھے کہ سیدنا عثمان کے قاتلوں کو ابدی نیند سلایا جاۓ. اس طرح ایک ایسی خانہ جنگی کی ابتدا ہوئی جسے تاریخ کے پنوں پر فتنہ اول(656 تا 666 عیسوی) کے وقت سے مرقوم کیا گیا ہے اور جس کا انت خوارج کہلاۓ جانے والے ایک شدت پسند گروہ کے ہاتھوں حضرت علی المرتضی کی شہادت کے طور پر سامنے ایا. ان خوارج نے حضرت امیر معاویہ کی زندگی پر بھی ہاتھ صاف کرنے کی کوشش کی لیکن موخر الذکر صرف ایک معمولی سی چوٹ کے ساتھ بچ نکلے.
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ
معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ( 661 تا 680 عیسوی دور حکومت ) کی نسل کو ان کے والد صاحب حضرت ابو سفیان کے نسبت سے "سفیانی" یا ان کے دادا حرب کی نسبت سے "حربیون" کہا جاتا ہے. وہ ایک نہایت ہی مشاق و طرار و طناز سیاست دان اور جہاندیدہ مندوب و قاصد تھے. انہوں نے کوفہ میں تخت خلافت پر جلوہ افروز ہونے والے حضرت حسن ابن علی( 624 تا 670 دور حیات) کو قائل کیا کہ وہ ایک اعلی وظیفے کے بدلے میں اپنے عہدے سے دستبردار ہو جائیں. تاہم، جب بھی انہیں محسوس ہوتا کہ کوئی شخص ان کے اقتدار کے لیے خطرہ ثابت ہوگا تو وہ اسے شر انگیزی تصور کرتے ہوئے اس کی بیخ کنی کر دیتے اور اس فتنے کے روح رواں کو زمین برد کر دیتے. کئی مسلمان مورخین اور حضرت علی ابن ابی طالب کے حامیوں کی طرف سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات 670 عیسوی میں ان کی زوجہ محترمہ کے زہر دیے جانے کی وجہ سے نہیں بلکہ حضرت معاویہ کی سازشوں کے نتیجے میں ہوئی.
حضرت عمر ابن خطاب کی وفات کے بعد حضرت معاویہ کا 20 سالہ دور حکومت عربوں کے لیے یقینا سب سے زیادہ مستحکم ثابت ہوا اور پولیس کا نظم، اپنی ذاتی حفاظت کے لیے محافظ کا استعمال اور لوکل انتظامہ کے لیے دیوان ادارے کے قیام جیسے ان کے انتظامی اقدامات اتنے ہی قابل قدر تھے جس طرح خلیفہ دوم عمر ابن خطاب کی گراں قدر خدمات تھیں. اس نے بیش بہا مہمات کا آغاز اور موجودہ افغانستان اور پاکستان کے کافی علاقوں کو زیر نگوں گیا. مزید یہ کہ مغرب کی سمت میں بحر اوقیانوس کے مراکشی ساحل تک اسلامی پرچم بلند کیا. اسی طرح انھوں نے ان تمام علاقوں پر دوبارہ قبضہ جما لیا جو ہنوز بازنطینی سلطنت کے قبضہ و اختیار میں تھے. گو کہ داخلی انتشار اور اندرونی بد امنی کی وجہ سے زیادہ تر علاقے دوبارہ کھو دیے گئے.
یزید اول اور فتنہ دوم
سیاسی و سماجی مسائل کا اغاز اس وقت ہوا جب حضرت امیر معاویہ نے اپنے بیٹے یزید( دور حکومت 680 تا 683 عیسوی ) کو اپنا جانشین مقرر کیا. عرب اس شاہی سلطنت اور خاندانی نظام حکومت کے عادی نہیں تھے اس لیے یزید کی جانشینی کو عام طبقے کی طرف سے بہت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا بالخصوص حضرت حسن کے چھوٹے بھائی، حسین ابن علی( دور حیات 624 تا 680 عیسوی ) اور نبی کریم صل اللہ علیہ والہ سلام کے ایک قریبی صحابی کے فرزند حضرت عبداللہ بن زبیر( دور حیات 624 تا 692 عیسوی ) کی جانب سے.
680 عیسوی میں دمشق پر حملہ کرنے کے ارادے سے اپنی فوج کو منضبط کرتے ہوئے کوفہ کے لوگوں کی طرف سے قائل ہونے کے بعد حضرت حسین نے عراق کی جانب پیش قدمی کی. تاہم، نے کوفہ کے گرد محاصرہ کر رکھا تھا اور اپنے چچا زاد بھائی عبید اللہ ابن زیاد( متوفی 686 عیسوی ) کی قیادت میں اپنا لشکر بھیجا تاکہ وہ حسین ابن علی کی فوج کی پیش قدمی کو روک سکے. ان دونوں لشکروں کا آمنا سامنا دریائے فرات کے قریب کربلا کے میدان میں ہوا جہاں سیدنا حسین کی محض ستر افراد پر مشتمل فوج جس میں اکثر ان کے خاندان کے افراد اور قریبی ساتھی تھے، نے جواں مردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ثابت قدمی کی ایک نئی تاریخ رقم کر کے، دین کی سر بلندی اور استحکام کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے خود کو آئندہ وقتوں کے لیے امر کر دیا. ظلم و بربریت اور استحصال کے خلاف قدم ڈگمگاۓ بغیر موت سے بغل گیر ہوتے ہوئے اس ستر رکنی فوج نے خود کو ثابت قدمی کا ایک استعارہ بنا دیا. سیدنا حسین کی شہادت نے اسلامی دنیا کو ایک دوسری خانہ جنگی کے دلدل میں پھنسا دیا جسے فتنہ دوم( 680 تا 692 عسیوی) کے نامبارک و منحوس وقت سے منسوب کیا جاتا ہے
بعد ازاں، یزید نے ایک اور لشکر کو مدینہ پر دھاوا بولنے کا حکم دیا جو یزید کے کردار اور افعال سے بیزار ہو کر بغاوت کر چکے تھے۔ اس کا اختتام جنگ الحررہ (683 عیسوی) کی صورت میں ہوا، جس کے نتیجے میں روز افزوں بغاوت کو فرو کر دیا گیا۔ بعض ذرائع کے مطابق جنگ کے بعد شہر رسول صل اللہ علیہ والہ وسلم کو لوٹ مار، طواف الملوکی، عصمت دری اور قتل و غارت کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے بعد شامی فوج مکہ کی طرف بڑھی جہاں عبداللہ نے اپنی سلطنت قائم کر لی تھی۔ شہر کا کئی ہفتوں تک محاصرہ کیا گیا، اس دوران غلاف کعبہ کو نذر آتش کر دیا گیا. اگرچہ یزید کی فوج 683 عیسوی میں ہونے والی اپنے قائد کی اچانک موت کے بعد شام کی طرف پسپائی اختیار کر گئی، لیکن یزید کی فوج نے جو نقصان پہنچایا اس نے مسلمانوں کے دلوں پر انمٹ نقوش ثبت کیے۔ عبداللہ نے ایک اور دہائی تک اپنی بغاوت جاری رکھی، اپنے لیے خلیفہ کا خطاب اپنا لیا اور حجاز، مصر اور عراق کے لوگوں کی وفاداری حاصل کی - جب کہ اس کے مخالفین ان کے حاکم کی موت کے بعد بمشکل ہی دمشق پر قابو پا سکے۔
[11462:image]
آج یزید کو اسلامی تاریخ کی شاید سب سے منفی اور کریہہ شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ اس کے بیٹے معاویہ ثانی (دور حکومت 683-684 عیسوی) کو اس کی موت کے بعد خلیفہ قرار دیا گیا، لیکن بیمار نوجوان اپنے والد کے سرکردہ گناہوں میں کوئی حصہ نہیں لینا چاہتا تھا۔ اس کے چند ماہ بعد 684 عیسوی میں معاویہ ثانی نے جان جان آفرین کے سپرد کی اور اسی کے ساتھ ہی بنو امیہ کے حکمرانوں کی وہ شاخ جو اب سفیان سے منسوب تھی، اپنی آخری سانسیں لے کر سوکھ گئی. دمشق کے علاوہ پوری اموی سلطنت میں تباہی اور بربادی کا راج تھا.
ابن مروان
اموی قبیلہ کی عنان ایک قابل احترام اور معزز رکن اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے چچا زاد بھائی مروان بن حکم نے اس ضمانت پر سنبھال لی کہ اس کے دار فانی سے کوچ کرنے کے بعد تخت یزید دوم کے بیٹے خالد کے حوالے کر دیا جائے گا۔ اس کا یہ وعدہ پورا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اب سلطنت ابن مروان کے ہاتھ میں تھی، جسے ابن الحکم (مروان کے والد حکم کی نسبت سے) بھی کہا جاتا ہے۔ مروان نے مصر پر دوبارہ قبضہ کر لیا کیوں کہ اہل مصر اموی حکام کے خلاف بغاوت کا علم بلند کر چکے تھے اور اہل زبیر کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کر چکے تھے. لیکن وہ عبداللہ کی بغاوت پر قابو نہیں پا سکا، کیونکہ وہ عہدہ سنبھالنے کے صرف نو ماہ بعد ہی 685 عیسوی میں داعی اجل کو لبیک کہہ گیا. اب یہ امر گراں بار اس کے نہایت دقیقہ رس فرزند ارجمند عبد الملک( دور حکومت 685 تا 705 عیسوی ) کے کندھوں پر رکھ دیا گیا.
685 عیسوی میں المختار( دور حیات 622 تا 687 عسیوی ) نے کوفہ میں سرکشی شروع کر دی اور بنی امیہ کے خلاف عبداللہ کے ساتھ ہاتھ ملایا۔ المختار نے منظم طریقے سے ان تمام لوگوں کا شکار کیا جو حسین علیہ السلام کے قتل میں ملوث تھے۔ عبد الملک کی طرف سے عبید اللہ بن زیاد کی قیادت میں بھیجی گئی ایک فوج کو کوفیوں اور زبیریوں کی مشترکہ افواج نے ناکوں چنے جبواۓ اور شکست خوردہ قائد افواج کے جسد خاکی کو تلوار کی تیز دھار کی زینت بنا ڈالا۔
[11657:image]
اس کے بعد اس نے سیدنا علی کے ایک نور چشم بیٹے محمد ابن الحنفیہ (دور حیات 637-700 عیسوی: گو کہ وہ سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہ کے بطن سے نہیں تھے) کو استعمال کرتے ہوئے علوی خلافت قائم کرنے کی اپنی خواہش کا اعلان کیا۔ اس فیصلے نے المختار اور عبد اللہ کے مابین دراڑ پیدا کر دی اور ایک حد فاصل قائم کر دی کیوں کہ خلافت کا دعویٰ تو مکہ میں عبد اللہ بھی کر چکا تھا. عبد الملک نے پھر کچھ تامل و توقف سے کام لیا اور اپنے حریفین کو ذاتی مناقشات میں کمزور ہوتے دیکھتا رہا. 687 عیسوی میں المختار کوفہ کے محاصرے کے دوران زبیری افواج کے ہاتھوں مارا گیا۔ اگرچہ المختار تو سفاکی و بربریت سے قتل کیا جا چکا تھا، لیکن اس کی شروع کی گئی بغاوت نے بطور ایک سیاسی گروہ سے ایک مذہبی گروہ میں ہونے والے شیعت کے ارتقا میں ایک کلیدی کردار ادا کیا.
اب چونکہ کوفہ کا خطرہ ٹل چکا تھا، عبد الملک نے اپنی توجہ مکہ پر مرکوز کر دی. اس نے اپنے انتہائی وفادار اور بے رحم جرنیل، عراق کی باغی سرزمین کے گورنر حجاج ابن یوسف (دور حیات 661-714 عیسوی) کو اپنے حریف کو زیر کرنے کے لیے بھیجا۔ اگرچہ عبداللہ کی حجاج کی طاقتور فوج کے خلاف کچھ بن نہیں پڑی، لیکن اس مرد مجاہد اور غیور سپہ سالار نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا اور 692 عیسوی میں تلوار ہاتھ میں لے کر اس نے جام شہادت نوش کیا۔ جنگ بالآخر اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھی.
[11658:image]
اگرچہ وہ حجاج کے کشت و خون کی داستانیں رقم کرنے ظالمانہ و سفاکانہ اعمال کی تنقید سے خود کو بری الذمہ نہیں قرار دے سکا، عبد الملک کو سلطنت میں استحکام اور مرکزیت لانے کا سہرا دیا جاتا ہے. یہ امر قابل قدر ہے کہ اس نے اپنی پوری سلطنت کو عربوں کا چغہ اوڑھنے پر مجبور کر کے اسے طور اطوار کے اعتبار سے معرب بنا دیا. اس فعل نے آئیندہ وقت کے ساتھ ساتھ اسلام کی تبلیغ و ترویج میں مدد کی۔ اس نے اپنی سلطنت کے لیے سرکاری سکے بھی جاری کیے تھے۔
691-692 عیسوی میں بیت المقدس میں قبۃ الصخری کی تعمیر بھی اسی کے دور حکومت میں پایہ تکمیل تک پہنچی. ؛ یہ قابل فہم ہے کہ اس کا قیام اس وقت مکہ اور حرم شریف پر اپنا سیاسی و روحانی تسلط جماۓ عبد اللہ کے خلاف اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے کیا گیا تھا. 693 عیسوی تک تیونس سمیت پورے شمالی افریقہ کی ہنوز ظلمت زدہ سرزمین تک اسلام کی پر نور کرنیں پھیلانے کا طرہ امتیاز بھی انھی کے سر ٹھہرتا ہے۔ اس کے بیٹے کے دور حکومت میں انھی مقامی بربروں نے قبول اسلام کے بعد ایمان کی اس حرارت کی سمندر پار ہسپانیہ تک ترسیل میں بنیادی کردار ادا کیا.
الولید اور فتح ہسپانیہ
عبد المالک کے اس دار فانی سے رخصت ہونے کے بعد اس کے بیٹے الولید اول (دور حکومت 705 تا 715 عیسوی ) نے عہدہ سنبھالا جس نے اس کی سلطنت کی حدود کو مزید وسیع کرنے کا فریضہ انجام دیا۔ حجاج نے اپنے حاکم پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانا جاری رکھا۔ ان کے دو حواریوں - محمد بن قاسم (دور حیات 695-715 عیسوی) اور قتیبہ ابن مسلم (دور حیات 669-715 عیسوی) بالترتیب جدید دور کے پاکستان اور وسطی ایشیا کے کچھ حصوں کو زیر کرنے میں کامیاب رہے۔
سپین پر مسلمانوں کی فتح 711 عیسوی میں اس وقت شروع ہوئی جب طارق ابن زیاد نامی ایک بربر جزیرہ نما ہسپانیہ میں موجود اس پہاڑ پر اترا جو آج اسی کے نام سے موسوم ہے: جبل الطارق۔ اس نے گواڈیلیٹ (711 عیسوی) کی جنگ میں گوتھک بادشاہ روڈرک ( دور حکومت 710 تا 712 عیسوی ) کی قیادت میں عددی لحاظ سے اعلیٰ اور تربیت یافتہ فوج کو شکست سے دوچار کیا، جس کے بعد، زمین صرف اس کے قبضے اور تصرف کے لیے باقی رہ گئی۔
[14212:image]
افریقیہ( شمالی افریقہ کا وہ حصہ جو مصر کے مغرب میں واقع ہے ) کے گورنر موسیٰ بن نصیر (دور حیات 640-716 عیسوی) نے طارق کو مزید آدمیوں کے ساتھ تقویت بخشی اور کمک پہنچائی اور ان دونوں نے 714 عیسوی تک الندلس (ونڈل قبائل کی سرزمین اسپین کی معرب شکل) کا بیشتر حصہ فتح کر لیا۔ موسیٰ پیرینیز کے پہاڑی سلسلے کو عبور کرتے ہوئے یورپ پر حملہ کرنے کے دہانے پر تھا، لیکن اس کلیدی موڑ پر، خدا جانے کس اہم وجہ کی بنا پر خلیفہ الوقت نے ان دونوں کو دمشق واپس آنے کا حکم صادر فرما دیا. مورخین آج بھی اس وجہ کو تلاش کرنے میں سرگرداں ہیں.
امتناعِ توسیع اور رکنا
ولید نے اپنے بھائی سلیمان کے بجائے اپنے بیٹے کو اپنا جانشین نامزد کرنے کی کوشش کی تھی، حال آنکہ ان کے پدر بزرگوار نے موخر الذکر کو اس کا جانشین مقرر کیا تھا. قدرتی طور پر، سلیمان نے اپنے دعوے سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا۔ ولید اپنی اس خواہش پر اپنے بھائی کو سر تسلیم خم کرنے کے لیے مجبور کرنے سے پہلے سے پرلوک سدھار گیا، اور سلیمان (دور حکومت 715-717 عیسوی) مسند خلافت پر متمکن ہو گیا۔ اس کا مختصر دور حکومت انتظامی، سیاسی، عسکری، سماجی غرض یہ کہ ہر حوالے سے نہایت ابتر اور ناقص ثابت ہوا. سلیمان کے دل کے نہاں خانوں میں حجاج کی نفرت اور حقارت کے سوا کچھ بھی نہیں تھا اور اس نے بہت سے ان لوگوں کو زندان کی تاریکیوں سے نجات دلائی جو حجاج کی جیلوں میں سلاخوں کے پیچھے قسمت کا رونا رو رہے تھے اور چکی پیس رہے تھے۔
تاہم، مرحوم گورنر کے ماتحتوں کو نئے خلیفہ کے مکمل غضب و عتاب کا سامنا کرنا پڑا۔ سلیمان نے سلطنت کے بہت سے بے باک و نڈر جرنیلوں اور باصلاحیت گورنروں کو محض اپنی انا کی تسکین کے لیے تلوار کی بھینٹ چڑھا دیا، کیونکہ ان میں سے اکثر کو حجاج نے منتخب کیا تھا۔ اس کے بعد سلیمان نے اپنی توجہ کا رخ قسطنطنیہ کی طرف موڑ دی اور 717 عیسوی میں بازنطینی دارالحکومت کو فتح کرنے کے لیے جدید اسلحہ سے لیس ایک بڑی فوج بھیجی۔ باوجود اس کہ یہ مہم ایک مہنگی اور ذلت آمیز شکست تھی. اس مہم کے نتیجے میں پیدا ہونے والا نقصان مستقل اور ناقابل تلافی تھا. اس طرح اموی خلافت کی مزید توسیع کے خیال پر برف نے ڈیرے جما لیے، مزید یہ کہ یہ بازنطینیوں کے خلاف اپنی فوج کو ملنے والا پہلا بڑا دھچکا تھا۔ عزرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتے ہوئے سلیمان نے محسوس کیا کہ اس کے اپنے بیٹے نہایت کم سن ہیں اور سلطنت کے معاملات کو چلانے کے اہل نہیں، اس لیے اس نے اپنے نہایت ہی معزز چچازاد بھائی عمر بن عبدالعزیز کے اپنا جانشین مقرر کر دیا.
عمر ثانی (دور حکومت 717 تا 720 عیسوی) صرف تین سال حکومت کرنے میں کامیاب رہے کیونکہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے اور اسلامی اصولوں پر ان کے غیر متزلزل موقف کی وجہ سے انہیں اپنے ہی خاندان کے طاقت و اقتدار کے بھوکے افراد نے زہر دے دیا تھا۔ ان کے کردار کی یہ خوبی اور دیگر کئی قابل تعریف اقدامات جیسے کہ سیدنا علی پر ہونے والے عوامی سب و شتم پر پابندی عائد کرنا، مذہبی تبدیلی کی سہولت فراہم کرنا اور پرامن پڑوسی سلطنتوں پر حملوں کو روکنا، نے انھیں بعد از مرگ شہرت دوام عطا کی ہے کیونکہ انھیں انھی خدمات کی بنا پر خلفا راشدین کی لڑی میں شمار کیا جاتا ہے اور خلیفہ پنجم کے عہدے سے تعبیر کیا جاتا رہا ہے۔
اس امر کا ادراک کرتے ہوئے کہ کسی بھی چیز سے پہلے سلطنت کی اندرونی حالت کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، اس نے تمام فوجی و عسکری مہمات کو ملتوی کر دیا. اس نے عجمی موالیوں سے بھی مفاہمتی مذاکرات کیے چونکہ ان پر ہونے والے ظلم و تشدد اور جبر و تعدی کی بنا پر وہ اموی سلطنت کے معاندین میں شامل ہو گۓ تھے. اگر اس کا عہد کچھ اور طویل ہوتا تو عمر بن عبدالعزیز کی ان مفاہمتی کوششوں کے کامیاب ہونے کا کافی امکان تھا، اور عباسیوں کو امویوں کے خلاف موالیوں اور مشرقی صوبہ جات کے شیعہ مسلمانوں کی طرف سے کبھی خاطر خواہ حمایت حاصل ہی نہ ہوتی۔
عمر بن عبدالعزیز کا جانشین، اس کا بھائی یزید ثانی ( دور حکومت 720-724 عیسوی) قرار پایا. لیکن وہ بھی اپنے ہم نام حاکم کے قدموں پر چلتے ہوئے سے اسی کی طرح ایک ناقص حکمران ثابت ہوا. جب وہ اپنے حرم میں اپنی پسندیدہ لونڈیوں سے بوس و کنار کرنے اور رنگ رلیاں منانے میں مصروف تھا، اس کے ناکارہ، کم مرتبہ اور رذیل قسم کے گورنروں نے سلطنت کا تمام اختیار کھو دیا تھا۔ بنو امیہ کی خوش قسمتی تھی کہ، وہ اقتدار سنبھالنے کے صرف چار سال بعد ہی قضا کا مہمان ہوا.
نظم و نسق اور اختیار کی بحالی
یزید ثانی کے بھائی اور جانشین، ہشام ( دور حکومت 724-743 عیسوی) کو خانہ جنگیوں کی وجہ سے خلفشار و انتشار کا شکار ہونے والی سلطنت وراثت میں ملی تھی اور وہ اپنی تمام تر توانائیاں اور وسائل، سلطنت کو اس بد نظمی سے نکالنے کے لیے استعمال کرتا رہا۔ ہشام ایک منجھا ہوا مضبوط اور تگڑا حکمران تھا اور عمر بن عبدالعزیز کے دور میں جاری کی گئی ان تمام اصلاحات کا دوبارہ اجرا کیا جن کے اطلاق پر یزید ثانی نے قدغن لگا دی تھی.
اس کے دور میں کی گئی فوجی مہمات میں سے کچھ کو واقعتاً کامیاب قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن بسا اوقات اس کے لشکر کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جس سے مجبوراً وہ پسپا ہو جاتا: موجود پاکستان کے صوبہ سندھ میں ہندوؤں کی سرکشی کو بے رحمی و تعدی سے کچل دیا گیا، لیکن 739 عیسوی میں شمالی افریقہ کے مغربی حصوں (موجودہ دور کا مراکش) میں بربر قبائل کی جانب سے غدر کے شعلے بھڑکاۓ جانے لگے۔ ان بربر قبائل کو اہل خوارج ( جو کہ اسلام کا ایک بنیاد پرست، کوتاہ نظر اور باغی فرقہ تھا) کی جنونی تعلیمات سے مشتعل کیا گیا تھا اور انھوں نے بہت زیادہ نقصان پہنچایا تھا، خاص طور پر یہ ، طنجہ کے قریب 740 عیسوی میں واقع ہونے والی غزوہ الاشراف میں افریقیہ کے متعدد عرب شرفا و نجبا کی اموات کا سبب بنے۔ بغاوت کو کچلنے کی کوششیں رتی برابر بھی کامیاب نہ ہوئی تھیں، لیکن 743 عیسوی منقسم و متفرق بربر قبائل جلد ہی ٹوٹ پھوٹ، بد نظمی اور طوائف الموکی کا اس وقت شکار ہو گئے جب جو اقریفیہ کے مرکز اور دارالخلافہ قیروان پر قبضہ نہ کر سکے. لیکن افسوس صد افسوس کہ مراکش جیسا قیمتی مرکز اور علاقہ بنو امیہ کے ہاتھوں سے ریت کی طرح نکل چکا تھا.
[11660:image]
اندلس بھی انتشار کی طرف لپکا تھا لیکن ہشام وہاں دنگے فساد، بلووں اور تمردانہ رویے کو رفع کرنے میں کامیاب رہا۔ عبدالرحمٰن الغفیقی نامی ایک قابل جرنیل کے تحت، صوبے میں امن و آشتی کے نظام کو بحال کیا گیا لیکن چارلس مارٹل ( دور حکومت 718-741 عیسوی) کی قیادت میں فرینکوں کے خلاف معركة بلاط الشهداء (732 عیسوی) میں شکست کے بعد یورپ میں اسلامی سلطنت کی توسیع ہمیشہ کے لیے رک گئی
فتنہ سوم
743 عیسوی میں ہشام کی موت کے بعد سلطنت کو شورشوں نے آ گھیرا. یزید ثانی کے بیٹے، ولید ثانی نے 743-744 عیسوی تک حکومت کی، اور بعد ازاں اسے ولید اول کے پسر یزید ثالث (متوفی 744 عیسوی) کے ہاتھوں معزول اور قتل کر دیا گیا ۔ اس واقعے نے تیسرا فتنہ (743-747 عیسوی) کو جنم دیا، جو اسلامی تاریخ کی تیسری خانہ جنگی تھی کیونکہ بہت سے قبائل نے بھی بغاوت کے خیالات کو اپنے اذہان میں جگہ دینی شروع کر دی تھی۔ یزید سوم کا انتقال صرف چھ ماہ بعد ہوا اور اس کا جانشین اس کا بھائی ابراہیم بنا جو مروان اول کے پوتے مروان ثانی (دور حکومت 744-750 عیسوی) کے ہاتھوں معزول ہونے سے پہلے صرف دو ماہ تک حکومت کرنے میں کامیاب رہا۔
مروان ثانی ایک آزمودہ کار، زیرک اور تیز فہم فوجی کمانڈر تھا لیکن اس کے پاس سفارتی مہارت کی کمی تھی، اسی لیے اس نے ریاست کے خلاف ہونے والی بغاوتوں کو وحشیانہ و سفاکانہ طریقے سے کچل دیا اور 747 عیسوی میں تیسرے فتنے کا خاتمہ کیا۔ تاہم، نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے منسوب عباسیوں نامی ایک جماعت نے ایران کے صوبہ خراسان میں عام لوگوں کی حمایت حاصل کر لی تھی۔ مروان ثانی کی سلطنت کسی بڑے پیمانے پر بغاوت کا سامنا کرنے کی حالت میں نہیں تھی۔ اس کی فوج برسوں کی خانہ جنگی اور دنگوں سے تھک ہار کر چور چور ہو چکی تھی، ڈگمگاتی ہوئی معیشت نے اسے مزید فوجی بھرتی کرنے کی اجازت نہیں دی، اور غیر موثر اور فضول گورنر عباسیوں کی جانب سے لاحق خطرے کی سنگینی کو محسوس کرنے میں ناکام رہے، یہاں تک کہ پانی سر سے گزر گیا.
749 عیسوی کے آخر تک بیشتر مشرقی ریاستوں نے عباسیوں کے سیاہ جھنڈے لہرانا شروع کر دیے تھے اور وہ آزردہ خاطر قبائل جنھیں مروان ثانی نے بزور شمشیر زیر کیا تھا، عباسیوں کے ساتھ الحاق کرنے لگے۔ اسے معرکہ دریائے زاب (750 عیسوی) میں بہتر تربیت یافتہ عباسی فوج کا فوج کا سامنا کرنا پڑا، جہاں اس کی فوج کو شکست دی گئی اور وہ بھاگنے پر مجبور ہوئے۔ وہ مغربی صوبوں سے اپنی فوجیں اکٹھا کرنے کے ارادے سے مصر فرار ہو گیا، لیکن عباسیوں نے اسے پکڑ لیا اور اسے قتل کر دیا۔ یوں اموی حکومت کا نیر درخشاں و تاباں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا، اور پہلے عباسی حکمران ابو عباس (دور حکومت 750 تا 754 عیسوی ) کوفہ میں نیا خلیفہ قرار دیا گیا۔
بنی امیہ کا خاتمہ
عباسی خلفا نے اموی خاندان کی رحم کی تمام اپیلوں کو سخت دلی اور قساوت قلبی سے مسترد کر دیا۔ تمام مرد ارکان کو قتل کر دیا گیا، جوزندہ بچے وہ ایسے چھپے کہ موت کا گمان ہوا۔ دمشق میں اموی افراد کی قبر کشائی کر کے ان کی باقیات کو نذر آتش کر کے بے حرمتی کی گئی- عمر بن عبدالعزیز کی قبر اس رویے سے مستثنیٰ رہی. اس کی وجہ ان کی دریا دلی اور سخاوت تھی۔ پھر عباسیوں نے صلح کے بہانے تمام زندہ بچ جانے والے ارکان کو عشائیہ پر مدعو کیا لیکن نئے خلیفہ کے اشارے پر جب انہیں میز پر بٹھایا گیا تو قاتلین اچانک پردوں کے پیچھے سے نمودار ہو آۓ اور شاہی محل میں خون کی نہریں بہا دی گئیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ کس طرح کھانے کے میز پر اموی خاندان کے افراد کی تکہ بوٹی کی گئی. عبدالرحمن اول، جو کہ ہشام کا پوتا ہے، اپنے رشتہ داروں کے ہولناک انجام سے بچ گیا، وہ بچتا ہوا، ہانپتا ہوا، جان کی بازی کھیلتے ہوئے کسی نہ کسی طرح عباسیوں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوا اور ایک خطرناک و پر خشل سفر کر کے الاندلس پہنچ گیا، جہاں اس نے 756 عیسوی میں امارتِ قرطبہ قائم کی، جو جاہ و حشمت اور سطوت و جلال میں عباسی سلطنت کے ہم پلہ رہی.
[9841:image]
اختتامیہ
بنو امیہ وہ پہلا خاندان تھا جس نے خلفاء راشدین کے بعد خلافت کے عہدے کا چارج سنبطالاےور اسے ایک وراثتی عہدہ میں تبدیل کیا۔ وہ اسلامی سلطنت میں مرکزیت اور استحکام لانے کے موجب بنے، اور انہوں نے سلطنت کی تیزی سے عسکری توسیع کو بھی جاری رکھا۔ تاہم، یہ امر مسلم ہے کہ اموی بھی دودھ کے دھلے نہ تھے، بلکہ ظلم و بربریت، لالچ و حرص، بد عنوانی اور دیگر کریہہ افعال کی داستان کے ہر صفحے پر کہیں نہ کہیں کسی اموی فرمانروا کا اسم گرامی مرقوم ہے۔ یزید اول نے اہل بیت، مدینہ اور مکہ کے لوگوں کے خلاف بھیانک جرائم کا ارتکاب کیا - وہ آج تک اسلامی تاریخ کا سب سے زیادہ ملعون زدہ شخص ہے۔ یہ نفرت اہل تشیع میں خاص طور پر 680 عیسوی میں کربلا میں حسین رضی اللہ عنہ اور ان کی افواج کے قتل عام کی وجہ سے نمایاں ہے (یہ واقعہ ہر سال اہل تشیع اور اہل تسنن دونوں کی طرف سے عاشورہ کے موقع پر یاد کیا جاتا ہے)۔
جو کچھ یزید نے کیا، کم و بیش وہی کچھ تمام اموی خلفا نے کیا، اور چونکہ زیادہ تر اموی خلفا سیکولر اور آزاد خیالات کی جانب مائل تھے اور عیش و عشرت کی زندگی گزارتے تھے، انہیں اپنے وقت کے متقی مسلمان بے دین سمجھتے تھے۔ یقیناً عمر بن عبدالعزیز اور ہشام اس فیصلے سے مبرّیٰ ہیں. ہم عصر مورخین دیگر اموی خلفا کی توقیر کرنے پر مجبور تھے جبکہ بہت سے مسلم مورخین ان کو شیطان سے تشبیہ دینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے ہیں۔ اپنی بہت سی خامیوں کے باوجود، اموی مؤثر حکمران تھے اور انہوں نے نہ صرف اسلامی سلطنت کے لیے قابل قدر خدمات انجام دیں بلکہ یہ کہنا بھی جائز ہوگا کہ شاید غیر ارادتاً ہی سہی، لیکن اسلامی سلطنت کو مکمل طور پر معرب کر کے اسلام کی بطور دین بھی خدمت کی

