شمالی امریکہ کا قبل از نوآبادیاتی دور وہ تھا جب ابھی تحریر (Prehistoric) نہیں تھی، خِطے سے کِسی کا رابطہ نہیں تھا (Precontact) اور جب ابھی کولمبس نے اسے دریافت نہیں کیا تھا (Pre-Columbian)۔ یہ دور 40,000-14,000 سال قبل خطے میں پیلیو-انڈینز (Paleo-Indians) کی ہجرت اور 16 ویں صدی عیسوی میں مقامی قبائل اور یورپی نوآبادیات کے درمیان کا ہے۔ اِسی (بڑے خِطے) سے امریکہ اور کیننڈا وجود میں آئے ۔
کرسٹوفر کولمبس (l. 1451-1506) نے 1492 میں ویسٹ انڈیز آنے اور یورپی نوآبادیات کا آغاز کرنے کے بعد ڈچ (Dutch)، فرانسیسی (French) اور انگریزوں کی طرف سے شمالی امریکہ میں 1534 سے 1620 تک کالونیاں قائم کرنے کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کی جس کی وجہ سے اگلے 100 سالوں میں تیزی سے نوآبادیات قائم ہوئیں۔
یورپی لوگوں کی آمد سے پہلے، مقامی امریکی پورے براعظم میں موجودہ الاسکا سے لے کر پورے کینیڈا، اور تمام 48 ریاستہائے متحدہ (اُس وقت تک) میں خود مختار قوموں کے طور پر رہتے تھے۔ اس دور کا آسانی سے مطالعہ کرنے کے لیے جدید دور کے علماء نے اسے مُختلف ادوار میں تقسیم کیا ہے:
- Paleoindian-Clovis Culture – c. 40,000 - c. 14,000 BCE
- Dalton-Folsom Culture c. 8500-7900 BCE
- Archaic Period – c. 8000-1000 BCE
- Woodland Period – c. 500 BCE - 1100 CE
- Mississippian Culture – c. 1100-1540 CE
کوشش کی گئی ہے کہ ادواروں کی تاریخِیں درُست ہوں۔ مختلف مقامی امریکی ثقافتیں مختلف رفتار اور طریقوں سے ترقی پذیر ہوئیں جِن کے بارے میں مختلف علماء ان ادوار کو مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں۔ ہر جگہ ایک ہی وقت میں مقامی ثقافت کی یکساں ترقی نہیں ہُوئی۔ کچھ قوموں نے ٹیکنالوجی کا استعمال جاری رکھا اور وڈ لینڈ عرصہ (کولمبس سے پہلے کی ثقافت) سے وابستہ روایات پر عمل کیا جبکہ دیگر نے ایسے طریقوں سے ترقی کی جِس سے مسیسیپیئن ثقافت (Mississippian Culture) نمایاں ہوتی ہے۔ اس مضمون میں، ڈالٹن-فولسم، ایک مخصوص مُدتی کلچر Dalton-Folsom Culture (تحریری دور) کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے جس میں بہت سی مختلف ثقافتوں کی شناخت ان کے پروجیکٹائل پوائنٹس (پتھر کو تراش کر بنائے ہُوئے بندوق کی گولی کیطرح ہتھیار) کی تیاری میں فرق کے ذریعے کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر ایونز (Evans) جِنہوں نے ترقی کیلئے اپنا ہی راستہ لیا۔
شمالی امریکہ کے لوگ خانہ بدوش یا نیم خانہ بدوش شکاری تھے، دوسروں کے مقابلے میں دراز قد تھے، بڑے شہری احاطے بناتے اور زرعی حصول اور تجارت میں مصروف رہتے تھے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ وہ دُوسروں کی نِسبت زیادہ ترقی یافتہ تھے۔ بڑ ے میدانی علاقوں کے لوگوں نے مشرقی ساحل پر رہنے والوں کے مقابلے میں زیادہ دیر تک شکار بطور ذریعہ معاش جاری رکھا کیونکہ یہ علاقہ شِکار کیلئے موزوں تھا۔
شمالی امریکہ میں اقوام اور ثقافتوں نے انتہائی نفیس سماجی اصول اپنائے، یادگار شہری مراکز بنائے، طویل فاصلےتک بڑے پیمانے پر تجارت کی اور آبپاشی کے ایسے نظام کی ایجاد کی جو آج بھی ریاستہائے متحدہ کے کچھ حصوں میں موجود ہیں (جیسا کہ جنوب مغرب میں خاص طور پر فینکس، ایریزونا کے ارد گرد کا علاقہ)۔ 17ویں اور 18ویں صدیوں میں یورپ سے زیادہ سے زیادہ نوآبادیات پہنچے۔ ہزاروں سالوں سے آباد مقامی امریکی لوگ بتدریج، اُن یورپی تارکین وطن کے بڑھتے گروہوں کے ہاتھوں زمینوں کے کھو جانے کی وجہ سے تحفظات کا شِکار ہُوئے۔ یورپی تارکینِ وطن ہی بعد میں زمینوں کے قانونی طور پر حقدار بن گئے جو پہلے مُقامی لوگوں کی تھیں۔
پیلیو-انڈین کلوویس ثقافت
یہ انحصار کرتا ہے کہ آیا کوئی ماضی کی اِس تاریخ کو درُست سمجھتا ہے کہ (Paleoindians) پیلیو-انڈین 40,000 یا 14,000 سال پہلے ایشیا سے شمالی امریکہ منتقل ہوئے؟۔ شمالی، وسطی اور جنوبی امریکہ میں اقوام کے پھیلاوؐ اور ترقی کی بنیاد پر پہلے کی تاریخ زیادہ تر ممکنہ طور پر درست لگتی ہے۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ لوگوں نے ساحلوں پر رہنے کی وجہ سے کشتیوں کے ذریعے ہجرت کی ہو گی جب تک کہ وہ جدید دور کے کیلیفورنیا، میکسیکو اور جنوب کے علاقوں میں آباد نہ ہُوئے۔ ممکنہ طور پر اسی وقت دوسرے لوگ زمینی راستے سے ہجرت کر رہے تھے۔ عالم رون فشر (Scholar Ron Fisher) کا تبصرہ یُوں ہے:
ماہرین آثار قدیمہ زیادہ تر اس بات پر متفق ہیں کہ تقریباً 30,000 سال قبل امریکہ کو ایشیا سے آنے والے تارکین وطن نے آباد کیا تھا، جب دنیا کا زیادہ تر پانی الاسکا اور سائبیریا کو جوڑنے والا 600 میل چوڑا زمینی ٹُکڑا (Bering Land Bridge) برف سے ڈھکا ہُوا تھا۔ لوگوں نے اس برج کو عبور کیا اس خیال سے نہیں کہ وہ نقل مکانی کر رہے تھے۔ جیسے جیسے صدیاں گزر گئیں، انہوں نے اِس سفری کھیل کو جاری رکھا، موسموں کا تجربہ کیا، اپنی جبلتوں کی پیروی کی، اور پودوں کے اصولِ پولینیشن (Pollination) کی طرح، ایک نئے براعظم میں آباد ہُوئے۔ (10)
سب سے قدیم ثقافت کے آثار کلووس کے ہیں جِسے 1929 میں کلوویس، نیو میکسیکو میں پہلی بار دریافت ہونے والے "کلووس پوائنٹس" کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔ بنیادی طور پر یہ شکار کے لئے استعمال ہونے والے (تقریباؐ چار اِنچ لمبے پتھر کے بندوق کی گولی کیطرح بنے ہُوئے نوکدار ہتھیار) جو نیو میکسیکو میں پہچانے جانے کے بعد پورے براعظم میں پہچانے گئے تھے۔ اگرچہ ایسا لگتا ہے کہ کلووس سے پہلے بھی ثقافتیں موجود تھیں، لیکن یہ نام وسیع پیمانے پر شکار پر اِنحصار کرنے والی ثقافت کی نشاندہی کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا جو بنیادی طور پر میگافونا، بڑے جانور جیسے عظیم بائسن، دیو بیور، مستوڈون، کرپان دانت والے بڑی جسامت والے شیر اور دیگر کے شکار کے تعلق سےتھا۔
خیال کیا جاتا ہے کہ کلووس لوگوں (تحریری دور سے پہلے شمالی امریکہ کی ثقافت) نے شکار سے مُتعلق کِسی بڑے کھیل کی طرح طریقے اپنائے جب تک وہ بنیادی طور پر کسی خاص علاقے میں آباد نہ ہُوئے۔ ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے دوسروں کے ساتھ تجارت کرنا شروع کر دی۔ فشر اِسطرح نوٹ کرتا ہے:
چونکہ پوائنٹس (نوکدار ہتھیار) اکثر ان کی تیاری کے مقامات سے بہت دور پائے جاتے تھے، ماہرین آثار قدیمہ جانتے تھے کہ مختلف معاشروں کے لوگ تجارت کے ذریعے یا تحفوں کے طور پر ان کا تبادلہ کرتے تھے۔ آثارِ قدیمہ کی مخصوص جگہیں ماہرین آثار قدیمہ کو ان گروپوں کی اقسام کے بارے میں بھی بتاتی ہیں جنہوں نے انہیں استعمال کیا: نیزوں سے بھرپور پہاڑی پر ایک چھوٹی سی جگہ مردوں کا شکار کرنے کا کیمپ ہو سکتا ہے؛ دریا کے کنارے خواتین کے کیمپ کی جگہ جس میں کھانا بنانے کے اوزار ہیں۔ (11)
جیسے جیسے آب و ہوا میں تبدیلی آئی اور زیادہ جانوروں کا شکار ختم ہونے لگا، بڑا کھیل (یعنی بڑا شکار) غائب ہونا شروع ہوا اور چھوٹا کھیل (یعنی چھوٹا شکار) بچ گیا۔ اس مقام پر، لوگوں نے جھیلوں، ندیوں اور دریاوؐں کے ساتھ ساتھ مستقل یا نیم مستقل بستیوں کی طرف متوجہ ہونا شروع کر دیا جن سے وہ مچھلیوں کا شکار کر سکتے تھے۔
ڈالٹن فولسم کلچر
طرز زندگی میں یہ تبدیلی پہلے کی کلووس کلچر کو بعد کے (Dalton-Folsom Culture) ڈالٹن فولسم کلچر سے مختلف کرتی ہے جو کلووس کی طرح بنیادی طور پر جنوب مغرب (فولسم) اور مڈویسٹ (ڈالٹن) میں پائے جانے والے پروجیکٹائلز سے نام نہاد ہے لیکن شمالی امریکہ کے بیشتر حصوں میں پائے جانے والی دریافتوں میں (8500-7900 قبل مسیح) اس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ عالم ایلن ٹیلر (Scholar Alan Taylor) اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہیں:
بدلتی ہوئی آب و ہوا اور بڑی جسامت والے جانوروں کی موت نے خانہ بدوشوں کو خوراک کے وسیع ذرائع کو استعمال کرنے کے لیے مزید متنوع حکمت عملی (diversified strategies) کیمُطابق عمل کرنے کی ترغیب دی۔ مقامی لوگوں کو شیلفش (عام فہم میں خُشکی اور پانی میں رہنے والے کِیڑے مکوڑوں کیلئے اِستعمال ہونے والی اِصطلاح)، مچھلی، پرندے، گری دار میوے، بیج، بیر اور tubers (ٹماٹر ادرک وغیرہ) کی کٹائی کے لیے اپنے مقامی ماحول کو زیادہ قریب سے سیکھنا پڑتا تھا۔ ہندوستانیوں نے اپنی زیادہ خوراک ماہی گیری سے حاصل کی کیونکہ انہوں نے مچھلیوں کا شکار کرنے کیلئے جال، پھندے اور ہڈیوں کے کانٹے بنائے۔ ان کے شکار کیلئے بڑا صبر اور زیادہ وقت درکار تھا خاص طور پر ہرن، پرونگ ہارن اینٹیلوپ (تیز بھاگنے والے ِہرن)، موز (ہِرنوں میں سب سے بڑی قِسم moose)، ایلک (ہِرن کی قِسم elk) اور کیریبو (گھریلو بھینس کی ایک قِسم) کے شکار کیلئے۔ تقریباً نو ہزار سال پہلے، ہندوستانی تھوڑے فاصلہ پر شکار کیلئے اپنی کمان کو اِن اصولوں کو مدِ نظر رکھتے ہُوئے تیار کرتے تھے کہ انہیں کِتنے فاصلہ پر کِتنے زور اور رفتار سے نیزہ پھینکنا ہے۔ (8-9)
کمان سے پھینکے گئے نیزوں کی نوکیں ہوتی تھیں۔ یہ ایک مُڑی ہوئی چھڑی ہوتی تھی جس کے ایک سرے پر ایک کپ ہوتا تھا جس میں پھینکے جانے والے پروجیکٹائل (پھینکا جانے والا تِیر) کا بٹ تھا -یہی ڈالٹن فولسم پوائنٹس ہیں اور ثقافت اِسی کے نام سے ہے۔ کمان اس عرصے کے دوران تیار کیے گئے اوزاروں میں سے صرف ایک ہے، تاہم ڈالٹن-فولسم کے لوگ پتھر کے چاقو، کھرچنے والی اشیا، drills، اور دیگر اوزاروں کی وجہ سے بھی خصوصیت رکھتےتھے۔ ہر شکار کے بعد پتھرسے نیزوں کی نوکوں کو دوبارہ تیز کیا جاتا تھا، اور چھریوں کو گوشت کاٹنے کے لیے اور کھالوں کو لِباس کیلئے، دھارے دار کناروں سے تیار کیا جاتا تھا۔ یہ ثقافت مذہبی عقیدے کی پہلی نشانیاں اور مُختلف مقامات پر پائے جانے والے قبر کے سامان کے ذریعے دکھاتی دیتی ہے۔
قدیم دور
قدیم دور کی ثقافت سے آگاہی الہی طاقت پر یقین رکھنے کی وجہ سے تھی جو مٹی کے ٹیلوں کی تعمیر سے نمایاں ہوتی تھی اور اِسی خاصیت کی وجہ سے یہ (Mound builders) کے نام سے کہلائے یعنی "ٹیلے بنانے والے"۔ (شمالی امریکہ میں ماوؐنڈ بِلڈرز Mound builders ثقافتی اعتبار سے زمینی کاموں کی بابت ایک اِصطلاح)۔ یہ ٹیلے ابتدائی طور پر مقدس جگہوں کے طور پر بنائے گئے تھے جہاں رسمیں نافذ کی گئی تھیں اور ہو سکتا ہے کہ یہ "دیوتاؤں کے گھر" کے طور پر بھی کام کرتے ہوں تا کہ مذہبی راہنُما باقی کمیونٹی کی دنیا سے بہتر ہوں۔
قدیم ترین ٹیلے، 5400 قبل مسیح کے آس پاس نام نہاد قدیم دور (Middle Archaic Period تقریباؐ 6000 تا 3000 سال قبل مسیح) سے تعلق رکھتے ہیں۔ بُنیادی طور پر جدید دور کا لوزیانا (Louisiana)، (خاص طور پر واٹسن بریک کے مُقام پر اوچیٹا ماؤنڈ کے نام سے (Ouachita Mound at Watson Brake) شمالی امریکہ کا سب سے پرانا ٹیلا)، مسیسیپی (Mississippi) اور آس پاس کی ریاستیں جو بعض اوقات ایسا لگتا ہے کہ یہ گرد ونواح کی مذہبی یا سیاسی کمیونٹی کے لیے مراکز بن گئے تھے۔ اس وقت تک مستقل بستیاں قائم کی گئیں اور پودوں اور کچھ جانوروں کو پالا گیا۔ کتے کو پہلے ہی پالا گیا تھا اور کچھ علماء کے مطابق یہ ایشیا سے آنے والوں کے ہمراہ لائے گئے۔
ابتدائی اور درمیانی آثار قدیمہ کے ادوار کی چھوٹی آبادیاں دیر سے بڑے شہروں میں تبدیل ہوئیں جب جدید دور کے لوزیانا (Louisiana) میں پاورٹی پوائنٹ (Poverty Point) جیسی آبادیاں قائم ہوئیں۔ نا معلوم افراد جِنہوں نے اِس آبادی کو قاِم کیا، انہی کے نام سے اِسکا نام Poverty Point رکھا گیا۔ نام اور کلچر دونوں اس نام سے اخذ کیے گئے ہیں جو فلپ گیئر نے 19ویں صدی کی شجرکاری کو دیا تھا۔ Guier نے اِس بات پر غور نہیں کیا کہ ایسی پہاڑیاں جِن پر نِصف دائرہ پہ دائرہ زمینی کام مُقامی امریکیوں کا اپنا تھا۔ کسی اور کو بھی 1953 تک اس کا احساس نہیں ہوا جب ایک فضائی تصویر سے یہ پلاٹو کی شکل کا ایسا زمینی کام واضع ہُوا۔
ووڈ لینڈ کا دور
ٹیلوں کی تعمیر وڈ لینڈ کے دور میں جاری رہی جِسے عام طور پر ابتدائی، درمیانی اور اِسکے بعد کے ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہ ایک اصطلاح ہے جوعام طور پر شمالی امریکہ کے مشرقی اور درمیانی خطوں سے وابستہ ہے لیکن جنوب مغربی اور بڑے میدانوں پر یکساں طور پر لاگو ہوتی ہے۔ اسی طرح کی تبدیلیاں پورے براعظم میں کی گئی تھی۔ سیرامکس زیادہ بہتر ہو گئے جیسا کہ دستکاری کے کام جیسے مجسمہ، اوزار اور ہتھیاروں سے عام طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ جنوب مغرب میں، ہوہوکام (Hohokam) جیسی قوموں نے شہر بنائے اور موثر آبپاشی کے نظام کو ڈیزائن کیا۔ الاسکا میں، انوئٹ (Inuit) نے پتھر کے لیمپ، بڑے فش ہکس (fishhooks)، بہتر چاقو اور ہارپون (نیزہ) تیار کیے۔ مشرق کی طرف، انفرادی قوموں نے ٹیلے کو نہ صرف مقدس مقامات کے طور پر بنایا بلکہ تدفین اور رہائشی مقاصد کے لیے بنایا۔ مختلف گروہ طویل فاصلے اور مقامی تجارت میں مصروف تھے۔
سب سے اہم پیش رفت مذہب کے شعبے میں تھی جس کا ثبوت مختلف مقامات پر پائے جانے والے نمونوں سے ملتا ہے۔ Poverty Point واضح طور پر ابتدائی طور پر کسی قسم کی مذہبی سرگرمیوں کی اعلی سطح کو ظاہر کرتا ہے لیکن مذہب اس سائٹ کا صرف ایک پہلو تھا کیونکہ یہ رہائشی بھی تھا۔ وڈ لینڈ کے دور کی کچھ جگہیں، جیسے کہ جدید دور کی ٹینیسی (Tennessee) میں پنسن ماؤنڈز (Pinson Mounds)، تعمیر کی گئیں اور مکمل طور پر مذہبی مقاصد کے لیے استعمال کی گئیں۔ پنسن سائٹ میں 17 بڑے ٹیلے شامل تھے اور وہاں سے دریافت ہونے والے نمونے واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتے تھے کہ یہ کبھی رہائشی نہیں تھے بلکہ ایک مقدس مقصد کی تکمیل کرتے تھے۔
مقامی امریکیوں نے اینیمزم (animism) کے مذہبی عقیدے کا مشاہدہ کیا اس ایمان کے ساتھ کہ فطرت میں موجود تمام چیزیں ایک روح سے متحرک ہیں اور سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور اس بات کو تسلیم کیا کہ غیب کی دنیا بھی اتنی ہی حقیقی اور طاقتور ہے جیسے وہ اپنی روزمرہ کی زندگی گزرتے ہیں۔ ٹیلر اِسطرح تبصرہ کرتا ہے:
مُقامی لوگ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اِنسان قُدرتی اور مافوق الفطرت کے اُس جال کی بجائے جِسکا وہ حِصہ ہیں، اپنے اندر رہتے تھے۔ وہ اعمال کو انسانوں کے علاوہ دیگر تمام مخلوقات جو اُن کی طرح نہیں ہیں، کے ساتھ سماجی طور پر تصورکرنے تھے۔ بے شق، ان کے افسانوں اور خوابوں کیمُطابق، لوگ اور دوسرے جو اِنسان نہیں تھے ایک دوسرے میں تبدیل ہو سکتے تھے۔ آبائی زندگی کے تمام پہلوؤں کی طرح، فطرت سے مُستفید ہونے کا بنیادی اصول باہمی تعاون کا حصول تھا۔ لوگوں نے اپنے آس پاس کی زندگی میں حصہ لینے کا دعویٰ کرنا جائز محسوس کیا اور یہ فرض سمجھا کہ اِسکے بدلے میں اُنہیں ایک دُوسرے کا احترام کرنا ہے اورفضول خرچی سےگریز کرنا ہے۔(19)
اس باہمی تعلق نے کسی جانور کی جان لینے یا لکڑی کے لیے کاٹے گئے درخت کے لیے شکرگزاری کے ذاتی اور اجتماعی اشاروں کی شکل اختیار کر لی۔ پنسن ماؤنڈز (Pinson Mounds) جیسی مقدس جگہیں اسی جذبے کا ایک اور اظہار تھیں۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ٹیلے کی تعمیر، غیب کی دنیا کا ایک رد عمل تھا کہ فطرت کی قوتوں پر توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے اور، شاید، انہیں ایک ٹیلے میں مرکوز کر کے کنٹرول کیا جا سکتا ہے جس نے عِبادت گُزاروں کو آسمانوں کی طرف اٹھایا لیکن انہیں زمین سے مضبوطی سے جڑے رکھا۔ چونکہ ٹیلے اکثر پانی سے تعمیر کئے جاتے تھے، یہ خیال کیا جاتا ہے کہ زمین، ہوا، آگ اور پانی کے چاروں عناصر کو خاص عِزت دی جاتی تھی اور ٹیلے کی رسومات کے دوران شکریہ ادا کیا جاتا تھا۔
مسیسیپیئن ثقافت
مسیسیپی ثقافت (Mississippian Culture) کو اس نام سے اِسلئے کہا جاتا ہے کیونکہ لوگ بنیادی طور پر دریائے مسیسیپی وادی (Mississippi River Valley) میں رہتے تھے، لیکن انہوں نے اوہائیو ریور ویلی (Ohio River Valley)، ٹینیسی ریور ویلی (Tennessee River Valley)، شمال مشرق سے لے کر لوزیانا (Louisiana) تک اور انڈیانا (Indiana) کی طرف دیگر جگہوں پر شہر اور گاؤں بھی قائم کیے تھے۔ مسیسیپیئن کلچر کی سب سے مشہور آبادیاں ایڈنا کلچر (Adena Culture c. 800 BCE-1 CE) اور ہوپ ویل کلچر (Hopewell Culture c. 100 BCE 500 CE) تھیں جنہوں نے متعدد ٹیلے بنائے اور لین دین، تجارت، دستکاری اور ٹیکنالوجی کو مزید ترقی دی۔ ایڈینا (Adena) نے مخروطی شکل (cone-shaped) کے ٹیلے بنائے جب کہ ہوپ ویلز (Hopewell’s) زیادہ پیچیدہ تھے، اکثر جانوروں کی شکل میں، لیکن دونوں نے ایک مذہبی تقریب کا رنگ لیا۔
پاورٹی پوائنٹ (Poverty Point) کی طرح، ہوپ ویل کلچر (Hopewell Culture) کے ٹیلے کو صرف اوپر سے پوری طرح پہچانا اور سراہا جا سکتا ہے۔ لوگ کس طرح ایسا کام کرنے میں کامیاب ہوئے جو وہ خود نہیں دیکھ سکتے تھے? اور جو ابھی تک ایک بھید ہے۔ ایڈنا اور ہوپ ویل کی سیرامکس، آرٹ ورکس، اور آبپاشی کے گڑھے (ditches) جیسی ٹیکنالوجی میں مہارت متاثر کن ہے جیسا کہ کاشتکاری میں ان کی قابلیت اور تجارت میں قابلیت ہے۔ عالم یوون وکیم ڈینس (Yvonne Wakim Dennis) نے مقامی امریکیوں کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ "عظیم وحشی" خاموشی سے زمین پر گھوم رہے ہیں، لکھتے ہیں:
نوآبادیاتی رپورٹس میں دکھائے گئے فطرت کے غیر فعال افراد ہوتے ہُوئے… ہندوستانیوں نے حسابی اور وسیع وسائل کے انتظام کی مشق کی۔ مڈویسٹ کے لوگ سادہ خانہ بدوش نہیں تھے بلکہ شہری انجینئرز (urbanized engineers)، دُور دراز عِلاقوں تک تجارت کرنے والے اور بڑے پیمانے پر کاشتکاری کرنے والے تھے۔ (135)
ایک اور قوم، جو ایڈنا اور ہوپ ویل (Adena and Hopewell) دونوں سے الگ سمجھی جاتی ہے، نے کاہوکیا ، موجودہ الینوئس (Cahokia in modern-day Illinois) شہر تعمیر کیا، جو کہ 18ویں صدی سے پہلے شمالی امریکہ کا سب سے بڑا شہری مرکز تھا اور جو 18 ویں صدی کے درمیان پھلا پھولا۔ 650 c۔ 1350 عیسوی کے درمیان Cahokia نے پادری طبقے کی طرف سے پڑوسی برادریوں کو شہر کے بہت بڑے رسمی ٹیلے کی تعمیر میں حصہ لینے کی اپیل کے ذریعے ترقی کی ہو گی - جسے آج Monks Mound کے نام سے جانا جاتا ہے - اور ساتھ ہی دیگر 119 ٹیلے تعمیر کئے جو دوسرے مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
کاہوکیا (Cahokia) ایک عظیم الشان شہر تھا جس میں ایک وسیع مرکزی پلازہ، دکانیں، گیند سے کھیلنے کیلئے میدان، ایک شمسی کیلنڈر، نچلے طبقے اور اشرافیہ کے لیے رہائش گاہیں اور مکئی اور دیگر فصلوں کے لمبے کھیت تھے۔ کاہوکیوں کی مکئی کی کاشت ان کو پرانی ثقافتوں سے الگ کرنے والے پہلوؤں میں سے ایک ہے جنہوں نے اس فصل میں مہارت حاصل نہیں کی تھی۔ ان کی مکئی کی کاشت اتنی کامیاب تھی کہ اس نے نہ صرف شہر کے لوگوں کی ضرورت پُوری کی بلکہ مقامی اور دور دراز کی تجارت کیلئے استعمال کیا گیا۔
ایک اور بڑا شہر، جسے آج ماؤنڈ وِل (Moundville) کے نام سے جانا جاتا ہے (الاباما Alabama میں واقع ہے) دُور دراز کے عِلاقوں تک تجارت میں مصروف تھا، لوگوں کو 1100 - سی۔ 1450 عیسوی کے دوران مذہبی خدمات کے لیے مبذول کرایا۔ Cahokia اور Moundville دونوں کے اصل نام نامعلوم ہیں۔ Cahokia کا نام اس وقت آس پاس رہنے والے قبیلے کے لیے رکھا گیا تھا جب 19 ویں صدی میں اس علاقے کو پہلی بار یورپیوں نے دیکھا تھا اور Moundville کو بلیک واریر دریا (Black Warrior River) سے متاثرہ زمین میں ڈوبنے والے بہت سے ٹیلوں کو غیر تصوراتی نام دیا گیا تھا۔
ماؤنڈ وِل کے لوگوں نے سختی سے مرتب شدہ سماجی درجہ بندی کو برقرار رکھا جس کا مظاہرہ انہوں نے شہر کے فن تعمیر کے ذریعے کیا۔ امیر لوگ ٹیلے کے اوپر لکڑی کے گھروں میں رہتے تھے جن کا سامنا نیچے والے پلازہ میں مرکزی ٹیلے کی طرف تھا، جب کہ نچلے طبقے کے لوگ پلازے کے دوسری طرف کھڑکیوں کی جھونپڑیوں میں رہتے تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ شہر ایک مذہبی مرکز اور زیارت گاہ بن گیا تھا کیونکہ اسی وقت اس کی آبادی میں اضافہ ہوا جبکہ آثار قدیمہ کے نمونے مذہبی رسومات کی زیادہ تعداد کا اشارہ دیتے ہیں۔
نتیجہ
مسی سیپیئن ثقافت (Mississippian Culture) اب بھی پھل پھول رہی تھی، حالانکہ کاہوکیا (Cahokia) کو ترک کر دیا گیا تھا (زیادہ تر مُمکنہ طور پر بڑھتی ہُوئی آبادی کی وجہ سے) جب ہسپانوی فاتح ہرنینڈو ڈی سوٹو (Hernando de Soto 1500-1542) 1541 میں اس علاقے میں آیا، خیال کیا جاتا ہے کہ ڈی سوٹو کی ایک چھوٹی سی فوج، مُبینہ طور پر بڑی مِقدار میں پائے جانے والے سونے کے خزانے کی تلاش میں آئی، جِس نے اُن بہت سے مُقامی لوگوں کو قتل کردیا جو سونے کا بہت بڑا خزانہ چھُپا رکھے تھے۔ ڈی سوٹو مہم ایسی بیماریاں لے آئی جِسکی برداشت مُقامی لوگوں میں نہ تھی اور ڈی سوٹو کی موت کے بعد بہت سے لوگ اِس بیماری کی وحہ سے مارے گئے۔ اِسکی موت کے بعد اِسکے بہت سے لوگ ساحِل پر واپس آ گئے۔
ہسپانویوں نے شمالی امریکہ کے جنوب اور جنوب مغربی علاقوں میں حملہ جاری رکھا جب کہ فرانسیسی لوگوں نے کینیڈا اور موجودہ ریاستہائے متحدہ کے وسط مغرب میں لوزیانا تک اپنے قدم جمائے۔ فرانسیسی بھی، ایسی بیماریاں لے آئے جِس سے مقامی لوگوں کی بہت بڑی تعداد موت کے مُنہ میں چلی گئی جیسے انگریزوں کے آنے سے ہُوا۔
انگریزوں نے پہلی بار 1585 میں اور پھر 1587 میں روانوکے (Roanoke) کالونی کے ذریعے نوآبادیات کی ناکام کوشش کی۔ آخر کار 1607 میں ورجینیا کی جیمسٹاؤن (Jamestown) کالونی قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہاں بھی وہ ناکام ہو جاتے اگرپاوہٹن کنفیڈریسی (Powhatan Confederacy) کے مقامی قبائل کی طرف سے مداخلت اور مدد نہ ہوتی۔ انگریزوں نے 1607 میں پوپہم کالونی (Popham Colony) کے ذریعے مقامی لوگوں کی مدد سے نیو انگلینڈ نوآبادیاتی بنانے کی بھی کوشش کی لیکن ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ نیو انگلینڈ کو پہلی بار 1620 میں انگریزوں نے پلائی ماؤتھ کالونی (Plymouth Colony) کے کامیاب قیام کے ساتھ نوآبادیات بنایا جس کی بقاء مقامی امریکیوں کے لیے بھی تھی۔ اس بار ویمپانوگ کونفیڈریسی (Wampanoag Confederacy) کے قبائل کی مدد سے بعد میں نیو انگلینڈ کی دیگر کالونیاں تیزی سے قائم ہوئیں۔
جیسے جیسے یورپی "موقع کی سرزمین" میں پہنچے، انہوں نے زیادہ سے زیادہ آبائی زمینوں پر قبضہ کر لیا اور اصل باشندوں کو اندرون ملک دھکیل دیا۔ مقامی باشندوں نے ردِ عمل کے طور پر 1610-1646 کی اینگلو-پاؤہٹن جنگوں (Anglo-Powhatan Wars) سے لے کر کنگ فلپ کی جنگ (1675-1678) اور بعد میں 18ویں صدی اور 19ویں صدی تک بہت سی جنگیں لڑیں لیکن ہم آہنگی اور اتحاد کی کمی اور مُزید تارکینِ وطن میں کمی نہ ہونے کی وجوہات، آخر کار اِنکی شکست کا سبب بنیں۔ 19ویں صدی کے آخر تک، زیادہ تر مقامی امریکی تحفظات اور تارکین وطن تک ہی محدود تھے لیکن بعد میں اپنی ہی زمینوں ںسے محروم ہو گئے ایسے معائدوں کی وجہ سے جن کا کبھی احترام نہیں کیا گیا۔ مُقامی لوگ پھر اپنے نئے گھروں میں رہنے لگے اور ریاستوں، صوبوں، ندیوں اور پارکوں کا نام ان لوگوں کے نام پر رکھا جو کبھی ہر چیز کے مالک تھے۔
