اینوما ایلیش

Joshua J. Mark
کے ذریعہ، ترجمہ Samuel Inayat
Translations
پرنٹ کریں PDF

اینوما ایلیش، (Enuma Elish) جسے تخلیق کی سات تختیاں بھی کہا جاتا ہے، بابل کی تخلیق کا افسانہ ہے جس کا عنوان ("When on High") اس تختی کی ابتدائی سطروں سے لیا گیا ہے۔ یہ افسانہ، مردوک (Marduk) خُداِ عظیم کی افراتفری کی قوتوں (forces of chaos) پر فتح اور دنیا کی تخلیق کے وقت اس کے نظم و نسق کے قیام کی کہانی بیان کرتا ہے۔

تمام تختیاں جن پر افسانہ ہے، اشور ،(ایک شہر موجودہ عِراق میں)، کِش (ایک شہر موجودہ سوڈان میں) اور سُلطانیٹیپ (تُرکی میں جائے آثارِ قدیمہ)میں کھُدائی کی گئی اور دیگر جگہوں پر اور اشوربانیپال (بادشاہ کے نام سے نینوہ میں موجود لائبرری میں) اور جن کی تاریخ تقریباؐ 1200 قبل مسیح ہے، سے مِلی ہیں، تاہم ان کے کالفون (colophons تفصیل بابت پرنٹر کا نام، تاریخ اور مُقام) اِس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ اُس افسانے کی کاپیاں ہیں جو بابل کے حمورابی (Hammurabi (1792-1750 (چھٹا اموری بادشاہ) قبل مسیح کے دورِ حکومت سے بہت پہلے کی ہیں اور اُس بادشاہ کے زمانے کی ہیں جس نے مردوک دیوتا کو بابل کا سرپرست دیوتا بنایا تھا۔ اس نظم میں مردوک کو چیمپیئن (ایک فاتح) کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ سوچا جاتا ہے کہ یہ اس سے بھی پرانے زمانہ میں سمیری کام (Sumerian work) کی نظر ثانی ہے۔

Mesopotamian Epic of Creation Tablet
میسوپوٹیمیئن ایپیک آف کریشن ٹیبلٹ Osama Shukir Muhammed Amin (Copyright)

مردوک، نوجوان دیوتاؤں کا چیمپیئن، دیوی ٹیامیٹ (Tia-mat) کے خلاف لڑی گئی جنگ میں بابلی نژاد ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ کہانی کے اصل ورژن (version) میں سب سے بڑا کردار Sumerian Ea/Enki یا Enlil نے ادا کیا ہے۔ عاشور (Ashur اسیریا کا قدیم شہر) سے ملنے والی نقل میں اسور دیوتا (god Assur)، مسوپٹامیہ کے شہروں کے رواج کیمُطابق مرکزی کردار میں تھا۔ ہر شہر کا وہ ہمیشہ بہترین اور طاقتور دیوتا سمجھا جاتا تھا۔ بابل کا دیوتا، مردوک اتنا ہی نمایاں ہے جیسا کہانی میں ہے کیونکہ زیادہ تر نقلیں بابل کے کاتبوں کی ہیں۔ اس کے باوجود، ای (Ea) انسانوں کو تخلیق کرکے،اینوما ایلیش (Enuma Elish) کے بابلی ورژن میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔

کہانی کا خلاصہ

یہ کہانی، جو دنیا کی قدیم ترین کہانیوں میں سے ایک ہے، دیوتاؤں کی پیدائش، کائنات اور انسانوں کی تخلیق سے متعلق ہے۔ شروع میں، افراتفری (chaos) میں صرف غیر مُنقسم پانی گھوم رہا تھا۔ گھومنے والا پانی، میٹھے پانی جسے دیوتا اپسو (god Apsu) کہا جاتا تھا اور نمکین کڑوا پانی جسے دیوی ٹیا میٹ (goddess Tia-mat) کہا جاتا تھا، میں تقسیم ہو گیا۔ تقسیم ہونے کے بعد دونوں دیوتاؤں کے اتحاد نے چھوٹے دیوتاؤں کو جنم دیا۔

کہانی، قدیم ترین کہانیوں میں سے ایک ہے اور اگر قدیم ترین نہیں، تو دیوتاؤں کی پیدائش، کائنات اور انسان کی تخلیق سے متعلق تو ہے۔

نوجوان دیوتا شور کرتے تھے، رات کو وہ اپسو کی نیند میں خلل ڈالتے تھے اور دن کو کام سے توجہ ہٹاتے تھے۔ اپسو اپنے وزیر دیوتا، ممو (Mummu) کے مشورے پر، نوجوان دیوتاؤں کو مارنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ دیوی ٹیا میٹ ان کے منصوبے کو جان کر اپنے بڑے بیٹے، اینکی Enki (سمیری زبان میں اِسے Ea بھی کہا جاتا ہے) کو خبردار کر کے اپسو کو سُلا دیتی ہے اور اسے مار ڈالتی ہے۔ اپسو کی باقیات سے اینکی اپنا گھر بناتا ہے۔

دیوی ٹیا میٹ، جو کبھی نوجوان دیوتاؤں کی حامی تھی، اب غصے میں ہے کیونکہ اُس نے اس کے ساتھی کو مار ڈالا ہے۔ وہ دیوتا کوئنگو (Quingu) سے مشورہ کرتی ہے جو اسے نوجوان دیوتاؤں سے جنگ کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔ دیوی ٹیا میٹ کوئنگو کو تقدیر کے تحفے سے نوازتی ہے ، جِس سے وہ قانونی طور پر حُکمران بن کر تقدیر کو کنٹرول کرتا ہے اور اُسے چیمپیئن کے طور پر فخر سے سینہ کی چادر کی طرح پہنتا ہے۔ ٹیا میٹ کوئنگو کو اپنا چیپئین بنا کر افراتفری کی قوتوں کو طلب کرتی ہے اور اپنے بچوں کو تباہ کرنے کے لیے گیارہ خوفناک راکشس بناتی ہے۔

اینکی (Ea) اور نوجوان دیوتا ٹیا میٹ کے خلاف بے کار انداز میں اُس وقت تک لڑتے ہیں جب ان میں سے، چیمپیئن مردوک ابھرتا ہے جو قسم کھاتا ہے کہ وہ ٹیا میٹ کو شکست دے گا۔ مردوک نے کوئنگو کو شکست دی اور ٹیا میٹ کو ایک تیر سے مار ڈالا جو اسے دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ اس کی آنکھوں سے دریائے دجلہ اور فرات کا پانی بہتا ہے۔ ٹیا میٹ کی لاش میں سے، مردوک آسمانوں اور زمین کو تخلیق کرتا ہے، وہ مختلف فرائض کے لیے دیوتاؤں کا تقرر کرتا ہے اور اپنے نئے گھر میں ان کی تصویریں لگانے سے پہلے ٹیا میٹ کی گیارہ مخلوقات کو ٹرافی کے طور پر (دوسرے دیوتاؤں کے مُقابلے میں تعظیم کے لیے) اپنے پیروں سے باندھتا ہے۔ وہ کوئنگو سے تقدیر کی تختیاں لے لیتا ہے اور اِسطرح اپنے اِقتدار کو قانونی حیثیت دیتا ہے۔

دیوتاؤں کی جانب سے اس کی عظیم فتح اور اس کے تخلیقی فن کی تعریف کرنے کے بعد، مردوک، دیوتا ای (حکمت کے دیوتا) سے مشورہ کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ جن دیوتاوں نے ٹیا میٹ کو جنگ کرنے کی ترغیب دی، اس کی باقیات سے انسانوں کو تخلیق کیا جائے۔ کوئنگو کو مجرم قرار دیا گیا اور اسے قتل کر دیا گیا اور، اس کے خون سے، Ea نے لُلو (Lullu) کو تخلیق کیا، وہ پہلا آدمی، جو نظم و نسق کو برقرار رکھے اور افراتفری کے بغیر ان کے ابدی کام میں دیوتاؤں کا مددگار بنے۔

جیسا کہ نظم کے جملے ہیں، "ای نے انسان کو پیدا کیا جس پر اس نے دیوتاؤں کی خدمت مسلط کی اور دیوتاؤں کو آزاد کر دیا" (تختی VI.33-34)۔ اس کے بعد، مردوک نے "نیدر ورلڈ کی تنظیم کا اہتمام کیا" (زیرِ زمیں دُنیا) اور دیوتاؤں کو ان کے مقرر کردہ مخصوص جگہوں پر تعینات کیا (تختی VI.43-46)۔ کہانی /نظم تختی VII کیساتھ مردوک کی اس کے کارناموں کی طویل تعریف کے ساتھ ختم ہوتی ہے۔

تفسیر

اینوما ایلیش نے بعد میں ان عبرانی کاتبوں کے لیے الہام بننا تھا جنہوں نے وہ متن تیار کیا جسے اب بائبل کی کتاب پیدائش کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 19ویں صدی سے پہلے، بائبل کو دنیا کی سب سے قدیم کتاب سمجھا جاتا تھا اور اس کے بیانات کو مکمل طور پر اصلی سمجھا جاتا تھا۔ تاہم، 19ویں صدی کے وسط میں، یورپی عجائب گھروں کے ساتھ علمی اور مذہبی اداروں نے اپنے خرچ پر مسوپٹامیہ میں کھدائی کروائی تاکہ بائبل کی تاریخی کہانیوں کی تصدیق کے لیے جسمانی شواہد مل سکیں۔ ان کھدائیوں سے مُختلف بات سامنے آئی تا ہم کینیفارم (cuneiform) کے ترجمے سے یہ سمجھا گیا کہ بائبل کی متعدد داستانیں اصل میں مسوپٹامیہ سے تھیں۔

Mesopotamian Tablet on Marduk
مارڈوک پر میسوپوٹیمیئن ٹیبلٹ Osama Shukir Muhammed Amin (Copyright)

انسان کے زوال اور عظیم سیلاب جیسی مشہور کہانیاں اصل میں سمر (Sumer) میں لکھی گئی تھیں لیکن بعد میں، اِس سے پہلے کہ اِسرائیلیوں نے اُنہیں بائبل کے نُسخوں کیلئے اِستعمال کیا، اسیریا کے لوگوں نے ترجمہ اور ترامیم کرتے ہُوئے اِن پر دوبارہ کام کیا۔ اگرچہ بائبل کی حکایات اور مسوپٹامیہ کی کہانیوں کا بنیادی نمونہ قریب قریب ایک ہے، اختلافات موجود ہیں جیسا کہ اسکالر سٹیفن برٹمین نے نوٹ کیا ہے:

پیدائش کی کِتاب اور اینوما ایلیش (Genesis اور Enuma Elsih) دونوں مذہبی متن ہیں جِن میں ثقافتی ماخذ کے اعتبار سے تفصیلات ہیں: پیدائش خدا کی رہنمائی میں یہودی لوگوں کی ابتدا اور بنیاد کو بیان کرتی ہے جبکہ اینوما ایلش دیوتا مردوک کی قیادت میں بابل کی ابتدا اور اس کی بنیاد بیان کرتی ہے۔ ہر متن میں ایک کہانی ہے کہ کائنات اور انسان کیسے بنائے گئے۔ ہر کام کا آغاز پانی کی افراتفری اور اِبتدا کی تاریکی کو بیان کرنے سے ہوتا ہے جس نے کبھی کائنات کو بھر دیا تھا۔ پھر اندھیرے کی جگہ روشنی پیدا کی جاتی ہے۔ اس کے بعد آسمان بنائے جاتے ہیں اور ان میں آسمانی جسم رکھے جاتے ہیں۔ آخر کار انسان پیدا ہوتا ہے۔ ان مماثلتوں کے باوجود، دونوں تفصیلات ایک دُوسرے سے مختلف ہیں۔ (312)

مسوپٹامیہ کی تخلیق کی کہانی کو اپنے مقصد کے لیے نظر ثانی کرتے ہوئے، عبرانی کاتبوں نے ٖخاص توجہ دیتے ہُوئے بیانیہ کو سخت کر دیا لیکن اس طاقتور دیوتا کے تصور کو برقرار رکھا جِس نے افراتفری کو ایک اِنتظام میں بدل دیا۔ مردوک، اینوما ایلش میں، دنیا کی قابلِ قبول ترتیب کو قائم کرتا ہے جیسا کہ خدا نے پیدائش کی کہانی میں کیا ہے اور انسانوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس عظیم تحفے کو پہچانیں گے اور خدمت کے ذریعے دیوتا کی عزت کریں گے۔ مسوپٹامیہ میں، درحقیقت، یہ خیال کیا جاتا تھا کہ انسان دیوتاؤں کے ساتھ مِل کر کام کرنے والے (co-workers) تھے تاکہ تخلیق کے تحفے کو برقرار رکھا جا سکے اور افراتفری کی قوتوں کو روکا جا سکے۔

بابل میں اینوما ایلیش

مردوک نے حمورابی کے دور حکومت میں بابل میں اہمیت حاصل کی اور تیزی سے مقبولیت میں سابق سرپرست دیوتا، انانا/اشتر (Inanna/Ishtar) کو پیچھے چھوڑ دیا۔ حمورابی کے دورِ حکومت میں، درحقیقت، پہلے کئی مقبول خواتین دیوتاؤں کی جگہ مرد دیوتاؤں نے لے لی۔ اینوما ایلیش نے مردوک کو تمام دیوتاؤں میں سب سے زیادہ طاقتور قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی، اس لیے یہ تیزی سے مقبول ہو گیا کیونکہ دیوتا خود نمایاں ہوا اور اس کا شہر بابل طاقت میں بڑھ گیا۔ اسکالر جیریمی بلیک (Jeremy Black) لکھتے ہیں:

مردوک کے فرقے کے عروج کا تعلق بابل کے شہری ریاستی درجہ سے دارالحکومت کے درجہ تک ہے۔ کسائٹ (Kassite) کے دور سے، مردوک زیادہ سے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا جب تک بابل کے افسانہِ تخلیق کے مصنف کے لیے یہ برقرار رکھنا ممکن نہ ہو گیا کہ مردوک نہ صرف تمام دیوتاؤں کا بادشاہ تھا بلکہ اس کے بعد کے بہت سے اس کی شخصیت کے پہلوؤں سے زیادہ نہیں تھے۔ (128)

اینوما ایلش کو پورے مسوپٹامیہ میں بڑے پیمانے پر پڑھا اور از بر دھرایا جاتا تھا لیکن بابل میں نئے سال کے تہوار میں خاص طور پر اہم تھا۔ اس تہوار کے دوران مردوک کے مجسمے کو مندر سے لے جایا جاتا تھا اور اس مقصد کے لیے بنائے گئے ایک چھوٹے سے گھر میں چھٹیاں گزارنے کے لیے شہر کی گلیوں اور دروازوں سے باہر پریڈ کی جاتی تھی۔ خاص طور پر، یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اینوما ایلش کی تختی VII میں دی گئی تعریف، اس جلوس کے دوران نعرے لگاتے ہُوئے گا کر کی جائے گا۔

اینوما ایلش کا متن

درج ذیل ترجمہ W.G. Lambert کی Mesopotamian Creation Stories سے آیا ہے اور Etana ویب سائٹ سے Creative Commons لائسنس کے تحت استعمال کیا گیا ہے:

اینوما ایلیش (بابلی تخلیق کہانی)

تختی نمبر1

1 جب اوپر آسمان موجود نہیں تھا،

2 اور نیچے کی زمین وجود میں نہیں آئی تھی،

3 وہاں اپسو (پانی ہی پانی) تھا، جو سب سے پہلے تھا، ان (یعنی آسمان اور زمین) کا پیدا کرنے والا،

4 اور ٹیا میٹ (Tia-mat)، ڈیمرج (demiurge) جس نے ان سب کو جنم دیا۔

5 انہوں نے اپنے پانیوں کو آپس میں ملایا تھا،

6 اس سے پہلے کہ گھاس کا میدان اکٹھا ہُوا (اور) اسے سرکنڈے کا بستر ملا،

7 جب دیوتاوں میں سے ایک بھی تخلیق نہیں کیا گیا تھا،

8 یا وجود میں آیا تھا، جب کوئی تقدیر مقرر نہیں کی گئی تھی،

9 ان کے اندر دیوتا بنائے گئے۔

10 Lah (mu and Lah) (Amu) بنے اور وجود میں آئے (دیوی دیوتا کا اِبتدائی جوڑا)۔

{(مسوپتامی تہذیب کیمُطابق اِبتدائی اِنسان لامو (نر) اور لماہو (مادہ) جو سمُندری پانی (اپسو) اور نمکین پانی (ٹیامیٹ) سے پیدہ ہُوئے۔ یہی بعد میں آنے والے دیوتاوؐں کے اصل باپ دادہ ہیں۔ اِنہی سے بعد میں آسمان اور زمیں پیدہ ہُوئے۔)}

11 جب کہ وہ بڑھتے اور بڑھتے گئے،

12 انسار اور کِسار، جو ان پر سبقت رکھتے تھے، بنائے گئے (آسمان اور زمین کے نام سے جُڑواں اُفق)۔

13 اُنہوں نے اپنے دن لمبے کیے، اُنہوں نے اپنے سال بڑھائے۔

14 ان کا بیٹا انو (Anu آسمان کا خُدا، کائنات کا مالک اور دُوسرے دیوتاوؐں پر حکومت کرنے والا) اپنے باپ دادا کا مُقابلہ کر سکتا تھا،

15 انو انسار کے برابر تھا،

16 اور انو سے نُدیمُد (Nudimmud (دیوتا اینکی یا ای اے Ea کا دُوسرا نام) پیدا ہوا جو اُس کے برابر تھا۔

17 نودیمود اِن سب سے بڑھ کر تھا:

18 نہایت سمجھدار، عقلمند، مضبوط طاقت کا (مالک)۔

19 اپنے والد کے پیدا کرنے والے انسار سے بہت زیادہ مضبوط،

20 دیوتاؤں (اس کے بھائی) میں اس کا کوئی حریف نہیں تھا۔

21 الہی بھائی اکٹھے ہوئے،

22 اُن کا شور بُلند ہُوا اور ٹیا میٹ کو پریشانی میں ڈال دیا،

23 اُنہوں نے ٹیا میٹ کے اعصاب کو جھنجھوڑ دیا،

24 اور اپنے رقص سے انہوں نے اندورونا (کائنات کا وہ اندھیرا جہاں پر دیوتا اپسو اور ٹیا میٹ رہتے تھے) میں خطرے کی گھنٹی بجائی۔

25 اپسو نے ان کے شور کو کم نہیں کیا،

26 اور جب ان کا سامنا ہوا تو ٹیا میٹ خاموش رہی۔

27 اُن کا چال چلن اُسے ناگوار تھا،

28 اگرچہ اُن کا رویہ اچھا نہیں تھا، وہ اُن کومُعاف کرنا چاہتی تھی۔

29 اس کے بعد بڑے معبودوں کا پیدا کرنے والا اپسو (نے)،

30 اپنے وزیر ممّو (Mummu) کو بلایا اور مخاطب کیا،

31 وزیر ممو، تُم جو میری خوشی کو پورا کرتے ہو،

32 آؤ، ہم ٹیا میٹ کے پاس جائیں!"

33 وہ جا کر ٹیا میٹ کے سامنے بیٹھ گئے،

34 جیسے ہی اُنہوں نے اپنے بیٹے دیوتاؤں کا ذِکر کیا۔

35 اپسو نے اپنا منہ کھولا،

36 اور ٹیا میٹ سے خطاب کیا (اور کہا)،

37 ان کا رویہ مجھے ناگوار گزرا ہے،

38 میں نہ دن کو آرام کر سکتا ہوں اور نہ رات کو سو سکتا ہوں۔

39 میں ان کی زندگی کو تباہ کر دوں گا۔

40 خاموشی راج کرے اور ہم سو جائیں۔

41 جب ٹیا میٹ نے یہ سنا،

42 وہ غصے میں آگئی اور اپنے ساتھی سے پکار کر کہنے لگی،

43 وہ اپنے اندر کی بے چانی سے چلائی،

44 وہ بُرے منصوبہ پر غمگین ہوئی،

45 جس کو ہم نے جنم دیا ہے اسے ہم کیسے تباہ کر سکتے ہیں؟

46 اگرچہ اُن کا رویہ تکلیف کا باعث بنتا ہے، ہم نظم و ضبط کو سختی سے قائم رکھیں مگر مہربانی سے۔

47 ممّو نے اپسو کی وکالت کرتے ہُوئے کہا،

48 جوایک باغی وزیر تھا،

49 میرے باپ، اُس ابتری والی زندگی کو ختم کر دو،

50 تاکہ تم دن کو آرام کرو اور رات کو سو جاؤ۔

51 اپسو اس سے خوش ہُوا، اس کا چہرہ چمک رہا تھا،

52 کیونکہ اُس نے اُن دیوتاوؐں کے خِلاف منصوبہ بندی کی تھی جو اُسکے بیٹے تھے۔

53 ممّو نے اپسو کے گلے میں بازو ڈالے،

54 وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور اسے چوما۔

55 جب انہوں نے مِلکر سازش کی،

56 دیوتاؤں (اور) ان کے بیٹوں کو اطلاع دی گئی۔

57 دیوتاؤں نے یہ سنا اور غصے میں آ گئے،

58 وہ خاموش ہو گئے اور خاموشی سے بیٹھ گئے۔

59 ای اے (دانش کا دیوتا)، علم میں کمال، ہنر مند اور عالم،

60 جو سب کچھ جانتا ہے، ان کی چالوں کو سمجھ گیا۔

61 اُس نےایک قابلِ قبول طریقہ وضع کیا،

62 اس نے اسے کمال مہارت (خالص منتر) سے انجام دیا۔

63 اس نے اس کی تلاوت کی اور اسے پانی پر رکھ دیا،

64 اُس نے اُس پر نیند اُنڈیل دی (اور) جب وہ گہری نیند سو رہا تھا۔

65 اس نے اپسو کو گہری نیند میں سلا دیا،

66 اور ممّو، مشیر، غُصہ میں حواس باختہ تھا۔

67 اس نے (اپسو کی) نسیں پھاڑ دیں، اس کا تاج پھاڑ دیا،

68 اُسنے اُسکی چمک دھمک کو دُور کر دیا اور اُسے اپنے آپ پر اوڑھ لیا.

69 اس نے اپسو کو باندھ کر قتل کر دیا۔

70 ممّو کو اس نے قید کر لیا اور اُسکے ساتھ سختی سے نِمٹا،

71 اس نے اپسو میں اپنا ٹھکانہ بنایا،

72 اُسنے ممو کو اُسکی ناک میں لُگام ڈالے ہوئے پکڑے رکھا۔

73 جب ای نے اپنے دشمنوں کو باندھ کر مار ڈالا،

74 اپنے دشمنوں پر فتح حاصل کی،

75 اپنے حجرے میں خاموشی سے آرام کیا،

76 اس نے اسے اپسو کہا، جس کے مزارات اس نے مقرر کئے۔

77 پھر اس کے اندر اپنی رہائش گاہ کی بنیاد رکھی،

78 اورای اوراُس کی بیوی دمکینا (Damkina) شان سے بیٹھیں۔

79 تقدیر کے حجرے میں ماڈل ہستیوں کے کمرے،

80 عقلمندوں میں سب سے زیادہ عقلمند، دیوتاؤں کے بابا (یعنی مردوک)، بی ایل (Be-l (اکادی، اسیریا اور بابلی تہذیبوں کیمُطابق لارڈ یعنی مُنتظم) کے تصورنے جنم لیا۔

81 اپسو میں مردوک پیدا ہوا،

82 خالص اپسو میں مردوک پیدا ہوا،

83 اُس کے باپ (Ea) نے اُسے جنم دیا،

84 دمکینا اس کی ماں نے اسے جنم دیا۔

85 اس نے دیویوں کی چھاتی چوس لی،

86 ایک نرس نے اسے پالا اور اسے دہشت سے بھر دیا۔

87 وہ جسامت میں اچھی طرح بڑھا، اس کی آنکھوں کی چمک چمکدار تھی،

88 اس کی نشوونما مردانہ تھی، وہ شروع سے ہی زبردست تھا۔

89 انو، اس کے باپ کے پیدہ کرنے والے نے اسے دیکھا،

90 وہ خوش ہوا اور مسکرایا، اس کا دل خوشی سے بھر گیا۔

91 انو نے اسے کامل قرار دیا، اس کی الوہیت قابل ذکر تھی،

92 اور وہ اپنی صفات میں ان سے افضل ہوتے ہُوئے بہت بلند ہو گیا۔

93 اس کے خد و خال ناقابل فہم تھے،

94 سمجھ سے بالا تر اور دیکھنے میں مُشکل۔

95 اس کی چار آنکھیں اور چار کان تھے،

96 جب اس نے اپنے ہونٹوں کو حرکت دی تو شعلہ نکلا۔

97 اُس کے چار کان بڑے ہو گئے،

98 اور اُس کی آنکھوں نے اِسی طرح ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

99 اس کی شکل دیوتاؤں کے مقابلے میں بہت بلند اور برتر تھی،

100 اس کے اعضاء (ہاتھ پاوؐں وغیرہ) بڑھ رہے تھے، اس کی فطرت بلند اور برتر تھی۔

101 'ماری اُتو، ماری اُتو (ماہرِ آثارِ قدیمہ کیمُطابق ماری ایک اہم شہر جہاں سےلا تعداد مٹی کی تختیاں کھُدائی کے بعد مِلی تھیں اور اُتو یعنی سورج دیوتا)،

102 بیٹا، سورج دیوتا، دیوتاؤں کا سورج دیوتا۔'

103 وہ دس خداؤں کی چمک سے ملبوس تھا، اس کی طاقت اِنتہائی زیادہ تھی،

104 وہ پچاس قِسم کے خوف کا مُجسمہ تھا۔

105 انو نے چار ہواؤں کو جنم دیا اور اُنہیں ترتیب دیا،

106 اُس نے اُن کو اُس کے حوالے کر دیا، بیٹا، اُنہیں چکر لگانے دو!

107 اس نے خاک بنائی اور اسے گھُمانے کے لیے ایک طوفان کھڑا کیا،

108 اس نے ٹیا میٹ پر گھبراہٹ لانے کے لیے ایک لہر دوڑھائی۔

109 ٹیا ​​میٹ حیران رہ گئی، دن اور رات بے چین تھی۔

110 دیوتاؤں نے آرام نہیں کیا۔ . . . . . .

111 اُنہوں نے اپنے دلوں میں بُرے منصوبے بنائے۔

112 اور اپنی ماں ٹیا میٹ سے مُخاطب ہُوے،

113 جب آپ کے شریک حیات، آپسو کو قتل کیا گیا،

114 آپ نے اُسکی پاسداری نہ کی بلکہ خاموش بیٹھے رہے۔

115 چار خوفناک ہوائیں تنظیم میں لائی گئیں،

116 آپ کو الجھن میں ڈالنے کے لیے، اور ہم سو نہیں سکتے۔

117 آپ نے اپنے شریک حیات اپسو کے بارے میں کُچھ نہیں سوچا،

118 اور نہ ہی ممو کو، جو ایک قیدی ہے، اب تم اکیلے بیٹھو۔

119 اب سے تم گھبراہٹ میں رہو گے!

120 اور جہاں تک ہمارا تعلق ہے، ہم آرام نہیں کر سکتے، تم ہم سے محبت نہیں کرتے!

121 ہمارے دُکھ کو سمجھو، ہماری آنکھیں کھوکھلی ہیں۔

122 غیر منقولہ جوئے کو توڑ دو کہ ہم سو جائیں۔

123 جنگ کرو، ان سے بدلہ لو!

124 [ . . ] . . . اُنہیں ختم کر دو!

125 تیا میٹ نے سنا، تقریر نے اسے خوش کیا،

126 (اس نے کہا) "آؤ ہم بدروحیں بنائیں، جیسا کہ آپ نے مشورہ دیا ہے۔"

127 دیوتا اس کے اندر جمع ہو گئے۔

128 اُنہوں نے اپنے پیدا کرنے والے دیوتاؤں کے خلاف بُرا منصوبہ بنایا۔

129 . . . . . اور ٹیا میٹ کی طرف داری کی،

130 سخت سازشیں، دن رات بے چینی،

131 جنگ کی ہوس، غصہ، طوفان،

132 انہوں نے تصادم کے لیے ایک میزبان ٹیم تیار کی۔

133 ماں ایچ اوبر(H ubur ٹیا میٹ کیلئے اِستعمال کیا گیا اِسمِ صِفت)، جو ہر چیز کو تشکیل دیتی ہے،

134 ناقابل مزاحمت ہتھیاروں کی فراہمی، اور دیوہیکل سانپوں کو جنم دیا۔

135 ان کے دانت تیز تھے، وہ بے رحم تھے،

136 اس نے ان کے جسموں کو خون کے بجائے زہر سے بھر دیا۔

137 اُس نے خوف زدہ راکشسوں کو خوف کا لباس پہنایا،

138 اُس نے اُن کو ایک چمک سے لاد کر اُنہیں خدا جیسا بنا دیا۔

139 (اس نے کہا) ان کے دیکھنے والوں کو کمزوری سے ہلاک ہونے دو،

140 وہ مسلسل آگے بڑھتے رہیں اور کبھی نہ رُکیں۔

141 اس نے ہائیڈرا (Hydra)، ڈریگن، بالوں والا ہیرو بنایا،

142 عظیم شیطان، وحشی کتا، اور بچھو انسان،

143 خوفناک شیطان، مچھلی آدمی، اور بیل آدمی،

144 بے رحم ہتھیار بردار، جنگ میں بے خوف۔

145 اس کے احکام زبردست اور نہ قابلِ مزاحمت تھے۔

146 مجموعی طور پر اس نے اس قسم کے گیارہ بنائے۔

147 دیوتاؤں میں، اس کے بیٹے، جن کو اس نے اپنا میزبان لشکر بنایا،

148 اس نے کنگو (Qingu ٹیا میٹ کا ساتھی) کو سربلند کیا، اور ان کے درمیان اس کی بڑائی کی۔

149 فوج کی قیادت، میزبان لشکر کی سمت،

150 ہتھیار اٹھانا، مہم چلانا، تنازعات کو متحرک رکھنا،

151 جنگ کی چیف ایگزیکٹو (انتظامیہ کا سربراہ) پاور، سپہ سالاری،

152 اس نے اس کے سپرد کیا اور اسے تخت پر بٹھایا،

153 میں نے تیرے لیے جادو کیا ہے اور دیوتاؤں کے لشکر میں تجھے سرفراز کیا ہے،

154 میں نے تُجھ کو تمام دیوتاؤں کی حکمرانی سونپ دی ہے۔

155 بیشک تُو برگزیدہ ہے، میرے شریکِ حیات، تُو مشہور ہے،

156 تیرے احکام تمام انونکی (دیوتاوؐں کے گروہ) پر غالب رہیں۔

157 اس نے اسے تقدیر کی تختی دی اور اسے اس کے سینے سے لگا لیا،

158 تیرا حکم نہ بدلا جائے، تیرے منہ کی بات ثابت ہو۔

159 کنگو کے بلند ہونے کے بعد انوشپ کی طاقت (آسمانی دیوتا جِسکے پاس آسمانی ترتیب کو برقرار رکھنے کا اِختیار ہو) حاصل کر لی تھی،

160 اس نے دیوتاؤں، اس کے بیٹوں کے لیے تقدیر کا فیصلہ کیا:

161 تمہارے منہ کی باتیں آگ کے خدا کو مسخر کر دے،

162 تیرا جمع شُدہ زہر جارحیت کو ختم کرے۔

تختی نمبر2

1 ٹیا میٹ Tia-mat نے اپنی تخلیق کو اکٹھا کیا،

2 دیوتاؤں اور اُن کی اولاد کے خلاف جنگ کیلئے تیاری کی۔

3 اس کے بعد Tia-mat نے Apsû کی بدولت برائی کی سازش کی،

4 ای کو معلوم ہوا کہ ٹیا میٹ نے تنازعہ کھڑا کیا تھا۔

5 ای اے نے یہ بات سنی،

6 وہ اپنے حجرے میں خاموشی سے بیٹھ گیا۔

7 جب اُس نے غور کیا تو اُس کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا،

8 وہ اپنے والد انسار کی طرف بڑھا۔

9 وہ اپنے پیدا کرنے والے انسار (باپ) کے حضور میں حاضر ہُوا،

10 اور ٹیا میٹ کی تمام تدبیریں اس سے بیان کیں۔

11 میرے باپ، ہماری ماں کے دِل میں ہمارے لئے نفرت پیدہ ہو گئی ہے،

12 اُس نے اپنے بربریتی غُصہ میں ایک لشکری ٹیم تیار کی ہے۔

13 تمام دیوتا اس کی طرف متوجہ ہوئے ہیں،

14 یہاں تک کہ جن کو تم نے جنم دیا وہ بھی اس کا ساتھ دے رہے ہیں،

15 اُنہوں نے ٹیا میٹ کا ساتھ دیا،

16 سازشیں، دن رات بے چینی،

17 جنگ کی ہوس، غصہ، طوفان،

18 اُنہوں نے جھگڑا کرنے کے لیے ایک ٹیم تیار کی ہے۔

19 ماں ایچ (اوبر ubur)، جو ہر چیز کو تشکیل دیتی ہے،

20 ناقابلِ مزاحمت ہتھیار فراہم کیے، اور بڑے سانپوں کو جنم دیا۔

21 ان کے دانت تیز تھے، وہ بے رحم تھے،

22 اُس نے اُن کے جسموں کو خون کی بجائے زہر سے بھر دیا۔

23 اُس نے خوف زدہ راکشسوں کو خوف کا لباس پہنایا،

24 اُس نے اُن کو ایک چمک سے بھر کر خدا جیسا بنا دیا۔

25 (اُس نے کہا) اُن کے دیکھنے والے کو کمزوری سے ہلاک ہونے دو،

26 وہ مسلسل آگے بڑھیں اور کبھی نہ رُکیں۔

27 اس نے ہائیڈرا (Hydra)، ڈریگون (Dragon) اور بالوں والا ہیرو بنایا،

28 شیطانِ اعظم، وحشی کتا، اور بچھو انسان،

29 خوفناک بدروحیں، مچھلی والا اور بیل آدمی،

30 بے رحم ہتھیاربردار، جنگ میں بے خوف۔

31 اُس کے احکام زبردست تھے، اور قابلِ مزاحمت نہیں تھے۔

32 اس نے مجموعی طور پر اس قسم کے گیارہ بنائے۔

33 دیوتاؤں میں، اس کے بیٹے، جن کو اس نے اپنا ساتھی بنایا،

34 اس نے کنگو (Qingu ٹیا میٹ کا ساتھی) کو سربلند کیا اور ان کے درمیان اس کی بڑائی کی۔

35 فوج کی قیادت، میزبان کیلئے ہدایت،

36 ہتھیار اٹھانا، مہم چلانا، تنازعات کیلئے عملی قدم اُٹھانا،

37 جنگ میں اعلیؐ قیادت کیلئے سربراہی اِختیارات دینا،

38 اُس نے اُس کے سپرد کیا اور اُسے تخت پر بٹھایا۔

39 میں نے تم پر جادو کیا ہے اور تمہیں دیوتاؤں کے لشکر میں سرفراز کیا ہے،

40 میں نے تم کو تمام دیوتاؤں کی حکومت سونپ دی ہے۔

41 اے میری شریک حیات، تُو واقعی بلند ہے، آپ مشہور ہیں،

42 تیرے حکم تمام دیوتاوؐں کے گروہوں (Anunnaki) پر غالب رہیں۔

43 اس نے اسے تقدیر کی تختی دی اور اسے اس کے سینے سے لگا دیا۔

44 یہ کہتے ہُوئے کہ تیرے حُکم نہ بدلیں، تیرے مُنہ کی باتیں تبدیل نہ ہوں۔

45 کنگو کی ترقی کے بعد جبکہ اُسنے انوشپ کی طاقت (تمام دیوتاوؐں پر اِختیار) حاصل کر لی تھی۔

46 اس نے اس کے بیٹے دیوتاؤں کے لیے تقدیر کا فیصلہ کیا۔

47 تمہارے منہ کی باتیں آگ کے خدا کو مسخر کر دے،

48 تیرا جمع شُدہ زہر جارحیت کو ختم کرے۔

49 انسار نے سنا۔ معاملہ بہت پریشان کن تھا.

50 اُس نے پکار کر کہا افسوس! اور اپنا ہونٹ کاٹا.

51 اُس کا دل غصے میں تھا، اُس کا دماغ سکون میں نہ آ سکا۔

52 Ea (اُس کے بیٹے) پر اُس کی چیخیں بھڑک رہی تھیں۔

53 میرے بیٹے، تُو جس نے جنگ کو اکسایا،

54 جو کچھ تم نے اکیلے کیا ہے اس کی ذمہ داری قبول کرو!

55 تم نے نکل کر اپسو کو قتل کر دیا۔

56 اور جہاں تک ٹیا میٹ کا تعلق ہے، جسے تم نے غصہ دلایا، اُسکے برابر کون ہے؟

57 مشورے جمع کرنے والا، سیکھنے والا شہزادہ،

58 حکمت کا خالق، دیوتا نودیمود (Nudimmud)،

59 سکون بخش الفاظ اور پرسکون الفاظ کے ساتھ،

60 آہستہ سے اپنے والد انسار کو جواب دیا،

61 میرے باپ، تُو جو گہری سوچ رکھتا ہے اور جو تقدیر کا فیصلہ کرتا ہے،

62 جو وجود میں لانے اور تباہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے،

63 انسار، بھی جو گہری سوچ رکھتا ہے اور جو تقدیر کا فیصلہ کرتا ہے،

64 جو وجود میں لانے اور تباہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے،

65 میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں، ایک لمحے کے لیے میرے لیے پرسکون ہو جائیں،

66 اور غور کرو کہ میں نے ایک ایسا کام کیا ہے جِس سے مدد حاصِل ہو سکے۔

67 اس سے پہلے کہ میں نے اپسو کو قتل کیا،

68 حالات کو کون سمجھ سکتا تھا؟

69 اُسے ختم کرنے سے پہلے،

70 کیا حالات تھے کہ میں اسے تباہ کرنے والا تھا؟

71 انسار نے سنا اور اِن الفاظوں سے وہ خُوش ہُوا۔

72 ای سے بات کرنے پر اس کے دل کو سکون ملا،

73 اے میرے بیٹے، تیرے اعمال دیوتا کو پسند ہیں،

74 آپ ایک زبردست، مثالی ضرب لگانے کے قابل ہیں۔

75 ای اے، تیرے اعمال دیوتا کو پسند ہیں،

76 آپ ایک زبردست، مثالی ضرب لگانے کے قابل ہیں۔

77 ٹیا میٹ کے سامنے جا کر اس کے حملے کی تعریف کریں،

78 اُسکا غُصہ اور تیرا منتر۔

79 اس نے اپنے والد انسار کی تقریر سنی،

80 اُس نے اُس کا راستہ لیا، اُس کے راستے پر چل دیا۔

81 وہ گیا، اس نے ٹیا میٹ کی چالوں کو جان لیا،

82 [وہ رک گیا]، خاموش ہو گیا، اور پیچھے ہٹ گیا،

83 عظیم انسار کی موجودگی میں داخل ہوا،

84 اس سے تعزیت کرتے ہوئے،

85 (میرے والد)، ٹیا میٹ کے کام میرے لیے بہت زیادہ ہیں،

86 میں نے اس کی تدبیر دیکھ لی اور میرے منتر کے برابر کُچھ نہیں تھا۔

87 اُس کی طاقت زبردست ہے، وہ خوف سے بھری ہوئی ہے،

88 وہ مُکمل طور پر مضبوط ہے، کوئی بھی اس کے خلاف نہیں جا سکتا۔

89 اُس کا زوردار رونا کم نہ ہوا،

90 اس کے رونے سے ڈر گیا اور پیچھے ہٹ گیا۔

91 (میرے باپ)، امید نہ ہارو، اس کے خلاف دوسرا شخص بھیج دو۔

92 اگرچہ عورت کی طاقت بہت زیادہ ہے لیکن وہ مرد کے برابر نہیں ہے۔

93 اُس کے گروہوں کو توڑ دو، اُس کے منصوبوں کو توڑ دو،

94 اس سے پہلے کہ وہ ہم پر ہاتھ رکھے۔

95 انسار نے شدید غصے میں پکارا،

96 اپنے بیٹے انو کو مخاطب کرتے ہوئے،

97 محترم بیٹا، ہیرو، جنگجو،

98 جس کی طاقت زبردست ہے، جس کا حملہ ناقابل شکست ہے،

99 جلدی کرو اور ٹیا میٹ کے سامنے کھڑے ہو جاؤ،

100 اس کے غصے کو ٹھنڈا کرو تاکہ اس کے دل کو سکون ملے،

101 اگر وہ تمہاری باتوں کو نہیں مانتی،

102 اس کی درخواست کے الفاظوں پر اُسکی توجہ دلائیں کہ اسے مطمئن کیا جائے۔

103 اس نے اپنے والد انسار کی تقریر سنی،

104 اس نے اس کی طرف راستہ لیا، اس کے راستے پر چل دیا۔

105 انو چلا گیا، اس نےٹیا میٹ کی چالوں کو سمجھا،

106 وہ رک گیا، خاموش ہو گیا، اور پیچھے ہٹ گیا۔

107 وہ انسار کے سامنے آیا جس نے اسے جنم دیا تھا،

108 معذرت کیساتھ اس سے مخاطب ہوئے۔

109 میرے والد، ٹیا میٹ کے (اعمال) میرے لئے بہت زیادہ ہیں۔

110 میں اِسکی تدبیر کو سمجھ گیا، لیکن میرا منتر اس کے برابر نہیں تھا۔

111 اُس کی طاقت زبردست ہے، وہ خوف سے بھری ہوئی ہے،

112 وہ مکمل طور پر بہت مضبوط ہے، کوئی بھی اس کے خلاف نہیں جا سکتا۔

113 اُس کی تیز آواز کم نہیں ہوتی،

114 میں اس کی چیخ سے ڈر گیا اور پیچھے ہٹ گیا۔

115 میرے باپ، امید نہ ہارو، اس کے خلاف کسی اور کو بھیج دو۔

116 اگرچہ عورت کی طاقت بہت زیادہ ہے لیکن وہ مرد کے برابر نہیں ہے۔

117 اُس کے گروہوں کو توڑ دو، اُس کے منصوبوں کو مِلیہ میٹ کر دو،

118 اس سے پہلے کہ وہ ہم پر ہاتھ رکھے۔

119 انسار نے خاموشی اختیار کی، زمین کو گھورتے ہوئے،

120 اس نے سر جُھکاتے ہوئے ای کی طرف اشارہ کیا۔

121 Igigi اور تمام Anunnaki جمع ہو چکے تھے،

122 وہ چپ چاپ بیٹھ گئے۔

123 کوئی دیوتا مُقابلہ کرنے کو،

124 Tia-mat کے خلاف نہیں اُٹھے گا،

125 پھر بھی رب انسار، عظیم دیوتاؤں کا باپ،

126 اس کے دل میں غصہ تھا، اور کسی کو طلب نہیں کیا.

127 ایک طاقتور بیٹا، اپنے باپ کا بدلہ لینے والا،

128 وہ جو جنگ میں جلدی کرتا ہے، جنگجو مردوک،

129 ای نے (اسے) اپنے نجی چیمبر میں بلایا،

130 اس کو اپنے منصوبے سمجھانے کیلئے۔

131 مردوک، مشورہ دے، اپنے باپ کی بات سن۔

132 تو میرا بیٹا ہے جو مجھے خوشی دیتا ہے،

133 انسار کے سامنے احترام سے پیش ہوں،

134 بولو، اپنا موقف اختیار کرو، اسے اپنی نظر سے مطمئن کرو۔

135 بی ایل اپنے باپ کی باتوں پر خوش ہوا،

136 قریب آیا اور انسار کے سامنے کھڑا ہوگیا۔

137 انسار نے اسے دیکھا تو اس کا دل اطمینان سے بھر گیا،

138 اس نے اس کے ہونٹوں کو چوما اور اس کا خوف دور کیا۔

139 "میرے (ابا) چپ نہ رہو، بلکہ بولو،

140 میں جا کر تیری خواہش پوری کروں گا!

141 خاموش نہ رہو بلکہ بولو،

142 میں جا کر تیری خواہش پوری کروں گا!

143 کس شخص نے آپ کے خلاف اپنی جنگی صف باندھی ہے؟

144 اور کیا ٹیا میٹ جو کہ ایک عورت ہے تم پر ہتھیاروں سے حملہ کرے گی؟

145 (میرے باپ)، پیدا کرنے والے، خوش ہو اور خوش ہو،

146 عنقریب تم ٹیا میٹ کی گردن پر چلو گے!

147 (انسار)، پیدا کرنے والا، خوش ہو اور خوش ہو،

148 عنقریب تم ٹیا میٹ کی گردن پر چلو گے!

149 (جا) میرے بیٹے، تمام علم سے واقف،

150 اپنے خالص جادو کے ساتھ ٹیا میٹ کو مطمئن کریں،

151 بلا تاخیر طوفانی رتھ چلاو،

152 اور . . ( . .) جسے پیچھے نہیں ہٹایا جا سکتا، اسے واپس کر دو۔

153 بی ایل اپنے باپ کی باتوں پر خوش ہوا،

154 وہ خوش دل ہو کر اپنے باپ سے مُخاطب ہُوا،

155 دیوتاؤں کا رب، عظیم دیوتاؤں کا مقدر،

156 اگر میں تمہارا بدلہ لینے والا بن جاؤں،

157 اگر میں ٹیا میٹ کو باندھ کر تمہیں محفوظ رکھوں،

158 ایک مجلس بلاؤ اور میرے لیے ایک اعلیٰ تقدیر کا اعلان کرو۔

159 آپ سب اپشوکیناکو (Upšukkinakku (آسمانی مُقاموں میں دیوتاوؐں کے اکھٹے ہونے کی جگہ) میں خوشی سے بیٹھیں،

160 اور مجھے باتوں کی بجائے تقدیر کا فیصلہ کرنے دو۔

161 جو کچھ میں کہوں اسے تبدیل نہیں ہونا چاہیے،

162 اور نہ ہی میرے حکم کو منسوخ یا تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

تختی نمبر3

1 انسار نے اپنا منہ کھولا،

2 اور اپنے وزیر کاکا (Kaka) کو مخاطب کیا،

3 وزیر کاکا، جو میری خوشی کو پورا کرتا ہے،

4 میں تمہیں لامو اور لماہو Lah(mu and Lah(amu) کے پاس بھیجوں گا۔

5 آپ تفتیش کرنے اور فنِ خطاب میں ماہر ہیں۔

6 میرے باپ دادا دیوتاؤں کو میرے سامنے لاؤ۔

7 تمام دیوتاؤں کو لایا جائے،

8 جب وہ دسترخوان پر بیٹھتے ہیں تو انہیں بات کرنے دیں۔

9 انہیں اناج کھانے دو، ایل (بیر کی ایک قِسم) پینے دو،

10 وہ بدلہ لینے والے مردوک کی تقدیر کا فیصلہ کریں۔

11 جاؤ، چلے جاؤ کاکا، ان کے سامنے کھڑے ہو جاؤ،

12 اور جو کچھ میں تم سے کہتا ہوں ان کو دہراؤ،

13 آپ کے بیٹے انسار نے مجھے بھیجا ہے،

14 اور میں اُس کے منصوبوں کی وضاحت کروں گا۔

15-52 = II، 11*-48 (* instead of 'My father,' put ' 'Thus,' )

53 میں نے انو کو بھیجا، لیکن وہ اس کا سامنا نہ کر سکا۔

54 نودیمود خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹ گیا۔

55 مردوک، دیوتاؤں کا بابا، تمہارا بیٹا، آگے آیا ہے،

56 اس نے ٹیا میٹ کا سامنا کرنے کا عزم کیا ہے۔

57 اُس نے مجھ سے بات کی اور کہا،

58-64 = II، 156*-162 (* begin with quotation marks: "If ))

65 اب تاخیر کے بغیر اس کے لیے تقدیر کا تعین کریں،

66 تاکہ وہ جا کر تیرے طاقتور دشمن کا مقابلہ کرے۔

67 کاکا اپنے قدموں کی ہدایت پر چلا گیا۔

68 لامو اور لماہو، جو اس کے باپ دادا ہیں۔

69 اس نے سجدہ کیا، اس نے ان کے سامنے زمین کو چوما،

70 وہ اُٹھا اور اُن سے کہہ کر کھڑا ہو گیا۔

71-124 = II 125، 13-66 جب لامو اور لماہو(Lah(h(a and Lah(amu نے سنا تو وہ زور سے پکار اٹھے۔

126 تمام Igigi (آسمانی دیوتاوؐں کا گروپ) مصیبت میں کراہتے تھے،

127 کیا غلطی ہوئی ہے کہ اس نے ہمارے بارے میں یہ فیصلہ لیا؟

128 ہم نہیں جانتے تھے کہ ٹیا میٹ کیا کر رہی ہے۔

129 تمام عظیم دیوتا جو تقدیر کا فیصلہ کرتے ہیں،

130 وہ گئے اور جمع ہوئے،

131 وہ انسار کے حضور میں حاضر ہوئے اور (خوشی) سے بھر گئے،

132 انہوں نے اِجتماع میں ایک دوسرے کو بوسہ دیا۔

133 جب وہ میز پر بیٹھے تو اُنہوں نے مشورہ دیا،

134 انہوں نے اناج کھایا، ایل پیا۔

135 اُنہوں نے میٹھی شراب کو اپنے سٹرا (straws) میں ڈالا۔

136 جب انہوں نے بیئر پیا اور اچھا محسوس کیا،

137 وہ بالکل بے فکر ہو گئے، ان کا مزاج خوش گوار تھا،

138 اور انہوں نے اپنے بدلہ لینے والے مردوک کی قسمت کا فیصلہ کیا۔

تختی نمبر4

1 اُنہوں نے اُس کے لیے ایک عالی شان چبوترہ بنایا،

2 اور وہ بادشاہی حاصل کرنے کے لئے اپنے باپ دادا دیوتاوؐں کے سامنے بیٹھ گیا۔

3 (انہوں نے کہا) تم بڑے دیوتاوؐں میں سب سے زیادہ عزت والے ہو،

4 تیری تقدیر بے مثال ہے، تیرا حکم انو جیسا ہے۔

5 مردوک، تم عظیم معبودوں میں سب سے زیادہ معزز ہو،

6 تیری تقدیر بے مثال ہے، تیرا حکم انو جیسا ہے۔

7 اب سے آپ کا حکم منسوخ نہیں کیا جائے گا،

8 سربلند کرنا اور ذلیل کرنا تیرے اختیار میں ہے۔

9 تیرا کلام یقینی ہے، تیرے حکم سے بغاوت نہیں ہو سکتی،

10 کوئی بھی دیوتا تیری ٹھہرائی گئی حد سے تجاوز کر نے کی غلطی نہیں کرے گا۔

11 تمام دیوتاؤں کے لیے عبادت گاہوں کی ضرورت ہے،

12 کہ جہاں تُمہاری مُقدس جگہیں ہیں وہاں تم قائم رہو۔

13 آپ مردوک ہیں، ہمارا بدلہ لینے والے،

14 ہم نے تم کو کُل کائنات پر بادشاہی دی ہے۔

15 مجلس میں بیٹھ جاوؐ، تُمہارا کلام بلند ہو،

16 تمہارے ہتھیاروں کا نشانہ خطا نہ ہو جائے بلکہ تمہارے دشمن مارے جائیں۔

17 Be-l اُسے بچا جو تُجھ پر بھروسہ کرتا ہے (بیل دیوتا کیلئے ٹائٹل جیسے لارڈ)،

18 لیکن اُس دیوتا کو تباہ کر جس نے اپنے دماغ میں بُرائی ٹھانی۔

19 انہوں نے درمیان میں ایک بُرج قائم کیا،

20 اور اُن کے بیٹے مردوک کو مخاطب کیا،

21 تیری قسمت (بی ایل) تمام دیوتاؤں سے بہتر ہے،

22 فنا اور از سر نو تخلیق کرنے کا حُکم دے۔

23 تیرے کہنے پر بُرج (constellation) غائب ہو جائے،

24 دوسرے حکم کے ساتھ بُرج کو دوبارہ ظاہر ہونے دو۔

25 اس نے حکم دیا اور بُرج غائب ہو گیا،

26 دوسرے حکم کے ساتھ بُرج دوبارہ وجود میں آیا۔

27 جب دیوتاؤں، اُس کے باپ دادا نے اُس کے کلام کا اثر دیکھا،

28 انہوں نے خوشی منائی اور مبارکباد پیش کی: مردوک بادشاہ ہے!

29 اُنہوں نے اُس کے لیے ایک گدی، ایک تخت اور ایک عصا کا اِنتظام کیا۔

30 اُنہوں نے اُسے ایک ایسا نہ قابلِ مُقابلہ ہتھیار دیا جو دشمن پر حاوی ہوتا ہے۔

31 (اُنہوں نے کہا) جاؤ، ٹیا میٹ کا گلا کاٹ دو،

32 اور ہوائیں اُس کا خُون اُٹھا کر خبریں دیں۔

33 دیوتاؤں، اُس کے باپ دادا نے بَیل (Be-l) کی تقدیر کا فیصلہ کیا،

34 اور اُس کو ترقی اور کامیابی کے راستے پر کھڑا کر دیا۔

35 اُس نے کمان کو ہتھیار کے طور پر بنایا۔

36 اُس نے ایک تیر کو ایک مخصوص جگہ پر رکھا اور کمان کی تار لگا دی۔

37 اُس نے اپنی لاٹھی اُٹھا کر اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑی،

38 کمان اور ترکش اُس نے اپنے پہلو میں لٹکائے۔

39 برقی روشنی اُسکے سامنے تھی،

40 اور اُس کے بدن کو شعولوں کی زبان سے بھر دیا۔

41 اُس نے ٹیا میٹ کی انتڑیوں کو اُلجھانے کے لیے جال بنایا،

42 اور چار ہواؤں کو ٹھہرایا کہ اس کے بچنے کا کوئی راستہ نہ ہو،

43 جنوبی ہوا، شمالی ہوا، مشرقی ہوا، مغربی ہوا،

44 اس نے اپنے باپ انو کی طرف سے دی گئی ہواؤں کو جال میں رکھا۔

45 اُس نے شیطانی آندھی، دھول کا طوفان اور تیز ہوا کو اپنے تابع کیا،

46 چار گنا ہوا، سات گنا ہوا، افراتفری پھیلانے والی ہوا، . . . . .ہوا،

47 اُس نے سات ہوائیں بھیجیں جو اُس نے بنائی تھیں،

48 اور وہ ٹیا میٹ کی انتڑیوں کو تکلیف دینے کے لیے اُس کے پیچھے کھڑی ہو گئیں۔

49 بی ایل نے طوفانی سیلاب کو ہتھیار کے طور پر لیا،

50 وہ ناقابلِ برداشت طوفان کے خوفناک رتھ پر سوار ہوا۔

51 اُس نے چار گھوڑے اِکٹھے جوئے اوراُنہیں اِختیار میں لیا،

52 تباہ کن، بے رحم، روندنے والا، بیڑا۔

53 اُن کے ہونٹوں کو (لُگام) کیا گیا، اُن کے دانت زہر آلود ہو گئے،

54 تھکن اُنکے نزدیک نہ تھی جبکہ سبک رفتاری کیلئے وہ تربیت یافتہ تھے۔

55 اُسکے دہنے ہاتھ پر شدید لڑائی اور جھگڑا تھا،

56 بائیں طرف جنگ سے بڑا تنازعہ تھا۔

57 وہ ایک کُھلے خوفناک لِباس میں ملبوس تھا،

58 اور اس کے سر پر دہشت کی چمک تھی۔

59 بی ایل آگے بڑھا اور اپنے راستے پر چل پڑا،

60 اُس نے اپنا چہرہ غصے سے بھرے ٹیا میٹ کی طرف کیا۔

61 اُس کے ہونٹوں پر جادو تھا،

62 اس نے زہر کا اثر زائل کرنے کیلئے ایک پودا اپنے ہاتھ میں پکڑا،

63 تب دیوتاؤں نے اُس کے گرد گھیرا ڈالا،

64 دیوتا (اُس کے باپ دادا) دیوتاؤں نے اُس کے گرد گھیرا ڈالا۔

65 بی ایل ٹیا میٹ کے مُنہ کا جائزہ لیتے ہوئے قریب آیا،

66 اس نے اپنے ساتھی کنگو کی چالوں کا جائزہ لیا۔

67 دیکھتے ہی دیکھتے وہ اپنا اعصاب کھو بیٹھا،

68 اس کا عزم دم توڑ گیا اور وہ ڈگمگا گیا۔

69 اُس کے الہی معاونین جو اُس کے پہلو میں چل رہے تھے،

70 سب سے آگے جنگجو کو دیکھا اور ان کی بینائی ماند پڑ گئی۔

71 ٹیا میٹ نے گردن موڑے بغیر اپنا جادو کیا،

72 اُسکے ہونٹوں پر جُھوٹ پہ جُھوٹ تھا۔

73 - 74 [ . ] وہ آپ کے کہنے پر جمع ہوئے ہیں۔

75 بیل [اوپر اٹھا] طوفان کا سیلاب، اُس کا بڑا ہتھیار،

76 اور ان الفاظوں کے ساتھ اسے غضبناک ٹیا میٹ پر پھینک دیا،

77 تم جارحانہ اور مغرور کیوں ہو؟

78 اور جنگ کو بھڑکانے کی کوشش کرتے ہو؟

79 نوجوان نسل اپنے بڑوں پر غصہ کرتے ہوئے چیخ رہی ہے،

80 لیکن تُو (اُن کی ماں) حقارت کیساتھ ترس کھاتی ہے۔

81 کنگو جسے آپ نے اپنا ساتھی ہونے کا نام دیا ہے،

82 اور آپ نے اسے انوشپ کے عہدے پرنہ جائزطور پر تعینات کیا ہے۔

83 انسار کے خلاف (دیوتاؤں کے بادشاہ) تُو نے مصیبت میں اضافہ کیا،

84 اور دیوتاؤں کے خلاف (میرے باپ دادا) تمہاری مصیبت قائم ہے۔

85 اپنے فوجیوں کو تعینات کرو، اپنے ہتھیاروں پر کمر باندھو،

86 آپ اور میں اپنے موقف کیمُطابق جنگ کریں گے۔

87 جب ٹیا میٹ نے یہ سنا،

88 وہ بے خُود ہو گئی اور اپنا آپ کھو بیٹھی۔

89 ٹیا میٹ نے زور زور سے پکارا،

90 اس کے نیچے کے تمام اعضاء کانپنے لگے۔

91 وہ منتر پڑھ رہی تھی، اپنا منتر پڑھتی رہی،

92 جنگ کیلئے دیوتا اپنے جنگی ہتھیاروں کو تیز کر رہے تھے۔

93 ٹیا میٹ اور دیوتاؤں کے بابا مردوک اکٹھے ہوئے،

94 (تا کہ) لڑائی میں شامل ہوں، جنگ کے قریب پہنچیں۔

95 بی ایل نے اپنا جال بچھایا اور اُس سے دشمنی کی،

96 اُس نے بدی کی ہوا کو اُس کے چہرے پر چھوڑ دیا۔

97 ٹیا میٹ نے اسے نگلنے کے لیے اپنا منہ کھولا،

98 اُس نے بُری آندھی کو اندر جانے دیا تاکہ وہ اپنے ہونٹ بند نہ کر سکے۔

99 تیز ہواؤں نے اُس کے پیٹ کو دبا دیا،

100 اُسکا اندر پھیل گیا اور اُس نے اپنا منہ کھولا۔

101 تیر چھوڑا گیا اور اُس نے اُس کے پیٹ میں سوراخ کر دیا۔

102 اُس نے اُس کی انتڑیوں کو پھاڑ ڈالا اور اُسے اندر سے کاٹ ڈالا۔

103 اُس نے اُسے باندھا اور اُس کی جان ختم کر دی،

104 اس نے اس کی لاش کو نیچے پھینک دیا اور اس پر کھڑا ہو گیا۔

105 جب اُس نے ٹیا میٹ کو قتل کر دیا،

106 مجمع منتشر ہو گیا، اُس کی میزبان ٹیم بِکھر گئی۔

107 اس کے الہی معاونین، جو اس کے ساتھ گئے تھے،

108 کانپتے اور خوف میں پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

109. . . . ان کی جان بچانے کے لیے،

110 لیکن وہ پوری طرح سے گھرے ہوئے تھے، فرار ہونے میں ناکام رہے۔

111 اُس نے اُن کو باندھا اور اُن کے ہتھیار توڑ ڈالے،

112 اور وہ پھندے میں پھنس گئے،

113 غم سے بھرے کونوں میں چھپے ہوئے،

114 جیل میں سزا برداشت کرتے ہوئے۔

115 وہ گیارہ مخلوقات جو خوف سے لدی ہوئی تھیں،

116 شیاطین کا ہجوم اُنکے دائیں ہاتھ دُلہا کی طرح تھا،

117 اُس نے اُن پر رسی ڈالی اور اُن کے بازو باندھ دیے،

118 جنگ میں اُس نے اُنہیں اپنے نیچے روند ڈالا۔

119 اب کنگو، جو اُن کے درمیان اقتدار میں آیا تھا،

120 اس نے مردہ خداؤں کو باندھا اور ان کا حساب لیا۔

121 اس نے اس سے تقدیر کی تختی لی جو صحیح طور پر اُسکی نہیں تھی،

122 اس پر مہر لگا کر اپنے سینے سے لگا لیا۔

123 جب جنگجو مردوک نے اپنے دشمنوں کو باندھ کر مار ڈالا،

124 . . . . متکبر دشمن . . ,

125 انسار کیلئے تمام دشمنوں پر فتح دلائی تھی،

126 نودیمود کی خواہش پوری کر دی،

127 اس نے بندھے ہُوے دیوتاوؐں پر اپنی گرفت مضبوط کی،

128 اور ٹیا میٹ کے پاس واپس آیا جِسے اُس نے باندھا تھا۔

129 بی ایل نے اپنے پاؤں ٹیا میٹ کے نچلے حصے پر رکھے،

130 اور اپنے بے رحم ڈنڈے سے اس کی کھوپڑی کو توڑ دیا۔

131 اس نے اس کی شریانیں کاٹ دیں،

132 تا کہ شمالی ہوا کو اِسکے خون کے سبب خبر پہنچے۔

133 اُس کے باپ دادا نے اُسے دیکھا اور خوش ہوئے،

134 وہ اس کے لیے تحائف لائے۔

135 بی ایل نے آرام کیا، لاش کا سروے کیا،

136 ایک چالاک سکیم کے ذریعے گٹھ جوڑ کو توڑنے کے لیے۔

137 اس نے اسے سوکھی مچھلی کی طرح دو ٹکڑے کر دیا،

138 اُس کا آدھا حصہ اُس نے کھڑا کیا اور آسمان کی طرح پھیلا دیا۔

139 اُس نے کھال کھینچی اور گھڑی مقرر کی۔

140 اس ہدایت کے ساتھ کہ اس کے پانی کو فرار نہ ہونے دیں۔

141 اس نے آسمانوں کو عبور کیا، آسمانی حصوں کا جائزہ لیا،

142 اور اُنہیں نودیمود کے ٹھکانے کو اپسو کے برابر بنایا۔

143 Be-l نے Apsû کی پیمائش کی،

144 اور Ešgalla کی نقل کرتے ہُوءے Ešarra قائم کیا (آسمانی مُقاموں میں دیوتاوؐں کے رہنے کی جگہیں)۔

145 Ešgalla، Ešarra میں جو اس نے بنایا تھا، اور آسمان،

146 وہ ان کے مزارات انو، اینلل اور ای میں آباد ہوئے۔

تختی نمبر5

1 اُس نے بڑے دیوتاؤں کے لیے آسمانی مُقام بنائے،

2 اور برج (یعنی) ستاروں کے نمونے قائم کئے۔

3 اُس نے سال مقرر کئے، اور اُنکی تقسیم کی،

4 اور بارہ مہینوں کے لیے تین تین ستاروں کا گروہ۔

5 سال کو منظم کرنے کے بعد،

6 ستاروں کے وقفوں کو طے کرنے کے لیے اس نے، نی بیرو (Ne-beru) جیسی آسمانی چوکی قائم کی۔

7 کہ کوئی سرکشی نہ کرے اور نہ کاہل ہو،

8 اُس نے اِنلیل ( Enlil ہوا اور طُوفان کا دیوتا) اور ای کے آسمانی مقامات کو اُس کے ساتھ قائم کیا۔

9 دروازے اس نے دونوں طرف کھولے،

10 اور بائیں اور دائیں طرف مضبوط کُنڈیاں لگائیں۔

11 اس نے (آسمان کی) بُلندیوں کو ٹیامیٹ کے پیٹ میں رکھ دیا،

12 اس نے ننر (Nannar چاند کا دیوتا) کو پیدا کیا، رات کو اس کے سپرد کیا،

13 اُس نے اُسے رات کے زیور کے طور پر مقرر کیا تاکہ دنوں کا دورانیہ قائم ہو سکے،

14 اور ماہ بہ ماہ اُس نے اُسے تاج پہنایا،

15 مہینے کے شروع میں زمین پر چمکے،

16 چھ دنوں کا تعین کرنے کے لئے سینگوں کے ساتھ چمکے۔

17 ساتویں دن تاج آدھا ہو جائے گا،

18 ہر مہینے کے پندرہویں دن اِسکی مُخالفت میں،

19 جب سماس (سورج دیوتا) افق پر دیکھا جائے،

20 آگے کیطرف سے گٹھے اور پیچھے کیطرف سے چمکے۔

21 29 ویں دن، Šamaš کے راستے کے قریب آئے،

22 [ . ] 30 ویں دن، مل کر کھڑے ہوں اور Šamaš کے حریف ہوں۔

23 میرے پاس نشان ہے، اس کے راستے پر چلو،

24 قریب آئیں۔ . (........) فیصلہ دیں۔

25 [ . . . ] Šamaš، مجبور [قتل] اور تشدد،

26 -34 [ . . . . . . . ] میں * * * 35. آخر میں ۔ . .36 پھِر 29. واں دِن" 37 اِن احکام کے بعد . . 38 . . تنظیم اور . [ . . 39. اس نے دن بنایا [ . . 40. سال برابر ہوں۔ . 41. نئے سال پر [ . . 42. سال۔ . . [ . . 43. وہاں باقاعدگی سے ہونے دیں۔ . . 44. پروجیکٹنگ بولٹ (کُنڈییاں جو مردوک نے ٹیا میٹ کو ختم کرنے اور اُس میں سے آسمان اور زمیں بنانے کے بعد اُنکو محفوظ کرنے کیلئے اِستعمال کیں) [ . . . 45. اس کے بعد [ . . . 46. رات اور دن کی گھڑیاں [ . . . 47. جھاگ جو Tia-mat [ . . . 48. . . مردوک نے ضرورت کیمُطابق اِستعمال کیا [ . . . 49. اُس نے اُسے اکٹھا کر کے بادلوں کی شکل دی۔ 50. ہواؤں کا تیز طوفان، طوفانی بارشیں،

51 دُھند کا اُڑنا—اس کے تھوک کا جمع ہونا—

52 اُس نے اُنہیں اپنے لیے مقرر کیا اور اُنہیں اپنے ہاتھ میں لیا۔

53 اُس نے اُس کا سر ایک خاص حالت میں رکھا اور اُنڈیل دیا۔ . [ . ]

54 اُس نے پاتال کو کھولا اور وہ پانی سے بھر گیا۔

55 اُس نے اُس کی دونوں آنکھوں سے فرات اور دجلہ کو بہنے دیا،

56 اُس نے اُس کے نتھنے بند کر دیے، لیکن چلا گیا۔

57 اُس نے دُور پہاڑوں کا ڈھیر لگا دیا،

58 اُس نے چشموں کے لیے کنویں کھودے۔

59 اس نے اس کی دم کو مروڑا اور اسے درمہ (Durmah) میں بُنا،

60 [ . . . ] . اس کے پیروں کے نیچے اپسو۔

61 اُس کی کروٹ ——- اُس نے آسمانوں کو چیر دیا،

62 (اس طرح) اس نے اس کا آدھا حصہ بڑھایا اور اسے زمین کی طرح مضبوط کر دیا۔

63 ٹیا میٹ کے اندر کام ختم کرنے کے بعد،

64 اُس نےاِسے پھیلنے دیا۔

65 اس نے آسمانوں اور زمین کا جائزہ لیا۔ . [ ]

66 [.اور اِنکی حدود . . . . . . .

67 جب اُس نے ضابطے بنائے اور [اپنے] احکام مرتب کیے،

68 اس نے راہنُمائی کی رسیاں جوڑ کر ای کے ہاتھوں میں رکھ دیں۔

69 قِسمت کی تختیاں چِنگو لے گیا،

70 اس نے چارج بطور ٹرافی (؟) لیا اور اسے انو کو پیش کیا۔

71 [ . ] جنگ، جسے اس نے باندھا تھا یا سر پر رکھا تھا،

72 [ . ] وہ اپنے باپ دادا کے سامنے لایا،

73 [اب] گیارہ مخلوقات جن کو ٹیا میٹ نے جنم دیا تھا اور . . . ,

74 اس نے ان کے ہتھیار توڑ دیے اور انہیں اپنے پاؤں سے باندھ دیا،

75 اُس نے اُن کی تصویریں بنائیں اور اُنہیں اپسو کے دروازے پر رکھ دیا،

76 ایک نشانی کے لیے جسے کبھی فراموش نہ کیا جائے۔

77 [دیوتاوں] نے یہ دیکھا اور خوشی سے خوش ہوئے،

78 (یعنی) لامو اور لماہو اور اس کے تمام باپ دادا۔

79 انسار نے اسے گلے لگایا اور اس کا عنوان "فتح والا بادشاہ" شائع کیا۔

80 انو، اینلل (Enlil) اور ای نے اسے تحائف دیے۔

81 ماں دمکینا (Damkina)، جس نے اسے جنم دیا، اس کی تعریف کی،

82 صاف ستھرے لباس سے اس نے اس کے چہرے کو چمکایا۔

83 اسماء (Usmû سمری میں چھوٹا دیوتا ای اے کا پیغام رساں) کو، جس نے اسے خبر دینے کے لیے پیش کیا تھا،

84 اس نے اپسو کے وزیر اور مقدس مقامات کی دیکھ بھال کی۔

85 Igigi جمع ہوا اور سب نے اسے سجدہ کیا۔

86 انونکی (Anunnaki) میں سے ہر ایک اس کے پاؤں چوم رہا تھا۔

87 وہ سب فرمانبردار ہونے کے لیے جمع ہوئے،

88 [ . . . ] وہ کھڑے ہو گئے، وہ جھک گئے، دیکھو بادشاہ!

89 اس کے باپ دادا [ . . . ] اور اس کی خوبصورتی سے بھر لیا،

90 بی ایل نے جنگ کی دھول سے کمربستہ ہو کر ان کی باتیں سنی۔

91 [ . . . . . . . . . . . ] . . . . . .

92 اس کے جسم پر مسح کرنا۔ . . دیودار کا عطر۔

93 اُس نے اپنے دیوتا کا لبادہ اوڑھ لیا،

94 شاہی چمک کے طور پر دہشت کے تاج کے ساتھ۔۔

95 اُس نے اپنا عصا اُٹھایا اور اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑا،

96. . . اس نے اپنے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیا.

97 [ . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . ]

98 . . اس نے اپنے پاؤں رکھے.

99 اس نے پہنا۔ . .

100 خوشحالی اور کامیابی کا عصا [اس نے] اپنے پہلو میں لٹکایا۔

101 کے بعد [اس نے . . . چمک [

102 اس نے اپنی بوری یعنی اپسو کو خوف بھر دیا،

103 آباد تھا۔ . .

104 [اپنے] تخت کے کمرے میں . . .

105 اپنے سیل میں . . .

106 ہر ایک دیوتا . . .

107 لامو اور لماہو

Lah(mu and Lah(amu . [ . . . . . . ] . 108 نے اپنا منہ کھولا اور Igigi دیوتاؤں کو مخاطب کیا،

109 پہلے مردوک ہمارا پیارا بیٹا تھا،

110 اب وہ تمہارا بادشاہ ہے، اس کا حکم مانو!

111 پھر وہ سب ایک ساتھ بولے،

112 اس کا نام Lugaldimmerancia ہے، اس پر بھروسہ کرو!"

113 جب اُنہوں نے مردوک کو بادشاہی دے دی،

114 اُنہوں نے اُسکے لئے خوشحالی اور کامیابی کے لیے دعا کی،

115 اب سے آپ ہمارے مزار کے نگران ہیں،

116 آپ جو حکم دیں گے ہم مانیں گے۔

117 مردوک نے منہ کھولا،

118 اور اپنے باپ دادا کو مخاطب کیا،

119 Apsû کے اوپر، زمرد (؟) کا ٹھکانہ،

120 ایسرا (Ešarra) کے سامنے، جسے میں نے تمہارے لیے بنایا تھا،

121 آسمانی مُقاموں کے نیچے، جِسکا فرش میں نے مظبوط کیا،

122 میں ایک گھر بناؤں گا تاکہ میرا عیش و آرام کا ٹھکانہ ہو۔

123 میں اس کے اندر اس کا مزار قائم کروں گا،

124 میں اپنا حجرہ پا کر اپنی بادشاہی قائم کروں گا۔

125 جب آپ اپسو سے فیصلہ کرنے کے لیے آتے ہیں،

126 یہ مجلس سے پہلے تمہاری آرام گاہ ہو گی۔

127 جب آپ فیصلہ کرنے کے لیے آسمان سے اترتے ہیں،

128 مجلس میں یہ تمہاری آرام گاہ ہو گی۔

129 میں اس کا نام 'بابل' رکھوں گا، "عظیم دیوتاوؐں کے گھر،

130 اس کے اندر ہم ایک تہوار منائیں گے: وہ شام کا تہوار ہو گا۔

131 [دیوتاؤں]، اس کے باپ دادا نے، اس کی یہ تقریر سنی،

132 [ . . . . . . . . . . . ] انہوں نے کہا،

133 جو کچھ تمہارے ہاتھوں نے بنایا ہے،

134 کس نے آپ کی [ . . . ]؟

135 اس زمین کے بارے میں جو تمہارے ہاتھوں نے بنائی ہے،

136 کس کے پاس آپ کا [ . . . ]؟

137 بابل میں، جیسا کہ تم نے اس کا نام رکھا ہے،

138 ہماری آرام گاہ ہمیشہ کے لیے رکھ۔۔

139. [ . . . . . . . . ] اُنہیں ہم باقاعدہ نذرانہ پیش کریں،

140 [ . . . . . . . . . . . . . . . ] .

141 جو بھی [ . . . ] ہمارے کام جو ہم . . .

142 اس میں [ . . . . . اس کی محنت . . .

143 [ . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . ]

144 وہ خوش ہوئے۔ . . . . . . . . . .

145 دیوتا۔ [ . . . . . . . . . . . . ]

146 وہ جو جانتا ہے [ . . . . . . . . . ] انہیں،

147 اُس نے اُنہیں روشنی دکھا کر اپنا منہ کھولا،

148 . [ . . . . . . . . اس کی تقریر [ ]

149 اس نے چوڑا بنایا۔ . . . . . . . ] انہیں، . . .

150 اور . [ . . . . . . . . . . . ] . . . .

151 دیوتاؤں نے جھک کر اس سے باتیں کیں،

152 انہوں نے اپنے آقا Lugaldimmerancia کو مخاطب کیا،

153 "پہلے، آقا، [آپ ہمارے پیارے] بیٹے تھے،

154 اب آپ ہمارے بادشاہ ہیں۔ . [ . . ]

155 اس نے ہمیں تحفظ فراہم کیا،

156 . [. . . ] کلب اور راجدھانی کی چمک،

157 اسے منصوبہ بندی کرنے دو۔ . . . ] . [ . . ]

158 [ . ] . [ . . . . . کہ] ہم . [ . "

تختی نمبر 6

1 جب مردوک نے دیوتاؤں کی تقریر سنی،

2 اُسکے اندر ہوشیاری سے کام کرنے کی خواہش پیدہ ہُوئی۔

3 اس نے ای (Ea) سے مخاطب ہوتے ہُوئے اپنا منہ کھولا،

4 وہ انہی باتوں کی وکالت کرتا ہے جِسکا اُس نے اپنے دِل میں سوچا۔

5 میں خون کو اکٹھا کر کے ہڈی بناؤں گا،

6 میں لُلو (Lullû) کو وجود میں لاؤں گا جس کا نام 'آدمی' ہوگا (اِنسان کیلئے اِستعمال ک گئی اِصطلاح)۔

7 میں لُلّو کو پیدا کروں گا،

8 جِنہیں دیوتاوؐں کیلئے محنت کرنی ہو گی، جبکہ دیوتا آرام کریں گے۔

9 میں مہارت سے دیوتاؤں کی تنظیم میں تبدیلی لاوؐں گا،

10 اگرچہ اُنکی ایسے تعظیم کی جاتی ہے جیسے وہ ایک دیوتا ہیں لیکن وہ (دہ حِیصوں آسمانی اور پاتالی) میں تقسیم کیے جائیں گے.

11 ای نے جواب دیا، جب وہ اُس سے مُخاطب ہُوا،

12 دیوتاؤں کے آرام کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے،

13 کہ ان کے ایک بھائی کو ختم کر دیا جائے۔

14 وہ فنا ہو جائے تاکہ لوگ سبق حاصِل کریں۔

15 عظیم دیوتاؤں کو جمع ہونے دو،

16 اور قصوروار کو ختم کر دیا جائے تاکہ اُنکی تصدیق ہو جائے۔

17 مردوک نے عظیم دیوتاؤں کو جمع کیا،

18 حُکم جاری کرتے ہُوئے اُس نے مہربانی سے ہدایت کی،

19 اُسکے بولنے پر دیوتاؤں نے اُس پر دھیان دیا،

20 بادشاہ انوناکی (Anunnaki) سے مُخاطب ہُوا،

21 تُمہارا پِچھلا حلف دُرست تھا،

22 (اب بھی) مجھے سچی بات بتاؤ۔

23 وہ کون ہے جس نے جنگ پر اکسایا؟

24 کس نے ٹیا میٹ کو باغی بنایا اور جنگ شروع کی؟

25 جس نے جنگ پر اکسایا اُسے ختم کر دیا جائے،

26 تاکہ میں اس کی سزا اس پر ڈالوں، لیکن تم بیٹھ کر آرام کرو۔

27 Igigi (مسوپتامی اور اکادی تہزیبوں کیمُطابق دیوتاوؐں کا گروپ)، عظیم دیوتاؤں نے اسے جواب دیا،

28 یعنی، Lugaldimmerancia، دیوتاؤں کا مشیر، رب،

29 یہ کِنگو (Qingu) ہے جس نے جنگ پر اکسایا،

30 جس نے ٹیا میٹ کو باغی بنایا اور جنگ شروع کی۔

31 اُنہوں نے اُسے باندھا اور اُسے ای کے سامنے پکڑا،

32 اُنہوں نے اُسے سزا دی اور اُس کی خون کی نالیوں کو کاٹ دیا۔

33 اس کے خون سے ای نے بنی نوع انسان کو پیدا کیا،

34 جن پر اس نے دیوتاؤں کی خدمت مسلط کی اور دیوتاؤں کو آزاد کیا۔

35 عقلمند ای (Ea) کے بنی نوع انسان کو پیدا کرنے کے بعد،

36 دیوتاؤں کی خدمت ان پر مسلط کر دی تھی۔

37 وہ کام سمجھ سے بالاتر ہے،

38 کیونکہ نودیمود (Nudimmud) نے مردوک کی مہارت سے تخلیق کو انجام دیا،

39 بادشاہ مردوک نے دیوتاؤں کو تقسیم کیا،

40 تمام انوناکی اوپر اور نچلے گروہوں میں۔

41 اس نے انو کے احکامات پر عمل کرنے کیلئے آسمان پر 300 کو مقرر کیا،

42 اور ان کو پہرے دار مقرر کیا۔

43 اس کے بعد اس نے پاتال کی تنظیم کو ترتیب دیا۔

44 آسمان اور جہان میں اس نے 600 دیوتاؤں کو ٹھہرایا۔

45 جب اُس نے تمام احکام مرتب کر لیے،

46 اور اس نے مال و دولت کو آسمانی اور پاتال کی دنیا کے انوناکیوں میں تقسیم کر دیا،

47 انوناکی نے اپنا منہ کھولا،

48 اور اپنے آقا مردوک سے مخاطب ہوئے،

49 اب اے مالک جب آپ نے ہماری آزادی کو قائم کر دیا ہے،

50 ہم آپ کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟

51 آئیے ہم ایک عظیم شہرت کے حامل مزار بنائیں:

52 آپ کا حجرہ ہماری آرام گاہ ہو گا جس میں ہم آرام کر سکتے ہیں۔

53 آئیے ایک مزار بنانے کیلئے بُنیاد رکھیں،

54 جس میں ہم (کام) ختم کرنے کے بعد آرام کر سکتے ہیں۔

55 جب مردوک نے یہ سنا،

56 وہ دن کی روشنی کی طرح چمک رہا تھا،

57 بابل کی تعمیر کرو، جس کام کو کرنے کا اِرادہ تُم نے کیا ہے۔

58 اس کے لئے اینٹوں کو بناوؐ، اور مزار کو بلند کرو!

59 انوناکی نے اِس بڑے کام کو کرنے کا فیصلہ کیا۔

60 ایک سال تک انہوں نے ضروری اینٹیں بنائیں،

61 جب دوسرا سال آیا،

62 انہوں نے ایساجیل Esagil (چوٹی کا گھر یعنی ٹمپل جو دیوتا مردوک کیلئے وقف تھا) کی چوٹی کو بلند کیا، جو اپسو ٹمپل کی نقل ہے۔

63 انہوں نے اپسو کے اونچے ٹمپل ٹاور کو بنایا،

64 اور Anu، Enlil، اور Ea کے لیے انہوں نے ایک رہائش گاہ قائم کیا۔

65 وہ ان کے سامنے شان سے بیٹھا،

66 اس کے سینگوں کی جانچ کرتے ہُوئے، جو ایسرا (Ešarra) کے برابر تھے۔

67 جب وہ ایساجیل پر کام مکمل کر چکے تھے،

68 تمام انونکی نے اپنے اپنے مزار بنائے۔

69 آسمان کے 300 Igigi اور 300 Apsû، (کُل 600) سب کے سب جمع ہو چکے تھے۔

70 بی ایل نے دیوتاؤں کو، اپنے باپ دادا کو ضیافت میں بٹھایا،

71 اُس بلند مزار میں جو اُنہوں نے اُس کے رہنے کے لیے بنایا تھا،

72 (کہا) یہ بابل ہے، تمہارا ٹھکانہ،

73 اپنی خوشی یہاں سے حاصِل کرو! خوشی سے بیٹھو!

74 بڑے دیوتا بیٹھ گئے،

75 بیئر کے مگ (Beer-mugs) نکالے گئے اور وہ ضیافت میں بیٹھ گئے۔

76 جب وہ صحیح طور سے لطف اندوز ہو چکے تھے،

77 انہوں نے خوفناک Esagil میں ایک محفل منعقد کی.

78 قواعد و ضوابط اور تمام قواعد کی تصدیق کی گئی تھی:

79 تمام دیوتاؤں نے آسمانی اور پاتالی مقامات کو تقسیم کیا۔

80 پچاس عظیم دیوتاؤں کے اداروں نے اپنی نشستیں سنبھال لیں،

81 تقدیر کے سات دیوتاؤں کو فیصلے کرنے کے لیے مقرر کیا گیا۔

82 بی ایل نے اپنا ہتھیار یعنی کمان حاصل کی اور اسے ان کے سامنے رکھ دیا۔

83 اُس کے الہی باپ دادا نے اُس جال کو دیکھا جو اُس نے بنایا تھا۔

84 اُس کے باپ دادا نے دیکھا کہ کمان کی ساخت کتنی مہارت سے بنائی گئی تھی۔

85 جب وہ اُس کی تعریف کر رہے تھے،

86 انو نے اسے الہی مجلس میں اٹھایا،

87 اس نے کمان کو چوما اور کہا، یہ میری بیٹی ہے!

88 اس نے کمان کے نام رکھے:

89 پہلی"لانگ اسٹک" اور پِھر؛ دوسری، ممکن ہے یہ منزل تک پہنچ جائے۔

90 تیسری اِسنے "بو سٹار" ("Bow Star") کے نام سے بنائی؛ اِتنی اُونچی کہ آسمان کو چُھو جائے،

91 اِسنے اپنے آسمانی بھائیوں کے مُقاموں کا تعین کیا۔

92 انو کی کمان کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کے بعد،

93 اُس نے دیوتا کے شانِ شان ایک شاہی تخت لگایا،

94 انو نے اسے وہاں دیوتاؤں کی مجلس میں رکھا۔

95 عظیم دیوتا جمع ہوئے،

96 انہوں نے مردوک کی تقدیر کو سربلند کیا اور سجدہ کیا۔

97 انہوں نے اپنے آپ پر لعنت بھیجی،

98 اور پانی اور تیل کی قسم کھائی اور اپنے ہاتھ گلے میں ڈالے۔

99 انہوں نے اسے دیوتاؤں پر بادشاہی کرنے کا حق دیا،

100 اُنہوں نے اُس کی تصدیق کی کہ وہ آسمان اور عالم کے دیوتاؤں کا رب ہے۔

101 انسار نے اس کو اعلیٰ نام اسلوح (Asalluh انکی کا بیٹا جادو کا دیوتا) دیا،

102 اس کے نام کو ہم تسلیم کریں!

103 جب وہ بولے تو دیوتا اس کی بات مانیں،

104 اس کا حکم بالائی اور زیریں علاقوں میں برتر ہو۔

105 بیٹا، ہمارا بدلہ لینے والا، سرفراز ہو،

106 اس کی حاکمیت اعلیٰ اور بغیر حریف کے ہو۔

107 وہ بلیک ہیڈز (black-heads قدیم سمری لوگ جِنہں سا گ گیگا کہا جاتا تھا اُنہیں اِس نام سے پُکارا جاتا تھا)، مخلوقات کی چوپائی کرے،

108 بھولے بغیر آنے والے دنوں تک اس کے کردار کو یاد کرتے رہیں۔

109 وہ اپنے باپ دادا کے لیے شاندار کھانے کی قربانیاں قائم کرے،

110 وہ اُن کی کفالت کرے اور اُن کے مقدّسوں کی دیکھ بھال کرے،

111 وہ اُن کے مقدس مقامات کی خوشی کے لیے بخور جلائے۔

112 وہ زمین پر وہی کرے جو اس نے آسمان پر کیا ہے،

113 وہ اس کی عبادت کے لیے بلیک ہیڈز مقرر کرے،

114 انسان اپنے معبودوں کو یاد رکھیں،

115 چونکہ وہ حکم دیتا ہے وہ دیویوں کی مانیں،

116 ان کے دیوی دیوتاؤں کے لیے کھانے کی قربانیاں لائی جائیں،

117 وہ بھلائے نہ جائیں، وہ اپنے معبودوں کو یاد رکھیں،

118 وہ کر سکتے ہیں . . ان کے مزارات۔

119 اگرچہ بلیک ہیڈز کسی اور دیوتا کی پُوجا کرتے ہیں،

120 وہ ہم سب کا دیوتا ہے!

121 آؤ، ہم پچاس ناموں کو پکاریں،

122 جس کا کردار تابناک ہو، جس کا کارنامہ شاندار ہو۔

123 مردوک (1 پہلاا نامم) جیسا کہ اس کا نام اس کے والد انو نے اِسکی پیدائش کے وقت سے رکھا تھا،

124 جو چراگاہ اور پانی فراہم کرتا ہے(اور) اصطبل پھلتا پھولتا ہے۔

125 جس نے مغرور کو اپنے ہتھیار(یعنی) طوفان اور سیلاب سے باندھا،

126 اور اپنے باپ دادا دیوتاؤں، کو مصیبت سے بچایا۔

127 وہ بیٹا ہے، دیوتاؤں کا سورج دیوتا، وہ شاندار ہے،

128 وہ ہمیشہ اس کی روشنی میں چلتے رہیں۔

129 اُن قوموں پر جنہیں اُس نے پیدا کیا، جانداروں پر،

130 اُس نے دیوتاؤں کو ذمہ داریاں سونپیں اور اُنہوں نے آرام کیا۔

131 تخلیق اور فنا، معافی اور جرمانہ لگانا،

132 اس کے حکم پر وہ اس پر نگاہیں جمائے رکھیں۔

133 مروکہ (2 Marukka دُوسرا نام): وہ دیوتا ہے جس نے ان کو پیدا کیا،

134 جس نے انوناکی کو آرام سے رکھا، آئگیگی (Igigi) آرام کرے۔

135 ماروٹوکو (3 Marutukku تیسرا نام) وہ زمین، شہر اور اس کے لوگوں کا سہارا ہے،

136 اب سے قومیں اُس پر دھیان دیں،

137 مارساٹوکسو (4 Meršakušu) تُند مِزاج مگر سوچنے والا، غصے میں بھی نرمی کرنے والا،

138 اُس کا دماغ کشادہ ہے اور وہ کُھلے دِل کا ہے۔

139 لوگالڈیمرانسیا (5 Lugaldimmerancia) وہ نام ہے جس سے ہم سب اسے پکارتے ہیں،

140 جس کے احکامات کی تعظیم ہم نے اُنکے باپ دادا کے معبودوں سے بھی زیادہ کی ہے۔

141 وہ آسمان اور عالم کے تمام معبودوں کا مالک ہے،

142 وہ بادشاہ جس کے حکم پر بالائی اور زیریں دیوتا کانپ اٹھتے ہیں۔

143 ناریلگالدمرانسیا (6 Narilugaldimmerancia) وہ نام ہے جو ہم نے اسے دیا ہے، ہر دیوتا کا سرپرست،

144 جس نے مصیبت کے وقت آسمان اور دنیا میں ہماری رہائش گاہیں قائم کیں،

145 جس نے Igigi اور Anunnaki کے درمیان آسمانی چوکیوں کو تقسیم کیا،

146 دیوتا اس کے نام سے کانپیں اور اپنی نشستوں پر لرز اٹھیں۔

147 اسالو (7 Asalluh) وہ نام ہے جس سے اس کے والد انو نے اسے پکارا،

148 وہ دیوتاؤں کا نور ہے، ایک زبردست ہیرو،

149 جیسا کہ اُسکے نام سے ظااہر ہوتا ہے، وہ دیوتا اور زمین کی حفاظت کرنے والا فرشتہ ہے،

150 جس نے ایک خوفناک لڑائی سے مصیبت کے وقت ہمارے گھر کو بچایا۔

151 اسالو نامتیللا (8 Asalluh Namtilla) انہوں نے اسے دوسرے نام سے بھی پکارا یعنی زندگی دینے والا دیوتا،

152 جس نے اپنے (نام) کے مطابق تمام تباہ شدہ معبودوں کو بحال کیا،

153 وہ رب جس نے مردہ دیوتاؤں کو اپنے خالص جادو سے زندہ کیا،

154 آئیے ہم، ایک فسادی دُشمن کو تباہ کرنے والے کے طور پر اس کی تعریف کریں۔

155 اسالو (9 Asalluh) نمرو جیسا کہ اس کا نام پکارا جاتا ہے،

156 خالص دیوتا، جو ہمارے کردار کو شفاف کرتا ہے۔

157 انصار، لہ (مو، اور لہ امو Lah(mu, and Lah(amu (ہر ایک) نے اسے تین ناموں سے پکارا،

158 پھر وہ دیوتاوؐں سے مُخاطب ہُوئے جو اُنکے بیٹے تھے۔

159 ہم نے ہر ایک کو تین ناموں سے پکارا ہے،

160 اب تم ہماری طرح اس کے نام پکارو۔

161 دیوتا ان کی تقریر سن کر خوش ہوئے،

162 اپشوکیناکی (Upšuukkinaki) میں انہوں نے ایک مجلس منعقد کی،

163 جنگجو بیٹا، ہمارا بدلہ لینے والا،

164 رزق دینے والا، آئیے اسکی تسبیح کریں۔

165 تقدیر کو طلب کرتے ہوئے وہ مجلس میں بیٹھ گئے،

166 اور تمام مناسب رسومات کے ساتھ انہوں نے اس کا نام پکارا۔

تختی نمبر 7

1 قابل کاشت زمین دینے والا دیوتا آسرے (Asarre 10) جِس نے ہل جوتنے والی زمین قائم کی،

2 جو اور سن کا خالق، جس نے پودوں کو بڑھایا۔

3 اسرالیم (Asaralim 11)، جس کا، اجلاس گاہ میں احترام کیا جاتا ہے اور جس کی صلاح بہترین ہے،

4 دیوتا اس پر دھیان دیتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں۔

5 اسرالمنونہ (Asaralimnunna 12)، بزرگ اُس باپ کا نورہے جو اس کا پیدا کرنے والا ہے،

6 جو انو، اینلیل، اور ای کے احکامات کو آگے پہنچاتا ہے وہ نینسکو(Ninšiku) ہے۔

7 وہ اُن کا رزق دینے والا ہے اور اُن کی آمدن مقرر کرتا ہے،

8 جس کی اطاعت زمینی فصل کی کثرت کا سبب بنتی ہے۔

9 وہ توتو (Tutu 13) تو تو نام سے پہلا چھوٹا دیوتا جو بڑے دیوتا یعنی مردوک اور نبو جیسا سمجھا جاتا تھا) ہے جو ان کی تزئین و آرائش کا ذمہ دار تھا،

10 وہ اُن کے مقدس مُقاموں کو پاک رکھے تاکہ وہ آرام کریں۔

11 وہ ایک منتر کرے تاکہ دیوتا آرام کریں،

12 خواہ وہ غصے میں اُٹھیں، وہ پیچھے ہٹ جائیں۔

13 یقیناً وہ اپنے [باپ] دیوتاؤں کی جماعت میں سربلند ہے،

14 دیوتاؤں میں سے کوئی بھی اُس کے برابر نہیں ہو سکتا۔

15 توتو - زیوکینا (Tutu-Ziukkinna 14 تو تو کا دُوسرا نام) ،میزبان دیوتاوؐں کی زندگی ہے،

16 جس نے دیوتاؤں کے لیے خالص آسمانوں کو قائم کیا،

17 جنہوں نے اپنے فرائض کی ذمہ داری سنبھالی، جنہوں نے [اسٹیشن] مقرر کیے،

18 وہ فانی انسانوں میں بھلایا نہ جائے بلکہ اُس کے کام یاد رکھیں۔

19 انہوں نے اسے توتو زیکو (Tutu-Ziku 15 تو تو کا تیسرا نام) نام سے پکارا، طہارت کا قائم کرنے والا،

20 خوشگوار ہوا کا دیوتا، کامیابی اور فرمانبرداری کا مالک،

21 جو فضل اور دولت پیدا کرتا ہے، جو کثرت کو قائم کرتا ہے،

22 جو شے ہمارے پاس کثرت میں ہو اُسے وہ معمولی مِقدار میں تبدیل کر دیتا ہے،

23 جس کی خوشگوار ہوا ہم نے ہولناک مصیبت کے وقت سونگھی،

24 آدمی اُسکی عِبادت کریں اور اُس کی تسبیح مسلسل کی جائے۔

25 جیسا کہ توتو-آگاکو (Tutu-Agaku 16 تو تو کا چوتھا نام)، انسان اس کی تعریف کریں،

26 خالص منتر کا رب جس نے مُردوں کو زندہ کیا،

27 جس نے حدود میں رہنے والے دیوتاوؐں پر رحم کیا،

28 جس نے دشمن دیوتاؤں پراپنا جُوا مسلط کیا،

29 جبکہ انسان پر نہیں۔

30 وہ مہربان، جس کے اِختیار میں زندگی کو بحال کرنا ہے،

31 اُس کی باتوں کو یقینی بنائیں اور فراموش نہ کریں،

32 بلیک ہیڈز کے منہ سےجو اِسکی مخلوق ہے۔

33 جیسا کہ توتو ٹوکو (Tutu-Tuku 17 تو تو کا پانچواں نام)، ان کے منہ سے اس کے خالص جادو کا اظہار ہو،

34 جِس نے اپنے خالص جادُو سے تمام شریروں کو ختم کر دیا۔

35 شزو (Šazu 18 سوزو کا پہلا نام)، جو دیوتاؤں کے دل کو جانتا تھا، جس نے اِختیار سے کام کرنا ہی دیکھا تھا،

36 جس نے بدکار کو اپنے ہاتھ سے بھاگنے نہ دیا۔

37 جس نے دیوتاؤں کی مجلس قائم کی اور ان کے دلوں کو خوش کیا،

38 جس نے نافرمانوں کو مسخر کیا وہ دیوتاؤں کو تحفظ فراہم کرنے والا ہے۔

39 اُس نے سچائی کو ترقی دی، اُس نے کج روی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا،

40 اس نے باطل کو حق سے الگ کیا۔

41 سوزو- ذِشی کی طرح (Šazu-Zisi 19 سوزو کا دُوسرا نام)، وہ مسلسل اس کی تعریف کرتے رہیں کیونکہ وہ جارحوں کو زیر کرتا ہے،

42 جس نے اپنے باپ دادا کے اندر سے خوف کو دور کیا۔

43 (20) شزو-سہ (Šazu-Suh سوزو کا تیسرا نام) رم، جس نے اپنے ہتھیاروں سے ہر دشمن کو نیست و نابود کر دیا،

44 جِس نے اُن کے منصوبوں کو خاک میں ملایا اور اُن کو ہوا میں بدل دیا۔

45 اُس نے اپنے خِلاف کھڑے ہونے والے تمام شریروں کو سُونگھ لیا،

46 دیوتا مجلس میں نعرے لگاتے رہیں۔

47 (21) Šazu-Suh سوزو کا چوتھا نام) گورم، جس نے اپنے باپ دادا دیوتاؤں کے لیے کامیابی قائم کی،

48 جس نے دشمنوں کو نابود کیا اور ان کی اولاد کو تباہ کیا،

49 جنہوں نے اپنی کامیابیوں کو بکھیر دیا، ان کا کوئی حصہ نہیں چھوڑا،

50 اُس کا چرچہ کیا جائے اور منادی ہو۔

51 (22) شزو-زاہ (Šazu-Zah سوزو کا پانچواں نام) کی طرح آئندہ نسلیں اِسکا ذِکر کریں،

52 تمام نافرمانوں میں ہر باغی کو تباہ کرنے والا،

53 جو تمام بھگوڑے دیوتاؤں کو مزاروں میں لے آیا،

54 اُس کا یہ نام قائم ہو۔

55 (23) شزو-زاہ (Šazu-Zah سوزو کا چھٹا نام) کی طرح وہ مکمل طور پر اور ہر جگہ اس کی عبادت کریں،

56 جس نے خود ہی تمام دشمنوں کو جنگ میں تباہ کر دیا۔

57 (24) انبیلولو(پہلا نام) وہی ہے جو ان کو کثرت سے فراہم کرتا ہے،

58 اُن کا چُنا ہوا عظیم آدمی، جو اناج کا نذرانہ پیش کرتا ہے۔

59 وہ زمین پر قائم کی گئی چرا گاہوں کی اچھی طرح آبپاشی کرنے کا بندوبست کرتا ہے،

60 جِس نے آبی گزرگاہیں کھولیں اور وافر پانی تقسیم کیا۔

61 اینبیلولو ٰاپادون (Enbilulu-Epadun 25)(دُوسرا نام) مشترکہ زمین کا مالک . . .، وہ [اسے بلائیں]،

62 آسمان اور عالمِ برزخ کی نہر کا نِگران جو ترتیب دیتا ہے اور جو کھلے عِلاقوں میں قابل کاشت زمینیں قائم کرتا ہے،

63 جو آبپاشی کی کھائی، نہر اور اُسکے کِناروں کی ترتیب دیتا ہے۔

64 بطور اینبیلولو-گوگل ( (26 Enbilulu-Gugal) (تیسرا نام)، دیوتاؤں کے آبی گزرگاہوں کے نہری نگران کی حثیت سے اس کی تعریف کریں،

65 کثرت، فراوانی اور بہت بڑے ذخیروں کا مالک،

66 جو فضل کرتا ہے،جو انسانی بستیوں کو مالا مال کرتا ہے۔،

67 جو گیہوں دیتا ہے، اور اناج کو پیدہ کرتا ہے۔

68 بطور (27 Enbilulu-H) ایگل، وہ لوگوں کے لیے کثرت میں مال جمع کرتا ہے . . .

69 جو وسیع زمین پر دولت کی بارش کرتا ہے، اور بہت سے پودوں کو فراہم کرتا ہے۔

70 (28) سرسر (Sirsir)، جس نے ٹیامیٹ کی چوٹی پر ایک پہاڑ کا ڈھیر لگا دیا،

71 جس نے ٹیا میٹ کی لاش کو ہتھیاروں سے لوٹ لیا،

72 زمین کا محافظ، ان کا قابلِ بھروسہ چرواہا،

73 جس کے بال اُگنے والی فصل ہیں، جس کی پگڑی ہل چلنے کی لکیر جیسی ہے،

74 جو اپنے غصے میں وسیع سمندر کو پار کرتا رہا،

75 اور اپنی لڑائی کی جگہ کو اس طرح عبور کرتا رہا جیسے وہ ایک پل ہو۔

76 سرسیر-مالہ (29 Sirsir-Malah ملاحوں کا دیوتا) انہوں نے اس کا دوسرا نام رکھا۔

77 ٹیا میٹ اس کی کشتی تھی، وہ اس کا ملاح تھا،

78 (30) گل (Gil گِلگمیش کا مُخفف ایک مرکزی کردار)، جو کبھی جو کے ڈھیر لگاتا ہےاور بڑے بڑے ٹیلے،

79 اناج اور ریوڑ کا خالق، جو زمین کے لیے بیج دیتا ہے۔

80 (31) گلیما (Gilima)، جس نے دیوتاؤں کے بندھن کو مضبوط کیا، جس نے استحکام پیدا کیا،

81 ایک ایسا پھندا جو ان پر چھا گیا، جس نے ابھی تک احسان ہی کیا،

82 (32) اگلیما، بلند و بالا، جو تاج چھین لیتا ہے، جو برف کی ذمہ داری لیتا ہے،

83 جس نے زمین کو پانی پر بنایا اور آسمان کی بلندی کو مضبوط کیا۔

84 (33) زلم (Zulum)، جو دیوتاؤں کے لیے گھاس کا میدان مقرر کرتا ہے اور جو کچھ اس نے بنایا ہے اسے تقسیم کرتا ہے،

85 جو روزی اور کھانے کا نذرانہ دیتا ہے، جو مزارات کا انتظام کرتا ہے۔

86 (34) ممّو، آسمانی دنیا اورپاتال کا خالق جو پناہ گزینوں کی حفاظت کرتا ہے،

87 وہ دیوتا جو آسمان اور پاتال کو پاک کرتا ہے، زُلمو(Zulummu ، زُلمو دُوسرا نام) ،

88 جس کی طاقت کے لحاظ سے دیوتاؤں میں سے کوئی اس کی ہمسری نہیں کر سکتا۔

89 (35) Gišnumunab، تمام لوگوں کا خالق، جس نے دنیا کے خِطوں کو بنایا،

90 جس نے ٹیا میٹ کے دیوتاؤں کو تباہ کیا اور لوگوں کو ان کا حصہ بنایا۔

91 (36) Lugalabdubur، وہ بادشاہ جس نے ٹیا میٹ کے کاموں کو بکھیر دیا، جس نے اُسکے ہتھیاروں کو اکھاڑ پھینکا،

92 جس کی بنیاد "آگے اور پیچھے" پر محفوظ ہے۔

93 (37) پاگلگینا (Pagalguenna)، تمام ربوں میں سب سے آگے، جس کی طاقت بہت زیادہ ہے،

94 وہ تمام دیوتاؤں میں سب سے بڑا ہے یعنی اِنکے بھاِئیوں میں سب سے افضل،

95 (38) Lugaldurmah (دیوتاؤں کے بندھن کا بادشاہ)، Durmah کا رب،

96 جو شاہی گھر میں سب سے بڑا ہے، دوسرے دیوتاؤں سے بے حد بلند ہے۔

97 (39) ارانونا (Aranunna)، ای کا مشیر، دیوتاؤں کا خالق، اس کے باپ دادا،

98 جس کی کوئی معبود دیوتاوؐں کے نسب میں برابری نہیں کر سکتا۔

99 (40) Dumuduku، جو اپنے لیے Duku میں اپنے خالص ٹھکانے کی تجدید کرتا ہے،

100 Dumuduku، جس کے بغیر Lugalduku فیصلہ نہیں کرتا۔

101 (41) Lugalšuanna، وہ بادشاہ جس کی طاقت دیوتاؤں میں بلند ہے،

102 رب، انو جو انصار کا چنا ہوا ہے طاقت میں اعلیٰ ترین ہے۔

103 (42) اروگا (Irugga)، جس نے ان سب کو سمندر میں لوٹ لیا،

104 جو تمام حکمتوں پر گرفت رکھتا ہے، فہم میں جامع ہے۔

105 (43) ارکنگو (Irqingu)، جس نے چنگو (Qingu) کو جنگ میں لوٹ لیا۔

106 جو تمام احکامات دیتا ہے اور بادشاہی قائم کرتا ہے۔

107 (44) کنما (Kinma)، تمام دیوتاؤں کا ہدایت کار، جو مشورہ دیتا ہے،

108 جس کے نام پر دیوتا تعظیم سے ایسے جُھک جاتے ہیں جیسے وہ طُوفان کے آگے جُھک جاتے ہیں۔

109 (45) Dingir-Esiskur — کلماتِ برکت ادا کرنے والے گھر میں اِسے اپنی اونچی نشست سنبھالنے دیں،

110 دیوتا اپنے تحفے اس کے سامنے لے آئیں،

111 جب تک کہ وہ ان کا نذرانہ وصول نہ کر لے۔

112 کوئی نہیں مگر وہ ہوشیاری سے کام کرتا ہے،

113 بلیک ہیڈز کے چاروں عِلاقائی خِطے اس کی تخلیق ہیں،

114 اس کے سوا کوئی معبود اپنی عُمر کا اندازہ نہیں لگا سکتا۔

115 (46) گیرو (Girru)، جو ہتھیاروں کوسخت بناتا ہے،

116 جس نے ٹیا میٹ کے ساتھ جنگ ​​میں عقل سے کام لیا،

117 حکمت میں جامع، فہم میں ماہر،

118 ایک گہرا دماغ، جسے تمام دیوتا مل کر بھی نہیں سمجھتے۔

119 (47) ادو (Addu) اُس کا نام ہو، اور وہ پورے آسمان کو ڈھانپ لے،

120 وہ زمین پر اپنی خوشگوار آواز سے گرجے۔

121 گڑگڑاہٹ بادلوں کو بھر دے اور نیچے والوں کو رزق عطا فرما۔

122 (48) Aša-ru، جس نے اپنے نام کے مطابق، خدائی تقدیر کو جمع کیا،

123 وہ یقیناً تمام لوگوں کا محافظ ہے۔

124 (49) Ne-beru کی طرح وہ آسمان اور پاتال کو مِلانے والی جگہ کو تھامے،

125 انہیں اوپر یا نیچے سے گزرنا نہیں چاہئے بلکہ اس کا انتظار کرنا چاہئے۔

126 نیبیرو اس کا ستارہ ہے جسے اس نے آسمان پر چمکایا،

127 وہ آسمانی سیڑھی پر کھڑا ہو تاکہ وہ اسے دیکھ سکیں۔

128 ہاں، وہ جو بغیر رُکنے کے سمندر کو مسلسل پار کرتا ہے۔

129 اُس کا نام نِبیرو رکھا جائے جو اُسے درمیان سے پکڑتا ہے،

130 وہ آسمان کے ستاروں کی راہیں بنائے،

131 وہ تمام دیوتاؤں کو بھیڑوں کی طرح چروائے۔

132 وہ ٹیا میٹ کو باندھے اور اپنی جان کو خطرے میں ڈال دے،

133 نسلوں تک جو ابھی پیدا نہیں ہُوئیں، مستقبل کے دور دراز دنوں تک،

134 وہ بے لگام رہے، وہ ابد تک قائم رہے۔

135 جب سے اس نے آسمانوں کو بنایا اور زمین کو آراستہ کیا،

136 Enlil، باپ نے اسے اپنے نام سے پکارا، (50) 'Lard of the Lands'۔

137 ای اے (Ea) نے وہ نام سنے جِن سے تمام Igigi پکارتے تھے،

138 اور اس کی روح روشن ہوگئی۔

139 "کیوں! وہ جس کا نام اس کے باپ دادا نے پکارا تھا،

140 اسے بھی میری طرح 'ای' کہا جائے۔

141 وہ میری تمام رسومات کو قابو میں رکھے،

142 وہ میرے تمام احکامات پر عمل درآمد کروائے۔

143 لفظ "پچاس" کے ساتھ عظیم دیوتاوؐں،

144 نے اس کے پچاس ناموں کو پکارا اور اسے ایک شاندار عہدہ بخشا۔

145 انہیں یاد رکھنا چاہیے کسی سرکردہ شخصیت کو ان کی وضاحت کرنی چاہیے،

146 عقلمندوں اور عالموں کو ان کے بارے میں بتانا چاہیے۔

147 ایک باپ کو چاہیے کہ ان کو دہرائیں اور اپنے بیٹے کو سکھائیں،

148 انہیں چرواہوں اور مویشی چرانے والوں کو بتانا چاہئے،

149 اگر کوئی مردوک اور دیوتاؤں کے اینلل سے غافل نہ ہو۔

150 ہر کسی کی زمین پھلے پھولے، اور وہ خود خوشحال ہو،

151 (کیونکہ) اس کا کلام معتبر ہے، اس کا حکم غیر متغیر ہے،

152 کوئی خدا اُسکے منہ کی بات کو نہیں بدل سکتا۔

153 جب وہ غصے میں دیکھتا ہے تو باز نہیں آتا،

154 جب اس کا غصہ بھڑک اٹھے تو کوئی معبود اس کا سامنا نہیں کر سکتا۔

155 اُس کا دماغ گہرا ہے، اُس کی رُوح سب کو گلے لگاتی ہے،

156 جس کے سامنے گناہ اور خطا کا حساب لگایا جاتا ہے۔

157 وہ ہدایت جو ایک سرکردہ شخصیت نے اس (مردوک) کے سامنے دہرائی:

158 اس نے اسے لکھ کر محفوظ کر لیا تاکہ آنے والی نسلیں اسے سنیں۔

159 مردوک، جس نے Igigi دیوتاؤں کو تخلیق کیا [ .......]،

160 اگرچہ وہ کم ہو جاتے ہیں۔ . . انہیں اس کا نام لینے دو۔

161 . . مردوک کا گانا،

162 جس نے ٹیا میٹ کو شکست دی اور بادشاہت حاصل کی۔

نتیجہ

اینوما ایلش ایک افسانوی کام کے طور پر مُستقل و لازوال ہے، لیکن کچھ عالموں نے استدلال کیا ہے کہ، افسانہ اپنے وقت میں، لوگوں کے ذہنوں میں ایسے ہی گُونجتا ہو گا جو بابل کو ماضی کی روایات کو توڑتے ہوئے ایک نیا اور بہتر مستقبل بنانے کے لیے ایک شہر کے طور پر سمجھے۔ عالم تھورکلڈ جیکبسن (Thorkild Jacobsen)، مثال کے طور پر، نوٹ کرتے ہیں:

بابل نے قدیم سمر (Sumer) کے علاقے اور اس کے تمام مشہور اور قابل احترام قدیم شہروں اور ان کے دیوتاؤں کے ساتھ جنگ ​​کی۔ اس نے اپنی آبائی تہذیب کے ساتھ ایک نئی جنگ چھیڑ دی۔ اور یہ کہ یہ ایک افسانہ نہیں بلکہ ایک حقیقت تھا، کہ (بابل) سمیری (Sumerian) تہذیب کا وارث ہونے کے بارے میں بخُوبی واقف تھا جِسے وہ جاری رکھ رہا تھا۔ یہ بات حقیقتاؐ اِسطرح واضح ہوتی ہے کہ اس کے بادشاہ، خاص طور پرسیلینڈ (Sealand جنوبی مسوپتامیہ کی ایک سلطنت) خاندان کے آخری نصف حِصے کے بادشاہ عام طور پر سمیری (Sumerianize) نام رکھتے تھے۔ شعوری یا لاشعوری طور پر، جیسے سمجھا جاتا ہے، بابل نے محسوس کیا ہوگا کہ اس کی فتح کسی لحاظ سے حب الوطنی تھی۔ (190)

اس کے بعد، اس کہانی کو نہ صرف افراتفری پر نظم کی فتح اور تاریکی پر روشنی کی عظیم کہانی کے طور پر پڑھا جا سکتا ہے بلکہ تہذیب کے پرانے سمیری (Sumerian) ماڈل پر بابل اور بابلی ثقافت کے عروج کی تمثیل کے طور پر بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ اس کہانی کو نظریہِ زِندگی کا ایک ایسے نمونہ کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے جِسمیں دائمی تبدیلیاں ہوں۔

کہانی میں پرانے جامد دیوتاؤں کی جگہ چھوٹے اور زیادہ متحرک دیوتاؤں نے لے لی ہے جو پھر موت کے تابع ہونے والی فانی مخلوقات کی تخلیق کے ذریعے کائنات میں تبدیلی اور تغیر پذیری کا تصور متعارف کراتے ہیں۔ ان مخلوقات کو دیوتاؤں کی ان کی تخلیق کو برقرار رکھنے میں مدد کرنے کا کام سونپا گیا ہے اوراگرچہ وہ خود لافانی نہیں ہیں، دیوتاؤں کے ابدی کام میں ایک لازمی کردار ادا کرتے ہیں اور جیسا کہ وہ کر سکتے ہیں، کچھ حد تک امریت حاصل کرتے ہیں۔

سوالات اور جوابات

مترجم کے بارے میں

Samuel Inayat
I began my professional career in July 1975 by joining a government service in scale 10 and continued till I retired in June 2013 in scale 17 after rendering 40 years unblemished service. Most of my service was as a Civil Servant.

مصنف کے بارے میں

Joshua J. Mark
ایک فری لانس لکھاری اورمارست کالج، نیو یارک کے سابقہ جزوقتی فلسفہ کے پروفیسر، جوشیا ج۔ مارک یونان اور جرمنی میں رہ چکے ہیں اور مصر کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔ انہوں نے کالج کی سطح پر تاریخ، ادب، تصنیف و تالیف اور فلسفی کی تعلیم دی ہے۔

اس کام کا حوالہ دیں

اے پی اے اسٹائل

Mark, J. J. (2025, December 15). اینوما ایلیش. (S. Inayat, مترجم). World History Encyclopedia. https://www.worldhistory.org/trans/ur/2-225/

شکاگو سٹائل

Mark, Joshua J.. "اینوما ایلیش." ترجمہ کردہ Samuel Inayat. World History Encyclopedia, December 15, 2025. https://www.worldhistory.org/trans/ur/2-225/.

ایم ایل اے سٹائل

Mark, Joshua J.. "اینوما ایلیش." ترجمہ کردہ Samuel Inayat. World History Encyclopedia, 15 Dec 2025, https://www.worldhistory.org/trans/ur/2-225/.

اشتہارات ہٹائیں