حضرت داؤد علیہ السلام

John S. Knox
بذریعہ ، ترجمہ بذریعہ Zohaib Asif
پر شائع ہوا
Translations
چھاپیں PDF
David by Michelangelo (by Joe Hunt, CC BY)
مائیکل انجلو کا داؤد علیہ السلام کا بنایا ہوا شاہکار مجسمہ Joe Hunt (CC BY)

عیسائی روایت کے مطابق، داؤد علیہ السلام (تقریباً 1035-970 قبل مسیح) قدیم متحدہ ریاستِ اسرائیل کے دوسرے بادشاہ تھے جن کے ذریعے کرہ ارض پر خداوند کریم نے اپنے "ابدی تخت" کی بنیاد رکھی۔ یہ ابدی تخت عیسائی روایات کے مطابق اللہ رب العزت کی ناقابلِ تغیر بادشاہی، انصاف اور تمام مخلوقات پر حکمرانی کی علامت ہے، یہ تخت اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ اُس کی سلطنت ہمیشہ قائم رہتی ہے اور زمینی بادشاہتوں سے بالاتر ہے۔ داؤد علیہ السلام نے اوائل عمری بطورایک چرواہا گزاری۔ داؤد علیہ السلام کی وجہ شہرت ان کی نبوت کے علاوہ ان پر نازل ہونے والی زبور تھی جس کا سحر قوم پر طاری رہا اور ان کا صوتی وصف تھا۔ داؤد علیہ السلام کی میدان جنگ میں شجاعت و جواں مردی کا طوطی بولتا تھا اور جنگی حکمت عملی میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔ علاوہ ازیں ان کی خوبروئی اور خوش وضعی بھی اعلیٰ پائے کی تھی۔ عیسائی روایت میں انھیں نعوذ باللہ بت شبع نامی ملکہ سے غیر مناسب تعلقات استوار کرتے ہوءئے دکھایا گیا ہے، اور نئے عہدنامے میں ان کا عیسیٰ علیہ السلام سے تعلق بھی دکھایا گیا ہے۔

تقریباً 1000 قبل مسیح میں اس جہان کو رونق بخشنے والے داؤد علیہ السلام یہودہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے یسی کے آٹھویں بیٹے اور سب سے چھوٹے تھے۔ تالوت اور اور سلیمان علیہ السلام کی طرح، داؤد علیہ السلام کا چالیس سالہ دور حکومت یا دور نبوت بھی اسرائیل کی تاریخ کے سب سے مایہ ناز اور خوشحال ادوار میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے– جسے بہت سے لوگ اسرائیل کے 'سنہری دور' سے موسوم کرتے ہیں۔ اگرچہ انہیں عیسائی اور یہودی روایات میں ان کے پیش رو بادشاہوں کی طرح ہی عیب دار یا گنہگار کے طور پر پیش کیا گیا ہے، انجیل مقدس کی کئی کتابوں میں ( یہی کتابیں ان کے متعلق زیادہ ترعلم کی ماخذ ہیں) میں انھیں تقویٰ کی مجسم تصویر بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ انھیں بطور نادم اکبر اور خشوع و خضوع سے متصف بھی دکھایا گیا ہے۔ انھیں عیسٰی علیہ السلام کے پیش رو کے طور پر بھی دکھایا جاتا ہے۔

داؤد علیہ السلام کا قصہ

عبرانی روایات میں مقدس کتاب سیمئول ۱ کا جز ۱۶ قارئین کو ایک ایسے شخص سے واقفیت دلاتا ہے جو بنی اسرائیل کو اپنی خوش خلقی، مروت اور شائستگی سے اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے۔ مزید اراں وہ اپنے انہی اطوار کی بنا پر رب ذوالجلال کا قرب بھی حاصل کر لیتا ہے۔ عہد نامہ قدیم کے تحت, حضرت شموئل ( ۱۲۰۰ تا ۱۰۵۰ قبل مسیح) کو قبیلہ بیت لحم سے نسبت رکھنے والے یسی نامی ایک عام کسان اور چرواہے کی جانب بھیجا گیا تاکہ وہ ان کے بیٹوں میں سے ایک کو نیا بادشاہ مقرر کر دے کیوں کہ اسرائیل کے پہلے تاج ور، تالوت (۱۰۸۰ تا ۱۰۱۰ قبل مسیح) حیات تو ہیں لیکن حضرت شموئل کی تعلیمات پرعمل کرنے میں لاپروائی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور احکام خداوندی کے خلاف بغاوت کا اعلان کرتے ہیں۔ جب یسی حضرت شموئل کے سامنے اپنے تمام بیٹوں کو لاتے ہیں تو موخر الذکر تمام بیٹوں کو تاج پہنائے جانے کے قابل نہ سمجھتے ہوئے، انکار کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد یسی اپنے سب سے نوجوان بیٹے، داؤد علیہ السلام کو حضرت شموئل کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ کتاب سیمئول ۱ کا جز ۱۶:۱۲ داؤد علیہ السلام کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے

" وہ صحت مندی کی تمام اثرات سے متصف تھے اور نہائیت وجیہہ صورت کے مالک تھے۔ نیز یہ کہ ان کی خوش وضعی انھیں مزید منور کر رہی تھی"

اگرچہ داؤد علیہ السلام کے ظاہری خدوخال ایک بادشاہ کے مصداق نہیں تھے لیکن ان کا حوصلہ کرہ ارض پر موجود کسی بھی فانی شے سے دو سو گنا بالا تھا– وہ شجاعت کا پیکر تھے اور مزید برآں، ان کی روح عقیدت الہیٰ سے حد درجہ معمور تھی۔ تالوت کی بد اعمالیوں سے مایوس، حضرت شموئل، بیت لحم کے اس نوجوان چرواہے میں بنی اسرائیل کے لیے ایک نئی امید نظر آتی ہے۔ جب داؤد علیہ السلام کو عبرانی روایات کے مطابق تیل سے ممسوح (مالش کرنا) کر دیا گیا، تو کتاب سیمئول کے جز ۱۶:۱۳ کے بیان کے مطابق“اس دن سے داؤد علیہ السلام پر باری تعالیٰ کی عنایت کا درجہ بہت حد تک بڑھ گیا۔”

داؤد علیہ السلام محض ایک موسیقار نہیں تھے؛ ان کا جوش و ولولہ ایک مجاہد سے فزوں تھا اور علاوہ ازیں وہ گلّہ بانی میں نہائیت مشاق تھے

تالوت کے لیے یہ خبر قطعی طور پر مثبت نہیں تھی۔ جب داؤد علیہ السلام روح القدس (مشیر نفس اور تثلیث کا تیسرا عنصر) کی برکات سے فیض یاب ہو رہے تھے، یہی روح القدس تالوت کو خیر آباد کہہ چکی تھی، اور اس پر عذاب الہیٰ کا نزول ہو چکا تھا” (آیت 16:14)۔ بعد ازاں تالوت انتہائی ذہنی اور جذباتی کرب سے دوچار رہا، جو یا تو دو قطبی ذہنی عارضے کی وجہ سے یا عیسائی روایات کے مطابق قہر خداوندی کے سبب تھا۔ بقول خادم تالوت، داوٌد علیہ السلام ایک نہایت کامل الفن موسیقار تھے۔ اور تالوت کو مشورہ دیا گیا تھا کہ داؤد علیہ السلام کو ہتھیاربردار (بادشاہ کی ڈھال اور دیگر ہتھیار لے کر چلنے والا ملازم) ملازم رکھ لینا چاہیے۔ مزید یہ کہ داؤد علیہ السلام کربناک کیفیات میں اپنے موسیقی کے فن کو بروئے کار لاتے ہوئے آرام رسائی کا وسیلہ ہو گا۔ ۔کتاب سَمُوئیل ۱ کا جز ۱۶:۲۳ بیان کرتا ہے کہ، "جب بھی تالوت پر بے خودی تاری ہوتی تو داؤد علیہ السلام برط بنانا شروع کر دیتے۔ اسی بربط کے نتیجے میں داؤد کو راحت پہنچتی اور حواس باختگی کا دور ختم ہو جاتا"

قصۂ داودٔ علیہ السلام اور جالوت

داؤد علیہ السلام محض ایک موسیقار نہیں تھے؛ ان کا جوش و ولولہ ایک مجاہد سے فزوں تھا اور علاوہ ازیں وہ ایک مشاق چوپان تھے۔ انھیں غلیل کے استعمال میں بھی مہارت حاصل تھی۔ ایک مرتبہ، فلستيون (فلستیہ کے رہنے والے) اور اسرائیلیوں باہم جدل و پیکار میں مصروف تھے؛ تاہم، دونوں لشکر وادی کے اطراف پر موجود تھے اورایک دوسرے کو زور آزمائی کی دعوت دے رہے تھے۔ فِلِسْطینی، قدیم جنوبی فلسطین کے غیر سامی باشندے تھے، اور ان میں جالوت نامی ایک قوی ہیکل جنگجوقموجود تھا، جو (عیسائی روایات کے ماطابق) تقریباً دس فٹ (3 میٹر) لمبا تھا۔ اس کے سرو قد اور عظیم الجثہ ہونے کی بدولت اسرائیلی جنگجوؤں اس سے باہم گتھم گتھا ہونے سے ہچکچاتے تھے۔

David with the Head of Goliath
داؤد علیہ السلام کو جالوت کا سر اٹھائے دکھایا گیا ہے Caravaggio (Public Domain)

جب داؤد علیہ السلام نے جالوت کے بنی اسرائیل اور روح الارباب خالق جہاں کے خلاف غیرمناسب الفاظ سنے، تو وہ خود ہی اس سے باہم پیکار ہونے کے لیے تیار ہو گئے ۔ بجائے یہ کہ تالوت جالوت کے مقابلے پر خود جاتا یا داؤد علیہ السلام کے بجائے کسی تجربہ کار اور جہاندیدہ سالار کو بھیجتا، تالوت نے داؤد علیہ السلام کی نیت کی تائید کی۔ ایک عام سا چوغہ زیب تن کیے ہوئے داؤد علیہ السلام نے بطور ہتھیار اپنے لیے پانچ دریائی پتھروں کا انتخاب کیا اور اپنے بلوان اور لحیم شحیم دشمن کے دانت کھٹے کرنے کے لیے روانہ ہو گئے۔ جالوت اپنی نسبت قدرے چھوٹے قد کے جوان شخص کو دیکھ کر بطور استہزا ہنستا ہے اور کہتا ہے،" کیا میں ایک کتا ہوں کہ تم چند چھڑیوں کے ساتھ میری جانب آتے ہو؟' (آیت 17:43)۔ داؤد علیہ السلام کا زبانی جواب تمسخر آمیز اور بے باک جواب ذیل میں مرقوم ہے

تم میرے خلاف تلوار، نیزہ اور برچھی لے کر آئے ہو، لیکن میں تمہارے خلاف خداوند قادر مطلق کے نام کی بالادستی کا عزم لیے آیا ہوں، جو اسرائیل کے لشکر کا خدا ہے، جس کی تم نے نافرمانی کی ہے۔ آج خدا تمہیں میرے حوالے کرے گا، اور میں تمہیں آج کے معرکے میں پچھاڑ کر تمہارا سر تن سے جدا کر دوں گا۔ اور آج کے ہی دن میں میں فلسطینی افواج کی لاشیں چرند پرند کے حوالے کر دوں گا، اور پوری دنیا جان لے گی کہ بنی اسرائیل جس خدا کا ایمان رکھتے ہیں وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
(آیات ۱۷:۴۵ تا ۴۶)

جیسے ہی جالوت داؤد علیہ السلام کی جانب بڑھتا ہے، تو داؤد علیہ السلام تاک کر اپنی غلیل سے ایک عام سا پتھر پھینکتا ہے جو جالوت کی پیشانہ پر بہ ہدف لگتا ہے اور اسے بے ہوش کر دیتا ہے۔ اس موقع پر داؤد علیہ السلام جالوت کے جسم پر کھڑے ہوتے ہیں اور اسی کی تلوار سے اسے واصل جہنم کر دیتے ہیں۔ بنی اسرائیل کے سب سے نوجوان شخص کو اپنے سب سے طاقتور اور بلوان جنگجو کو اتنی آسانی سے چاروں شانے چت کرتے دیکھ کر پوری فلسطینی فوج میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی اور وہ تتر بتر ہو گئے۔ اس واقعے نے تالوت کو بھی اس قدر انبساط فراہم کیا کہ اس نے داؤد علیہ السلام کو اپنے خاندان میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ کتاب سموئیل ۱ کا جز 18:2–3 میں بیان کیا گیا ہے، "اس دن سے تالوت نے داؤد علیہ السلام کو اپنے شانہ بشانہ رکھا اور اسے اپنے خاندان کے پاس واپس نہیں جانے دیا"

تالوت کا حسد

داؤد علیہ السلام کی مسلسل کامیابیوں اور اپنی خدمات میں غیر معمولی مہارت کے پیش نظر، تالوت نے دیگر وزرا اور بنی اسرائیل کے عمائد کو حیران کرنے والے داؤد علیہ السلام کو شاہی محل میں رتبے کے اعتبار سے ترقی دے دی۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ تالوت کو خودنمائی کی زڑ لگ گئی تھی اور غرور و تکبر کا سقم اس کی شخصیت پرغالب آ چکا تھا۔ اسی بنا پر وہ داؤد علیہ السلام سے حسد کرنے لگا، خاص طور پر جب اس نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے داؤد علیہ السلام کے گن گاتے سنا کہ، “اگر جنگ میں تالوت نے ہزاروں کو زمین بوس کیا، تو داؤد علیہ السلام نے لاکھوں کا گلہ چاک کیا” (آیت 18:7)۔ حسد کی آگ اس کے دل میں بہت اندر تک سرائیت کر چکی تھی، اورجب حسد کا یہ نشہ اس کے سر پر سوار ہوا تو تالوت نے داؤد علیہ السلام کو ہلاک کرنے کی ٹھان لی اور وہ دن رات اسی کی تگ و دو میں رہتا، کیوں کہ اب تالوت داؤد علیہ السلام کو ایک وفادار خادم کی بجائے اپنے دیرنہ دشمن و مخاصم کے طور پر دیکھتا تھا۔ چنانچہ، یہ کہنا بجا ہوگا کہ تالوت کی بیٹی میخال اور داؤد علیہ السلام کا عقد بجائے کسی مقدس ربط ضبط کے، داؤد علیہ السلام کو قتل کرنے اور اپنے دام میں گرفتار کرنے کے منصوبے کے مرہون منت تھا۔


بالاخر، داؤد علیہ السلام اپنے دیرینہ قلبی رفیق و بہی خواہ یوناثان کے پاس مدد کے لیے جاتے ہیں، جو تالوت کا سب سے بڑا بیٹا تھا۔ یوناثان داؤد علیہ السلام کے خوف کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن جب یوناثاں اپنے والد کے پاس داؤد علیہ السلام کی وفاداری کے بارے میں یقین دہانی کے لیے جاتے ہیں، تو تالوت یوناثاں پر آگ بگولہ ہو جاتا ہے اور انھیں کوستے ہوئے کہتا ہے:

یا ابن الام الفساد! اے بدخو و سرکش کسبی کی اولاد! کیا مجھے معلوم نہیں کہ تم نے یسی کے پسرکی طرف داری کر کے اپنی اور اپنی اس ماں کی رسوائی کو دعوت دی ہے جس نے تجھے اپنے رحم میں جگہ دی؟

(آیت ۲۰:۳۰)

یہ وہ موقع تھا جب یوناثان کو اپنے باپ کے دل میں داؤد علیہ السلام کے لیے خبط کی حد تک موجود نفرت کا ادراک ہوا۔ تالوت کے دل میں مودتِ الہیٰ کے بجائے نفرتِ داؤد علیہ السلام کا پودا جڑ پکڑ چکا تھا

David & Saul by Rembrandt
داؤد علیہ السلام اور تالوت کی رمبراں کی بنائی ہوئی تصویر Rembrandt (Public Domain)

اخیر عمر تک، تالوت کا بیٹا شہزادہ یوناثان تالوت کی خفت کے سامنے داؤد علیہ السلام کے محافظ کے طور پر کلیدی کردار ادا کرتا رہا، اور بدلے میں داؤد علیہ السلام سے بھی اسی قسم وفاداری کی درخواست کرتا رہا ۔ کتاب سموئیل ۱ کے جز 20:16–17 میں بیان کیا گیا ہے، 'یوں یوناثان نے داؤد علیہ السلام کے خاندان کے ساتھ یہ کہتے ہوئے ایک عہد کیا، کہ "دونوں جہانوں کا مالک داؤد علیہ السلام کے دشمنوں کو نیست و نابود کر دے۔ اور یوناثان نے داؤد علیہ السلام سے ان سے کی گئی محبت و عقیدت کی بنیا پر اپنے اس عہد کی تجدید کروائی کیونکہ وہ ان سے بالکل اسی طرح محبت کرتے تھا جس طرح وہ خود سے کرتے تھے۔"

کتاب سموئیل ۱ کا باقی حصہ داؤد علیہ السلام کی جان کے پیچھے پڑے ہوئے تالوت اور اپنے دوست احباب کے پر زور دباؤ کے باوجود تالوت کی جان بخشی کرنے والے داؤد علیہ السلام کے مابین ایک لکا چھپی کے کھیل کی داستان بیان کرتا ہے۔ بلکہ داؤد علیہ السلام پر ان کی شخصیت کا حلم و بردباری اور رقت قلبی و رحم دلی والا عنصر غالب آجاتا ہے اور یہی نرم خوئی باری تعالیٰ کو بہت محبوب ہوتی ہے۔ تالوت کی عیاری کو بھانپنے کے باوجود داؤد علیہ السلام باری تعالیٰ کر طرف سے ممسوح شدہ (تیل سے مالش کیے جانے کی مقدس رسم) تالوت کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے تھے۔ دوسری طرف، ساؤل اپنے قلب و روح کے ظلمات کے گڑھوں میں بہت نیچے تک گر چکا تھا، یہاں تک وہ کچھ پادریوں کو ہلاک کرنے کی جسارت تک کر چکا تھا۔

درحقیقت، داؤد علیہ السلام کے دل میں تالوت کے لیے رحم کے جذبات جوبن پر ہوتے ہیں اور تالوت کی بدافعالیوں کا جواب اپنی ھلائی سے دیتے تھے۔ ایک دلچسپ امر اس وقت وقوع پذیر ہوا جب جب داؤد علیہ السلام ایک ایسی غار میں دبے پاؤں داخل ہوتے ہیں جہاں تالوت آرام کر رہا ہوتا ہے اور تالوت کی پوشاک کا ایک حصہ کاٹ لیتے ہیں۔ اس کا مقصود تالوت کو یہ باور کروانا ہوتا ہے کہ اگر داؤد علیہ السلام تالوت کو ہلاک کرنا چاہتے تو ایسا کرنا ان کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ جب داؤد علیہ السلام غار سے نکل کر کچھ دورجاتے ہیں، تو وہ کہتے ہیں

دیکھیے مجھ پر میرے بچپن میں احسان کرنے والے مشفق دیکھیے میرے ہاتھ میں اپنی خلعت کے اس حصے کو! میں نے آپ کی پوشاک کا ایک جز کاٹا ہے لیکن آپ کی ہلاکت میرا مقصد نہیں تھا۔ دیکھیے میرے ہاتھ میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جو میری کسی بد فعلی کی نشاندہی کرے۔ میں نے آپ کو ضرر نہیں پہنچایا لیکن آپ ہیں کہ میری جان لینے کے لیے سرگرداں ہیں

(آیت ۲۴:۱۱)

جب تالوت کو واقعہ کی اساس کا فہم ہوا، وہ بلبلا کر پھوٹ پھوٹ کر آٹھ آٹھ آنسو رونے لگا، آخرکار اپنے گریبان میں جھانک کر اسے احساس ہوگیا کہ وہ روحانی ظلمت کے کن گڑھوں میں پیوست ہو گیا تھا اور یہ وہ ناحق، خونخوار اور بارگاہ خداوندی کو کب کا خیر آباد کہہ چکا تھا، جبکہ داؤد علیہ السلام نے اپنی رحمدلی و خدا ترسی کی بنا پر خود کو اسرائیل کے اگلے بادشاہ کا مستحق ثابت کیا تھا ۔ اپنے رستے جدا کرنے سے پہلے، تالوت داؤد علیہ السلام سے قسم کھانے کو کہتا ہے کہ وہ تالوت کی اولاد کو بخش دے گا، جن کو داؤد علیہ السلام نے پہلے بھی درگزر کرنے کا قصد کر رکھا تھا۔

افسوس صد افسوس کہ تالوت کا خبط اب بھی اس پر طاری تھا اور وہ داؤد علیہ السلام کی جان کے پیچھے اب بھی پاگل تھا لیکن داؤد علیہ السلام حسب معمول ایک اور موقع پر اس کی جان خلاصی کر دیتے ہیں۔

افسوس صد افسوس کہ تالوت کا خبط اب بھی اس پر طاری تھا اور وہ داؤد علیہ السلام کی جان کے پیچھے اب بھی پاگل تھا لیکن داؤد علیہ السلام حسب معمول ایک اور موقع پر اس کی جان خلاصی کر دیتے ہیں۔ شموئل کی وفات پر سارا بنی اسرائیل حزن و ملال کی چادر اوڑھ لیتا ہے اور تالوت، یہ جانتے ہوئے بھی کہ ساحری، جادو گری اور سفلی علم شرعی طور پر ممنوع تھے، عین دور نامی جگہ پر جاتا ہے تاکہ بدرُوحوں کی مفروضہ مدد سے غیب دانی کے عِلم کے ذریعے شموئل سے رابطہ استوار کر سکے۔ اگرچہ طالوت حضرت شموئل کی روح سے مدد طلب کرتا ہے لیکن، عیسائی روایات کے مطابق حضرت شموئل کی روح جواب دیتی ہے کہ، 'تم میرے سامنے اب کیوں گریہ و زاری کوتے ہوجب خداوند باری تعالیٰ نے تمہیں مجروح کر دیا ہے اور جب خدا کے صریح دشمن بن گئے ہو؟' (آیت 28:16)۔ اس وقت طالوت دل شکستہ ہو کر گر پڑتا ہے، اور ملال کی کیفیت اس پر طاری ہو جاتی ہے کیوں کہ اس نے خود کو اپنے ہی ہاتھوں تباہ و برباد کر لیا ہوتا ہے۔ طالوت اب ایک ایسا شخص بن چکا ہوتا ہے جس نے اپنے غرور و تکبر کی سلگتی آگ کو معصوم جانوں کے قتل عام سے بھڑکا دیا تھا

کتاب سموئل ۱ کا اختتام اس طور ہوتا ہے کہ داؤد علیہ السلام میدان کارزار میں اور اپنے خانگی معاملات میں مزید کامیابی سمیٹتے چلے جاتے ہیں اور طالوت اور اس کے خاندان کے لیے قسمت کا پہیہ ایک بار پھر گھومے گا اور وہ اپنے آخری معرکے میں فلسطینیوں کے خلاف جبل جلبوع کے مقام میں خون کے سیلاب میں ڈوب مرتے ہیں۔ صرف ایک دن میں، طالوت کی پوری شاہی نسل کو زمین نگل جاتی ہے، اور طالوت کے سارے بیٹے اس کے سامنے ایک ایک کر کے جان جان آفرین کے سپرد کر دیتے ہیں، بشمول اس کے سب سے چہیتے یوناثان کے۔ طالوت بھی اس معرکے میں انتہائی زخمی ہو جاتا ہے اور زندہ پکڑے جانے کی صورت میں ہونے والی ہتک اور اہانت کے خوف سے قریب ہی موجود ایک اسرائیلی سپاہی سے بِنتی کرتا ہے کہ اس کی آخری سانس بھی اس سے چھین لے۔

کتاب سموئل ۱ کا اختتام نہائیت اندوہناک ہے۔ 1 سموئیل 31:4–6 میں بیان کیا گیا ہے:

لیکن وہ اسرائیلی ہتھیار بردار سپاہی خوفزدہ ہو گیا اور ایسا کرنے سے انکار کر دیا؛ لہٰذا، طالوت نے اپنی تلوار میان سے نکالی اور اپنے جسم میں گھونپ دی۔ جب ساپہی نے یہ منظر دیکھا کہ طالوت اب اس دنیا میں زندہ نہیں رہا، تو اسے نے خود کو بھی اسی تلوار سے فنا کر ڈالا اور اس کے ساتھ اس نے بھی داعی اجل کو لبیک کہا۔ اس طرح، طالوت، اس کے تین جوان سال بیٹے، اس کا ہتھیار بردار سپاہی اور تمام آدمیوں نے اسی دن موت کے پروانے کو گلے لگا لیا

۔ اپنی فوج کی شکست دیکھ کر، اسرائیلی دم دبا کر فرار ہو گئے، جس سے یہ تمام علاقہ فلسطینی افواج کی تحویل میں چلا گیا جسے بعد ازاں آہن گری کے لیے استعمال کیا گیا

داؤد علیہ السلام بطور شاہ اسرائیل

کتاب شموئل دوم کا آغازداؤد علیہ السلام کو اپنے ہنوز سابقہ مصاحب اور ممسوحِ خدا، چنیدہ بادشاہ طالوت کو فلستيون کے ہاتھوں ہونے والی خونریزی کی خبر ملنے سے ہوتا ہے۔ داؤد علیہ السلام ششدر رہ جاتے ہیں اور انھیں کانوں کان ایک عمالیقی (عیسو ابن اسحاق علیہ السلام کی نسل سے منسوب) شخص سے ایک اور خبر موصول ہوئی کہ اس نے طالوت کو قتل کیا ہے اور اس کا تاج اور بازو بند داؤد کو پیش کرنے کے لئے لے آیا ہے۔ انعام کی توقع کے برعکس، اس شخص کو سزائے موت دی جاتی ہے، کیونکہ داؤد علیہ السلام نے اس سے استفسار کرتےہیں ، "کیا تم خدا باری تعالی کے چنیدہ و ممسوح شخص کی گردن مارنے سے ذرا بھی نہ ڈرے؟" (کتاب سموئیل دوم 1:14)۔ اگر داؤد علیہ السلام خود خدا کے ممسوح کو گزِند نہیں پہنچا رہے تھے تو کوئی اور شخص کیوں یہ تصور بھی کر سکتا ہے کہ داؤد علیہ السلام اسے طالوت کے قتل کی اجازت دے گیں؟

اس کے بعد داؤد علیہ السلام وہ طالوت اور یوناثان کے لیے ایک یادگار تعمیر کرواتے ہیں۔ طالوت کو وہ ایک بہت ہی قوی و جری سوُرما کے طور پر یاد کرتے ہیں؛ اور یوناثان کو ایک وفادار اور دوستی کا بھرم رکھنے والے ہمدم دیرینہ کے طور پر اپنی یادوں میں جگہ دیتے ہیں۔ ایک عام اور کم ظرف شخص یہی تصور کر سکتا ہے کہ داؤد علیہ السلام طالوت کی موت پرپھولے نہ سماتے ہونگے لیکن حقیقت یہ ہے کہ داؤد علیہ السلام کبھی بھی طالوت کی موت کے خواہاں نہیں تھے۔ علماء کا بیان ہے کہ داؤد علیہ السلام کی اپنے حریفین کے بابت دو ہی خواہاشات تھیں کہ یا وہ منصب تققری سے ہٹا دیے جائیں یا پھر وہ توبہ کر لیں۔ طالوت کے متعلق یقیناََ داؤد علیہ السلام موخر الذکر کو بھی ترجیح دیتے تھے۔

King David
داؤد علیہ السلام کا قیاسی خاکہ Jastrow (Public Domain)

کتاب سموئیل دوم کی آیت 2 میں بیان کردہ داؤد علیہ السلام کا دور بادشاہت اتنا ہی دلچسپ اور ڈرامائی ہے جتنا ان کا طالوت سے علیحدگی کا زمانہ تھا۔ حضرت شموئل کی بخشش اور دعا کے ساتھ، داؤد علیہ السلام یہودہ کے پہلے بادشاہ کے طور پر مقرر ہو جاتے ہیں، لیکن یہ بادشاہت طالوت کے بیٹے اش بوشیتھ کے ساتھ سات سالہ خانگی جنگ شروع کا عندیہ ہوتی ہے جو اس وقت اختتام پذیر ہوتی ہے جب طالوت کے اس بیٹے کو دو بن یمینی، جو یہودہ کے آخری قبیلے اور یعقوب علیہ السلام کی نسل سے تھے، اس میں بستر میں ہی اسے کیفر کردار تک پہنچاتے ہیں۔

مذکور بالا عمالیقی کے مانند یہ دونوں بھی طرح بڑی انعام کی توقع رکھتے ہوئے، وہ اش-بوشیتھ کا سر داؤد علیہ السلام کے پاس لے جاتے ہیں، جو فوراً انہیں ان کی نہائیت حقیر اور گھٹیا حرکت پر یہ کہتے ہوئے سزا دیتے ہیں کہ "بدکار لوگوں نے ایک معصوم آدمی کو اس کے اپنے گھر اور اس کے بستر پر مار ڈالا" (کتاب 2 سموئیل آیت4:11)۔ وہ ان دونوں رذیل اشخاص کو بطور سزا پھانسی دلواتے ہیں، ان کے پاؤں اور ہاتھ کٹوا کر ان کی لاشوں کو شرمناک انداز میں بطور عبرت لٹکا دینے کا حکم صادر فرما دیتے ہیں۔ بعد میں، وہ اش-بوشیت کا سر ابنر کے مقبرے میں مناسب احترام کے ساتھ دفن کروا دیتے ہیں ہے (ابنر طالوت کا چچیرا بھائی اور اس کی فوج کا سپہ سالار تھا)۔

ایش-بوشیت کے انتقال کے بعد، داؤد علیہ اسلام کو اسرائیل کے عمائدین، سلفا و نجبا کی جانب سے اسرائیل کا تاج پیش کیا جاتا ہے، اور 2 سموئیل 5:4 میں بیان کیا گیا ہے کہ، "داؤد علیہ السلام تیس سال کے تھے جب وہ بادشاہ منتخب ہوئے، اور انھوں نے بعد ازاں چالیس سال حکومت کی۔" پھر وہ یروشلم – صیہون– کو فتح کر کے وہاں اپنا پرچم لہراتے ہیں اور یہیں وہ جلد ہی تابوتِ سکینہ کو بھی لے آتے ہیں ۔ داؤد علیہ السلام کو امید تھی کہ کہ وہ یروشلم میں بیت الللہ تعمیر کروائیں گے، ساتھ ہی انھیں یہ بھی کامل یقین تھا کہ ان کی آل اولاد ہی وہ ہوگی جو "میرے نام کے لیے بیت اللہ کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالے گی ، اور میں اسی توسط سے زمین پر ہمیشہ کے لیے باری تعالی کی بادشاہت و حکمرانی کا ابدی تخت اللہ کے حکم سے تعمیرکرواؤں گا" (آیت 7:13)۔

کتاب شموئل ۲ کے اگلے چند ابواب میں داؤد علیہ السلام کی فلستيون، جشورین، جیزائین، يبوسيون اور عمالیقیوں کے خلاف شاندار فتوحات کو واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ کتاب سموئیل ۲ میں اس کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے کہ انھیں طالوت کی بیٹی مِخال کے ساتھ خانگی مسائل درپیش تھے، اس کی وجہ اس انجیل مقدس کی اس آیت میں یوں بیان کی گئی ہے کہ“جب اس نے داؤد علیہ السلام کو کو خدا کے حضور رقص کرتے دیکھا، تو اس کے دل میں داؤد علیہ السلام کے بابت کدورت پیدا ہونا شروع ہو گئی” (آیت 16:6)۔ ایسی ہی کچھ اور روایات کی بنا پر یہ قیاس آرائی کی جا سکتی ہے کہ وہ داؤد علیہ السلام جنھیں انجیل مقدس کے سب سے مقدس اور پارسا اشخاص میں شمار کیا جاتا ہے، خداوند کریم کے حوالے اپنی عقیدت اور بے لوث عبادت، بطور شاہِ اسرائیل اپنے مقام و مرتبہ اور اپنی رعایا کے حوالے سے اپنی تمام ذر ذمہ داریوں اور فرائض کو پس پشت ڈال کر آہنیں جگر اور شجیح جنگجو، أوريا الحثي کی بیوی بت شبع کے ساتھ نعوذ باللہ من ذلک ناجائز تعلقات استوار کر لیتے ہیں (بقول عیسائی روایات)

داؤد علیہ السلام اور بت شبع سے منسوب قصہ

عیسائی روایات کے مطابق ایک دن محل میں آرام کرتے ہوئے، داؤد علیہ السلام کی نظر ایلیام کی حسین بیٹی اور آئندہ وقتوں میں سلیمان علیہ السلام ( ۹۹۰ تا ۹۳۱ قبل مسیح) کی والدہ، اپنے کمرے کی چھت پر غسل کرتی بت شبع پر پڑی اور یہ نفسانی خواہش ان پر حاوی ہو جاتی ہے۔ یہ کشش ان کے لیے ناقابل مزاحمت ثابت ہوتی ہے۔ کتاب شموئل ۲ کی آیت ۱۱:۴ میں بیان کیا گیا ہے کہ “پھر داؤد علیہ السلام نے (نعوذ باللہ من ذلک، بقول عیسائی روایات کے) مختلف قاصد بھیجے تاکہ اسے داؤد علیہ السلام کے حضور پیش کریں۔ بت شبع داؤد علیہ السلام کے پاس حاضر ہوئی اور داؤد علیہ السلام اس کے ساتھ اختلاط کرتے ہیں (یہ وہ دن تھے جب بت شبع خود کو سابقہ حیض سے پاک کر رہی تھی) پھر وہ گھر واپس چلی گئی"۔ شومئی قسمت کہ بت شبع اس واقعے کے بعد حاملہ ہو جاتی ہے

اب صورت حال بہت کشیدہ شکل اختیار کر چکی تھی۔ اگرچہ نام نہاد نسوان پرست دعویٰ کرتے ہیں کہ داؤد علیہ السلام نے نعوذ باللہ من ذلک زور زبردستی سے بت شبع سے مجامعت کیاور روایت پسند دعویٰ کرتے ہیں کہ بت شبع نے داؤد علیہالسلام کو بہکایا، حقیقت یہ ہے کہ دونوں ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے تھے۔ کسی ایک کو مورودِ الزام ٹھہرانا انصاف کے تقاضوں کو پورا نہ کرے گاؕ شاید، کہ بطور بادشاہ اورنافذِ احکام الہیٰ، داؤد علیہ السلام پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ بت شبع کے حوالے سے اپنے نفس کو قابو میں رکھتے اور نعوذ باللہ من ذلک اس کا استحصال نہ کرتے۔ کتاب شموئل ۲ کا متن بھی کسی ایک قصور وار نہیں قرار دیتا(جیسا کہ کتاب سفرِ تکوین کے باب ثالث "خیلفۃ" میں بیان کیا گیا ہے) تاہم جیسا کہ نعوذ باللہ من ذلک شیطان کے بہکاوے میں آنے والے جوڑے کے لیے معاملات دگر گوں تھے، انہیں تو مزید ابتر ہونا تھا۔

خدا کے عظیم اور نیک دل جنگجو کے بجائے، اب داؤد علیہ السلام کو اتنی بری نگاہ سے دیکھا جانے لگا جتنا کہ طالوت جیسے قاتل کو بھی نہیں دیکھا گیا۔

داؤد علیہ السلام اپنے گناہ کو چھپانے کے لیے ساز باز اور گٹھ جوڑ کرتے ہیں، اس لیے أوريا الحثي کو میدان جنگ سے گھر بلاتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنی بیوی کے شب بستری کرے۔ لیکن أوريا الحثي بہت زیادہ دیندار اور بہت قانون پسند تھا کہ اس نے گوارا نہ کیا کہ اس کے ہم پلہ ساتھی میدانِ جنگ میں اپنا خون وطن و قوم پر نچھاور کریں اور وہ یہاں اپنی بیوی کے ساتھ رنگ رلیاں منائے اور گل چھڑے اڑائے۔ داؤد علیہ السلام کا ارادہ تھا کہ ایسا کرنے سے وہ ہونے والے بچے کی ولدیت کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کو زائل کروا دیں گے لیکن أوريا الحثي کی عظیم الخیال سوچ نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ داؤد علیہ السلام نے اپنی بہن زرویہ کے بیٹے جنرل یوآب کو حکم دیا کہ وہ اوریہ کو سب سے خطرناک جنگ میں الجھاﷺے رکھے اور پھر سوائے اوریہ کے سب کو جنگ کے محاذ سے واپس بلا لے ۔

اب اس فیصلے کے نتیجے میں کئی معاملات پیش آتے ہیں۔ سب سے پہلے، بیچارہ اُوریہ جنگ کے محاذ پر اپنی جان جان آفرین کے سپرد کر دیتا ہے۔ دوم یہ کہ بت شبع اب اوریہ کے لئے سوگ مناتی ہے– ایسا کہیں بھی نہیں مرقوم کہ اس واقعے میں بت شبع کا بھی کہیں ہاتھ یا نہیں۔ زیادہ گمان اسی کا ہے کہ یہ داؤد علیہ السلام کا اپنے رتبے کو بچانے کے لیے ہی کی گئی ایک کوشش تھی۔ اب جب اوریہ کا کام تمام ہو چکا تھا، داوٌد علیہ السلام بت شبع کو جلد از جلد محل میں بلوا کر بچے کی ولادت سے قبل عقد کر لیتے ہیں۔ سوم یہ کہ، داؤد علیہ السلام کے لیے جنرل یوآب کی وفاداری ختم ہو جاتی ہے۔ خدا کے عظیم اور نیک دل جنگجو کے بجائے، اب داؤد علیہ السلام کو اتنی بری نگاہ سے دیکھا جانے لگا جتنا کہ طالوت جیسے قاتل کو بھی نہیں دیکھا گیا۔ داؤد علیہ السلام کے منصوبے جلد ہی ان کے خلاف عمل کرنے لگتے ہیں۔

حضرت ناثان

مایوسی اور رنج و الم کے عالم میں بقول عیسائی روایات داؤد علیہ السلام کے ذہن سے یہ محو ہو گیا کہ خالقِ جہاں علیم و بصیر ہے اوراس کے علم و قدررت سے کوئی چیز پنہاں نہیں ہے۔ لہٰذا، رب ذوالجلال حضرت شموئل کے جانشین حضرت ناثانؒ کو بھیجتے ہیں کہ وہ وہ دھوکہ دہی کے حوالے سے ایک جامع اور مدلل تقریر کریں اور احکام خداوندی کو صریح الفاظ میں بیان کریں۔ داؤد علیہ السلام یہ سن کر آگ بگولہ ہو گئے۔ وہ تقریر میں بیان کردہ اس امیر شخص کے خلاف سیخ پا ہو گئے جس نے کسی غریب شخص کا ایک چھوٹا سا مینڈھا چرایا تھا۔ ایسا کرتے ہوئے داؤد علیہ السلام اُس جال میں قدم رکھ دیتے ہیں جو خداوند نے ان کے لیے بچھایا تھا اور کہتے ہیں،

“جیسا کہ کرہ ارض پر موجود ہر چیز خداوند کے وجود کی گواہی دیتی ہے، اس آدمی کی موت لازم ہے جس نے یہ فعل سرزد کیا! مینڈھا چرانے والے شخص کو عام طور پر دی جانے والی سزا سے چار گنا سزا ملنی چاہیے، کیونکہ اُس نے ایسا عمل کیا اور ذرا بھی ترس نہیں کھایا” (۲ سموئیل ۱۲:۵)۔ ناثان فوراً داؤد علیہ السلام کے معاملے میں فیصلہ سناتے ہیں اور پکار اٹھتے ہیں، “تم ہی وہ شخص ہو، مینڈھا چرانے والی تو ایک مثال تھی!” (آیت ۱۲:۷)۔ نہ صرف داؤد علیہ السلام مبینہ طورپر بدکار تھے، بلکہ اب انھیں ایک قاتل بھی سمجھا جا رہا تھا اور ایک ناشکرے بادشاہ بھی تھے جس نے اپنے مقام و مرتبے کا غلط استعمال کیا تاکہ اپنی خواہشات پوری کرے اور اپنی شہرت کی عمارت کو زمین بوس ہونے سے بچا سکے۔ لہٰذا، حضرت ناثان پیش گوئی کرتے ہیں کہ داؤد علیہ السلام اپنے سلطنت کے خانگی و خارجی معاملات میں مسلسل جنگ و جدل کے نتائج بھگتیں گے اور عوامی رسوائی کا سامنا کریں گے کیونکہ وہ اپنے عبرتناک گناہوں کو چھپانے کی کوشش کرتے رہے۔ ان کے مطابق داؤد علیہ السلام کی آنکھ کا پانی ڈھل جائے گا

۔ تاہم، داؤد علیہ السلام کا ردعمل بالکل طالوت جیسا نہیں تھا۔ وہ عاجزی کے ساتھ جواب دیتے ہیں، “میں نے خداوند احکامات کی خلاف ورزی کی ہے۔” حضرت ناثان پھر بتاتے ہیں کہ اُن کے گناہ معاف کر دیے گئے ہیں، مگر گناہ کے نتیجے میں جنم لینے والا بچہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ داؤد علیہ السلام اپنے بیٹے کی زندگی کے لیے التجا کرتے ہیں، اور جب بچہ بیمار ہوتا ہے، داؤد روزہ رکھتے ہیں، دعا کرتے ہیں، اور خود کو نیند سے محروم رکھتے ہیں تاکہ خداوند کریم سے خواستگاری کر سکیں کہ وہ بچے کی زندگی کے حوالے سے کوئی اور فیصلہ صادر فرمائیں لیکن انجیل مقدس کی روایات کے مقدس احکام الہی بدلتے نہیں ہیں

ساتویں دن، داؤد علیہ السلام کا بیٹا اپنے خالق حقیقی سے جا ملتا ہے، اور اس موقع پر داؤد علیہ السلام کا ردعمل حیرت انگیز تھا۔ داؤد علیہ السلام تلخ ہونے یا خدا کے فیصلے کے خلاف بغاوت کرنے کے بجائے اٹھے اور “وہ خدا کے گھر میں گئے اور عبادت کی” (آیت 12:20)۔ اس میں یہ بھی ذکر ہے کہ “داؤد علیہ السلام نے اپنی بیوی بت شبع کو تسلی دی، اور وہ اس کے پاس گیا اور اس سے صحبت کی۔ اب کی بار بت شبع نے پھر ایک بیٹے کو جنم دیا، اور انہوں نے اس کا نام (حضرت) سلیمان علیہ السلام رکھا” (آیت 12:24)

King David Writing Psalms
داؤد علیہ السلام کو مزامیر نامہ لکھتے ہوئے فرضی طور پر دکھایا گیا ہے Giovanni Francesco Barbieri (Public Domain)

ابشالوم اور امنون

بغیر اس سونے کی چھڑی کے جو ان کے پاس ہنوز موجود تھی، اہل داؤد علیہ السلام مصائب کے بھنور میں گھرتے چلے گئے۔ مسائل و عوائب میں اہل داؤد علیہ السلام سب سے پہلا حملہ داؤد علیل السلام کی بیٹی تامر کے اس کے سوتیلے بھائی امنون کے ہاتھوں زیادتی کی صورت میں ہوا۔ واقعہ کچھ یوں سرزد ہوا کہ تامر اپنے بھائی کی مدد کے لیے آتی ہے جو بیمار ہونے کا بہانہ کرتا ہے، اور جب وہ قریب پہنچتی ہے تو وہ اسے پکڑ لیتا ہے اور اسے حراساں کرتا ہے۔ کتاب پیدائش (باب 33:19; 34) میں یعقوب علیہ السلام کی بیٹی دینہ سے زیادتی کرنے کے بعد پشیمان ہو کر دینہ سے شادی کو ایک اخلاقی ذمہ داری سمجھنے والے شکیم کے برعکس، امنون اب تامر سے نفرت کرنا شروع کر دیتا ہے اور اسے رسوا کرتا ہے جس سے تامر نہائیت شکستہ خاطر اور مغموم ہو جاتی ہے۔


حیرت انگیز طور پر، تامر کا بڑا بھائی ابشالوم اسے تسلی دیتا ہے اور کہتا ہے، "ہمت کرو، میری بہن... اس بات کو دل پر مت لو" (2 سموئیل 13:20)، لیکن وہ اس قبیح فعل کو ایک مہیب خواب سمجھتے ہوئے کبھی بھی اس نیچ اور پاجی شخص سے تذکرہ نہیں کرتا۔ امنون کا خیال تھا کہ اپنی سوتیلی بہن سے کی گئی زیادتی کی پاداش میں اسے کچھ نہیں کہا جائے گا کیوں کہ داؤدؑ اگرچہ رنجیدہ ضرور تھے لیکن انہوں نے بھی اس معاملے میں چپ سادھ لی تھی

دو سال بعد، شہزادہ ابشالوم اپنے انتقام کی آگ کو بجھا دیتا ہے۔ امنون کو اپنے ساتھ سفر کرنے پر قائل کر کے، وہ اپنے سوتیلے بھائی کو نشے میں دھت کر دیتا ہے اور پھر اپنی مشترکہ بہن کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے بدلے کے میں اسے قتل کروا دیتا ہے۔ وہ جرشور کی جانب فرار ہو جاتا ہے اور وہاں اپنی ماں، میخال کے خاندان کے ساتھ رہتا ہے، اور تین سال بعد داؤدؑ کا تخت چھیننے کا منصوبہ ذہن میں سمائے ہوئے لوٹتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ داؤد علیہ السلام کے مشیراعلیٰ، احیتھوفل (بت شبع کے دادا) کو بھی اہنی اس سازش میں شامل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور مزید یہ کہ اسرائیلیوں کے ایک ہجوم کو اپنی جانب مائل کر لیتا ہے۔

ابشالوم کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے، اس کی سازش کی بھنک پا کرداؤدؑ ابشالوم کے لشکر سے فرار ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ اپنے ہاتھوں کو اپنے بیٹے کے خون سے رنگنا نہیں چاہتے تھے۔ آخرکار، داؤدؑ کی فوج اور ابشالوم کی فوج کا تصادم ہو ہی جاتا ہے، اور جب جنگ میں ہزیمت کھانے کے بعد موخر الذکر میدانِ کارزار سے فرار ہوتا ہے، تو "ابشالوم کے بال کسی درخت کی شاخ میں پھنس جاتے ہیں" (آیت 18:9)۔ ابشالوم کو یوں درخت میں پھنسا دیکھ کر، یوآب ابشالوم کو ہلاک کر دیتا ہے اور اس کی لاش کو جنگل میں گہرے گڑھے میں دفن کر دیتا ہے۔

طالوت کی موت کی طرح، داؤدؑ اس خبر سے بھی دل گرفتہ ہوئے، لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ اس پس و پیش میں بھی مبتلا کہ آخرایسا کیا تھا جس نے ابشالوم کو داوؑد اور ان کے ساتھیوں سے اتنا بدظن کر دیا تھا کہ اس نے داؤد علیہ السلام کو قتل کرنے اور ان سے بغاوت کرنے جیسے گھٹیا منصوبے کو اپنے دل میں جگہ دی۔ یہ سنتے ہوئے کہ داؤد علیہ السلام اپنے بیٹے کی موت پر آٹھ آٹھ آنسو رو رہے ہیں، جنرل یوآب دل برداشتہ ہو کر داؤد علیہ السلام کے گھر میں داخل ہوتے ہیں اور انہیں جلی کٹی سناتے ہیں کہ ایک بد کردار اور بد خصال بیٹے کے لیے یوں دھاڑیں مار مار رونے سے اس کی فوج کے جوانوں کی اور جنگ میں دی گئی قربانیوں کی تذلیل ہو رہی ہے۔ اس کتاب کا اختتام حضرت ناثان کی جانب سے وعدہ کیے گئے متوار آفات کا تذکرہ ہے جن سے حضرت داؤد علیہ السلام کو آزمایا گیا۔ اس موقع پر داؤد علیہ السلام کو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ چکی کے دونوں پاٹوں میں پِس رہے تھے۔ تاہم، کتاب کے آخری دو جز روحِ کل اور اس کے مخلوق کو ایک نہائیت خوبصورت اور مسحور کن پیرائے میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور اس ذات اقدس کی بڑائی بیان کرتے ہیں

منتہائے مقصود اور برسِ آخریں

داؤدؑ کی خدا باری تعالیٰ کے لیے ابتدائی عقیدت اور اخلاقی دیانت ان کی ابتدائی شہرت اور دولت کی سبب بنی، اگرچہ عیسائی روایات کے مطابق وہ کشت و خون کے حامی تھے، اس پالن ہار ذات نے فیصلہ کیا کہ داؤد خدا کا معبد تعمیر کرنے کے لیے موزوں نہیں ہے (جس کا طرہ اس کے بیٹے سلیمانؑ کے سر رکھا جائے گا)۔ اس کے علاوہ، داؤدؑ کا بت شبع کے ساتھ مبینہ غیر اخلاقی تعلق اور اس کے بعد کی دھوکے دہی پر مبنی کارروائیاں (جن میں اُوریہا الحتی کا قتل اور اس قتل کو چھپانے کی کوششیں شامل تھیں) نے ان کی حکومت کے باقی ماندہ عرصے کو نہائیت پیچیدگیوں سے عبارت کر دیا– اسی طرح تامر کے ساتھ کی گئی زیادتی، امنون کا قتل، اور ابشالوم کی بغاوت کے منصوبے کے علاوہ، دیگر چند تنازعات بھی ان کے دور حکومت میں مزید رسوائی کا باعث بنے۔

King David & Solomon
داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کی فرضی تصاویر Unknown Artist (Public Domain)

داؤد علیہ السلام کی زندگی کے آخری دور میں، انھوں نے بنی اسرائیلی معاشرے سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی اور بطور ایک سنیاسی زندگی گزارنا شروع کر دی تھی۔ اب بنی اسرائیلی عوام پر بھی ان کی دھاک ختم ہو چکی تھی۔ اس کے نتیجے میں ان کے بیٹے عدونیاہ (داؤد علیہ السلام کی پانچویں بیوی حجیتھ کے بطن سے جنم لینے والے) نے ایک بار سرکشی کا علم بلند کیا، جس نے جنرل جوآب اور کاهن ایبیاتھار کی مدد سے خود کو بادشاہ مقرر کر لیا؛ تاہم، اسرائیل کے زیادہ تر ادارہ جاتی نمائندوں نے عدونیاہ کے اس دعوے کی حمایت نہیں کی۔ عبرانی صحیفے بیان کرتے ہیں کہ نبی ناثان پہلے بت شبع کے پاس گئے تاکہ اسے عدونیاہ کے تخت پر قبضے کے بارے میں آگاہ کریں، اور پھر وہ اس کے شوہر، بادشاہ داؤد علیہ السلام کے پاس گئے تاکہ یہ پریشان کن خبر انھیں بھی پہنچا دی جائے۔ بالآخر حضرت ناثان دونوں کے درمیان ثالثی کرنے لگے، اور بادشاہ داؤد علیہ السلام نے با اذنِ اللہ سرکاری طور پر سلیمانؑ کو اپنا جان نشین مقرر کیا۔ داؤد علیہ السلام نے کہا، “بے شک، یہ بیٹا سلیمان میرے بعد بادشاہ ہوگا، اور وہ میرے تخت پر میری جگہ بیٹھے گا” (کتاب سلاطین جز ۱ آیت 1)۔

داؤد علیہ السلام قدرتی وجوہات کی بنا پر تقریباً 970 قبل مسیح میں وفات پا گئے، انہیں یروشلم میں دفن کیا گیا، اور جیسا کہ عبرانی اور یونانی صحیفوں میں بیان کیا گیا ہے، انہوں نے یہودی ریاست کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔۔ اپنی رحلت سے قبل انھہوں نے اپنے بیٹے سلیمانؑ کو جو نصیحت کی وہ ذیل میں موجود ہے

اللہ تعالیٰ کے احاکامات کی پیروی میں، شریعت الہیٰ کے نفاذ، رب العالمین کے احکام، اس کے فرمان، اس کے فیصلے، ان سب میں رب العاملین کی رہنمائی حاصل کرو جیسا کہ شریعتِ موسوی میں بھی لکھا گیا ہے، آپ جو کچھ بھی کریں اور جہاں بھی جائیں کامیابی آپ کے قدم چومے… کیونکہ آپ ایک دانا آدمی ہیں۔ (کتاب سلاطین جز ۱ آیت ۲)

داؤدؑ کی حیات کے متعلق آثاریاتی شواہد

ان کے جانشین، حضرت سلیمانؑ کی طرح، حضرت داودؑ کے وجود کو تاریخی طور ثابت کرنے کے لیے بہت کم شواہد دریافت ہوئے ہیں؛ تاہم، حال ہی میں دریافت شدہ بلاواسطہ اور بالواسطہ شواہد نے داودؑ کی زندگی اور بادشاہی کے لیے ایک مضبوط تصدیق فراہم کی ہے (اگرچہ ان کی حکمرانی کے دوران بائبل میں بیان کیے گئے دعووں اور مخصوص واقعات کے حق میں بہت کم شواہد موجود ہیں)۔ 1993 میں، اوہرام بیران نے شمالی اسرائیل میں ایک ٹوٹے ہوئے پتھر پر تل دانی نقش دریافت کیا۔ اس نقش میں ایک آرامی بادشاہ کی اپنے جنوبی ہمسایہ ملک پر فتح کی یاد کو تازہ کیا گیا تھا، اور خاص طور پر اس میں 'اسرائیل کے بادشاہ' اور 'خاندانِ داؤدؑ کا بادشاہ' کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ شاید اسرائیل میں داؤدیؑ سلطنت کے لیے سب سے قدیم، براہ راست، تاریخی شہادت ہے اگرچہ میشا اسٹیل، جو 1800 کی دہائی میں اردن اور ارنون ندیوں کے کنارے رہنے والے بدوؤں نے دریافت کی تھی، بھی 'خاندانِ داؤد' کا ذکر کرتی ہے، جو کہ حضرت داودؑ کے متوقع دور حکومت کے تقریباً ایک صدی بعد موابائی زبان میں لکھی گئی تھی۔

جہاں تک بالواسطہ شواہد کا تعلق ہے، 2012 عیسوی میں یوسف گارفنکل کے زیرِ نگرانی کی جانے والی کھدائیوں کے دوران، "اشبعال بِن بدہ" کی کنعانی تحریر دریافت ہوئی، جو حضرت داؤدؑ کا دشمن (اور بادشاہ طالوت کا بیٹا تھا جس نے دو سال حکومت کی تھی) ہے، جسے کئی بائبل تراجم میں "ایش-بوشت" کے نام سے بھی جانا جاتا ہے (کتاب سموئیل کے جز ۲ کی آیت 3، 4)۔ یہ تحریر ایک قدیم جگ کے ٹکڑوں پر پائی گئی، جو دسویں صدی قبل مسیح سے تعلق رکھتا ہے۔ مزید برآں، آوی اوفر کے 1994 کی طرف سے مرتب کردہ مساحتی جائزے کی رپورٹ میں بیان کیے گئے مواد و مفروضات سے پتہ چلتا ہے کہ گیاروھیں صدی قبل مسیح میں یہودی آبادی (خاص طور پر شمالی اسرائیل میں) دوگنی ہو گئی تھی، اور ممکنہ یبوسی قوم کے قلعہ جات، جو یگال شلوہ کے زیرِ نگرانی کی جانے والی کھدائیوں (1978-1985 عیسوی) میں دریافت ہوئے – جن کا ذکر انجیلِ مقدس میں بھی آیا ہے – اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ داؤدؑ اور سلطنت اسرائیل اس خطے کی تاریخی اور ثقافتی حقیقت کا حصہ تھی۔

ماخذ: رب فی التفاصیل: عبرانی و یونانی مخطوطات کا انجیل مقدس کے حوالے سے کیا جائزہ (کینڈل ہنٹ ۲۰۱۷)

God in the Details: A Biblical Survey of the Hebrew and Greek Scriptures (Kendall-Hunt, 2017)

سوالات اور جوابات

حضرت داؤد علیہ السلام کی وجہ شہرت کیا تھی؟

داؤد علیہ السلام نے چرواہے تھے جو بعد ازاں اسرائیل کی متحدہ ریاست کے دوسرے بادشاہ مقرر ہوئے۔ دیو جالوت کے قتل میں بھی انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

عیسائی روایات کے مطابق حضرت داؤد علیہ السلام کا کیا قصہ ہے؟

داؤد علیہ السلام کا دور حکومت فتوحات اور مسائل سے عبارت تھا۔ وصال کے وقت ان کی عمر ستر برس کے قریب تھی اور بعد ازاں ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام نے ان کا تخت سنبھالا

عیسائی و عبرانی روایات کے مطابق باری تعالیٰ نے داؤد علیہ السلام کو ہی کیوں منتخب کیا؟

خدائے بزرگ و برتر نے داؤد علیہ السلام کی نیت خوئی اور تقویٰ کی بنا پر منتخب کیا۔ رب العالمین نے انھیں بطور چرواہا انھیں حوصلہ، ایمان داری اور قیادت جیسے اوصاف حمیدہ اور خصائل سے متصف پایا۔

مترجم کے بارے میں

Zohaib Asif
وقت کی چابی موڑنے والا اورماضی کے دریچوں میں جھانکنے والا الفاظ کا سنار۔ اس کے علاوہ کسی اور شے سے میں اپنی شناخت نہیں کروانا چاہتا۔ زبان اور تاریخ کے اس سفر پر میرا ساتھ ضرور دیجیے تاکہ اکھٹے ہم تاریخ کے سر بستہ رازوں سے پردہ ہٹا سکیں

مصنف کے بارے میں

John S. Knox
ڈاکٹر جان ایس ناکس پچھلی دو دہائیوں سے امریکہ کی شمال مغربی ریاستوں اور مشرقی ساحلی ریاستوں میں عیسائیت سے منسلک یونیورسٹیوں میں عمرانیات، تاریخ اور مذہب کے شعبہ جات پرتدریس کے فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ وہ ہنوز ۱۶ کتب اور عمرانیات، تاریخ اور مذہب کے موضوعات پر بیش بہا مدرسانہ و عالمانہ جرائد کے مصنف ہیں

اس کام کا حوالہ دیں

اے پی اے طرز

Knox, J. S. (2026, March 02). حضرت داؤد علیہ السلام. (Z. Asif, مترجم). World History Encyclopedia. https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-16332/

شکاگو طرز

Knox, John S.. "حضرت داؤد علیہ السلام." تَرجَمۂ کَرن وول Zohaib Asif. World History Encyclopedia, March 02, 2026. https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-16332/.

ایم ایل اے اسٹائل

Knox, John S.. "حضرت داؤد علیہ السلام." تَرجَمۂ کَرن وول Zohaib Asif. World History Encyclopedia, 02 Mar 2026, https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-16332/.

اشتہارات ہٹائیں