---
title: جینیات کی مختصر تاریخ: جینیات نے طِب اور شناخت کو کیسے بدل دیا
author: John Horgan
translator: Samuel Inayat
source: https://www.worldhistory.org/trans/ur/2-2855/
format: machine-readable-alternate
license: Creative Commons Attribution-NonCommercial-ShareAlike (https://creativecommons.org/licenses/by-nc-sa/4.0/)
updated: 2026-10-26
---

# جینیات کی مختصر تاریخ: جینیات نے طِب اور شناخت کو کیسے بدل دیا

تحریر کردہ [John Horgan](https://www.worldhistory.org/user/jhorgan/)_
_کے ذریعہ ترجمہ شدہ [Samuel Inayat](https://www.worldhistory.org/user/samuelinayat)_

جینیات، (Genetics) ایسا مُطالعہ، کہ کیسے وراثہ (genes) نسل در نسل منتقل ہوتے ہیں اور جِس میں ایسی معلومات ہوتی ہیں جو کسی فرد کی خصوصیات، جسمانی ساخت اور بیماریوں کا باعث بنتی ہیں۔ حیاتیات کی اس جدید شاخ نے طب، زراعت، حیاتیاتی تکنیکی علم (biotechnology) اور ادویات سازی (pharmacology) کے شعبوں میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔

ڈی این اے DNA (deoxyribonucleic acid )، جانداروں کی نشوونما کے لیے ضروری ہدائیتی خاکہ (blueprint)، جینیاتی مرکز ہے اور وراثت میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اسکی جانچ اور مہندسی علم (genetic engineering) کے دو نمایاں شعبے ہیں: ڈاکٹروں کو ایسے حالات کی نِشاندہی کرنے میں مدد دینا کہ کِن اِمراض کا عِلاج ضروری ہو سکتا ہے اور ڈی این اے کی مخصوص خصوصیات میں تبدیلی یا تخلیق کی اجازت دینا۔

[ ![DNA Molecular Model](https://www.worldhistory.org/img/r/p/500x600/21346.jpg?v=1791388590-1764574729) ڈی این اے کا مالیکیول ماڈل Griffin & George (CC BY-NC-SA) ](https://www.worldhistory.org/image/21346/dna-molecular-model/ "DNA Molecular Model")### پس منظر

چوتھی صدی قبل مسیح کے آغاز میں، قدیم یونانیوں نے نسل در نسل موروثی خصائص کی منتقلی کے بارے میں حیرت کا اظہار کیا اور تجویز کیا کہ بچوں کے مخصوص جسمانی اعضاء ان کے والدین کے متعلقہ جسمانی اعضاء سے وراثت میں ملتے تھے۔ تاہم، ارسطو (384-322 قبل مسیح) کے مطابق، بعض اوقات بچے اپنے والدین کی طرح کم اور کسی دوسرے رشتہ دار کی طرح نظر آتے تھے۔ اس کا مزید خیال تھا کہ یہ باپ ہی تھا جو جسمانی خصوصیات کی مُنتقلی کا سبب تھا، جب کہ ماں نے مناسب ماحول پیدا کیا، جس نے بچے کی نشوونما میں مدد کی۔ ارسطو کے نظریات، جن میں سے کوئی بھی درست نہیں تھا، میں یہ عقیدہ شامل تھا کہ جینیات خون کے ذریعے منتقل ہوتے تھے۔ صدیوں بعد، خاص طور پر خوردبین کی ایجاد کے ساتھ، سائنسدانوں کو جینیاتی خصوصیات کو زیادہ قریب سے جانچنے کا موقع مِلا۔

1824 میں، فرانسیسی سائنسدان رینے جواخم ہنری ڈوٹروشیٹ (1776-1847 René Joachim Henri Dutrochet) نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پودوں اور جانوروں کے ٹشوز (بافتیں) خلیات (cells) سے بنے تھے اور اس مفروضے کی تصدیق کی جو سائنسدان 1600 کی دہائی کے اواخر سے قائم کیے ہوئے تھے۔ 1838-39 میں جرمن ماہرِ نباتات میتھیاس جیکب شلائیڈن (1804-1881 Matthias Jakob Schleiden) اور جرمن ماہرِ خلیات تھیوڈور شوان (1810-1882 Theodor Schwann) کی مزید تحقیق نے تصدیق کی کہ خلیات زندگی کی بنیادی اکائی تھی۔ یہ دونوں دریافتیں 'سیل تھیوری' cell theory (نظریہ خلیہ) کی بنیاد بنتی ہیں۔ بعد میں آنے والے سائنسدانوں نے خلیات کے مختلف حصوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اس نظریے کو وسعت دی، جن میں نیوکلیئس اور مائٹوکونڈریا (mitochondria) شامل تھے۔ (نیوکلیئس میں خلیے کا جینیاتی مواد موجود ہوتا ہے اور یہ خلیے کے افعال کو کنٹرول کرتا ہے، جبکہ مائٹوکونڈریا خلیے کے لیے توانائی پیدا کرتے ہیں)۔ مزید برآں، 'سائٹولوجی cytology' (علمِ خلیات) کے ابھرتے ہوئے شعبے میں خلیات کی تشکیل، ساخت اور افعال کا مطالعہ کیا گیا اور یہ دیکھا گیا کہ ان کا خلیاتی وراثت سے کیا تعلق تھا۔ انگریز ماہرِ فطرت چارلس ڈارون (1809-1882 Charles Darwin) نے یہ نظریہ پیش کیا کہ موروثی خصوصیات ایک نسل سے اگلی نسل میں منتقل ہوتی ہیں، جس سے سائنسدانوں کا یہ ماننا شروع ہوا کہ جینیاتی معلومات ان خلیات میں موجود ہوتی ہیں جنہیں بعد میں 'جرم سیلز' (یعنی سپرم اور انڈے germ cells) کا نام دیا گیا۔

1760 کی دہائی میں، سویڈن سے تعلق رکھنے والے taxonomist کارل لینیئس (ماہرِ حیاتیات پودوں اور جانداروں کی اقسام اور اُنکے آپس کے تعلقات اور درجہ بندی کے بارے میں جانکاری رکھنے والا 1707-1778 Carl Linnaeus) جِس کو 'ہائبرڈائزیشن' (اختلاطِ نسل hybridization) کا نظریہ دینے والا مانا جاتا ہے، نے یہ نظریہ پیش کیا کہ ایک ہی نوع (species) سے تعلق رکھنے والے پودوں اور جانوروں کی مختلف اقسام کو ملا کر زندگی کی ایک نئی شکل تخلیق کی جا سکتی ہے۔ ان نئی اشکال کی خصوصیات اگلی نسلوں میں بھی منتقل ہوتی ہیں۔ 1700 کی دہائی کے اواخر میں، فرانسیسی معالجین نے والدین اور ان کے بچوں کے درمیان جسمانی مماثلت کی وضاحت کے لیے 'وراثت' کا تصور (concept of heredity) پیش کیا۔ انیسویں صدی کے اوائل تک، سائنسدانوں نے یہ انکشاف کیا کہ ایک والدین کی جسمانی خصوصیات دوسرے والدین کی خصوصیات پر غالب رہتی ہیں اور یہ کہ انواع (species) کے درمیان تولیدی عمل کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔اس پیش رفت نے محققین کو جینیات کا ایک مربوط نظریہ (unitary theory) وضع کرنے کی راہ دکھائی۔

### اہم پیش رفت

1859 میں، انگریز ماہرِ فطرت چارلس ڈارون (Charles Darwin) نے اپنی تصنیف 'On the Origin of Species by Means of Natural Selection' (قدرتی انتخاب کے ذریعے انواع کا ارتقا) شائع کی، جس میں اُس نے 'قدرتی انتخاب' (natural selection) کا نظریہ پیش کیا (یعنی جانداروں کی بقا اور افزائشِ نسل کے امکانات اس وقت زیادہ ہوتے ہیں جب ان میں ایسی موروثی خصوصیات موجود ہوں جو انہیں اپنے ماحول سے ہم آہنگ ہونے کے قابل بنائیں)۔ اس نظریے نے جینیات (genetics) کے بارے میں جدید فہم کی بنیاد رکھی، تاہم، ڈارون ان موروثی خصوصیات کے پیچھے کارفرما میکانزم (mechanisms) کی وضاحت کرنے سے قاصر رہے جو جانداروں کو وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہونے کے قابل بناتے ہیں۔

موروثی 'غالب' (dominant) اور 'مغلوب' (recessive) جینز کی دریافت کا سہرا آسٹریا کے ایک راہب، گریگر مینڈل (1822-1884 Gregor Mendel) کے سر ہے۔ مٹر (pea) کے پودوں پر تجربات کرتے ہوئے، مینڈل نے پودوں کی مختلف خصوصیات، جیسے رنگ، قد اور پھول کی نشاندہی کی جو ایک نسل سے اگلی نسل میں منتقل ہوتی تھیں۔ مینڈل نے مزید یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ خصوصیات (جنہیں 'فینوٹائپس' بھی کہا جاتا ہے phenotypes قابلِ مُشاہدہ خصوصیات) جوڑوں کی شکل میں ہوتی ہیں اور چونکہ ایک خاصیت زیادہ کثرت سے ظاہر ہوتی ہے، اس لیے وہی اگلی نسل میں غالب رہتی ہے۔ مزید برآں، ان خصوصیات کی منتقلی مخصوص نمونوں کے تحت ہوتی ہے۔ انہی دریافتوں نے 'جینیات کے مینڈلین اصولوں' (Mendelian principles of genetics) کی بنیاد رکھی۔ اگرچہ ابتدا میں دیگر سائنسدانوں نے ان نتائج کو تسلیم نہیں کیا تھا، لیکن 1900 میں مینڈل کی دریافتیں دوبارہ منظرِ عام پر آئیں اور یوں جینیات ایک سائنسی شعبے کے طور پر قائم ہوئی۔

[ ![Gregor Mendel](https://www.worldhistory.org/img/r/p/500x600/21424.jpg?v=1791388626-1764924313) گریگر مینڈل Wellcome Collection (CC BY) ](https://www.worldhistory.org/image/21424/gregor-mendel/ "Gregor Mendel")انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں جینیات (genetics) کے مطالعے کے لیے اہم مزید دریافتیں ہوئیں۔ کروموسوم (chromosome)، جس میں جینیاتی مواد موجود ہوتا ہے، اسے 1882 میں جرمن ماہرِ حیاتیات والٹر فلیمنگ (1843-1905 Walther Flemming) نے دریافت کیا؛ انہوں نے مائٹوسس mitosis (خلیے کی تقسیم) کی بھی نشاندہی کی تھی۔ 1906 میں، انگریز ماہرِ حیاتیات ولیم بیٹسن (1861-1926 William Bateson) وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے موروثیت کے مطالعے کے لیے 'جینیات' (genetics) کی اصطلاح استعمال کی۔ ڈنمارک کے ماہرِ حیاتیات ولیم جوہانسن (1857-1927 Wilhelm Johannsen) نے یہ دلیل پیش کی کہ موروثیت کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی عوامل بھی جینز میں تبدیلی پیدہ کرتے ہیں۔ انہوں نے جینز، جینوٹائپ genotype (خلیے کی جینیاتی ساخت)، اور فینوٹائپ phenotype (جینوٹائپ اور ماحول کے باہمی تعامل سے پیدا ہونے والی جسمانی خصوصیات) کی اصطلاحات وضع کیں۔ اس کے علاوہ، امریکی ماہرِ جینیات والٹر اسٹینبورو سٹن (1877-1916 Walter Stanborough Sutton) کی تحقیق، جس میں ٹڈیوں (grasshoppers) کا استعمال کیا گیا تھا، نے صنفی تولید (sexual reproduction) میں کروموسومز کے کردار کو واضح کرنے میں مدد کی۔ 1902 میں شائع ہونے والی ان کی تحقیق کے نتائج نے ثابت کیا کہ کروموسومز جوڑوں کی شکل میں موجود ہوتے ہیں، جس سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ سپرم اور انڈے کے خلیات (egg cells) میں سے ہر ایک میں کروموسومز کا ایک جوڑا ہوتا ہے۔

جین گیون (Jean Gayon) کے مطابق فرام مینڈل ٹو ایپی جینیٹکس From Mendel to epigenetics: ہسٹری آف جینیٹکس میں، صدی کے پہلے نصف حصے میں کلاسیکی جینیات (جینیات کی وہ برانچ جو والدین سے بچوں کو وراثتی صِفات مُنتقل کرنے کے بارے میں ہو) کا غلبہ رہا (اِس سمجھ کے ساتھ): کہ "جین بیک وقت فنکشن اور ٹرانسمیشن function and transmission کی اکائی ہے، دوبارہ ملاپ کی اکائی، اور میوٹیشن کی" (225)۔ تھامس مورگن کی (1866-1945 Thomas Morgans) پھلوں کی مکھیوں کا استعمال کرتے ہوئے ٹریل بلیزنگ تحقیق (trailblazing research) نے نسلوں کے درمیان جسمانی خصلتوں کی منتقلی میں کروموسوم اور جین کے درمیان تعلق کو ظاہر کیا، جس کے نتیجے میں وراثت کا کروموسوم نظریہ chromosomal theory) قائم ہُوا کہ جینز میں موجود کروموسوم بُنیادی واثتی اجزاء ہیں۔ اس نے قائم کیا کہ مخصوص کروموسوم مخصوص جین لے جاتے ہیں، جو ہمیشہ آنے والی نسلوں میں منتقل نہیں ہو سکتے۔ مورگن کو جینیاتی بحالی (genetic recombination) کے نظریہ کا سہرا دیا جاتا ہے: (کہ) جینیاتی مواد، ڈی این اے کے مالیکیولز (molecules) میں منتقل ہو سکتا ہے، اور اس طرح ایک نیا جین تشکیل پاتا ہے۔ ان کے کام نے انہیں "کلاسیکی جینیات کے باپ" کا خطاب اور 1933 میں میڈیسن کا نوبل انعام دِلایا۔

بیسویں صدی کے نصفِ اول میں کلاسیکی جینیات (classical genetics) کی تحقیق کا غلبہ رہا۔ ڈی این اے (DNA) کے بنیادی اجزاء، نیوکلیوٹائڈز (nucleotides) کی دریافت 1929 میں امریکی کیمیا دان (chemist) فوبس اے لیون (Phoebus A. Levene 1869-1940) نے کی۔ ایک اور امریکی کیمیا دان، لائنس پالنگ (Linus Pauling 1901-1994) نے 'سکل سیل انیمیا' (sickle-cell anemia) کے معاملات پر تحقیق کرتے ہوئے موروثی جینیاتی بے ترتیبییوں کی وضاحتیں پیش کیں، جو اکثر پروٹینز میں تبدیلیوں کی وجہ سے پیدہ ہوتی ہیں۔ کلاسیکی جینیات کا مقصد ڈی این اے کی ساخت کو بہتر طور پر سمجھنا تھا، اس یقین کے ساتھ کہ ڈی این اے تمام جینیاتی مادے کا کلیدی جزو تھا۔ 1950 کی دہائی تک، جدید جینیات میں اِس سمجھ کا آغاز ہُوا کہ جینز کس طرح کام کرتے ہیں اور موروثی عمل میں ان کا کردار کیا ہے۔

1953 میں، دو مالیکیولر بائیولوجسٹس (two molecular biologists)، امریکی جیمز واٹسن (James Watson) اور انگریز فرانسس کرک (Francis Crick)، نے روزالینڈ فرینکلن (Rosalind Franklin) کی تیار کردہ ڈی این اے کی تصویر کی مدد سے سب سے پہلے ڈی این اے کی 'ڈبل ہیلکس' (double-helix) ساخت کا نقشہ مرتب کیا۔ ان کی دریافت نے ثابت کیا کہ ڈی این اے موروثیت کا جینیاتی مادہ اپنے اندر سموئے ہوتا ہے اور اس کی ساخت، دیگر مادوں کے ساتھ مل کر، خود کو دوبارہ بنانے (self-replicating) کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان دریافتوں نے جدید مالیکیولر بائیولوجی کی بنیاد رکھی۔ ان دونوں سائنسدانوں کو 1962 میں طب کے شعبے میں نوبل انعام دیا گیا۔

[ ![James Watson & Francis Crick](https://www.worldhistory.org/img/r/p/500x600/21341.jpg?v=1764571306-1764574722) جیمز واٹسن اور فرانسس کرک Unknown Photographer (CC BY-NC-SA) ](https://www.worldhistory.org/image/21341/james-watson--francis-crick/ "James Watson & Francis Crick")1956 میں، امریکی بائیو کیمسٹ ورنن ایم انگرام (1924-2006 Vernon M. Ingram)، جنہیں "مالیکیولر میڈیسن کا بانی" (father of molecular medicine) کہا جاتا ہے، نے 'سکل سیل انیمیا' (sickle-cell anemia) پر اپنی تحقیق کے دوران یہ انکشاف کیا کہ ڈی این اے (DNA) کے جینیاتی کوڈ (جاندار خُلیات میں اِستعمال ہونے والے وہ قوانین جو جینیاتی مادہ میں موجود معلومات کو پروٹین کی تیاری اور ترتیب میں تبدیل کرتے ہیں) میں محض ایک حرف کی تبدیلی ہی کسی موروثی طبی عارضے کا سبب بننے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ اس دریافت نے ہیموفیلیا اور سسٹک فائبروسس (hemophilia and cystic fibrosis) جیسی بیماریوں کی روک تھام اور علاج کے امکانات کو روشن کیا۔ اس کے کچھ ہی عرصہ بعد، ڈاؤن سنڈروم (Down syndrome کروموسوم میں تبدیلی و نقص) کے شکار افراد میں انسانی کروموسوم کی پہلی بے قاعدگی (genetic disorder) کی نشاندہی کی گئی۔ کروموسومز کی براہِ راست جانچ کے ذریعے دریافت ہونے والا یہ جینیاتی عارضہ ایک اضافی کروموسوم کا نتیجہ تھا۔

آنے والی دہائیوں میں سائنسدانوں کی تحقیق کے اہم موضوعات میں بچوں کی جنس کا جاننا اور پیدائشی معذوریوں کا باعث بننے والی کروموزومز کی خرابیاں chromosomal abnormalities شامل رہیں۔ حیاتیاتی ٹیکنولوجی (Bio-technolgy) بھی ایک ایسے شعبے کے طور پر اُبھری جس نے ڈی این اے فنگر پرنٹنگ (DNA fingerprinting) کا باعث بننے والی میوٹیشنز (تبدیلیوں) کی شناخت پر کام کیا۔ مزید تحقیق کے نتیجے میں انسانی انسولین اور انسانی ہارمون کے بڑھنے (1979)، کلوننگ (1981، نتیجے میں 'ڈولی' نامی بھیڑ کی تخلیق) اور انسانی جین تھراپی (1990 human gene therapy) جیسی پیش رفت کی مُمکنات سامنے آئیں۔

[ ![Dolly the Sheep](https://www.worldhistory.org/img/r/p/750x750/21427.jpg?v=1791388594-1764926696) بھیڑ ڈولی Photo courtesy of the Roslin Institute, University of Edinburgh (CC BY-NC) ](https://www.worldhistory.org/image/21427/dolly-the-sheep/ "Dolly the Sheep")### اِنسانی جینیاتی منصوبہ

جینیٹکس (Genetics) سے مراد ایک وقت میں کسی ایک جین کا مطالعہ ہے، جبکہ جینومکس (Genomics) سے مراد کسی خلیے میں موجود تمام جینیاتی معلومات کا مطالعہ ہے۔ 1990 میں شروع ہونے والے اور 2003 میں مکمل ہونے والے 'اِنسانی جینیاتی منصوبہ' (HGP) نے انسانی ڈی این اے (DNA) میں موجود تمام جینیاتی معلومات، یعنی تقریباً 30,000 سے 35,000 جینز کی نشاندہی کی۔ 2006 میں، ایک امریکی ماہرِ حیاتیات راجر ڈی کورنبرگ (پیدائش 1947 Roger D. Kornberg) نے 'ٹرانسکرپشن' (transcription) کا عمل دریافت کیا۔ یہ وہ عمل ہے جس کے ذریعے ڈی این اے، آر این اے (RNA) یا رائبونیوکلک ایسڈ میں تبدیل ہوتا ہے جو جسمانی افعال کے لیے ایک انتہائی اہم مالیکیول ہے اور جینیاتی معلومات کو جسم کے مختلف حصوں تک پہنچاتا ہے۔ کینسر یا دل کی بیماری جیسے امراض اکثر آر این اے سے متعلق پیچیدگیوں کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔

2022 میں، سائنسدانوں نے انسانی جینیاتی مادہ (human genome) کا پہلا مکمل نقشہ تیار کر لیا تھا۔ حالیہ برسوں میں جینیاتی تحقیق کی سمت، انسانی کلوننگ (ہم جِنس)، اسٹیم سیل (stem cell) پر تحقیق، اور جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (genetically modified) خوراک اور فصلوں سے متعلق مُتصادم آرائیں اس شعبے میں نمایاں رہے ہیں۔

### نتائج

تقریباً 100 سالوں کے اندر، جینیات کے شعبے نے نئی دوائیں، فصلیں جو کیڑوں اور بیماریوں کے خلاف مزاحمت کرتی ہیں، نئی موروثی بیماریوں کی شناخت، جوڑوں کو ولدیت کا تجربہ کرنے میں مدد کی، اور تمام انسانوں کے درمیان ڈی این اے روابط کی نشاندہی کی (خاص طور پر مشترکہ آباؤ اجداد، Mitochondrial Eve اور Y-chromosomal آدم کی جانکاری حاصِل کرکے۔ یہ علامتی نام ہیں جِن سے نسلِ انسانی چلی)۔ جینیاتی تحقیق نے لوگوں کو ان کے آبائی ہجرت کا پتہ لگانے میں مدد دی ہے، خاص کر اُن افریقی نثاد امریکیوں کیلئے جو بحرِاقیانوس کے پار سے بغرض غُلام تجارت امریکہ میں موجود تھے اور اُنہیں افریقہ میں اپنے لوگوں کو تلاش کرنا تھا۔

اس شعبے میں کام کرنے والے سائنسدانوں اور ڈاکٹروں کو اکثر و بیشتر اپنی تحقیق سے متعلق اخلاقی اور سماجی خدشات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیا جینیاتی مہندسی علم genetic engineering کو انسانوں کو ان کی جسمانی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے استعمال کی جانی چاہیے؟ "تخلیق کردہ بچے" (designer babies) بنانے کے بارے میں کیا خیال ہے جس میں والدین آنکھوں یا بالوں کا رنگ، قد یا جلد کا رنگ منتخب کر سکتے ہیں؟ کیا یہ طریقہ کار معمول اور رواج ہیں یا ڈاکٹروں کی مثالیں یا پھِر "خدا کا کھیل کھیلنا ہے؟" انسانی تاریخ میں کبھی بھی لوگوں کے پاس ڈرامائی طور پر اور گہرے طور پر اپنے موجودہ اور مستقبل کے جسمانی حالات کو تبدیل کرنے یا کنٹرول کرنے کی صلاحیتیں نہیں رہیں۔ جینیات کا میدان فائدہ مند طریقوں سے فطرت پر قابو پانے کے لامتناہی امکانات پیش کرتا ہے، لیکن کس قیمت پر۔

#### Editorial Review

This human-authored article has been reviewed by our editorial team before publication to ensure accuracy, reliability and adherence to academic standards in accordance with our [editorial policy](https://www.worldhistory.org/static/editorial-policy/).

## کتابیات

- [Evolution of Genetic Techniques: Past, Present, and Beyond](https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC4385642/ "Evolution of Genetic Techniques: Past, Present, and Beyond"), accessed 4 Dec 2025.
- [From Mendel to epigenetics: History of genetics](https://comptes-rendus.academie-sciences.fr/biologies/item/10.1016/j.crvi.2016.05.009.pdf "From Mendel to epigenetics: History of genetics"), accessed 4 Dec 2025.
- [Genetics: History of Genetics](https://www.openaccessjournals.com/articles/genetics-history-of-genetics-16234.html "Genetics: History of Genetics"), accessed 4 Dec 2025.
- [Historical development of genetics | Research Starters | EBSCO Research](https://www.ebsco.com/research-starters/history/historical-development-genetics "Historical development of genetics | Research Starters | EBSCO Research"), accessed 4 Dec 2025.
- Oren Harman & Ehud Lamm. "History of Classical Genetics." *Encyclopedia of Life Sciences. John Wiley & Sons, Ltd*, February 2015, pp. 1-6.
- [Origins of human genetics. A personal perspective](https://www.nature.com/articles/s41431-020-00785-7 "Origins of human genetics. A personal perspective"), accessed 4 Dec 2025.
- [The History of Genetics](https://www.math.uci.edu/~brusso/The_History_of_Genetics.pdf "The History of Genetics"), accessed 4 Dec 2025.

## مصنف کے بارے میں

کنکورڈیا یونیورسٹی، وسکانسن، امریکہ میں تاریخ کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ ان کی موجودہ تحقیق اور مطالعہ کا مرکز عالمی تاریخ میں طاعون، بیماریاں اور خوراک ہے

## بیرونی روابط

- [Mapping the Human Brain Function to the Genome](https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC7528857/)
- [The Century of the Gene: Crash Course History of Science #42](https://www.youtube.com/watch?v=TUvquCOGs3U)
- [How the discovery of DNA changed the world – and my life | BBC Ideas](https://www.youtube.com/watch?v=yKvczF7PfII)
- [The Gene | PBS](https://www.pbs.org/show/gene/)
- [Top Milestones in Human Genetics and Genomics Over 75 ...](https://www.ashg.org/discover-genetics/timeline/)
- [NHGRI History and Timeline of Events](https://www.genome.gov/about-nhgri/Brief-History-Timeline)
- [Genetics | The Smithsonian Institution's Human Origins Program](https://humanorigins.si.edu/evidence/genetics)
- [Evolution of Genetic Techniques: Past, Present, and Beyond](https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC4385642/)
- [Key Milestones in Genetics and Molecular Biology Timeline](https://opengenetics.pressbooks.tru.ca/back-matter/appendix-a-key-milestones-in-genetics-and-molecular-biology-timeline/)

## اس کام کا حوالہ دیں

### APA
Horgan, J. (2026, October 26). جینیات کی مختصر تاریخ: جینیات نے طِب اور شناخت کو کیسے بدل دیا. (S. Inayat, مترجم). *World History Encyclopedia*. <https://www.worldhistory.org/trans/ur/2-2855/>
### Chicago
Horgan, John. "جینیات کی مختصر تاریخ: جینیات نے طِب اور شناخت کو کیسے بدل دیا." تَرجَمۂ کَرن وول Samuel Inayat. *World History Encyclopedia*, October 26, 2026. <https://www.worldhistory.org/trans/ur/2-2855/>.
### MLA
Horgan, John. "جینیات کی مختصر تاریخ: جینیات نے طِب اور شناخت کو کیسے بدل دیا." تَرجَمۂ کَرن وول Samuel Inayat. *World History Encyclopedia*, 26 Oct 2026, <https://www.worldhistory.org/trans/ur/2-2855/>.

## لائسنس اور کاپی رائٹ

کی طرف سے پیش کیا گیا [Samuel Inayat](https://www.worldhistory.org/user/samuelinayat/ "User Page: Samuel Inayat"), پر شائع ہوا 26 October 2026. براہ کرم کاپی رائٹ کی معلومات کے لیے اصل ماخذ(وں) کو چیک کریں۔ براہِ کرم نوٹ کریں کہ اس صفحے سے منسلک مواد کے لائسنسنگ کے شرائط مختلف ہو سکتے ہیں۔

