---
title: روسی انقلاب کے اسباب
author: Mark Cartwright
translator: Samuel Inayat
source: https://www.worldhistory.org/trans/ur/2-2773/
format: machine-readable-alternate
license: Creative Commons Attribution-NonCommercial-ShareAlike (https://creativecommons.org/licenses/by-nc-sa/4.0/)
updated: 2026-05-12
---

# روسی انقلاب کے اسباب

تحریر کردہ [Mark Cartwright](https://www.worldhistory.org/user/markzcartwright/)_
_کے ذریعہ ترجمہ شدہ [Samuel Inayat](https://www.worldhistory.org/user/samuelinayat)_

نکولس دوم (Tsar Nicholas II سلطنتِ رومانوف 1917-1817 کا آخری حُکمران) کی غیر مقبول آمرانہ حکمرانی کے دور (1894-1917) سے لے کر محنت کش طبقہ کی بنیاد پرست/انقلابی متحرک کاری تک، جو بہتر کام کے حالات اور زیادہ سیاسی نمائندگی چاہتے تھے، روسی انقلاب (1917) کے پیچھے بہت سے اسباب تھے۔ درحقیقت دو انقلاب تھے: پہلا انقلاب مارچ میں زار کا تختہ الٹنے کا باعث بنا اور پھر 1917 کی عبوری حکومت کے غیر موثر ہونے کے بعد دوسرا انقلاب نومبر میں آیا۔ مؤخر الذکر کو اکثر بالشویک انقلاب (Bolshevik Revolution بیسویں صدی میں کارل مارکس اور لینن کے نظریات کیمُطابق سرمایہ کاری اور شاہی نظامِ حکومت کے خِلاف اُبھرنے والی سیاسی پارٹی) کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں ولادیمیر لینن (Vladimir Lenin 1870-1924) کی قیادت میں بالشویکوں (بعد میں کمیونسٹ پارٹی کہلانے والے) کو اقتدار پر قبضہ کرتے ہوئے اور سوویت روس کو قائم کرتے دیکھا گیا۔

[ ![Map of the Russian Revolution & Collapse of Tsarism, 1917–18](https://www.worldhistory.org/img/r/p/750x750/20702.png?v=1773923348-1769505100) روسی انقلاب کا نقشہ اور زارازم کا خاتمہ، 1917-18 Simeon Netchev (CC BY-NC-ND) ](https://www.worldhistory.org/image/20702/map-of-the-russian-revolution--collapse-of-tsarism/ "Map of the Russian Revolution & Collapse of Tsarism, 1917–18")انقلاب کی بنیادی وجوہات یہ تھیں:

- زار کی حکمرانی تیزی سے آمرانہ بن رہی تھی۔
- زار اُن اصلاحات کو نافذ کرنے میں ناکام رہا جس کا اس نے 1905 کے روسی انقلاب کے بعد وعدہ کیا تھا۔
- زار گریگوری راسپوٹین (Grigori Rasputin) کے ساتھ تعلق رکھنے کی وجہ سے غیر مقبول تھا۔
- پہلی جنگِ عظیم میں روس کی شرکت سے شدید معاشی بدحالی اور خوراک کی قلت پیدا ہُوئی۔
- پہلی جنگِ عظیم میں شکست کو زار کے بطور کمانڈر انچیف، کیساتھ جوڑا گیا۔
- زار نے تیزی سے غیر منظم روسی مسلح افواج کی حمایت کھو دی۔
- سوشلسٹ انقلابیوں نے ایک منصفانہ معاشرے کے لیے تحریک چلائی، جیسا کہ کارل مارکس نے تجویز کیا تھا۔
- محنت کش طبقات سوشلسٹ انقلابیوں سے تیزی سے متاثر ہو رہے تھے۔
- کارکن بہتر تنخواہ، کام کیلئے بہتر ماحول اور سیاسی نمائندگی چاہتے تھے۔
- کسان زمین کی منصفانہ تقسیم اور مقامی سیاسی نمائندگی چاہتے تھے۔
- متوسط ​​طبقے سماجی اصلاحات اور حکومت میں زیادہ طاقت چاہتے تھے۔
- خواتین ووٹ کا حق اور مردوں کے مساوی قانونی حقوق چاہتی تھیں۔
- روسی سلطنت کے اندر قومیں آزادی چاہتی تھیں۔
- عبوری حکومت آئین ساز اسمبلی کے انتخابات کرانے کے اپنے وعدے میں ناکام رہی۔
- عبوری حکومت شدید معاشی اور بنیادی ڈھانچوں، سہولیات اور نظام (جیسے سڑکیں، پل، بجلی، پانی کی فراہمی، اور مواصلات) کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی۔
- بہت سے مزدور اور کسان چاہتے تھے کہ روس پہلی جنگِ عظیم سے نکل جائے۔
- لینن کی قیادت میں بنیاد پرست بالشویکوں نے طاقت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر لیا، عبوری حکومت کو ختم کر دیا اور روس کو ایک جمہوریہ قرار دیا۔

### زار کے وقار میں کمی

زار نکولس دوم کی شہرت، جو 1905 میں اپنے لوگوں میں ایک عقلمند اور انصاف پسند حکمران کے طور پر تھی، کم ہو گئی۔ معاشی بحران، روس-جاپان جنگ (1904-5) میں شکست، 1905 میں اتوار کے روز پرامن اور غیر مسلح مظاہرین کا قتل عام، اور وعدہ کی گئی اصلاحات کی ناکامی کی وجہ سے، لوگوں میں یہ سوال اُبھرے کہ کیا واقعی زار قوم کا بہترین راہنُما تھا۔ نکولس 20ویں صدی کے روس میں ہونے والی سماجی تبدیلیوں سے غافل دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے ایک بار ایک رشتہ دار سے کہا: "میں کبھی بھی جمہوری طرزِ حکومت سے اتفاق نہیں کروں گا کیونکہ میں اسے ان لوگوں کے لئے نقصان دہ سمجھتا ہوں جنہیں خدا نے مجھے سونپا ہے" (Montefiore، 521)۔ زار کا خیال تھا کہ آمریت واقعی نظم و ضبط قائم کرنے کا ایک بہترین طریقہ تھا۔ نکولس نے اپنی حکمرانی کے خلاف کسی بھی اختلاف کو بے رحمی سے دبایا، فوج اور پولیس نے مُظاہرین کو پرتشدد طریقے سے کچل دیا، اور بے شمار گرفتاریاں کی گئیں۔

تبدیلی کا مطالبہ کرنے والے، شاید، جلاوطن، قید، یا عارضی طور پر محکوم، جانتے تھے کہ اُن کی کوشش رائگاں نہیں جائیگی۔ بنیاد پرست زیر زمین پارٹیاں تشکیل دی گئیں جو چاہتی تھیں کہ یا تو آئینی بادشاہت ہو یا پھِر جمہوریہ۔ اخلاق سوز مسلسل افواہوں کے بعد، شاہی خاندان اور سیاست پر عجیب خود ساختہ مقدس آدمی گریگوری راسپوٹین (1869-1916) کے اثر سے زار کی پوزیشن مزید کمزور ہونا شروع ہوئی۔ راسپوٹین نے سب سے پہلے اقتدار کے ایوانوں تک رسائی حاصل کی کیونکہ وہ بظاہر زار کے وارث الیکسی (Alexei) کو بیماری سے آرام تو پہنچا سکتا تھا، جو ہیموفیلیا (haemophilia) کا شکار تھا لیکن وہ مریض پر نفسیاتی سکون سے زیادہ حقیقی اثر نہیں ہو سکتا تھا۔ مہارانی (empress) راسپوٹین سے خاص طور پر متاثر ہوئی، اور وہ جلد ہی شاہی وفد کا بظاہر ناگزیر حصہ بن گیا۔ افواہیں پھیل گئیں کہ 'مقدس آدمی' واقعی ایک شرابی تھا جو جس پر بھی ہاتھ ڈالتا تھا، اسکے ساتھ وہ جنسی سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتا تھا۔ مضحکہ خیز میگزینوں اور کم معروف اخبارات نے بے تکے کارٹون شائع کیے اور یہاں تک قیاس آرائیاں کی گئیں کہ راسپوٹین کا مہارانی کے ساتھ تعلق تھا؟۔ نکولس نے ان افواہوں پر رد عمل ظاہر کرنے سے انکار کر دیا لیکن جیسا کہ مورخ ٹی ہیسگاوا (T. Hasegawa) نوٹ کرتا ہے، "کسی بھی چیز سے بڑھ کر، راسپوٹین کے معاملے نے آمریت کے وقار کو تباہ کن طور پر تباہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا" (39)۔

[ ![Rasputin & Tsar Cartoon](https://www.worldhistory.org/img/r/p/500x600/20502.png?v=1774878617-1748283310) راسپوٹین اور زار کارٹون Unknown Artist (Public Domain) ](https://www.worldhistory.org/image/20502/rasputin--tsar-cartoon/ "Rasputin & Tsar Cartoon")زار کے وقار کو ایک اور دھچکا ان کی، انتہائی قدامت پسند قوم پرست اور یہود مخالف تنظیموں کی بھرپور حمایت تھی جیسا کہ رُوسی عوام کی یونین (Union of Russian People)، جنہوں نے یہودیوں اور دیگر روایتی فِرقوں (قُربانی کے بکروں) پر شیطانی حملے کیے تھے۔ قتل و غارت اور خونی اتوار (اِتوار کے روز سینٹ پیٹر برگز میں شاہی گارڈ کے دستوں کی طرف سے غیر مسلح پُر امن احتجاج کرنے والوں پر گولی چلانے کا واقعہ) کے اِن واقعات نے مؤثر طریقے سے اس دیرینہ یقین کو ختم کر دیا کہ روس کا زار، تعریفی طور پر خدا کا چنا ہُوا ایک منصف حکمران تھا۔ زار کے وقار کو آخری دھچکا پہلی جنگ عظیم (1914-18) کے دوران ستمبر 1915 میں خود کو مسلح افواج کا کمانڈر انچیف بنانے کا فیصلہ تھا۔ مُکمل طور پر اِس عہدہ کیلئے نااہل ہونے کی وجہ سے حتمی نتیجہ یہ نکلا کہ فوج کی ناکامیاں اس کے جرنیلوں کے بجائے ملک کے حکمران کے ساتھ جوڑی گِئیں۔

نکولس کیلئے اِس سے بھی شاہد وہ وقت زیادہ بُرا تھا کہ جب وہ اگلی صف میں سپاہی بنا پھر رہا تھا، اُس وقت حکومت بُنیادی طور پر مہارانی الیگزینڈرا فیوڈورونا (1872-1918) کی راہنُمائی میں چھوڑ دی گئی اور بہہتوں کیلئے مطلب یہ تھا کہ حُکمران اصل میں راسپوتن تھا۔ یقینی طور پر، وزارتوں کی برطرفیوں اور تقرریوں کا ایک طوفان تھا، اور کئی کو تو واجبات بھی دے دئے گئے تھے۔ بادشاہت کے حامیوں کے مُطابق یہ راسپوتن تھا جو خرابیاں کر رہا تھا اور واضح طور پر افواہیں بھی یہی تھیں کہ زار کی شہرت کو راسپوتن ہی نُقصان پہنچا رہا تھا۔ سب سے زیادہ نقصان دہ افواہ یہ تھی کہ راسپوتن اور مہارانی کسی نہ کسی طرح کی جرمن نواز حکومت تشکیل دے رہے تھے، جس کا واحد ثبوت یہ تھا کہ مہارانی خود جرمن تھی، اس کی شادی سے قبل اس کا لقب ہیسی ڈرمسٹڈ کی شہزادی ایلکس تھا (Princess Alix of Hesse-Darmstadt)۔ شاہ کے حامیوں کے ایک گروپ نے راسپوتن کو قتل کرنے کی سازش گھڑی، مارا پیٹا، قتل کر دیا اورجنوری 1917 کے اوائل میں اِس کی لاش ایک دریا میں پائی گئی۔

### آمرانہ ریاست کو مسترد کرنا

زار نے ایک اسمبلی، ڈوما (Duma) تشکیل دی تھی، لیکن اس کے لیے ووٹنگ اعلیٰ طبقوں کے حق میں تھی جِسکا اِختیار بہت کم تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ زار ڈوما کی طرف سے منظور ہونے والی کسی بھی نئی قانون سازی کو ویٹو کر سکتا تھا۔ زار کو وزیروں کی تقرری اور برطرف کرنے کا بھی خصوصی حق حاصل تھا، اور اُسنے مسلسل اُن سیاست دانوں کو ترقی دی جو اس کے خیالات کا احترام کرتے تھے۔ سیاسی میدان کے علاوہ، زار نے فوج، ریاستی بیوروکریسی، خارجہ پالیسی اور چرچ پر مکمل کنٹرول رکھا۔ زار کی خفیہ پولیس، اوکھرانہ (Okhrana)، زندگی کے ہر پہلو میں شامل نظر آتی تھی۔ تعلیمی معیار کے بڑھنے سے، زار کے ماتحت زیادہ سے زیادہ محکمے ریاستی حالات سے غیر مُطمئن ہوتے جا رہے تھے۔ جیسا کہ دوسری قوموں نے وسیع سیاسی حق رائے دہی کے مسائل پر غور کیا اور آزادی اظہار، انجمن اور پریس کی خوبیوں کو سراہا، ایسا لگتا تھا کہ روس بہت پیچھے رہ گیا تھا۔ مزدوروں اور کسانوں کو اس بات کا خود بخود ادراک ہوتا جا رہا تھا کہ وہ کِسی چیز سے محروم تھے۔ اُسی وقت میں، پیشہ ور افراد اور طلباء کا ایک بڑھتا ہوا متوسط ​​طبقہ (burgeoning middle class) تبدیلی لانے کے لیے یکساں طور پر پرعزم تھا۔

[ ![Tsar Nicholas II Under House Arrest](https://www.worldhistory.org/img/r/p/500x600/20601.png?v=1776724041-1768172328) زار نکولس دوم زیر حراست Bain News Service (Public Domain) ](https://www.worldhistory.org/image/20601/tsar-nicholas-ii-under-house-arrest/ "Tsar Nicholas II Under House Arrest")### محنت کش طبقات کی بنیاد پرستی

1905 کے بعد سے، رُوس میں صنعت کاری کے بڑھنے سے مزدور طبقے میں نمایاں اضافہ ہوا۔ 1917 تک، تقریباً 18.5 ملین کارکن تھے، جو آبادی کا تقریباً 10 فیصد تھے۔ کارکن بڑے شہروں اور مخصوص علاقوں میں مرکوز تھے۔ "صنعتی محنت کش افرادی قوت کا ایک جگہ پر مرکوز ہونا 1917 میں ان کو فعال کرنے کے لیے اہم تھا، اور اس نے محنت کش طبقے کو ان کی نسبتاً کم تعداد کے مقابلے میں کہیں زیادہ سیاسی اہمیت دی۔ (شوکمان، 19)۔ "پہلی جنگ عظیم کی بدولت محنت کش طبقہ (working class) میں اضافہ ہوا، کیونکہ جب جبری فوجی بھرتی کی وجہ سے مزدور لڑنے کے لیے مسلح افواج میں چلے گئے، تو ان کی خالی جگہوں پر کسانوں اور خواتین کو بھرتی کر لیا گیا تھا۔

کارکن بہتر تنخواہ، کام کے اوقات کی حد (دن میں 8 گھنٹے) اور کام کرنے کیلئے محفوظ ماحول چاہتے تھے۔ وہ خفیہ پولیس کی مداخلت کے بغیر غیر محدود ٹریڈ یونین چاہتے تھے۔ وہ اکثر کچی آبادی جو انہیں فراہم کی جاتی تھی، میں بہتری چاہتے تھے ۔ کچھ کارکن حقیقی طور پر مقبول اسمبلی میں سیاسی نمائندگی چاہتے تھے جس نے نئے قوانین کی تشکیل کو متاثر کیا۔ ان مطالبات کو زار کی توجہ دلانے کے لیے محنت کشوں نے تیزی سے ہڑتالوں پر اُتر آئے۔

فیکٹری کے مزدوروں نے، پہلے ہڑتالیں منظم کرنے کے لیے اور پھر عام مزدوروں کے مفادات کی نمائندگی کے لیے وسیع پیمانے پر سوویت یونین یا کونسلیں (نظم و ضبط قائم کرنے کیلئے مُقامی مُنتخب نمائدوں کی کونسل) تشکیل دیں۔ (شروع میں) پیٹرو گراڈ سوویت فروری 1917 میں قائم ہُوئی، لیکن بعد میں ہر جگہ پھیل گئیں۔ مئی 1917 تک، پورے روس میں 400 ورکر سوویت تھیں، اور اسی سال اکتوبر تک یہ تعداد بڑھ کر 950 کے لگ بھگ ہو گئی۔ یہاں تک کہ فوج میں بھی سوویت یونین بننا شروع ہو گئیں، جس کی وجہ سے افسروں اور دیگر عہدہ داروں کی روایتی درجہ بندی کمزور پڑ گئی۔ مختصراً، سوویت یونین "بڑے پیمانے پر اظہار خیال کے اہم عضو بن گئے (پڑھیں، 144)۔

[ ![The Petrograd Soviet in 1917](https://www.worldhistory.org/img/r/p/750x750/20748.png?v=1774498391-1753856516) 1917 میں پیٹرو گراڈ سوویت Unknown Photographer (Public Domain) ](https://www.worldhistory.org/image/20748/the-petrograd-soviet-in-1917/ "The Petrograd Soviet in 1917")سوویت یونین کی ایگزیکٹو کمیٹیوں پر ایک بنیاد پرست سوشلسٹ دانشوروں کا غلبہ چھا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ، اس قیادت پر خود بالشویکوں کا غلبہ ہو گیا، جو روسی سوشل ڈیموکریٹک لیبر پارٹی (RSDLP) کی ایک بنیاد پرست شاخ تھی۔ RSDLP اور دیگر سوشلسٹ جرمن فلسفی کارل مارکس (1818-1883) کے نظریات سے بہت زیادہ متاثر ہوئے، جس نے دولت اور سیاسی طاقت کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ کیا۔

مارچ 1917 میں زار کے زوال کے بعد (نیچے دیکھیں)، بالشویک، زیادہ اعتدال پسند سوشلسٹوں کے برعکس، فوری طور پر پرولتاریہ انقلاب چاہتے تھے (proletarian revolution محنت کش لوگ جِن کے پاس جائیداد، اثاثے اور زمین نہیں تھی)، جہاں مزدور ریاست چلا سکیں۔ یقینی طور پر، مقامی سطح پر زار کی حکمرانی کے خاتمے کے بعد ایک سیاسی خلا پیدا ہوا، جہاں زار کی پرانی بیوروکریسی کی جگہ "ایک حیران کن اکٹھ اور مختلف قسم کی عوامی کونسلوں، سوویت، فیکٹری کمیٹیوں، کسانوں کے اجتماعات اور مقبول جماعتوں نے جگہ لے لی" (ایلن ووڈ، 48)۔ بالشویکوں نے اس افراتفری کو، اقتدار پر قبضہ کرنے کے لئے ایک موقع پایا۔

جیسے ہی 1917 کا سال رواں ہُوا، زیادہ سے زیادہ کارکنوں کے دِل میں ایک بڑے اور گہرے اِنقلاب کا خیال اچھا لگنے لگا۔ بہت سے مزدور 1917 کے موسم گرما کے دوران بگڑتے ہوئے معاشی حالات سے مایوس ہو گئے اور جیسے جیسے سوویت زیادہ عسکریت پسند ہوتے گئے ہڑتالوں کی تعداد بڑھتی گئی۔

[ ![Russian Hamlet by Kryjitski](https://www.worldhistory.org/img/r/p/750x750/20505.png?v=1775136787-1748284924) روسی ہیملیٹ از کریجٹسکی Constantin Kryjitski (Public Domain) ](https://www.worldhistory.org/image/20505/russian-hamlet-by-kryjitski/ "Russian Hamlet by Kryjitski")### کسانوں کی بے چینی

1861 میں غلاموں کی آزادی کے بعد، روسی کسان، زمین کی دائمی قلت اور زار کے اشرافیہ کی وسیع املاک کو دوبارہ تقسیم کرنے سے انکار کی وجہ سے اِنتہائی پریشان تھے۔ جہاں تک کسانوں کا تعلق تھا، (اُنکا خیال تھا کہ) کسی کو زمین صرف اسی صورت میں رکھنی چاہیے جب کوئی اس پر کام کرے۔ کسانوں کو بھی زیادہ ٹیکسوں کا سامنا کرنا پڑا، (جِسکی وجہ سے) وہ مقامی کونسلوں میں وزن دار آواز چاہتے تھے۔ زار کے حق میں، کچھ اصلاحات کی کوشش کی گئی تھی۔ وزیراعظم (Pyotr Stolypin 1862-1911) کُچھ تبدیلیاں لائے، جو Stolypin Reforms کے نام سے مشہور ہُوئیں۔ اصلاحات نیک نیتی سے کی گئی تھیں، لیکن بالآخر، وہ مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوئیں۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہتری آئی، کچھ امیر، زمیندار کسان (کولک kulaks) معاشی طور پر بہتر تھے، لیکن زیادہ تر کسانوں کی صورت حال 1905 کی طرح مایوس کن رہی۔ اس کے علاوہ، ان اصلاحات نے، اگرچہ وہ تھوڑی سی تھیں، زار کے اعلیٰ طبقے کے حامیوں کو ناراض کر دیا کیونکہ اُنکو ایسا لگا کہ یہ آمرانہ نظام کو کمزور کرتا تھا، جِسے وہ چاہتے تھے کہ جاری رہے۔ بڑھتا ہوا ناراض طبقہ شہری متوسط ​​طبقہ تھا اور چونکہ کسان کام کی تلاش میں شہروں کا رخ کرتے تھے، ریاست نے انھیں جگہ دینے کے لیے بہت کم کام کیا، اور جرائم عروج پر پہنچ گئے۔ سلطنت کے بڑے شہروں میں نسلی گروہوں کے گھل مل جانے کے باعث تناؤ بھی تھا۔

### پہلا انقلاب اور پہلی جنگِ عظیم

1917 کا پہلا انقلاب مارچ 1917 میں پیٹرو گراڈ میں روٹی کے فسادات سے شروع ہوا اور تیزی سے اس وقت بڑھ گیا جب پیٹرو گراڈ گیریژن کے دستے فسادیوں میں شامل ہوگئے۔ انقلاب اور سیاسی اشرافیہ کے درمیان زار کے لیے حمایت کی کمی نے نکولس کو مجبور کر دیا، اور اُسے دستبردار ہونے کا مشورہ دیا گیا، جو اس نے 2 مارچ کو کر دیا۔ زار کی جگہ عبوری حکومت تھی، لیکن ڈوما کے سابق وزراء کا یہ ادارہ کسی قانونی حیثیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا تھا کیونکہ اس کے لیے کوئی انتخابات نہیں ہوئے تھے۔

عبوری حکومت کو پیٹرو گراڈ سوویت کے ساتھ ایک ایسے نظام میں اقتدار بانٹنا پڑا جو 'دوہری طاقت' کے نام سے مشہور ہوا۔ پیٹرو گراڈ سوویت دستبرداری سے پہلے ہی سب سے زیادہ بااثر سوویت رہا کیونکہ اس نے اعلان کیا تھا (آرڈر نمبر 1 اور 2) کہ پیٹرو گراڈ میں مسلح افواج کے اندر، فوجی کمیٹیوں کو افسروں کی روایتی درجہ بندی کو ایک طرف رکھتے ہوئے فیصلہ سازی کی ذمہ داری لینی چاہیے۔ سوویت نے یہ بھی اصرار کیا تھا کہ وہ مسلح افواج کو دیے گئے تمام عمومی احکامات کو منظور کریں۔ جب یہ احکامات مجموعی طور پر روسی فوج تک پہنچائے گئے تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نظم و ضبط گر گیا اور انحطاط بڑھ گیا۔ اس کے علاوہ، 1917 کے غذائی بحران کی وجہ سے فوجیوں کے لیے یومیہ راشن کو 4,000 سے 2,000 کیلوریز یومیہ (calories a day) تک کم کرنا ضروری سمجھا۔ جیسا کہ لینن نے کہا، فوجی، اختیارات کے روایتی طریقوں کو مسترد کر رہے تھے اور "اپنے پیروں سے ووٹ ڈال رہے تھے" (ایلن ووڈ، 56)۔

[ ![Alexander Kerensky](https://www.worldhistory.org/img/r/p/500x600/20758.png?v=1774498398-1753989359) الیگزینڈر کیرنسکی Karl Bulla (Public Domain) ](https://www.worldhistory.org/image/20758/alexander-kerensky/ "Alexander Kerensky")عبوری حکومت، واقعی غیر مستحکم اتحادوں کا ایک سلسلہ تھا جو ایک اِنتہائی مُشکل مسئلے سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہی تھی کہ کیا رُوس کو جنگِ عظیم سے نِکل جانا چایئے یا کیسے یا کب پیچھے ہٹا جا سکتا تھا۔ روس کی ٹوٹتی ہوئی سلطنت کے سامنے سوال یہ تھا کہ قوم پرست تحریکوں کے عروج کا سامنا کیسے کیا جائے جو تقریباً ہر جگہ تھیں۔ معیشت اور مہنگائی نے تباہی مچادی۔ جنگی صنعتیں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی تھیں، لیکن اشیائے صرف کی دستیابی میں کمی کرنے کی قیمت پر، یہاں تک کہ زرعی آلات جیسی ضروری اشیاء کی ترسیل کو بہت کم کر دیا گیا۔ شہری بدامنی کے واقعات بار بار پیش آ رہے تھے اور وہ پُر تشدد ہوتے جا رہے تھے۔ عبوری حکومت طاقت پر بھی بھروسہ نہیں کر سکتی تھی کیونکہ فوج کا ایک بڑا حصہ، بالشویزم (Bolshevism) کے ساتھ مِلا ہوا تھا۔ حکومت نے عام انتخابات کا وعدہ کیا تھا، لیکن وزراء نے پہلی جنگِ عظیم کے ختم ہونے تک انتظار کرنا دانشمندی سمجھا۔ عملی منصوبہ بندی کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی تھا کہ لاکھوں ووٹرز مختلف محاذوں پر لڑ رہے تھے اس لیے ایسے انتخابات کا انعقاد بہت مشکل تھا۔

پہلی جنگِ عظیم سے دستبردار ہونے سے اندیشہ ہی صرف یہ تھا کہ روس کے اپنے اتحادیوں، برطانیہ اور فرانس سے معاہدے کی ذمہ داریاں ٹوٹ جائیں گے۔ روس کو اگر امن کے زمانے میں اپنی تعمیر نو کی کوئی امید تھی،تو پھِر اُسے مغربی پیسوں کی ضرورت تھی۔ اس کے علاوہ، جرمنی کے ساتھ علیحدہ امن ایسا لگتا تھا کہ یہ بہت سخت ہو گا، کیونکہ روس اس تنازع میں بہت بُرے انداز میں کام کر رہا تھا۔ کچھ دائیں بازو کے عسکریت پسند فوجی آمریت قائم کرنے اور جنگ جاری رکھنا چاہتے تھے جبکہ اس کے برعکس، مزدوروں نے 23-24 اپریل کو پیٹرو گراڈ میں جنگ کے جاری رہنے کے خلاف احتجاجی مارچ کیا۔ جنگ معیشت کو مفلوج کر رہی تھی اور اس لڑائی میں 25 لاکھ سے زیادہ روسی مارے گئے تھے۔ کسان بھی اسی طرح یہ سب ختم کرنا چاہتے تھے، لیکن، جیسا کہ حکومت نے کیا، اُنہیں اس مسئلے پر خانہ جنگی کا اندیشہ تھا۔

### عبوری حکومت

متوسط ​​طبقے، اعلیٰ طبقات، روسی آرتھوڈوکس چرچ (جس نے ریاست اور چرچ کی نئی علیحدگی سے فائدہ اٹھایا)، روسی یہودی ، اور دیگر اقلیتی گروہوں نے عبوری حکومت کی مُکمل حمایت کی۔ ایسے لوگ بھی تھے، قطع نظر طبقاتی یا سیاسی وابستگی و قائلیت، جنہوں نے دورانِ جنگ کِسی بھی حکومت کی حمایت کرنا حب الوطنی سمجھا۔ یہاں تک کہ کچھ بنیاد پرست سوشلسٹ، جیسے مینشویک (Mensheviks)، نے بھی حکومت کی حمایت کی اور کُچھ قابلِ ذِکر کامیابیاں بھی ہُوئیں۔ 20 مارچ کو منظور کیے گئے ایک نئے قانون کے ذریعے خواتین کو مردوں کے مساوی حقوق دیے گئے، جس نے تمام بالغ شہریوں کو مساوی بنا دیا۔ پریس اور تقریر کی ایک نئی آزادی تھی۔ اگست میں شہروں اور دیہی علاقوں میں مقامی کونسلوں کے لیے جمہوری انتخابات ہوئے۔

کچھ عزت حاصل کرنے اور حمایت کو وسیع کرنے کی امید میں، الیگزینڈر کیرنسکی (1881-1971 Alexander Kerensky) کی سربراہی میں عبوری حکومت نے جون جارحیت کا آغاز کیا، جیسا کہ یہ مشہور ہوا۔ یہ تیزی سے تباہی میں بدل گیا جس میں 150,000 روسی فوجی مارے گئے اور بہت سے یونٹوں نے لڑنے سے بالکل انکار کر دیا۔ عبوری حکومت، پرانے زار کی طرح، اپنی فوجی کامیابی کی واضح کمی کی وجہ سے بہت بدنام تھی۔

[ ![Signing the Armistice Between Russia and Germany, 1917](https://www.worldhistory.org/img/r/p/750x750/20598.png?v=1774498402-1768174647) روس اور جرمنی کے درمیان جنگ بندی پر دستخط، 1917 Unknown Photographer (CC BY-SA) ](https://www.worldhistory.org/image/20598/signing-the-armistice-between-russia-and-germany-1/ "Signing the Armistice Between Russia and Germany, 1917")1917 کے موسم گرما کے دوران، مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑا، اس بار اقتصادی حالت خراب ہُوئی، روٹی کی قلت ہُوئی اور کرنسی کی قدر آدھی رہ گئی۔ 16-20 جولائی کو عبوری حکومت میں بعض سرمایہ دار وزراء کے خلاف پیٹرو گراڈ میں مزدوروں کا مظاہرہ خونریزی اور 400 مظاہرین کی موت یا زخمی ہونے پر ختم ہوا، یہ ایک بدنام زمانہ واقعہ تھا جسے 'جولائی ڈیز' July Days کہا جاتا ہے۔ حکومت نے بالشویکوں کو مظاہروں کا ذمہ دار ٹھہرایا اور بہت سی گرفتاریاں کیں۔ سوویت یونینوں نے کئی حملوں سے جواب دیا۔ 1917 کے موسم گرما میں "1,019 ہڑتالیں ہوئیں جن میں 2,441,850 کارکن اور ملازمین شامل تھے" (فریز، 284)۔

عبوری حکومت کو اگست میں ایک اور بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ جنرل کورنیلوف (Lavr Kornilov) کا معاملہ تھا۔ جنرل لاور کورنیلوف (1870-1918) 18 جولائی سے روس کی مسلح افواج کا سربراہ تھا، جس نے حکومت کیساتھ مِلکر کاروائی کرنے کا مُطالبہ کیا یعنی (مارشل لا)۔ اُسنے بغاوت کرنے کی کوشش کی، لیکن حمایت کی کمی کی وجہ سے ناکامی ہُوئی۔ اس کے بعد کیرنسکی (Kerensky وزیرِ اعظم) نے اگست میں حکومتی وزراء کا ایک چھوٹا مرکز بنایا، لیکن کورنیلوف کے معاملے سے انہیں دو طرح سے نقصان پہنچا: پہلے تو یہ کہ کورنیلوف کی تقرری کیوں کی گئی اور دُوسرا مُمکنہ بغاوت کے جوابی اقدام کے طور پر سوویت یونینوں کو مسلح کرنا تھا۔ مطلب یہ تھا کہ اگر انہیں حکومت پر حملہ کرنے پر آمادہ کیا جا سکتا تھا تو وہ اور بھی خطرناک ہو سکتا تھے۔

### دوسرا انقلاب

مزدوروں اور کسانوں میں بالشویکوں کی حمایت میں اضافہ ہوا کیونکہ لوگ عبوری حکومت کی سُستی اور آئین ساز اسمبلی کے لیے انتخابات کا مُقررہ وقت نہ جاننے کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہو گئے۔ بالشویکوں نے فوری تبدیلی کا وعدہ کیا۔ بالشویکوں اور دیگر انقلابی گروہوں کے پاس فنڈز کی کمی نہیں تھی کیونکہ انہیں جرمن حکومت سے باقاعدہ اِمداد مِلتی رہی، جس کا مقصد اندر سے دشمن کو کمزور کرنا تھا۔ بالشویک ان گنت جلسوں اور ریلیوں کا اہتمام کر سکتے تھے۔ لینن نے عوامی جلسوں میں بالشویک مقررین کو جان بوجھ کر ہدایت کی کہ وہ اُن پیچیدہ دلائل پر وقت ضائع نہ کریں، جن پر عمل کرنے کی سامعین کو کوئی امید نہیں تھی، بلکہ "مزدور لوگوں کے لیے زمین!" جیسے سادہ نعروں پر اور "پودوں اور کارخانوں کا قومیائے جانے!"پر قائم رہیں۔ (بیور، 93)۔ بالشویکوں نے بالآخر دیگر سوشلسٹ گروپوں جیسے مینشویکوں (Mensheviks) اور سماجی انقلابیوں کے مقابلے میں مختلف ورکر تنظیموں میں برتری حاصل کی۔

[ ![Vladimir Lenin, 1914](https://www.worldhistory.org/img/r/p/500x600/20720.png?v=1774498405-1753429771) ولادیمیر لینن، 1914 Boris Dmitrievič Vigilev (CC BY-NC-SA) ](https://www.worldhistory.org/image/20720/vladimir-lenin-1914/ "Vladimir Lenin, 1914")سوویت یونین نے پورے روس میں 1917 کے موسم گرما میں ہڑتالیں منظم کیں، اور ان کی وجہ سے حکومت کے لیے شدید مشکلات پیدا ہوئیں، صنعتی اور ہتھیاروں کی پیداوار محدود ہو گئی، اور ٹرانسپورٹ اور خوراک کی فراہمی میں شدید خلل پڑا۔ مہنگائی 200 فیصد پر تھی اور کسان بھی تبدیلی چاہتے تھے۔ شکایت، حکومت سے اناج کی اضافی رقم طلب کرنا، کسانوں کے تحفظات کی نمائندگی اور حل کرنے کے لیے کسی موثر مقامی انتظامیہ کی عدم موجودگی تھی، اور یہ احساس کہ کسانوں کو جنگ میں لڑنے کے لیے اجتماعی طور پر بھرتی کیا جا رہا ہے جب کہ شہروں میں شہریوں کو ان کے کام یا سماجی حیثیت کی وجہ سے چھوٹ دی گئی تھی۔ 1917 کے موسم گرما میں کسانوں کی بغاوت نے زمین پر قبضہ کر لیا، امیر کسانوں کی فصلوں اور املاک کو تباہ کر دیا، اور امیر کسانوں کو مارا پیٹا گیا یا مار دیا گیا۔ حکومت اس خلل کو دُور کرنے میں بے بس نظر آئی، اور کھانے پینے کی اشیاء کی پیداوار اور تقسیم دونوں ہی زوال کا شکار ہو گئے، جس سے شہروں میں اشیا کی اور بھی قلت پیدا ہو گئی۔

واقعات جو سامنے آئے، بالشویکوں نے سوویت یونین میں اپنے حمایتی یونٹوں کو مؤثر طریقے سے نظرانداز کیا، اُس وقت جب، لینن نے اپنی ریڈ گارڈز ملیشیا کو طاقت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرنے کا حکم دیا۔ بہانے کے طور پر عبوری حکومت کا اعلان تھا کہ پیٹرو گراڈ گیریژن کو شہر سے باہر منتقل کرنا ہے۔ بالشویکوں کو لگا کہ یہ حکومت کو سوویت پر کنٹرول حاصل کرنے کی اجازت دینے کے لیے ہے۔ لینن نے پہلے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

بالشویکوں نے عبوری حکومت کے اہم ترین اراکین کو گرفتار کر لیا، ٹیلی گراف دفاتر، ریلوے سٹیشنوں اور مرکزی بینک پر قبضہ کر لیا، اور علامتی طور پر، سرمائی محل پر حملہ کر دیا۔ عبوری حکومت نے شمال سے فوجیوں کو بلانے کی کوشش کی لیکن اِسمیں کامیابی نہ ہو سکی۔ یہ تقریباً بغاوت تھی لیکن اِسمیں خُون نہیں بہا۔ بالشویکوں نے مؤثر طریقے سے ایک اچھے موقع پر انقلاب شروع کیا تھا۔ " کسی بھی طرح سے یہ کامیاب آپریشن نہیں تھا، لیکن یہ بھی سچ تھا کہ "یہ بالشویک ہی تھے جنہوں نے انقلابی سوچ رکھنے والے محنت کشوں اور کسانوں کی مرضی کو سب سے زیادہ واضح طور پر ظاہر کیا، آواز دی اور اس پر عمل درآمد کیا" (ایلن ووڈ، 62)۔

[ ![Russian Delegation at Brest-Litovsk](https://www.worldhistory.org/img/r/p/750x750/20597.png?v=1774570331-1750054580) بریسٹ لیتوسک میں روسی وفد Unknown Photographer (Public Domain) ](https://www.worldhistory.org/image/20597/russian-delegation-at-brest-litovsk/ "Russian Delegation at Brest-Litovsk")### بعد کے اثرات

اس کے بعد ایک آئین ساز اسمبلی کے لیے قومی انتخابات کا انعقاد کیا گیا، لیکن نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ بالشویک اتنے مقبول نہیں تھے جتنا وہ امید کر رہے تھے کیونکہ انہیں ایک چوتھائی سے بھی کم ووٹ ملے۔ جنوری 1918 میں، لینن کے ریڈ گارڈز نے دستور ساز اسمبلی کو بند کر دیا۔ لینن انقلاب کے ساتھ سوویت یونین کو برائے نام رکھنے کے قابل تھا کیونکہ وہ پہلے ہی سوونارکم (Sovnarkom)، عوامی کمیسار کی کونسل Council of People's Commissars (پہلی باقائدہ سویت حکومت) بنانے کے لیے ووٹ دے چکے تھے۔ لینن اس کونسل کے سربراہ تھے، اور انہوں نے 8 گھنٹے یومیہ کام کے دیرینہ مُطالبہ کا اعلان کر کے اپنی مقبولیت میں بہت اضافہ کیا۔ لینن نے بھی ہوشیاری سے ایک فرمان جاری کیا کہ مزدور اس کے بعد پیداوار کے تمام پہلوؤں کو کنٹرول کریں گے اور زیادہ ٹھوس طور پر، اس نے روس کو جنگِ عظیم اول سے نکالنے کا وعدہ کیا، جس سے جانیں بچیں گی اور معیشت بحال ہو گی۔ 3 مارچ 1918 کو روس نے بریسٹ لیٹوسک (Brest-Litovsk) کے معاہدے کے ساتھ جنگِ عظیم اول سے باضابطہ طور پر دستبرداری اختیار کر لی۔ رومانوف خاندان (Romanov family شاہی خاندان جِسکا آخری بادشاہ زار تھا) کا قتل 17 جولائی 1918 کو ہوا اور اب واپسی کی کوئی صورت نہیں تھی (یعنی واپس جنگ میں کود پڑنا)۔

بالشویکوں کو اب خانہ جنگی اورغیر ملکی طاقتوں کی مدد سے رجعتی قوتوں پر قابو پانا تھا، جو انہوں نے یہ کام 1922 تک کر لیا۔ لینن کی نئی ریاست کو یونین آف سوویت سوشلسٹ ریپبلکس (یو ایس ایس آر (USSR)) کا نام دیا گیا، لیکن اس کا محنت کش سوویت، تنظیموں سے کوئی تعلق نہیں تھا جو لینن کی مرکزی حکومت کے با اِختیار مقامی ایجنٹوں میں تبدیل ہو گئے تھے۔ بالشویکیوں کو اب کومونِسٹ (اشتراکی) پارٹی کا نام دیا گیا اور یہ واحد پارٹی تھی۔ لینن نے تمام بھاری صنعتوں، کانوں اور ریلوے کو قومی تحویل میں لے لیا، اور اس نے اس خیال کو مسترد کر دیا کہ زمین کے انفرادی مالک کسان، ہر ایک کے لیے زیادہ خوشحالی لا سکتے ہیں۔ مزدوروں اور کسانوں کی بہت سی شکایات جو 1917 کے انقلابات کا سبب بنی تھیں، ابھی کچھ عرصے تک ایسی ہی رہیں گی۔

#### Editorial Review

This human-authored article has been reviewed by our editorial team before publication to ensure accuracy, reliability and adherence to academic standards in accordance with our [editorial policy](https://www.worldhistory.org/static/editorial-policy/).

## کتابیات

- [Beevor, Antony. *Russia.* Viking, 2022.](https://www.worldhistory.org/books/0593493877/)
- [Brown, Archie et al. *The Cambridge Encyclopedia of Russia and the Former Soviet Union.* Cambridge University Press, 1994.](https://www.worldhistory.org/books/0521355931/)
- [Bunce, Robin. *Russia in Revolution.* Hodder Education, 1737.](https://www.worldhistory.org/books/B01N40EDOL/)
- [Hosking, Geoffrey. *Russia - People & Empire.* Harvard University Press, 1970.](https://www.worldhistory.org/books/B01K0QWYZ2/)
- [Montefiore, Simon Sebag. *Los Romanov.* Critica, 2018.](https://www.worldhistory.org/books/6077473278/)
- [Read, Christopher. *Lenin.* Routledge, 2005.](https://www.worldhistory.org/books/0415206499/)
- [Service, Robert. *Lenin.* A cultured person, 2017.](https://www.worldhistory.org/books/B07X5TM2TD/)
- [Shukman, Harold. *The Blackwell Encyclopedia of the Russian Revolution.* Wiley-Blackwell, 1994.](https://www.worldhistory.org/books/0631195254/)
- [Todd, Allan. *Revolutions 1789-1917 Paperback.* Cambridge University Press, 1970.](https://www.worldhistory.org/books/B01181YHUS/)
- [Wood, Alan. *The Origins of the Russian Revolution, 1861-1917.* Routledge, 2003.](https://www.worldhistory.org/books/0415307341/)
- [Wood, Anthony. *The Russian Revolution Paperback.* Routledge; 2 edition (6 May 1986), 1970.](https://www.worldhistory.org/books/B011T7IW5C/)

## مصنف کے بارے میں

مارک اٹلی کا ایک تاریخ پر لکھنے والی لکھاری ہے۔ ان کی دلچسپی کا مرکز کوزہ گری، فن تعمیر، عالمی اساطیری روایات اور ایسے خیالات تلاش کرنا ہے جو کہ مخلتلف تہذیبوں میں ایک جیسے ہیں۔ ان کی سیاسی فلسفہ میں ماسٹر ڈگری ہے اور وہ گھروں کے عالمی دائرۃ المعارف میں طباعت کے ڈائریکٹر ہیں۔

## اس کام کا حوالہ دیں

### APA
Cartwright, M. (2026, May 12). روسی انقلاب کے اسباب. (S. Inayat, مترجم). *World History Encyclopedia*. <https://www.worldhistory.org/trans/ur/2-2773/>
### Chicago
Cartwright, Mark. "روسی انقلاب کے اسباب." تَرجَمۂ کَرن وول Samuel Inayat. *World History Encyclopedia*, May 12, 2026. <https://www.worldhistory.org/trans/ur/2-2773/>.
### MLA
Cartwright, Mark. "روسی انقلاب کے اسباب." تَرجَمۂ کَرن وول Samuel Inayat. *World History Encyclopedia*, 12 May 2026, <https://www.worldhistory.org/trans/ur/2-2773/>.

## لائسنس اور کاپی رائٹ

کی طرف سے پیش کیا گیا [Samuel Inayat](https://www.worldhistory.org/user/samuelinayat/ "User Page: Samuel Inayat"), پر شائع ہوا 12 May 2026. براہ کرم کاپی رائٹ کی معلومات کے لیے اصل ماخذ(وں) کو چیک کریں۔ براہِ کرم نوٹ کریں کہ اس صفحے سے منسلک مواد کے لائسنسنگ کے شرائط مختلف ہو سکتے ہیں۔

