---
title: تاریخی نظام (BCE/CE) کا آغاز اور تاریخ
author: Joshua J. Mark
translator: Samuel Inayat
source: https://www.worldhistory.org/trans/ur/2-1041/bcece/
format: machine-readable-alternate
license: Creative Commons Attribution-NonCommercial-ShareAlike (https://creativecommons.org/licenses/by-nc-sa/4.0/)
updated: 2026-05-04
---

# تاریخی نظام (BCE/CE) کا آغاز اور تاریخ

تحریر کردہ [Joshua J. Mark](https://www.worldhistory.org/user/JPryst/)_
_کے ذریعہ ترجمہ شدہ [Samuel Inayat](https://www.worldhistory.org/user/samuelinayat)_

تاریخی نظام یعنی قبل از کامن ایرا یا کامن ایرا (BCE/CE system) کا اِستعمال سب سے پہلے سترویں صدی میں ہُوا اور تب سے اِسکا اِستعمال علمی اشاعتوں کے ذریعے ہے جِسے تمام عقائد اور ثقافتوں کے لوگ پڑھتے ہیں جو ایک کوشش ہے کہ وہ پُورے نظام کا حِصہ ہوں۔ یہ نظام اس لحاظ سے بھی زیادہ درست ہے کہ یہ مسیح کی پیدائش کے سال کی تاریخ کا کوئی دعویٰ نہیں کرتا جسے کوئی نہیں جانتا۔

تاریخی واقعات کی تواریخ طے کرنے میں، حالیہ برسوں میں اِس نظام (BCE/CE system) پر مُسلسل تنقید کی گئی ہے، اُس نظام کے مُقابلے میں، جِس کے تحط واقعات کے رُونما ہونے کی تاریخ یعنی قبل از مسیح یا اینو ڈومینی (BC/AD) جِسکا مطلب ہے ہمارے رب کا سال (Before Christ/Anno Domini or 'Year of Our Lord'), لِکھا جاتا تھا۔ یہ طریقہ جیسا کہ دعویٰ کیا جاتا ہے، بغرض سیاسی درستگی "تخریب انگیز" اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے "مسیح کو کیلنڈر سے ہٹانے" کی کوشش سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ اِس نظام (BCE/CE) کے اِستعمال سے، جیسا کہ مُخالفین دعویٰ کرتے ہیں، کہ یہ اُن مسیحوں کیلئے ناگوار ہے جو واقعہ کی تاریخ کا تعین 'مسیح کی پیدائش یا پیدایش سے پہلے' سے کرتے ہیں۔ مزید، یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ قبل از کامن ایرا یا کامن ایرا (BCE/CE) کا کوئی مطلب نہیں ہے کیونکہ ایسا لِکھنے سے اُنہی واقعات کی تاریخ کا پتا چلتا ہے جو قبل از مسیح یا اینو ڈومینی (BC/AD) لِکھنے سے پتا چلتا ہے۔ جو لوگ "عام دور" (common era) کے استعمال کی مخالفت کرتے ہیں وہ یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ BC/AD کا استعمال دراصل بائبل کے ذریعے طے شدہ ہے یا کسی طرح سے بائبل پر بُنیاد کرتا ہے۔

قبل از مسیح یا اینو ڈومینی (BC/AD) لِکھا جانا بائبل پر بُنیاد نہیں کرتا کیونکہ اِسکا آغاز تو مسیحی نئے عہد نامے میں بیان کیے گئے واقعات کے 500 سال بعد ہُوا اور قبولیت اُس وقت ہُوئی جب مزید 500 سال گزر چکے تھے۔ قبل از کامن ایرا یا کامن ایرا (BCE/CE) کا استعمال یقینی طور پر حالیہ برسوں میں زیادہ عام ہو گیا ہے لیکن یہ "سیاسی درُستگی" کوئی نئی ایجاد نہیں ہے اور نہ ہی یہ اینو ڈومینی (AD) کی جگہ سب کچھ نیا ہے جِسکا اِستعمال سب سے پہلے جرمن زبان میں 17ویں صدی عیسوی میں اور انگریزی میں 18ویں صدی میں مِلتا ہے۔ تاریخی نظام میں اس طریقہ کے استعمال سے "کیلنڈر سے مسیح کو ہٹانا" (removing Christ from the calendar) نہیں ہے بلکہ اِس بات سے ہے کہ تاریخی واقعات کے نِمٹنے میں تمام عقائد کے لوگوں کو تاریخی معاملات میں شامِل کیا جائے۔

[ ![Hourglass](https://www.worldhistory.org/img/r/p/500x600/6456.jpg?v=1771830005) ریت کا گلاس (وقت کے وقفوں کی پیمائش کرنے کے لیے) iStockPhoto.com (Copyright) ](https://www.worldhistory.org/image/6456/hourglass/ "Hourglass")### **قبل از مسیح یا اینو ڈومینی** (BC/AD) کی تاریخ

عبرانی کیلنڈر، جو ابھی بھی استعمال میں ہے، ایک تصور پر مبنی ہے جسے Anno Mundi ("دنیا کے سال میں") کہا جاتا ہے جو واقعات کی تاریخ کا تعین زمین کی تخلیق کے آغاز سے بائبل کے مُطابق کرتا ہے۔ میسوپوٹیمیا اور مصر جیسی قدیم تہذیبوں نے اپنے کیلنڈروں کی بنیاد بادشاہوں کے دور حکومت یا دیوتاؤں کے مقرر کردہ بدلتے ہُوئے موسموں کو مدِ نظر رکھتے ہُوئے رکھی۔ میسوپوٹیمیا میں، مثال کے طور پر، کوئی بھی ایک واقعہ کو "شاہ شلگی کے دور کے پانچ سال" (five years from the reign of King Shulgi) کے طور پر اور مصر میں "رامسیس (دُوسرا) کے آخری اوپیٹ فیسٹیول (Opet Festival) کے تین سال بعد" کے طور پر یا بصورت دیگر، "رامسیس کے دور حکومت کے 10ویں سال میں جس نے قادیش پر فتح حاصل کی" لِکھ سکتا ہے۔ تاریخی نظام کا یہ طریقہ رومیوں نے جاری رکھا جنہوں نے اپنے سالوں کو مختلف ادوار میں تین مختلف نظاموں کے مطابق شمار کیا یعنی روم کے قیام سے، قونصل کے اقتدار میں آنے سے اور شہنشاہوں کے دورِ اِقتدار سے۔

جولیس سیزر (100-44 قبل از کامن ایرا) نے کیلنڈر کی اصلاح کی اور اپنے دور حکومت (49-44 قبل از کامن ایرا) کے دوران مہینوں کا نام تبدیل کیا۔ یہ کیلنڈر 1582 عیسوی تک وقفہ وقفہ سے نظرثانی کے ساتھ استعمال میں رہا جب پوپ گریگوری XIII نے گریگورین کیلنڈر Gregorian Calendar کا قیام عمل میں لایا جو آج بھی استعمال میں ہے۔ مسیحوں نے کلیسیا کے ابتدائی سالوں میں اینو منڈی کیلنڈر (Anno Mundi calendar) اور رومن کیلنڈر کا استعمال کیا۔ تقریباؐ 525 عیسوی میں، تاریخی نظام میں ایک نیا تصور، ایک مسیحی راہب ڈیونیسیس Dionysius Exiguus (تقریباؐ 470-544 کامن ایرا)، نے پیش کیا جس نے بعد کے تاریخی نظام یعنی قبل از مسیح (BC) کے لیے بنیاد فراہم کی۔

ڈیونیسیس نے ایسٹر کے تہوار کی تاریخ کو مستحکم کرنے کی کوشش میں اینو ڈومینی Anno Domini ("ہمارے رب کے سال میں") کا تصور پیش کیا۔ جس وقت وہ اس مسئلے پر کام کر رہا تھا، اسکندریہ کی کلیسیا کے بااثر مسیحی، رومی شہنشاہ ڈیوکلیٹین (284 عیسوی Diocletian) کے دورِ حکومت کے آغاز سے، مسیحوں پر ڈھائے جانے والے ظُلم کے واقعات کی تاریخ پر کام کر رہے تھے۔ ڈیونیسیس (Dionysius) مشرقی اور مغربی کلیسیاوؐں کو اِس بات پر رضامند کر رہا تھا کہ وہ سب ایک ہی دِن پر ایسٹر کی تقریب منائیں۔

[ ![Resurrection of Christ by Piero della Francesca](https://www.worldhistory.org/img/r/p/500x600/2444.jpg?v=1775521384) پیرو ڈیلا فرانسسکا کے ذریعہ مسیح کا جی اٹھنا Piero della Francesca (CC BY-NC-SA) ](https://www.worldhistory.org/image/2444/resurrection-of-christ-by-piero-della-francesca/ "Resurrection of Christ by Piero della Francesca")325 عیسوی میں نائسیہ کی کونسل (Council of Nicea) میں قسطنطین عظیم (Constantine the Great) میں ایک مقصد طے پایا گیا لیکن اُس پر عمل درآمد نہیں ہُوا تھا۔ اس مقصد کے پیشِ نظر، Dionysius نے رومی اور اسکندریہ کے تاریخی نظام کو تبدیل کر کے اپنے یعنی موجودہ مسیحی تاریخی نظام میں تبدیل کر دیا جو یسوع ناصری کی پیدائش سے شروع ہوتا تھا۔ اس انتخاب سے ایک مسئلے کا خاتمہ ہُوا جو اُسے پریشان کر رہا تھا یعنی شہنشاہ کے دور کے وہ ظلم و ستم کے واقعات جب شہنشاہ نے بہت سارے مسیحوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

### قبل از مسیح یا اینو ڈومینی (BC/AD) اور بائبل: یسوع کی پیدائش

اس تاریخی نظام کے ساتھ صرف ایک مسئلہ تھا کہ کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ یسوع ناصری (Jesus of Nazareth) کب پیدا ہوا تھا۔ Dionysius خود بھی نہیں جانتا تھا کہ یسوع کب پیدا ہوا تھا اور اس کا تاریخی نظام بھی یقینی طور پر اس کے بارے میں کوئی دعویٰ نہیں کرتا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ بائبل اور معلوم تاریخ پر انحصار کرتے ہوئے، مسیحی کیلنڈر بنانے کے لیے ایسے حِساب پر پہنچا جِس سے ایسٹر کی تقریب منانے میں ہم آہنگی پیدہ ہو اور وہ اس وقت کے مغربی اور مشرقی دونوں کلیسیاؤں کے لیے قابل قبول ہو۔

Dionysius کبھی بھی یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ وہ یسوع کی پیدائش کی تاریخ کو جانتا تھا اور بعد میں آنے والے مصنف نے بھی ایسا دعویٰ نہیں کیا۔ اس نے کیلنڈر کی اصلاح کے لیے اپنی کوششیں شروع نہیں کیں تاکہ یسوع ناصری کی پیدائش کی درست تاریخ جانی جا سکے۔ اس نے یہ کام اس وقت کے پوپ کی خواہشات کے مطابق کیا جو قسطنطین کے وژن (Constantine's vision) کو پورا کرنا چاہتا تھا۔ مسیح کے جی اٹھنے کے ایسٹر کی تقریب کو چرچ اور قسطنطین (Constantine) میں سب سے اہم سمجھا جاتا تھا، اور وہ لوگ جو اس کی پیروی کرتے تھے، چاہتے تھے کہ اس تقریب کو تمام گرجا گھروں میں ایک ہی دن منایا جائے۔ ایسا کرنے میں مدد کرنا ڈیونیسیس کا کام تھا اور اس نے کیلنڈر میں اصلاح کرکے ایسا کرنے کی کوشش کی۔ یسوع کی تاریخ پیدائش کا حساب لگانا اس مقصد کا ایک ذریعہ تھا، نہ کہ مقصد۔

یسوع کی پیدائش کا تعین کرنے کے لیے چار انجیلوں کا استعمال کرنا، تاہم، مشکل ہے کیونکہ یوحنا کی انجیل دیگر تینوں انجیلوں سے متفق نہیں ہے اور متی، مرقس اور لُوقا اہم واقعات کے حوالے سے ایک دوسرے سے متفق نہیں ہیں۔ اسکالر رابرٹ آر کارگل وضاحت کرتے ہیں:

> متی کی انجیل کے مطابق، یسوع ہیرودیسِ اعظم (Herod the Great) کے دور میں پیدا ہوا تھا۔ متعدد قدیم ذرائع کے مطابق ہیرودیسِ کا انتقال 4 قبل مسیح میں ہوا۔ اگر متی کی انجیل تاریخی طور پر درست ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یسوع ناصری 4 قبل مسیح یا اس سے پہلے پیدا ہوا تھا- یعنی یسوع 4 قبل مسیح (4 سال قبل مسیح) پیدا ہوا تھا! اگر ہم ان 4 سالوں میں اس حقیقت کو شامل کریں کہ ہیرودیسِ اعظم یسوع کی پیدائش کے فوراً بعد نہیں مر گیا تھا، بلکہ متی کے مطابق، یسوع کو قتل کرنے کی کوشش میں دو سال اور اس سے کم عمر کے تمام بچوں کو موت کا حکم دیا تھا، تو ہم یسوع کی پیدائش میں مزید دو سال کا اضافہ کر سکتے ہیں، جس سے ان کی پیدائش تقریباً 6 قبل مسیح بنتی ہے۔ اگر ہم گُمشُدہ سال صفر کو بھی شامل کریں، تو غالب امکان ہے کہ، متی کی انجیل کے مطابق، یسوع کی پیدائش تقریباً 7 قبل مسیح ہوئی تھی!
> اس طرح، قبل از مسیح یا اینو ڈومینی (BC/AD) نظام میں بنیادی غلطی ہے کہ یہ تقریباً 7 سال تک یسوع کی پیدائش کو غلط پیش کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یسوع کی تبلیغ 30 کے آس پاس شروع نہیں ہوئی تھی، بلکہ اس کے بجائے 23 سال کے لگ بھگ شروع ہوئی تھی۔ اسی طرح، پینٹی کوسٹ (Pentecost) اور کلیسیا کی ابتدا "33 عیسوی" سے نہیں بلکہ تقریباً 26 عیسوی تک ہونی چاہیے۔
> قبل از مسیح یا اینو ڈومینی (BC/AD) نظام کے ساتھ پھِر بھی ایک بڑا مسئلہ موجود ہے: یسوع کی پیدائش کا سال اس بات پر منحصر ہے کہ کوئی کونسی انجیل پڑھتا ہے۔ جبکہ متی کی انجیل باب 2: 1 میں بیان کرتی ہے کہ یسوع ہیرودیسِ اعظم کے دور میں پیدا ہوا تھا، لوقا کی انجیل باب 2: 1-2 میں بیان کرتی ہے کہ یسوع شام کے گورنر کورینیئس (Quirinius) کی حکومت کی پہلی مردم شماری کے دوران پیدا ہوا تھا۔ قدیم ذرائع کے مطابق اس مردم شماری کی تاریخ تقریباً 6 عیسوی ہے۔ اس طرح، بائبل داخلی طور پر یسوع کی پیدائش کے سال کے حوالے سے متضاد ہے۔ (2)

[ ![The Gospels](https://www.worldhistory.org/img/r/p/500x600/983.jpg?v=1777132875) اناجیل Kotomi Yamamura (CC BY-NC-SA) ](https://www.worldhistory.org/image/983/the-gospels/ "The Gospels")تاہم، جب ڈیونیسیس اپنے حِساب میں مصروف تھا، تو بائبل کی عدم مطابقت اُسکے ذہن میں نہیں تھی۔ وہ کہیں بھی وضاحت نہیں کرتا ہے کہ وہ یسوع کی تاریخ پیدائش کے بارے میں وہ اپنے نتیجے پر کیسے پہنچا اور اور نہ ہی وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اُس نے یسوع کی پیدائش کو درُست لِکھا ہے۔ اسے مسیحی کیلنڈر کو پوپ کی خواہشات کے مطابق کام کرنے کی ضرورت تھی اور وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

### **عام دور** (The Common Era)

ڈیونیسیس قبل از مسیح یا اینو ڈومینی (BC/AD) زمانوں کے لیے ذمہ دار نہیں ہے۔ وہ صرف یسوع ناصری کے مُجسم ہونے کے واقعات میں دلچسپی رکھتا تھا۔ اس مسئلے کا ایک اور بھی پہلو تھا جس کا وہ سامنا کر رہا تھا کہ کیا یسوع کی پیدائش اُسکے مُجسم ہونے سے شروع کی جائے یا اُسکے بشارتی اعلان کے وقت سے؟ Dionysius کبھی بھی وضاحت نہیں کرتا کہ اس نے اس مسئلے کو کیسے حل کیا۔ یسوع ناصری کی پیدائش کی اصل تاریخ نامعلوم ہے۔

Dionysius کے کام میں، یسوع کے مُجسم ہونے کے بعد کے واقعات "خداوند کے سال" year of the Lord میں ہوتے ہیں اور اس سے پہلے کے واقعات پر غور نہیں کیا جاتا۔ وقت کی اِمتیاز کے لیے قبل از مسیح یا اینو ڈومینی (BC/AD) کا استعمال بعد میں بیڈے (Bede) کے ذریعہ 731 عیسوی میں The Ecclesiastical History of English People کی اشاعت کے بعد ہوا۔ BC/AD کے زمانے پہلے کے کاموں میں ظاہر ہوئے لیکن بیڈے کی کتاب (Bede's book) نے انہیں مقبول بنایا اور، بعد میں، دوسرے مصنفین نے اس کی پیروی کی۔

یہ شاید ہی ایک عالمی طور پر قبول شدہ تاریخی نظام تھا، اور یہ شارلمین Charlemagne (800-814 عیسوی) کے دور حکومت تک وسیع نہیں ہُوا جس نے پورے یورپ میں تاریخی نظام کو معیاری بنانے کے لیے ایک نظام قائم کیا۔ شارلمین کی کوششوں کے بعد بھی، تاہم، اینو ڈومینی کیلنڈر سسٹم کے استعمال کو ہر یورپی قوم نے قبول نہیں کیا اور یقیناً دنیا کے دیگر حصوں میں اسے تسلیم نہیں کیا گیا۔ یہ 15 ویں صدی عیسوی تک بھی یورپ نے اینو ڈومینی کیلنڈر کو نہیں اپنایا جِس کی وجہ سے 16 ویں صدی کے آخر میں 1582 میں پوپ گریگوری XIII کو اس کی اصلاح کرنے کا موقعہ مِلا۔

17 ویں صدی میں "فحش دور" (vulgar era) کی اصطلاح پہلی بار جرمن ماہر فلکیات اور ریاضی دان جوہانس کیپلر Johannes Kepler (1571-1630 عیسوی) کی تحریروں میں اینو ڈومینی کے متبادل ظاہر ہوتی ہے۔ اس وقت "فحش" کا مطلب "بے وقوف" یا غیر مہذب نہیں تھا بلکہ "عام" یا "معمولی" تھا اور اس کا استعمال ان واقعات کی پہچان کرنے کے لیے کیا جاتا تھا جنہیں پہلے "رب کے سال" کے طور پر یاد کیا گیا تھا یا محض موجودہ دور ۔ اس کے بعد لفظ "فحش دور" مصنفین نے "مسیح کے وقت کے بعد" یا "عام دور میں" کے ساتھ ایک دوسرے کے بدلے استعمال کیا جو بالآخر صرف "عام دور CE" کے طور پر لکھا جانے لگا اور پھر CE، جس نے عام دور سے پہلے کے واقعات کی وضاحت میں، BCE کو جنم دیا۔ انگریزی میں "عام دور" کا پہلا استعمال 1708 میں دی ہسٹری آف دی ورکس آف دی لرنڈ کی اشاعت یا کتابوں کا ایک غیر جانبدار اکاؤنٹ جو بعد میں H. Rhodes کے لیے یورپ کے تمام حصوں میں سیکھنے کی غرض سے چھپی، میں مِلتا ہے The History of the Works of the Learned or An Impartial Account of Books Lately Printed in all Parts of Europe with a Particular Relation of the State of Learning in Each Country printed for one H. Rhodes in London.۔ یہ جملہ صفحہ 513 میں ظاہر ہوتا ہے جس میں "عام کی چوتھی صدی" کا ذکر ہے۔

غیر مسیحی علماء نے، خاص طور پر، نئے عہدوں کو قبول کیا کیونکہ وہ اب مسیحی برادری کے ساتھ زیادہ آسانی سے رابطہ رکھ سکتے تھے۔ یہودی اسلامی، ہندو اور بدھ مت، علماء اپنے کیلنڈر کو گریگورین کیلنڈر کے ساتھ BCE اور CE کے طور پر برقرار رکھ سکتے تھے لیکن یسوع ناصری کی الوہیت اور ان کے اپنے عقائد سے سمجھوتہ کیے بغیر ۔ چونکہ BCE/CE عہد مسیحی BC/AD سے مماثلت رکھتا تھا، اس لیے مسیحی اُلٹی ترتیب میں واضح طور پر سمجھ سکتے تھے۔ 18 ویں اور 19 ویں صدی کے دوران، "عام دور CE" کو "مسیح کا عام دور common era of Christ" یا "مُجسم ہونے کا عام دور (the common era of the Incarnation) مسیحت کے احترام کے ساتھ کثرت سے استعمال کیا جاتا رہا، یہاں تک کہ 20ویں صدی کے آخر تک، یہ دوبارہ محض "عام دور CE" میں تبدیل ہو گیا۔

### موجودہ دور میں قبل از عام دور / عام دور (BCE/CE)

موجودہ دور میں قبل از کامن ایرا یا عام دور (BCE/CE) کا استعمال، پھر، "سیاسی درُستگی" کے طور پر یسوع ناصری کو کیلنڈر سے ہٹانے کی کوشش نہیں ہے بلکہ تاریخ میں اس کی مِثال ملتی ہے۔ استعمال اس وقت شروع ہوا جب لوگ حاصل شُدہ تعلیم پر سوال کر رہے تھے اور اس بارے اپنی تعلیم کی بُنیاد پر رائے قائم کر رہے تھے کہ دُنیا میں کیسے کام ہُوا اور قابل اعتماد ذرائع کیا تھے۔ کیپلر (Kepler) ایک ایسے وقت میں "فحش دور" کے الفاظ استعمال کرتا ہے جب بہت سے اداروں اور تفہیم پر سوال اٹھائے جا رہے تھے اور ان میں ایسا سوال بھی تھا کہ ڈیونیسیس (Dionysius) یسوع کی پیدائش کی تاریخ کے بارے میں اپنے نتیجے پر کیسے پہنچا۔

قبل از کامن ایرا یا عام دور (BCE/CE) کا استعمال جاری ہے کیونکہ یہ قبل از مسیح یا اینو ڈومینی (BC/AD) سے زیادہ درست ہے۔ Dionysius کو صفر کے تصور کی کوئی سمجھ نہیں تھی اور نہ ہی Bede کو۔ اس لیے جس کیلنڈر سے انھوں نے واقعات کی تاریخ کو ترتیب دیا وہ صیح نہیں ہے۔ سال 1 AD واقعات کی نئی تاریخ کے لئے نقطہ آغاز کے بغیر 1 BC کے بعد ہوگا۔ BC/AD نظام، Dionysius کے بعد، مسیحی الہیات کے ذریعہ مُتعارف کیا گیا تھا جس وجہ سے یہ مان لیا گیا کہ کسی (Dionysius) کو درحقیقت یسوع ناصری کی تاریخ پیدائش کا علم تھا۔ ماضی کے کسی واقعہ سے موجودہ واقعہ کو تاریخی اعتبار سے مِلاتے ہُوئے یہ جاننا ضروری ہے کہ ماضی کا واقعہ کب پیش آیا۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ اُسکی عمر صرف بیس سال ہے جب اُسکو یقین ہو کہ بیس سال پہلے وہ کسی خاص تاریخ کو پیدا ہوا تھا۔ کسی غیر یقینی نقطہ سے واقعات کی تاریخ کا پتہ چلانا غلط ہے کیونکہ وہ غلط مفروضے کی بنیاد پر غلط بیان دے رہا ہے۔

جب لوگوں نے یہ سوال کرنا شروع کیا کہ ڈیونیسیس یسوع کی پیدائش کی تاریخ پر کیسے پہنچا، یا کیا وہ درست تھا، 1000 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا تھا اور بہت ساری تاریخ درج ہو چکی تھی۔ "چونکہ ڈیونیسیس کے ڈیٹنگ سسٹم (تاریخی نظام) کو تبدیل کرنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا، اس لیے یسوع کی پیدائش سے واقعات کے تعین کے دعوے کو بدل کر یہ کہا گیا کہ یہ واقعات مسیحی روایت کے مطابق یسوع ناصری کی فرض کردہ پیدائش کے چند سال بعد رُونما ہوئے تھے۔ یہ زیادہ درست ہے کہ کوئی ایسا دعویٰ نہیں کر رہا ہے جس کی ممکنہ طور پر حمایت نہیں کی جا سکتی۔ اگرچہ یہ تاریخِی نظام اسی واقعہ کا حوالہ دیتا ہے، لیکن یہ محض ضرورت کے مطابق ہے کیونکہ Dionysius کا نظام تحریری کاموں میں اتنے لمبے عرصے سے قبول اور استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اِس نظام (BCE/CE) میں قبل از مسیح / اینو ڈومینی (BC/AD) کی طرح صِفر نہیں ہے، اور ضرورت بھی نہیں ہے کیونکہ یہ کِسی خاص واقعہ کی تاریخ کا دعوی نہیں کر رہا ہے۔

زیادہ درست ہونے کے علاوہ، BCE/CE جامع ہے۔ BC/AD کا تاریخی نظام یسوع ناصری کی پیدائش سے پہلے اور بعد میں ہر ہونے والے واقعات کی نمائندگی کرتا ہے کیونکہ یسوع ناصری کی پیدائش مسیحی سمجھ کے ماتحت ہے کہ وہ کون تھا۔ مسیحوں کے لیے، یسوع مسیح ہے، خدا کا مسح شدہ، مسیحا ہے۔ کیلنڈر واقعات کو الٹی ترتیب میں یسوع کی پیدائش تک "گنتی" کرتا ہے اور پھر وہ وقت جو اِس سے پہلے کا ہے۔ ایک مسیحی کے لیے، یہ عام فہم اور دنیا کے کام کرنے کے طریقے کی طرح لگتا ہے لیکن اس روایت سے باہر کسی کے لیے ایسا نہیں۔ مختلف ثقافتوں اور عقائد کے لوگوں کو تاریخ تک رسائی حاصل کرنے اور اس پر بحث کرنے کے قابل ہونا چاہئے بغیر اس کے کہ اسے مسیحی عقیدے (کہ یسوع مسیح خدا کا بیٹا اور مسیحا ہے) کے مطابق تاریخ (Date) دی جائے۔

اِنہی وجوہات کی بِنا پر عالمی تاریخ کا انسائیکلوپیڈیا، 21ویں صدی میں علمی رہنما اصولوں کے بین الاقوامی معیار پر عمل کرتے ہوئے، BC/AD کی بجائے BCE/CE کا طریقہ استعمال کرتا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا کے قارئین بین الاقوامی سامعین ہیں جو متعدد عقائد رکھتے ہیں اور بہت سے مختلف نظام کو تسلیم کرتے ہیں۔ لہذا، ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا نے BCE/CE کے طریقہ کو درست اور علمی اصولوں پر ہونے، اور سب کے لیے جامع اور خوش آمدید کہنے کی کوشش میں اپنایا ہے۔

#### Editorial Review

This human-authored article has been reviewed by our editorial team before publication to ensure accuracy, reliability and adherence to academic standards in accordance with our [editorial policy](https://www.worldhistory.org/static/editorial-policy/).

## کتابیات

- [Bauer, S. W. *The History of the Ancient World.* W. W. Norton & Company, 2007.](https://www.worldhistory.org/books/039305974X/)
- [Bauer, S. W. *The History of the Medieval World.* W. W. Norton & Company, 2010.](https://www.worldhistory.org/books/0393059758/)
- [Bede. *Ecclesiastical History of the English People.* Penguin Classics, 1991.](https://www.worldhistory.org/books/014044565X/)
- [Eusebius. *The History of the Church.* Kregel Academic & Professional, 2007.](https://www.worldhistory.org/books/082543307X/)
- [Hunt, L. *Measuring Time, Making History.* Central European University Press, 2008.](https://www.worldhistory.org/books/9639776149/)
- [Manchester, W. *A World Lit Only by Fire.* Little, Brown, and Company, 1993.](https://www.worldhistory.org/books/0316545562/)
- [McManners, J. *The Oxford Illustrated History of Christianity.* Oxford University Press, 2001.](https://www.worldhistory.org/books/0192854399/)
- [Printed for H. Rhodes by Several Hands. *The History of the Works of the Learned .., Volume 10.* Ulan Press, 2012.](https://www.worldhistory.org/books/B00AYMIPZQ/)
- [Thomas Nelson, Publisher. *The Holy Bible, King James Translation.* Thomas Nelson, 1995.](https://www.worldhistory.org/books/0840713703/)
- [Why Christians Should Adopt the BCE/CE Dating System by Robert R. Cargill](http://www.bibleinterp.com/opeds/why_3530.shtml "Why Christians Should Adopt the BCE/CE Dating System by Robert R. Cargill"), accessed 27 Mar 2017.

## مصنف کے بارے میں

ایک فری لانس لکھاری اورمارست کالج، نیو یارک کے سابقہ جزوقتی فلسفہ کے پروفیسر، جوشیا ج۔ مارک یونان اور جرمنی میں رہ چکے ہیں اور مصر کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔ انہوں نے کالج کی سطح پر تاریخ، ادب، تصنیف و تالیف اور فلسفی کی تعلیم دی ہے۔
- [Linkedin Profile](https://www.linkedin.com/pub/joshua-j-mark/38/614/339)

## بیرونی روابط

- [When Was Jesus Born? Here's What The Evidence Says](https://allthatsinteresting.com/when-was-jesus-born)

## اس کام کا حوالہ دیں

### APA
Mark, J. J. (2026, May 04). تاریخی نظام (BCE/CE) کا آغاز اور تاریخ. (S. Inayat, مترجم). *World History Encyclopedia*. <https://www.worldhistory.org/trans/ur/2-1041/bcece/>
### Chicago
Mark, Joshua J.. "تاریخی نظام (BCE/CE) کا آغاز اور تاریخ." تَرجَمۂ کَرن وول Samuel Inayat. *World History Encyclopedia*, May 04, 2026. <https://www.worldhistory.org/trans/ur/2-1041/bcece/>.
### MLA
Mark, Joshua J.. "تاریخی نظام (BCE/CE) کا آغاز اور تاریخ." تَرجَمۂ کَرن وول Samuel Inayat. *World History Encyclopedia*, 04 May 2026, <https://www.worldhistory.org/trans/ur/2-1041/bcece/>.

## لائسنس اور کاپی رائٹ

کی طرف سے پیش کیا گیا [Samuel Inayat](https://www.worldhistory.org/user/samuelinayat/ "User Page: Samuel Inayat"), پر شائع ہوا 04 May 2026. براہ کرم کاپی رائٹ کی معلومات کے لیے اصل ماخذ(وں) کو چیک کریں۔ براہِ کرم نوٹ کریں کہ اس صفحے سے منسلک مواد کے لائسنسنگ کے شرائط مختلف ہو سکتے ہیں۔

