---
title: ہیرودیسِ اعظم
author: Mark Cartwright
translator: Samuel Inayat
source: https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-15197/
format: machine-readable-alternate
license: Creative Commons Attribution-NonCommercial-ShareAlike (https://creativecommons.org/licenses/by-nc-sa/4.0/)
updated: 2026-08-26
---

# ہیرودیسِ اعظم

تحریر کردہ [Mark Cartwright](https://www.worldhistory.org/user/markzcartwright/)_
_کے ذریعہ ترجمہ شدہ [Samuel Inayat](https://www.worldhistory.org/user/samuelinayat)_

ہیرودیس اول، یا ہیرودیسِ اعظم (تقریباً 75 تا 4 قبل مسیح)، یہودیہ کا وہ بادشاہ تھا جس نے روم کے زیرِ اثر ایک ماتحت حکمران کی حثیت سے حکومت کی۔ اسے 'معصوموں کا قاتل' (slaughterer of the innocents) ہونے کی وجہ سے دائمی بدنامی ملی، جیسا کہ عہد نامہ جدید میں شامل متی کی معرفت لِکھی گئی انجیلِ میں بیان کیا گیا ہے۔ تاہم، ہیرودیس ایک خُدا داد صلاحیت کا حامِل منتظم تھا جِس نے 33 سالہ دورِ حکومت میں کئی بڑے تعمیراتی منصوبے مکمل کیے جِن میں یروشلم کی ہیکل کی تعمیرِ نو، پانی کی کئی نہریں (ایکویڈکٹس آبی گُزرگاہیں) اور 'ہیروڈیم' (Herodium) کے نام سے مشہور عظیم قلعہ شامل ہیں۔ مؤرخین نے اس کی ایک لمبی منفی شہرت کا ازسرِ نو جائزہ لیا ہے اور یہ تسلیم کیا ہے کہ اس کے دورِ حکومت میں موجود یہودیوں اور یہودیت پر کچھ مثبت اثرات بھی مرتب ہوئے۔

### تخت نشینی

ہیرودیس روم کا ایک ماتحت بادشاہ (یا قریبی حلیف) تھا، لیکن تخت تک اس کا راستہ سیدھا نہیں تھا۔ اس کے والد، اِدوما (Idumaean) کے رہنے والے اینٹی پیٹر (Antipater) نے اسے 47 قبلِ مسیح میں گلیل کا گورنر مقرر کیا تھا۔ والد کی وفات کے بعد، خاندانی لڑائی کا ایک ہنگامہ خیز دور شروع ہوا جس میں اس کا بھائی اور مختلف رومی گروہ شامل تھے۔ 40 قبلِ مسیح میں پارتھیوں (Parthians) نے شام اور فلسطین دونوں پر حملہ کر دیا اور یروشلم پر بھی قبضہ کر لیا۔ ہیرودیس کا بھائی قید کر لیا گیا جِس نے کچھ ہی عرصہ بعد خودکشی کر لی۔ چنانچہ ہیرودیس کو روم فرار ہونے پر مجبور ہونا پڑا، اور ہاسمونی خاندان (Hasmonean dynasty) کے اینٹیگونوس (Antigonus) کو یروشلم کا حکمران بنا دیا گیا۔

روم میں ہیرودیس نے آکٹیوین اور مارک اینٹنی (Octavian and Mark Antony رُومی سلطنت کے دو اہم لیڈر) کی حمایت حاصل کر لی، جن کی مدد سے سینیٹ (Senate) کو یہودیہ کا بادشاہ، ہیرودیس مقرر کرنے پر قائل کیا گیا۔ تاہم، عملی طور پر اس اقدام سے اینٹیگونوس اور پارتھیوں (Antigonus and the Parthians) کا معاملہ حل نہیں ہوا۔ لہٰذا مارک اینٹنی کو اس خطے میں بھیجا گیا جِس نے تیزی سے علاقے کو (اِقتدار کی) رسہ کشی سے پاک کیا اور پارتھیوں کو دریائے فرات کے مشرقی کنارے کی طرف واپس جانے پر مجبور کر دیا۔ دریں اثنا، ہیرودیس نے رومی جنرل گائیس سوسیئس (Gaius Sosius) کی مدد سے ایک فوج کی قیادت کی اور 37 قبلِ مسیح میں یروشلم پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ بالآخر، اس نے یہودیہ جسے اکثر "یہودیوں کی سرزمین"( land of the Jews) کہا جاتا تھا، کے بادشاہ کی حیثیت سے ایک طویل اور خوشحال 33 سالہ دورِ حکومت کا آغاز کیا۔

### اقتدار کو مستحکم کرنا اور اُسکی توسیع

پہلی صدی کے رومی مورخ جوزیفس (Josephus) کے مطابق، ہیرودیس کے دورِ حکومت کے ابتدائی سالوں میں قلوپطرہ ہفتم (Cleopatra VII) کے ساتھ دشمنی نے مشکلات پیدا کیں۔ اگرچہ قلوپطرہ کے شوہر مارک اینٹنی درحقیقت ہیرودیس کا سرپرست تھا، اس مصری ملکہ نے مسلسل ہیرودیس کی مملکت کے بہترین علاقوں پر آہستہ آہستہ قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ 31 قبل مسیح میں ایکٹیئم (Actium) کے مقام پر آکٹیوین (Octavian) کی فتح کے بعد، جس نے اینٹنی (Antony) اور قلوپطرہ کے اثر و رسوخ کا خاتمہ کر دیا، ہیرودیس نے روم کے مستقبل کے پہلے شہنشاہ کے ساتھ ایک مفید نیا اتحاد قائم کیا۔

ہیرودیس کا دورِ حکومت بڑی حد تک پرامن رہا، اور اگرچہ اس پر ظالمانہ ٹیکس عائد کرنے کا الزام لگایا جاتا تھا، حقیقت میں یہ ٹیکس حد سے زیادہ نہیں تھے اور نہ ہی اس وقت کی دیگر حکومتوں کے مقابلے میں زیادہ بوجھل تھے۔ ہیرودیس روم کو خراج ادا کرنے کا بھی پابند نہیں تھا، حالانکہ وہ قیمتی تحائف ضرور بھیجتا تھا۔ 30 قبل مسیح تک اس نے ان تمام علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا جن پر ہاسمونیوں (Hasmoneans) اور قلوپطرہ نے قبضہ کر لیا تھا۔ پھر 23 اور 20 قبل مسیح کے درمیان اس نے اپنی سلطنت کو شمالی گلیل (Galilee) تک بڑھا دیا اور کچھ علاقوں کو اپنے حامی آباد کاروں سے دوبارہ آباد کیا۔ ایک باصلاحیت منتظم کی حیثیت سے، اس نے کاہنوں کا ایک نیا طبقہ (priestly class) تشکیل دیا (جس میں عہدے کے لیے موروثی اہلیت کی شرط ختم کر دی گئی تھی) اور ایک زیادہ کثیر الثقافتی اشرافیہ کو فروغ دیا۔ اس نے ایتھنز کو شاندار تحائف دے کر اور اس وقت کی اہم اولمپک کھیلوں کی سرپرستی کر کے بحیرہ روم کی دنیا میں یہودیہ (Judea) کا مقام بھی بلند کیا۔

[ ![Model of Herod's Renovation of the Temple of Jerusalem](https://www.worldhistory.org/img/r/p/500x600/5666.jpg?v=1777132868) یروشلم کی ہیکل کی ہیرودیس کی تزئین و آرائش کا ماڈل Berthold Werner (Public Domain) ](https://www.worldhistory.org/image/5666/model-of-herods-renovation-of-the-temple-of-jerusa/ "Model of Herod's Renovation of the Temple of Jerusalem")### تعمیراتی پروگرام

اپنی مملکت کو مضبوط کرنے کے بعد، ہیرودیس نے تعمیراتی منصوبوں کا ایک عظیم سلسلہ شروع کیا۔ ممکنہ طور پر ان کے لیے فنڈز کا انتظام جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے ہر یہودی کی جانب سے ادا کیے جانے والے 'نصف شیکل' ٹیکس (half-shekel tax) کے ذریعے کیا گیا تھا۔ اس پروگرام نے روزگار کے مواقع پیدا کیے اور معیشت کو بھی فروغ دیا، اگرچہ اس بات پر اختلافِ رائے موجود ہے کہ طویل مدت میں یہودی آبادی کو اس سے کتنا فائدہ پہنچا؟۔ سب سے مشہور منصوبہ یروشلم کی ہیکل کی شاندار تجدید و آرائش کا تھا۔ ہیرودیس نے اسی شہر کی فصیلوں کو بھی وسیع کیا اور یہیں ایک تھیٹر اور ایمفی تھیٹر (theatre and amphitheatre کھلا تھیٹر) تعمیر کروایا۔ اس نے کئی قلعوں کو بہتر کیا (خاص طور پر بحیرہ مردار کے مغربی کنارے پر واقع یریحو اور مسادا کے قلعے Jericho and Masada)، سامریہ کو نئے سرے سے تعمیر کیا جِس کا نیا نام 'سیباسٹے' (Sebaste یونانی نام) رکھا اور 'سٹراٹوز ٹاور' Strato's Tower جِس کا نیا نام قیصریہ ماریٹیما رکھا (Caesarea Maritima موجودہ دور کے لبنان، شام اور اسرائیل/فلسطین کے عِلاقے کا ایک تجارتی مرکز)۔ دونوں ناموں کی تبدیلی، ہیرودیس کی اپنے رومی اتحادیوں کو خوش کرنے کی خواہش کو ظاہر کرتی ہے۔ شاید ہیرودیس کا سب سے عظیم الشان منصوبہ یروشلم سے 11 کلومیٹر جنوب میں واقع 'ہیروڈیم' کا قلعہ تھا۔

### ہیروڈیم

'ہیروڈیم' (Herodium) قلعہ اُن سات قلعوں میں سے ایک ہے جِنہیں ہیرودیس نے تعمیر کیا تھا، جِن کی شناخت، ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے صحرائے یہودیہ (Judean desert) کے کنارے واقع 'جبل الفریدیس' (Jebel Fureidis) نامی پہاڑ کے طور پر کی ہے۔ مخروطی شکل (cone-shaped) کا یہ پہاڑ اس قلعے کیلئے ایک بہترین مقام تھا جسے ہیرودیس نے 37 قبلِ مسیح میں اینٹیگونوس (Antigonus) اور پارتھیوں (Parthians) کے خلاف اپنی فتح کی یادگار کے طور پر تعمیر کروایا تھا۔ اس قلعے کا مقصد ہیرودیس کو پناہ فراہم کرنا تھا تاکہ اگر کبھی اس کی حکمرانی کو چیلنج کیا جائے تو وہ یہاں پناہ لے سکے؛ نیز، ممکنہ طور پر اسے مقبرے کے طور پر بھی استعمال ہونا تھا۔ اسے پہاڑ کی چوٹی کو کھود کر اور وہاں سے نکالی گئی مٹی کو فصیلوں کی تعمیر میں استعمال کر کے بنایا گیا تھا۔ اس کے اندر ایک وسیع و عریض محل تعمیر کیا گیا تھا جسے پانی کی فراہمی کے لیے آبی گزرگاہوں (aqueducts) کا نظام قائم کیا گیا تھا۔ یہ پورا کمپلیکس تقریباً 15 قبلِ مسیح میں مکمل ہوا۔ پہاڑ کے دامن میں ایک چھوٹا سا قصبہ بھی بسایا گیا تھا جس میں انتظامی عمارتیں، باغات، ایک عبادت گاہ (synagogue) اور پانی کا ایک بڑا حوض شامل تھے۔ اس مقام پر کھدائی کا کام کیا جا چکا ہے۔ یہاں کی نمایاں خصوصیات میں قصبے کے نِچلے حِصے میں موجود پانی کا بڑا حوض اور محل کے غسل خانے میں موجود قدیم ترین گنبد نما رومی چھتیں شامل ہیں۔

[ ![Map of the Herodian Tetrarchy in the Levant, c. 5 CE](https://www.worldhistory.org/img/r/p/750x750/18751.png?v=1760472125-1757310892) خطۂ لیونٹ (سرزمینِ شام) میں ہیرودی ٹیٹراکی (Herodian Tetrarchy) کا نقشہ، تقریباً 5 عیسوی Simeon Netchev (CC BY-NC-ND) ](https://www.worldhistory.org/image/18751/map-of-the-herodian-tetrarchy-in-the-levant--c-5-c/ "Map of the Herodian Tetrarchy in the Levant, c. 5 CE")### اِقتدار کا اِختتامی دور

ہیرودیس کا اِقتدار جوں جوں طویل ہوتا گیا، مشکلات میں اضافہ ہوتا گیا۔ 9 قبلِ مسیح میں اُسکے جنوبی پڑوسی نبطیہ (Nabataea قدیم عربی ریاست) کے ساتھ جنگ ​​چھڑ گئی (جِسکی وجہ سے) یہ علاقہ یہودیہ کے مخالف گروہوں کا گڑھ بن گیا۔ صورتِ حال اس وقت مزید بگڑ گئی جب آگسٹس (Augustus) نے اس تنازعے میں نبطیوں کا ساتھ دیا۔ خوش قسمتی سے، ہیرودیس کے سفیر، دمشق کے نکولس (Nicolaus of Damascus)، بادشاہ کا موقف پیش کرنے میں کامیاب ہو گئے اور آگسٹس نے اپنی پالیسی تبدیل کر لی۔

سفارتی مسائل کے ساتھ ساتھ ہیرودیس کو خاندانی مسائل کا بھی سامنا تھا۔ اپنی بیوی مریامنے (Mariamne) پر بے وفائی کا شبہ ہونے پر 29 قبلِ مسیح میں ہیرودیس نے اسے سزائے موت دے دی۔ ان کے دو بیٹوں پر شبہ تھا کہ وہ نبطیہ سے ہیرودیس کے لیے خطرہ بننے والے مخالفین کے ساتھ وفاداری رکھتے ہیں، چنانچہ ہیرودیس نے بے رحمی سے انہیں تقریباً 6 قبلِ مسیح میں ہلاک کروا دیا، اور دو سال بعد اپنے سب سے بڑے بیٹے اینٹی پیٹر (Antipater) کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔ تاہم، اس وقت تک عمر رسیدہ بادشاہ صحت کے شدید مسائل کا شکار ہو چکا تھا جس نے اس کے اندرونی اعضاء کو متاثر کیا، اور 4 قبلِ مسیح میں اس کا انتقال ہو گیا۔ ہیرودیس کو ہیروڈیم (Herodium) کی ڈھلوانوں پر مخصوص تعمیر کیے گئے مقبرے میں دفن کیا گیا۔ 2007 میں اس مقبرے کی کھدائی کی گئی لیکن اس کے اندر موجود تابوت (sarcophagus) ٹوٹا ہوا اور خالی تھا۔ غالباً ہیرودیس کی موت کے بعد اگلی صدی میں ہونے والی پہلی یہودی بغاوت کے دوران اسے کھولا گیا تھا۔ رومیوں نے ہیرودیس کی سلطنت کو اس کے تین بیٹوں: اینٹی پاس ( Antipas)، آرکیلاؤس (Archelaus) اور فلپ (Philip) کے درمیان تقسیم کر دیا۔

[ ![Northern Palace of Masada](https://www.worldhistory.org/img/r/p/500x600/3979.jpg?v=1641905104-1435682292) مسادہ کا شمالی محل Dana Murray (CC BY-NC-SA) ](https://www.worldhistory.org/image/3979/northern-palace-of-masada/ "Northern Palace of Masada")### نیا عہد نامہ

ہیرودیس کی دیرپا شہرت اور بدنامی بڑی حد تک اُسکے اُس کردار کے عکس کی وجہ سے ہے جو نئے عہد نامے میں متی کی انجیل کے دوسرے باب میں بیان ہے۔ یہاں مشرق سے آئے ہوئے داناؤں (مجوسیوں) کی جانب سے ہیرودیس کو اطلاع ملتی ہے کہ بیت لحم میں یہودیوں کا بادشاہ پیدا ہوگا۔ تب بادشاہ نے ان لوگوں کو "بیت لحم بھیجا اور کہا: جاؤ اور اس بچے کو اچھی طرح تلاش کرو؛ اور جب وہ تمہیں مل جائے تو مجھے خبر دو تاکہ میں بھی آ کر اسے سجدہ کروں" (متی 2: 8)۔ پھر، بچے کو پا لینے اور اسے تحائف پیش کرنے کے بعد، ان داناؤں نے جنہیں "خدا کی طرف سے خواب میں تنبیہ کی گئی تھی کہ وہ ہیرودیس کے پاس واپس نہ جائیں" (متی 2: 12)، ہیرودیس کی خواہش پر عمل نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد، "خداوند کا فرشتہ یوسف کو خواب میں دکھائی دیا اور کہا: اٹھ، بچے اور اس کی ماں کو لے کر مصر بھاگ جا اور وہاں رہ جب تک میں تجھے خبر نہ دوں؛ کیونکہ ہیرودیس بچے کو ہلاک کرنے کے لیے تلاش کرے گا" (متی 2: 13)۔ یوسف نے ایسا ہی کیا، اور جب ہیرودیس کو اس بات کا علم ہوا، "جب اس نے دیکھا کہ داناؤں نے اسے دھوکا دیا ہے تو وہ سخت برہم ہوا، اور اس نے حکم دے کر بیت لحم اور اس کے گردونواح میں موجود دو سال اور اس سے کم عمر کے تمام بچوں کو قتل کروا دیا" (متی 2: 16)۔

اس تاریخی منظرنامے پر شاید ان شواہد کی روشنی میں بھی غور کیا جانا چاہیے جن کے مطابق جیسا کہ مؤرخ ایل ایل گریب (L. L. Grabbe) بیان کرتا ہے کہ" ہیرودیس نے ایک یہودی کی طرح زِندگی گُزاری اور وہ عام طور پر یہودی مذہبی قانون کا احترام کرتا تھا" اور یہ کہ اگرچہ اس کے دورِ حکومت کے کچھ منفی پہلو بھی تھے، "اس کے تعلقات کی بدولت وہ کئی موقعوں پر یہودیوں کے لیے مفید ثابت ہوا، اور مجموعی طور پر اس کا دورِ حکومت یہودی عوام اور مذہب کے لیے فائدہ مند رہا" (Bagnall, 3175)۔ اس کے باوجود، مؤرخ ایس شوارٹ (S. Schwart) شاید ہیرودیس کی اس پیچیدہ حیثیت کا بہترین خلاصہ اِسطرح پیش کرتا ہے کہ اُسکی حثیت روم، یہودیوں، خاندان کے مخالف گروہوں اور اپنی سلطنت میں موجود غیر یہودی شہریوں کے درمیان ایک ثالث کی تھی۔ وہ کہتا ہے کہ "ہیرودیس کے دورِ حکومت کا کوئی غیر مبہم (واضح اور حتمی) جائزہ پیش کرنا ناممکن ہے" (Barchiesi, 770)۔

#### Editorial Review

This human-authored definition has been reviewed by our editorial team before publication to ensure accuracy, reliability and adherence to academic standards in accordance with our [editorial policy](https://www.worldhistory.org/static/editorial-policy/).

## کتابیات

- Bagnall, R. et al. *The Encyclopedia of Ancient History.* Wiley-Blackwell, 2012
- [Barchiesi, A. *The Oxford Handbook of Roman Studies.* Oxford University Press, 2010.](https://www.worldhistory.org/books/0199211523/)
- [Hornblower, S. *The Oxford Classical Dictionary.* Oxford University Press, 2012.](https://www.worldhistory.org/books/0199545561/)
- [Oleson, J.P. et al. *The Oxford Handbook of Engineering and Technology in the Classical World.* Oxford University Press, 1877.](https://www.worldhistory.org/books/B01JXOTG7Q/)
- [Zondervan. *Holy Bible, King James Version.* Zondervan, 2010.](https://www.worldhistory.org/books/0310941784/)

## مصنف کے بارے میں

مارک اٹلی کا ایک تاریخ پر لکھنے والی لکھاری ہے۔ ان کی دلچسپی کا مرکز کوزہ گری، فن تعمیر، عالمی اساطیری روایات اور ایسے خیالات تلاش کرنا ہے جو کہ مخلتلف تہذیبوں میں ایک جیسے ہیں۔ ان کی سیاسی فلسفہ میں ماسٹر ڈگری ہے اور وہ گھروں کے عالمی دائرۃ المعارف میں طباعت کے ڈائریکٹر ہیں۔

## وقت کا خاکہ

- **37 BCE**: [Herod the Great](https://www.worldhistory.org/Herod_the_Great/) is made governor of Galilee.
- **37 BCE**: [Herod the Great](https://www.worldhistory.org/Herod_the_Great/) retakes [Jerusalem](https://www.worldhistory.org/jerusalem/) from the Parthians.
- **37 BCE - 4 BCE**: Reign of [Herod the Great](https://www.worldhistory.org/Herod_the_Great/) over Judea.
- **29 BCE**: [Herod the Great](https://www.worldhistory.org/Herod_the_Great/) executes his wife Mariamme on grounds of being unfaithful.
- **23 BCE - 20 BCE**: [Herod the Great](https://www.worldhistory.org/Herod_the_Great/) conquers areas north of Galilee.
- **c. 15 BCE**: [Herod the Great](https://www.worldhistory.org/Herod_the_Great/) completes construction of his massive fortress and future mausoleum the Herodium.
- **9 BCE**: [Herod the Great](https://www.worldhistory.org/Herod_the_Great/) wages [war](https://www.worldhistory.org/disambiguation/War/) against Nabataea.
- **c. 6 BCE - c. 30 CE**: Life of [Jesus Christ](https://www.worldhistory.org/Jesus_Christ/).
- **4 BCE**: [Herod the Great](https://www.worldhistory.org/Herod_the_Great/), suspicious of rival factions, executes his son [Antipater](https://www.worldhistory.org/disambiguation/Antipater/).

## بیرونی روابط

- [King Herod's Tomb](https://www.missedinhistory.com/podcasts/king-herods-tomb.htm)

## اس کام کا حوالہ دیں

### APA
Cartwright, M. (2026, August 26). ہیرودیسِ اعظم. (S. Inayat, مترجم). *World History Encyclopedia*. <https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-15197/>
### Chicago
Cartwright, Mark. "ہیرودیسِ اعظم." تَرجَمۂ کَرن وول Samuel Inayat. *World History Encyclopedia*, August 26, 2026. <https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-15197/>.
### MLA
Cartwright, Mark. "ہیرودیسِ اعظم." تَرجَمۂ کَرن وول Samuel Inayat. *World History Encyclopedia*, 26 Aug 2026, <https://www.worldhistory.org/trans/ur/1-15197/>.

## لائسنس اور کاپی رائٹ

کی طرف سے پیش کیا گیا [Samuel Inayat](https://www.worldhistory.org/user/samuelinayat/ "User Page: Samuel Inayat"), پر شائع ہوا 26 August 2026. براہ کرم کاپی رائٹ کی معلومات کے لیے اصل ماخذ(وں) کو چیک کریں۔ براہِ کرم نوٹ کریں کہ اس صفحے سے منسلک مواد کے لائسنسنگ کے شرائط مختلف ہو سکتے ہیں۔

